Baaghi TV

Author: سعد فاروق

  • کراچی شہر میں منکی پاکس کا پہلا کیس رپورٹ

    کراچی شہر میں منکی پاکس کا پہلا کیس رپورٹ

    کراچی میں منکی پاکس کا ایک اور کیس سامنے آگیا ہے جس کے بعد مشتبہ مریض کو آئسولیشن وارڈ منتقل کردیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق محکمہ صحت سندھ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ کراچی کے علاقے ملیر کے رہائشی میں منکی پاکس وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔یہ سندھ میں اس وائرس کا پہلا کیس ہے۔ متاثرہ مریض کا خون کا نمونہ جانچنے پر منکی پاکس وائرس کی موجودگی پائی گئی۔مریض کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا ہے اور انہیں آئسیولیشن وارڈ میں داخل کر دیا گیا ہے تاکہ وائرس کے پھیلا ئوکو روکا جا سکے۔

    محکمہ صحت سندھ نے مزید کہا ہے کہ متاثرہ مریض کی کوئی ٹریول ہسٹری نہیں ہے، اس لیے یہ کیس مقامی سطح پر پھیلا ئوکا نشان ہو سکتا ہے۔اس دوران، محکمہ صحت نے عوام سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور صحت کی دیگر ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ اس وائرس کے مزید پھیلا کو روکا جا سکے۔

    دوسری جانب کراچی شہر کے شاہ لطیف ٹائون سے تعلق رکھنے والا متاثرہ شخص جناح اسپتال میں داخل ہے جہاں خون کے نمونے لے لیبارٹری بھیج دیے گئے ہیں۔جناح اسپتال کی انتظامیہ کے مطابق ٹیسٹ رزلٹ آنے تک مریض کو آئسولیشن وارڈ میں رکھا جائے گا۔
    مریض کی علامات میں بخار اور جسم پر دھبے شامل ہیں۔

    سندھ حکومت نے ٹرانسپورٹ افسران کی چھٹیاں منسوخ کردیں

    حسینہ واجد کو بنگلا دیشی عبوری حکومت سےبڑا ریلیف مل گیا

  • حسینہ واجد کو بنگلا دیشی عبوری حکومت سےبڑا ریلیف مل گیا

    حسینہ واجد کو بنگلا دیشی عبوری حکومت سےبڑا ریلیف مل گیا

    بنگلادیش کی عبوری حکومت کا سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی جماعت پر پابندی عائد کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

    غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سابقہ حکومت میں جن افراد پر قتل اور انسانیت کے خلاف جرائم کا الزام ہے، ان کے خلاف بنگلا دیش کی عدالتوں میں مقدمہ چلایا جائے گا۔ڈھاکہ میں ایک ٹربیونل پہلے ہی شیخ حسینہ کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کر چکا ہے۔ حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد انہوں نے ہمسایہ ملک انڈیا میں پناہ لی تھی۔دوسری جانب اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کے ایک فیکٹ فائنڈنگ مشن نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ شیخ حسینہ کی حکومت گزشتہ برس اقتدار پر قابض ہونے کی کوشش میں منظم حملوں اور مظاہرین کی ہلاکتوں کی ذمہ دار ہے۔ان کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد طلبہ نے مسلسل یہ مطالبہ کیا ہے کہ نئی حکومت کے لیے انتخابات سے قبل پارٹی پر پابندی عائد کی جائے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ برس کے احتجاجی مظاہرین پر تشدد کے الزام میں عبوری حکومت نے عوامی لیگ کے طلبہ ونگ پر پابندی عائد کر دی تھی۔طلبہ کی حمایت یافتہ نئی سیاسی جماعت کے رہنما حسنات عبداللہ نے ایک فیس بک پوسٹ میں حکومت کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوامی لیگ پر پابندی عائد کی جائے۔حسنات عبداللہ کی پارٹی اگلے انتخابات میں حصہ لینے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

    مقامی اخبار پرتھوم ایلو کے مطابق طالب علم رہنما ناصر الدین پٹواری نے گزشتہ ماہ خبردار کیا تھا کہ پارٹی پر پابندی لگانے میں ناکامی بنگلہ دیش کو خانہ جنگی کی طرف دھکیل دے گی۔ اپنے ساتھیوں کی موت پر ابھی تک غمزدہ طلبہ رہنمائوں نے شیخ حسینہ واجد کی پارٹی کو کالعدم قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔لیکن نوبل انعام یافتہ اور نگراں حکومت کے رہنما محمد یونس نے کہا ہے کہ ان کا ایسا کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

