Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • عدالت عظمیٰ کو اپنے کیے گئے فیصلوں کو منوانا چاہیے، بیر سٹر گوہر

    عدالت عظمیٰ کو اپنے کیے گئے فیصلوں کو منوانا چاہیے، بیر سٹر گوہر

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے سپریم کورٹ کے فیصلوں کو آئین اور قانون کے مطابق قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت عظمیٰ کو اپنے کیے گئے فیصلوں کو منوانا چاہیے۔ پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ حکومت سپریم کورٹ کے فیصلوں کو ختم کرنے کے لیے قانون سازی کر رہی ہے، جس کے خلاف پی ٹی آئی کے 41 ممبران اسمبلی الیکشن ایکٹ کو چیلنج کریں گے۔انہوں نے کہا کہ محمود خان اچکزئی، بطور سیاسی پارٹی کے سربراہ اور دیگر اپوزیشن جماعتیں بھی اس قانون سازی کو چیلنج کرنے کے لیے تیار ہیں۔ سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے اس موقع پر سوال اٹھایا کہ جب فل کورٹ فیصلے دیتی ہے تو ان فیصلوں کو کس حیثیت سے تبدیل کیا جاتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی عدلیہ کے ساتھ کھڑی ہے اور "حقیقی آزادی” کے ایونٹس میں سنجیدہ سوچ رکھنے والے افراد کو مدعو کیا جائے گا۔پی ٹی آئی کی قیادت کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پارٹی حکومت کے فیصلوں کے خلاف قانونی جنگ لڑنے کے لیے پرعزم ہے اور عدلیہ کے فیصلوں کا احترام کرنے پر زور دے رہی ہے۔

  • سندھ میں سرکاری زمینوں پر قبضے واگزار: 18 سے 19 لاکھ ایکڑ جنگلات کی اراضی بازیاب

    سندھ میں سرکاری زمینوں پر قبضے واگزار: 18 سے 19 لاکھ ایکڑ جنگلات کی اراضی بازیاب

    ڈی جی نیب سندھ نے ایک رپورٹ میں کہا کہ حکومت سندھ کے ساتھ مشترکہ آپریشن کے ذریعے، نیب نے کراچی ، ٹھٹھہ، سکھر اور بے نظیر آباد میں 1.8 ملین ایکڑ جنگلاتی اراضی کو چھڑایا ہے۔ سرکاری ملازمین کی انتظامی بے ضابطگیاں بھی سامنے آئیں۔ سندھ حکومت کو چھڑائی گئی زمین کا قبضہ دے دیا گیا ہے۔زمین کی مالیت 3 کھرب سے زائد ہے،

    نیب نے بورڈ آف ریونیو کے ساتھ ملکر زمین بازیاب کروائی،سندھ میں سرکاری زمینوں پر قبضے ختم کرنے کے لیے کی گئی کاروائیوں کے دوران مختلف اضلاع سے لاکھوں ایکڑ جنگلات کی اراضی بازیاب کرائی گئی ہے۔ اس کاروائی کا آغاز 2018 میں سپریم کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کے حکم پر کیا گیا تھا، جس میں محکمہ جنگلات نے بڑی کامیابیاں حاصل کیں۔ اس کاروائی کے نتیجے میں لاڑکانہ میں ایک لاکھ 11 ہزار ایکڑ جنگلات کی زمین بازیاب کی گئی۔شہید بے نظیر آباد میں ایک لاکھ 28 ہزار ایکڑ جنگلات کی زمین واگزار کرائی گئی۔ جبکہ حیدرآباد میں 7 لاکھ 29 ہزار ایکڑ زمین قبضہ مافیا سے چھڑائی گئی۔ ٹھٹھہ میں 2 لاکھ 75 ہزار ایکڑ جنگلات کی زمین بازیاب کی گئی۔ جبکہ کراچی کے علاقے ملیر اور گڈاپ میں 2 لاکھ 75 ہزار ایکڑ جنگلات کی اراضی کو واگزار کرایا گیا۔

