Baaghi TV

Author: سعد فاروق

  • پاکستان نرسنگ کونسل انسانی سمگلنگ میں ملوث، قائمہ کمیٹی میں انکشاف

    پاکستان نرسنگ کونسل انسانی سمگلنگ میں ملوث، قائمہ کمیٹی میں انکشاف

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت میں ممبر آغا رفیع اللہ نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان نرسنگ کونسل انسانی سمگلنگ میں ملوث ہے یہ جعلی ڈگریوں پر نرسز کو باہر بھیج رہا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق قائمہ کمیٹی برائے صحت کا اجلاس مہیش کمار میلانی کی زیر صدارت ہوا، کمیٹی میں نرسنگ کونسل کی بیضابطگیوں پر شدید تشویش کی گئی۔رکن عالیہ کامران نے کہا کہ نرسنگ کونسل نے عدالت سے اسٹے آرڈر لیا ہوا ہے اور یہ لوگ اتنے با اثر ہیں کہ کمیٹی کے ہاتھ بندھ جاتے ہیں۔کمیٹی کی رکن شازیہ صوبیہ نے انکشاف کیاکہ دبئی، قطر اور سعودی عرب سے تین نرسنگ گروپ جعلی ڈگریوں پر واپس بھیجے جا چکے ہیں جبکہ عالیہ کامران نے بتایاہے کہ نرسنگ کونسل کی جانب سے کمیٹی کے مختلف ممبران کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔

    کمیٹی اجلاس میں آغا رفیع اللہ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جعلی نرسنگ کالجز ہیومن ٹریفکنگ میں بھی ملوث ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ نرسنگ کونسل نے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او)کو بھی گمراہ کر رکھا ہے۔وزیر صحت مصطفی کمال نے کمیٹی کو یقین دلایا کہ فرزانہ ذوالفقار کی جعلی ڈگری کے خلاف ایچ ای سی کو خط لکھا جا چکا ہے اور وہ اس معاملے پر کمیٹی کو مسلسل آگاہ رکھتے رہیں گے۔اجلاس کے اختتام پر فیصلہ کیا گیاکہ آئندہ اجلاس نرسنگ کونسل کے معاملات پر ہی منعقد کیا جائے گا اور اس کے خلاف ممکنہ کارروائی پر غور کیا جائے گا۔

    ذرائع کے مطابق اجلاس میں تمام ممبران نے متفقہ طور پر نرسنگ کونسل میں ہونے والی بیضابطگیوں کے خلاف آواز اٹھائی۔وزیر صحت مصطفی کمال نے اجلاس کے دوران معذرت کرتے ہوئے کہاکہ آغا رفیع اللہ کے خلاف نرسنگ کونسل کی جانب سے بہت بری زبان استعمال کی گئی، تاہم وہ اس معاملے پر خاموش نہیں بیٹھیں گے اور نرسنگ کونسل پر مکمل تحقیقات کروائی جائیں گی۔ انہوںنے کہاکہ وہ نرسنگ کونسل کے معاملے کو سلجھانے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔

    صحافی فرحان ملک کے دفترپر چھاپہ، کمپیوٹر اور یو ایس بی ضبط

    نیوزی لینڈ کاپاکستان کیخلاف ون ڈے سیریز کیلئے اسکواڈ کا اعلان

    انسانی سمگلرز کے ریڈ نوٹس جاری، انٹرپول سے بھی رابطہ

    وزیراعلیٰ سندھ کا 30 ہزارطلبہ کے لیےسکالرشپ دینے کا اعلان

  • صحافی فرحان ملک کے دفترپر  چھاپہ، کمپیوٹر اور یو ایس بی ضبط

    صحافی فرحان ملک کے دفترپر چھاپہ، کمپیوٹر اور یو ایس بی ضبط

    کراچی میں کے دفتر پر ایف آئی اے نے اہم چھاپہ مارا اور کمپیوٹر اور یو ایس بی ڈرائیو ضبط کرلی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق رفتار دفتر انتظامیہ کا کہنا ہے کہ فرحان ملک کے دفتر پر چھاپہ معمول کی تحقیقات نہیں بلکہ آزادی صحافت پر حملہ ہے۔واجح رہے کہ اس سے قبل سندھ ہائی کورٹ نے ملک مخالف ویڈیوز بنانے کےکیس میں فرحان ملک کی جانب سے مقدمہ خارج کرنےکی درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری کردیا۔ عدالت نے درخواست کی سماعت عیدکی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کردی۔درخواست گزار کے وکیل کا کہناتھا کہ ایف آئی آر غیر قانونی اور بدنیتی پر مبنی ہے، مقدمہ درخواست گزار کو ہراساں کرنے کی کوشش ہے، وکیل کا موقف تھا کہ مقدمے پر حکم امتناع مانگا تھا جو نہیں ملا۔

    معیز جعفری ایڈووکیٹ نے کہا کہ انکوائری شروع ہوتے وقت پیکا ترمیمی ایکٹ موجود نہیں تھا اگر ایسے مقدمات کی اجازت دی گئی تو شہریوں کے خلاف مقدمات کا ایک نیا دروازہ کھل جائےگا،کوئی بھی سرکاری افسر کسی بھی شہری کے خلاف عناد مقدمےکی صورت میں نکال سکےگا۔درخواست میں سندھ حکومت، ایس ایس پی ایسٹ، ڈائریکٹر ایف آئی اے و دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔

    نیوزی لینڈ کاپاکستان کیخلاف ون ڈے سیریز کیلئے اسکواڈ کا اعلان

    انسانی سمگلرز کے ریڈ نوٹس جاری، انٹرپول سے بھی رابطہ

    وزیراعلیٰ سندھ کا 30 ہزارطلبہ کے لیےسکالرشپ دینے کا اعلان

  • نیوزی لینڈ  کاپاکستان کیخلاف ون ڈے سیریز  کیلئے اسکواڈ کا اعلان

    نیوزی لینڈ کاپاکستان کیخلاف ون ڈے سیریز کیلئے اسکواڈ کا اعلان

    پاکستان کیخلاف ون ڈے سیریز کیلئے نیوزی لینڈ کےاسکواڈ کا اعلان کردیا گیا۔

    جاری شیڈول کے مطابق پہلا ون ڈے میچ ہفتے کو نیپئیر میں کھیلا جائے گا۔نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ کے مطابق ٹام لیتھم ٹیم کی قیادت کریں گے۔ پاکستانی نژاد محمد عباس بھی پاکستان کے خلاف ون ڈے اسکواڈ کا حصہ ہوں گے۔محمد عباس پاکستان میں پیدا ہوئے اور پھر فیملی کے ہمراہ نیوزی لینڈ منتقل ہوگئے، محمد عباس پاکستان میں فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے والے اظہر عباس کے بیٹے ہیں۔نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ کے مطابق اظہرعباس نے آکلینڈ اور ویلنگٹن کی بھی نمائندگی کی اور فائر بورڈز کے اسسٹنٹ کوچ ہیں۔

    نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کا فائنل کھیلنے والے اسکواڈ کے 8 کھلاڑی پاکستان کے خلاف ون ڈے اسکواڈ میں شامل ہیں۔اسکواڈ میں آدی اشوک، مائیکل بریسویل، مارک چیپمین، جیکب ڈفی اور مچل ہے اسکواڈ میں شامل ہیں جبکہ نک کیلی، ول او رورکے بین سئیرز، نیتھن سمتھ اور ول ینگ بھی اسکواڈ کا حصہ ہوں گے۔میچل سینٹنر، راچن رویندرا، ڈیون کونوئے اور گلین فلپس آئی پی ایل کی وجہ سے اسکواڈ کا حصہ نہیں ہوں گے۔

    یاد رہے کہ پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان 3 میچز پر مشتمل ون ڈے سیریز کا آغاز 29 مارچ سے ہوگا، سیریز کے دیگر میچز 2 اور 5 اپریل کو کھیلے جائیں گے۔

