Baaghi TV

Author: سعد فاروق

  • حکومت چینی کی مقررہ قیمت پر عملدرآمد کو یقینی بنائے گی،رانا تنویر حسین

    حکومت چینی کی مقررہ قیمت پر عملدرآمد کو یقینی بنائے گی،رانا تنویر حسین

    وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ، رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ حکومت چینی کی مقررہ قیمت پر عملدرآمد کو یقینی بنائے گی ،مل مالکان کو درپیش مسائل کے حل کے لیے فوری اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں –

    باغی ٹی وی کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز پاسکو ہیڈ آفس میں چینی کی قیمتوں کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا – اس موقع پر ڈی جی فوڈ پنجاب، کین کمشنر پنجاب محمد شعیب خان جدون سمیت دیگر بھی موجود تھے – اجلاس میں تمام صوبوں میں چینی کی قیمتوں کے تعین کے لیے تجاویز زیر غور آئیں۔ وفاقی وزیر نے مقرر کردہ چینی کی قیمتوں پر عملدرآمد نہ ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ حکومت چینی کی مقررہ قیمتوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات بروئے کار لا رہی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ آئندہ پیر کو ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار چینی کے مل مالکان سے ملاقات کرکے قیمتوں پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں گے۔اجلاس میں وفاقی وزیر رانا تنویر حسین کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں رواں سال چینی کی فروخت میں اضافہ ہوا ہے۔ وفاقی وزیر نے ہدایت کی کہ چینی کے سٹاک کا بھی از سر نو جائزہ لیا جائے تاکہ مارکیٹ میں قیمتوں کو مستحکم رکھا جا سکے۔

    حکومت درآمدات کی بجائے برآمدات کے فروغ کے لیے کوشاں ہے،وزیر برائے توانائی

    غزہ میں قحط شدت اختیار کرگیا، پیاز ٹکڑوں میں فروخت

    بغیر اجازت حج کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات، ڈرونز اور اے آئی سے نگرانی

  • سندھ طاس معاہدے کی معطلی عالمی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے،معین وٹو

    سندھ طاس معاہدے کی معطلی عالمی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے،معین وٹو

    وفاقی وزیر آبی ذخائر معین وٹو نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنا عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے، پاکستان اپنے آبی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور تمام دستیاب فورمز پر اس معاملے کو اٹھایا جائے گا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق وفاقی وزیر آبی ذخائر معین وٹو مقامی ہوٹل میں انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز اینڈ میڈیا ریسرچ کے زیراہتمام منعقدہ سیمینار سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر سابق صوبائی وزیر آبپاشی محسن لغاری، آبی ماہرین، صحافیوں اور انڈس واٹر کمیشن کے حکام نے بھی شرکت کی۔ محمد معین وٹو نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی قانونی دستاویز ہے جسے یکطرفہ طور پر نہ تو معطل کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی ختم، بھارت کی نیت پاکستان کے دریاؤں پر درست نہیں لیکن ہم اپنے حقوق پر کوئی ڈاکہ نہیں ڈالنے دیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان کو سفارتی اور بین الاقوامی سطح پر کامیابی حاصل ہوئی،پاکستان پانی کے مسئلے پر کسی لچک کا مظاہرہ نہیں کرسکتا، سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کے خلاف تمام فورمز کو استعمال کریں گے اور کامیابی حاصل کریں گے،بھارت کا یکطرفہ فیصلہ کسی صورت بحال نہیں رہ سکتا۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کے تمام دریائوں میں پانی کا بہائو نارمل ہے،بھارت نے دو دن کیلئے جہلم کا پانی روکا تھا لیکن اب نارمل ہے ، خدشہ ہے کہ بھارت مستقبل میں کوئی بھی ایسا قدم اٹھا سکتا ہے۔ معین وٹو نے کہا کہ پانی ہماری لائف لائن ہے،پاکستان انڈس واٹر ٹریٹی کے ایشو کو حل کرنے کیلئے آخری حد تک جاسکتا ہے ، ہمیں چاہیے کہ تمام سیاسی جماعتیں ملکی مفاد کی خاطر ایک پلیٹ فارم پر اکھٹی ہوں اور مل بیٹھ کر ماہرین کا ایک گروپ بنائیں جو صوبوں کے درمیان غلط فہمی کو دور کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔

