لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ وہ حکمرانی کے لیے حضرت عمر فاروقؓ کے ماڈل کی پیروی کرتی ہیں، جو حکمرانوں کے لیے مینارہ نور اور مشعل راہ ہیں۔ مریم نواز نے یہ بات مسجد نبوی ﷺ کے امام ڈاکٹر صلاح بن محمد البدیر سے ملاقات کے دوران کہی۔ملاقات کے دوران مسجد نبویؐ کے امام ڈاکٹر صلاح بن محمد البدیر وزیراعلیٰ آفس پہنچے، جہاں مریم نواز نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ ان کے والد محمد نوازشریف کے ساتھ سعودی شاہی خاندان کی دوستی قابل رشک ہے، اور ان کا پاور ہاؤس مدینہ منورہ میں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں لاہور کے مقابلے میں مدینہ منورہ کی ہر گلی کا زیادہ علم ہے۔
مریم نواز نے ملاقات کے دوران وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ ملاقات کا ذکر بھی کیا اور کہا کہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان عوام کی خدمت کرنا چاہتے ہیں اور یہ ان کا بھی مشن ہے۔ انہوں نے شہزادہ محمد بن سلمان کی اخلاص کے ساتھ سعودی عرب کے عوام کی خدمت کو سراہا۔
اس موقع پر امام مسجد نبویؐ ڈاکٹر صلاح بن محمد البدیر نے پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کو آسمان پر چمکتے دو قطبی ستاروں کے مانند قرار دیا اور کہا کہ دونوں ممالک سٹریٹجک دوست ہیں، جو ماضی میں بھی تھے اور آئندہ بھی رہیں گے۔ انہوں نے محمد نوازشریف کی قیادت کی تعریف کی اور کہا کہ ان کی لیڈر شپ پاکستان کے لیے بہتری اور فلاح کا باعث ہے۔ امام مسجد نبویؐ نے مریم نوازشریف کی اپنے والد کے نقش قدم پر چلنے کی تعریف بھی کی۔یہ ملاقات دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی مضبوطی اور باہمی احترام کے اظہار کا مظہر ہے۔
Author: صدف ابرار
-

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی حضرت عمر فاروقؓ کے حکمرانی ماڈل پر پیروی، مسجد نبویؐ کے امام سے ملاقات
-

امیر جماعت اسلامی کا آئی پی پیز معاہدوں اور خیبر پختونخوا کی صورتحال پر سخت تنقید
پشاور: جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے حال ہی میں ایک جلسے میں خطاب کرتے ہوئے ملک کی موجودہ معاشی اور سیاسی صورتحال پر اہم بیان دیا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر آزاد بجلی پیداکار (آئی پی پیز) کے ساتھ کیے گئے معاہدوں اور خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر توجہ مرکوز کی۔حافظ نعیم الرحمان نے آئی پی پیز کے ساتھ کیے گئے معاہدوں پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ان معاہدوں میں تمام سابقہ حکومتیں شامل ہیں اور ان کو فوری طور پر ختم کیا جانا چاہیے۔ امیر جماعت اسلامی کا مطالبہ تھا کہ ان معاہدوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔حافظ نعیم الرحمان نے عوام کی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے بجلی کی قیمتوں میں کمی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ مہنگائی کے دور میں عام آدمی کے لیے بجلی کے بل ادا کرنا مشکل ہو گیا ہے اور حکومت کو اس معاملے پر فوری توجہ دینی چاہیے۔
