وفاقی حکومت کی جانب سے سندھ کے گورنر کو تبدیل کرنے کا امکان ہے، اور اس سلسلے میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما بشیر میمن کے نام پر غور کیا جا رہا ہے۔ گورنر سندھ کامران ٹیسوری کی جگہ بشیر میمن کو گورنر سندھ کے عہدے پر تعینات کیے جانے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق، وفاقی حکومت نے سندھ کے گورنر کی تبدیلی کے حوالے سے سوچ بچار کا آغاز کر دیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان اس تبدیلی کے حوالے سے بات چیت مکمل ہو چکی ہے، اور نئے گورنر سندھ کے لیے بشیر میمن کے نام پر اتفاق رائے ہو گیا ہے۔
گورنر سندھ کی تبدیلی کے پیچھے مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں، جن میں سیاسی مفادات، انتظامی کارکردگی، اور صوبے میں حکومت کی پالیسیوں کے موثر نفاذ کی ضرورت شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق، گورنر سندھ کی تبدیلی آئندہ چند روز میں متوقع ہے۔ اس تبدیلی کا مقصد صوبے میں وفاقی حکومت کی پالیسیوں کو مزید موثر انداز میں نافذ کرنا اور حکومتی امور کو بہتر انداز میں چلانا ہے۔گورنر سندھ کی تبدیلی ایک اہم سیاسی اور انتظامی قدم ہے، جس کا اثر سندھ کے حکومتی امور اور وفاقی حکومت کی پالیسیوں پر پڑ سکتا ہے۔ بشیر میمن کی تعیناتی کے بعد صوبے میں نئے حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کی توقع کی جا رہی ہے، جو کہ سندھ کی ترقی اور بہتری کے لیے اہم ہو سکتے ہیں۔
Author: صدف ابرار
-

گورنر سندھ کی تبدیلی قریب، بشیر میمن کو نئے گورنر کے طور پر نامزد کیے جانے کا امکان
-

کرہ ارض شمسی طوفان کی لپیٹ میں، سیٹلائٹس، پاور گرڈ، اور خلائی اسٹیشنز بھی خطرے میں
کرہ ارض اس وقت ایک شدید شمسی طوفان کی لپیٹ میں ہے، جو سیارے کی ٹیکنالوجی اور بنیادی ڈھانچے کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ سورج سے اُٹھنے والا جیو میگنیٹک طوفان زمین کے قریب پہنچنے لگا ہے، جس کے باعث سیٹلائٹس، پاور گرڈز، اور خلائی اسٹیشنز کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ انسٹی ٹیوٹ آف اسپیس ٹیکنالوجی اسلام آباد نے اس سلسلے میں سورج کی سطح کی خصوصی تصاویر جاری کی ہیں تاکہ عوام کو اس اہم مسئلے سے آگاہ کیا جا سکے۔ترجمان سپارکو کے مطابق، اس وقت تین بڑے کورونل ماس ایجیکشنز (CMEs) سیارہ زمین کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ ان میں سے پہلے دو ایم کلاس سولر فلیئرز 7 اگست کو جاری ہوئے تھے۔ ابتدائی CMEs نسبتاً معمولی تھے، تاہم تیسرا X1.3-کلاس سولر فلئیر ان سے کہیں زیادہ طاقتور ہے۔ مزید M-کلاس فلیئرز بھی سورج کی سطح سے جاری ہوئے ہیں، جو اس طوفان کی شدت میں اضافے کا اشارہ دیتے ہیں۔ترجمان سپارکو نے خبردار کیا ہے کہ سورج کی سطح سے اُٹھنے والی جیو میگنیٹک لہروں کے اثرات اگلے تین سے چار دن تک زمین پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ یہ طوفان گزشتہ ایک دہائی کے دوران سب سے بڑی شمسی سرگرمی کی نشاندہی کرتا ہے، اور اس کے اثرات دنیا بھر میں مختلف سطحوں پر نظر آ سکتے ہیں۔
شمسی طوفان کے نتیجے میں مختلف شعبوں میں مشکلات کا سامنا کیا جا سکتا ہے: شمسی طوفان کے دوران پاور گرڈز کی خرابیاں یا بلیک آؤٹ ہو سکتے ہیں، جو کہ بجلی کی فراہمی میں خلل ڈال سکتے ہیں۔ سیٹلائٹس جو زمین کے مدار میں گردش کر رہے ہیں، ان کی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے یا وہ مکمل طور پر غیر فعال ہو سکتے ہیں۔ سیلولر فون اور جی پی ایس نیٹ ورک بھی شدید متاثر ہو سکتے ہیں، جس سے کمیونیکیشن اور نیویگیشن میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔اس طوفان کے اثرات کو کم کرنے کے لیے ماہرین نے مختلف احتیاطی تدابیر اپنانے کا مشورہ دیا ہے۔ سیٹلائٹس اور پاور گرڈز کے نظام کی نگرانی اور حفاظتی تدابیر کو بہتر بنایا جانا چاہیے، اور خلائی اسٹیشنز کو شمسی طوفان کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے خصوصی اقدامات جانے چاہئے،یہ شمسی طوفان ایک یاد دہانی ہے کہ قدرتی اثرات ہماری ٹیکنالوجی اور زندگی کے مختلف پہلوؤں پر بڑے اثرات ڈال سکتے ہیں۔ سائنسدانوں اور ماہرین کو اس طوفان کی شدت اور ممکنہ اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ ہم اس کے ممکنہ نقصانات سے بچ سکیں اور اپنے بنیادی ڈھانچے کو محفوظ رکھ سکیں۔ -

حکومت نے سیکرٹری آئی ٹی کی تعیناتی کے لیے پیشہ ور ماہرین کی تلاش کا آغاز کر دیا
اسلام آباد: وفاقی حکومت نے بیوروکریسی سے سیکرٹری آئی ٹی کی تعیناتی کے بجائے آئی ٹی کے شعبے سے پیشہ ور ماہر کی تعیناتی کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں درپیش چیلنجز اور ترقیاتی ضروریات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق، وزیراعظم نے سیکرٹری آئی ٹی کی تعیناتی کے لیے بھاری معاوضے پر پیشہ ور ماہر کی تلاش شروع کر دی ہے۔ سیکرٹری آئی ٹی کے عہدے کے لیے اشتہار جلد جاری کیا جائے گا، جس میں مسابقتی عمل کے ذریعے امیدواروں کا انتخاب کیا جائے گا۔سیکرٹری آئی ٹی کے عہدے کے لیے امیدواروں کو آئی ٹی کے شعبے میں کم از کم 20 سال کا تجربہ حاصل ہونا ضروری ہوگا۔ عمر کی بالائی حد 60 سال رکھی گئی ہے، تاکہ تجربہ کار اور ماہر شخص اس اہم عہدے پر تعینات کیا جا سکے۔
سیکرٹری آئی ٹی کی تعیناتی کنٹریکٹ کی بنیاد پر دو سال کے لیے ہوگی، جسے مزید توسیع کی جا سکے گی۔ اس عہدے کی تنخواہ خصوصی پیشہ ورانہ پے اسکیل پر 15 سے 20 لاکھ روپے تک ہوگی، جو اس عہدے کی اہمیت اور ذمہ داریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے طے کی گئی ہے۔یہ فیصلہ حکومت کی جانب سے آئی ٹی کے شعبے کی ترقی اور جدید چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک اہم اقدام ہے۔ اس اقدام سے حکومت کا مقصد آئی ٹی کے شعبے میں ماہرین کی مدد سے جدید ٹیکنالوجی کی پالیسیوں اور اقدامات کو مؤثر انداز میں نافذ کرنا ہے۔حکومت کی جانب سے اس پیشہ ور سیکرٹری آئی ٹی کی تلاش میں سلیکشن کے معیار کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے، تاکہ ملک کی آئی ٹی کی ترقیاتی ضروریات کو پورا کیا جا سکے اور جدید ٹیکنالوجی کے چیلنجز کا مؤثر جواب دیا جا سکے۔یہ تبدیلی حکومت کی طرف سے آئی ٹی کی اہمیت کو تسلیم کرنے اور اس شعبے میں بہترین صلاحیتوں کی تلاش کے عزم کی علامت ہے۔ اس سے نہ صرف ملک کی آئی ٹی پالیسیوں میں بہتری آئے گی بلکہ ملکی ترقی میں بھی ایک نیا باب رقم ہوگا۔
-

ترسیلات زر میں نمایاں اضافہ: جولائی 2024ء میں 3 ارب ڈالر موصول
کراچی: پاکستانی معیشت کے لیے ایک خوش آئند خبر سامنے آئی ہے، جس میں ترسیلات زر میں 47 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق، جولائی 2024ء کے دوران بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے ملک میں 3 ارب ڈالر کی ترسیلات زر بھیجیں۔سٹیٹ بینک کے مطابق، جولائی 2024ء میں ترسیلات زر کی مجموعی رقم 3 ارب ڈالر رہی، جو کہ پچھلے سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 47.6 فیصد زیادہ ہے۔ یہ اضافہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ملک کی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے کی جانے والی کاوشوں کو ظاہر کرتا ہے۔