    وفاقی وزیر نے میڈیا پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پانی جیسے اہم قومی مسئلے پر میچورٹی اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عوام کو اصل حقائق سے آگاہ کیا جائے۔ چیئرمین انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز اینڈ میڈیا ریسرچ محمد مہدی نے کہا کہ انڈس واٹر ٹریٹی کے حوالے سے بھارت کے یکطرفہ اقدامات جنوبی ایشیا میں آبی سلامتی کے لیے چیلنج ہیں،بھارت کی جانب سے اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کی کوششیں نہ صرف معاہدے کی روح کے خلاف ہیں بلکہ علاقائی سلامتی کے لیے بھی خطرہ بن چکی ہیں،پانی صرف ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ انسانی حق اور قومی خودمختاری کا مسئلہ ہے، بھارت کا رویہ جارحیت کے مترادف ہے جسے پاکستان انتہائی سنجیدگی سے لے رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان عالمی اداروں اور دوست ممالک کو بھارتی اقدامات سے مسلسل آگاہ کر رہا ہے اور ساتھ ہی ساتھ اندرونی سطح پر پانی کے تحفظ، جدید آبپاشی نظام اور آبی خودکفالت کے لیے اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں،پاکستان پرامن حل اور بین الاقوامی قانون کے تحت مذاکرات کو ترجیح دیتا ہے لیکن اگر مذاکرات سے حقوق کا تحفظ ممکن نہ ہوا تو پاکستان اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ضروری قدم اٹھائے گا۔

    سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سابق صوبائی وزیر محسن لغاری نے زور دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کا کوئی قانون بھارت کو معاہدے کی یکطرفہ معطلی کی اجازت نہیں دیتا، اگر ایسے معاہدے ختم ہونے لگیں تو عالمی نظام درہم برہم ہو جائے گا۔ صحافی ذوالفقار مہتو نے کہا کہ سندھ طاس دنیا کا وہ واحد معاہدہ ہے جو پانی جیسے اہم مسئلے پر دو متحارب ممالک کے درمیان ممکنہ جنگ کو روکنے کے لیے کیا گیا۔ انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اسے سفارتی سطح پرموثر طور پر استعمال کرنا چاہیے۔آبی ماہر چوہدری محمد شفیق نے خبردار کیا کہ زیر زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک گر رہی ہے جبکہ بھارت سمندر میں جانے والے پانی کو بنیاد بنا کر پروپیگنڈا کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا بہت سا پانی بغیر استعمال کے سمندر میں جا رہا ہے، جسے بچانے کی ضرورت ہے۔

    معروف صحافی مجیب الرحمان شامی نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ معطل کرنا بھارت کے مفاد میں بھی نہیں، جنگوں کے باوجود یہ معاہدہ قائم رہا ہے، پاکستان میں پانی کا مسئلہ گھمبیر ہوتا جا رہا ہے ۔ سینئر صحافی سہیل وڑائچ نے کہا کہ ہمیں اس حساس معاملے پر جذباتیت کی بجائے دانشمندی سے کام لینا ہوگا اور باہمی تنازعات کو مل بیٹھ کر حل کرنا چاہیے۔ سابق انڈس واٹر کمشنر شیراز جمیل نے کہا کہ دریائے چناب کا سارا پانی مقبوضہ جموں و کشمیر سے آتا ہے، بھارت اس پر ڈیم بنا کر پانی روک سکتا ہے جس سے پاکستان کو خشک سالی کا سامنا ہو سکتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ 2022 کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان کوئی باضابطہ اجلاس نہیں ہوا، بھارت معاہدے کا ازسرنو جائزہ لینا چاہتا ہے لیکن یہ عمل وقت طلب ہو گا۔انڈس واٹر کمیشن کے کمشنر آصف بیگ نے کہا کہ بھارت طویل مذاکرات کی آڑ میں تعمیرات جاری رکھتا ہے، جو معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ بھارت نے معاہدے سے بڑے فوائد حاصل کیے ہیں، لیکن اب وہ ٹریٹی سے فرار چاہتا ہے۔

    حکومت درآمدات کی بجائے برآمدات کے فروغ کے لیے کوشاں ہے،وزیر برائے توانائی

    غزہ میں قحط شدت اختیار کرگیا، پیاز ٹکڑوں میں فروخت

    بغیر اجازت حج کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات، ڈرونز اور اے آئی سے نگرانی

  • حکومت درآمدات کی بجائے برآمدات کے فروغ کے لیے کوشاں ہے،وزیر برائے توانائی

    حکومت درآمدات کی بجائے برآمدات کے فروغ کے لیے کوشاں ہے،وزیر برائے توانائی

    وفاقی وزیر برائے توانائی ،پاور ڈویژن سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ درآمدات پر انحصار میں کمی و ” میڈ ان پاکستان ” کا فروغ وقت کی اہم ضرورت، حکومت توانائی کے شعبہ میں خود انحصاری، جدت اور پائیداری کے لیے ہنگامی بنیادوں پر ٹھوس اقدامات بروئے کار لا رہی ہے.