امیر جماعت اسلامی نے خیبر پختونخوا کی سیکیورٹی صورتحال پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ پہلے سے ہی دہشت گردی سے متاثر ہے اور اس میں مزید خرابی کی گنجائش نہیں۔ حافظ نعیم الرحمان نے قبائلی اضلاع میں ہونے والے فوجی آپریشنز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی نے کبھی بھی ان آپریشنز کی حمایت نہیں کی۔انہوں نے فوجی آپریشنز کے مقصد اور نتائج پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر یہ آپریشنز امن قائم کرنے کے لیے کیے گئے تھے تو پھر امن کیوں نہیں ہے اور اب دہشت گردی کیوں پھر سر اٹھا رہی ہے۔ یہ سوال حکومت اور فوج کی حکمت عملی پر سوال اٹھاتا ہے۔مجموعی طور پر، حافظ نعیم الرحمان کا یہ بیان موجودہ حکومتی پالیسیوں، خاص طور پر توانائی کے شعبے اور سیکیورٹی کے معاملات پر تنقید کا اظہار ہے۔ ان کے خیالات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جماعت اسلامی موجودہ صورتحال پر شدید تشویش کا شکار ہے اور وہ حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کر رہی ہے۔یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ حکومت ان تنقیدوں اور مطالبات پر کیسے ردعمل دیتی ہے اور کیا آئندہ دنوں میں ان معاملات پر کوئی پیش رفت ہوتی ہے۔ -

تحریک انصاف کی سوشل میڈیا مقبولیت میں کمی: فر حان ورک کا دعویٰ
ڈاکٹر فرحان ورک نے اپنے حالیہ ٹویٹ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سوشل میڈیا پر مقبولیت میں نمایاں کمی کا انکشاف کیا ہے۔ ان کے مطابق، پی ٹی آئی کے سب سے بڑے یوٹیوب چینل کی مقبولیت میں شدید کمی واقع ہوئی ہے۔ڈاکٹر فرحان ورک نے بتایا کہ چھ ماہ قبل جہاں پی ٹی آئی کے ویڈیوز کو 20 سے 25 لاکھ ویوز ملتے تھے، وہیں اب یہ تعداد صرف 6 سے 7 لاکھ تک محدود ہو گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ کمی یوٹیوب پر کسی پابندی یا الگورتھم کی وجہ سے نہیں ہے۔
تجزیہ کار کا خیال ہے کہ پی ٹی آئی کی مقبولیت میں 50 سے 60 فیصد تک کی کمی آئی ہے۔ انہوں نے مثال دی کہ جہاں پہلے پارٹی کے سب سے مشہور یوٹیوب چینل پر 25 لاکھ، 20 لاکھ، یا 22 لاکھ ویوز آتے تھے، وہاں اب یہ تعداد صرف 6 یا 7 لاکھ تک رہ گئی ہے۔یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان میں سیاسی کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔ فرحان ورک نے بطور ثبوت پی ٹی آئی کے یوٹیوبر عمران ریاض کی ویڈیو کے سکرین شاٹ شیئر کیے ہیں۔ جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ویوز میں کمی آئی ہے۔ پاکستان میں فائر وال کی خبریں بھی گردش کر رہی ہیں فائر وال لگنے سے سوشل میڈیا کنٹرول میں ہو گا ۔ویوز کم ہونے کی وجہ سے ڈالروں میں بھئ کمی ہو گی آمدن کم ہو جائے گی جس کی وجہ سے پی ٹی آئی یوٹیوبر پریشان ہیں

سوشل میڈیا پر اس کمی کے پی ٹی آئی کی مجموعی حمایت اور آنے والے انتخابات پر کیا اثرات ہوں گے، یہ دیکھنا باقی ہے۔فرحان ورک کے مشاہدات نے پاکستان میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر سیاسی مشغولیت کے بدلتے ہوئے منظرنامے اور اس کے ملک کی سیاسی صورتحال پر ممکنہ اثرات کے بارے میں بحث کو ہوا دی ہے۔ -

9 مئی کے واقعات کی تحقیقات صرف جنرل فیض حمید تک محدود نہیں رہیں گی. وزیر دفاع خواجہ آصف
اسلام آباد: پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے سابق آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کے خلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے آغاز پر اہم تبصرہ کیا ہے۔ نجی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ "جو لوگ اقتدار کے پیچھے اندھا دھند بھاگتے ہیں، اُن کے ساتھ یہی ہوتا ہے۔”