جولائی 2024ء میں موصول ہونے والی ترسیلات زر کے اہم ذرائع میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، برطانیہ، اور امریکہ شامل ہیں۔ سعودی عرب سے سب سے زیادہ 761.1 ملین ڈالر کی ترسیلات زر موصول ہوئیں، جبکہ متحدہ عرب امارات سے 611.1 ملین ڈالر، برطانیہ سے 443.5 ملین ڈالر، اور امریکہ سے 300.1 ملین ڈالر موصول ہوئے۔ترسیلات زر میں اس غیر معمولی اضافے سے پاکستانی معیشت کو استحکام ملے گا، خاص طور پر ان حالات میں جب ملک کو بیرونی قرضوں کی ادائیگی اور درآمدات کے لیے زرمبادلہ کی ضرورت ہے۔ ترسیلات زر کی آمدنی ملک کی معاشی ترقی کے لیے ایک اہم ستون ہے، جو نہ صرف زرمبادلہ کے ذخائر کو مضبوط کرتی ہے بلکہ لاکھوں خاندانوں کی زندگی کو بہتر بنانے میں بھی معاون ثابت ہوتی ہے۔
حکومت پاکستان اور سٹیٹ بینک کی جانب سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی سہولت کے لیے اٹھائے گئے اقدامات، جیسے کہ بینکنگ چینلز کی بہتری اور ترسیلات زر کے لیے جدید سہولیات کی فراہمی، اس نمایاں اضافے کا ایک بڑا سبب ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ مہینوں میں بھی ترسیلات زر میں مزید اضافہ ہو گا، جس سے ملکی معیشت کو مزید تقویت ملے گی۔ماہرین کے مطابق، اگر یہی رجحان جاری رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں مزید بہتری آئے گی، جو ملک کی معیشت کے لیے ایک خوش آئند بات ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، حکومت کی جانب سے مزید موثر اقدامات اٹھانے کی توقع کی جا رہی ہے تاکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ملک میں سرمایہ کاری اور ترسیلات زر کے حوالے سے مزید سہولیات فراہم کی جا سکیں۔یہ اضافہ نہ صرف معاشی استحکام کا باعث بنے گا بلکہ ملک کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گا، جو کہ ایک مثبت پیش رفت ہے۔ -

مسلمان کے طور پر خود کو محفوظ نہیں سمجھتا،میئر لندن صادق خان کا تشویش کا اظہار
لندن: حالیہ فسادات اور مظاہروں کے بعد، لندن کے میئر صادق خان نے برطانیہ میں مسلمانوں کی سلامتی اور تشویشات کے حوالے سے اپنی گہری فکر مندی کا اظہار کیا ہے۔ دی گارڈین کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صادق خان نے کہا کہ حالیہ واقعات نے مسلمانوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے اور ان کے دل کو شدید دھچکہ پہنچایا ہے۔ میئر صادق خان نے اپنے انٹرویو میں کہا، "گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ہونے والے فسادات ناقابل یقین ہیں۔ میں ایک مسلمان کے طور پر اب یہاں خود کو محفوظ نہیں سمجھتا۔” ان کا مزید کہنا تھا کہ برطانیہ میں مسلمانوں کو ان کے مذہب اور جلد کے رنگ کی وجہ سے نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس سے وہ خود کو غیر محفوظ اور کمزور محسوس کرتے ہیں۔ صادق خان نے کہا کہ یہ انتہائی دل دہلا دینے والی بات ہے کہ لوگوں کو ان کے مذہبی عقائد یا نسل کی بنیاد پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔صادق خان نے برطانیہ میں حالیہ بچوں کی ہلاکتوں کی بھی شدید مذمت کی اور کہا کہ "میرا دل برطانیہ میں ہونے والی ان ہلاکتوں پر دل شکستہ ہے۔” ان ہلاکتوں نے برطانیہ میں فسادات کو جنم دیا، جس نے ملک بھر میں عدم استحکام اور خوف کی فضا پیدا کر دی ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ دنوں برطانیہ میں تین بچوں کی ہلاکتوں نے بڑے پیمانے پر فسادات کو جنم دیا، جس کے نتیجے میں انتہا پسندانہ اور دائیں بازو کے گروہوں نے مظاہرے شروع کیے۔ ان فسادات نے نہ صرف معاشرتی تانے بانے کو متاثر کیا بلکہ مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے لیے ایک بڑا خطرہ بھی پیدا کر دیا ہے۔
