بھارتی ریاست راجستھان کے ضلع اودے پور میں 55 سالہ رخا کالبیلیہ نے اپنے 17ویں بچے کو جنم دیا۔
رخا کے شوہر کاورا رام کباڑ کا کام کرتے ہیں اور خاندان کی مالی حالت نہایت خراب ہے۔رخا کے 12 بچے زندہ ہیں جبکہ 5 انتقال کر چکے ہیں۔ ان کے 2 بیٹے اور 3 بیٹیاں شادی شدہ ہیں جن کے بھی 2 سے 3 بچے ہیں۔ یوں رخا اپنی 17ویں اولاد کی پیدائش سے پہلے ہی نانی اور دادی بن چکی تھیں۔کاورا رام کے مطابق بیٹوں اور بیٹیوں کی شادی کے اخراجات کے لیے انہیں سود پر قرض لینا پڑا، جبکہ ان کے خاندان کا کوئی فرد کبھی اسکول نہیں گیا۔
آپریشن کرنے والی ڈاکٹر روشن دارانگی کے مطابق رخا نے پہلے دعویٰ کیا تھا کہ یہ ان کی چوتھی ڈلیوری ہے، لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ وہ پہلے ہی 16 بار ماں بن چکی ہیں جن میں سے 5 بچے زندہ نہیں رہے۔
امریکی شہر منیاپولس میں واقع کیتھولک اسکول میں مسلح شخص کی فائرنگ سے دو طلبا جاں بحق اور 14 بچوں سمیت 17 افراد زخمی ہوگئے۔
پولیس کے مطابق حملہ آور کے پاس رائفل، شاٹ گن اور پستول موجود تھی۔ فائرنگ کے بعد حملہ آور نے خود کو بھی ہلاک کر لیا۔ جاں بحق ہونے والے طلبا کی عمریں 8 اور 10 سال تھیں، جبکہ زخمیوں میں سے دو بچوں کی حالت تشویشناک ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایف بی آئی اس فائرنگ کے واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔
سیالکوٹ کی تحصیل ڈسکہ میں پاک فوج کے جاری ریسکیو اور ریلیف آپریشن پر مقامی سکھ برادری نے مسلح افواج اور ان کی قیادت کا خصوصی شکریہ ادا کیا ہے۔
حالیہ تباہ کن سیلاب کے باعث ڈسکہ میں سکھ برادری کے درجنوں افراد پانی میں محصور ہو گئے تھے۔ پاک فوج کے جوانوں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔ اب تک 96 افراد کو ریلیف آپریشن کے ذریعے ریسکیو کیا جا چکا ہے۔محفوظ مقام پر پہنچنے کے بعد سکھ شہریوں نے پاک فوج کی بروقت مدد کو سراہا اور شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مشکل وقت میں ہمیشہ پاک فوج نے ہمارا ساتھ دیا ہے۔
ایک سکھ شہری نے بتایا کہ وہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے خصوصی شکر گزار ہیں جن کی ہدایت پر ریلیف آپریشن نہایت تیزی سے مکمل ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بابا گورونانک کے مقام پر موجود مقدس کتاب کی حفاظت کے لیے ہیلی کاپٹر بھیجا گیا اور خوش قسمتی سے وہ محفوظ رہی۔
مشرقی افغانستان میں ایک بس حادثے کے نتیجے میں کم از کم 25 افراد جاں بحق اور 27 زخمی ہو گئے۔
وزارتِ داخلہ کے ترجمان عبدالمتین قانی کے مطابق حادثہ کابل سے قندھار جانے والی شاہراہ پر ڈرائیور کی غفلت کے باعث پیش آیا۔ زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے تاہم ان کی حالت سے متعلق مزید معلومات نہیں دی گئیں۔اس سے قبل 20 اگست کو مغربی صوبے ہرات میں بھی ایک خوفناک بس حادثے میں کم از کم 76 افراد ہلاک ہو گئے تھے، جن میں کئی بچے شامل تھے۔
یہ بس ایران سے واپس آنے والے افغان مہاجرین کو لے کر جا رہی تھی اور ایک ٹرک و موٹر سائیکل سے ٹکرا گئی تھی، تصادم کے بعد آگ بھڑک اُٹھی جس نے مزید ہلاکتوں میں اضافہ کر دیا۔
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ یمن سے داغا گیا ایک میزائل فضاء میں ہی تباہ کر دیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق میزائل داغے جانے سے قبل اسرائیل کے مختلف علاقوں میں سائرن بجائے گئے، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ تاحال کسی گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ماضی میں یمن کے حوثی باغی اسرائیلی حملوں کے ردِعمل میں کئی بار اسرائیل پر میزائل اور ڈرون حملے کر چکے ہیں۔ 7 اکتوبر 2023 کے بعد سے حوثیوں نے حماس کی حمایت میں حملوں میں تیزی لائی ہے۔
