Baaghi TV

Author: سعد فاروق

  • بونیر میں پولیس وین کے قریب بم دھماکا، 4 اہلکار زخمی

    بونیر میں پولیس وین کے قریب بم دھماکا، 4 اہلکار زخمی

    خیبر پختونخوا کے ضلع بونیر میں پولیس وین کے قریب آئی ای ڈی دھماکے کے نتیجے میں پولیس چوکی انچارج سمیت 4 اہلکار زخمی ہوگئے۔

    میڈیا سے بات کرتے ہوئے ضلع بونیر کے پولیس افسر کے ترجمان اسرار احمد نے بتایا کہ ’پولیس وین نواگئی کے علاقے میں معمول کے گشت پر تھی، جس کے کانکئی چوک پہنچنے پر دھماکا ہوا۔‘پولیس اہلکار کے مطابق دھماکے میں امبیلا میں قائم پولیس چیک پوسٹ کے انچارج اسسٹنٹ سب انسپکٹر (اے ایس پی) شاہد زادہ، کانسٹیبل نور محمد، افتخار علی اور الطاف احمد زخمی ہوئے۔انہوں نے بتایا کہ ’زخمی پولیس اہلکاروں کو نجی ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔‘اسرار احمد نے مزید بتایا کہ دھماکے کے بعد پولیس نے ڈسٹرک پولیس افسر (ڈی پی او) شاہد حسن کی سربراہی میں حملہ آور کی تلاش کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔یہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں پولیس اہلکاروں اور چوکیوں پر ہونے والا تازہ حملہ ہے۔

    بونیر میں ستمبر میں ہونے والے ایک اور واقعے میں نامعلوم مشتبہ افراد نے سرکاری اسکول کو آگ لگانے کے بعد اسے دھماکے سے اڑا دیا تھا، تاہم واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔خیال رہے کہ پیر کو صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر بنوں میں اقبال شہید پولیس لائنز پر خودکش جیکٹوں سے لیس برقع پوش دہشت گردوں کے حملے کو ناکام بناتے ہوئے 4 پولیس اہلکار شہید ہو گئے تھے، جبکہ کارروائی میں 5 عسکریت پسند بھی مارے گئے تھے۔

    ڈی آئی خان،سکھر ائیرپورٹس منصوبے جلد از جلد شروع کئے جائیں، گورنر خیبرپختونخوا

    حکومت سندھ کی ڈاکٹر شاہنواز قتل کی تحقیقات کیلئے ہائی کورٹ سے باضابطہ درخواست

    طالبہ مبینہ زیادتی احتجاج، گجرات میں تشدد سے کالج کا گارڈ جاں بحق

  • ڈی آئی خان،سکھر ائیرپورٹس منصوبے جلد از جلد شروع کئے جائیں، گورنر خیبرپختونخوا

    ڈی آئی خان،سکھر ائیرپورٹس منصوبے جلد از جلد شروع کئے جائیں، گورنر خیبرپختونخوا

    گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ڈی آئی خان اور سکھر ایئرپورٹس جیسے عوامی بھلائی کے منصوبے جلد از جلد شروع کرنے کا مطالبہ کردیا۔

    پاکستان ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق گورنر فیصل کریم کنڈی نے ایئرپورٹس اتھارٹی ہیڈکوارٹرز کراچی کا دورہ کیا، ہیڈکوارٹرز پہنچنے پر گورنر خیبرپختونخوا کو ڈی جی ایئرپورٹس اتھارٹی ایئر وائس مارشل تیمور اقبال نے خوش آمدید کہا۔سی اے اے نے بتایا کہ ڈپٹی ڈی جی ورکس اینڈ ڈیویلپمنٹ سمیر سعید سمیت دیگر اعلیٰ اہلکاروں نے بھی گورنر کا استقبال کیا، گورنر خیبرپختونخوا کو ڈی جی ایئرپورٹس اتھارٹی (اے وی ایم) تیمور اقبال اور ڈپٹی ڈی جی ایئرپورٹس انجینئر صادق الرحمان نے تفصیلی بریفنگ دی۔پاکستان ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق گورنر خیبرپختونخوا کو بالخصوص ڈی آئی خان، سکھر اور حیدرآباد ایئرپورٹس پر بریفنگ دی گئی، جبکہ چترال، گلگت اور مونجودڑو ایئرپورٹس کے حوالے سے بھی بریف کیا گیا۔گورنر فیصل کریم کنڈی نے ایئرپورٹس اتھارٹی کو ایوی ایشن منصوبوں کے حوالے سے اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا، انہوں نے کہاکہ ڈی آئی خان اور سکھر ایئرپورٹس جیسے عوامی بھلائی کے منصوبے جلد از جلد شروع کیے جائیں۔

    طالبہ مبینہ زیادتی احتجاج، گجرات میں تشدد سے کالج کا گارڈ جاں بحق

    کراچی میں سڑکوں سے تجاوزات ختم کرنے کیلئے ٹاسک فورس قائم

  • حکومت سندھ کی ڈاکٹر شاہنواز قتل کی تحقیقات کیلئے ہائی کورٹ سے باضابطہ درخواست

    حکومت سندھ کی ڈاکٹر شاہنواز قتل کی تحقیقات کیلئے ہائی کورٹ سے باضابطہ درخواست

    حکومت سندھ نے سندھ ہائی کورٹ سے باضابطہ طور پر ڈاکٹر شاہ نواز کنبھر کے متنازع قتل کی عدالتی تحقیقات کرانے کی درخواست کردی۔

