Baaghi TV

Author: سعد فاروق

  • ایم کیو ایم کے دفتر  میں مسٹر یونیورس رمیز ابراہیم کی آمد،سید مصطفی کمال سے ملاقات

    ایم کیو ایم کے دفتر میں مسٹر یونیورس رمیز ابراہیم کی آمد،سید مصطفی کمال سے ملاقات

    متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے مرکزی دفتر پاکستان ہاؤس میں مسٹر یونیورس کے مقابلے میں گولڈ میدل جیتنے والے رمیز ابراہیم کی آمداور سینئر رہنماؤں سے ملاقات کی۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ملاقات میں رمیز ابراہیم کا کہنا تھا کہ باڈی بلڈنگ چیمپئن شپ مسٹر یونیورس کا مقابلہ امریکہ میں منعقد ہوا جس میں نے پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے گولڈ میڈل اپنے ملک کے نام کیا۔ سینئر رہنماؤں سید مصطفی کمال، انیس احمد قائم خانی نے انہیں مقابلے میں ملک کا نام روشن کرنے پر انہیں خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ کراچی کے نوجوان زندگی کے ہر میدان میں اپنے ملک کا لوہا منواتے ہوئے نظر آتے ہیں ہمیں خوشی ہے کہ مقابلے میں ملک کے ساتھ کراچی کی بھی نمائندگی کرکے دنیا کو بتادیا کہ کراچی کے نوجوان اسپورٹس میں بھی کسی سے کم نہیں، اگر ہمارے نوجوان کو بہتر تربیت اور سہولیات فراہم کی جائیں تو وہ اس ہی طرح پاکستان کا نام روشن کرتے رہیں گے۔سینئر رہنماء سید مصطفی کمال نے رمیز ابراہیم کو مسٹر یونیورس کا مقابلہ جیتنے پر گلدستہ بھی پیش کیا۔ اس موقع پر مرکزی کمیٹی کے اراکین اور انچارج سی او سی فرقان اطیب بھی موجود تھے۔

    جے یو آئی کی 16 نومبر کو کراچی میں آل پارٹیز کانفرنس ہوگی،علامہ راشد محمود

    معاشرے میں سب سے زیادہ قابل رحم ٹریفک پولیس والے ہیں، شرجیل میمن

    سکیورٹی مزید سخت،ملک بھر کے ایئر پورٹس پر بائیو میٹرک مشینیں نصب کرنے کا فیصلہ

  • جے یو آئی کی 16 نومبر کو کراچی میں آل پارٹیز کانفرنس ہوگی،علامہ راشد محمود

    جے یو آئی کی 16 نومبر کو کراچی میں آل پارٹیز کانفرنس ہوگی،علامہ راشد محمود

    جے یو آئی سندھ کے جنرل سیکریٹری علامہ راشد محمود سومرو نے کہا ہے کہ جے یو آئی کی جانب سے سندھ کے پانی پر ڈاکے اور بڑھتی ہوئی بدامنی کے خلاف 16 نومبر کو کراچی میں آل پارٹیز کانفرنس ہوگی .