وزیر دفاع نے مزید کہا کہ 9 مئی کے واقعات کی تحقیقات صرف جنرل فیض حمید تک محدود نہیں رہیں گی، جو کہ ملک میں حالیہ سیاسی ہلچل کی طرف اشارہ ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے حال ہی میں تصدیق کی ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو فوجی تحویل میں لے لیا گیا ہے اور ان کے خلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق، فیض حمید کے خلاف پاکستان آرمی ایکٹ کی متعدد دفعات کی خلاف ورزیوں کے الزامات ثابت ہوئے ہیں۔ یہ خلاف ورزیاں ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد کی گئی تھیں۔اس کارروائی کی تفصیلات میں، آئی ایس پی آر نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے احکامات پر ٹاپ سٹی کیس میں ایک تفصیلی کورٹ آف انکوائری کی گئی۔ یہ انکوائری فیض حمید کے خلاف ٹاپ سٹی کیس میں لگائے گئے الزامات کی تصدیق کے لیے کی گئی تھی۔قابل ذکر ہے کہ فیض حمید پر ہاؤسنگ سوسائٹی کیس کے حوالے سے بھی الزامات عائد کیے گئے تھے، جس کا ذکر نجی ٹی وی چینل کے ایک پروگرام میں کیا گیا تھا۔
اس پورے معاملے نے پاکستان کی سیاسی اور فوجی حلقوں میں کافی ہلچل مچا دی ہے۔ بہت سے مبصرین کا خیال ہے کہ یہ کارروائی صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس کے وسیع تر اثرات ہو سکتے ہیں۔وزیر دفاع کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ ان کے الفاظ "اقتدار کے پیچھے اندھا دھند بھاگنے” کے حوالے سے، ملک میں سیاسی اور فوجی اقتدار کے استعمال پر بحث کو مزید ہوا مل سکتی ہے۔آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ فیض حمید کے خلاف یہ کارروائی کس سمت اختیار کرتی ہے اور اس کے پاکستان کی سیاسی صورتحال پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس دوران، ملک کے سیاسی اور فوجی حلقوں میں اس معاملے پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ -

پاکستان اسٹاک ایکسچینج: کاروباری ہفتے کا آغاز منفی، 100 انڈیکس میں 589 پوائنٹس کی کمی
کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں کاروباری ہفتے کے پہلے روز سرمایہ کاروں کو شدید مندی کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں بینچ مارک 100 انڈیکس میں 589 پوائنٹس کی نمایاں کمی ہوئی۔ اس کمی کے بعد 100 انڈیکس 77,980 پوائنٹس پر بند ہوا۔کاروباری دن کے دوران 100 انڈیکس نے 945 پوائنٹس کے بینڈ میں اتار چڑھاؤ کا مظاہرہ کیا، جہاں اس کی بلند ترین سطح 78,886 پوائنٹس رہی۔ تاہم، دن کے اختتام پر مندی غالب رہی اور انڈیکس میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔
حصص بازار میں 41 کروڑ 51 لاکھ شیئرز کے سودے ہوئے، جن کی مجموعی مالیت 22 ارب 24 کروڑ روپے رہی۔ اس کاروباری مندی کے باعث مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں 101 ارب روپے کی کمی ہوئی، جس کے بعد مارکیٹ کیپٹلائزیشن 10,389 ارب روپے رہ گئی۔ماہرین کے مطابق، کاروباری دن کے دوران سرمایہ کاروں نے محتاط رویہ اپنایا، جس کی وجہ سے مارکیٹ میں منفی رجحان دیکھنے میں آیا۔ عالمی اور مقامی عوامل، جیسے کہ سیاسی غیر یقینی صورتحال اور اقتصادی چیلنجز، اس مندی کا سبب بنے۔پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ہونے والی یہ مندی آنے والے دنوں میں مارکیٹ کے استحکام کے لیے ایک چیلنج ثابت ہو سکتی ہے، اور سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ ممکنہ نقصانات سے بچ سکیں۔ -

وزیراعظم شہباز شریف کا نوجوانوں کے لیے بڑا اعلان
