Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • اعتماد یا بدتمیزی؟ جین زی کا بدلتا  رویہ،تحریر: صدف ابرار

    اعتماد یا بدتمیزی؟ جین زی کا بدلتا رویہ،تحریر: صدف ابرار

    ہر دور کی اپنی ایک پہچان ہوتی ہے، مگر آج کی نسل کو دیکھ کر اکثر یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ کیا ہم واقعی ترقی کر رہے ہیں یا صرف چمک دمک کے پیچھے بھاگ رہے ہیں؟ جین زی کو عموماً بااعتماد، بولڈ اور بے باک کہا جاتا ہے، لیکن روزمرہ زندگی میں ان کا رویہ دیکھیں تو میری بات شاید اپکو تلخ لگے لیکن یہ اعتماد کم اور بدتمیزی زیادہ محسوس ہوتی ہے۔

    کبھی اعتماد کا مطلب یہ تھا کہ انسان باوقار ہو، نرم لہجے میں بات کرے اور اپنے کردار سے پہچانا جائے۔ استاد اور سینئرز کا احترام تربیت کا لازمی حصہ تھا۔ اختلافِ رائے بھی ہوتا تھا تو تہذیب کے دائرے میں رہ کر کیا جاتا تھا۔ مگر اب حالات بدلتے دکھائی دیتے ہیں۔ اونچی آواز، تلخ لہجہ اور دوسروں کو نیچا دکھانا ایک عام رویہ بنتا جا رہا ہے، اور اسے ہی “کنفیڈنس” کا نام دے دیا گیا ہے۔

    دفاتر، تعلیمی اداروں اور سوشل میڈیا،ہر جگہ ایک عجیب سی دوڑ لگی ہوئی ہے۔ ہر کسی کو بس آگے نکلنا ہے۔ کس کی گاڑی بہتر ہے، کس کا موبائل نیا ہے، کس کا لباس زیادہ مہنگا ہے اور کس کا طرزِ زندگی زیادہ جدید ہے۔یہی کامیابی کے پیمانے بن چکے ہیں۔ زندگی جیسے ایک مقابلہ بن گئی ہے، جہاں اصل انسان نہیں بلکہ نمائش جیتتی ہے۔
    اس نسل کا ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ سادگی یا متوسط پس منظر کو کمزوری سمجھا جانے لگا ہے، جیسے غریب گھرانے سے ہونا کوئی عیب ہو۔ اسی احساسِ برتری اور مقابلہ بازی میں لوگ جائز اور ناجائز کی تمیز بھی بھولتے جا رہے ہیں۔ مقصد صرف یہ رہ گیا ہے کہ کسی بھی طرح اس دوڑ میں شامل رہیں، چاہے اس کے لیے اصول ہی کیوں نہ قربان کرنے پڑیں۔

    حقیقت یہ ہے کہ اصل اعتماد شور نہیں کرتا۔ مہذب لوگ چیختے نہیں، وہ اپنے رویے سے پہچانے جاتے ہیں۔ عزت دینا کمزوری نہیں بلکہ مضبوط کردار کی علامت ہے۔ دکھاوا وقتی تالیاں تو سمیٹ سکتا ہے، مگر مستقل عزت صرف اخلاق اور تربیت سے حاصل ہوتی ہے۔
    جدید ہونا یقیناً اچھی بات ہے، مگر اگر جدیدیت تہذیب، احترام اور اقدار کے بغیر ہو تو وہ محض ایک کھوکھلا خول بن جاتی ہے۔ شاید ہمیں دوبارہ یہ سیکھنے کی ضرورت ہے کہ کامیابی صرف آگے نکل جانے کا نام نہیں، بلکہ انسانیت کو برقرار رکھتے ہوئے آگے بڑھنے کا نام ہے۔

