اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ آج کا فیصلہ کوئی چھوٹا فیصلہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک اہم قدم ہے جس کے تحت سابق اعلیٰ فوجی افسر فیض حمید کو تحویل میں لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارے تمام خدشات درست تھے اور فیض حمید نے بالآخر اپنی ماضی کی غلطیوں کا خمیازہ بھگت لیا۔عطا تارڑ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 2018ء کے انتخابات سے پہلے فیض حمید نے ایک مخصوص سیاسی جماعت کو پروموٹ کیا، اور آج ان کے خلاف کی جانے والی کارروائی اسی کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے فوج کے اندر موجود احتساب کے نظام کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ایک اچھا قدم ہے اور اس پر تنقید کے بجائے اسے سراہا جانا چاہئے۔وفاقی وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ فوج کے اندر ایک کڑا احتساب کا نظام موجود ہے جو میرٹ پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فیض حمید کا سیاست میں شامل ہونے کا ایک لنک ہے، اور ایسا لگتا ہے کہ فیض حمید کی مخصوص سیاسی جماعت کے ساتھ وابستگی کے حوالے سے شواہد سامنے آئے ہیں۔عطا تارڑ نے مزید کہا کہ آج کی کارروائی سے ایک بڑا اور کلیئر پیغام ملا ہے کہ جو بھی آئین و قانون کے خلاف چلے گا اس کا احتساب ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ فیض حمید کے خلاف کرپشن اور سیاسی مداخلت کے الزامات موجود تھے اور پاک فوج نے ایک درست قدم اٹھایا ہے۔
دوسری جانب مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما رانا ثنا اللہ نے بھی اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ سب کو معلوم تھا کہ فیض حمید کے خلاف انکوائری ہو رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس ایکشن سے ادارے کے اعتماد میں اضافہ ہوگا۔رانا ثنا اللہ نے یاد دلایا کہ فیض آباد دھرنے کے معاملے پر معاہدے میں فیض حمید کے دستخط موجود ہیں اور یقیناً انکوائری کے عمل میں یہ چیزیں شامل ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ فیض آباد دھرنے کے دوران لوگوں کو مینج کرکے بٹھایا گیا تھا، اور یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے تانے بانے بھی فیض حمید سے ملتے تھے، اگرچہ اس کے شواہد موجود نہیں ہیں۔ان بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں نے فیض حمید کے خلاف کی جانے والی کارروائی کو ایک درست قدم قرار دیا ہے، اور اس کے نتیجے میں مستقبل میں فوج کے اندر شفافیت اور احتساب کے نظام پر اعتماد مزید بڑھ سکتا ہے۔
Author: صدف ابرار
-

فیض حمید کی تحویل ایک اہم فیصلہ، احتساب کا درست اقدام، عطا تارڑ
-

شیخ رشید نے ملک میں ستمبر تک ٹیکنوکریٹ حکومت بننے کی پیش گوئی کر دی
راولپنڈی: عوامی مسلم لیگ کے سربراہ اور سابق وفاقی وزیر شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ وہ ستمبر تک ملک میں ٹیکنوکریٹ حکومت بنتی ہوئی دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بیان راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دیا۔شیخ رشید احمد نے اس موقع پر مزید کہا کہ ان کا گیٹ نمبر چار سے جنم جنم کا رشتہ رہا ہے، مگر اس کے باوجود انہیں 40 دن کے چلے پر لگا دیا گیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اس دوران ان کا وزن 40 کلو تک کم ہوگیا ہے۔سابق وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ کبھی بھی یہ نہیں سوچا تھا کہ گیٹ نمبر چار والے انہیں اٹھا کر لے جائیں گے۔ انہوں نے تجویز دی کہ عام معافی کا اعلان کیا جانا چاہیے تاکہ موجودہ صورتحال میں کشیدگی کم ہو سکے۔شیخ رشید کی اس پیش گوئی اور ان کے بیانات نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ان کے مطابق ملک میں ٹیکنوکریٹ حکومت کا قیام سیاسی محاذ پر بڑی تبدیلیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ان کی یہ پیش گوئی کس حد تک درست ثابت ہوتی ہے۔
-

آنے والے دنوں میں "بہت بڑے بت گرنے ہیں، فیصل واوڈا