    باغی ٹی وی کےمطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز نیشنل گرڈ کمپنی آف پاکستان (سابقہ این ٹی ڈی سی) اور لمز انرجی انسٹی ٹیوٹ کے اشتراک سے پاور سیکٹر انڈیجنائزیشن روڈ میپ کی تیاری کیلئے قومی مشاورتی ورکشاپ سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کیا -اس موقع پر منیجنگ ڈائریکٹر پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی انجینئر عابد لطیف لودھی، اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کے بورڈ چیئرمین ڈاکٹر طاہر مسعود، چیف ایگزیکٹو آفیسر کے الیکٹرک سید مونس عبداللہ علوی، نیشنل پاور پارکس مینجمنٹ کمپنی کے چیئرمین بورڈ Danpak Kotak اور حکومت، صنعت اور ریگولیٹری اداروں کے سینئر نمائندے بھی موجود تھے-

    ورکشاپ میں جنریشن، ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں میں مقامی سطح پر تیارہ کردہ اہم برقی آلات کے استعمال میں درپیش چیلنجز اور امکانات بارے مباحثے زیر بحث آئے جبکہ ورکشاپ کے خصوصی سیشنز میں مقامی مینوفیکچررز کی جانب سے قومی طلب کو پورا کرنے کی صلاحیت کا جائزہ لیا گیا-وفاقی وزیر سردار اویس احمد خان لغاری نے این جی سی اور لمز انرجی انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے ورکشاپ کے انعقاد کو سراہتے ہوئے کہا کہ این جی سی پاور سیکٹر انڈیجنائزیشن پالیسی کو نافذ کرنے والا پہلا قومی ادارہ ہے اور اس کا سٹریٹجک پروکیورمنٹ ماڈل پہلے ہی مثبت نتائج فراہم کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت امپورٹس کے بجائے ایکسپورٹس پر مبنی معیشت کے فروغ کیلئے کوشاں ہے ، پاور سیکٹر میں انڈیجنائزیشن وقت کی اہم ضرورت ہے اور اس کیلئے ہمیں ماہرین اور انڈسٹری سے روابط میں بہتری لانا ہوگی۔

    انہوں نے واپڈا ، ڈسکوز ، کے الیکٹرک اور سرکاری و نجی بجلی پیدا کرنے والے اداروں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ بھی اس پالیسی پر عملدرآمد شروع کریں جو کہ نیشنل الیکٹریسٹی پلان 2023-27 کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا یہ میرے لیے اعزاز اور فخر کی بات ہے کہ میں اس نیشنل کنسلٹیٹو ورکشاپ سے خطاب کر رہا ہوں، جو برقی توانائی کے آلات اور اس کی تیاری کے شعبے کی مقامی تیاری سے متعلق ہے، یہ ورکشاپ نہ صرف ہماری خواہشات بلکہ ہمارے عزم کی علامت ہے کہ ہم اپنے توانائی کے شعبے کو خود انحصاری، جدت اور پائیداری کی طرف لے جائیں گے، یہ بروقت اقدام نیشنل الیکٹریسٹی پالیسی 2023-2027 کے تحت پاکستان میں جاری انرجی سیکٹر اصلاحات کے ساتھ ہم آہنگ ہے جس میں درآمدآت پر انحصار کم کرنے اور مقامی استعداد کو فروغ دینے پر زور دیا گیا ہے.

    سرکاری اداروں، صنعتوں اور ماہرین کے اشتراک سے منعقد ہونے والی یہ مشاورتی ورکشاپ خود انحصاری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی پائیداری میں اہم کردار ادا کرے گی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ آج پاکستان توانائی کے سفر کے ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے، اگرچہ ہم نے پیداوار کی گنجائش میں قابلِ ذکر اضافہ کیا ہے، لیکن ہم اب بھی درآمد شدہ آلات، نظاموں اور تکنیکی حلوں پر انحصار کرتے ہیں، جو ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ ڈالتے ہیں، عالمی سپلائی چین کے اتار چڑھاؤ سے متاثر ہوتے ہیں، ہر درآمد شدہ آلہ، جیسے ٹرانسفارمر، سوئچ گیئر یا سرکٹ بریکر، محض ایک مصنوع نہیں، بلکہ مقامی روزگار، قومی مہارت، اور صنعتی بنیاد کو فروغ دینے کا ایک موقع ہے جو ہم نے ضائع کر دیا، ہمیں ” میڈ ان پاکستان” کو فروغ دینا ہو گا ، میں درآمدی ٹیکنالوجی لینے والے نہیں بلکہ معیاری ٹیکنالوجی برآمد کرنے والے بننا ہوگا۔