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی یوم نوجوانان کے موقع پر ایک اہم اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت رواں سال 10 لاکھ نوجوانوں کو سمارٹ فونز فراہم کرے گی۔ یہ اعلان پرائم منسٹر یوتھ پروگرام کے تحت منعقدہ ایک تقریب میں کیا گیا۔اپنے خطاب میں وزیراعظم نے پاکستان کے نوجوانوں کی صلاحیتوں پر زور دیا اور کہا کہ اگر انہیں مناسب مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ ملک میں خوشحالی کا انقلاب لا سکتے ہیں۔ انہوں نے چین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستانی نوجوانوں کو ایسے ہی مواقع ملیں تو وہ بھی ترقی کی منازل طے کر سکتے ہیں۔
شہباز شریف نے ملک کی موجودہ معاشی صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں وسائل کی کمی نہیں، لیکن قرضوں کے بوجھ نے ترقی کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کی ہیں۔ انہوں نے اشرافیہ کی عیاشی پر بھی تنقید کی اور کہا کہ قائداعظم کا خواب ایک مساوی پاکستان کا تھا۔وزیراعظم نے حکومتی اداروں اور وزرا کو ملک کی بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر نوجوانوں کو درست وسائل فراہم کیے جائیں تو وہ پاکستان کو ایک عظیم مملکت بنا سکتے ہیں۔سمارٹ فونز کے علاوہ، شہباز شریف نے زراعت کے شعبے میں بھی نوجوانوں کی تربیت کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ پیداوار بڑھانے کے لیے نوجوانوں کو چین سے تربیت دلوائی جائے گی۔
کھیلوں کے میدان میں پاکستان کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے ہاکی کی بحالی کے لیے اقدامات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے حال ہی میں پاکستان کے گولڈ میڈل جیتنے اور ارشد ندیم کی کامیابیوں کو سراہا۔اپنے خطاب کے اختتام پر شہباز شریف نے ملک کے مستقبل کے بارے میں پرامید لہجے میں بات کی۔ انہوں نے کہا کہ مایوسی کے اندھیروں کو پیچھے چھوڑ کر روشنی کی طرف بڑھنا ہوگا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اگر ہم شب و روز محنت کریں گے تو پاکستان یقینی طور پر ایک عظیم ملک بنے گا۔
یہ اعلانات اور وزیراعظم کا خطاب پاکستان کے نوجوانوں میں نئی امیدیں جگانے کا باعث بن سکتا ہے۔ تاہم، حکومت کے لیے چیلنج یہ ہوگا کہ وہ ان وعدوں کو عملی جامہ پہنا سکے اور نوجوانوں کی توقعات پر پورا اتر سکے۔ -
پی ٹی آئی چیئرمین کا آئی ایس آئی کے سابق سربراہ کے خلاف کارروائی پر موقف
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیر سٹر گوہر نے انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سابق ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کے خلاف پاک فوج کی جانب سے کی جانے والی انضباطی کارروائی کو فوج کا اندرونی معاملہ قرار دیا ہے۔اسلام آباد میں میڈیا سے غیررسمی گفتگو کے دوران، پی ٹی آئی چیئرمین نے اظہار کیا کہ اگرچہ انہوں نے اس معاملے کے بارے میں زیادہ نہیں سنا، تاہم یہ فوج کا اپنا فیصلہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہر ادارے کا اپنا ڈھانچہ ہوتا ہے اور وہ اپنے معاملات کو اپنی مرضی کے مطابق چلا سکتے ہیں۔
ایک صحافی کے سوال پر کہ کیا پی ٹی آئی نے سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کے خلاف بھی کورٹ مارشل کی مانگ کی تھی، بیر سٹر گوہر نے جواب دیا کہ انہیں ایسے کسی مطالبے کا علم نہیں۔ جب صحافی نے اصرار کیا کہ یہ مطالبہ تو عمران خان نے کیا تھا، تو انہوں نے کہا کہ انہیں یاد نہیں اور وہ پہلے مکمل بیان کا جائزہ لیں گے۔یہ بیانات ایسے وقت میں آئے ہیں جب پاکستان کی سیاسی فضا میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔ حالیہ دنوں میں فوج اور سابق حکمرانوں کے درمیان تعلقات میں کشیدگی دیکھی گئی ہے۔ عمران خان کا یہ موقف، جس میں انہوں نے فوج کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کا اظہار کیا، سیاسی حلقوں میں دلچسپی کا باعث بن سکتا ہے۔