  • رحم جرم بن گیا، جو کتوں کو بچائیں وہی مجرم ٹھہرے،تحریر:صدف برار

    رحم جرم بن گیا، جو کتوں کو بچائیں وہی مجرم ٹھہرے،تحریر:صدف برار

    ہمارے معاشرے میں ایک عجیب سا تاثر عام کر دیا گیا ہے کہ جو لوگ گلی محلوں میں موجود اسٹریٹ ڈاگز کو کھانا کھلاتے ہیں، زخمی جانوروں کا علاج کرواتے ہیں یا ان کی جان بچانے کی کوشش کرتے ہیں، وہ کوئی “ممی ڈیڈی” قسم کے لوگ ہیں جنہیں انسانوں سے زیادہ کتوں کی فکر ہے۔ رحم کرنا جیسے کوئی جرم بن گیا ہو۔ لیکن اگر ہم ذرا اسلام آباد اور اس کے گرد و نواح میں سی ڈی اے کی پالیسیوں پر تحقیق کریں تو حقیقت اس تاثر سے کہیں زیادہ خوفناک نظر آتی ہے۔ یہاں مسئلے کا حل ویکسینیشن، نیوٹرنگ یا بہتر شیلٹرز نہیں بلکہ گولیاں، زہر اور اجتماعی ہلاکتیں ہیں۔ کتوں کو پکڑ کر مار دیا جاتا ہے، زہر دے کر ہلاک کیا جاتا ہے، ماؤں کو ان کے بچوں سے جدا کر دیا جاتا ہے اور بڑی تعداد میں انہیں نام نہاد شیلٹرز میں منتقل کر دیا جاتا ہے جہاں نہ مناسب خوراک ہے، نہ صاف پانی، نہ چھت اور نہ ہی موسم کی شدت سے بچنے کا کوئی انتظام۔ یہاں تک کہ پانی تک میسر نہیں ہے اور جانور پیاس سے تڑپتے رہتے ہیں۔ یہ شیلٹر نہیں بلکہ اذیت گاہیں ہیں۔

    سب سے زیادہ دل دہلا دینے والی بات یہ ہے کہ نومولود پلے جب ماں سے جدا کیے جاتے ہیں تو یا تو بھوک سے بلک بلک کر مر جاتے ہیں یا بڑے کتوں کا شکار بن جاتے ہیں۔ کئی زخمی ہو کر سڑتے رہتے ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔ دوسری طرف ہم روز اخبارات میں یہ خبریں پڑھتے ہیں کہ ریبیز کے باعث کتوں نے لوگوں کو کاٹا اور اسپتالوں میں ویکسین نہ ہونے کی وجہ سے قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس کا ذمہ دار کتا ہے یا ہمارا ناکام ہیلتھ سسٹم؟ ریبیز ویکسین مہیا کرنا حکومت اور محکمہ صحت کی ذمہ داری ہے، نہ کہ ہر گلی کے کتے کو گولی مار دینا۔ ایک جانور کی غلطی کی سزا پورے علاقے کے تمام جانوروں کو دینا کہاں کا انصاف ہے؟

    یہاں سوال یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کو کیا سکھا رہے ہیں؟ “کتا نظر آئے تو پتھر مار دو، ڈنڈا اٹھاؤ، بھگا دو۔” ظاہر ہے جب جانور کو خطرہ محسوس ہوگا تو وہ اپنے دفاع میں بھونکے گا یا کاٹے گا۔ زیادہ تر واقعات جارحیت نہیں بلکہ خوف کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ جانور بھی زندہ مخلوق ہیں، ان میں بھی درد، خوف اور محبت کا احساس ہوتا ہے۔ جو لوگ انہیں کھانا کھلاتے ہیں، وہ شوقیہ نہیں کرتے بلکہ انہیں بھی جینے کا حق دیتے ہیں۔ کیونکہ ماں، ماں ہوتی ہے، چاہے انسان کی ہو یا کسی جانور کی۔ ذرا سوچئے اگر کسی انسان کے بچے کو زہر دے کر مار دیا جائے تو والدین پر کیا گزرے گی؟ تو پھر ایک بے زبان جانور کی ماں کا درد ہمیں کیوں نظر نہیں آتا؟

    افسوس کی بات یہ ہے کہ عدالتیں بھی واضح احکامات دے چکی ہیں کہ کتوں کو مارنے کے بجائے نیوٹر کیا جائے، ویکسینیشن کی جائے اور آبادی کو انسانی طریقے سے کنٹرول کیا جائے، مگر ان احکامات پر عملدرآمد دکھائی نہیں دیتا۔ گولی چلانا آسان ہے، نظام بنانا مشکل۔ دنیا بھر میں کامیاب ماڈلز موجود ہیں جہاں نیوٹرنگ اور ویکسینیشن کے ذریعے مسئلہ حل کیا گیا، لیکن ہم اب بھی قتل عام کو حل سمجھتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جتنے کتے مارے جائیں گے، اتنی ہی تیزی سے نئے پیدا ہو جائیں گے، کیونکہ مسئلہ قتل سے نہیں بلکہ منصوبہ بندی سے حل ہوتا ہے۔

    سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا یہ زمین صرف انسانوں کے لیے بنائی گئی ہے؟ کیا باقی مخلوق کو جینے کا حق نہیں؟ ہمارا مذہب بھی ہمیں بے زبان جانوروں پر رحم کا درس دیتا ہے۔ اگر ہم پورے ملک سے تمام کتوں کا خاتمہ بھی کر دیں تو کیا ہمارے اسپتال بہتر ہو جائیں گے؟ کیا ویکسین دستیاب ہو جائے گی؟ کیا ہمارا نظام ٹھیک ہو جائے گا؟ ہرگز نہیں۔ ہم صرف مزید بے حس ہو جائیں گے۔ کیونکہ جس معاشرے میں رحم ختم ہو جائے، وہاں انسانیت بھی مر جاتی ہے۔