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے جے یو آئی سندھ کی صوبائی مجلس عاملہ کے اجلاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کیا، علماء اسلام سندھ کی مجلس عاملہ کا اجلاس جے یو آئی سندھ کے امیر مولانا عبدالقیوم ہالیجوی کی صدارت میں منعقد ہوا، اجلاس میں باب الاسلام کانفرنس کی تاریخ ساز کامیابی، سندھو دریا پر ارسا اکارڈ میں تبدیلی کرکے کینال بنانے کی سازش اور سندھ میں بڑھتی ہوئی بدامنی اور ڈاکو راج اور تنظیمی امور پر غور کیا گیا، اجلاس کے بعد علامہ راشد محمود سومرو نے کہا کہ سندھو دریاء پر سندھ کا حق ہے کوئی بھی ڈیم یا کینال سندھ کی اجازت کے بغیر نہیں بن سکتے اس سلسلے میں جید علماء کرام کی کالاباغ ڈیم کے خلاف فتویٰ موجود ہے انہوں نے کہا کہ جے یو آئی کی جانب سے 16 نومبر کو کراچی میں سندھ کے پانی پر ڈاکے اور بڑھتی ہوئی بدامنی کے خلاف کراچی میں آل پارٹیز کانفرنس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اس سلسلے میں جے یو آئی کی ایک کمیٹی جے یو آئی سندھ کے نائب امیر قاری محمد عثمان اور ڈپٹی سیکریٹری جنرل مولانا محمد صالح انڈھڑ کی قیادت میں تشکیل دی گئی ہے، صوبائی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کالاباغ ڈیم سمیت سندھو دریا پر کینال بنانے کے خلاف ایک جید علماء کی جانب سے غور کے بعد فتویٰ جاری کیا جائے گا اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 28 نومبر کو سکھر میں ہونے والی باب الاسلام کانفرنس ماضی کے تمام ریکارڈ توڑ دی گی، اس سلسلے میں جے یو آئی سندھ کے امیر مولانا عبدالقیوم ہالیجوی، علامہ راشد محمود سومرو کی قیادت میں صوبائی رہنما 10نومبر کو قمبر شہداد کوٹ، 13 نومبر کو شکارپور، 14 نومبر کو خیرپور میرس، 17 نومبر کو کندھکوٹ، 18 نومبر کو سکھر، 19 نومبر کو گھوٹکی، 20 نومبر کو جیکب آباد اور 21 نومبر کو لاڑکانہ اضلاع کا تفصیلی دورے کریں گے، اجلاس میں سید سراج احمد شاہ امروٹی، مولانا میر محمد میرک، مولانا محمد صالح انڈھڑ، مولانا عبدالمالک ٹالپر، ڈاکٹر اے جی انصاری، مولانا محمد رمضان پھلپوٹو، مولانا محمد اسحاق لغاری، مولانا محمد غیاث، محمد سلیم سندھی، حاجی محمد رفیق سومرو اور مولانا عبد الحمید مہر نے بھی شرکت کی۔

    معاشرے میں سب سے زیادہ قابل رحم ٹریفک پولیس والے ہیں، شرجیل میمن

    سکیورٹی مزید سخت،ملک بھر کے ایئر پورٹس پر بائیو میٹرک مشینیں نصب کرنے کا فیصلہ

    ایف بی آر نے کراچی کیلئے جائیداد کی نئی قیمتوں کا تعین کردیا

  • معاشرے میں سب سے زیادہ قابل رحم ٹریفک پولیس والے ہیں، شرجیل میمن

    معاشرے میں سب سے زیادہ قابل رحم ٹریفک پولیس والے ہیں، شرجیل میمن

    سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ معاشرے میں سب سے زیادہ قابل رحم ٹریفک پولیس والے ہیں جو 40 سے 45 ڈگری کی گرمی میں بھی گھنٹوں کھڑے ہوکر ڈیوٹی کرتے ہیں.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سندھ اسمبلی میں توجہ دلا نوٹس پر بات کرتے ہوئے سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ، ماس ٹرانزٹ، ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ اچھے برے لوگ ہر جگہ ہوتے ہیں، لیکن محکمے کو الزام نہیں دینا چاہئے ، کراچی میں ماضی میں ٹریفک پولیس کے جوانوں کو بھی نشانہ بنایا جاتا تھا ، ٹریفک پولیس کے اہلکار جان ہتھیلی پر رکھ کر ڈیوٹی کرتے رہے ، کسی بھی معاملے میں پورے محکمے کو مورد الزام ٹھہرانے سے پورا محکمہ ڈی مورلائز ہوجاتا ہے ۔کم عمری میں گاڑی چلانے پر یکم جنوری سے 30 اکتوبر تک 304 چالان ہوئے ہیں جن سے 9 لاکھ 12 ہزار روپے حکومت نے چالان کے مد میں وصول کئے ہیں ، ڈرائیونگ لائنسنس کے بغیر گاڑی چلانے پر 1860 لوگوں کو چالان کیا گیا، 37 لاکھ 20 ہزار چالان کے مد میں وصول کئے گئے ، جبکہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر 60 چنگچی رکشہ چالان ہوئے ، جن سے ایک لاکھ 20 ہزار روپے جرمانہ وصول کیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ محکمہ ٹرانسپورٹ اور ماس ٹرانزٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے اسنیپ چیکنگ کی جاتی ہے ، اضافی کرایہ وصول کرنے پر بھی کارروائیاں کی جا رہی ہیں، حکومت کی جانب سے چنگچی رکشہ پر پابندی ہے، عدالت کی جانب سے حکم امتناعی کی وجہ سے وہ شہر میں چل رہی ہیں ۔ سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ اسمبلی ممبران کورٹ میں فریق بنیں اور پوچھیں کہ جب حکومت کی جانب سے پابندی لگا گئی ہے تو پھر یہ میٹروپولیٹن شہر میں چنگچی رکشہ کیوں چل رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ آج کل بچے گاڑیاں چلا رہے ہیں، اس ضمن میں سب سے بڑی ذمہ داری والدین کی ہے، ہم کیوں آنکھیں موند کر بیٹھے ہیں، اگر کسی بچے سے کوئی حادثہ ہوتا ہے تو وہ قتل شمار ہوگا ، معصوم بچوں کو چابی دینے سے ہونے والا حادثہ قتل کے زمرے میں آتا ہے ۔ سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ ہمیں احساس کرنا چاہئے کہ ہم کس قدر ٹریفک قوانین کی پاسداری کرتے ہیں، کراچی شہر میں کار شو رومز والوں کی گاڑیاں روڈ پر کھڑی ہیں، سنگل روٹ چلتے ہیں، ٹریفک پولیس والے ان کو کہہ کہہ کر تھک گئے ہیں ، حکومت اگر سختی کرتی ہے تو تمام ایسو سی ایشنز جاگ جاتی ہیں کہ ہم ہڑتال کریں گے، تمام اسمبلی ممبران اپنے اپنے حلقے میں پیغام پھیلائیں کہ اس طرح نہ کریں ، ہم سب نے مل کر اس کو ٹھیک کرنا ہے، ذمہ داری حکومت کی ہے، لیکن فرض ہم سب کا ہے ۔

