Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • پاک-ترک تعلقات میں نئی جہت: وزیر داخلہ اور ترک سفیر کی اہم ملاقات

    پاک-ترک تعلقات میں نئی جہت: وزیر داخلہ اور ترک سفیر کی اہم ملاقات

    پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دوستانہ تعلقات میں ایک نیا باب شامل ہوا جب ترکیہ کے سفیر ڈاکٹر مہمت پاچاجی نے وزارت داخلہ کا دورہ کیا۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سفیر کا گرم جوشی سے استقبال کیا اور دونوں ملکوں کے مابین تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا۔ملاقات کے دوران، دونوں فریقوں نے سیکورٹی، پولیس اور سول آرمڈ فورسز کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ ایک اہم پیش رفت کے طور پر، پاکستانی پولیس افسران کو تربیت کے لیے ترکیہ بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا، جو دونوں ملکوں کے درمیان پیشہ ورانہ تبادلے کو فروغ دے گا۔وزیر داخلہ نے ایک اہم اعلان کرتے ہوئے کہا کہ 14 اگست سے ترک شہریوں کو پاکستان آنے کے لیے مفت آن لائن ویزا کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ یہ اقدام سیاحت کو فروغ دینے اور دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان رابطے بڑھانے میں مددگار ثابت ہو گا۔

    محسن نقوی نے اکتوبر میں ترکیہ کے مجوزہ دورے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس موقع پر دو طرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے ٹھوس تجاویز پیش کریں گے۔ انہوں نے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان گہرے مذہبی، ثقافتی اور تجارتی روابط کی اہمیت پر زور دیا۔ملاقات میں ایک انسانی پہلو بھی شامل تھا، جہاں ترکیہ میں قید پاکستانی شہریوں کی رہائی پر بھی بات چیت ہوئی۔ دونوں فریقوں نے اس سلسلے میں جلد ہی ایک معاہدے کو حتمی شکل دینے پر اتفاق کیا۔ترک سفیر نے پاکستان کے ساتھ اپنے ملک کے برادرانہ تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کیا اور مختلف شعبوں میں تعاون جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔اس اہم ملاقات میں وفاقی سیکرٹری داخلہ خرم علی آغا اور ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ رفعت مختار راجہ بھی شریک تھے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ پاکستان ترک تعلقات کو اعلیٰ سطح پر اہمیت دی جا رہی ہے۔یہ ملاقات دونوں ملکوں کے درمیان تاریخی دوستی کو نئی جہتوں میں لے جانے کا ایک اہم قدم ہے، جو مستقبل میں مزید گہرے اور پھل دار تعلقات کی نوید دیتی ہے۔

  • امام مسجد نبوی کی پاکستانی علماء سے ملاقات: دینی تعلیم کے فروغ پر زور

    امام مسجد نبوی کی پاکستانی علماء سے ملاقات: دینی تعلیم کے فروغ پر زور

    امام مسجد نبوی شیخ صلاح البدیر نے پاکستان کے دورے کے دوران ملک کے ممتاز علماء کرام اور دینی مدارس کے سب سے بڑے نیٹ ورک وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے قائدین سے ملاقات کی۔ اس اہم ملاقات میں دونوں فریقوں نے دینی تعلیم کے فروغ اور پاک-سعودی تعلقات کے مضبوط ہونے پر تبادلہ خیال کیا۔
    شیخ صلاح البدیر نے دینی مدارس اور وفاق المدارس کی خدمات کی تحسین کرتے ہوئے کہا کہ علماء کرام کو قرآن و سنت کی تعلیم کو عام کرنے اور خاص طور پر نوجوانوں کو دین کی طرف راغب کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ نوجوانوں کو نرمی اور محبت سے دین کی طرف لانا چاہیے۔
    وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ مولانا محمد حنیف جالندھری نے تنظیم کا تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ اس میں 25,000 سے زائد دینی مدارس شامل ہیں جہاں تین ملین سے زیادہ طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ انہوں نے برصغیر میں قرآن و سنت کی تعلیم کے فروغ میں دینی مدارس کی خدمات کا تفصیلی ذکر کیا۔پاکستانی علماء نے امام مسجد نبوی کی پاکستان آمد کو پاکستانی مسلمانوں کے لیے اعزاز قرار دیا اور کہا کہ یہ دورہ پاک-سعودی دوستی کو مزید مستحکم کرنے کا ذریعہ بنے گا۔ انہوں نے سعودی عرب سے فلسطین اور کشمیر جیسے امت کے مسائل حل کرنے میں قائدانہ کردار ادا کرنے کی اپیل بھی کی۔
    اس موقع پر وفاق المدارس کے قائدین نے امام مسجد نبوی، ان کے ساتھ آنے والے مہمانان، اور سعودی سفیر کو تحائف بھی پیش کیے۔ کمسن بچوں نے امام حرم کو پھولوں کے گلدستے پیش کیے۔یہ ملاقات پاکستان اور سعودی عرب کے مابین مذہبی اور تعلیمی تعاون کو مزید فروغ دینے کے حوالے سے انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہے۔ اس سے دونوں ملکوں کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مزید تقویت ملنے کی توقع ہے۔