    سندھ حکومت نے ٹرانسپورٹ افسران کی چھٹیاں منسوخ کردیں

  • سندھ حکومت نے ٹرانسپورٹ افسران کی چھٹیاں منسوخ کردیں

    سندھ حکومت نے ٹرانسپورٹ افسران کی چھٹیاں منسوخ کردیں

    سندھ حکومت نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے عید الفطر کے موقع پر ٹرانسپورٹ افسران کی چھٹیاں منسوخ کردی ہیں۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ایک بیان میں سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ عید کے دوران اضافی کرایہ وصول کرنے کی شکایات عام ہوتی ہیں، کوئی بھی شہری اضافی کرایہ ادا نہ کرے، عوام کی سہولت کے لیے پورے صوبے میں ٹرانسپورٹ افسران اپنی ذمہ داریاں نبھائیں گے .انہوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹ اتھارٹی سندھ اور آر ٹی اے / ڈی آر ٹی ایز کے تمام افسران اور اہلکار عید کی تعطیلات کے دوران عوامی شکایات کے ازالے کے لیے موجود رہیں گے، حکومت سندھ نے زائد کرایے وصول کرنے والے ٹرانسپورٹرز کے خلاف سخت کارروائی کی کی خصوصی ہدایات جاری کی ہیں۔

    شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اضافی کرایوں کی وصولی کے خلاف مہم کے سلسلے میں محکمہ ٹرانسپورٹ اینڈ ماس ٹرانزٹ کے تمام افسران اور عملے کی عید کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں، حکومت سندھ کی کوشش ہے کہ عوام کو عیدالفطر کے موقع پر سفری سہولیات میں کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے اور اضافی کرایوں کی وصولی کے خلاف فوری کارروائی کی جا سکے۔

    سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے مزید کہا کہ عوام اضافی کرایہ ادا کرنے کے بجائے فوری طور پر شکایت درج کروائیں تاکہ حکومت فوری ایکشن لے سکے، سندھ حکومت عوامی مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے اور کسی کو بھی ناجائز منافع خوری کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    اخوت فاؤنڈیشن کے بانی ڈاکٹر امجد ثاقب .تحریر: راحین راجپوت

    خوشحال اور ترقی پسند پاکستان کی تعمیر جاری رکھیں گے۔وزیراعظم

  • وزیراعلیٰ سندھ کا ملک میں  دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی لہر پر تشویش کا اظہار

    وزیراعلیٰ سندھ کا ملک میں دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی لہر پر تشویش کا اظہار

    سندھ اسمبلی میں اپنے خطاب کے آغاز میں وزیراعلی سندھ نے ملک میں بالخصوص خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی لہر پر تشویش کا اظہار کیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق مراد علی شاہ نے اسمبلی کو یقین دلایا کہ سندھ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے صوبے میں کسی بھی قسم کے سیکیورٹی خطرات کو روکنے کے لیے صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی دہائیوں تک ہمارے ملک اور صوبے میں لاقانونیت ایک بڑا مسئلہ تھا لیکن 2013-14 کے بعد حالات بہتر ہونے لگے۔ اور مزید کہا کہ جب تک چیلنجز باقی ہیں، سندھ حکومت امن و سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ سندھ اسمبلی نے اس سے قبل دہشت گردی کے خلاف قرارداد منظور کی تھی جس میں تمام سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری پر زور دیا گیا تھا کہ وہ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی سلامتی کو ترجیح دیں۔

    بجٹ سے پہلے کی بحث

    مراد علی شاہ نے روشنی ڈالی کہ سندھ کا رولز 143 کے ساتھ منفرد ہے، جو کسی بھی قومی یا صوبائی اسمبلی کے برعکس پہلے سے بجٹ پر بحث کی اجازت دیتا ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ قانون تمام اراکین کو بجٹ کے معاملات پر بحث کرنے، سفارشات کا اشتراک کرنے اور حل تجویز کرنے کے قابل بناتا ہے۔ مارچ میں حکومت سازی کی وجہ سے پچھلے سال کی تاخیر کے باوجود وزیراعلی نے کہا رمضان کے دوران بھی اس سال کی بات چیت ٹریک پر ہے۔ انہوں نے اسمبلی کے نتیجہ خیز مباحثوں اور پچھلے سال کے مقابلے میں قانون سازوں کی بڑھتی ہوئی شرکت کی تعریف کی جہاں سیاسی تنا کی وجہ سے صرف 31 ممبران ہی مصروف رہے۔