عمران خان کا یہ بیان پی ٹی آئی کی حکمت عملی میں ممکنہ تبدیلی کی طرف اشارہ کر سکتا ہے۔ پہلے جہاں پارٹی فوجی قیادت پر تنقید کرنے میں پیش پیش رہی، وہیں اب وہ ایک زیادہ محتاط رویہ اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ پی ٹی آئی اور فوج کے درمیان تعلقات کس سمت میں آگے بڑھتے ہیں۔ اس دوران، جنرل (ر) فیض حمید کے خلاف کارروائی کے نتائج بھی ملک کی سیاسی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ -

فیض حمید 2024 کے انتخابات میں پی ٹی آئی کی حمایت میں سرگرم تھے،سینیٹر عرفان صدیقی کا انکشاف
اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سینیٹر عرفان صدیقی نے دعویٰ کیا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید 2024 کے انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حمایت میں متحرک رہے ہیں۔ عرفان صدیقی نے کہا کہ فیض حمید کے کردار اور ان کے اثر و رسوخ کا دائرہ حکومت سے باہر تک پھیلا ہوا تھا، جو کہ حدود و قیود سے تجاوز کر گیا تھا۔عرفان صدیقی نے مزید کہا کہ فیض حمید، عمران خان کے دور حکومت میں نہ صرف حکومت کے معاملات میں مکمل دخیل رہے بلکہ وہ پارلیمنٹ کے اندر بھی ایک خاص کردار ادا کرتے رہے۔ ان کے بقول، پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر ایک کمرہ مخصوص تھا جہاں ایک فوجی افسر فیض حمید کی زیر نگرانی تمام پارلیمانی معاملات پر نظر رکھتا تھا۔ اس دوران، فیض حمید اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے حکومت کی اہم پالیسیوں پر اثر انداز ہوتے رہے، جیسے کہ ارکانِ اسمبلی کی تعداد کو مکمل کرانا اور بجٹ کی منظوری میں معاونت کرنا تھا.
عرفان صدیقی نے کہا کہ فیض حمید اپنی ذات میں ایک ادارہ بن چکے تھے۔ انہوں نے میڈیا، صحافیوں، اور ججز کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی اور حکومت کے ہر پہلو پر اپنا اثر ڈالا۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ ایک عام فوجی افسر کی حدود سے کہیں آگے نکل چکے تھے اور ان کے اقدامات کے اثرات پورے سیاسی نظام پر پڑے۔سینیٹر عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ فیض حمید کی حالیہ گرفتاری اور ان کے خلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے آغاز کے بعد مزید انکشافات کی توقع ہے۔ ان کے بقول، تحقیقات سے معلوم ہوگا کہ 9 مئی کے واقعات کے پیچھے بھی فیض حمید کا ہاتھ ہو سکتا ہے، کیونکہ ان کے دور میں پی ٹی آئی کے حق میں بنائی جانے والی حکمت عملی میں کئی غیر قانونی اور متنازع اقدامات شامل تھے۔یہ بھی خیال رہے کہ پاک فوج نے سابق آئی ایس آئی سربراہ فیض حمید کو تحویل میں لے کر ان کے خلاف فوجی عدالت میں مقدمہ چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کو سیاسی اور عسکری حلقوں میں وسیع پیمانے پر بحث کا موضوع بنایا جا رہا ہے، جس کے مستقبل میں ملکی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ -

ہمیں انصاف چاہیے، قاتل شیخ حسینہ کو سزا ملنی چاہیے”، بنگلہ دیشی طلبہ کا مطالبہ
ڈھاکا یونیورسٹی کے طلبہ نے سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا۔ یہ مطالبہ ملک میں جاری سیاسی بحران کی تازہ ترین کڑی ہے۔