اسرائیل نے غزہ پر ممکنہ قبضے کی تیاری کے لیے سرحدی علاقوں میں مزید فوجی کمک تعینات کر دی ہے۔تازہ اسرائیلی بمباری میں 60 سے زائد فلسطینی شہید ہوگئے، جبکہ غذائی قلت کے باعث مزید 3 اموات کے بعد قحط سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 303 ہو چکی ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق بھارت نے 24 اگست 2025 کو سیلاب کی اطلاع انڈس واٹر کمیشن کے بجائے سفارتی چینلز کے ذریعے دی، جو انڈس واٹر ٹریٹی کی خلاف ورزی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ معاہدے کے تحت دونوں ممالک پر لازم ہے کہ پانی سے متعلق معلومات اور ہنگامی صورتحال کی اطلاع براہِ راست انڈس واٹر کمیشن کے ذریعے دی جائے، تاہم بھارت نے اس کی صریحاً خلاف ورزی کی۔ترجمان کے مطابق بھارت کی جانب سے معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا اعلان بھی بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے، جس سے خطے میں امن و استحکام پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان انڈس واٹر ٹریٹی پر مکمل عملدرآمد کا مطالبہ کرتا ہے اور بھارت کو یاد دہانی کرائی ہے کہ وہ معاہدے کے تمام تقاضوں کی پابندی کرنے کا پابند ہے۔
گولڈمین سیکس کموڈٹی تجزیہ کاروں نے پیش گوئی کی ہے کہ سال 2026 کے آخر تک عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت کم ہو کر 50 ڈالر فی بیرل تک پہنچ جائے گی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق 2026 کے آخر تک خام تیل کی فراہمی میں یومیہ 18 لاکھ بیرل اضافہ متوقع ہے۔ یہ اندازہ بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) کی پیش گوئی سے قریب تر ہے، جس نے یومیہ 21 لاکھ بیرل اضافے کا تخمینہ لگایا ہے۔آئی ای اے کے مطابق عالمی طلب یومیہ 7 لاکھ بیرل بڑھے گی، یوں عالمی منڈی میں یومیہ تقریباً 14 لاکھ بیرل اضافی خام تیل دستیاب ہوگا۔
فی الحال بین الاقوامی منڈی میں لندن برینٹ کروڈ کی قیمت 67 ڈالر 32 سینٹس فی بیرل اور امریکی خام تیل کی قیمت 63 ڈالر 32 سینٹس فی بیرل ہے۔
پاکستانی صحافی اور تجزیہ کار مبشر لقمان نے اپنے تازہ وی لاگ میں انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں آنے والا حالیہ تباہ کن سیلاب کسی قدرتی آفت کا نتیجہ نہیں بلکہ بھارت کا ’’آبی حملہ‘‘ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارت نے دریائے راوی، ستلج اور بیاس میں اچانک پانی چھوڑ کر پاکستان کے کئی اضلاع کو برباد کر دیا ہے۔ اس اقدام کے نتیجے میں نارووال، سیالکوٹ، گوجرانوالہ اور قصور سمیت متعدد علاقے زیرِ آب آگئے ہیں، ہزاروں ایکڑ زرعی زمین تباہ ہو چکی ہے اور سینکڑوں بستیاں متاثر ہوئی ہیں۔
مبشر لقمان نے اپنے وی لاگ میں کہا کہ بھارت موسمیاتی تبدیلی کو جواز بنا کر اپنی نااہلی اور جارحانہ حکمتِ عملی کو چھپا رہا ہے، حالانکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کرتے ہوئے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر بھارت معاہدے کو تسلیم نہیں کرتا تو پھر دریاؤں سے پانی چھوڑ کر پاکستان کو تباہی کا شکار کیوں کرتا ہے؟ ان کے مطابق یہ سراسر ناانصافی ہے کہ خوشحالی کے وقت تو پاکستان کو پانی سے محروم رکھا جاتا ہے لیکن جب سیلاب آتا ہے تو اضافی پانی زبردستی پاکستان کی طرف دھکیل دیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو چاہیے کہ یہ مسئلہ صرف دو طرفہ مذاکرات تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ عالمی عدالتوں، اقوام متحدہ اور دیگر عالمی فورمز پر بھرپور طریقے سے اٹھایا جائے تاکہ بھارت کی ’’آبی جارحیت‘‘ دنیا کے سامنے بے نقاب ہو۔ مبشر لقمان نے زور دیا کہ وزیراعظم شہباز شریف کو شنگھائی تعاون تنظیم کے آئندہ اجلاس میں اس مسئلے کو اجاگر کرنا چاہیے تاکہ بھارت کے اس رویے پر عالمی سطح پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔
مزید برآں، انہوں نے بھارتی فوجی قیادت کے حالیہ بیانات کو بھی خطرناک قرار دیا، جن میں کہا گیا ہے کہ ’’امن کے لیے جنگ ضروری ہے‘‘۔ ان کے مطابق یہ سوچ بھارت کی مسلسل جنگی تیاریوں کو ظاہر کرتی ہے، جس میں میزائل تجربات اور بحری بیڑوں کی شمولیت شامل ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بھارت کی اصل حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنی فوجی تنصیبات اور اسلحہ محفوظ رکھنے میں بھی ناکام ہے اور اس کی کمزوریاں دنیا کے سامنے آچکی ہیں۔