سابق آرمی چیف جنرل (ر) فیض حمید کو فوجی تحویل میں لینے اور ان کے خلاف کورٹ مارشل کے عمل کے آغاز پر سینیٹر فیصل واوڈا نے اہم ردعمل دیا ہے۔ ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فیض حمید اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) ایک ہی نام ہے۔ واوڈا نے زور دے کر کہا کہ یہ محض آغاز ہے اور یہ معاملہ بہت دور تک جائے گا۔ انہوں نے پیشن گوئی کی کہ آنے والے دنوں میں "بہت بڑے بت گرنے ہیں”۔سینیٹر فیصل واوڈا نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ صرف کرپشن تک محدود نہیں رہے گا۔ ان کے مطابق، پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت بھی اس میں ملوث ہے۔ واوڈا نے فیض آباد دھرنا کیس کو "بہت چھوٹا” قرار دیتے ہوئے کہا کہ آنے والے وقت میں پی ٹی آئی کے بانی اور پارٹی کی پوری تنظیم "زمین پر لیٹ جائے گی”۔
فیصل واوڈا نے اس کارروائی کو پاکستان کے لیے ایک "زبردست فیصلہ” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی ملک کو نقصان پہنچائے گا، اس کا احتساب ہو گا۔ واوڈا نے زور دے کر کہا کہ فیض حمید اور تحریک انصاف ایک ہی ہیں۔سینیٹر نے پاکستانیوں کو مشورہ دیا کہ انہیں اس وقت جشن منانا چاہیے کیونکہ پاکستان "حقیقی طور پر ترقی کی طرف جا رہا ہے”۔ انہوں نے تجویز دی کہ سیاستدانوں کو سیاست کرنی چاہیے اور اداروں کو ان کا کام کرنے دینا چاہیے۔ واوڈا نے کہا کہ اب ملک میں احتساب کا عمل نظر آئے گا، جو کہ ان کے خیال میں ملک کے مستقبل کے لیے مثبت ہے۔یہ بیانات پاکستان کی سیاسی صورتحال میں ایک اہم موڑ کی نشاندہی کرتے ہیں، جہاں سابق فوجی افسران اور سیاسی جماعتوں کے درمیان تعلقات کی تحقیقات کا عمل شروع ہو چکا ہے۔
-

اسلام آباد میں یوم آزادی کی تیاریاں: پولیس کا فلیگ مارچ اور سخت سیکیورٹی انتظامات
اسلام آباد: پاکستان کے 76ویں یوم آزادی کے موقع پر دارالحکومت میں سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں اسلام آباد پولیس نے ایک شاندار فلیگ مارچ کا انعقاد کیا، جس میں شہر کے مختلف علاقوں کا احاطہ کیا گیا۔ ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق، یہ فلیگ مارچ اسپورٹس کمپلیکس سے شروع ہوا اور مختلف اہم شاہراہوں سے گزرتے ہوئے واپس اسپورٹس کمپلیکس پر اختتام پذیر ہوا۔ اس مارچ کی قیادت ایس ایس پی آپریشنز محمد ارسلان شاہزیب نے کی، جبکہ اس میں سینئر پولیس افسران، ٹریفک پولیس، ڈولفن اسکواڈ اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندے شامل تھے۔پولیس ترجمان نے بتایا کہ اس فلیگ مارچ کا مقصد صرف یوم آزادی کی خوشیوں کا اظہار ہی نہیں، بلکہ شہر میں امن و امان کے قیام اور قومی اتحاد و یگانگت کے فروغ کے لیے اسلام آباد پولیس کے پختہ عزم کا اظہار بھی تھا۔
اس موقع پر خصوصی گفتگو کرتے ہوئے، ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) اسلام آباد پولیس نے اہم انکشاف کیا کہ یوم آزادی کے موقع پر سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "ہم سوشل میڈیا کی خصوصی مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔” یہ بیان موجودہ دور میں سائبر سیکیورٹی کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ڈی آئی جی نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ "مذہبی اور فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔” انہوں نے زور دے کر کہا کہ "کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔” یہ بیان حکومت کی طرف سے امن و امان کے قیام کے لیے صفر برداشت کی پالیسی کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ فلیگ مارچ اور سیکیورٹی کے سخت انتظامات یوم آزادی کے موقع پر ممکنہ دہشت گردی کے خطرات کے پیش نظر کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ شہریوں کی حفاظت ان کی اولین ترجیح ہے اور وہ یوم آزادی کی تقریبات کو پرامن طریقے سے منانے کے لیے ہر ممکن اقدام کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا کی مانیٹرنگ ایک اہم قدم ہے، کیونکہ حالیہ برسوں میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو اکثر غلط معلومات اور نفرت انگیز مواد پھیلانے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس مانیٹرنگ کو شہریوں کی رازداری اور آزادی اظہار کے حقوق کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جانا چاہیے۔