  • دماغ کی خاموش چیخ،تحریر:صدف ابرار

    دماغ کی خاموش چیخ،تحریر:صدف ابرار

    ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں جسمانی تکلیف کو فوراً بیماری مان لیا جاتا ہے مگر ذہنی اذیت کو آج بھی کمزوری، وہم یا ڈرامہ کہہ کر نظرانداز کر دیا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ دماغ بھی جسم کا اتنا ہی اہم حصہ ہے جتنا دل، گردے یا پھیپھڑے، بلکہ اگر سچ کہا جائے تو پوری باڈی کا کنٹرول ہی دماغ کے ہاتھ میں ہے، ہماری نیند، ہماری سوچ، ہمارے فیصلے، ہمارے جذبات، سب کچھ وہیں سے جڑا ہوا ہے، مگر افسوس یہ ہے کہ جب یہی دماغ تھک جائے، الجھ جائے یا دباؤ میں آ جائے تو ہم اسے ماننے کے بجائے چھپانے کو ترجیح دیتے ہیں، پاکستان جیسے معاشرے میں ذہنی بیماری کو آج بھی ایمان کی کمی، کمزور اعصاب یا زیادہ سوچنے کا نتیجہ قرار دے دیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے متاثرہ شخص مزید تنہائی کا شکار ہو جاتا ہے۔

    یہ مسئلہ صرف رویوں تک محدود نہیں بلکہ سہولیات کی کمی اسے اور سنگین بنا دیتی ہے، پاکستان کی آبادی تقریباً چوبیس کروڑ ہے مگر اس پوری آبادی کے لیے صرف پانچ سو کے قریب سائیکاٹرسٹ دستیاب ہیں، یعنی ہر ایک لاکھ افراد کے لیے صرف صفر اعشاریہ دو سے صفر اعشاریہ پچیس ماہرِ نفسیات، سادہ الفاظ میں ایک ڈاکٹر لاکھوں لوگوں کے مسائل سننے کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے، ایسے میں یہ توقع رکھنا کہ ہر مریض کو بروقت اور معیاری علاج مل جائے، خود ایک خام خیالی ہے، خاص طور پر دیہی علاقوں میں تو ذہنی صحت کی سہولت کا تصور ہی موجود نہیں۔

    جو چند ماہرین دستیاب ہیں، ان کی فیس اتنی زیادہ ہے کہ ایک عام آدمی کے لیے علاج کروانا آسان نہیں، ایک ایسا شخص جو پہلے ہی ذہنی دباؤ، بے چینی یا ڈپریشن کا شکار ہو، وہ مہنگے سیشنز اور مسلسل علاج کا خرچ کیسے برداشت کرے؟ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ لوگ یا تو خود ہی خاموشی سے لڑتے رہتے ہیں یا پھر ایسے مشوروں کا سہارا لیتے ہیں جو بظاہر ہمدردی لگتے ہیں مگر حقیقت میں زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہوتے ہیں۔ان تمام وجوہات کی بنا پر پاکستان میں ذہنی بیماریوں میں مبتلا 80 فیصد سے زیادہ افراد کسی بھی قسم کے پیشہ ورانہ علاج تک پہنچ ہی نہیں پاتے، اور یہی وہ خاموش المیہ ہے جس پر ہم بات کرنے سے گھبراتے ہیں، حالانکہ ذہنی صحت کوئی لگژری نہیں، یہ بھی اتنی ہی بنیادی ضرورت ہے جتنی جسمانی صحت، جب تک ہم یہ تسلیم نہیں کریں گے کہ دماغ بھی بیمار ہو سکتا ہے، جب تک ہم علاج کو شرمندگی کے بجائے حق نہیں سمجھیں گے، اور جب تک ہم انسان کو پاگل کا لیبل لگانے کے بجائے سمجھنے کی کوشش نہیں کریں گے، تب تک یہ مسئلہ ہمارے معاشرے کو اندر ہی اندر کھوکھلا کرتا رہے گا۔وقت آ گیا ہے کہ ہم خاموشی توڑیں، کیونکہ دماغ بھی بیمار ہوتا ہے، اور اس کا علاج بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا کسی اور بیماری کا۔