    ورکشاپ کے دوران پاکستان کے پہلے پاور ایکوئپمنٹ مینوفیکچرنگ ڈیش بورڈ کا اجراء کیا گیا، جو ایک رئیل ٹائم ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے جو لوکلائزیشن پر پیشرفت، وینڈرز کی استعداد کی نشاندہی اور سٹریٹجک سرمایہ کاری کے مواقع کی نشاندہی کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے-ڈیش بورڈ کا افتتاح چیئرمین بورڈ آف ڈائریکٹرز این جی سی اور لمز انرجی انسٹی ٹیوٹ کے سینئر ایڈوائزر ڈاکٹر فیاض احمد چوہدری، چیئرمین پاکستان انجینئرنگ کونسل انجینئر وسیم نذیر، منیجنگ ڈائریکٹر این جی سی انجینئر محمد وسیم یونس، چیف ایگزیکٹو آفیسر کے الیکٹرک سید مونس عبداللہ علوی اور دیگر نے کیا-

    سردار اویس احمد لغاری نے پاور ایکوئپمنٹ مینوفیکچرنگ ڈیش بورڈ سے متعلق کہا کہ ڈیش بورڈ کا اجرا خوش آئند ہے اور یہ پاور سیکٹر انڈیجنائزیشن میں معاونت کرے گا-وفاقی وزیر نے کہا کہ ہمیں این ٹی ڈی سی کے نیشنل گرڈ کمپنی میں تبدیلی پر بھی فخر ہے، جو محض نام کی تبدیلی نہیں بلکہ وژن، کارکردگی اور ادارہ جاتی مقصد میں تبدیلی کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ این جی سی کو اس طرح سے تشکیل دیا گیا ہے کہ وہ پاکستان کی سمارٹ گرڈ تبدیلی کی قیادت کرے، قابلِ تجدید توانائی کے انضمام کو بہتر بنائے، اور بین الاقوامی معیار کے مطابق آپریشنل لچک پیدا کرے۔

    انہوں نے کہا کہ توانائی کے شعبے سے وابستہ ادارے خریداری کو صرف لاگت کی بنیاد پر نہ دیکھیں بلکہ اسے قومی ترقی کے ایک اسٹریٹجک ذریعہ کے طور پر اپنائیں، مقامی پروڈکٹس کو ترجیح دیں، حکومت مقامی تیار پروڈکٹس کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون اور علاقائی و عالمی سطح پر ابھرنے میں مکمل مدد فراہم کرے گی -یہ ورکشاپ حکومت، صنعت، اور تعلیمی اداروں کے درمیان دیرپا اصلاحات کے لیے تعاون کی ایک بہترین مثال ہے۔ لمز انرجی انسٹی ٹیوٹ کی قیادت اور اس کی شواہد پر مبنی پالیسی سازی پر توجہ، ظاہر کرتی ہے کہ تعلیمی ادارے کس طرح مسائل کا حل پیش کر سکتے ہیں اور اختراعی نظاموں کی پشت پناہی کر سکتے ہیں، ہمارے تعلیمی ادارے مستقبل کے علم کے مراکز ہیں، ہمیں ایسی پڑھی لکھی نسل تیار کرنا ہے جو نہ صرف درآمد شدہ نظاموں کو چلانے کی صلاحیت رکھتی ہو بلکہ پاکستان کی مخصوص ضروریات کے مطابق مقامی حل ڈیزائن کر سکے،برقی توانائی کے آلات کے شعبے کی مقامی تیاری صرف صنعتی اصلاحات نہیں بلکہ قومی سلامتی کا ستون ہے، آج ہونے والی مشاورت ایک واضح حکمتِ عملی وضع کرے گی تاکہ جنریشن، ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کے شعبوں میں مقامی مصنوعات کا حصہ بڑھایا جا سکے۔

    اس فورم کی تجاویز وزارت کو پیش کی جائیں گی تاکہ وہ آئندہ پالیسیوں اور ضوابطی اصلاحات میں شامل کی جا سکیں،بطور قوم ہمیں آج یہ عہد کرنا ہے کہ ہم ایک ایسا پاکستان بنائیں گے جہاں "میڈ ان پاکستان” کا مطلب اعلیٰ معیار اور قابلِ اعتماد ہو گا -وفاقی وزیر نے کہا کہ این جی سی پاور سیکٹر انڈیجنائزیشن پالیسی کو نافذ کرنے والا پہلا قومی ادارہ ہے اور اس کا سٹریٹجک پروکیورمنٹ ماڈل پہلے ہی مثبت نتائج فراہم کر رہا ہے۔