صادق خان نے برطانیہ کے حکام اور معاشرتی رہنماؤں سے اپیل کی ہے کہ وہ مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کریں۔ انہوں نے کہا کہ "برطانیہ کو ایک ایسا ملک بننا چاہیے جہاں ہر مذہب اور نسل کے لوگ محفوظ اور محترم محسوس کریں۔صادق خان کے اس بیان نے برطانوی عوام میں ہلچل مچا دی ہے، اور مختلف سیاسی و سماجی حلقوں میں اس پر بحث جاری ہے۔ مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تشویشات اور حالیہ واقعات نے برطانوی معاشرت میں موجود مسائل کو اجاگر کیا ہے، جس کے حل کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ -

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا ارشد ندیم سے ٹیلیفونک رابطہ ،گولڈ میڈل جیتنے پر مبارکباد
پیرس اولمپکس میں تاریخی کامیابی حاصل کرنے والے پاکستانی ایتھلیٹ ارشد ندیم کو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ٹیلیفون پر مبارکباد دی۔ ارشد ندیم نے 92.97 میٹر کی شاندار تھرو کے ساتھ نہ صرف گولڈ میڈل اپنے نام کیا بلکہ عالمی ریکارڈ بھی قائم کیا، جس پر پوری قوم کا سر فخر سے بلند ہو گیا۔وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ارشد ندیم سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "آپ کی شاندار کارکردگی نے نہ صرف پاکستان کا نام روشن کیا بلکہ آپ کی 92.97 میٹر کی تھرو نے ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا ہے۔ یہ کامیابی پوری قوم کے لیے فخر کا باعث ہے، اور آپ نے اس کارنامے سے قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔”ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق، مراد علی شاہ نے ارشد ندیم کو کراچی آنے کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ "سندھ کے عوام آپ سے ملنے کے لیے بے تاب ہیں۔
کراچی میں آپ کا پرتپاک استقبال ہوگا، اور ہمیں فخر ہے کہ آپ جیسے ہیرو نے پاکستان کا نام عالمی سطح پر بلند کیا ہے۔”اس موقع پر ارشد ندیم نے وزیراعلیٰ کے فون کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا، "آپ کا مجھ سے بات کرنا میرے لیے باعث عزت ہے۔” ارشد ندیم نے وزیراعلیٰ سندھ کو یقین دلایا کہ وہ جلد ہی کراچی آئیں گے اور سندھ کے عوام سے ملیں گے۔ارشد ندیم نے پیرس اولمپکس میں جیولین تھرو مقابلے میں 92.97 میٹر کی تھرو کے ساتھ عالمی ریکارڈ قائم کیا اور گولڈ میڈل جیت کر پاکستان کا نام روشن کیا۔ ان کی اس شاندار کارکردگی پر پوری قوم انہیں مبارکباد پیش کر رہی ہے، اور ان کی کامیابی کا جشن منایا جا رہا ہے۔وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے ارشد ندیم کو دی گئی دعوت اور ان کی کارکردگی پر ہونے والی گفتگو نے ان کی حوصلہ افزائی کی، اور یہ ملاقات پاکستان اور سندھ کے عوام کے لیے ایک یادگار لمحہ ہوگی۔ -

جماعت اسلامی کے کارکنان نے لیاقت باغ میں پودوں کو نقصان پہنچایا، تفصیلات سامنے آگئیں
راولپنڈی: جماعت اسلامی کے کارکنان کی جانب سے لیاقت باغ میں پودوں اور گملوں کو نقصان پہنچانے کی تفصیلات منظر عام پر آگئی ہیں۔ پی ایچ اے (پارکس اینڈ ہارٹی کلچر اتھارٹی) کے ذرائع کے مطابق جماعت اسلامی کے کارکنان نے لیاقت باغ میں تقریباً 400 چھوٹے پودوں اور متعدد گملوں کو نقصان پہنچایا ہے۔پی ایچ اے ذرائع کے مطابق، لیاقت باغ میں ہونے والے نقصان کا تخمینہ لگایا جارہا ہے، اور اس نقصان کی مالیت کا اندازہ لگایا جارہا ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق، کارکنان نے باغ میں لگے 28 ہزار پودوں میں سے 400 سے زائد پودوں کو نقصان پہنچایا، جس سے باغ کی خوبصورتی شدید متاثر ہوئی ہے۔