  • جب خودداری ناگوار بن جائے،تحریر:صدف ابرار

    جب خودداری ناگوار بن جائے،تحریر:صدف ابرار

    زندگی میں ایک خاموش مگر فیصلہ کن لمحہ آتا ہے جب انسان کو یہ ادراک ہو جاتا ہے کہ بعض رشتے باہمی احترام پر نہیں بلکہ محض سہولت پر قائم ہوتے ہیں۔ میں نے خود کو بارہا ایسے تعلقات میں الجھا پایا جہاں میری خلوص نیت کو تو قبول کیا گیا، مگر میری شخصیت کو نہیں۔ میری کوششوں کو سراہا نہیں گیا، صرف استعمال کیا گیا، اور میرے بڑھنے، بہتر ہونے یا آگے بڑھنے کی کبھی حوصلہ افزائی نہیں کی گئی۔ ایسے ماحول میں اچھائی کی قدر نہیں ہوتی، اسے صرف برت لیا جاتا ہے۔

    میں ہمیشہ بہتر کرنے پر یقین رکھتی ہوں،پورے خلوص سے دینے، حالات کو سنوارنے اور دیانت داری کے ساتھ موجود رہنے پر۔ مگر وقت کے ساتھ یہ واضح ہوتا گیا کہ میری آمادگی کو میری کمزوری سمجھ لیا گیا۔ جو میں نے خوش دلی سے دیا، وہ شکرگزاری کے بغیر لے لیا گیا، اور جسے میں نے اپنی حدود کے ذریعے محفوظ کیا، اسے بغاوت سمجھا گیا۔ جس لمحے میں نے اپنی خودداری پر سمجھوتہ کرنے سے انکار کیا، اسی لمحے میری موجودگی اُن لوگوں کے لیے بے معنی ہونے لگی جو کبھی مجھ پر انحصار کرتے تھے۔

    یہ شعور اچانک پیدا نہیں ہوا، بلکہ مایوسی، خاموشی اور جذباتی فاصلے کی تہوں سے گزر کر سامنے آیا۔ میں نے ایک واضح نمونہ دیکھا، جب تک میں کسی مقصد کے کام آتی رہی، میں قابلِ قبول تھی۔ جیسے ہی میں نے خود کو منوانا چاہا،انکار کیا، انصاف مانگا یا برابری کی توقع رکھی میں مشکل، دور یا غیر ضروری بنا دی گئی۔ تب مجھے ایک تلخ حقیقت کا سامنا ہوا کچھ لوگ آپ کو انسان کے طور پر نہیں چاہتے، وہ آپ کو ایک ذریعے کے طور پر چاہتے ہیں۔

    خود کو سمجھنا انسان سے تمام خوش فہمیاں چھین لیتی ہے۔ یہ سکھاتی ہے کہ ہر کھو دینے والی چیز ناکامی نہیں ہوتی، اور ہر خاتمہ سزا نہیں ہوتا۔ اُن جگہوں سے نکل آنا جو آپ کو خالی کر دیں، خود غرضی نہیں بلکہ ضرورت ہے۔ میں نے سیکھا کہ وہ رشتے جو سچائی، حدود اور نشوونما کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے، وہ قائم رہنے کے لیے بنے ہی نہیں ہوتے۔ وہ اسی لمحے ٹوٹ جاتے ہیں جب آپ خود کو سمیٹنے سے انکار کر دیتے ہیں۔

    آج میں اپنی قدر کا تعین اپنی افادیت سے نہیں کرتی۔ میری اہمیت اس بات سے نہیں جانی جا سکتی کہ میں کتنا دیتی ہوں، کتنا سنبھالتی ہوں یا کتنا برداشت کرتی ہوں۔ میں سہولت بننے کے لیے نہیں، احترام کے لیے موجود ہوں۔ اور جو لوگ میری خودداری سے خوفزدہ ہوں، وہ دراصل میری خاموشی کے عادی تھے، میری موجودگی کے نہیں۔
    یہ شعور مجھے بدل چکی ہے۔ اب میں الجھن کے بجائے وضاحت، وابستگی کے بجائے وقار، اور قبولیت کے بجائے خودکے احترام کا انتخاب کرتی ہوں۔ مجھے اب اس بات کا خوف نہیں کہ وہ لوگ مجھے غلط سمجھیں جنہوں نے ہمیشہ مجھے غلط سمجھ کر فائدہ اٹھایا۔ بعض اوقات نشوونما فاصلے مانگتی ہے، اور طاقت اکثر چھوڑ دینے میں ہوتی ہے۔
    کیونکہ اب میں یہ جان چکی ہوں ،میں کبھی زیادہ نہیں مانگ رہی تھی،میں بس غلط لوگوں سے مانگ رہی تھی۔

  • اکیلے پن کی موت: کمزور رشتے، زہریلی قربت اور ہماری اجتماعی بے حسی، تحریر :صدف ابرار

    اکیلے پن کی موت: کمزور رشتے، زہریلی قربت اور ہماری اجتماعی بے حسی، تحریر :صدف ابرار