    سکیورٹی مزید سخت،ملک بھر کے ایئر پورٹس پر بائیو میٹرک مشینیں نصب کرنے کا فیصلہ

    ایف بی آر نے کراچی کیلئے جائیداد کی نئی قیمتوں کا تعین کردیا

  • سکیورٹی مزید سخت،ملک بھر کے ایئر پورٹس پر بائیو میٹرک مشینیں نصب کرنے کا فیصلہ

    سکیورٹی مزید سخت،ملک بھر کے ایئر پورٹس پر بائیو میٹرک مشینیں نصب کرنے کا فیصلہ

    حکومت نے بارڈر سکیورٹی کو مزید سخت کرتے ہوئے ملک بھر کے تمام ایئر پورٹس پر بائیو میٹرک مشینیں نصب کرنے کا فیصلہ کر لیا .

    وزارت داخلہ نے ایف آئی اے کو فوری اقدامات اٹھانے کیلئے مراسلہ جاری کر دیا۔وزارت داخلہ کے مطابق بائیو میٹرک تصدیق کے باعث اشتہاری و مطلوب ملزمان کا اندرون اور بیرون ملک سفر کرنا ناممکن ہوگا۔بائیو میٹرک مشینیں ایئر پورٹس انٹرنیشنل ایمیگریشن کاونٹرز پر لگائی جائیں۔وزارت داخلہ کی جانب سے جاری مراسلہ میں مزید کہا گیا ہے کہ بائیو میٹرک سے مسافروں کی موثر جانچ پڑتال کو یقینی بنایا جائے گا۔وزارت داخلہ نے بین الاقوامی مسافروں کی بائیو میٹرک تصدیق لازمی قرار دے دی.یہ اقدام کا مقصد سکیورٹی کو مزید بہتر اور بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانا ہے۔ خیال رہے کہ سول ایوی ایشن (سی اے اے) نے امیگریشن عمل کو تیز کرنے کیلئے بڑے ائیرپورٹس پر ای گیٹ سسٹم لگانے کا فیصلہ کیاگیاتھا۔سی اے اے نے ملکی بین الاقوامی ہوائی اڈوں پرمسافروں کی سہولت کیلئے ای گیٹس کی تنصیب کیلئے ٹینڈر جاری کیا تھا۔اس تناظرمیں دلچسپی رکھنے والی کمپنیوں سے 13 اگست تک درخواستیں طلب کی گئی تھیں۔
    مذکورہ درخواستیں انٹرنیشنل بارڈر کنٹرول سسٹم سروس مہیا کرنے والی کمپنیوں سے مانگی گئی ہیں، ای گیٹس بارڈرکنٹرول سسٹم پہلے مرحلے میں کراچی، لاہور اور اسلام آباد ایئرپورٹ پر نصب کئے جائیں گے۔سول ایوی ایشن حکام کے مطابق ای گیٹس لگنے سے مسافروں کو تیز ترین امیگریشن سروس مہیا ہوسکے گی۔مسافروں کو پاسپورٹ ای گیٹس پر اسکین کرنے ہوں گےاس سے امیگریشن میں وقت بچے گا جبکہ اس منصوبے کے فعال ہونے کے بعد امیگریشن کیلئے لمبی قطاروں سے بھی مسافروں کی جان چھوٹ جائے گی۔بعدازاں بتایا گیا تھا کہ ملک کے ائیر پورٹس پر ای گیٹس تنصیب کا منصوبہ تاخیر کا شکار ہوگیاتھا اور منصوبے کے ٹینڈر کی تاریخ میں 10 اکتوبر تک توسیع کر دی گئی تھی جبکہ اس سے قبل دلچسپی رکھنے والی کمپنیوں سے 13 اگست تک درخواستیں طلب کی گئی تھیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ملکی بین الاقوامی ائیرپورٹس پرتیزترین امیگریشن کے منصوبے "ای گیٹس” نصب کرنے کا منصوبہ تاخیر کا شکار ہوگیاتھا۔ ای گیٹس منصوبے کے ٹینڈر کی تاریخ میں 10 اکتوبرتک توسیع کردی گئی تھی اور اس حوالے سے پاکستان ائیرپورٹس اتھارٹی انتظامیہ نے ٹینڈر تاریخ میں توسیع کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا تھا۔