  • "عوامی پاکستان پارٹی کا نیا منشور: ملکی ترقی کے لیے جامع حکمت عملی کا اعلان”

    "عوامی پاکستان پارٹی کا نیا منشور: ملکی ترقی کے لیے جامع حکمت عملی کا اعلان”

    سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے موجودہ سیاسی اور معاشی حالات پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی لیڈرشپ کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل کا حل نکالیں، اور اگر ایسا نہ کیا گیا تو تاریخ انہیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ملک میں بجلی، گیس، پانی اور دیگر بنیادی سہولتوں کی شدید قلت ہے، اور اگر فوری طور پر ان مسائل کا حل نہ نکالا گیا تو پاکستان کو پانی کے بڑے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ حکمران عوام کی خدمت کے بجائے اقتدار کے حصول کے لیے کوشاں ہیں، جو کہ ایک بدقسمتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ عوام کے بنیادی حقوق کی فراہمی حکومت کی اولین ذمہ داری ہونی چاہیے، اور اگر حکومت عوام کو ان کے حقوق نہیں دے سکتی تو عوام کا اس پر اعتماد اٹھ جاتا ہے۔
    شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پاکستان کے بڑے شہروں میں پانی کی شدید قلت ہے، اور کراچی جیسے شہر میں پانی کی فراہمی کے لیے ٹینکر مافیا سرگرم ہے، جو کہ ایک بڑی ناانصافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ پانی کی پائپ لائن بچھائے تاکہ عوام کو ان کے بنیادی حقوق فراہم کیے جا سکیں۔اس موقع پر عوام پاکستان پارٹی نے اپنا "وژن ڈاکیومنٹ” بھی پیش کیا، جس میں ملک کے تمام بنیادی مسائل کے حل کے لیے ایک جامع حکمت عملی پیش کی گئی ہے۔ اس ویژن ڈاکیومنٹ میں آئین اور قانون کی بالادستی، انسانی حقوق، اور عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی پر زور دیا گیا ہے۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ نیب کا قانون انتہائی ناقص ہے، جسے ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں احتساب کے نظام کو بہتر بنایا جانا چاہیے تاکہ عوام کو انصاف مل سکے اور کرپشن کا خاتمہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ عوام پاکستان پارٹی ملک کے ہر شہری کو ذمہ دار بنانے کے لیے شناختی کارڈ کا بہترین نظام استعمال کرے گی، تاکہ ٹیکس کی وصولی کو بہتر بنایا جا سکے اور ملک کو مالی استحکام حاصل ہو۔ان کے خطاب کے بعد تقریب کے شرکاء نے عوام پاکستان پارٹی کے ویژن ڈاکیومنٹ کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ یہ ویژن ملک کے مسائل کے حل میں مددگار ثابت ہوگا۔
    اس موقع پرجماعت کے تنظیمی سیکرٹری مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پاکستانیوں کو دباؤ میں رکھ کر ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ انہوں نے مختلف سیاسی جماعتوں کے پنجاب میں کردار پر تنقید کی۔مفتاح اسماعیل نے زور دیا کہ ملک میں ایک مساوی قانون ہونا چاہیے جو سب پر یکساں طور پر لاگو ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہر ادارے کا تعلق آئین سے ہونا ضروری ہے۔ آئی پی پیز کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ معاہدوں کی تفصیلات کا جائزہ لینا چاہیے، لیکن حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش نہیں کرنا چاہیے۔بجلی کے بلوں کے حوالے سے انہوں نے تجویز دی کہ حکومت ٹیکس کم کرے تو بلوں میں کمی آ سکتی ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت کو مشورہ دیا کہ پی ایس ڈی پی میں کٹوتی سے ترقیاتی منصوبوں پر خاص اثر نہیں پڑے گا۔مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پاکستان میں انسانی وسائل ایک بڑا اثاثہ ہیں اور قومی ترقی کا انحصار لوگوں پر ہے۔ انہوں نے اپنی جماعت کے نظریے کو پیش کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ نظام ملک کے لیے موزوں نہیں ہے۔ریلوے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس کا نقصان عوام کے بجائے ملازمین اور افسران کے فائدے کے لیے برداشت کیا جاتا ہے۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ ایسا نظام لائیں گے جو عوام کے لیے فائدہ مند ہو۔تعلیم کے شعبے پر بات کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ملک میں لاکھوں بچے اسکول سے باہر ہیں اور بڑی تعداد میں طلبہ بنیادی خواندگی سے محروم ہیں۔ انہوں نے اساتذہ کی تقرری کے طریقہ کار پر بھی تنقید کی اور کہا کہ اگر آج سائنس کا امتحان لیا جائے تو بہت سے اساتذہ ناکام ہو جائیں گے۔