    جب سے پاکستانی اداکارہ حمیرا اصغر کی موت کی خبر سامنے آئی ہے، پورا ملک چونک گیا ہے۔ ایک زندہ دل، خوبصورت، کامیاب اداکارہ نو ماہ تک اپنے ہی گھر میں مردہ پڑی رہی اور کسی کو خبر تک نہ ہوئی۔ کچھ عرصہ پہلے مشہور اداکارہ عائشہ خان کی تنہائی میں موت نے بھی یہی سوال چھوڑا تھا آخر ہم سب اتنے تنہا کیوں ہیں؟

    نفسیاتی پہلو ٹوکسک رشتے، تنہائی کا زہر
    اکثر لوگ کہتے ہیں کہ انسان اکیلا کیوں رہتا ہے؟ اس کا جواب اتنا سادہ نہیں۔ بعض اوقات سب کچھ موجود ہوتا ہے — والدین، بچے، بہن بھائی، شوہر، بیوی، دوست لیکن اس کے باوجود دل اکیلا رہتا ہے۔ کیوں؟ کیونکہ ان رشتوں میں محبت کی بجائے زہر بھر جاتا ہے۔

    ایسے رشتے جو ظاہری طور پر ساتھ ہوں لیکن اندر سے توڑ ڈالیں، انہیں نفسیات کی زبان میں ٹوکسک ریلیشن شپ کہا جاتا ہے۔ ان رشتوں میں عزت نہیں ہوتی، بس حکم اور طعنے ہوتے ہیں۔بات چیت نہیں ہوتی، صرف الزام تراشی ہوتی ہے۔احساس نہیں ہوتا، بس ضرورت پوری ہونے تک ساتھ دیا جاتا ہے۔

    ایسے ماحول میں رہنے والا انسان گھر والوں کے بیچ رہ کر بھی اکیلا ہوتا ہے۔ کبھی کبھی اس تنہائی سے مر جانا جینا ہی زیادہ آسان لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ ایسے رشتے توڑ بھی نہیں پاتے ، کیونکہ معاشرہ، بدنامی، بچوں کا ڈر، یا مالی مجبوریاں انہیں باندھے رکھتی ہیں۔

    نفسیاتی اثرات

    ٹوکسک رشتے انسان کی ذہنی صحت کو خاموشی سے چاٹ جاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان ڈپریشن کا شکار ہو جاتا ہے۔ خود اعتمادی ختم ہو جاتی ہے۔ اس کی زندگی کی خوشیاں اس کے اندر ہی مر جاتی ہیں۔اسے یہ بھی احساس نہیں رہتا کہ اسے مدد کی ضرورت ہے۔

    یوں ایک زندہ انسان اپنے گھر، خاندان یا فلیٹ کے اندر خاموشی سے ‘مر’ چکا ہوتا ہے جسمانی موت تو صرف ایک آخری خبر بن کر سامنے آتی ہے۔

    حل کہاں ہے؟

    ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ ہر رشتہ ‘رشتہ’ کہلانے کے لائق نہیں ہوتا۔ زہریلے رشتوں کو ختم کرنے کی ہمت سیکھنی چاہیے۔

    اپنی ذہنی صحت کو قربان کرنا عقلمندی نہیں، ظلم ہے خود پر بھی اور معاشرے پر بھی۔ ہمیں ایسے لوگوں کی مدد کرنی چاہیے جو اکیلے ہیں یا مشکل رشتوں میں پھنسے ہیں۔

    اکیلے پن کو روکنا کیسے ممکن ہے؟

    اپنے اردگرد دیکھیں، کون ہے جو بہت خاموش ہے؟ بات کریں۔
    ماں باپ ہیں تو بچوں کو صرف ڈانٹیں نہیں، ان سے دوستی کریں
    بچے ہیں تو والدین کو ‘پرانی نسل’ کہہ کر نظر انداز نہ کریں، انہیں وقت دیں۔
    دوست ہیں تو صرف پارٹیوں میں نہیں، ان کے برے وقت میں بھی ساتھ کھڑے ہوں۔
    اگر آپ خود ٹوکسک رشتے میں ہیں، تو مدد لینے میں ہچکچائیں نہیں — کوئی دوست، کونسلر، یا اعتماد والا رشتہ ڈھونڈیں۔

    حمیرا اصغر، عائشہ خان یہ کہانیاں ہمیں جگانے کے لیے کافی ہیں کہ اکیلا پن صرف اس وقت نہیں مار دیتا جب کوئی ساتھ نہ ہو، بلکہ یہ تب بھی مار دیتا ہے جب اردگرد سب ہوں مگر محبت کوئی نہ دے۔

    رشتے جیتے جاگتے انسان کی روح کو تازگی دیتے ہیں لیکن جب وہی رشتے زہر بن جائیں تو انسان اندر ہی اندر مر جاتا ہے۔