    اپوزیشن کا کردار اور عزم:
    سیاسی اتحاد کے ایک نادر لمحے میں وزیراعلی نے اختلافات کے باوجود حکومت کے نیک ارادوں کو تسلیم کرنے پر اپوزیشن لیڈر کو تسلیم کیا۔ وزیراعلی نے کہا کہ مجھے یہ سن کر خوشی ہوئی کہ ہمارے ارادوں پر کوئی شک نہیں ہے۔ اور 1970 سے سندھ کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے پارٹی کے عزم پر زور دیا۔ انہوں نے ایوان کو یقین دلایا کہ حکومت خدشات کو دور کرنے، مالی شفافیت کو یقینی بنانے اور امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے وقف ہے۔

    اسمبلی میں بڑھتی ہوئی مصروفیت

    وزیراعلی نے اسمبلی میں بڑھتی ہوئی مصروفیت پر روشنی ڈالی، اس سال 100 ارکان نے خطاب کیا اور بجٹ پر بحث کے دوران پچھلے سال ریکارڈ 132 تھے۔ انہوں نے تمام سفارشات کو سراہا اور تعمیری تنقید کی اہمیت پر زور دیا۔ وزیراعلی سندھ نے کراچی میں انفراسٹرکچر اور پانی کی فراہمی کے مسائل پر بات کرنے کی اہمیت پر زور دیا، کراچی شہر کو "ملک کے دل کی دھڑکن” قرار دیا۔انہوں نے کامیابیوں اور مستقبل کے پروگراموں کا خاکہ پیش کرتے ہوئے 2025-26 کے بجٹ میں غور کے لیے تمام تجاویز کو دستاویز کرنے کا وعدہ کیا۔

    وزیراعلی سندھ نے اسمبلی کو بتایا کہ اس سال کل بجٹ 3056 ارب روپے تھا۔ 28 فروری 2025 تک تقریبا 2000 ارب روپے جاری کیے جا چکے ہیں اور 1454 ارب روپے ملازمین سے متعلقہ اخراجات، بشمول تنخواہوں اور پنشنوں کے ایک اہم حصے کے ساتھ استعمال ہو چکے ہیں۔

    پاکستان ٹیم نے تاریخ کا منفرد ریکارڈ اپنے نام کرلیا

    تین دن میں 200 معصوم بچوں سمیت 591 فلسطینی شہید

    حکومت کی عدم توجہی کے باعث آئی ٹی انڈسٹری بحرانوں کا شکار

    ونڈ فال ٹیکس،چار ہفتوں میں 34.5 ارب سے زائد رقم وصول

    ملک بھر میں لاکھوں فرزندان اسلام اعتکاف میں بیٹھ گئے

  • پاکستان ٹیم نے تاریخ کا منفرد ریکارڈ اپنے نام کرلیا

    پاکستان ٹیم نے تاریخ کا منفرد ریکارڈ اپنے نام کرلیا

    پاکستان کرکٹ ٹیم نے نیوزی لینڈ کے خلاف ٹی ٹوئنٹی میں 200 سے زیادہ رنز کا ہدف حاصل کرکے منفرد ریکارڈ بھی اپنے نام کر لیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق پاکستان نے 205 رنز کا ہدف محض 16ویں اوور میں ہی حاصل کر لیا جو ٹی ٹونٹی کرکٹ کی 20 سالہ تاریخ میں ایک ریکارڈ ہے۔ اس سے قبل، 2007ء میں جوہانسبرگ میں جنوبی افریقا نے ویسٹ انڈیز کے خلاف 17.4 اوور میں 200 سے زیادہ رنز کا ہدف حاصل کیا تھا۔پاکستان نے 2021ء میں جنوبی افریقہ کیخلاف سنچورین میں 200 سے زیادہ رنز کا ہدف 18 اوورز میں پورا کیا تھا۔