    انکوائری کی درخواست وزیر داخلہ سندھ ضیاالحسن لنجار کی جانب سے کی گئی جس میں 18 ستمبر 2024 کو تھانہ سندھڑی، میرپور خاص کی حدود میں ہونے والے قتل کے پس پردہ محرکات کا پتا لگانے کی استدعا کی گئی۔ڈاکٹر کنبھر کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295-سی کے تحت توہین مذہب کے الزامات کا سامنا تھا اور واقعے سے ایک دن قبل ان کے خلاف مذکورہ دفعات کے تحت عمرکوٹ میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔پولیس نے دعویٰ کیا کہ ڈاکٹر شاہنواز فائرنگ کے تبادلے میں مارے گئے اور ان کے خلاف تعزیرات پاکستان اور سندھ آرمز ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے تھے۔تاہم آئی جی سندھ کی جانب سے قائم کردہ کمیٹی نے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ ڈاکٹر شاہنواز کو جعلی پولیس مقابلے میں مارا گیا جس سے عوام میں غم و غصہ پیدا ہوا اور انہوں نے انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔

    قتل کے بعد ڈاکٹر شاہنواز کنبھر کی لاش کو جلانے کی کوشش کی گئی اور لاش کی بے حرمتی نے عوام کو مزید مشتعل کردیا اور ان واقعات کے بعد عمرکوٹ میں تعزیرات پاکستان، انسداد دہشت گردی ایکٹ اور 2022 کے دوران حراست تشدد اور موت کی روک تھام و تحفظ کے ایکٹ کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔27 ستمبر 2024 کو ڈاکٹر شاہنواز کنبھر کے خاندان نے مبینہ طور پر واقعے میں ملوث پولیس افسران کے خلاف قتل، اغوا اور دوران حراست تشدد کے الزامات کے تحت ایف آئی آر درج کرائی تھی اور اب بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر محکمہ داخلہ سندھ اب ذمہ دار اہلکاروں کے احتساب اور انصاف کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے عدالتی تحقیقات پر مصر ہے۔محکمہ داخلہ نے استدعا کی کہ حقائق کا پتا لگانے اور سوگوار خاندان کو انصاف کی فراہمی کے لیے معاملے کی ہائی کورٹ کے موجودہ جج سے انکوائری کرائی جائے۔

    ڈاکٹر شاہنواز کنبھر کا جعلی پولیس مقابلے میں قتل

    واضح رہے کہ 19 ستمبر کو ڈاکٹر شاہ نواز کے خلاف عمرکوٹ پولیس نے مبینہ طور پر مذہبی جماعتوں کے احتجاج کے بعد فیس بک پر ’گستاخانہ مواد‘ پوسٹ کرنے پر تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 سی کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔اس تمام واقعے سے ایک دن قبل ڈاکٹر شاہ نواز نے اپنے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا اکاؤنٹ ہیک ہو گیا ہے اور وہ گستاخانہ مواد شیئر کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔اس کے بعد اطلاعات سامنے آئی تھیں ملزم کراچی فرار ہو گیا ہے لیکن عمرکوٹ پولیس نے اسے گرفتار کر کے میرپورخاص منتقل کردیا جہاں مبینہ طور پر اسے سندھڑی پولیس نے ایک ’انکاؤنٹر‘(پولیس مقابلے) میں ہلاک کر دیا تھا۔سندھڑی کے ایس ایچ او نیاز کھوسو نے ملزم کے قتل کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ ڈاکٹر نے ’ساتھیوں‘ کے ساتھ مل کر پولیس پر فائرنگ کی، انہوں نے دعویٰ کیا کہ جوابی کارروائی میں ملزم کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا جبکہ اس کا مبینہ ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔تاہم ڈاکٹر شاہنواز کے اہلخانہ نے اسے جعلی پولیس مقابلہ قرار دیتے ہوئے احتجاج کیا تھا اور حکام سے انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔واقعے کے ایک ہفتے بعد وزیر داخلہ سندھ ضیاالحسن نے پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ عمر کوٹ میں ڈاکٹر شاہ نواز کو جعلی پولیس مقابلہ میں مارا گیا اور مقابلے میں ملوث اہلکاروں کو معطل کردیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ انکوائری میں الزام درست ثابت ہونے پر اہلکاروں کو معطل کیا گیا اور یہ ایک جعلی پولیس مقابلہ تھا جب کہ متاثرین جسے ذمہ دار قرار دیں گے اس کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائےگی۔اس کے بعد ڈاکٹر شاہنواز کے قتل کا مقدمہ درج کر کے اس میں ڈی آئی جی جاوید جسکانی ، ایس ایس پی چوہدری اسد اور دیگر کو نامزد کیا گیا تھا۔