    ایف بی آر نے کراچی کیلئے جائیداد کی نئی قیمتوں کا تعین کردیا

  • ایف بی آر نے کراچی کیلئے جائیداد کی نئی قیمتوں کا تعین کردیا

    ایف بی آر نے کراچی کیلئے جائیداد کی نئی قیمتوں کا تعین کردیا

    فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے کراچی کے لیے پونے تین سال بعد جائیداد کی نئی قیمتوں کا تعین کردیا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کراچی میں رہائشی جائیدادکی زیادہ سے زیادہ قیمت 60 ہزار روپے تک فی مربع فٹ مقرر کی گئی ہے‘نیول، زمزمہ، فیز 5، ڈی ایچ اے کے رہائشی جائیدادکی قیمت سب سے زیادہ 75ہزار تک فی مربع فٹ مقررکی گئی ہے۔جمشید کوارٹرز7 ہزار، لیاقت آباد 3 ہزار 600، لیاری کوارٹرزکے لیے رہائشی جائیدادکی قیمت 2 ہزار 200 روپے فی مربع فٹ مقرر کی گئی ہے۔ایف بی آر کی طرف سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے فیصلے کا اطلاق یکم نومبر سے ہوگا۔نوٹیفکیشن کے مطابق کراچی میں جائیدادوں کی 12 کیٹیگریز میں تقسیم ختم کر دی گئی ہے۔فیصلے کے مطابق رہائشی,کمرشل، صنعتی علاقوں کے لیے جائیداد کی قیمتوں کا تعین کیا گیا ہے، جائیداد کے لیے قیمتوں کا تعین فی مربع فٹ کے حساب سے کیا گیا ہے۔اس سے قبل کراچی کی جائیداد کی قیمتوں کا تعین فی مربع گز کے حساب سے کیا گیا تھا۔ایف بی آر کے نوٹیفکیشن کے مطابق کراچی میں رہائشی جائیدادکی زیادہ سے زیادہ قیمت 60 ہزار روپے تک فی مربع فٹ مقرر کی گئی ہے۔کراچی کے علاقے نیول، زمزمہ، فیز 5، ڈی ایچ اے کے رہائشی جائیدادکی قیمت سب سے زیادہ مقررکی گئی ہے، ان علاقوں کے لیے کمرشل پراپرٹی کی قیمت 75ہزار تک فی مربع فٹ مقررکی گئی ہے۔
    ایف بی آر کے مطابق عبداللہ ہارون روڈ اور برنس روڈ کی رہائشی جائیداد کی قیمت 7 ہزار روپے جبکہ بلدیہ ٹاون 1 ہزار 300 اور بفر زون کی رہائشی جائیداد کی قیمت 3 ہزار تک فی مربع فٹ مقرر کی گئی ہے۔نوٹیفکیشن میں سول لائنزکے لیے رہائشی جائیداد کی قیمت 10ہزار200 روپے تک فی مربع فٹ مقرر کی گئی ہے۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی نئی قیمتوں کے بعد جمشید کوارٹرز7 ہزار، لیاقت آباد 3 ہزار 600، لیاری کوارٹرزکے لیے رہائشی جائیدادکی قیمت 2 ہزار 200 روپے فی مربع فٹ مقرر کی گئی ہے۔نظر ثانی شدہ قیمتوں کے مطابق ایم اے جناح روڈ7 ہزار، محمود آباد اور نیلم کالونی 3 ہزار جبکہ پرانا گولیمار اور اورنگی ٹاون کے لیے رہائشی جائیداد کی قیمت 2 ہزار 200 روپے فی مربع فٹ مقرر کی گئی ہے۔نئی قیمتوں کے مطابق شاہ فیصل کالونی 2 ہزار 200، شاہ فیصل ٹاون 3 ہزار روپے اور شاہراہ فیصل کی رہائشی جائیدادکی قیمت7 ہزارروپے تک فی مربع فٹ مقرر کی گئی ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز جائیداد کی قیمت کو مارکیٹ ریٹ کے قریب لانے کے لیے ایف بی آر نے 56 شہروں میں پراپرٹی ویلیوایشن کی شرح 80 فیصد تک بڑھا دی تھی۔ایف بی آر کے اس فیصلے کا مقصد ریونیو اکٹھا کرنا اور سرمایہ کاری کو معیشت کے زیادہ پیداواری شعبوں کی طرف منتقل کرنا ہے۔