    انہوں نے واپڈا ، ڈسکوز ، کے الیکٹرک اور سرکاری و نجی بجلی پیدا کرنے والے اداروں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ بھی اس پالیسی پر عملدرآمد شروع کریں۔انہوں نے کہا کہ پاور سیکٹر میں اصلاحات کا عمل جاری ہے، نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی کی ری سٹرکچرنگ بھی کی جا رہی ہے اور انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر کا قیام عمل میں لایا جا چکا ہے جبکہ انرجی انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی بھی جلد فعال کر دی جائے گی جو پاور سیکٹر کے پراجیکٹس کی پلاننگ اور تکمیل کی ذمہ دار ہوگی۔ڈاکٹر فیاض احمد چوہدری نے اس موقع پر کہا کہ این جی سی کی انڈیجنائزیشن کی حکمت عملی اور اس کے تحت جاری کیے گئے ایجوکیشنل آرڈرز کے باعث قومی زرمبادلہ کی مد میں 10 ملین ڈالر کی بچت کی جا چکی ہے۔

    گوجرہ: دیور کے ہاتھوں بھابی قتل، مبینہ زیادتی اور بلیک میلنگ کا الزام، ملزم گرفتار

    غزہ میں قحط شدت اختیار کرگیا، پیاز ٹکڑوں میں فروخت

    بغیر اجازت حج کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات، ڈرونز اور اے آئی سے نگرانی

    بھارت میں طبی رضاکار پاکستان کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار

  • غزہ میں قحط شدت اختیار کرگیا، پیاز ٹکڑوں میں فروخت

    غزہ میں قحط شدت اختیار کرگیا، پیاز ٹکڑوں میں فروخت

    غزہ میں جاری قحط کی سنگین صورتحال کے باعث اشیائے خور و نوش کی قلت شدید ہو چکی ہے اور قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔

    باغی ٹی وی کے مطابق پیاز جیسی بنیادی سبزی اب کلو کے بجائے ٹکڑوں میں فروخت ہو رہی ہے، جبکہ ایک ٹکڑے کی قیمت پاکستانی روپے میں 1500 روپے تک جا پہنچی ہے۔ غزہ میں موجود ذرائع کے مطابق، ایک عدد پیاز کی قیمت 3000 روپے تک ہو چکی ہے، جو کہ انسانی تاریخ میں غذائی بحران کی ایک تکلیف دہ مثال ہے۔

    غزہ میں 2 ماہ سے کھانے پینے کی اشیاء کی ترسیل بند ہونے کے بعد، دیگر اشیاء کی قیمتیں بھی ناقابلِ یقین حد تک بڑھ گئی ہیں،1 کلو خوردنی تیل: 7500 روپے (گاڑیوں کا ایندھن نہ ہونے کے باعث اسے متبادل کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے)25 کلو آٹے کا تھیلا: 1 لاکھ 33 ہزار روپے، 1 کلو آلو: 2800 روپے، 1 کلو کھیرا: 1500 روپ اور1 کلو ٹماٹر: 2200 روپے میں فروخت کیے جا رہے ہیں.

    الجزیرہ کے مطابق، غذائی قلت یا قحط کے باعث اب تک 29 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے اس صورتحال کو "غزہ جنگ کا سب سے سفاکانہ مرحلہ” قرار دیا ہے۔اس انسانی بحران کے پیش نظر، عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان غزہ میں امداد پہنچانے کے لیے ایک معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کا مقصد محصور فلسطینیوں تک انسانی امداد کی فراہمی کو ممکن بنانا ہے۔

    غزہ میں موجودہ صورتحال بین الاقوامی ضمیر کے لیے ایک چبھتا ہوا سوال بن چکی ہے کہ کب تک شہریوں کو بھوک اور بیماریوں کا شکار بنایا جائے گا؟

    پہلگام حملے سے متعلق سوال کرنے پربھارتی فوج کے 18 سکھ اہلکار گرفتار،بغاوت کے الزامات

    بغیر اجازت حج کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات، ڈرونز اور اے آئی سے نگرانی

    بھارت میں طبی رضاکار پاکستان کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار

    روس اور یوکرین قیدیوں کے تبادلے کا دوسرا مرحلہ مکمل، 307 قیدی رہا

    پنجاب بھر میں طوفانی بارشوں سے 7 افراد جاں بحق، 41 زخمی

  • بغیر اجازت حج کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات، ڈرونز اور اے آئی سے نگرانی

    سعودی عرب نے حج کے دوران غیرقانونی عازمین کی روک تھام کے لیے ڈرونز، جدید کیمرے، اور مصنوعی ذہانت سے لیس سخت نگرانی کا نظام متعارف کرا دیا ہے، جبکہ بغیر اجازت حج کی کوشش کرنے والوں پر بھاری جرمانے اور سخت سزاؤں کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔

    عرب میڈیا کے مطابق، سعودی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف پبلک سیکیورٹی نے بتایا ہے کہ جدید ڈرونز اور کیمرے ان افراد اور گاڑیوں کی نگرانی کے لیے استعمال ہو رہے ہیں جو سرکاری اجازت نامے کے بغیر عازمین کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے ویڈیو شواہد بھی جاری کیے گئے ہیں۔ حکام نے "اجازت نامے کے بغیر حج نہیں” کے عنوان سے ایک اعلیٰ سطحی مہم شروع کی ہے جس کے تحت غیرقانونی عازمین اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

    جاری کردہ ویڈیو میں دکھایا گیا کہ ایک ڈرون نے صحرا میں ایک مشتبہ گاڑی کی نشاندہی کی جس میں بغیر دستاویزات عازمین سوار تھے۔ ڈرون کے ذریعے دی گئی اطلاع پر سیکیورٹی اہلکاروں نے فوری کارروائی کر کے مسافروں کو حراست میں لے لیا۔سعودی حکومت کے مطابق، یہ ڈرونز تھرمل کیمرے اور مصنوعی ذہانت کے ساتھ نگرانی کے وسیع نیٹ ورک کا حصہ ہیں، جن کا مقصد حج کے دوران قانون کی خلاف ورزیوں کو روکنا ہے۔

    وزارت داخلہ کے مطابق، بغیر دستاویزات سفر کرنے والوں کو ایک لاکھ ریال تک جرمانہ، قید، اور غیرملکی ہونے کی صورت میں سزا مکمل ہونے کے بعد ملک بدری اور دس سال تک واپسی پر پابندی کا سامنا کرنا پڑے گا۔اس کے علاوہ، سہولت کار گاڑیوں کو بھی عدالتی احکامات کے ذریعے ضبط کیا جائے گا۔ سعودی حکام نے واضح کیا ہے کہ صرف حج ویزا رکھنے والے افراد کو ہی حج ادا کرنے کی اجازت ہو گی، جبکہ وزٹ ویزا پر آنے والوں کو یہ فریضہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    عازمین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 80 ممالک میں قائم سرکاری دفاتر یا 126 ممالک میں دستیاب نسک حج پلیٹ فارم سے ہی حج ویزا حاصل کریں۔وزارت داخلہ نے مزید اعلان کیا ہے کہ اگر کوئی اجازت نامے کے بغیر حج ادا کرتے ہوئے یا اس کی کوشش کرتے ہوئے پکڑا گیا تو اس پر دو لاکھ سعودی ریال جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ یہ اقدامات ان شکایات کے بعد کیے گئے ہیں جن میں غیرملکی زائرین کی جانب سے وزٹ ویزا کی مدت ختم ہونے کے بعد غیرقانونی طور پر حج ادا کرنے کی کوششیں شامل تھیں۔

    روس اور یوکرین قیدیوں کے تبادلے کا دوسرا مرحلہ مکمل، 307 قیدی رہا

  • بھارت میں طبی رضاکار پاکستان کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار

    بھارت میں طبی رضاکار پاکستان کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار

    بھارتی پولیس نے ریاست گجرات کے علاقے رن آف کچھ سے ایک 28 سالہ طبی رضاکار، سہا دیو سنگھ گوہل کو پاکستان کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کر کے اس کے خلاف مقدمہ درج کر دیا ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق، گجرات اے ٹی ایس نے سہا دیو سنگھ کو گرفتار کرنے کے بعد تفتیش کے لیے احمد آباد منتقل کر دیا ہے، جہاں ان کے زیرِ استعمال موبائل فون کو فرانزک تجزیے کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔پولیس کا دعویٰ ہے کہ ابتدائی تفتیش میں ملزم نے پاکستان کو حساس بھارتی تنصیبات کی معلومات فراہم کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے واٹس ایپ کے ذریعے بھارتی ایئر فورس اور دیگر فوجی تنصیبات کی تصاویر اور معلومات پاکستانی ایجنٹ کو فراہم کیں۔

    مزید الزام یہ ہے کہ وہ پاکستانی خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے لیے مبینہ طور پر جاسوسی کرتے رہے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ سہا دیو سنگھ نے بتایا کہ 2023 میں ایک ادیتی بھردواج نامی خاتون نے ان سے واٹس ایپ پر رابطہ کیا، جو بعد میں پاکستانی ایجنٹ نکلی۔حکام کے مطابق، گرفتار رضاکار کے خلاف مقدمہ درج کر کے اسے مزید تفتیش کے لیے احمد آباد منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ نامعلوم پاکستانی ایجنٹ کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

    یہ بھی یاد رہے کہ اس واقعے سے چند روز قبل بھارتی پولیس نے ایک پنجابی خاتون یوٹیوبر کو بھی پاکستان کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔بھارتی پولیس نے گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ملک بھر سے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے تقریباً ایک درجن افراد کو پاکستان کے لیے جاسوسی کے شبہے میں گرفتار کیا ہے، جن میں یوٹیوبرز، طبی رضاکار اور عام شہری شامل ہیں۔