    طالبہ مبینہ زیادتی احتجاج، گجرات میں تشدد سے کالج کا گارڈ جاں بحق

    کراچی میں سڑکوں سے تجاوزات ختم کرنے کیلئے ٹاسک فورس قائم

    ہنی ٹریپ کرنے والی کچے کے ڈاکوؤں کی رکن خاتون پکڑی گئی

  • طالبہ مبینہ زیادتی احتجاج، گجرات میں تشدد سے کالج کا گارڈ جاں بحق

    طالبہ مبینہ زیادتی احتجاج، گجرات میں تشدد سے کالج کا گارڈ جاں بحق

    لاہور میں کالج کی طالبہ سے مبینہ زیادتی کے حوالے سے پولیس، انتظامیہ اور کالج کی وضاحتوں کے باوجود واقعے کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور لاہور اور پنجاب کے مختلف علاقوں کے ساتھ ساتھ پشاور میں مبینہ زیادتی کے خلاف طلبہ نے پرتشدد احتجاج کرتے ہوئے املاک کو نقصان پہنچایا جہاں دوران احتجاج گجرات میں نجی کالج کا گارڈ جاں بحق ہو گیا۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق صوبائی انتظامیہ کے ساتھ ساتھ نجی کالج کی جانب سے طالبہ سے زیادتی کے واقعے کی تردید اور تمام تر وضاحتوں کے باوجود مختلف شہروں میں طالبہ سے مبینہ زیادتی کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور لاہور کے بعد اب گجرات، فیصل آباد، پشاور سمیت مختلف شہروں میں طلبہ سڑکوں پر آگئے۔لاہور میں لال پُل کیمپس پر دھاوا بولنے والے متعدد افراد کو پولیس نے گرفتار کرلیا جہاں پولیس نے دعویٰ کیا کہ مظاہرین نے نجی کالج میں داخل ہوکر توڑ پھوڑ کی اور 6 موٹرسائیکلیں جلائیں جبکہ کالج وین اور گاڑیوں کے شیشے بھی توڑ دیے۔گجرات میں نجی کالج میں طلبہ کے تشدد سے گارڈ جاں بحق ہوگیا اور طلبہ نے ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے کالج کے شیشے، فرنیچر اور کمپیوٹر توڑ دیے۔شور کوٹ کے طلبہ نے کینٹ روڈ پر مبینہ زیادتی کے خلاف احتجاج کیا جس سے کینٹ روڈ بلاک ہو گیا اور گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں۔گورنمنٹ ڈگری کالج اور پنجاب کالج کے طلبہ کے احتجاج اور ہنگامہ آرائی کے بعد پنجاب کالج شورکوٹ کی عمارت میں پولیس داخل ہوگئی ہنگامہ آرائی کرنے والے 100 سے زائد مظاہرین کو گرفتار کر لیا۔

    دوسری جانب فیصل آباد میں مشتعل مظاہرین نے سڑک بلاک کرکے نجی کالج کی عمارت پر پتھراؤ کیا جبکہ لیہ میں احتجاج کرنے والے طلبہ نے ایم ایم روڈ کو بند کردیا۔اسی طرح پشاور میں ایڈورڈز کالج کے طلبہ بھی واقعے کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے اور طلبہ کو تحفظ دینے کا مطالبہ کیا۔اس سے قبل لاہور کے نجی کالج کی انتظامیہ نے طالبہ سے زیادتی کے واقعے کو من گھڑت اور جھوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ طالبہ سے زیادتی کا کوئی واقعہ وجود ہی نہیں رکھتا۔انہوں نے واقعے کو سراسر پروپیگنڈا اور میڈیا اسٹنٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں موجود 98 فیصد طالبات کالج کے متعلقہ کیمپس سے تعلق ہی نہیں رکھتیں۔دوسری جانب نجی کالج کی طالبہ سے منسلک من گھڑت ویڈیو کے واقعے کا مقدمہ پولیس کی مدعیت میں ڈیفنس اے میں درج کرلیا گیا۔مقدمے کے متن مطابق سوشل میڈیا پر طالبہ کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کی خبر وائرل ہوئی لیکن متعلقہ لڑکی اور اس کے والدین نے واقعے کی مکمل تردید کی۔ایف آئی آر میں کہا گیا کہ واقعے سے متعلق طلبہ اور عوام کو حکومتی اداروں کے خلاف سوچی سمجھی سازش کے تحت بھٹکایا گیا اور اشتعال دلوا کر احتجاج پر مجبور کیا گیا۔اسی طرح مبینہ زیادتی کے واقعے سے متعلق غلط معلومات پھیلانے پر ایف آئی اے سائبر کرائم کی 7 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے لاہور میں نجی کالج کی طالبہ سے مبینہ زیادتی کے پروپیگنڈے میں تحریک انصاف کو ملوث قرار دیتے ہوئے کہا کہ بچی زیادتی نہیں بلکہ گھٹیا سازش کا شکار بنی، بار بار کی احتجاج کی کال ناکام ہونے کے بعد انتہائی گھٹیا اور خطرناک منصوبہ بنایاگیا اور اس فتنہ و فساد کی جڑ خیبرپختونخوا حکومت ہے۔

    کراچی میں سڑکوں سے تجاوزات ختم کرنے کیلئے ٹاسک فورس قائم

    ہنی ٹریپ کرنے والی کچے کے ڈاکوؤں کی رکن خاتون پکڑی گئی

  • کراچی میں سڑکوں سے تجاوزات ختم کرنے کیلئے ٹاسک فورس قائم

    کراچی میں سڑکوں سے تجاوزات ختم کرنے کیلئے ٹاسک فورس قائم

    آج ہی دس سے پندرہ روڈ بتائیں، وہاں سے تجاوزات کے خاتمے کی ڈیڈلائن دیں، وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے ٹاسک فورس کو ٹاسک دے دیا۔

