Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • پاکستان اسٹاک ایکسچینج: 100 انڈیکس میں 1893 پوائنٹس کا اضافہ

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج: 100 انڈیکس میں 1893 پوائنٹس کا اضافہ

    کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں کاروبار کے دوران مثبت رحجان دیکھنے میں آیا اور 100 انڈیکس میں قابل ذکر بحالی ہوئی۔ دو دن کی گراوٹ کے بعد انڈیکس میں ایک ہزار 893 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس سے یہ 90 ہزار 859 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔کاروباری دن کے دوران 100 انڈیکس کا اتار چڑھاؤ 2 ہزار 280 پوائنٹس کے بینڈ میں رہا۔ دن کی کم ترین سطح 88 ہزار 852 پوائنٹس جبکہ بلند ترین سطح 91 ہزار 133 پوائنٹس رہی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرمایہ کاروں نے اعتماد کے ساتھ خریداری میں دلچسپی لی، جس سے مارکیٹ میں نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج تقریباً 46 کروڑ 50 لاکھ شیئرز کے سودے ہوئے، جن کی مالیت 23 ارب روپے رہی۔ اس بھاری سرمایہ کاری سے مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا اور یہ 171 ارب روپے بڑھ کر 11 ہزار 707 ارب روپے تک پہنچ گئی۔ یہ اضافہ سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی اور مارکیٹ کے استحکام کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔
    تجزیہ کاروں کے مطابق، مارکیٹ کی بحالی کا اہم سبب بین الاقوامی سطح پر معاشی عدم استحکام میں کمی اور ملکی معیشت کے بہتر اشاریے ہیں۔ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور دیگر اہم مالیاتی عوامل بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر اثر انداز ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ، حکومت کی جانب سے سرمایہ کاروں کے لیے مختلف مراعات کا اعلان اور پاکستان میں کاروباری ماحول کو بہتر بنانے کے اقدامات نے بھی مارکیٹ میں مثبت اثر ڈالا ہے۔

  • ایمل ولی خان کا تحریک انصاف پر دھاندلی اور وسائل کے غلط استعمال کا الزام

    ایمل ولی خان کا تحریک انصاف پر دھاندلی اور وسائل کے غلط استعمال کا الزام

    عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے خیبر پختونخوا میں منعقدہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اہم سیاسی اور انتخابی نکات پر کھل کر بات کی۔ چار سدہ میں ہونے والے اس جلسے میں جے یو آئی رہنما محمد احمد خان کی عوامی نیشنل پارٹی میں شمولیت کا اعلان بھی کیا گیا، جسے پارٹی کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا کہ عام انتخابات میں تحریک انصاف کے امیدواروں کو دہشت گرد اور طالبان کی مدد سے کامیاب کیا گیا، اور تحریک انصاف کے بیلٹ بکس بھرے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے سینیٹ اجلاس میں تحریک انصاف کو انتخابی آڈٹ کا چیلنج دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ انتخابی حلقے کھولے جائیں تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ ایمل ولی خان نے دعویٰ کیا کہ عام انتخابات میں ان کا مینڈیٹ چوری کیا گیا تھا، تاہم تین ماہ بعد باجوڑ کی صوبائی سیٹ وہ جیت چکے ہیں۔
    سینیٹر ایمل ولی خان نے خیبر پختونخوا کے وسائل کے حوالے سے بھی شدید تنقید کی اور کہا کہ صوبے کے وسائل تخت پنجاب کی جنگ میں استعمال کیے جا رہے ہیں۔

    انہوں نے خیبرپختونخوا کے موجودہ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کو "ڈائیلاکی وزیر اعلیٰ” قرار دیا اور چیلنج کیا کہ وہ صوبے میں ایک بھی قابل ذکر پراجیکٹ دکھا دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا تقریباً 1800 ارب روپے کا مقروض ہے، اور پی ٹی آئی کی حکومت اس قرضے کو 2800 ارب روپے تک بڑھا دے گی۔ایمل ولی خان نے تحریک انصاف پر شدید تنقید کرتے ہوئے مزید کہا کہ پختون عوام کو عمران خان کی رہائی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ گزشتہ گیارہ سالوں سے ان کو انتخابات میں شکست دی جا رہی ہے اور ریاستی ادارے بار بار عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمان میں داخلے کے راستے میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی پارٹی کے دو سینیٹرز کو پارلیمان کے دیگر تمام سینیٹرز سے زیادہ مؤثر اور بھاری قرار دیا۔عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ کا یہ بیان پاکستانی سیاست میں ایک نیا باب کھول سکتا ہے، خاص طور پر خیبر پختونخوا میں وسائل کی تقسیم اور انتخابات میں شفافیت کے حوالے سے پیدا ہونے والے سوالات میں مزید شدت کا باعث بن سکتا ہے۔ ان کی باتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی آنے والے انتخابات میں خیبر پختونخوا کے عوام کے حقوق کے لیے ایک مضبوط مؤقف اختیار کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