    روس اور یوکرین قیدیوں کے تبادلے کا دوسرا مرحلہ مکمل، 307 قیدی رہا

    پہلگام حملے سے متعلق سوال کرنے پربھارتی فوج کے 18 سکھ اہلکار گرفتار،بغاوت کے الزامات

    پہلگام حملے سے متعلق سوال کرنے پربھارتی فوج کے 18 سکھ اہلکار گرفتار،بغاوت کے الزامات

  • روس اور یوکرین قیدیوں کے تبادلے کا دوسرا مرحلہ مکمل، 307 قیدی رہا

    روس اور یوکرین قیدیوں کے تبادلے کا دوسرا مرحلہ مکمل، 307 قیدی رہا

    یوکرین اور روس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے دوسرے مرحلے میں 307 قیدیوں کو آزاد کر دیا گیا۔

    روسی وزارت دفاع نے روسی قیدیوں کی واپسی کی تصدیق کی جبکہ یوکرین کے صدر زیلنسکی نے بھی یوکرینی فوجیوں کے اپنے وطن پہنچنے کی تصدیق کر دی۔روس اور یوکرین کے درمیان گزشتہ روز ایک اہم پیش رفت کے تحت 390 سپاہیوں اور عام شہریوں کو ایک دوسرے کے حوالے کیا گیا، جو قیدیوں کے تبادلے کے عمل کا حصہ تھا اور دونوں ممالک کے درمیان جاری تنازع کے دوران ایک مثبت اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

    واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے استنبول میں ہونے والے مذاکرات میں دونوں ممالک نے ایک ہزار قیدیوں کے تبادلے پر اتفاق کیا تھا۔

    پہلگام حملے سے متعلق سوال کرنے پربھارتی فوج کے 18 سکھ اہلکار گرفتار،بغاوت کے الزامات

    تیز آندھی کے باعث لاہور جانے والی پرواز کو شدید جھٹکے، مسافروں میں خوف و ہراس

  • پنجاب بھر میں طوفانی بارشوں سے 7 افراد جاں بحق، 41 زخمی

    پنجاب بھر میں طوفانی بارشوں سے 7 افراد جاں بحق، 41 زخمی

    پنجاب بھر میں ہونے والی شدید آندھی اور طوفانی بارشوں کے نتیجے میں 7 شہری جاں بحق جبکہ 41 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی کے مطابق، صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے ہفتے کے روز طوفان کے باعث ہونے والے نقصانات کی ابتدائی رپورٹ جاری کی ہے۔رپورٹ کے مطابق، آندھی و طوفان کے نتیجے میں متعدد حادثات پیش آئے جن میں راولپنڈی میں 1، جہلم میں 3، شیخوپورہ، ننکانہ صاحب اور سیالکوٹ میں 1،1 شہری جاں بحق ہوئے۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق، اموات کی زیادہ تر وجوہات بوسیدہ مکانات کے گرنے اور غیر محفوظ مقامات پر موجودگی تھیں۔ طوفان سے کچے و خستہ حال مکانات کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید نے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی اور کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور ریسکیو اداروں کو الرٹ رہنے کا حکم دیا۔

    انہوں نے کہا کہ ریسکیو 1122 سمیت تمام متعلقہ ادارے مشینری اور عملے سمیت تیار رہیں، جبکہ حکومت پنجاب کی پالیسی کے تحت متاثرہ خاندانوں کو مالی امداد دی جائے گی۔ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق، تمام اضلاع کے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آپریشن سنٹرز اور صوبائی کنٹرول روم کو الرٹ کر دیا گیا ہے، جہاں صورتحال کی چوبیس گھنٹے نگرانی جاری ہے۔

    شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، گھروں یا محفوظ مقامات پر رہیں، بجلی کے کھمبوں اور لٹکتی تاروں سے دور رہیں، اور بچوں کو خستہ حال عمارتوں کے قریب نہ جانے دیں۔مزید برآں، آسمانی بجلی سے بچنے کے لیے کھلے آسمان تلے نہ نکلنے کی ہدایت کی گئی ہے۔کسی بھی ہنگامی صورتحال میں شہری فوری طور پر پی ڈی ایم اے ہیلپ لائن 1129 پر رابطہ کریں۔

    پہلگام حملے سے متعلق سوال کرنے پربھارتی فوج کے 18 سکھ اہلکار گرفتار،بغاوت کے الزامات