    اعلی سطح اجلاس کے دوران مراد علی شاہ کا کراچی کے انفرا اسٹرکچر کی خراب صورتحال پر تشویش کا اظہار، کہا کہ جاری ترقیاتی منصوبے، تباہ حال سڑکیں، نکاسی کے مسائل ، غیرقانونی پارکنگ اور بیہنگم تجاوزات شہر میں ٹریفک جام کی بڑی وجوہات ہیں۔وزیر بلدیات سعید غنی کی زیر قیادت ٹاسک فورس کو متاثرہ علاقوں میں فوری کارروائی کا حکم دے دیا۔ مراد علی شاہ نے نشاندہی کی کہ نشے کے عادی افراد پبلک انفرا اسٹرکچر کو نقصان پہنچاتے ہیں، نشئی افراد لوہا، اسٹریٹ لائٹس کے کھمبے اور دیگر سامان اکھاڑ کر لے جاتے ہیں جس سے عوامی مقامات برباد ہو رہے ہیں۔وزیراعلی سندھ نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ پلوں کے نیچے اور جھگیوں سے نشے کے عادی تمام افراد کو ہٹایا جائے۔

    پلوں کے لوہے اور اسٹریٹ لائٹس کی چوری سے نہ صرف وہ شہر کو بدصورت بنا رہے ہیں بلکہ ہماری ترقیاتی کوششوں کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ایسی چوریاں روکنے کیلیے سول ادارے مستعدی کا مظاہرہ کریں ۔ اجلاس میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر رشید سولنگی نے وزیراعلی کو بتایا کہ ان کی ہدایت کے مطابق تمام معاملات کی منظوری کیلیے کیو آر کوڈ کا اجرا کردیا گیا ہے۔اس وقت 425 زیر تعمیر عمارتوں میں سے 201 کو کیو آر کوڈ کے ذریعے پرمٹ جاری کیے گئے ہیں جس سے نگرانی اور نظم کے معاملات مزید بہتر ہوں گے۔ کیو آر کوڈ کی مدد سے منظوری کی تاریخ، اشتہار کا این او سی ، منصوبے کی ابتدا اور تکمیل کی تاریخ، منزلوں کی تعداد ، بلڈر کا نام، آرکیٹیکٹ، ٹھیکیدار، فلیٹ یا دکان کے پتے سمیت اس لاگت کی تفصیلات معلوم کی جا سکتی ہیں۔ وزیراعلی سندھ کو بتایا گیا کہ ایس بی سی اے نے ضلع جنوبی میں ایسی 25 کمرشل عماتوں کا پتہ لگایا ہے جن میں کار پارکنگ کی منظوری دی گئی تھی لیکن مالکان نے وہاں غیرقانونی طور پر گودام بنا رکھے ہیں۔ کمشنر اور ایڈیشنل آئی جی پولیس کی مدد سے چھ کار پارکنگ کو بحال کیا گیا ہے۔ تین عمارتوں کو سیل کردیا گیا ہے جبکہ باقی کو نوٹسز جاری کیے گئے ہیں۔
    ایس بی سی اے سربراہ نے وزیراعلی کو یہ بھی بتایا کہ غیرقانونی تعمیرات کے خلاف 1210 چھاپے مارے گئے ہیں۔ کئی عمارتوں کو سیل کیا گیا ہے جن میں سے 16 لیاری میں ہیں۔ اس موقع پر وزیراعلی سندھ نے ہدایت کی کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ غیرقانونی طور پر کوئی عمارت تعمیر نہ ہو اور منظوری ٹھوس بنیادوں پر دی جائے۔ مراد علی شاہ نے ہدایت کی کہ زیر تعمیر عمارتوں کا ملبہ سروس روڈز پر ڈالنے کی اجازت نہ دی جائے اور احکامات کی خلاف ورزی کرنے والی عمارتوں کو سیل کردیا جائے۔ریڈلائن کے بارے میں وزیراعلی سندھ کو بتایا گیا کہ گلشن اقبال میں بی آر ٹی ریڈلائن کے ترقیاتی کام کی وجہ سے ٹریفک جام کا مسئلہ ہے۔ سیکریٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن نے وزیراعلی کو بتایا کہ حسن اسکوائر سے ٹینک چوک تک بی آر ٹی ریڈ لائن کی تعمیر کا کام تیز کردیا گیا ہے۔ وزیراعلی سندھ نے ہدایت کی کہ ریڈ لائن بی آر ٹی کو اس سال دسمبر یا جنوری 2025 تک مکمل کیا جائے۔
    انہوں نے انتظامیہ کو ہدایت کی کہ حسن اسکوائر سے آگے تک سروس روڈ سے تجاوزات ہٹا کر ٹریفک کی روانی کو یقینی بنایا جائے۔وزیراعلی سندھ نے تجاوزات کے خاتمے کیلیے وزیر بلدیات سعید غنی، میئر کراچی، کمشنر اور متعلقہ حکام پر مشتمل کمیٹی بنادی اور انہیں ہدایت کی کہ کل تک دس سے پندرہ روڈز شاہراہوں کی نشاندہی کریں اور پھر پیدل چلنے کے مقامات ، گرین بیلٹس ، گلیوں اور فٹ پاتھوں پر تجاوزات کے خلاف آپریشن کا آغاز کریں۔
    وزیراعلی سندھ نے بڑی شاہراہوں پر تجاوزات کے خلاف برداشت نہ کرنے کی پالیسی اپنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ کے ایم ایم سی اور ٹانز تجاوزات کے خاتمے کے سلسلے میں رابطے کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت کی کہ ایک بار ہٹائی جانے والی تجاوزات کو دوبارہ لگنے نہ دیا جائے۔ وزیراعلی سندھ نے گرین بیلٹس کی بحالی پر بھی زور دیا اور کہا کہ بینکوں اور اسپتالوں کے باہر پڑے جنریٹرز کو بھی ان کی حدود میں منتقل کردیا جائے۔