    انسانی سمگلرز کے ریڈ نوٹس جاری، انٹرپول سے بھی رابطہ

    وزیراعلیٰ سندھ کا 30 ہزارطلبہ کے لیےسکالرشپ دینے کا اعلان

  • انسانی سمگلرز کے ریڈ نوٹس جاری، انٹرپول سے بھی رابطہ

    انسانی سمگلرز کے ریڈ نوٹس جاری، انٹرپول سے بھی رابطہ

    ایف آئی اے کی جانب سے انتہائی مطلوب انسانی سمگلرزکو واپس لانے کیلئے انٹرپول کوبھی لکھ دیا ہے۔31انتہائی مطلوب انسانی سمگلرز کے ریڈ نوٹس جاری کردیے گئے.

    باغی ٹی وی کے مطابق پچاس انتہائی مطلوب انسانی سمگلرزکی واپسی کیلئے سات ممالک کو تین درجن باہمی ایم ایل اے ارسال کیے گئے ہیں،ایف آئی اے نے ایران، سعودی عرب، اٹلی، عمان، یواے ای، یونان اورسپین میں اپنے لنک دفاتربھی کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔انسانی سمگلنگ کیس میں 735 افراد کو گرفتارکیا جا چکا ہے،پچھلے دوسال کے کشتی واقعات میں اب تک کئی پاکستانی ہلاک ہوچکے ہیں۔

    واضح رہے کہ یونان کشتی واقعہ میں 262، گریک کوسٹ گارڈ میں 5، مراکش میں 10 اورلیبیا میں 16 پاکستانی ہلاک ہوئے،دودرجن کے قریب پاکستانی تارکین وطن مختلف ممالک میں بھی ہلاک ہوئے۔انسانی سمگلروں کی اکیاسی کروڑ روپے کی جائیدادیں بھی منجمد کردی گئی ہیں،ملزمان کے اکسٹھ کروڑ روپے کے بینک اکائونٹس بلاک کردیے گئے ہیں۔انسانی سمگلنگ کی روک تھام کیلئے 21 اضلاع میں ایک مہم بھی چلائی گئی ہے۔

    وزیراعلیٰ سندھ کا 30 ہزارطلبہ کے لیےسکالرشپ دینے کا اعلان

    کراچی: واٹر ٹینکر کی ٹکر سے حاملہ خاتون، شوہر اور نومولود جاں بحق

  • وزیراعلیٰ سندھ کا 30 ہزارطلبہ کے لیےسکالرشپ دینے کا اعلان

    وزیراعلیٰ سندھ کا 30 ہزارطلبہ کے لیےسکالرشپ دینے کا اعلان

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے 30 ہزار طلباو طالبات کو سکالر شپ دینے کا اعلان کر دیا، سکالرشپس نوجوانوں کے روشن مستقبل میں سرمایہ کاری ہے،سندھ کی 30 جامعات کو سکالرشپس دی جائیں گی.

    باغی ٹی وی کے مطابق وزیراعلیٰ ہاﺅس میں سندھ حکومت،گوگل اور ٹیچ ویلی کے درمیان معاہدے کی تقریب منعقد کی گئی جس میں وزیراعلی سندھ نے30ہزار گوگل کیریئرسرٹیفکیٹ سکالرشپس کاافتتاح کردیا جس میں سندھ کی 30 جامعات کے طلبا کیلئے 30 ہزار گوگل کیریئر سرٹیفکیٹ سکالرشپس کا آغاز کیا گیا ۔تقریب سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ سکالرشپس نوجوانوں کے روشن مستقبل میں سرمایہ کاری ہے سائبرسیکیورٹی،اے آئی اوردیگرجدیدمہارتوں پرتربیت دی جائےگی۔100 فیصد طلبا نے گوگل کیریئر سرٹیفکیٹ مکمل کئے ہیں۔ گوگل کیریئر سرٹیفکیٹ 3 سے 6 ماہ کی مدت کے کورسز ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ سندھ کے طلباعالمی معیار کی تربیت حاصل کریں۔

    انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ ڈیجیٹل تعلیم اور ہنر مندی میں انقلابی اقدامات کر رہی ہے اور سکالرشپس نوجوانوں کے روشن مستقبل کیلئے سرمایہ کاری ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا مزید کہناتھا کہ پروجیکٹ مینجمنٹ، سائبر سیکیورٹی اور اے آئی میں تربیت بھی دی جائے گی۔ کم مراعات یافتہ طبقات اور خواتین کے لیے خصوصی کوٹہ مختص ہے۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ڈیجیٹل مہارتوں سے سندھ کی سماجی و اقتصادی ترقی کو فروغ ملے گا جبکہ گزشتہ سال 10 سرکاری جامعات کے 1500 طلبا کو سکالرشپس فراہم کی گئی تھیں۔ رواں سال سرکاری 30 جامعات کے 30 ہزار طلبا اسکالرشپس سے مستفید ہوں گے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیرتعلیم سندھ اورسیکریٹری آئی ٹی کا کہنا تھا کہ ایساٹیلنٹ پول بنا رہے ہیں جوڈیجیٹل معیشت کوآگے لے جائےگا۔ گوگل کیریئرسرٹیفکیٹس پروگرام نوجوانوں کیلئے ایک گیم چینجرثائت ہوگا۔

    کراچی: واٹر ٹینکر کی ٹکر سے حاملہ خاتون، شوہر اور نومولود جاں بحق

  • سندھ  میں اراضی ریکارڈ کو جدید ڈیجیٹلائز کرنے کا فیصلہ

    سندھ میں اراضی ریکارڈ کو جدید ڈیجیٹلائز کرنے کا فیصلہ

    وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ کے اراضی ریکارڈ کو جدید بنانے کے لیے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے سندھ حکومت نے ایک جدید ڈیجیٹلائزیشن اقدام شروع کیا ہے جس کا مقصد جائیداد کے انتظام میں درستگی، تحفظ اور کارکردگی کو یقینی بنانا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق وزیراعلی ہائوس میں ہونے والے اجلاس میں چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو (ایس ایم بی آر)بقا اللہ انڑ، وزیراعلی کے پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، آئی بی اے سکھر کے وائس چانسلر آصف شیخ، سیکریٹری آئی ٹی نور احمد سموں، اسپیشل سیکریٹری جنرل ایڈمنسٹریشن زمان ناریجو اور دیگر نے شرکت کی۔شروع میں وزیراعلی مراد شاہ نے اس بات پر زور دیا کہ زمین کی منتقلی کے پچھلے 12 اقدامات کے عمل کو سنگل سٹیپ ڈیجیٹل میکانزم میں ہموار کیا جانا چاہیے جس سے رسائی میں آسانی کو یقینی بنایا جائے اور بیوروکریٹک تاخیر کو ختم کیا جائے۔

    انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ سندھ کا ڈیجیٹل لینڈ ریکارڈ سسٹم جدید، ٹیکنالوجی سے چلنے والی گورننس، بدعنوانی کو کم کرنے، حق ملکیت کو یقینی بنانے اور جائیداد کے لین دین کو تیز کرنے کے لیے ایک مثال قائم کرے گا۔ چیف سیکرٹری آصف حیدر شاہ نے وزیر اعلی کو ای سسٹم کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام کے ایک حصے کے طور پر زمینی ریکارڈ کو دوبارہ لکھا جا رہا ہے اور اس کی تصدیق کی جا رہی ہے، ایک ڈیجیٹل لینڈ رجسٹر بنایا جا رہا ہے اور بلاک چین ٹیکنالوجی کو مربوط کیا جا رہا ہے تاکہ چھیڑ چھاڑ سے محفوظ ریکارڈ کو یقینی بنایا جا سکے۔