  • ارشد ندیم کے گولڈ میڈل پر ملک بھر میں جشن، خیبر پختونخوا حکومت کی خاموشی پر سوالات

    ارشد ندیم کے گولڈ میڈل پر ملک بھر میں جشن، خیبر پختونخوا حکومت کی خاموشی پر سوالات

    ارشد ندیم کے لیے پنجاب اور سندھ کی حکومتوں نے انعامات کا اعلان کیا ہے، لیکن خیبر پختونخوا کی حکومت کی جانب سے ابھی تک کوئی انعامی اعلان سامنے نہیں آیا ہے۔ یہ صورتحال سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بن گئی ہے، جہاں صارفین خیبر پختونخوا حکومت کی خاموشی پر سوال اٹھا رہے ہیں۔پاکستان کے لیے 40 برس بعد عالمی سطح پر گولڈ میڈل جیتنے والے ارشد ندیم کی کامیابی پر ملک بھر میں جشن کا سماں ہے۔ پنجاب حکومت نے انہیں کروڑوں روپے کے انعامات سے نوازنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ سندھ حکومت نے بھی ان کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انعامات دینے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن خیبر پختونخوا کی حکومت، جہاں عمران خان کی جماعت تحریک انصاف کی حکومت ہے، کی جانب سے اب تک کسی قسم کا اعلان نہ ہونے پر سوشل میڈیا صارفین نے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔
    سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر صارفین سوال اٹھا رہے ہیں کہ خیبر پختونخوا حکومت نے اب تک کیوں کوئی انعامی اعلان نہیں کیا؟ کیا ارشد ندیم کی کامیابی کو نظر انداز کیا جا رہا ہے؟ بعض صارفین نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے عوام کی توقعات حکومت سے زیادہ ہیں، کیونکہ ارشد ندیم نے عالمی سطح پر ملک کا نام روشن کیا ہے اور یہ موقع خیبر پختونخوا حکومت کے لیے بھی تھا کہ وہ انہیں اعزازات سے نوازتی۔سوشل میڈیا پر چلنے والی اس بحث میں متعدد افراد نے خیبر پختونخوا حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ارشد ندیم کی حوصلہ افزائی کے لیے فوری طور پر انعامی اعلان کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ صوبے کے لوگ اپنے قومی ہیرو کی کامیابی میں شامل ہو سکیں۔خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے اس معاملے پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ عوام کی جانب سے امید کی جا رہی ہے کہ حکومت جلد ہی اس معاملے پر اپنا موقف واضح کرے گی اور ارشد ندیم کی اس عظیم کامیابی کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں بھی انعامات سے نوازے گی۔