بنگلادیشی میڈیا کے مطابق، ڈھاکا یونیورسٹی کے مختلف ہالز سے طلبہ نے ایک بڑا جلوس نکالا جو راجو مجسمے کے پاس جمع ہوا۔ احتجاجی مظاہرے میں شریک طلبہ نے "ہمیں انصاف چاہیے، قاتل شیخ حسینہ کو سزا ملنی چاہیے” کے نعرے لگائے۔یہ احتجاج اینٹی ڈسکریمینیشن اسٹوڈنٹ موومنٹ کی جانب سے منعقد کیا گیا۔ طلبہ نے تعلیمی اداروں میں سیاست پر پابندی لگانے کا بھی مطالبہ کیا، یہ کہتے ہوئے کہ "کیمپس میں کوئی بدنیتی سیاست نہیں ہوگی”۔
یہ واقعہ بنگلادیش میں حالیہ سیاسی تبدیلیوں کا حصہ ہے۔ گزشتہ دنوں کوٹہ سسٹم کے خلاف شروع ہونے والی تحریک بعد میں شیخ حسینہ واجد کو اقتدار سے ہٹانے کی مہم میں تبدیل ہو گئی تھی۔ اس کے نتیجے میں شیخ حسینہ کو وزارت عظمیٰ سے استعفیٰ دے کر ملک چھوڑنا پڑا۔اس کے بعد، فوج نے صدر سے مشاورت کر کے عبوری حکومت کے قیام کا اعلان کیا۔ دو روز قبل ہی اس عبوری حکومت نے حلف اٹھایا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ کوٹہ سسٹم کے خلاف تحریک کی قیادت کرنے والے دو طالب علم، ناہید اسلام اور آصف محمود، بھی اس عبوری کابینہ میں شامل ہیں۔اس دوران، حکومت نے طلبہ تحریک کے دوران انٹرنیٹ بند کرنے والے افسران کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ اقدام حکومت کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر کارروائی کرنے کے عزم کا اظہار سمجھا جا رہا ہے۔بین الاقوامی سطح پر، بنگلادیش میں ہونے والی یہ سیاسی تبدیلی گہری دلچسپی کا باعث بنی ہوئی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعات جنوبی ایشیا کے سیاسی منظرنامے میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتے ہیں۔ -

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور امریکی سفیر کی اہم ملاقات
اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آج امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم سے ایک اہم ملاقات کی۔ یہ ملاقات پاکستان اور امریکہ کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے حوالے سے خصوصی اہمیت کی حامل تھی۔ملاقات میں امریکی سفیر کے ساتھ سفارتخانے کے اعلیٰ حکام بھی شامل تھے۔ ان میں سیاسی و معاشی امور کی سربراہ شیلی سیکسن اور پالیٹیکل آفیسر جیرڈ ہینسن شامل تھے، جو اس ملاقات کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ گفتگو کا مرکزی موضوع پاکستان اور امریکہ کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانا تھا۔ اگرچہ ملاقات کی مکمل تفصیلات ابھی تک سامنے نہیں آئی ہیں، تاہم یہ ماना جا رہا ہے کہ اس میں خطے کی سیاسی صورتحال، معاشی تعاون اور دیگر اہم امور پر بات چیت ہوئی۔
پی پی پی کے ترجمان نے ملاقات کے بعد میڈیا کو بتایا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے امریکی سفیر کو پاکستان کی موجودہ سیاسی اور معاشی صورتحال سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور تکنیکی تعاون کے مواقع پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔امریکی سفارتخانے کی جانب سے جاری ایک مختصر بیان میں کہا گیا کہ سفیر بلوم نے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات میں پاکستان کے ساتھ طویل مدتی شراکت داری پر زور دیا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ جمہوریت، انسانی حقوق اور معاشی ترقی کے شعبوں میں تعاون جاری رکھنے کا خواہاں ہے۔ یہ ملاقات موجودہ عالمی صورتحال میں خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ پاکستان کی حالیہ سیاسی اور معاشی چیلنجز کے پس منظر میں، امریکہ کے ساتھ تعلقات کو مستحکم کرنا ملک کے لیے انتہائی اہم ہے۔