  • خیبر پختونخوا: بجلی ترسیل کے لیے 8 ارب کا معاہدہ

    خیبر پختونخوا: بجلی ترسیل کے لیے 8 ارب کا معاہدہ

    خیبر پختونخوا حکومت نے اپنی بجلی کی ترسیلی نظام کو بہتر بنانے اور صوبے میں بجلی کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لئے نجی کمپنی کے ساتھ ایک اہم معاہدہ کر لیا ہے۔ وزیرِ اعلیٰ ہاؤس میں منعقد ہونے والی تقریب میں خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈا پور کی موجودگی میں پیڈو (پختونخوا انرجی ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن) کے حکام اور نجی کمپنی کے نمائندوں نے معاہدے پر دستخط کیے۔اس معاہدے کے تحت ایک طویل اور جدید 132 سے 220 کے وی کی ٹرانسمیشن لائن بچھائی جائے گی جو کہ ملتان سے مدین تک بجلی کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنائے گی۔ حکام کے مطابق اس منصوبے پر کل 8 ارب روپے کی لاگت آئے گی اور اسے ڈیڑھ سال کی مدت میں مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ منصوبے کی تکمیل سے صوبے کو بجلی کے ترسیلی نظام میں نمایاں بہتری حاصل ہوگی اور عوام اور صنعتوں کی بڑھتی ہوئی بجلی کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے گا۔

    84 میگاواٹ کے ملتان ہائیڈرو پاور پراجیکٹ سے پیدا ہونے والی بجلی نیشنل گرڈ میں شامل کی جائے گی یا پھر اسے براہ راست صنعتوں کو فراہم کیا جائے گا تاکہ صوبے کی معاشی ترقی کو مزید فروغ ملے۔ پیڈو کے حکام نے مزید بتایا کہ سوات میں بھی مختلف منصوبوں سے پیدا ہونے والی بجلی کو اسی ٹرانسمیشن لائن کے ذریعے نیشنل گرڈ اور صنعتوں کو مہیا کیا جائے گا، جس سے صوبے کو بجلی کی فراہمی میں خودکفالت حاصل ہو گی اور سالانہ 7 ارب روپے کی آمدن ممکن ہو سکے گی۔حکام نے بتایا کہ اس منصوبے کے دوسرے مرحلے میں سوات کوریڈور ٹرانسمیشن لائن کو مزید وسعت دینے کا کام کیا جائے گا، جس کے تحت مدین سے چکدرہ تک 80 کلومیٹر طویل ٹرانسمیشن لائن بچھائی جائے گی۔ یہ مرحلہ مکمل ہونے کے بعد سوات اور قریبی علاقوں میں بجلی کی دستیابی میں مزید بہتری آئے گی اور وہاں کی مقامی صنعتوں کو بھی مستفید کیا جا سکے گا۔یہ معاہدہ خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے صوبے میں توانائی کے شعبے میں خود مختاری کے لئے ایک اہم پیش رفت ہے، جس سے نہ صرف بجلی کی پیداوار میں اضافہ ہو گا بلکہ اس کی ترسیل کا نظام بھی مضبوط ہو گا۔