    واضح رہے کہ قومی ٹیم نے سیریز کے تیسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں نیوزی لینڈ کو 9 وکٹوں سے شکست دے کر میچ میں کامیابی حاصل کی۔ اوپنر محمد حارث 41 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ اوپنر حسن نواز نے 105 رنز اور کپتان سلمان علی آغا نے 51 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی۔
    ونڈ فال ٹیکس،چار ہفتوں میں 34.5 ارب سے زائد رقم وصول

    ملک بھر میں لاکھوں فرزندان اسلام اعتکاف میں بیٹھ گئے

    نواز شریف کا بلوچستان کی موجودہ صورتحال پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار

    نوجوان نے یوٹیوب ویڈیو دیکھ کر خود ہی آپریشن کر ڈالا

  • تین دن میں 200 معصوم بچوں سمیت 591 فلسطینی شہید

    تین دن میں 200 معصوم بچوں سمیت 591 فلسطینی شہید

    اسرائیل کی جانب سےفلسطینی عوام پر بمباری، زمینی حملوں اور گولہ باری کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔

    غزہ کی وزارت صحت کے مطابق محض تین دنوں میں 591 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں 200 معصوم بچے شامل ہیں۔ یہ وحشیانہ حملے رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں کیے جا رہے ہیں، جہاں فلسطینی افطار کے بجائے ملبے تلے دبے اپنے پیاروں کو تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔ اسپتال زخمیوں سے بھر گئے ہیں، جبکہ امدادی سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں۔گنجان آباد علاقے میں رہنے والے ہزاروں بے گھر افراد، جو پہلے ہی جنگ کے خوف میں زندگی گزار رہے تھے، اب مزید ظلم کا شکار ہو رہے ہیں۔

    ان حملوں کے خلاف یمن کے حوثی گروپ نے اسرائیل پر میزائل حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ لبنان کے جنوبی اور مشرقی علاقوں پر بھی اسرائیلی بمباری کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ دوسری جانب اسرائیل میں نیتن یاہو کی حکومت کے خلاف شدید عوامی احتجاج ہو رہا ہے۔ یروشلم میں ہزاروں اسرائیلی سڑکوں پر نکل آئے اور حکومت کے انتہا پسندانہ فیصلوں کے خلاف مظاہرے کیے، جس میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔فلسطینی عوام اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ جارحیت دراصل فلسطینیوں کو زبردستی بے دخل کرنے اور ان کی شناخت مٹانے کی کوشش ہے۔

    انٹرنیشنل ہیومن رائٹس گروپس نے اسرائیل کے ان اقدامات کو اجتماعی سزا اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔فلسطینی سینٹر برائے انسانی حقوق کے ترجمان نے عالمی برادری سے فوری ایکشن لینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا، "دنیا کہاں ہے؟ مشترکہ انسانی اقدار کہاں ہیں؟”اس وقت غزہ خون میں ڈوبا ہوا ہے، اور عالمی برادری کی محض زبانی مذمت اور بےعمل تشویش فلسطینی عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔

    ملک بھر میں لاکھوں فرزندان اسلام اعتکاف میں بیٹھ گئے

    نواز شریف کا بلوچستان کی موجودہ صورتحال پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار

    نوجوان نے یوٹیوب ویڈیو دیکھ کر خود ہی آپریشن کر ڈالا

    میچ نہیں دیکھا کہ کہیں بیٹے کو نظر ہی نہ لگ جائے ، والدہ کرکٹر حسن نواز

  • حکومت کی عدم توجہی کے باعث آئی ٹی انڈسٹری بحرانوں کا شکار

    حکومت کی عدم توجہی کے باعث آئی ٹی انڈسٹری بحرانوں کا شکار

    پاکستان آئی ٹی انڈسٹری عین مسائل کی دلدل میں پھنسی ہوئی ہے ،دوسری جانب حکومت بہتری کے دعوے کر رہی ہے۔