مبشر لقمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ نے خود اعتراف کیا کہ انہوں نے ماضی میں بھارت کو جنگ سے روکنے کے لیے سخت وارننگ دی تھی اور اگر مستقبل میں بھارت نے دوبارہ جنگ چھیڑنے کی کوشش کی تو انہیں ایک بار پھر مداخلت کرنا پڑے گی۔ ان کے مطابق یہ صورتحال اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت کی پالیسیز نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی خطرہ بنتی جا رہی ہیں۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف سے بیلاروس کے وزیر داخلہ ایون کبراکوو نے وفد کے ہمراہ وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں ملاقات کی۔
وزیراعظم نے معزز مہمان کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا اور کہا کہ پاکستان اور بیلاروس کے دوستانہ تعلقات وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔وزیراعظم نے اپنے حالیہ دورہ بیلاروس کا ذکر کرتے ہوئے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان متعدد معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے۔ وزیراعظم نے خوشی کا اظہار کیا کہ آج پاکستان اور بیلاروس کے درمیان ہنر مند افراد کی ملازمتوں سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بیلاروس کے صدر کے دورہ پاکستان کا منتظر ہے۔
ایون کبراکوو نے پرتپاک استقبال پر شکریہ ادا کیا اور وزیراعظم کو صدر بیلاروس کا نیک خواہشات کا پیغام پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ بیلاروس پاکستان کے ساتھ زراعت اور صنعت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا چاہتا ہے۔ انہوں نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر سمندر پار پاکستانی و انسانی وسائل چوہدری سالک حسین سے ہونے والی ملاقاتوں کو تعلقات کے فروغ کے لیے انتہائی مفید قرار دیا۔
وفود کی سرگرمیاں اور معاہدے
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے وزیراعظم کو آگاہ کیا کہ بیلاروس کے وفد نے نادرا کا دورہ بھی کیا۔ وزیر سمندر پار پاکستانی و ترقی انسانی وسائل چوہدری سالک حسین نے بتایا کہ ہنر مند پاکستانیوں کو بیلاروس بھجوانے کے حوالے سے مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو گئے ہیں جس کے بعد اس عمل کا باقاعدہ آغاز ہوگا۔ بیلاروس پاکستانی ہنر مند افراد کو میڈیکل اور سماجی تحفظ کی سہولیات بھی فراہم کرے گا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے صدر مساتو کانڈا نے وفد کے ہمراہ وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں ملاقات کی۔
وزیراعظم نے مساتو کانڈا کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا اور پاکستان کے ساتھ اے ڈی بی کی دیرینہ شراکت کو سراہا۔وزیراعظم نے کہا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک ہمیشہ پاکستان کی ترقی و خوشحالی کے سفر میں ایک قابلِ اعتماد شراکت دار رہا ہے۔ اے ڈی بی کی بڑے منصوبوں میں شمولیت پاکستان کی معیشت میں انقلابی تبدیلی لاسکتی ہے۔ انہوں نے ریلوے، پبلک ٹرانسپورٹ اور معدنیات کے شعبوں میں شراکت داری کو آگے بڑھانے پر زور دیا۔
وزیراعظم نے وفد کو حکومت کی اصلاحات سے بھی آگاہ کیا جن میں ٹیکس محصولات میں اضافہ، توانائی کے شعبے کی بہتری، مالی استحکام، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے اقدامات، غیر ہدف شدہ سبسڈی میں کمی اور سماجی تحفظ میں اضافہ شامل ہیں۔صدر مساتو کانڈا نے پاکستان کے ساتھ بینک کی طویل وابستگی کو سراہا اور جامع اصلاحات کرنے پر حکومت پاکستان کی تعریف کی۔ انہوں نے پاکستان میں انفراسٹرکچر کی ترقی، ماحولیاتی تبدیلی کے شعبے اور ادارہ جاتی اصلاحات میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
ملاقات میں وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر پاور ڈویژن سردار اویس احمد لغاری، وزیر ریلوے حنیف عباسی، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی اور اعلیٰ سرکاری افسران شریک تھے۔