    کراچی سے حیدر آباد بذریعہ سڑک منتقل کیا جانے والا طیارہ تاخیر کا شکار

  • سندھ کا پانی کسی صورت  چوری کرنے نہیں دیں گے، پیر پگارا

    سندھ کا پانی کسی صورت چوری کرنے نہیں دیں گے، پیر پگارا

    پیر صاحب پگارا نے کہاہے کہ ارسا ایکٹ میں ترامیم اور دریائے سندھ سے مزید6کینال نکالنے اور سندھ کا پانی کسی صورت میں چوری کرنے نہیں دیں گے ۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پیر صاحب پگارا نے کہا کہ نئی اسکیم کے تحت کراچی کے پینے کا پانی کم کرنے کی سازش کی جا رہی ہے ، اور میں سندھ کے عوام کے حقوق کے لیے ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہوں ، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ دریائے سندھ بچا مہم کو مزید متحرک کیا جائے گا ، جی ڈی اے کی کور کمیٹی کے اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ بہت جلد جی ڈی اے کی تنظیم سازی ڈویژن ، ضلعی اور مرکزی سطح پر کی جائے گی ، اجلاس میں شرکا نے ارسا ایکٹ میں ترمیم کو وفاق کو کمزور کرنے کی سازش قرار دیا اور دریائے سندھ سے مزید 6 کینال نکالنے کو آئین کی خلاف ورزی قرار دیا ، اجلاس میں شرکا نے حقیقی جمہوریت قائم کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ 2024 کے انتخابات جعلی اور فارم 47 کے تحت تھے جن کو مسترد کرتے ہیں ، جی ڈی اے کے اجلاس میں جعلی اسیمبلی کے وسیلی پاس کی گئی 26 آئینی ترمیم کو مسترد کردیا ، اجلاس میں پیر سید صدرالدین شاھ راشدی ، محمد علی درانی ، سید مظفر حسین شاھ ، ڈاکٹر صفدر عباسی ، لیاقت جتوئی ، ارباب غلام رحیم ، غلام مرتضی جتوئی ، سید زین شاھ ، ڈاکٹر ذوالفقار مرزا ، سید راشد شاھ ، سردار عبدالرحیم ، ایاز لطیف پلیجو ، سائرہ بانو ، حسنین مرزا اور دیگر نے شرکت کی ، اجلاس کو خطاب کرتے ہوئے پیر صاحب پگارا نے مزید کہا کہ ملکی جمہوری سیاسی جماعتوں سے رابطے جاری رہے گے پیر صاحب پگارا نے کہا کہ اپنے جائز حقوق کے حاصلات کے لیے عوام کو جاگنا ہوگا اور جی ڈی اے سندھ کے عوامی مسائل کے لیے اپنی جدوجھد جاری رکھیں گے ، اجلاس میں سندھ میں امن و امان کی انتہائی خراب صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور صحافیوں سے ہونیوالے زیادتیوں کی مذمت کی گئی اس موقع پر فنکشنل لیگ کے مرکزی سیکرٹری جنرل محمد علی درانی نے اجلاس کے شرکا کو وفاق میں ہونیوالے سیاست سے آگاہی دی۔