  • وادیٔ تیراہ میں زخمی ہونے والے لیفٹیننٹ عزیر محمود ملک شہید ہو گئے۔

    وادیٔ تیراہ میں زخمی ہونے والے لیفٹیننٹ عزیر محمود ملک شہید ہو گئے۔

    پاک فوج کے جوان لیفٹیننٹ عز یر محمود ملک، جو کہ ضلع اٹک کے رہائشی اور صرف 24 سال کے نوجوان افسر تھے، نے آج سی ایم ایچ پشاور میں شہادت کا عظیم مرتبہ حاصل کیا۔ 9 اگست کو خیبر ضلع کی تیرہ وادی میں سیکیورٹی فورسز اور خوارج کے درمیان تین مختلف مقامات پر جھڑپیں ہوئیں۔ ان جھڑپوں میں سے ایک مقام باگھ میں تھا، جہاں لیفٹیننٹ عزیر محمود ملک نے اپنی فوج کی قیادت کرتے ہوئے بہادری کا مظاہرہ کیا اور چار خوارج کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔
    تاہم، اس شدید فائرنگ کے تبادلے کے دوران، لیفٹیننٹ عزیر محمود ملک کو شدید زخم آئے اور انہیں فوری طور پر سی ایم ایچ پشاور منتقل کیا گیا۔ وہاں ان کا علاج جاری تھا، لیکن افسوس کہ وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے آج جام شہادت نوش کر گئے۔پاک فوج کے ترجمان نے کہا کہ لیفٹیننٹ عزیر محمود ملک کی یہ عظیم قربانی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاک فوج دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے اور اس ملک سے اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائے گی۔
    لیفٹیننٹ عزیر محمود ملک جیسے بہادر اور جانباز افسران کی قربانیاں ہمارے حوصلے اور عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔ ان کی شہادت قوم کے لیے فخر کا باعث ہے اور ہم ان کی قربانی کو ہمیشہ یاد رکھیں گے۔شہید عزیر محمود ملک کی تدفین ان کے آبائی علاقے میں پورے فوجی اعزاز کے ساتھ کی جائے گی۔ اس موقع پر اعلیٰ فوجی اور سول حکام سمیت مقامی افراد کی بڑی تعداد شرکت کرے گی۔ پاک فوج کے سپاہیوں اور افسران کی جانب سے ملک کی حفاظت اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے دی جانے والی قربانیاں قوم کی سلامتی کے لیے ایک مضبوط دیوار کی مانند ہیں، اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ملک سے آخری دہشت گرد کا خاتمہ نہیں ہو جاتا۔

  • وزیراعظم شہباز شریف کا اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کا عزم،اقلیتوں کے قومی دن کے موقع پر خطاب

    وزیراعظم شہباز شریف کا اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کا عزم،اقلیتوں کے قومی دن کے موقع پر خطاب

    وزیراعظم شہباز شریف نے یومِ آزادی اور اقلیتوں کے قومی دن کے موقع پر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہر مذہب کے لوگوں کو مکمل آزادی اور تحفظ حاصل ہے، اور ملک کی ترقی اور خوشحالی میں اقلیتوں کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔وزیراعظم نے حالیہ دنوں میں غزہ میں اسرائیلی حکومت کی جانب سے کی جانے والی بمباری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ معصوم بچوں اور بے گناہ مسلمانوں کو شہید کیا گیا ہے، اور عالمی ادارے اس ظلم و ستم پر خاموش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی ادارے جنہیں دنیا میں امن قائم کرنے کے لیے بنایا گیا تھا، وہ آج صرف قراردادیں پاس کرنے تک محدود ہیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے اقلیتوں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں موجود مسیحی، ہندو، سکھ، اور پارسی برادریوں نے ہمیشہ ملک کی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے مسیحی برادری کے مشنری اسکولوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان اسکولوں نے ہزاروں بچوں کو تعلیم دی ہے اور ملک کی خدمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف نے ہمیشہ اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے آواز بلند کی ہے اور ان کے لیے کھلے دل سے کام کیا ہے۔ وزیراعظم نے اس بات کا یقین دلایا کہ 1973 کے آئین کے تحت اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کی جائے گی، اور حکومت ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔

    وزیراعظم نے اپنے خطاب میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اقلیتوں کی قربانیوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اقلیتی برادریوں کے افراد نے وطن کے دفاع اور سلامتی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے، جو کہ قابل تحسین ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اقلیتوں کے حقوق کی پاسداری کرتے ہوئے ملک میں امن و استحکام کے لیے بھرپور اقدامات کرے گی۔تقریب کے اختتام پر وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھے گی اور ملک کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے اقلیتی برادریوں کی خدمات کو سراہتی رہے گی۔

  • اوکاڑہ: حجرہ شاہ مقیم میں بھائی کے ہاتھوں بہن کا لرزہ خیز قتل

    اوکاڑہ: حجرہ شاہ مقیم میں بھائی کے ہاتھوں بہن کا لرزہ خیز قتل

    ضلع اوکاڑہ کے علاقے حجرہ شاہ مقیم میں ایک ہولناک واقعہ پیش آیا جس نے علاقے بھر میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔ نویں جماعت کی طالبہ ساجدہ کو اس کے اپنے بھائی نے معمولی تکرار پر فائرنگ کرکے بے دردی سے قتل کر دیا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ساجدہ نویں جماعت کے ریاضی کے مضمون میں فیل ہو گئی اور اس کے بھائی عادل حسین نے اس پر شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے انتہائی قدم اٹھایا۔پولیس کے مطابق، یہ سانحہ رات کے وقت پیش آیا جب ساجدہ اپنی ماں اور بہن بھائیوں کے ساتھ سو رہی تھی۔ ایف آئی آر کے متن کے مطابق، ملزم عادل حسین نے آتے ہی للکارا مارا کہ "میرے ساتھ جھگڑا کرنے اور نہم کلاس میں فیل ہونے کا مزہ چکھاتا ہوں۔” والدہ نے اپنے بیٹے کو اس بہیمانہ فعل سے روکنے کی کوشش کی، لیکن عادل حسین نے بے رحمی سے اپنی بہن پر دستی پستول سے چھ گولیاں فائر کیں، جس سے ساجدہ موقع پر ہی شدید زخمی ہو گئی۔

    پولیس اور ریسکیو ٹیمیں اطلاع ملتے ہی موقع پر پہنچ گئیں اور ساجدہ کو شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کرنے کی کوشش کی، لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے راستے میں ہی دم توڑ گئی۔ اس واقعے کے بعد علاقے میں سوگوار ماحول چھا گیا ہے اور ہر آنکھ اشک بار ہے۔ بھائی کے ہاتھوں بہن کے قتل نے علاقے کے لوگوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے، اور پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔پولیس نے مقتولہ کی والدہ کی مدعیت میں مقدمہ درج کرلیا ہے اور ملزم عادل حسین کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارنے شروع کر دیے ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کو جلد گرفتار کرکے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ معاشرتی دباؤ اور غصے کی انتہا کس حد تک جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ ساجدہ کے بہیمانہ قتل نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا ہے کہ معاشرتی اقدار اور تعلیم و تربیت کے حوالے سے سنجیدہ غور و فکر کی ضرورت ہے تاکہ ایسے المناک واقعات کو روکا جا سکے۔

  • دوسرے مذاہب کے لوگوں کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں،علامہ طاہر اشرفی

    دوسرے مذاہب کے لوگوں کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں،علامہ طاہر اشرفی