  • ظہیر عباس کی پاکستان کرکٹ بورڈ کے گورننگ بورڈ میں شمولیت

    ظہیر عباس کی پاکستان کرکٹ بورڈ کے گورننگ بورڈ میں شمولیت

    پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے سابق ٹیسٹ کرکٹر اور لیجنڈری بیٹر ظہیر عباس کو اپنے گورننگ بورڈ میں شامل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب پی سی بی کی جانب سے اپنے گورننگ بورڈ کی تشکیل نو کی گئی۔ ظہیر عباس کی شمولیت کے بعد گورننگ بورڈ کے اراکین کی تعداد 13 ہوگئی ہے، جس میں چیئرمین بھی شامل ہیں۔ظہیر عباس، جو اپنی شاندار کرکٹ کیریئر کے لیے جانے جاتے ہیں، اب پی سی بی کے گورننگ بورڈ میں واحد کرکٹر کے طور پر شامل ہوں گے۔ وہ اسٹیٹ بینک کی نمائندگی کریں گے، جس سے بورڈ میں بینکنگ اور مالی معاملات کے تجربے کا اضافہ ہوگا۔ ان کی شمولیت کرکٹ کے میدان میں ان کے تجربے اور مہارت کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہے، جو کہ پاکستان کرکٹ کے مستقبل کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
    ظہیر عباس نے اپنی کرکٹ کیریئر میں متعدد ریکارڈ قائم کیے اور انہیں نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی کرکٹ میں بھی ایک ممتاز مقام حاصل ہے۔ ان کی شمولیت پی سی بی کے گورننگ بورڈ میں ایک مثبت تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے، جو کہ پاکستان کرکٹ کی بہتری اور ترقی کے لیے نئے امکانات کی راہیں ہموار کر سکتی ہے۔یہ اقدام اس بات کا عکاس ہے کہ پی سی بی نے اپنی گورننگ باڈی میں تجربہ کار اور نامور شخصیات کو شامل کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ وہ مختلف چیلنجز کا سامنا کر سکیں اور پاکستانی کرکٹ کو عالمی سطح پر مزید مضبوط بنا سکیں۔ ظہیر عباس کی شمولیت پر کرکٹ کے حلقوں میں خوشی کا اظہار کیا جا رہا ہے، اور امید کی جا رہی ہے کہ ان کی موجودگی سے بورڈ کی حکمت عملی اور فیصلے مزید موثر ثابت ہوں گے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کی گورننگ باڈی میں یہ تبدیلی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کرکٹ کا مستقبل روشن ہے اور اسے مزید ترقی کی راہوں پر گامزن کرنے کے لیے بہترین رہنماؤں کی ضرورت ہے۔

  • اعظم سواتی  عدالتی ریمانڈ پر اڈیالہ جیل منتقل

    اعظم سواتی عدالتی ریمانڈ پر اڈیالہ جیل منتقل

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما اور سابق سینیٹر اعظم سواتی کو مختلف احتجاجی مقدمات میں جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔ انسدادِ دہشت گردی عدالت اور مقامی عدالتوں نے پی ٹی آئی احتجاج سے متعلق متعدد مقدمات میں اعظم سواتی کو جوڈیشل ریمانڈ پر بھیجنے کا حکم دیا، جس کے بعد انہیں جیل بھیج دیا گیا۔اعظم سواتی کو انسدادِ دہشت گردی عدالت کے روبرو پیش کیا گیا جہاں جج طاہر عباس سپرا نے ان کے کیس کی سماعت کی۔ اس موقع پر اعظم سواتی کی جانب سے ان کے وکیل علی بخاری عدالت میں موجود تھے جبکہ پولیس انہیں اسلام آباد ہائیکورٹ سے انسداد دہشت گردی عدالت لے کر آئی۔ پولیس نے عدالت کو بتایا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے اعظم سواتی کے جسمانی ریمانڈ کو کالعدم قرار دے کر انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر بھیجنے کا حکم دیا تھا۔
    انسداد دہشت گردی عدالت کے فیصلے کے بعد، مقامی عدالتوں میں بھی اعظم سواتی کے خلاف درج مختلف مقدمات میں انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجا گیا۔ تھانہ مارگلہ کی ایف آئی آر سمیت متعدد دیگر مقدمات میں بھی عدالت نے انہیں جوڈیشل کر دیا۔ اعظم سواتی کو اس کیس کے بعد مالی معاونت سے متعلق ایک کیس میں بھی جوڈیشل مجسٹریٹ حمیرا افضل کے روبرو پیش کیا گیا، جہاں اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات کے تحت انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔اعظم سواتی کے وکلاء نے عدالت کو بتایا کہ ان کے مؤکل کو 5 اکتوبر سے گرفتار کیا گیا ہے اور ان پر 12 مختلف مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ انہوں نے عدالت کو یہ بھی آگاہ کیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کروائی گئی تفصیلات میں ان مقدمات کا ذکر نہیں تھا، جس پر عدالت نے تمام مقدمات کا جائزہ لیتے ہوئے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا۔
    عدالت نے اعظم سواتی کے خلاف درج سات مقدمات میں ضمانت کی درخواست پر سماعت بھی کی اور تمام وکلاء کو ہدایت دی کہ وہ کل دلائل دیں۔ عدالت کی جانب سے کیس میں مزید پیش رفت کی امید کی جا رہی ہے اور اعظم سواتی کے وکلاء ان کی ضمانت کے حق میں دلائل پیش کرنے کے لیے تیار ہیں۔اس کارروائی کے نتیجے میں اعظم سواتی کو اب اڈیالہ جیل میں رکھا گیا ہے، جہاں انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر رکھا جائے گا۔ عدالت کی جانب سے فیصلہ آئندہ چند دنوں میں متوقع ہے جس سے اعظم سواتی کے کیس میں مزید پیش رفت کی امید کی جا رہی ہے۔