    اجلاس میں وزیر بلدیات سعید غنی، میئر کراچی مرتضی وہاب، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ اور دیگر اہم حکام نے شرکت کی۔ اس موقع پر شہر میں ترقیاتی کاموں کی حکمت عملی اور غیرقانونی کاموں کو روکنے پر غور کیا گیا ۔ اجلاس کے دوران سڑکوں کے کٹا پر بھی سیر حاصل گفتگو کی گئی خاص طور پر لیاری کے روڈ زیر بحث آئے جن کیلیے فنڈز کی فراہمی کے باوجود سڑکوں کی مرمت اور بحالی کا کوئی کام نہیں کیا گیا جس کے نتیجے میں استرکاری کا کام جلد خراب ہوگیا اور سڑکیں مزید تباہ ہوگئیں۔
    یہ بھی نوٹ کیا گیا کہ حکام کے درمیان حدود کے نتازعے کے باعث بھی معاملات مزید خراب ہو رہے ہیں۔ وزیراعلی سندھ نے ہدایت کی کہ روڈ کٹنگ کیلیے شرائط ترتیب دی جائیں اور یہ ضابطہ بنایا جائے کہ نئی سڑک بننے کے بعد دو سال تک روڈ کٹنگ کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ غیرضروری کھدائی کو روکنے کیلیے دوگنا معاوضے اور سڑک کی بحالی کے الگ اخراجات وصول کرنے کا قانون بھی متعارف کرایا جائے۔
    وزیراعلی نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ روڈ کٹنگ کی اجازت دینے کیلیے ایک مرکزی اتھارٹی بنائی جائے جو روڈ کنٹنگ کی اجازت دینے کی فیس وصول کرے اور پھر واپس ٹان کو دے دے۔ غیرقانونی پارکنگ کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیراعلی سندھ نے مصروف شاہراہوں پر ٹریفک کے دبا کو کم کرنے اور گاڑیوں کی روانی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ بڑی عمارتوں میں پارکنگ کی جگہ پر قبضے کی وجہ سے باہر پارکنگ لین لگنے سے ٹریفک کی صورتحال خراب ہو رہی ہے۔
    وزیراعلی سندھ نے ہدایت کہ کہ اس بات یو یقینی بنایا جائے کہ بڑی عماتوں کی پارکنگ کی جگہ سو فیصد استعمال کی جائے۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی کہ وہ ایس بی سی اے کی مدد سے ایسے پلازوں کی نشاندہی کریں جہاں پارکنگ ایریاز دوسرے استعمال میں لائی گئی ہیں۔ مراد علی سشاہ نے انتظامیہ اور پولیس کو ہدایت کی کہ وہ ٹریفک پولیس کے ساتھ مل کر غیرقانونی پارکنگ کا خاتمہ کریں۔
    وزیراعلی سندھ نے ہدایت کہ کہ مصروف شاہراہوں پر رش کے اوقات میں پارکنگ پر مکمل پابندی لگائی جائے۔ اس مہم سے عوام کو آگاہی دینے اور پبلک سپورٹ کیلیے میڈیا مہم شروع کی جائے۔ اجلاس کے دوران وزیراعلی سندھ نے عمارتوں کی چھتوں پر بڑے اشتہاری بورڈز سے پیدا ہونے والے سیکیورٹی معاملات پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کیلیے تھرڈ پارٹی سرٹفکیشن پر عملدرآمد کیا جائے۔
    انہوں نے اس سلسلے میں چیف سیکریٹری کو ریگولیٹری فریم ورک تشکیل دینے کی بھی ہدایت کردی۔ اجلاس میں کے ایم سی، ٹان اور ڈی سی آفسز میں ڈومیسائل، برتھ اور ڈیتھ سرٹیفکیٹس سمیت عوامی خدمات کی بہتری پر بھی غور کیا گیا۔ اس موقع پر برتھ رجسٹریشن کے عمل کو بہتر کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا اور رجسٹریشن فیس ختم کرنے کی بھی تجویز دی گئی۔ وزیراعلی سندھ مراد عی شاہ نے عوام کو رجسٹریشن کی ترغیب دینے کیلیے برتھ سرٹیفکیٹس کی فیس ختم کرنے کی ہدایت کردی۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت کی کہ کے ایم سی، ٹانز ، یوسیز اور ڈی سی آفسز میں ڈومیسائل اور پی آر سی جیسے کاغذات کے آسان حصول کیلیے رجسٹریشن کے عمل کو آسان بنایا جائے۔

    ہنی ٹریپ کرنے والی کچے کے ڈاکوؤں کی رکن خاتون پکڑی گئی

    ایم کیو ایم وفد کی علی خورشیدی کی قیادت میں مزارِ لیاقت علی خان پر حاضری

  • ہنی ٹریپ کرنے والی کچے کے ڈاکوؤں کی رکن خاتون پکڑی گئی

    ہنی ٹریپ کرنے والی کچے کے ڈاکوؤں کی رکن خاتون پکڑی گئی

    کراچی پولیس نے مردوں کو ہنی ٹریپ کرکے کچے کے ڈاکوؤں کے حوالے کرنے والی خاتون کو گرفتار کرلیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اینٹی وائلنٹ کرائم سیل (اے وی سی سی) نے کچے کے ڈاکوؤں کی مبینہ سہولت کار خاتون ملزمہ کو شہر قائد کے علاقہ سہراب گوٹھ سے حراست میں لیا.