    عوامی مسائل کا حل صرف پاکستان پیپلز پارٹی کے پاس ہے، وقار مہدی

    وزیراعلی سندھ کا ہیوی ٹرانسپورٹ کے باعث حادثات میں اضافے کا نوٹس

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تبدیلی: پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ

  • عوامی مسائل کا حل صرف پاکستان پیپلز پارٹی کے پاس ہے، وقار مہدی

    عوامی مسائل کا حل صرف پاکستان پیپلز پارٹی کے پاس ہے، وقار مہدی

    پاکستان پیپلز پارٹی صوبہ سندھ کے جنرل سیکریٹری سینیٹر وقار مہدی نے کہا ہے کہ 14 نومبر کو ہونے والے بلدیاتی اداروں کے ضمنی انتخابات میں سندھ بھر باالخصوص کراچی کے عوام پی پی پی کو فتح سے ہمکنار کریں گے، عوامی مسائل کا حل صرف پاکستان پیپلز پارٹی کے پاس ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے ضمنی الیکشن کے حوالے سے کراچی ڈویژن کے ضلعی صدرو جنرل سیکریٹریز اور بلدیاتی امیدواروں کے منعقدہ ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں شریک پیپلز پارٹی کے ضلعی صدرو نے یوسی چیئرمین، وائس چیئرمین اور وارڈ کاونسلرز کے ضمنی انتخابات کے حوالے سے سرگرمیوں پر بریفنگ دی ۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کراچی ڈویژن کی ہر یوسی اور وارڈ میں الیکشن سیل بنائے جائیں گے اور بھرپور ڈور ٹو ڈور الیکشن مہم چلائی جائے گی، جس کے دوران ہر یوسی میں انتخابی جلسے ہوں گے جس سے پارٹی کے رہنما خطاب کریں گے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، وقار مہدی نے کہا کہ کراچی شہر کے دیرینہ مسائل صرف پیپلز پارٹی حل کرسکتی ہے، جبکہ پیپلز پارٹی کے مخالفین کو کراچی کے مسائل حل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں۔ انہوں نے نشاندھی کرتے ہوئے کہا کہ کراچی شہر میں صوبائی حکومت کے 200 ارب سے زائد کے ترقیاتی منصوبے جاری ہیں، جبکہ کے ایم سی کی جانب سے بھی ہر یوسی میں ترقیاتی کاموں کا آغاز کردیا گیا ہے جبکہ پیپلزپارٹی کے ٹان چیئرمینز بھی عوام کی بھرپور خدمت کر رہے ہیں ۔وقار مہدی کا کہنا تھا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ہی عوام کے واحد حقیقی ویژنری لیڈر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی بھی شہید محترمہ بینظیر بھٹو اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے شیدائیوں کا شہر ہے۔ اجلاس میں جاوید ناگوری، راجہ رزاق، سردار خان، اقبال ساند، عابد ستی، جانی میمن، حبیب جدون، تیمور سیال، امداد جوکھیو، شہزاد مجید، ریاض بلوچ، جمیل ضیا، شرجیل رضوانی اور پیپلز پارٹی کے نامزد امیدوار موجود تھے۔

    وزیراعلی سندھ کا ہیوی ٹرانسپورٹ کے باعث حادثات میں اضافے کا نوٹس

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تبدیلی: پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ

    علی خورشیدی کا کراچی میں پانی کی قلت پر اظہار تشویش

  • وزیراعلی سندھ  کا ہیوی ٹرانسپورٹ کے باعث حادثات میں اضافے کا نوٹس

    وزیراعلی سندھ کا ہیوی ٹرانسپورٹ کے باعث حادثات میں اضافے کا نوٹس

    ہیوی ٹرانسپورٹ کے باعث حادثات میں اضافہ، وزیراعلیٰ سندھ نے نوٹس لے لیا۔وزیراعلی سندھ سیدمراد علی شاہ نے کراچی میں ہیوی ٹرانسپورٹ کے باعث حادثات کی تعداد میں اضافے کا نوٹس لے لیا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کراچی کی سڑکوں پر دن کے اوقات میں ہیوی ٹریفک جان لیوا حادثات میں اضافے کا سبب بن گئی، بدھ کو پہلا حادثہ شیر شاہ پل پر پیش آیا جہاں ٹرالر سے گرنے والے کنٹینر کی زد میں آکر دو افراد شدید زخمی ہوئے، ان میں سے ایک زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگیا واقعے میں ایک گاڑی کو بھی نقصان پہنچا۔ملیر میمن گوٹھ فلک ناز ٹاور کے قریب تیز رفتار ڈمپر کی ٹکر سے 3 بچے زخمی ہوئے جن میں سے 2 کی حالت تشویشناک ہے، واقعہ ٹرک کا ٹائرپھٹ جانے کے باعث پیش آیا۔ڈمپر ڈرائیور موقع سے فرار ہوگیا جبکہ پولیس نے ڈمپر تحویل میں لے کر مالک کو طلب کرلیا ہے۔تیسرا حادثہ سائٹ سپر ہائی وے پر ہوا جہاں پولیس موبائل ڈمپر کی ٹکر سے بے قابو ہوکر کئی گاڑیوں ٹکراگئی۔وزیراعلیٰ سندھ نے بڑھتے ہوئے حادثات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ٹریفک پولیس کو موثر اقدامات کرنے کی ہدایت جاری کردی ہے۔

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تبدیلی: پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ

    نیپرا سماعت فکسڈ میچ ہے، کے الیکٹرک کو نواز ا گیا ہے ، جماعت اسلامی

    کراچی میں جمعے اور ہفتے کو دھند چھانے کا امکان

  • نیپرا سماعت فکسڈ میچ ہے، کے الیکٹرک کو نواز ا گیا ہے ، جماعت اسلامی

    نیپرا سماعت فکسڈ میچ ہے، کے الیکٹرک کو نواز ا گیا ہے ، جماعت اسلامی

    نیپرا میں کے الیکٹرک صارفین کے لئے ستمبر کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 16پیسے کمی کی درخواست پرنیپرا کے ہیڈکوارٹر اسلام آباد میں منعقدہ آن لائن سماعت میں جماعت اسلامی کے عمران شاہد نے کراچی کے شہریوں کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ کے الیکٹرک 19 سال سے مہنگی ترین بجلی بنا کر کراچی کے شہریوں کو دے رہا ہے۔