    انھوں نے وزیراعلی کو بتایا کہ اس کے علاوہ ویب پر مبنی ای-ٹرانسفر سسٹم سرکاری دفاتر کے دوروں کی ضرورت کے بغیر ،بغیر کسی رکاوٹ کے جائیداد کے لین دین کی سہولت فراہم کرے گا۔نظر ثانی اور تصدیق: درستگی اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے حکومت ولیج کے فارم-VII-A اور ولیج فارم-II کے ریکارڈ کو دستی طور پر دوبارہ لکھ رہی ہے جو کہ زمین کی ملکیت کے ڈیٹا کی بنیاد کے طور پر کام کرتے ہیں، چیف سیکرٹری نے وزیراعلی کو بتایا کہ ایک کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (CNIC) لنکیج سسٹم کو شامل کیا جا رہا ہے تاکہ مالکیت کی تصدیق اور دستاویزات کی غلطیوں کی تصدیق کی جا سکے۔

    ڈیجیٹل لینڈ رجسٹر کی تشکیل: چیف سیکرٹری نے وزیر اعلی کو بتایا کہ ایک جامع ڈیجیٹل لینڈ رجسٹر تیار کیا جا رہا ہے تاکہ پورے دیہوں(دیہات)کے سروے نمبر وار رقبہ کی تفصیلات درج کی جا سکیں۔ آصف حیدر شاہ نے وزیر اعلی کو بتایا کہ یہ سسٹم ناقابل منتقلی زمین کے زمرے کا ڈیٹا بھی رکھے گا، بشمول جنگل کی زمین، گاں کی زمین، قبرستان، اور بھاڈا زمین (لیز پر دی گئی زمین)، اس بات کو یقینی بنائے گی کہ یہ جائیدادیں محفوظ رہیں اور غیر مجاز لین دین سے بالاتر ہوں۔

    چیف سیکرٹری نے وزیر اعلی مراد شاہ کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام میں سب سے اہم پیش رفت بلاک چین ٹیکنالوجی کا استعمال ہے۔انہوں نے کہا کہ دوبارہ تحریری اور تصدیق شدہ ریکارڈ (V.F.VII-A&V.F.II) کو مکمل طور پر ڈیجیٹائز کیا جائے گا اور بلاک چین پر مبنی ڈیٹا بیس میں محفوظ کیا جائے گا، جس سے وہ ناقابل تغیر اور چھیڑ چھاڑ سے محفوظ رہیں گے۔اور مزید کہا کہ یہ انفراسٹرکچر CNIC سے منسلک ملکیت کی تصدیق کو بھی قابل بنائے گا، ایک محفوظ اور شفاف لینڈ رجسٹری سسٹم تشکیل دے گا۔

    زمین کے عنوانات کی ویب پر مبنی ای ٹرانسفر:وزیراعلی مراد علی شاہ نے کہا کہ نیا نظام بغیر کاغذ کے، بغیر چہرے کے اور بغیر کسی رکاوٹ کے زمین کے ٹائٹل کی منتقلی کا طریقہ کار متعارف کرائے گا، جس سے ریونیو دفاتر کے چکر لگانے کی ضرورت ختم ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بجائے، عوامی خدمت کے مراکز پر بائیو میٹرک تصدیق ہی واحد ضرورت ہوگی، جس سے اس عمل کو زیادہ محفوظ اور موثر بنایا جائے گا،اور مزید کہا کہ سسٹم کو نادرا، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)، بینکوں اور دیگر سرکاری اداروں کے ساتھ ریئل ٹائم ڈیٹا کی تصدیق کے لیے مربوط کیا جائے گا۔
    پائلٹ پروجیکٹ کی منظوری:وزیراعلی مراد شاہ نے چیف سیکریٹری کی سفارش پر اس ڈیجیٹل فریم ورک کی تاثیر کو جانچنے کے لیے سندھ حکومت نے دیہہ مٹیاری اور پلیجانی (ضلع اور تعلقہ مٹیاری)اور دیہہ باگرجی (تعلقہ اور ضلع سکھر)میں ایک پائلٹ پروجیکٹ کی منظوری دی ہے۔وزیراعلی نے کہا کہ ان علاقوں کا انتخاب آئی بی اے سکھر کے تعاون سے زمینی ریکارڈ کی دوبارہ تحریر اور ڈیجیٹلائزیشن کے لیے کیا گیا ہے جو اس تبدیلی کے لیے تکنیکی فریم ورک تیار کر رہا ہے۔