پی ایچ اے نے یہ بھی بتایا کہ جماعت اسلامی کے کارکنان نے لیاقت باغ میں ٹینٹ سٹی قائم کیا تھا، جس کی وجہ سے باغ کے ماحول اور جمالیات کو بڑا نقصان پہنچا۔ اس کے علاوہ، پی ایچ اے کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی نے لیاقت باغ میں ٹینٹ سٹی قائم کرنے کے لیے کسی قسم کی اجازت نہیں لی تھی۔پی ایچ اے ذرائع نے یہ بھی واضح کیا کہ پودوں اور گملوں کے نقصان کے ازالے کے لیے جماعت اسلامی کو قانونی نوٹس جاری کیے جائیں گے۔ نقصان کی رقم جماعت اسلامی کے قائدین سے وصول کی جائے گی، تاکہ باغ کی بحالی کے کاموں کو جلد از جلد مکمل کیا جاسکے۔لیاقت باغ کی خوبصورتی اور ہریالی کو بحال کرنے کے لیے پی ایچ اے نے فوری اقدامات شروع کر دیے ہیں، جبکہ جماعت اسلامی سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اس نقصان کے ازالے میں تعاون کریں گے۔ -

پاکستان کے زرعی شعبے کی ترقی کے لیے چین کے تجربات سے استفادہ حاصل کرے گے،وزیراعظم شہباز شریف
کراچی: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ چین کی زرعی شعبے میں ترقی قابل تقلید ہے اور پاکستان اس تجربے سے سیکھ کر اپنے زرعی شعبے کو ترقی دینے کے لیے پرعزم ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی میں منعقدہ ایک اہم زرعی نمائش کے دوران کیا، جہاں انہوں نے پاکستان اور چین کے درمیان مضبوط دوستی اور تعاون کے فروغ پر بھی زور دیا۔وزیراعظم نے کہا کہ چین کی زرعی ترقی اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال نے دنیا میں ایک مثال قائم کی ہے، اور پاکستان اس ماڈل سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پاکستان کے ایک ہزار زرعی گریجویٹس کو چین میں ریفرشر کورسز کے لیے بھجوایا جا رہا ہے تاکہ وہ جدید زرعی تکنیکوں اور طریقوں سے واقف ہو سکیں اور ملک کی زرعی پیداوار میں بہتری لا سکیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور چین دوستی کے مضبوط رشتے میں بندھے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مضبوط تجارتی روابط میں تبدیل کرنا انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ اس نمائش میں بڑی تعداد میں چینی سرمایہ کاروں نے شرکت کی، جو دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے فروغ کی علامت ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کا دارومدار زراعت پر ہے اور یہ شعبہ ملک کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ مالی سال میں پاکستان کی زرعی برآمدات 3 ارب ڈالر رہیں، تاہم اس میں مزید اضافے کی گنجائش موجود ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان میں زرعی برآمدات میں اضافے کے وسیع مواقع موجود ہیں، جنہیں بروئے کار لانے کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال اور جدید زرعی طریقوں کا فروغ ناگزیر ہے۔
وزیراعظم نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو مل کر زرعی شعبے کی ترقی پر بھرپور توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کی مدد سے زرعی پیداوار میں اضافہ ممکن ہے اور اس کے لیے حکومت کو تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لانے ہوں گے۔شہباز شریف نے اپنے حالیہ دورہ چین کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے وہاں شانسی صوبے میں زرعی یونیورسٹی کا دورہ کیا اور چینی زرعی ماہرین سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کا مقصد پاکستانی زرعی ماہرین کو جدید زرعی تکنیکوں سے آگاہ کرنا اور انہیں چینی تجربات سے روشناس کرانا تھا تاکہ وہ وطن واپس آ کر پاکستان میں زرعی پیداوار کو بہتر بنا سکیں۔