    اس مقصد کے لیے عمل میں لائی گئی کارروائی کے دوران سہراب گوٹھ سے شہریوں کو شادی کا جھانسہ دے کر کشمور، کندھ کوٹ، شکارپور اور گھوٹکی بھیجنے والی خاتون ملزمہ پکڑی گئی۔بتایا گیا ہے کہ کراچی سے گرفتار کی جانے والی مزکورہ خاتون ملزمہ خود کو کچے کے ڈاکوؤں کے سربراہ بڈیل خان کی بیوی بتاتی ہے، ملزمہ کی مدد سے ڈاکو شہریوں کو کچے کے علاقہ میں لے جا کر ان سے تاوان طلب کرتے تھے، ملزمہ سے ہنی ٹریپ میں استعمال ہونے والی سم بھی برآمد کرلی گئی۔سندھ کے ضلع گھوٹکی کے ایس ایس پی تنویر تنیو نے بتایا کہ کچے سے باہر کے اردگرد کے علاقوں کو پولیس نے کافی حد محفوظ بنا لیا ہے اور یہاں رہنے والے ڈاکوؤں کے لیے اب اپنے علاقے سے باہر جا کے اغوا کی واردات کرنا ذرا مشکل ہو چکا ہے لہذا اب انہوں نے کارروائیوں کے لیے ہنی ٹریپ کی تکنیک استعمال کرنا شروع کر دی ہے، یہ اغوا کار انجان نمبرز پر کال ملا کر فون اٹھانے والے بندے کو اپنے جال میں پھنساتے ہیں، ان کی باتوں میں پھنسنے والا آدمی جیسے ہی ملاقات کے لیے پہنچتا ہے تو مسلح افراد اس کو اغوا کر لیتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ تفتیش کے دوران یہ بھی سامنا آیا کہ سوشل میڈیا پر ان کے پیج بنے ہوئے ہیں جہاں وہ خوبصورت لڑکیوں کی تصاویر اپ لوڈ کرتے رہتے ہیں، ان تصاویر کے جھانسے میں آ کر بھی لوگ پھنس جاتے ہیں اور یوں اغوا ہو جاتے ہیں، سندھ میں ہنی ٹریپ کا شکار لوگ کم ہوتے ہیں، اب ان کا شکار زیادہ تر خیبرپختونخواہ اور پنجاب کے لوگ بنتے ہیں، یہ لوگ لڑکی کے علاوہ لوگوں کو سستی سکیموں کا بھی جھانسہ دیتے ہیں، لوگوں کو سستے ٹریکٹر، سستی گاڑی اور دیگر مشینری کا لالچ دے کر بلایا جاتا ہے اور اغوا کر لیا جاتا ہے جہاں سے ان کو کچے کے علاقوں میں لے جاتے ہیں اور پھر بھاری تاوان کے عوض ہی ان کے چنگل سے آزاد ہوتے ہیں۔

    ایم کیو ایم وفد کی علی خورشیدی کی قیادت میں مزارِ لیاقت علی خان پر حاضری

    سندھ میں میٹرک اور انٹر میں گریڈنگ پالیسی متعارف

  • ایم کیو ایم وفد کی علی خورشیدی کی قیادت میں مزارِ لیاقت علی خان پر حاضری

    ایم کیو ایم وفد کی علی خورشیدی کی قیادت میں مزارِ لیاقت علی خان پر حاضری

    متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے وفد نے اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی کی قیادت میں لیاقت علی خان کی 73 ویں یوم شہادت کے موقع پر مزارِ لیاقت علی خان پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی.

    ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے لیاقت علی خان کے تہترویں یومِ شہادت پر خراجِ عقیدت پیش کیا گیا اس موقع پر اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی علی خورشیدی کاس کہنا تھا کہلیاقت علی خان نے جان، مال اور اسباب وطن پر قربان کرکے تاریخ میں خود کو امر کیا، لیاقت علی خان کی قربانیاں قوم کے لیے مشعلِ راہ ہیں.لیاقت علی خان کے قتل کے محرکات سامنے نہ آنا المیہ ہے، ہمیں ترقی پسند پاکستان کے لیے لیاقت علی خان کے وژن پر عمل کرنا ہوگا، لیاقت علی خان کے نظریات سے اتحاد اور ترقی کا سبق لینا ہوگا، لیاقت علی خان کی جدوجہد آج بھی ہماری رہنمائی کا ذریعہ ہے.