یوم آزادی کی تیاریوں کے حوالے سے شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ پولیس کے ان اقدامات کا خیرمقدم کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ اس سال کی تقریبات پرامن اور پرجوش ماحول میں منائی جائیں گی۔ بہت سے لوگوں نے اپنے گھروں اور گاڑیوں پر قومی پرچم لگانا شروع کر دیا ہے، جو قومی جذبے کی عکاسی کرتا ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق، یوم آزادی کے موقع پر مختلف سرکاری اور نجی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن میں پرچم کشائی کی تقریبات، ثقافتی نمائشیں اور موسیقی کے پروگرام شامل ہیں۔ ان تمام تقریبات کے دوران سخت سیکیورٹی انتظامات کیے جائیں گے تاکہ شہریوں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔یوم آزادی کی اس تیاری سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اور سیکیورٹی ادارے اس اہم قومی دن کو پرامن طریقے سے منانے کے لیے پرعزم ہیں، جبکہ ساتھ ہی وہ ملک کی سلامتی اور شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے بھی ہر ممکن اقدام کر رہے ہیں۔ -

حسینہ واجد کا تختہ الٹنے والے طلباء رہنما پہلی بار کسی پاکستانی ٹی وی پر، 1500 سے زائد طلبا کی شہادت کا الزام
معروف پاکستانی اینکر مبشر لقمان کے پروگرام "کھرا سچ” میں ڈھاکہ یونیورسٹی کے طلبا نے شیخ حسینہ کی حکومت پر سنگین الزامات عائد کیے۔ پروگرام کے دوران طلبا نے حکومت کو ظالمانہ قرار دیتے ہوئے بتایا کہ شیخ حسینہ کے دور حکومت میں 1500 سے زائد طلبا کو تشدد کے واقعات میں شہید کیا گیا ہے۔طلبا نے حسینہ واجد کی دوبارہ حکومت میں آنے کی شدید مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت نے بنگلہ دیش میں انسانی حقوق کی پامالی کی تمام حدود پار کر دی ہیں۔ طلبا کی تنظیم نے مزید کہا کہ جو بھی شیخ حسینہ کو پناہ دے گا وہ ہمارے دشمنوں میں شمار کیا جائے گا۔
طلبا نے حسینہ واجد کی جانب سے انہیں "رضا کار” کہے جانے اور پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی اور امریکی سی آئی اے سے پیسے لینے کے الزامات کو بے بنیاد اور جھوٹا قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حسینہ واجد کی حکومت عوام کے حقوق کی پامالی اور جبر پر مبنی ہے، اور ان کی یہ کوشش ہے کہ ہر وہ آواز جو ان کی حکومت کے خلاف اٹھتی ہے، اسے دبایا جائے۔پروگرام میں شرکت کرنے والے طلبا نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ بنگلہ دیش میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے اور شیخ حسینہ کی حکومت کے خلاف اقدامات اٹھائے۔ مبشر لقمان کے اس پروگرام نے نہ صرف بنگلہ دیش میں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی توجہ حاصل کی ہے، اور شیخ حسینہ کی حکومت کے خلاف اٹھنے والی ان آوازوں کو مزید تقویت بخشی ہے۔ -

سعودی عرب نے ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے،وزیراعظم کا امام مسجد نبوی سے ملاقات
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اتوار کو مسجد نبوی ﷺ کے امام ڈاکٹر صلاح محمد البدیر سے ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان گہرے تعلقات کی تجدید کی گئی۔ یہ ملاقات پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تاریخی روابط کی عکاسی کرتی ہے۔وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، شہباز شریف نے امام مسجد نبوی کے دورہ پاکستان کو "باعث اعزاز” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ "آپ کے دورے سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید بہتر ہوں گے۔” یہ بیان دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کی نشاندہی کرتا ہے۔