    کیا آپ کے رشتے آپ کو زندہ رکھتے ہیں؟ اگر نہیں تو بدلیں ورنہ زندگی آپ کو بدل دے گی۔

  • اولاد، محبت کا رشتہ یا ذمہ داریوں کا بوجھ؟ تحریر :صدف ابرار

    اولاد، محبت کا رشتہ یا ذمہ داریوں کا بوجھ؟ تحریر :صدف ابرار

    ہمارا معاشرہ خود کو خاندانی نظام کا محافظ کہتا ہے، لیکن اس خاندانی نظام میں اکثر والدین اپنی اولاد کو محض ایک سہارا، ایک ضمانت یا ایک سرمایہ سمجھتے ہیں۔ یہ سوچ کہ ’’ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے اس لیے تم پر ہمارا حق ہے‘‘ ایک زنجیر بن کر رہ گئی ہے جو نسل در نسل بچوں کو غلامی میں جکڑے رکھتی ہے۔

    اکثر والدین بچوں کو تعلیم بھی اس نیت سے دلاتے ہیں کہ کل کو یہی اولاد ان کی بڑھاپے کی لاٹھی ہو، ان کی محرومیوں کا مداوا کرے اور ان کی ذمہ داریوں کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھا لے۔ بچہ ہو یا بچی — کوئی اس بوجھ سے آزاد نہیں ہو سکتا۔ خواہ اس کے خواب کچلے جائیں، اس کی خواہشات روندی جائیں، یا وہ ذہنی اور جسمانی اذیت سے گزرتا رہے — اس پر فرض ہے کہ وہ والدین کی نااہلی اور غیر ذمہ داری کی قیمت اپنی صحت، اپنی زندگی اور اپنی آزادی سے چکاتا رہے۔

    اس ظلم کو ’’والدین کا حق‘‘ کہہ کر جسٹیفائی کیا جاتا ہے۔ وہ والدین جو خود اپنی زندگی کو بہتر بنانے کی ذمہ داری اٹھانے سے بھاگ جاتے ہیں، وہی اپنے بچوں کی قربانیوں کو اپنا حق سمجھ کر بے حسی سے تماشہ دیکھتے ہیں۔ بچے دل پر پتھر رکھ کر اپنی خوشیاں دفن کر دیتے ہیں، مگر والدین کی بھوک پھر بھی نہیں مٹتی۔

    سوال یہ ہے کہ اگر اولاد ہمارے سہارے کی ضرورت ہے تو کیا ہمیں ان پر بوجھ ڈالنے کا حق ہے؟ کیا ان کی تعلیم، ان کی محنت اور ان کا کمال صرف اس لیے ہے کہ وہ والدین کی ناکامیوں کا بوجھ اٹھائیں؟ کیا یہ انصاف ہے کہ ایک شخص کی پوری زندگی اس امید میں گزر جائے کہ شاید ایک دن وہ اپنی ذات کے لیے بھی جی سکے مگر وہ دن کبھی نہ آئے؟

    ہمیں ماننا ہوگا کہ اولاد پر حق محبت، تربیت اور رہنمائی کا ہے — غلامی کا نہیں۔ اولاد کو اپنی زندگی اپنی مرضی سے جینے کا حق ہے۔ ان کی تعلیم ان کا حق ہے، اس پر والدین کی خدمت کے نام پر قبضہ نہیں۔ ہمیں اپنی سوچ کو بدلنا ہوگا کہ اگر ہم نے زندگی دی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ان کی زندگی کو اپنی خود غرضی سے برباد کر دیں۔

    اگر ہم واقعی اپنی اولاد سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں انہیں محبت دینی ہوگی بوجھ نہیں۔ انہیں سہارا دینا ہوگا . سہارے کے نام پر ان کے کندھے توڑنے نہیں۔ ورنہ ہماری آنے والی نسلیں بھی اسی غلامی کو اپنا مقدر سمجھ کر آگے منتقل کرتی رہیں گی، اور یہ درد کبھی ختم نہیں ہوگا۔

  • نیویارک: پاکستانی امریکن امیدوار عامر سلطان کو شکست، غزہ جنگ کا معاملہ انتخابی نتائج پر اثرانداز

    نیویارک: پاکستانی امریکن امیدوار عامر سلطان کو شکست، غزہ جنگ کا معاملہ انتخابی نتائج پر اثرانداز