    پاکستان علماء کونسل کے سربراہ علامہ طاہر اشرفی نے اقلیتوں کے قومی دن کے موقع پر ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان میں کسی بھی مذہب کے پیروکاروں کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں ہے۔ انہوں نے ملک میں امن و امان کی بحالی اور مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان جڑانوالہ اور سرگودھا جیسے واقعات کا متحمل نہیں ہو سکتا۔علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ ملک میں کسی کو بھی انتشار پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان میں توہین مذہب اور توہین رسالت کا مسئلہ بعض اوقات بیان کیا جاتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہاں موجود غیر مسلم افراد ان جرائم کے مرتکب نہیں ہیں۔
    انہوں نے عدلیہ سے اپیل کی کہ توہین مذہب کے کیسز کے فیصلے جلد از جلد کیے جائیں تاکہ اصل مجرمان کو سزا ملے اور انصاف کے تقاضے پورے ہوں۔ علامہ اشرفی نے کہا کہ عدالتی فیصلوں میں تاخیر کی وجہ سے پاکستان بین الاقوامی پراپیگنڈے کا شکار ہوتا ہے، جس سے ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچتا ہے۔مزید برآں، علامہ طاہر اشرفی نے ایک فتویٰ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی شخص کسی پر جان بوجھ کر توہین مذہب یا توہین رسالت کا الزام لگاتا ہے، تو قانون کو اس کے خلاف کھڑا ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے بے بنیاد الزامات معاشرتی انتشار کا سبب بنتے ہیں اور ان کے سدباب کے لیے سخت قانونی کارروائی کی جانی چاہیے۔
    علامہ طاہر اشرفی نے اپنی تقریر کے دوران کہا کہ پاکستان ایک پرامن ملک ہے جہاں تمام مذاہب کے لوگوں کو اپنی عبادات اور رسوم کی آزادی حاصل ہے، اور ملک میں مذہبی اقلیتوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ مذہبی ہم آہنگی اور بھائی چارے کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کریں اور کسی بھی قسم کے انتشار سے گریز کریں۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان علماء کونسل کا ہمیشہ سے یہی موقف رہا ہے کہ مذہبی اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے اور ان کے خلاف کسی بھی قسم کی زیادتی برداشت نہیں کی جائے گی۔ علامہ طاہر اشرفی نے اپنی نیوز کانفرنس کے اختتام پر عوام کو پیغام دیا کہ وہ ملک کی سالمیت اور اتحاد کو برقرار رکھنے کے لیے مذہبی رواداری کو فروغ دیں۔

  • معروف بھارتی سیاستدان سپریا سولے کا فون اور واٹس ایپ ہیک،

    معروف بھارتی سیاستدان سپریا سولے کا فون اور واٹس ایپ ہیک،

    بھارت کی معروف سیاستدان اور رکن پارلیمنٹ سپریا سولے نے اطلاع دی ہے کہ ان کا فون اور واٹس ایپ اکاؤنٹ ہیک ہو گیا ہے۔ انہوں نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ وہ انہیں کال یا ٹیکسٹ نہ کریں اور اس معاملے کے حوالے سے پولیس سے رابطہ کر لیا ہے۔ سپریا سولے نے اس واقعے کے بعد اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے عوام کو آگاہ کیا اور اس ہیکنگ کے واقعے کی وجہ سے پیدا ہونے والے سائبر سیکیورٹی کے خدشات پر روشنی ڈالی۔سپریا سولے کی جانب سے اس واقعے کی اطلاع کے بعد سائبر سیکیورٹی کے مسائل پر ایک وسیع بحث کا آغاز ہوگیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ڈیجیٹل کمیونیکیشن پلیٹ فارمز کی کمزوریوں اور صارفین کے ڈیٹا کی حفاظت کے لیے مضبوط اقدامات کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔
    سپریا سولے نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ یہ مسئلہ صرف ان تک محدود نہیں ہے بلکہ کئی دیگر صارفین نے بھی واٹس ایپ ہیکنگ کے واقعات کی اطلاع دی ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے ڈیجیٹل اکاؤنٹس کی حفاظت کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع دیں۔اس واقعے نے بھارت سمیت دنیا بھر میں واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے صارفین کے درمیان بے چینی پیدا کر دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صارفین کو اپنے اکاؤنٹس کی حفاظت کے لیے دوہری تصدیق (Two-Factor Authentication) جیسے حفاظتی اقدامات کو اپنانا چاہیے اور کسی بھی مشکوک پیغام یا لنک پر کلک کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔
    سپریا سولے کا کہنا تھا کہ وہ اس واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کر رہی ہیں تاکہ اس سائبر حملے کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔ انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ اس واقعے کو سنجیدگی سے لیں اور اپنے ڈیجیٹل تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کریں۔اس واقعے نے بھارتی سیاستدانوں اور عوامی شخصیات میں ڈیجیٹل سیکیورٹی کے حوالے سے تشویش پیدا کر دی ہے، اور کئی افراد نے اس حوالے سے حکومت سے سخت اقدامات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر شہریوں کی معلومات کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