ملاقات کے دوران، ڈاکٹر صلاح محمد البدیر نے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور دیگر سعودی قیادت کی جانب سے نیک خواہشات کا پیغام پہنچایا۔ اس موقع پر وزیراعظم نے سعودی فرمانروا کی صحت اور طویل عمر کے لیے خصوصی دعا کی، جو کہ دونوں ممالک کے درمیان گہرے روحانی رشتے کی عکاسی کرتا ہے۔شہباز شریف نے اس موقع پر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے لیے بھی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ "پاکستان کے عوام کے دلوں میں خادم الحرمین الشریفین اور سعودی قیادت کے لیے بے انتہا عزت و احترام ہے۔” یہ بیان پاکستانی عوام کے سعودی قیادت کے ساتھ جذباتی لگاؤ کو ظاہر کرتا ہے۔
وزیراعظم نے سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو دی جانے والی مسلسل حمایت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ "سعودی عرب نے ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ "ہمارا سعودی عرب سے رشتہ دہائیوں پر محیط ہے۔ ہمارے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات نئی بلندیوں کی جانب گامزن ہیں۔” یہ بیان دونوں ممالک کے درمیان تاریخی اور مستقبل کے تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔امام مسجد نبوی ﷺ نے بھی اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان میں انہیں دی جانے والی پرتپاک میزبانی پر وزیراعظم کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔
اس اہم ملاقات میں متعدد اعلیٰ حکام بھی شریک تھے، جن میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر مذہبی امور چوہدری سالک حسین، علمائے کرام، پاکستان میں تعینات سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی اور دیگر سعودی حکام شامل تھے۔ یہ شمولیت اس ملاقات کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتی ہے۔ملاقات کے اختتام پر، وزیراعظم نے امام مسجد نبوی ﷺ اور ان کے وفد کے اعزاز میں ایک شاندار عشائیہ کا اہتمام کیا۔ یہ تقریب دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور تعاون کے جذبے کی عکاسی کرتی ہے۔یہ ملاقات پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان موجودہ مضبوط تعلقات کو مزید فروغ دینے کا ایک اہم موقع تھی۔ اس سے دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، معاشی اور ثقافتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی امید پیدا ہوئی ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اس طرح کی اعلیٰ سطح کی ملاقاتیں خطے میں امن و استحکام کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ -

کراچی : اٹھائیسویں چیف آف دی نیول اسٹاف اوپن گالف چیمپئن شپ
رائل پام گالف کلب کے احمد بیگ نے 28ویں چیف آف دی نیول اسٹاف (سی این ایس) اوپن گالف چیمپئن شپ میں شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے پروفیشنل کیٹیگری میں پہلی پوزیشن حاصل کرلی۔ احمد بیگ نے 12 انڈر پار کے ساتھ اپنی فتح کو یقینی بنایا، جس نے انہیں اس سال کے چیمپئن کا اعزاز دلایا۔ترجمان پاک بحریہ کے مطابق، مرگلہ گرینز گالف کلب کے شبیر اقبال، جو دفاعی چیمپئن بھی تھے، 9 انڈر پار کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔ شبیر اقبال نے اپنے اعزاز کا دفاع کرنے کی بھرپور کوشش کی، لیکن احمد بیگ کی غیر معمولی کارکردگی کے سامنے کامیاب نہ ہوسکے۔پاکستان نیوی کے محمد عالم نے بھی شاندار کھیل پیش کیا اور 8 انڈر پار کے ساتھ تیسری پوزیشن حاصل کی۔
چیمپئن شپ کے دیگر کیٹیگریز میں بھی سخت مقابلہ دیکھنے کو ملا۔ امیچرز گراس کیٹیگری میں عمر خالد نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے میدان مارلیا۔ جبکہ سینئر امیچرز گراس کا ٹائٹل اظہر عباس نے اپنے نام کیا۔اسلام آباد کے محمد طارق نے سینئر پروفیشنل کیٹیگری میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ جونئیر پروفیشنل کیٹیگری میں محمد اشاس نے کامیابی حاصل کی اور اپنی محنت اور مہارت سے سب کو متاثر کیا۔چیمپئن شپ کی مجموعی انعامی رقم ایک کروڑ اکیس لاکھ روپے تھی، جس نے اس ایونٹ کو نہ صرف کھلاڑیوں کے لیے بلکہ گالف کے شائقین کے لیے بھی ایک یادگار تجربہ بنا دیا۔ سی این ایس اوپن گالف چیمپئن شپ ہر سال پاک بحریہ کے زیر اہتمام منعقد کی جاتی ہے اور اس کا شمار پاکستان کے بڑے گالف ایونٹس میں ہوتا ہے۔ -