    امریکی اقتصادی مرکز نیویارک کے حلقہ نمبر دس سے ریپبلکن پارٹی کے پاکستانی نژاد امیدوار عامر سلطان ایک بار پھر شکست سے دوچار ہوگئے۔ اس بار انہیں فلسطین-اسرائیل تنازع اور غزہ جنگ کے پس منظر میں سیاسی ماحول کے باعث شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ڈیموکریٹک امیدوار اسٹیو اسٹرن نے، جو گزشتہ 16 برس سے حلقے کی نمائندگی کر رہے ہیں، باآسانی جیت حاصل کی اور اس بار دوگنے مارجن سے کامیابی حاصل کی۔ اسٹرن نے 33,200 ووٹ حاصل کیے، جو کل ووٹوں کا 55.8 فیصد بنتا ہے، جبکہ عامر سلطان نے 26,241 ووٹ (44.1 فیصد) حاصل کیے اور 7,000 ووٹوں کے فرق سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
    عامر سلطان نے شکست کو خوشدلی سے تسلیم کرتے ہوئے اپنے ووٹرز اور سپورٹرز کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان تمام لوگوں کے ممنون ہیں جنہوں نے انتخابی مہم میں ان کا ساتھ دیا اور انہیں ووٹ دینے کے لیے باہر نکلے۔ ریپبلکن پارٹی کے ذرائع کے مطابق، اس بار انتخابات میں غزہ جنگ اور مذہبی کارڈ کا استعمال کیا گیا جس نے انتخابی نتائج پر گہرا اثر ڈالا۔ لانگ آئی لینڈ کا یہ حلقہ یہودیوں کی بڑی آبادی پر مشتمل ہے، اور ڈیموکریٹک امیدوار اسٹیو اسٹرن مذہبی لحاظ سے یہودی ہیں۔ ایک ریپبلکن رہنما نے دعویٰ کیا کہ اسٹرن کے حامیوں نے اشتہاری مہم کے ذریعے عامر سلطان کو انتہاپسند اور خطرناک قرار دے کر عوامی حمایت حاصل کی، جس سے انہیں انتخابی فائدہ پہنچا۔ ریپبلکن رہنما کے مطابق، اس اشتہاری مہم نے یہودی ووٹرز کو کسی اور امیدوار کی حمایت سے باز رکھا۔ تاہم اس دعوے کی تصدیق کے لیے کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کیا گیا۔

  • امریکا میں ٹرمپ کی دوبارہ صدارت پر طالبان کی امیدیں

    امریکا میں ٹرمپ کی دوبارہ صدارت پر طالبان کی امیدیں

    امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کی دوبارہ صدارت کے انتخاب کے بعد افغانستان کی طالبان حکومت نے یہ امید ظاہر کی ہے کہ نئی امریکی انتظامیہ حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرے گی۔ افغان وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی نے کہا کہ موجودہ حالات کے پیش نظر دونوں ممالک کے تعلقات کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اب دونوں ممالک کے تعلقات میں واضح پیش رفت ہوگی اور اس کے ذریعے ایک نئے دور کا آغاز ممکن ہوگا۔یاد رہے کہ امریکا اور طالبان نے 2020 میں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امن معاہدے پر دستخط کیے تھے، جو کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے عہدِ صدارت میں عمل میں آیا تھا۔ افغان وزارت خارجہ نے مزید یہ بھی امید ظاہر کی کہ ٹرمپ کے دوبارہ صدر بننے سے غزہ اور لبنان میں جاری لڑائی رک سکے گی اور وہ دنیا کو جنگ و جدل سے پاک کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

  • پی ٹی آئی رہنماؤں کی ٹرمپ ٹیم سے ملاقاتیں، عمران خان کے معاملے میں ترجیح کی یقین دہانی، رؤف حسن کا انکشاف

    پی ٹی آئی رہنماؤں کی ٹرمپ ٹیم سے ملاقاتیں، عمران خان کے معاملے میں ترجیح کی یقین دہانی، رؤف حسن کا انکشاف