    نجی ٹی وی ہم نیوز کی رپورٹ کے مطابق اس وقت تقریباً ساڑھے تین ہزار سے زائد آئی ٹی کمپنیاں بڑے، درمیانے اور چھوٹے سکیل کے بزنس ماڈیولز کے تحت پاکستان میں آئی ٹی سروسز کی فراہمی ، سوفٹ وئیرز کی تیاری، فروخت اور اپ گریڈنگ کا کام کر رہی ہیں۔بظاہر یہ اعداد و شمار پاکستانی آئی ٹی انڈسٹری کی قابل اعتماد ترقی کا اشارہ دیتے ہیں ، وہ انڈسٹری جس کے بارے میں حکمران یہ دعویٰ کرتے آئے ہیں کہ پاکستانی آئی ٹی انڈسٹری پچیس ارب ڈالر کمانے کی اہلیت رکھتی ہے لیکن آئی ٹی انڈسٹری کولاحق بحران پر نظر ڈالی جائے تو اس شعبے کا نمایاں ترین مسئلہ سپلائی سائیڈ کا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی ٹی کی خدمات کی ڈیمانڈ اتنی زیادہ بڑھی ہوئی ہے کہ ہم اسے پورا ہی نہیں کر پا رہے، پاکستان میں ہر سال ایک لاکھ آئی ٹی گریجویٹس کی ضرورت ہے لیکن تعلیمی اداروں سے صرف 25 ہزار لوگ ہی نکل رہے ہیں۔انسانی حقوق، جمہوریت اور دنیا بھر میں سیاسی آزادی جیسے موضوعات پر کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم فریڈم ہاؤس کی 2023 کی انٹرنیٹ کی آزادی پر شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں انٹرنیٹ آزاد نہیں۔فریڈم ہاؤس نے اپنی سالانہ رپورٹ کے ذریعے دنیا کے 70 ممالک میں انٹرنیٹ کی آزادی کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ انٹرنیٹ تک رسائی میں مشکلات، سینسرشپ اور صارفین کے حقوق کے استحصال کی بنیاد پر ممالک کو 100 میں سے سکور دیا جاتا ہے۔

    2023 کی فریڈم ہاؤس کی رپورٹ کے تحت پاکستان کو 100 میں سے 26 نمبر دیے گئے ہیں۔ بھارت میں انٹرنیٹ جُزوی طور پر آزاد ہے جبکہ کینیڈا جیسے ملک کو 100 میں سے 88 نمبر دیے گئے ہیں اور اُس کا شمار اُن ممالک میں ہوتا ہے جہاں انٹرنیٹ آزاد ہے۔اسٹیٹ بینک کی رپورٹ سے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستانی آئی ٹی انڈسٹری کا پرائیویٹ سیکٹر اپنے طور پر بہتر نتائج لانے کی کوشش کر رہا ہے لیکن سرکاری شعبہ عدم توجہ اور کسی حد تک عدم تحفظ کا شکار ہے۔جس کی سب سے بڑی مثال سی ای او نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کا اپنا بیان ہے۔

    اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق آئی ٹی کی برآمدات مالی سال 24-2023 ءمیں 24 فیصد اضافے کے ساتھ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 2.59 ارب ڈالر سے بڑھ کر 3.2 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔رپورٹ کے مطابق آئی ٹی سیکٹرنے گزشتہ سال جون کے مہینے میں ریکارڈ 30 کروڑ ڈالر کی برآمدات کی تھیں جو 2024 کی اسی مدت کے مقابلے میں 33 فیصد زیادہ تھیں۔ آئی ٹی برآمدات میں اضافے کی بنیادی وجہ خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک بالخصوص سعودی عرب میں پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں کی خدمات کے حصول میں اضافہ ہے۔

    اس کی بڑی وجہ عالمی سیاسی و معاشی حالات اور پاکستانی حکومتوں کی پالیسیاں ہیں جو آئی ٹی کمپنیوں اور فری لانسرز کے کام کرنے کے ماحول اور مالیاتی معاملات کو براہ راست متاثر کرتی ہیں۔دوسری طرف وزیراعظم کے پروگرام اُڑان پاکستان کا آغاز ہو چکا ہے جس میں پاکستان کی آئی ٹی برآمدات کو 2047 تک 60 ارب ڈالر تک لے جانے کا پلان شامل ہے۔ لیکن جب موجودہ حکومت کے تحت آئی ٹی کے شعبے کے ذمہ داران کی طرف دیکھا جائے تو شاید ابھی وہاں پر وہ سنجیدگی نہیں دکھائی جا رہی جس کی ضرورت ہے۔