    واضح رہے کہ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم شہیدِ ملّت لیاقت علی خان کی 73 ویں برسی آج منائی جا رہی ہے۔لیاقت علی خان یکم اکتوبر 1896 کو ہندوستان کے علاقے کرنال میں پیدا ہوئے تھے۔انہوں نے ابتدائی تعلیم گھر سے جبکہ 1918 میں ایم اے او کالج علی گڑھ سے گریجویشن کی. بعد ازاں برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔1923 میں ہندوستان واپس آکر لیاقت علی خان نے سیاسی میدان میں قدم رکھنے کا فیصلہ کیا اور مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کرلی۔وہ 1946 میں مسلم لیگ کے سیکریٹری جنرل بنے جبکہ قائد اعظم کے دست راست بھی رہے. قیام پاکستان کی جدوجہد میں بابائے قوم کا بھرپور ساتھ نبھایا۔1948 میں قائد اعظم کی وفات کے بعد وہ ملک کے پہلے وزیر اعظم کے طور پر قوم کے نگہبان بنے۔16اکتوبر 1951 کو ایک جلسے کے دوران قائدِ اعظم کے معتمد اور نہایت قریبی ساتھی اور ملک کے پہلے وزیرِاعظم کو شہید کردیا گیا تھا۔

    ایس سی او اجلاس،پاکستان کا اعزاز،تجاویز منظورکی گئیں،اسحاق ڈار

    سندھ میں میٹرک اور انٹر میں گریڈنگ پالیسی متعارف

  • سندھ میں میٹرک اور انٹر میں گریڈنگ پالیسی متعارف

    سندھ میں میٹرک اور انٹر میں گریڈنگ پالیسی متعارف

    سندھ میں تعلیمی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے حکومت سندھ نے میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے امتحانات کے لیے نئی گریڈنگ پالیسی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔

    صوبے کے طلبہ کو پوزیشن کی دوڑ سے نکال دیا گیا، اب نمبر اور پوزیشن نہیں بلکہ طلبہ کو گریڈ ملیں گے۔ اس طرح ملک میں سندھ پہلا صوبہ ہو گیا جس نے گریڈنگ پالیسی کی منظوری دے دی ہے۔سیکریٹری بورڈز و جامعات عباس بلوچ کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق سندھ میں نئی گریڈنگ پالیسی کا اطلاق 2025ء سے ہو گا جس کے تحت طلبہ کو نمبروں اور پوزیشنز کے بجائے گریڈ پوائنٹ ایوریج کی بنیاد پر نتائج ملیں گے۔سیکریٹری بورڈز و جامعات عباس بلوچ کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق نئی گریڈنگ پالیسی کے فارمولے کے مطابق پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشنز ختم کر دی جائیں گی۔صوبہ پنجاب، خیبر پختون خوا اور بلوچستان کے تعلیمی بورڈز تاحال نئی گریڈنگ پالسی کی منظوری نہیں دے سکے ہیں۔ آئی بی سی سی نے نئی گریڈنگ پالیسی کا جو فارمولا طے کیا ہے اس کے مطابق 95 یا زائد نمبرز کو A غیر معمولی گریڈ دیا جائے گا، 90 نمبر کو شاندار A دیا جائے گا، 85 نمبر کو بہترین A دیا جائے گا۔اس طرح 80 نمبر کو بہت اچھا B دیا جائے گا، 75 کو اچھا B گریڈ دیا جائے گا، 70 کو مناسب اچھا B دیا جائے، 60 کو اوسط سے اوپر C دیا جائے گا۔ڈاکٹر غلام علی ملاح کے مطابق آئندہ سال سے میٹرک اور انٹر کے پاسنگ مارکس 33 سے 40 کر دئیے جائیں گے، علاوہ ازیں 50 کو اوسط D گریڈ دیا جائے گا، 40 تا 49 نمبر کو اوسط سے نیچے E گریڈ دیا جائے گا اور 40 سے کم نمبر والوں کو غیر تسلی بخش U گریڈ دیا جائے گا۔

    وزیر داخلہ سندھ کا سی پی ایل سی کا دورہ، کال سینٹر 1102 کا افتتاح کیا

  • وزیر داخلہ سندھ کا سی پی ایل سی کا دورہ، کال سینٹر 1102 کا افتتاح کیا

    وزیر داخلہ سندھ کا سی پی ایل سی کا دورہ، کال سینٹر 1102 کا افتتاح کیا

    وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے سی پی ایل سی کا دورے کے موقع پر اپ گریڈیڈ سی پی ایل سی کال سینٹر 1102 کا افتتاح کیا اور جرائم کے خلاف سی پی ایل سی کے کردار کو سراہا اور تعریف کی۔

    سی پی ایل چیف زبیر حبیب نے بریفنگ کے دوران بتایا کہ سی پی ایل سی جیلز کے قیدیوں کا ڈیٹا،زینب الرٹ سمیت ڈیڈ باڈیز کی شناخت اور اغوا برائے تاوان جیسے جرائم کو دیکھتی ہے اور اس عمل کے لیئے اپنی جملہ کاوشوں اور اقدامات کو کامیاب اور مثر بناتی ہے۔اس موقع پر سی پی ایل سی چیف نے ادارے کے حوالے سے ضروری سفارشات پیش کیں جن پر وزیر داخلہ سندھ نے ہر ممکن تعاون اور سپورٹ کی یقین دہانی کرائی۔وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ بہتر اور موثر نتائج کے لیئے سی پی ایل سی کی مذید اپ گریڈ انتہائی ضروری ہے اور اس ضمن میں حکومت سندھ آپکی ہر ممکن سپورٹ اور تعاون کے لیئے تیار ہے۔انہوں نے آئی جی سندھ کو ہدایات دیں کہ پولیس لائنز،تھانوں جلوس کے روٹس پر کیمروں کی تنصیب اور ڈرونز کی فراہمی کے حوالے سے جامع سفارشات جلد ارسال کی جائیں تاکہ ان سفارشات پر آئندہ مالی سال کے بجٹ میں منظوری اور توثیقی اقدامات کیئے تمام تر ضروری اقدامات کیئے جاسکیں۔ان کا کہنا تھا کہ پولیس 15 کا شکایات پر فوری اور مثبت ریسپانس ضروری ہے اس امر سے پولیس پر عوام کا اعتماد مذید فروغ پائیگا۔علاوہ اذیں ایس فور سیف سٹی پروجیکٹ سندھ اور کراچی کی ضرورت ہے کیونکہ جرائم کے خلاف تیکنیکس کا استعمال کامیابی کی ضمانت ہے۔