    مراد علی شاہ نے کہا کہ بلاک چین ٹیکنالوجی، بائیو میٹرک تصدیق، اور ویب پر مبنی جائیداد کی منتقلی کے انضمام کے ساتھ، سندھ مستقبل کے زمینی انتظام کے نظام کی طرف بڑھ رہا ہے جو زیادہ کارکردگی، تحفظ اور عوامی اعتماد کا وعدہ کرتا ہے۔ انہوں نے نتیجہ اخذ کیا کہ پائلٹ پراجیکٹ کی کامیابی صوبے بھر میں عملدرآمد کی راہ ہموار کرے گی، سندھ میں زمین کی ملکیت اور جائیداد کے لین دین میں انقلاب برپا کرے گی۔

    دبئی میں گداگروں کے خلاف کارروائیاں، 127 گرفتار

    دبئی میں گداگروں کے خلاف کارروائیاں، 127 گرفتار

    گزشتہ کئی ماہ سے درآمدات میں نمایاں اضافہ ہو گیا

    تربیلا ڈیم میں پانی کی کمی،لوڈشیڈنگ کا خدشہ

  • دبئی میں گداگروں کے خلاف کارروائیاں، 127 گرفتار

    دبئی میں گداگروں کے خلاف کارروائیاں، 127 گرفتار

    یو اے ای میں دبئی پولیس نے گداگر وں کے خلاف کارروائیوں کے دوران 127 بھکاریوں کو گرفتار کر کے 50 ہزار درہم برآمد کر لیے۔

    دبئی پولیس کے مطابق دبئی میں 5 سال کے دوران 2 ہزار سے زائد بھکاریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ پولیس کے جنرل ڈیپارٹمنٹ آف کریمنل انویسٹی گیشن نے دبئی پولیس اسٹیشنوں کے تعاون سے کارروائیاں کیں۔ متحدہ عرب امارات میں بھیک مانگنے والوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن جاری ہے۔ اور رمضان المبارک کے وسط تک 127 بھکاریوں کو گرفتار کر کے ان کے قبضے سے 50 ہزار درہم برآمد کر لیے گئے۔

    حکام کے مطابق انسداد گداگری مہم میں سخت اور فیصلہ کن اقدامات کے باعث گداگروں کی سالانہ تعداد میں کمی آ رہی ہے۔سرکاری حکام نے کہا کہ رمضان المبارک کے دوران انسداد گداگری کے لیے کارروائیوں کو تیز کرتے ہوئے ایک جامع سیکیورٹی پلان بنایا گیا ہے۔ اور ان علاقوں میں گشت کو بڑھا دیا گیا جہاں گداگروں کی موجودگی کا امکان ہے۔

    اربوں روپٔے مالیت کی نشہ آور ٹیبلٹس کی اسمگلنگ ناکام

    گزشتہ کئی ماہ سے درآمدات میں نمایاں اضافہ ہو گیا

    تربیلا ڈیم میں پانی کی کمی،لوڈشیڈنگ کا خدشہ

    کراچی شہر میں منکی پاکس کا پہلا کیس رپورٹ

  • اربوں روپٔے مالیت کی نشہ آور ٹیبلٹس کی اسمگلنگ ناکام

    اربوں روپٔے مالیت کی نشہ آور ٹیبلٹس کی اسمگلنگ ناکام

    کراچی کی پورٹ قاسم سے 2.8 ارب مالیت کی نشہ آور ٹیبلٹ ٹراماڈول افریقا بھیجنے کی کوشش ناکام بنادی گئی۔