وزیراعظم نے زور دیا کہ پاکستان کو اپنی زرعی پیداوار میں اضافے کے لیے چین کے تجربات سے سیکھنا ہوگا اور اس شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینا ہوگا۔ انہوں نے اس بات کا عزم کیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں مشترکہ طور پر زرعی شعبے کی ترقی کے لیے بھرپور کوششیں کریں گی تاکہ پاکستان کی زرعی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہو اور ملک کی معیشت کو مستحکم کیا جا سکے۔یہ نمائش پاکستان کے زرعی شعبے میں چین کے تعاون کی ایک اور مثال ہے اور وزیراعظم شہباز شریف کے مطابق یہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کا ایک اہم قدم ہے۔
-

اقلیتی برادری کے لیے سولر پینلز کی تقسیم: وفاقی حکومت کا اہم اقدام
اسلام آباد: وفاقی حکومت نے اقلیتی برادری کے لیے ایک اہم اقدام کے طور پر سولر پینلز کی تقسیم کا اعلان کیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد اقلیتی برادری کو توانائی کے مسائل میں معاونت فراہم کرنا اور انہیں معاشی طور پر مستحکم بنانا ہے۔ذرائع کے مطابق، اس منصوبے کی تیاری مکمل ہو چکی ہے اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اس سلسلے میں وفاقی وزراء پر مشتمل ایک 4 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ اس کمیٹی میں وفاقی وزیر خزانہ، وزیر برائے پاور ڈویژن، وزیر اطلاعات و نشریات، اور وزیر مذہبی امور شامل ہوں گے۔ کمیٹی کا مقصد اقلیتی برادری میں سولر پینلز کی تقسیم کے امکانات کا جائزہ لینا اور اس منصوبے کے حوالے سے سفارشات تیار کرنا ہے۔وزیراعظم نے کمیٹی کو فوری طور پر اجلاس منعقد کرنے اور اپنی سفارشات 10 اگست تک پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اس ہدایت سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے میں سنجیدہ ہے اور جلد از جلد اس پر عمل درآمد کرنا چاہتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے اقلیتی برادری کے لیے سولر پینلز کی تقسیم کا یہ منصوبہ اقلیتوں کے قومی دن کے موقع پر متعارف کروانے کا ارادہ کیا ہے۔ پاکستان میں اقلیتوں کا قومی دن ہر سال 11 اگست کو منایا جاتا ہے، اور اس دن کی مناسبت سے یہ منصوبہ اقلیتی برادری کے لیے ایک تحفہ کے طور پر پیش کیا جائے گا۔اقلیتی برادری کے لیے سولر پینلز کی تقسیم کا یہ منصوبہ نہ صرف ان کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرے گا بلکہ ان کے معاشی حالات میں بہتری لانے کا بھی باعث بنے گا۔ یہ اقدام حکومت کی جانب سے اقلیتوں کے حقوق اور فلاح و بہبود کے لیے کی جانے والی کوششوں کا ایک اہم حصہ ہے۔یہ منصوبہ حکومت کے اس عزم کا مظہر ہے کہ وہ ملک کے تمام شہریوں کی فلاح و بہبود کے لیے یکساں مواقع فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہے، چاہے وہ کسی بھی مذہب یا فرقے سے تعلق رکھتے ہوں۔ اقلیتی برادری کو شمسی توانائی کے ذریعے اپنے گھروں کو روشن کرنے کا موقع فراہم کرکے، حکومت انہیں توانائی کے بحران سے نجات دلانے اور ماحول دوست توانائی کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے اہم کردار ادا کر رہی ہے۔یہ اقدام یقینی طور پر اقلیتی برادری کے لیے ایک اہم اور مثبت تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔
-

وزیراعظم کی زیر صدارت انسداد پولیو سے متعلق اہم اجلاس: ملک سے پولیو کے مکمل خاتمے کا عزم