  • باجوڑ اسپورٹس کمپلیکس میں کرکٹ فائنل کے دوران جھگڑا، ایک شخص جاں بحق، متعدد زخمی

    باجوڑ اسپورٹس کمپلیکس میں کرکٹ فائنل کے دوران جھگڑا، ایک شخص جاں بحق، متعدد زخمی

    باجوڑ اسپورٹس کمپلیکس میں کرکٹ لیگ کے فائنل میچ میں ایک تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب امپائر کے ایک فیصلے پر کھلاڑیوں اور شائقین میں تصادم ہوگیا۔ واقعہ اس وقت پیش آیا جب میچ کے دوران ایک کھلاڑی کو تھرڈ امپائر نے آؤٹ قرار دیا، جس پر دونوں ٹیموں کے حامی مشتعل ہوگئے اور میدان میں گھمسان کا رن پڑ گیا۔دونوں ٹیموں کے کھلاڑی اور شائقین ایک دوسرے پر لاتیں اور گھونسے برسانے کے ساتھ ساتھ کرسیاں بھی پھینکتے رہے۔ مشتعل تماشائی حد سے گزر گئے اور وی آئی پی انکلوژر میں داخل ہو کر توڑ پھوڑ کی، جس سے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔ انتظامیہ اور اسٹیڈیم سیکیورٹی کے اہلکار ابتدائی طور پر صورتحال پر قابو پانے میں ناکام رہے، جس کے باعث جھگڑا شدت اختیار کر گیا۔
    جھگڑے کے دوران ایک شخص اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا جبکہ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی ایس پی) سمیت تین افراد زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ اس ناخوشگوار واقعے نے میچ دیکھنے کے لیے آنے والے تماشائیوں میں خوف و ہراس کی فضا قائم کر دی۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی فرنٹیئر کور (ایف سی) اور باجوڑ پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور حالات کو قابو میں کرلیا۔ سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے مشتعل ہجوم کو منتشر کیا اور جھگڑے میں ملوث 6 افراد کو حراست میں لے لیا۔
    پولیس نے ابتدائی کارروائی کے بعد جھگڑے میں ملوث افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ واقعے کے بعد اسپورٹس کمپلیکس کی سیکیورٹی بڑھانے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں تاکہ آئندہ کسی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔باجوڑ کے مقامی حلقے اس افسوسناک واقعے کی مذمت کر رہے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ کھیلوں کے مقابلوں کے دوران مناسب سیکیورٹی انتظامات کیے جائیں تاکہ شائقین اور کھلاڑیوں کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔

  • بشریٰ بی بی کا زمان پارک میں قیام مزید بڑھ گیا، خیبرپختونخوا واپسی میں مزید تاخیر

    بشریٰ بی بی کا زمان پارک میں قیام مزید بڑھ گیا، خیبرپختونخوا واپسی میں مزید تاخیر

    لاہور: پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے لاہور کے علاقے زمان پارک میں اپنا قیام مزید چند دن بڑھا لیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، وہ مزید 2 سے 3 روز لاہور میں قیام کریں گی، جس کے بعد ان کی خیبرپختونخوا واپسی متوقع ہے۔ذرائع کے مطابق، بشریٰ بی بی کا قیام طبی وجوہات کی بنا پر بڑھایا گیا ہے۔ گزشتہ روز انہوں نے ایک ڈینٹسٹ سے اپنے دانت چیک کروائے تھے، جہاں معالج نے انہیں لاہور میں کچھ دن مزید رکنے کا مشورہ دیا۔ یہی وجہ ہے کہ بشریٰ بی بی نے فوری طور پر خیبرپختونخوا واپس جانے کے بجائے لاہور میں قیام بڑھانے کا فیصلہ کیا۔بشریٰ بی بی اس وقت زمان پارک میں مقیم ہیں، لیکن ان کا کوئی سیاسی شیڈول نہیں ہے اور نہ ہی کسی پارٹی رہنما سے ملاقات طے ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ وہ یہاں صرف اپنے ذاتی معاملات نمٹا رہی ہیں اور مختصر قیام کے بعد خیبرپختونخوا روانہ ہو جائیں گی۔یہ قیام بڑھانا اگرچہ غیر متوقع تھا، لیکن اس کا مقصد طبی رہنمائی پر عمل کرتے ہوئے صحت کو بہتر بنانا ہے۔