    تیز آندھی کے باعث لاہور جانے والی پرواز کو شدید جھٹکے، مسافروں میں خوف و ہراس

    نیویارک کے ٹائمز اسکوائر پر پاکستانی فلم ’لوو گرو‘ کے ٹریلر کی نمائش

  • پہلگام حملے سے متعلق سوال کرنے پربھارتی فوج کے 18 سکھ اہلکار گرفتار،بغاوت کے الزامات

    پہلگام حملے سے متعلق سوال کرنے پربھارتی فوج کے 18 سکھ اہلکار گرفتار،بغاوت کے الزامات

    بھارتی فوج نے اپنے 18 سکھ فوجیوں کو گرفتار کر لیا ہے، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے پہلگام حملے سے متعلق سوشل میڈیا پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا اور مبینہ طور پر پاکستان پر الزام تراشی کو چیلنج کیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق گرفتار اہلکاروں پر انضباطی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے اور انہیں ممکنہ طور پر کورٹ مارشل کا سامنا ہو سکتا ہے۔ذرائع کے مطابق یہ سکھ فوجی اہلکار نہ صرف پہلگام حملے کو "فالس فلیگ آپریشن” قرار دے رہے تھے بلکہ انہوں نے مبینہ طور پر جنگی کارروائیوں میں شرکت سے بھی انکار کیا۔ فوجی حکام اس عمل کو سنگین "بغاوت” اور "نظم و ضبط کی خلاف ورزی” تصور کر رہے ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق یہ گرفتاریاں اس وقت عمل میں آئیں جب مذکورہ فوجیوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایسی پوسٹس شیئر کیں جن میں پاہلگام واقعے کو جعلی قرار دیتے ہوئے بھارت کے اندرونی ایجنڈے پر سوال اٹھائے گئے تھے۔ فوج کے اعلیٰ حکام نے ان حرکات کو سیکیورٹی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے فوری کارروائی کی ہدایت کی۔

    یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں پاہلگام حملے میں ملوث ہونے کے الزامات پاکستان پر عائد کیے گئے تھے، تاہم اس حملے کی شفاف تحقیقات اور شواہد پر کئی مبصرین نے سوالات اٹھائے تھے ۔

    تیز آندھی کے باعث لاہور جانے والی پرواز کو شدید جھٹکے، مسافروں میں خوف و ہراس

  • تیز آندھی کے باعث لاہور جانے والی پرواز کو شدید جھٹکے، مسافروں میں خوف و ہراس

    تیز آندھی کے باعث لاہور جانے والی پرواز کو شدید جھٹکے، مسافروں میں خوف و ہراس

    کراچی سے لاہور جانے والی نجی ایئر لائن کی پرواز کو شدید جھٹکوں کا سامنا، تیز آندھی نے پرواز کو بری طرح متاثر کیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق کراچی سے لاہور جانے والی نجی ایئرلائن کی پرواز تیز آندھی کے باعث شدید متاثر ہوئی، جس کے نتیجے میں طیارے کو کئی منٹ تک جھٹکے محسوس ہوتے رہے اور مسافروں میں شدید خوف پھیل گیا۔پرواز کئی منٹ تک آندھی کی زد میں رہی، طیارے کو بار بار جھٹکے لگے۔ مسافروں کی خوف کے مارے چیخیں نکل گئیں۔ جہاز لینڈنگ پوزیشن میں آ چکا تھا۔

    پرواز لینڈنگ پوزیشن میں آ چکی تھی کہ اچانک تیز آندھی کی زد میں آ گئی۔ خراب موسم کے باعث طیارے کو مسلسل جھٹکے لگے، جس سے کئی مسافروں کی چیخ و پکار سنائی دینے لگی اور کیبن میں افراتفری پیدا ہوگئی۔پائلٹ نے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے طیارے کو غیر موزوں موسم میں واپس موڑ لیا۔خراب موسم کے باعث اے ٹی سی کی جانب سے طیاروں کو موسمی وارننگ جاری۔

    لاہور ایئرپورٹ پر موسم کی صورتحال بہتر ہو گئی، اے ٹی سی نے پروازوں کی روانگی کی اجازت دے دی۔پی آئی اے کی پرواز پی کے 767 جدہ کچھ دیر بعد روانہ ہوگی۔ ابو ظہبی جانے والی نجی ائیر لائن کی پرواز کی روانگی کا بھی اعلان کر دیا گیا۔شارجہ جانے والی پرواز کو بھی اجازت مل گئی۔ دوسرے شہروں میں اترنے والی تمام پروازیں لاہور آنے کے لئے تیار ہیں۔

    دوسری جانب کوالالمپور جانے والی نجی ائیرلائن رات 12 بجے تک تاخیر کا شکار ہے۔ طوفانی بارش اور آندھی کے باعث فلائٹ آپریشن جزوی طور پر متاثر ہوا تھا۔