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت انسداد پولیو سے متعلق ایک اہم جائزہ اجلاس آج کراچی میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں گیٹس فاؤنڈیشن کے چیئرمین بل گیٹس اور صدر گلوبل ڈویلپمنٹ ڈاکٹر کرس ایلیئاس نے بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی۔ اجلاس میں چاروں صوبوں کی حکومتوں، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کی حکومتوں نے ملک سے پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا اور انسداد پولیو کے لیے مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا۔اجلاس کے دوران وزیراعظم نے پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے اپنی حکومت کے آہنی عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم ملک سے پولیو وائرس کا جڑ سے خاتمہ کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے پاکستان میں صحت کے نظام اور خصوصاً انسداد پولیو کے لیے غیر معمولی مدد و تعاون پر گیٹس فاؤنڈیشن کا شکریہ ادا کیا۔
وزیراعظم نے انسداد پولیو کے حوالے سے دیگر بین الاقوامی شراکت داروں کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پولیو کے خاتمے کے لیے حکومت نے "ہول آف دی گورنمنٹ اپروچ” اپنائی ہے۔ وزیراعظم نے اعلان کیا کہ 2025 تک پاکستان سے پولیو وائرس کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس کے دوران ہدایت کی کہ پولیو کے خاتمے کے لیے ریاست کے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے ہر بچے کو ویکسین کی متعدد خوراکیں دی جائیں اور سیکیورٹی کے حوالے سے چیلنجز والے علاقوں میں بھی ہر بچے تک ویکسین کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
اجلاس کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ فرنٹ لائن ورکرز کی لگن، حکومت پاکستان کے عزم اور بین الاقوامی شراکت داروں کے تعاون سے پاکستان نے پولیو کے خلاف اہم پیش رفت کی ہے۔ تاہم، انہوں نے نئے پولیو کیسز کے سامنے آنے کو تشویشناک قرار دیا اور یقین دلایا کہ صوبائی حکومتوں اور شراکت داروں کے تعاون سے پولیو جیسی موزی بیماری کو شکست دی جائے گی۔گیٹس فاؤنڈیشن کے چیئرمین بل گیٹس نے انسداد پولیو کے لیے حکومتی اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں پولیو ویکسین کے قطرے پینے والے بچوں کی شرح میں اضافے پر اظہار اطمینان کیا۔ انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ حکومت پاکستان کی جانب سے 40 لاکھ بچوں کو ان-ایکٹیویٹڈ پولیو وائرس ویکسین (آئی پی وی) دینے کا منصوبہ ترتیب دیا گیا ہے۔
اجلاس میں بریفنگ دی گئی کہ حالیہ دنوں میں ضلع قلعہ عبداللہ اور ضلع چکوال سے ایک ایک پولیو کیس رپورٹ ہوا ہے۔ بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ کوئٹہ اور کراچی ڈویژنز پولیو وائرس کے پھیلاؤ کے بڑے مراکز ہیں۔ انسداد پولیو کے حوالے سے نگرانی کے نظام کو بہتر بنایا گیا ہے اور پولیو وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے پاکستان اور افغانستان کے درمیان روابط اور ہم آہنگی کو بڑھانے میں مثبت پیشرفت ہوئی ہے۔ مزید بتایا گیا کہ ستمبر، اکتوبر اور دسمبر 2024 میں پولیو ویکسین کی ملک گیر مہم کا انعقاد کیا جائے گا۔ اس مہم کے تحت ملک بھر کے تمام بچوں کو ویکسین کی خوراکیں دی جائیں گی تاکہ پولیو وائرس کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جا سکے۔
اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر برائے تعلیم و فنی تربیت، وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر برائے نجکاری عبد العلیم خان، گورنر سندھ کامران ٹیسوری، وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے قومی صحت ڈاکٹر ملک مختار احمد بھرتھ، وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے انسداد پولیو ڈاکٹر عائشہ رضا فاروق، سیکرٹری قومی صحت ڈاکٹر ندیم محبوب اور نیشنل کوآرڈینیٹر برائے انسداد پولیو محمد انوار الحق، چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹریز اور انسپکٹرز جنرل پولیس، انسداد پولیو کے بین الاقوامی شراکت داروں اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