    حکومت کے رجحان سے محسوس ہوتا ہے کہ حکومتی اداروں میں بیٹھے ہوئے ذمہ داران اس بات پر زیادہ زور دیتے ہیں کہ آئی ٹی پروڈکٹس کو بڑھاوا دینے کی بجائے آئی ٹی ماہرین تیار کیے جائیں۔صرف ماہرین تیار کرنے سے بڑے پیمانے پر وہ فاہدہ حاصل نہیں کیا جا سکتا جو مقامی آئی ٹی انڈسٹری کی بین الاقوامی معیار کی پراڈکٹس تیار کرکے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے تحت کُل سات ادارے ہیں جن میں شامل تین اداروں کے ابھی تک بورڈز بھی مکمل نہیں۔ان اداروں میں سب سے اہم ادارہ پاکستان سافٹ وئیر ایکسپورٹ بورڈ کو بورڈ مکمل نہیں۔ اسی طرح یونیورسل سروس فنڈز اور نیشنل ٹیکنالوجی فنڈز یا اگنائیٹ کا بھی ابھی تک بورڈ نامکمل ہے۔ وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے تمام گیارہ ذیلی اداروں کے بھی بورڈز ابھی تک نامکمل ہیں۔

    مقامی سطح پر آئی ٹی ٹیکنالوجی کے استعمال اور حکومتی اداروں میں ڈیجیٹلائزیشن کی طرف مکمل توجہ نہیں دی جا سکی۔ وفاقی حکومت نے سرکاری دفاتر میں پیپر لیس ماحول کے فروغ کے لیے ای آفس سسٹم متعارف کرایا ہے تاہم تازہ ترین حقائق کے مطابق 40 وفاقی اداروں میں سے صرف 3 اداروں نے اس نظام کو مکمل طور پر اپنایا ہے جبکہ پانچ وزارتوں میں اس پراجیکٹ پر ابھی کام نہیں شروع ہو سکا۔اسی طرح فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ٹیکس وصولی کے عمل کو موثر بنانے کے لیے ڈیجیٹلائزیشن کی کوششیں کی ہیں۔ اس مقصد کے لیے پاکستان ریونیو آٹو میشن پرائیویٹ لمیٹڈ ( پرال) کے تعاون سے سافٹ وئیر حل فراہم کیے جا رہے ہیں۔

    ترقی پذیر ممالک سے ہٹ کر ہمارے ہاں آئی ٹی کے شعبے میں حکومتی مدد ویسی نہیں جیسی ہونی چاہیے کیونکہ ہمارے ہاں آر اینڈ ڈی ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے حوالے سے آئی ٹی کی وزارت بالکل خاموش ہے۔معاہدوں سے نہ صرف پاکستان کی آئی ٹی کمپنیوں اورا سٹارٹ ایپس میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہوئی ہے بلکہ اس سے مشترکہ منصوبوں، تربیتی پروگراموں اور جدید ٹیکنالوجیز کے لیے انوویشن سینٹرز، سینٹرز آف ایکسی لینس اور یونیورسٹی برانچوں کے ذریعے تحقیق اور جدت کو بڑھانے کے علاوہ فائبر آپٹک نیٹ ورکس، ڈیٹا سینٹرز اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے میں بھی مدد ملے گی۔

    اس حوالے سے مستقبل میں دونوں ممالک کے مابین ای گورننس، اسمارٹ انفراسٹرکچر، ای ہیلتھ، ای ایجوکیشن اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز جیسا کہ آرٹیفشل انٹیلی جنس، روبوٹکس، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، ای گیمنگ اور بلاک چین میں بھی تعاون کو فروغ ملے گا۔ آئی ٹی برآمدات میں اضافے کے حوالے سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اقدامات نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس سلسلے میں ایکسپورٹرز کو خصوصی فارن کرنسی اکاؤنٹس میں موجود سرمایہ رکھنے کی حد 35 فیصد سے بڑھا کر 50 فیصد کرنے کے فیصلے اور روپے کی قدر میں استحکام نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔

    گزشتہ پانچ سال کے دوران پاکستان کے آئی ٹی سیکٹر کی برآمدات تقریبا دوگنا ہو چکی ہیں۔ تاہم گزشتہ چند سال کےاعدادو شمار سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اس شعبے کی ترقی کی شرح میں تسلسل نہیں۔ اس کی بڑی وجہ عالمی سیاسی و معاشی حالات اور پاکستانی حکومتوں کی پالیسیاں ہیں جو آئی ٹی کمپنیوں اور فری لانسرز کے کام کرنے کے ماحول اور مالیاتی معاملات کو براہ راست متاثر کرتی ہیں۔