    ترجمان کسٹم کے مطابق 2.8 ارب روپے مالیت کی 56 لاکھ ٹراماڈول ٹیبلیٹس سیریلون افریقا اسمگل کی جارہی تھیں، گڈزڈیکلریشن میں ٹراماڈول ٹیبلیٹس کو ٹاولز کا برآمدی کنسائمنٹ ظاہر کیا گیا تھا، احمد ٹریڈنگ کا یہ برآمدی کنسائمنٹ این ایل سی ٹرمینل کے رسک منیجمنٹ سسٹم سے کلئیر ہوچکا تھا۔کلیئر ہونے والا یہ کنسائمنٹ QICT سے بحری جہاز میں لوڈ ہونے کے لیے تیار تھا، حکام کی رسک پروفائلنگ کی بنیاد پر کنسائمنٹ کی نشاندہی پر مزید تفصیلی جانچ پڑتال کی گئی، جانچ پڑتال میں کنٹرول شدہ نفسیاتی ادویات کی بڑی مقدار اسمگل ہونے کی نشاندہی ہوئی جس پر کسٹمز حکام نے مقدمہ درج کرکے کنسائمنٹ ضبط کرلی۔

    ٹراماڈول ڈریپ کے تحت ایک کنٹرول شدہ نفسیاتی دوا ہے، ٹراماڈول میں نشہ آور مرکبات شامل ہیں اس لیے کئی ممالک میں اس پر پابندی عائد ہے، پاکستان سے نشہ آور ادویہ اسمگل کرنے کی یہ دوسری کارروائی ہے جسے حکام نے ناکام بنایا ہے۔یاد رہے کہ فروری 2025ء میں بھی 10ارب روپے مالیت کی ٹراماڈول ٹیبلیٹس اسمگل کرنے کی کوشش کو ناکام بنایا گیا تھا۔

    گزشتہ کئی ماہ سے درآمدات میں نمایاں اضافہ ہو گیا

    تربیلا ڈیم میں پانی کی کمی،لوڈشیڈنگ کا خدشہ

    کراچی شہر میں منکی پاکس کا پہلا کیس رپورٹ

    حسینہ واجد کو بنگلا دیشی عبوری حکومت سےبڑا ریلیف مل گیا

    سندھ حکومت نے ٹرانسپورٹ افسران کی چھٹیاں منسوخ کردیں

  • گزشتہ کئی ماہ سے درآمدات میں نمایاں اضافہ ہو گیا

    گزشتہ کئی ماہ سے درآمدات میں نمایاں اضافہ ہو گیا

    مالی سال25-2024 کے پہلے 8 ماہ میں ملک میں گاڑیوں، مشینری، خوراک، پیٹرولیم مصنوعات سمیت متعدد اشیا کی درآمدات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جہاں درآمدی بل اضافے کے ساتھ 37 ارب 87 کروڑ ڈالر سے تجاوز کرگیا ہے۔

    وفاقی ادارہ شماریات کے اعدادوشمار کے مطابق موبائل فون کی درآمد میں 13 فیصد کمی کے باوجود حجم ایک ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا۔مشینری کی درآمدات کا حجم 15 فیصد سے زائد اضافے کے ساتھ 5 ارب 82 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا، پاور، ٹیکسٹائل، آفس، تعمیراتی اور الیکٹریکل میشنری کی درآمد میں اضافہ ہوا ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد 1.20 فیصد اضافے سے 10 ارب 70 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئی، زرعی آلات، کیمیکلز کی درآمد میں 2.52 فیصد اضافہ ہوا اور 5 ارب 87 کروڑ ڈالر زرمبادلہ خرچ کیا گیا۔