  • سینیٹر ایمل ولی خان کا 18ویں آئینی ترمیم پر سوال: "صوبوں کو کتنا حق ملا؟

    سینیٹر ایمل ولی خان کا 18ویں آئینی ترمیم پر سوال: "صوبوں کو کتنا حق ملا؟

    اسلام آباد: عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اور سینیٹر ایمل ولی خان نے سینیٹ کے اجلاس میں 18ویں آئینی ترمیم پر اہم سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اس ترمیم پر مکمل عمل درآمد نہیں ہوا اور صوبوں کو اختیارات کی منتقلی بھی متوقع معیار کے مطابق نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ "بجلی پر جتنا خیبر پختونخوا کا حق ہے، وہ اسے کتنا ملا ہے؟” انہوں نے سوال کیا کہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد بھی پنجاب کی حالت میں خاص فرق نہیں آیا، جبکہ دیگر صوبے ابھی بھی معاشی اور انتظامی مشکلات سے دوچار ہیں۔سینیٹ اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے بھی 18ویں ترمیم پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ صوبوں کو اختیارات دینے کے بعد ان کی انتظامی صلاحیت کو بڑھانا ضروری تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ جو صوبے زیادہ منظم اور مضبوط انتظامی صلاحیت رکھتے ہیں، وہ ترقی کی راہ پر آگے بڑھتے ہیں جبکہ باقی پیچھے رہ جاتے ہیں۔ احسن اقبال نے مزید کہا کہ صوبوں کی انتظامی صلاحیت کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ موثر انداز میں اختیارات کا استعمال کر سکیں۔
    انہوں نے وضاحت کی کہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد 17 محکمے وفاق سے صوبوں کو منتقل کیے گئے، جس سے صوبے مزید خود مختار اور طاقتور ہوئے۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ صوبوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کریں اور ضلعی اور مقامی حکومتوں کو مضبوط بنائیں تاکہ عام شہریوں کو براہ راست فائدہ پہنچ سکے۔احسن اقبال نے بلوچستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وفاق کی جانب سے اس صوبے کو دیے جانے والے فنڈز عوام کی بہتری کے لیے استعمال ہو رہے ہیں اور بلوچستان میں سروس ڈیلیوری میں بہتری کے لیے مقابلہ ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہمارا ویژن ہے کہ بلوچستان کی پسماندگی کو ترقی میں تبدیل کریں اور اسے ملک کے دیگر حصوں کے ساتھ جوڑیں۔
    انہوں نے گوادر اور کوئٹہ کے درمیان سفری سہولتوں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وفاق نے تقریباً 600 کلو میٹر سڑک بنا کر یہ سفر 2 دن سے کم کر کے 7 گھنٹے پر لا دیا ہے، اور اس عمل کو جاری رکھا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ترقی کے عمل میں مرحلہ وار تبدیلیاں آئیں گی، پہلے ہائی وے، پھر ایکسپریس وے اور بالآخر موٹر وے تعمیر کی جاتی ہیں۔سینیٹر ایمل ولی خان کے سوالات اور احسن اقبال کے جوابات نے سینیٹ میں 18ویں آئینی ترمیم کے بعد صوبائی خود مختاری اور اختیارات کی منتقلی کے عمل کو مزید مباحثے کا موضوع بنا دیا ہے۔

  • وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا  کی حکومتی فسطائیت اور پی ٹی آئی ورکرز کی گرفتاریوں کی شدید مذمت

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی حکومتی فسطائیت اور پی ٹی آئی ورکرز کی گرفتاریوں کی شدید مذمت