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیئر رہنماؤں رؤف حسن اور ذلفی بخاری نے امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے مختلف بیانات دیے ہیں، جس میں پی ٹی آئی کے کردار اور ٹرمپ کی کامیابی پر اظہار خیال کیا گیا ہے۔رؤف حسن کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی امریکہ میں ٹرمپ کی ٹیم سے دو یا تین میٹنگز ہو چکی ہیں، جن میں عمران خان کے معاملے کو ترجیح دینے کی ضمانت دی گئی تھی۔ تاہم، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان میٹنگز سے متعلق ان کے پاس کوئی خاص معلومات نہیں ہیں اور نہ ہی ٹرمپ کی ٹیم سے کسی براہِ راست رابطے کا کوئی امکان ہے۔ رؤف حسن نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی نے کبھی یہ توقع نہیں رکھی تھی کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی صدر بننے سے عمران خان کی رہائی کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہم نے نہ تو ٹرمپ سے کوئی خاص امیدیں وابستہ کی تھیں اور نہ ہی ایسا کچھ توقع کیا تھا۔” انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ عمران خان کی رہائی کے حوالے سے اسٹیبلشمنٹ سے کوئی خاص رابطہ نہیں تھا، بلکہ پی ٹی آئی نے عدلیہ، پارلیمان اور پُرامن احتجاج کے ذریعے اپنی جدوجہد جاری رکھی۔ رؤف حسن کا کہنا تھا کہ پارٹی میں کبھی بھی ٹرمپ کے حوالے سے کوئی خاص بات چیت نہیں ہوئی۔
    واضح رہے کہ امریکہ کے حالیہ صدارتی انتخابات میں تمام 50 ریاستوں کی پولنگ کے نتائج کے مطابق ری پبلکنز کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے کامیابی حاصل کی ہے، اور انہوں نے ڈیموکریٹس کی امیدوار کملا ہیرس کو شکست دے کر دوبارہ امریکی صدر منتخب ہونے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔ ٹرمپ کی کامیابی کو ایک بڑی جیت اور جمہوریت کی فتح کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے ٹرمپ کی کامیابی پر اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے یہ امید ظاہر کی ہے کہ ان کی قیادت میں عالمی سطح پر امن و خوشحالی کے لیے اقدامات کیے جائیں گے، اور خاص طور پر مشرق وسطیٰ کے مسائل پر مثبت پیشرفت ہوگی۔رؤف حسن اور ذلفی بخاری کے بیانات نے پی ٹی آئی کی جانب سے ٹرمپ کے حوالے سے غیر رسمی حمایت کو واضح کیا ہے، تاہم ان کے مطابق پارٹی نے ٹرمپ سے کوئی خاص سیاسی مفادات نہیں جڑے ہیں۔

  • ہمیں نہیں لگتا کہ ٹرمپ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے کہیں گے، خواجہ آصف

    ہمیں نہیں لگتا کہ ٹرمپ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے کہیں گے، خواجہ آصف

    اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ امریکا میں پاکستان کے مقابلے میں زیادہ مضبوط اسٹیبلشمنٹ ہے اور انہیں نہیں لگتا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی رہائی کے لیے کوئی قدم اٹھائیں گے۔خواجہ محمد آصف نے اپنے حالیہ بیان میں کہا کہ امریکا میں اسٹیبلشمنٹ کی حکومت موجود ہے جو پاکستان سے زیادہ طاقتور ہے، اور ٹرمپ کے حالیہ انتخاب کو امریکی عوام کی مرضی کے مطابق تسلیم کیا جانا چاہیے۔ وزیر دفاع نے مزید کہا کہ امریکی ایوانِ نمائندگان کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے مطالبات سامنے آنے کے باوجود، وہ اس بات پر یقین نہیں رکھتے کہ ٹرمپ اس مطالبے کے حق میں آواز اٹھائیں گے۔انہوں نے کہا کہ "ہمیں نہیں لگتا کہ ٹرمپ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے کہیں گے، ہمیں 15 سے 20 دن تک انتظار کرنا چاہیے کہ اس پر ٹرمپ کیا موقف اختیار کرتے ہیں۔” خواجہ آصف نے یہ بھی کہا کہ اس وقت تک عالمی سیاست اور تعلقات میں امریکا کے مفادات کو اہمیت دی جاتی ہے، اور اگر امریکی مفادات کو تحفظ دینے کے لیے جنگیں جاری رہیں تو اس میں پاکستان کی کوئی حصہ داری نہیں ہو سکتی۔
    وزیر دفاع نے اس موقع پر لبنان اور فلسطین میں امریکا کی سربراہی میں جاری جنگوں کا بھی ذکر کیا، اور کہا کہ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں وعدہ کیا تھا کہ وہ جنگوں کا خاتمہ کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "اگر ٹرمپ جنگوں کا خاتمہ کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں، تو اقوام متحدہ اور دیگر عالمی پلیٹ فارمز کے ذریعے اس پر مزید راستے تلاش کیے جا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر امریکا اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے جنگوں میں مداخلت جاری رکھے گا، تو پاکستان بھی اپنے مفادات کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔ وزیر دفاع نے واضح کیا کہ کوئی بھی خود مختار ملک اپنے تعلقات کو ایک شخص کے لیے خراب نہیں کرے گا، اور اس کی سیاست میں داخلی مداخلت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔خواجہ محمد آصف نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پچھلی شکست پر بھی تبصرہ کیا اور کہا کہ "ٹرمپ نے اپنی ہار کے بعد کیپٹل ہل پر حملہ کیا تھا، جس کے نتیجے میں امریکا میں سیکڑوں افراد کو قید کی سزائیں دی گئیں۔” وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کی سیاست اور ان کے فیصلے ہمیشہ عالمی سطح پر اثرات مرتب کرتے ہیں، اور پاکستان ان فیصلوں کو بڑی احتیاط سے دیکھ رہا ہے۔