اولمپین ارشد ندیم کو قومی ہیرو کا اعزاز: پنجاب اسمبلی کی تاریخی قرارداد
لاہور: پنجاب اسمبلی نے آج ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے اولمپک گولڈ میڈلسٹ ارشد ندیم کو قومی ہیرو کا درجہ دینے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی۔ یہ قرارداد رکن اسمبلی سمیع اللہ خان نے پیش کی، جسے ایوان کے تمام ارکان نے زوردار تالیوں سے خیرمقدم کیا۔قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ ارشد ندیم نے تاریخ رقم کی ہے، کیونکہ وہ اولمپک میں انفرادی طور پر گولڈ میڈل حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی کھلاڑی بن گئے ہیں۔ اسمبلی نے نہ صرف ان کی اس کامیابی پر مبارکباد پیش کی بلکہ اولمپک ریکارڈ قائم کرنے پر بھی خراج تحسین پیش کیا۔
قرارداد میں مزید کہا گیا کہ ارشد ندیم کے اس تاریخی کارنامے نے پوری قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے اور پاکستان کا نام عالمی برادری میں روشن کیا ہے۔ یہ کامیابی نہ صرف ارشد ندیم کی ذاتی کامیابی ہے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک اعزاز ہے۔قرارداد میں ارشد ندیم کے سفر کو خصوصی طور پر سراہا گیا۔ پنجاب کے چھوٹے سے شہر میاں چنوں سے شروع ہونے والا یہ سفر عالمی سٹیج تک پہنچا، جو ان کی لگن، محنت اور استقامت کی زندہ مثال ہے۔ اس سفر نے ثابت کیا ہے کہ محدود وسائل کے باوجود، عزم اور محنت سے بلندیوں کو چھوا جا سکتا ہے۔
اسمبلی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ارشد ندیم اب پاکستانی نوجوانوں کے لیے ایک رول ماڈل بن گئے ہیں۔ ان کی کامیابی سے ملک بھر کے نوجوانوں کو یہ پیغام ملا ہے کہ وہ بھی اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدل سکتے ہیں۔اس موقع پر بولتے ہوئے، وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ حکومت کھیلوں کی ترقی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرے گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ صوبے بھر میں نئے کھیل کے میدان اور تربیتی مراکز قائم کیے جائیں گے تاکہ نوجوان نسل کو اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کا موقع مل سکے۔
اپوزیشن لیڈر نے بھی ارشد ندیم کی کامیابی کو سراہا اور کہا کہ یہ وقت ہے کہ ہم سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھ کر ملک میں کھیلوں کی ترقی کے لیے مل کر کام کریں۔اسمبلی نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ ارشد ندیم کو جلد از جلد ایوان میں مدعو کیا جائے تاکہ ان کی کامیابی کو سرکاری طور پر تسلیم کیا جا سکے اور انہیں خصوصی اعزاز سے نوازا جا سکے۔
یہ قرارداد پاکستان میں کھیلوں کی اہمیت کو اجاگر کرنے اور کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک اہم قدم سمجھی جا رہی ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ اس سے ملک میں کھیلوں کے شعبے میں نئی جان پڑے گی اور مزید نوجوان کھیلوں کی طرف راغب ہوں گے۔ -

حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سرکاری افسران کی غیر ضروری مراعات میں کمی کرے ، لیاقت بلوچ
لاہور میں ایک پریس کانفرنس کے دوران، جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے حکومت کے ساتھ حال ہی میں طے پائے معاہدے پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی اس معاہدے کی عملداری کی نگرانی کرے گی اور اگر حکومت اپنے وعدوں پر عمل کرنے میں ناکام رہی تو دوبارہ احتجاجی تحریک شروع کرنے کا عندیہ دیا۔ لیاقت بلوچ نے بتایا کہ معاہدے میں توانائی کے بڑھتے ہوئے نرخوں کو ایک اہم مسئلہ کے طور پر نشاندہی کی گئی ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ جماعت اسلامی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سرکاری افسران کی غیر ضروری مراعات میں کمی کرے اور ان کے لیے گاڑیوں کی سائز کو محدود کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ، انہوں نے مطالبہ کیا کہ متوسط طبقے کو ریلیف دیا جائے اور بڑے زمینداروں پر ٹیکس عائد کیا جائے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی افواہوں کا بھی جواب دیا، جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ جماعت اسلامی نے بجلی کے نرخوں میں اضافے کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ معاہدہ رات کو ہوا، جبکہ بجلی کے نرخوں میں اضافہ اس سے پہلے ہی کر دیا گیا تھا۔نائب امیر نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی اپنے احتجاجی جلسے جاری رکھے گی اور اگر حکومت معاہدے پر عمل کرنے میں ناکام رہی تو وہ دوبارہ دھرنا دینے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔اپنے خطاب میں، بلوچ نے پاکستانی کھلاڑی ارشد ندیم کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک میں کھیلوں کی صلاحیت کا ثبوت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر کھیلوں کو مزید فروغ دیا جائے تو پاکستان ہر شعبے میں ترقی کر سکتا ہے۔لیاقت بلوچ نے اقلیتوں کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام اقلیتوں کے حقوق کا سب سے بڑا محافظ ہے اور کسی کو بھی مذہب تبدیل کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اقلیتوں کے تحفظ سے ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو گا۔جماعت اسلامی کے سربراہ حافظ نعیم الرحمان کے آج مزید تفصیلات جاری کرنے کی توقع ہے، جس سے پارٹی کے مستقبل کے لائحہ عمل پر مزید روشنی پڑے گی۔ -

مولانا فضل الرحمان کا تاجر کنونشن میں خطاب: ملکی معیشت کی بہتری پر زور
جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی-ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پشاور میں منعقدہ ایک تاجر کنونشن میں ملک کی موجودہ معاشی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت ملک کی معیشت کی بہتری کے لیے اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔اپنے خطاب میں مولانا فضل الرحمان نے ملک کی ترجیحات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ امن اور بہتر معیشت کو سب سے زیادہ اہمیت دی جانی چاہیے۔ انہوں نے تمام متعلقہ فریقوں کو یکجا ہونے کی ضرورت پر زور دیا، جو کہ موجودہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے انتہائی اہم ہے۔جے یو آئی سربراہ نے قانون سازی کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ انسان کی جان، مال اور عزت کا تحفظ درست قانون سازی سے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر کوئی کسی کی حق تلفی کرے تو اس کا حل کیا ہوگا، جس سے موجودہ قانونی نظام پر سوالیہ نشان لگایا۔
مولانا فضل الرحمان نے ملک کی موجودہ صورتحال کو "انتہائی نازک” قرار دیتے ہوئے کہا کہ جمعیت علماء اسلام ملک کی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے ہمیشہ آواز اٹھاتی رہی ہے۔ انہوں نے حاضرین سے پوچھا کہ کیا واقعی ملک میں امن اور مستحکم معیشت موجود ہے، اور خطے میں پاکستان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔موجودہ پارلیمانی نظام پر تنقید کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اسمبلی میں بیٹھے لوگ عوام کے لیے نہیں سوچتے، اور وہاں عوام کے "جعلی نمائندے” موجود ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا پاکستان کے 77 سالہ وجود میں ہمارے طور طریقے تبدیل ہوئے ہیں۔ٹیکس کے نظام پر تنقید کرتے ہوئے جے یو آئی سربراہ نے کہا کہ مسلسل نئے ٹیکس لگائے جا رہے ہیں، جبکہ عوام کو معلوم ہے کہ یہ ٹیکس بیرونی قرضوں کی ادائیگی میں استعمال ہوں گے۔ انہوں نے طنز کیا کہ "صرف سانس لینے پر ٹیکس نہیں ہے”، جس سے موجودہ ٹیکس نظام کی شدت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔مولانا فضل الرحمان نے اپنے خطاب کے اختتام پر زور دیا کہ ملک کو چلانے کے لیے مضبوط سیاسی قیادت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر کام کرنا ہوگا۔