    ادارہ شماریارت نے بتایا کہ ٹرانسپورٹ کی درآمدات 24.33 فیصد اضافے سے ایک ارب 38 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئی، گاڑیوں اور پرزہ جات کی درآمد میں 23 فیصد تک اضافہ ہوا اور جولائی تا فروری 75 کروڑ ڈالر سے زیادہ مالیت کی کاریں اور پرزے درآمد کیے گئے۔اسی طرح مالی سال کے پہلے 8 ماہ میں غذائی اشیا کی درآمد میں 1.47 فیصد کمی کے باوجود پاکستان نے 5 ارب 38 کروڑ ڈالر کی خوراک بیرون ملک سے منگوائی، اس میں گندم، خشک میوے، چائے، مصالحہ جات، پام آئل، سویا بین آئل، چینی اور دالیں شامل ہیں اور ٹیکسٹائل درآمدات کا حجم 59 فیصد اضافے سے دو ارب 71 کروڑ ڈالر رہا ہے۔

    کراچی شہر میں منکی پاکس کا پہلا کیس رپورٹ

    حسینہ واجد کو بنگلا دیشی عبوری حکومت سےبڑا ریلیف مل گیا

    سندھ حکومت نے ٹرانسپورٹ افسران کی چھٹیاں منسوخ کردیں

  • تربیلا ڈیم میں پانی کی کمی،لوڈشیڈنگ کا خدشہ

    تربیلا ڈیم میں پانی کی کمی،لوڈشیڈنگ کا خدشہ

    تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح کم ہو کر 1402 فٹ پر پہنچنے کے بعد بجلی کی پیداوار میں نمایاں کمی واقع ہوگئی ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق بجلی پیدا کرنے والے 17 میں سے 12 یونٹ بند کر دیے گئے ہیں اور اب صرف 5 یونٹ کام کر رہے ہیں۔یہ پانچ یونٹ قومی گرڈ اسٹیشن کو 455 میگاواٹ بجلی فراہم کر رہے ہیں۔ ڈیم میں پانی کی آمد 17300 کیوسک اور اخراج بھی 17300 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ تربیلا ڈیم کے ڈیڈ لیول پر پہنچنے کے بعد ملک میں مجموعی ہائیڈرو پاور پیداوار 1100 میگاواٹ تک محدود ہوگئی ہے۔

    اطلاعات کے مطابق واپڈا کی مجموعی پن بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 9400 میگاواٹ سے زائد ہے لیکن اس وقت صرف 1100 میگاواٹ بجلی پیدا کی جا رہی ہے۔بڑے آبی ذخائر تربیلا اور منگلا ڈیم دونوں ڈیڈ لیول پر پہنچ چکے ہیں جس کی وجہ سے پن بجلی کی پیداوار میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، چشمہ ذخیرہ بھی اپنی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق منگلا ڈیم مکمل طور پر بجلی کی پیداوار سے باہر ہوچکا ہے جبکہ تربیلا اوسطاً 440 میگاواٹ بجلی پیدا کر رہا ہے۔

    رواں ہفتے واپڈا کی کل پن بجلی پیداوار 2600 میگاواٹ رہی جبکہ یومیہ اوسط پیداوار تقریباً 1100 میگاواٹ رہی۔تربیلا ڈیم اس وقت سب سے زیادہ بجلی پیدا کرنے والا ہائیڈرو پاور منصوبہ ہے جو اوسطاً 440 میگاواٹ بجلی پیدا کر رہا ہے، اس کے بعد غازی بروتھا 410 میگاواٹ اور ورسک 61 میگاواٹ بجلی پیدا کر رہے ہیں جبکہ چھوٹے ہائیڈرو منصوبے باقی بجلی کی پیداوار میں حصہ ڈال رہے ہیں۔ان بڑے آبی ذخائر میں پانی کی کمی کے باعث ربیع سیزن کے بقیہ عرصے میں صوبوں کو 30 سے 35 فیصد تک پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    کراچی شہر میں منکی پاکس کا پہلا کیس رپورٹ

    حسینہ واجد کو بنگلا دیشی عبوری حکومت سےبڑا ریلیف مل گیا

    سندھ حکومت نے ٹرانسپورٹ افسران کی چھٹیاں منسوخ کردیں