    اگر پاکستان کی آئی ٹی انڈسٹری کو درپیش بنیادی مسائل حل ہو جائیں تو مختصر عرصے میں آئی ٹی ایکسپورٹس کو سالانہ 15 سے 20 ارب ڈالر سالانہ تک بڑھانے کے مواقع موجود ہیں۔اس حوالے سے حکومت کو تیز رفتار انٹرنیٹ کی بلاتعطل فراہمی اور مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک رسائی میں رکاوٹیں ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں آئی ٹی کمپنیوں اور فری لانسرز کو گزشتہ چند ہفتوں کے دوران انٹرنیٹ کی فراہمی میں جس تعطل اور سست روی کا سامنا کرنا پڑا وہ مایوس کن ہے۔

    نوجوان نے یوٹیوب ویڈیو دیکھ کر خود ہی آپریشن کر ڈالا

    میچ نہیں دیکھا کہ کہیں بیٹے کو نظر ہی نہ لگ جائے ، والدہ کرکٹر حسن نواز

    بغیر اجازت احتجاج کرنے پر عورت مارچ کی قیادت کیخلاف مقدمہ درج

    بغیر اجازت احتجاج کرنے پر عورت مارچ کی قیادت کیخلاف مقدمہ درج

    لاہور قلندرز کا یو نیوورسٹی فین کلب فرینڈز آف قلندرز کا آغاز

  • ونڈ فال ٹیکس،چار ہفتوں میں 34.5 ارب سے زائد رقم وصول

    ونڈ فال ٹیکس،چار ہفتوں میں 34.5 ارب سے زائد رقم وصول

    بینکوں سے ونڈ فال ٹیکس وصولی کی مد میں ایک اور بڑی کامیابی، چار ہفتوں میں 34.5 ارب روپے سے زائد رقم قومی خزانے میں جمع ہوگئی۔

    وزارت قانون وانصاف کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے اس ضمن میں خصوصی ہدایات جاری کیں تھیں اور ان مقدمات کی پیروی کرنے کے خصوصی احکامات جاری کیے تھے۔سندھ ہائیکورٹ کے بعد لاہور ہائی کورٹ نے بھی پنجاب میں تمام رجسٹرڈ بینکوں کی درخواستوں پر حکم امتناع ختم کرنے کا فیصلہ سنایا،حکم امتناعی خارج ہونے پر پنجاب کے بینکوں نے آج 11.5 ارب روپے قومی خزانے میں جمع کرا دیئے ہیں۔تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک مربوط حکمت عملی کے تحت اس طرح کا اقدام کیا گیا جس سے سرکاری خزانے میں اربوں روپے آئے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ، اٹارنی جنرل منصور اعوان، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال کو زیرالتوا مقدمات میں فوری اقدامات کی ہدایت کی تھی۔تین ہفتے پہلے سندھ ہائیکورٹ کے سٹے آرڈر کے ختم ہونے پر بینکوں نے چوبیس گھنٹے کے اندر 23 ارب روپے ایف بی آر میں جمع کرائے تھے ۔واضح رہے 2023 میں بینکوں پر انکم ٹیکس ایکٹ کے سیکشن 99 ڈی کے تحت ونڈ فال ٹیکس عائد کیا گیا تھا جو غیر معمولی اور اضافی منافع پر لاگو کیا گیا تھا۔

    ملک بھر میں لاکھوں فرزندان اسلام اعتکاف میں بیٹھ گئے

    نواز شریف کا بلوچستان کی موجودہ صورتحال پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار

    بھارت میں کسانوں کےخلاف کریک ڈاؤن، گرفتاریاں جاری

    نوجوان نے یوٹیوب ویڈیو دیکھ کر خود ہی آپریشن کر ڈالا

    نوجوان نے یوٹیوب ویڈیو دیکھ کر خود ہی آپریشن کر ڈالا

  • ملک بھر میں لاکھوں فرزندان اسلام اعتکاف میں بیٹھ گئے

    ملک بھر میں لاکھوں فرزندان اسلام اعتکاف میں بیٹھ گئے

    رمضان المبارک کا آخری عشرہ آج شروع ہوگیا، ملک بھر میں لاکھوں مسلمان اعتکاف میں بیٹھ گئے۔