    پشاور: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا، علی امین گنڈا پور نے ملکی سسٹم کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ورکرز کو خوفزدہ کرنے کی کوششوں کی سخت مذمت کی ہے۔ انہوں نے یہ بات پشاور میں ایک میڈیا کانفرنس کے دوران کہی، جہاں انہوں نے حالیہ واقعات اور اپنی پارٹی کے ورکرز کے ساتھ ہونے والے سلوک پر روشنی ڈالی۔علی امین گنڈا پور نے کہا کہ پی ٹی آئی کے کئی ورکرز کو گرفتار کیا گیا ہے، حالانکہ ان کا مقصد ہمیشہ پرامن احتجاج رہا ہے۔ "ہم پرامن تھے، اور یہ ہمارا حق ہے۔ لیکن ہمیں فسطائیت اور شیلنگ کا نشانہ بنایا گیا، جس میں ربڑ کی گولیاں اور دیگر ہتھکنڈے استعمال کیے گئے،
    انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے ورکرز نے بھرپور مزاحمت کی، اور انہوں نے اپنے سرکاری اہلکاروں کا بھی ذکر کیا جو ان کے ساتھ کھڑے رہے۔ "ہمارے 99 فیصد گرفتار ورکرز اب رہا ہو چکے ہیں،” انہوں نے کہا، اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ حکومت نے گرفتاریوں کے دوران اوچھے ہتھکنڈے استعمال کیے، جن میں ایک تھانے سے دوسرے تھانے پر مقدمات درج کرنا شامل ہے۔وزیر اعلیٰ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جو سرکاری لوگ اب بھی زیر حراست ہیں، ان کی پیشی 5 تاریخ کو ہوگی اور ان کے بھی جلد رہا ہونے کی امید ہے۔ گنڈا پور نے اس سلسلے میں کہا، "لوگوں کو تنگ کیا جا رہا ہے، اور 9 مئی سے اب تک پی ٹی آئی کے خلاف ایک سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔” انہوں نے بتایا کہ "بانی پی ٹی آئی جیل میں ہیں، جبکہ بشریٰ بی بی رہا ہو چکی ہیں۔ گنڈا پور نے کہا کہ حکومتی سسٹم کی کوششیں لوگوں میں خوف پیدا کرنے کی تھیں، لیکن اب یہ بے نقاب ہو چکا ہے۔ انہوں نے اپنے ورکرز اور حامیوں کو یقین دلایا کہ وہ ان کی حمایت کرتے رہیں گے اور کسی بھی ظالم نظام کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں گے۔

  • مہنگائی کی سالانہ شرح میں اضافہ، 14.45 فیصد تک پہنچ گئی

    مہنگائی کی سالانہ شرح میں اضافہ، 14.45 فیصد تک پہنچ گئی

    اسلام آباد: وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق، ملک میں مہنگائی کی سالانہ شرح 14.45 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے، جو کہ ایک ہفتے کے دوران 0.10 فیصد کا اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ حالیہ ہفتے میں مختلف اشیا کی قیمتوں میں نمایاں تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں، جن میں سے 12 اشیا مہنگی، 12 کی قیمتیں کم اور 27 اشیا کی قیمتیں مستحکم رہیں۔ گزشتہ ہفتے انڈے کی قیمت فی درجن 10 روپے 47 پیسے بڑھ گئی، جبکہ لہسن کی قیمت فی کلو 17 روپے 56 پیسے مہنگی ہوئی۔ اس کے علاوہ، گھریلو استعمال کی ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں بھی 60 روپے 68 پیسے کا اضافہ ہوا۔ مہنگائی کی دیگر متاثرہ اشیا میں جلانے کی لکڑی، تازہ دودھ، دہی اور بیف شامل ہیں۔دوسری جانب، کچھ اشیا کی قیمتوں میں کمی بھی دیکھنے میں آئی۔ ٹماٹر کی قیمت فی کلو 16 روپے 43 پیسے سستی ہوئی، جبکہ چکن کی قیمت فی کلو 45 روپے 86 پیسے کم ہوئی۔ اس کے علاوہ، چینی، پیاز، گڑ، اور بیس کلو آٹے کا تھیلا بھی سستے ہونے والی اشیا میں شامل ہیں۔
    جن 27 اشیا کی قیمتیں مستحکم رہیں ان میں چاول، بریڈ، سگریٹس اور کوکنگ آئل شامل ہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ مہنگائی کی مجموعی صورت حال خطرناک حد تک پریشان کن نہیں ہے۔ آٹے سمیت متعدد ضروری اشیا کی قیمت میں کمی واقع ہوئی ہے، جس سے عوام کو کسی حد تک سکون کا سانس لینے کا موقع ملا ہے۔معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے کی جانے والی اصلاحات اور اقدامات مہنگائی پر قابو پانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، لیکن مزید توجہ کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو بنیادی ضروریات کی اشیا کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ یہ صورتحال حکومت کے لیے چیلنج کا باعث بنی ہوئی ہے، اور اسے عوامی خدشات کو دور کرنے کے لیے مؤثر حکمت عملی وضع کرنے کی ضرورت ہے۔