  • پیرس اولمپکس کے ہیرو ارشد ندیم کے سسر کا منفرد تحفہ: بھینس دینے کا اعلان

    پیرس اولمپکس کے ہیرو ارشد ندیم کے سسر کا منفرد تحفہ: بھینس دینے کا اعلان

    پیرس اولمپکس میں پاکستان کے لیے گولڈ میڈل جیتنے والے قومی ہیرو ارشد ندیم کو جہاں پاکستان بھر سے کروڑوں روپے کے انعامات سے نوازا جا رہا ہے، وہیں ان کے سسر محمد نواز نے اپنے داماد کو ایک منفرد تحفہ دینے کا اعلان کیا ہے۔ محمد نواز نے کہا ہے کہ وہ اپنے داماد کو بھینس تحفے میں دیں گے۔مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمد نواز نے ارشد ندیم کی شاندار کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "مجھے اپنے داماد پر فخر ہے اور میں ان کا بھرپور استقبال کروں گا۔ ان کی کامیابی نہ صرف ہمارے خاندان کے لیے بلکہ پورے پاکستان کے لیے باعث فخر ہے۔”جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ اپنے داماد کو کیا تحفہ دیں گے تو انہوں نے کہا، "میں اپنے داماد ارشد ندیم کو ایک بھینس تحفے میں دوں گا۔ یہ بھینس ان کے لیے میری طرف سے ایک محبت بھرا تحفہ ہے۔” ان کے اس بیان نے نہ صرف مقامی بلکہ ملکی سطح پر بھی توجہ حاصل کی ہے۔
    محمد نواز نے مزید بتایا کہ ان کی 4 بیٹے اور 3 بیٹیاں ہیں، جن میں سب سے چھوٹی بیٹی کی شادی ارشد ندیم سے 6 سال قبل ہوئی تھی۔ ارشد ندیم اور ان کی بیٹی کے 3 بچے ہیں، جن میں 2 بیٹے اور ایک بیٹی شامل ہیں۔ "ہمارے دو بچے مقامی اسکول میں جاتے ہیں۔ بچی پہلی جماعت میں ہے جبکہ ایک بیٹے نے ابھی اسکول جانا شروع کیا ہے اور تیسرا بیٹا ابھی چھوٹا ہے،” محمد نواز نے بتایا۔جب ان سے ارشد ندیم کی شادی کے وقت کی زندگی کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا، "شادی کے وقت ارشد ندیم چھوٹے موٹے کام کرتے تھے اور گھر پر ہی پریکٹس کرتے تھے۔ انہیں نیزہ بازی کا بہت شوق تھا اور وہ اس میں اپنا نام بنانا چاہتے تھے۔” محمد نواز نے کہا کہ انہیں اپنے داماد سے کبھی کوئی شکایت نہیں رہی۔ "ارشد ندیم جب بھی گھر آتے تھے، جو کچھ بھی کھانے کے لیے ملتا تھا وہ شوق سے کھا لیتے تھے۔”
    ارشد ندیم کی کامیابی پر جہاں پاکستان بھر میں جشن منایا جا رہا ہے، وہیں ان کے سسرال والوں کی طرف سے دیے جانے والے منفرد تحفے نے بھی لوگوں کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ محمد نواز کا یہ اقدام نہ صرف ان کی داماد سے محبت کا مظہر ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح سادہ اور دیہاتی پس منظر رکھنے والے لوگ اپنی خوشیوں کا اظہار کرتے ہیں۔ ارشد ندیم کی کامیابی کا جشن چین میں بھی منایا جا رہا ہے، جہاں ان کے مداحوں نے ان کی فتح پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