    ذرائع کے مطابق ملک بھر میں لاکھوں فرزندان اسلام اعتکاف میں بیٹھ گئے، رمضان المبارک کا آخری عشرہ آج شروع ہوگیا جبکہ شب قدر کو تلاش کرنے کے لیے آج 21 ویں شب کو شب بیداری بھی کی جائے گی۔کراچی میں نیومیمن مسجد بولٹن مارکیٹ، جامع مسجد آرام باغ، جناح مسجد برنس روڈ، گلزار حبیب سولجربازار، فیضان مدینہ سبزی منڈی، تھانوی مسجد جیکب لائن سمیت دیگر مساجد میں معتکفین کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ کئی خواتین گھروں میں اعتکاف کریں گی۔ کئی مساجد میں معتکفین کے لیے سحر و افطار کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔

    رمضان المبارک کے آخری عشرے کے آغاز پر ملک بھر کی طرح لاہورمیں بھی فرزندان اسلام اعتکاف میں بیٹھ گئے. عالمگیری بادشاہی مسجد سمیت چھوٹی بڑی مساجد میں معتکفین عبادات الٰہی میں مشغول ہیں۔علاوہ ازیں خطیب بادشاہی مسجد مولانا عبدالخںجرآزاد کا کہنا ہے اعتکاف قرب الٰہی کا بہترین زریعہ ہیں۔ منتظمین کےمطابق متعکفین کی سحری اور افطاری کے لیےخصوصی انتظامات کیے ہیں، روزانہ کی بنیاد پر قرآنی درس و تربیتی سیشنز بھی منعقد ہوں گے۔معتکفین کا کہناہے کہ دنیا سے کٹ کر رب سے جڑنے کے لیے رمضان کا آخری عشرہ مغفرت اور بخشش کا باعث ہے۔ تمام معتکفین شوال کا چاند نظر آنے تک مساجد میں اعتکاف جاری رکھیں گئے۔

    میچ نہیں دیکھا کہ کہیں بیٹے کو نظر ہی نہ لگ جائے ، والدہ کرکٹر حسن نواز

    بغیر اجازت احتجاج کرنے پر عورت مارچ کی قیادت کیخلاف مقدمہ درج

    جڑواں شہروں میں 2 روز کیلئے ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند

    لاہور قلندرز کا یو نیوورسٹی فین کلب فرینڈز آف قلندرز کا آغاز

    کوئٹہ سے ٹرین سروس تاحال بحال نہ ہوسکی،انٹرنیٹ سروس بھی بند

  • نواز شریف کا بلوچستان کی موجودہ صورتحال پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار

    نواز شریف کا بلوچستان کی موجودہ صورتحال پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار

    سابق وزیراعظم میاں نواز شریف سے صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن میاں محمد رؤف عطا کی ملاقات ہوئی، جس میں نواز شریف نے بلوچستان کی موجودہ صورتحال پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جلد بلوچستان کا دورہ کرنے کا اعلان کیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن میاں محمد رؤف عطا نے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف سے جاتی امرا لاہور میں ملاقات کی۔ملاقات میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اورصدر بلوچستان ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن بھی موجود تھے جبکہ ملاقات میں بلوچستان سمیت امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اعلامیے کے مطابق صدر سپریم کورٹ بار نے زور دیا کہ نواز شریف قومی اور بلوچ سیاسی قائدین کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کا اقدام کریں، تمام راہنماؤں کو اکٹھا کرنے سے صوبے کے مسائل کے حل پر قومی اتفاق رائے قائم کیا جا سکے گا جبکہ بلوچستان میں دہشت گردی کے خاتمے اور امن کی بحالی کے لیے جمہوری طرز عمل ہی واحد قابل عمل راستہ ہے۔

    اس مقع پر مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کا بھی بلوچستان کی موجودہ صورتحال پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کیا۔سابق وزیراعظم نے صوبے میں امن کی بحالی کے لیے کردار بنھانے کا وعدہ کرتے ہوے جلد بلوچستان کا دورہ کرنے کا بھی اعلان کیا۔

    بھارت میں کسانوں کےخلاف کریک ڈاؤن، گرفتاریاں جاری

    نوجوان نے یوٹیوب ویڈیو دیکھ کر خود ہی آپریشن کر ڈالا

    میچ نہیں دیکھا کہ کہیں بیٹے کو نظر ہی نہ لگ جائے ، والدہ کرکٹر حسن نواز