    این ٹی ڈی سی سے لی جانے والی بجلی کی قیمت 8 روپے 57 پیسے فی یونٹ تھی،کے الیکٹرک اپنے ذرائع سے 23 روپے فی یونٹ بجلی پیدا کی۔ملک بھر میں ستمبر کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں 71پیسے فی یونٹ کمی جبکہ کراچی کے لئے کے الیکٹرک کے فیول ایڈجسمنٹ میں صرف 11 پیسے کمی ہوگی۔ نیپرا کی سماعت ایک فکسڈ میچ ہے، کے الیکٹرک کو 7 سالہ ڈالر کی بنیاد پر من مانا ٹیرف دے کر نوازا گیا،نیپرا نے کراچی کے صارفین پر بجلی بم گرادیا،جبکہ کے الیکٹرک اب کراچی کے شہریوں سے ڈالر کی بنیاد پر آپریشن اور مینٹی نینس چارجز بھی وصول کرے گا ۔جماعت اسلامی کے الیکٹرک کو دیا گیا7 سالہ ڈالر کی بنیاد پر جنریشن ٹیرف مسترد کرتی ہے ۔ کے الیکٹرک کا جنریشن لائسنس کینسل کرکے کراچی کو این ٹی ڈی سی سے سستی بجلی فراہم کی جائے۔عمران شاہدنے مزید کہا کہ نیپرا نے کے الیکٹرک کے 40 سال پرانے پاوور پلانٹس بند کرنے کے بجائے اسے بجلی پیداکرنے کی اجازت دے کر فیول ایڈجسٹمنٹ کا سارا بوجھ کراچی کے صارفین پر منتقل کرنے کی اجازت دے دی ہے جبکہ کے الیکٹرک بجلی بنائے یا نہ بنائے وہ کراچی کے شہریوں سے بجلی کے بلوں میں کیپے سٹی چارجز وصول کرے گا ، ایک طرف ملک بھر میں پرانے آئی پی پیز بند اوردیگر کے معاہدوں سے Take Or Pay کی شق کو ختم کرکے Take and Pay کیا جارہا ہے یعنی جتنی بجلی بنائے صرف اس کی ادائیگی کی جائے گی جبکہ ڈالر کی بنیاد پر ٹیرف کو بھی فکسڈ یا پاکستانی کرنسی سے تبدیل کیا جارہا ہے جبکہ کے ا لیکٹرک کو نیپرا نے کے الیکٹرک کو 7 سال کے لئے ڈالر کی بنیاد پر Take or Pay کیپی سٹی چارجز اور 14 فیصد ڈالر میں منافع وصول کرنے کی اجازت دے کر منہ مانگا ٹیرف منظور کرکے کراچی کے شہریوں پر ظلم کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کراچی کے شہری وقت پر بجلی کا بل ادا کرنے کے باوجود روزانہ12 گھنٹے سے زائد بجلی کی لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ نیپرا کے الیکٹرک کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے ربڑ اسٹیمپ بن چکا ہے جس کا کام صرف کے الیکٹرک کے من مانے ٹیرف اور فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کرنا ہے۔کے الیکٹرک کراچی کے صارفین کو ٹیرف معاہدے کے مطابق کلابیک کی مد میں 54 ارب روپے سے زائد رقم واپس نہیں کررہا جس پر نیپرا نے آنکھیں بند کی ہوئی ہیں۔ کے الیکٹرک سوئی سدرن گیس سے بغیر کسی معاہدے کے گیس حاصل کررہا ہے اور سوئی سدرن گیس کی 200 ارب روپے سے زائد واجب الاد رقم بھی واپس نہیں کرتا۔

    علی خورشیدی کا کراچی میں پانی کی قلت پر اظہار تشویش

    کراچی میں جمعے اور ہفتے کو دھند چھانے کا امکان

  • علی خورشیدی کا کراچی میں پانی کی قلت پر اظہار تشویش

    علی خورشیدی کا کراچی میں پانی کی قلت پر اظہار تشویش

    قائد حزب اختلاف سندھ علی خورشیدی نے کراچی میں پانی کی قلت پر تشویش کا اظہار کیا ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جاری بیان میں علی خورشیدی کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت اور واٹر کارپوریشن نے 16 سال میں پانی کی ایک بوند کا اضافہ نہیں کیا، واٹر کارپوریشن کے نکمے اور نااہل افسران پانی کے فراہمی کے بجائے رشوت ستانی میں لگے ہوئے ہیں، عوام مہنگے داموں پانی کے ٹینکر خریدنے پر مجبور ہیں، ہائیڈرنٹس پر پانی دستیاب ہےمگر نلکوں میں نہیں آرہا، پانی کی قلت سے عوام ذہنی ازیت کا شکار ہیں،قائد حزب اختلاف نے فوری طور پر پانی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پانی جیسی بنیادی ضرورت کی قلت ناقابل برداشت ہے.واضح رہے کہ کراچی کے اکثر علاقوں میں پانی کی قلت بحرانی شکل اختیار کرگئی، مہنگائی کے مارے لوگ پانی خرید کر استعمال کرنے پر مجبور ہوگئے۔کراچی واٹر کارپوریشن نے بعض تکنیکی وجوہات کی بنا پر گزشتہ ہفتے چار دن کیلئے پانی بند کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن کئی دن گزرنے کے باوجود اولڈ سٹی ایریاز، لیاری، کھارادر، لانڈھی، نارتھ ناظم آباد اور نیو کراچی سمیت مختلف علاقوں میں پانی کی فراہمی تاحال بند ہے۔پانی نہ ہونے کے باعث گھریلو معمولات بری طرح متاثر ہیں اورلوگ گھریلو استعمال کا پانی بھی ٹینکرز کے ذریعے خریدنے پر مجبور ہیں۔

    کراچی میں جمعے اور ہفتے کو دھند چھانے کا امکان

    12سالہ بچی کے ریپ اور قتل میں ملوث تیسرا ملزم بھی گرفتار