    ملک میں سونے کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

  • ڈاکٹر شاہنواز کے قتل پر 16 اکتوبر کو سندھ میں یوم سیاہ کا اعلان

    ڈاکٹر شاہنواز کے قتل پر 16 اکتوبر کو سندھ میں یوم سیاہ کا اعلان

    سندھ کی قوم پرست تنظیموں اور جسٹس فار ڈاکٹر شاہنواز کنبھر کمیٹی کی جانب سے کراچی میں رواداری مارچ پر ہونے والے تشدد، بچیوں کی تذلیل،گرفتاریوں، قومی رہنماؤں کے گھروں پر چھاپے اور انصاف کی عدم فراہمی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ ، ڈاکٹر شاہنواز کنبھر کے قتل پر 16 اکتوبر کو پورے سندھ میں یوم سیاہ منانے کا اعلان اس حوالے سے قوم پرست رہنمائوں ریاض چانڈیو اور ڈاکٹر نیاز کالانی نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔

    ریاض چانڈیو نے بتایا کہ جسٹس فار ڈاکٹر شاہنواز کنبھر کمیٹی کا اجلاس سخی ستار دیو چولیانی ہاؤس حیدرآباد میں ہوا۔ اجلاس میں قوم پرست رہنمائوں ڈاکٹر نیاز کالانی، عبدالفتاح چنا، ڈاکٹر بدر چنا، قمر زمان راجپر، نواز شاہ بھدائی، غفار میرجت، ڈاکٹر خوشحال کالانی، پنہل جمالی، ایاز سولنگی، غفار مہر اور دیگر نے شرکت کی۔اجلاس میں کہا گیا کہ ڈاکٹر شاہنواز کنبھر کے قتل کی عدالتی تحقیقات کے لیے کراچی میںرواداری مارچ کیا گیا جس پر ریاست اور حکمرانوں نے وحشیانہ حملہ کیا اور سیاسی کارکنوں، صحافیوں اور عام شہریوں پر وحشیانہ تشدد کیا۔بلاول زرداری حکومت کی نازی ازم کی شدید مذمت کرتے ہیں جس نے قانون، اخلاقیات اور جمہوریت کی بنیادیں تباہ کر دی ہیں۔ ریاض چانڈیو نے کہا کہ کراچی میں جہاں ایک طرف ظلم ہوا وہیں سندھ کی بیٹیوں روماسہ جامی، عالیہ بخشل، سندھو نواز گھانگھرا، سورتھ سندھی اور سندھ کے اہل قلم جامی چانڈیو، بخشل تھلہو، راگی سمیت سمجھوکو لے جا کر وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔دوسری جانب انہیں اور باڈی کے رہنما ڈاکٹر نیاز کالانی کو حیدرآباد سے گرفتار کیا گیا، ان کے گھروں کا گھیراؤ کیا گیا، . انہوں نے کہا کہ یہ سندھ کی جمہوریت کی توہین اور پیپلز پارٹی کی طرف سے انصاف پر حملے کی بھیانک شکل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس سارے عمل کا ذمہ دار بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ کو قرار دیتے ہیں، جن کے حکم پر سندھ پر یہ آمریت مسلط کی گئی، دنیا نے ان کا اصل چہرہ دیکھ لیا انہوںنے کہاکہ رواداری مارچ کے بعد بخشل تھلہو، پنہل ساریو اور دیگر کے خلاف درج ایف آئی آر کی مذمت کی۔
    جسقم کے رہنما ڈاکٹر نیاز کالانی نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت سندھ نواز اور محب وطن جماعتوں کے احتجاج میں رکاوٹ نہ ڈالے، پیپلز پارٹی کے جلسے کو متاثر کرنے کے لیے ہم سڑکوں پر دھرنے بھی دے سکتے ہیں۔ سندھ اور سڑکیں بلاک کر دیں۔ انہوں نے کہا کہ رواداری ریلی میں شریک لوگوں کے خلاف ایف آئی آر ختم کی جائے۔ ڈاکٹر بدرچنا نے کہا کہ ہمارا ایک ہی مطالبہ ہے کہ ڈاکٹر شاہنواز کے قتل کی تحقیقات کے لیے ایک آئینی جوڈیشل کمیشن بنایا جائے اور حاضر سروس جج اس واقعے کی شفاف تحقیقات کریں اور ملزمان کو قانون کے مطابق سزا دی جائے جب تک یہ مطالبہ پورا نہیں ہوگا احتجاج جاری رہے گا۔

    سندھ میں ملیریا وبائی شکل اختیار کرنے لگا

    سندھ حکومت کا ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبہ مقررہ وقت سے پہلے مکمل کرنے کا حکم

    جمعیت فلسطینی مسلمانوں کا مقدمہ ہر فورم پر لڑ رہی ہے، حماس رہنماء