    اس حوالے سے ڈائریکٹر جنرل نیب نے بتایا کہ مجموعی طور پر 18 سے 19 لاکھ ایکڑ زمین کو بازیاب کروا کر حکومت سندھ کے حوالے کیا گیا ہے۔ ان زمینوں کی دوبارہ سرکاری ملکیت میں شامل کرنے کے لیے تمام قانونی کارروائیاں مکمل کی گئی ہیں۔نیب کے ڈائریکٹر جنرل نے بتایا کہ اس آپریشن کے دوران مختلف ریلیونٹ ڈیپارٹمنٹس کے ساتھ مل کر کام کیا گیا تاکہ قانونی کاروائی کو یقینی بنایا جاسکے۔ نیب نے اس ضمن میں مختلف اصلاحات بھی کی ہیں، جن کے تحت کاروباری افراد اور عوامی شکایات کے لیے خصوصی دفاتر قائم کیے گئے ہیں۔ڈائریکٹر جنرل نے مزید بتایا کہ نیب کی جانب سے شہریوں کی عزت اور وقار کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔ کسی بھی شخص کو اس وقت تک ملزم نہیں کہا جائے گا جب تک اس کے خلاف کوئی ٹھوس شواہد سامنے نہ آجائیں اور کوئی ریفرنس فائل نہ ہو جائے۔

    نیب نے اس تمام کاروائی کے بعد چھڑوائی گئی زمینوں کو قانونی طور پر سندھ حکومت کے حوالے کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے احکامات کی روشنی میں جاری سروے کی نگرانی بھی نیب نے کی، جس کے تحت تمام ریلیونٹ اداروں کو آن بورڈ لیا گیا تاکہ باہمی تعاون سے یہ کاروائیاں مکمل کی جا سکیں۔اس کامیاب کاروائی کے نتیجے میں سندھ حکومت کو 18 سے 19 لاکھ ایکڑ زمین واپس مل گئی ہے، جو کہ سرکاری املاک کی حفاظت کے حوالے سے ایک بڑی کامیابی ہے۔ نیب کی ان اصلاحات سے عوامی شکایات کے حل میں تیزی آئے گی اور سرکاری املاک پر قبضہ کرنے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جا سکے گی۔

    معافی مانگوں گا لیکن آزادانہ تحقیقات کروائی جائیں،عمران خان

    جن کے پاس طاقت ہے ان سے ہی بات کروں گا ،عمران خان

    نومئی واقعہ، بشریٰ بی بی 12 مقدمات میں نامزد

    نومئی مقدمے، عمران خان کا پنجاب فارنزک ٹیم کو ٹیسٹ دینے سے انکار

    نو مئی واقعات کی چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے سامنے مذمت کی تھی،عمران خان

    9 مئی پاکستان کیخلاف بہت بڑی سازش جس کا ماسٹر مائنڈ بانی پی ٹی آئی،عظمیٰ بخاری

    9 مئی کی آڑ میں چادرو چار دیواری کی عزت کو پامال کرنیوالے معافی مانگیں،یاسمین راشد

    عوام نے نومئی کے بیانیے کو مستر د کر دیا ،مولانا فضل الرحمان

    اسد قیصر نے نومئی کے واقعات پر معافی مانگنے سے انکار کر دیا

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

  • وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت کاروبار اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے اہم اجلاس

    وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت کاروبار اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے اہم اجلاس

    اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس ہوا جس میں ملک میں کاروبار اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے قوانین و ضابطوں کی ڈیجیٹل رجسٹری کے قیام کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں اس منصوبے کی اہمیت اور اس کے عملی نفاذ کے حوالے سے مختلف امور پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ملک میں سرمایہ کاری اور کاروبار کے حوالے سے موجود قوانین و ضابطوں کو یکجا کرکے ڈیجیٹلائز کیا جائے گا، جس سے بیوروکریٹک رکاوٹوں کو دور کرتے ہوئے رجسٹریشن اور دیگر ضروری اقدامات کو تیز کیا جا سکے گا۔ اس ڈیجیٹل رجسٹری کا مقصد سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کے لیے موجود تمام غیر ضروری قوانین و ضابطوں کو ختم کرنا اور سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کرنا ہے۔
    اجلاس میں وزیراعظم نے منصوبے کی فنڈنگ میں دلچسپی رکھنے والے بین الاقوامی اداروں کے ساتھ اظہار تشکر کیا اور ان اداروں سے معاہدے کو حتمی شکل دینے کی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ بین الاقوامی تعاون سے اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانا ممکن ہوگا، اور اس سے ملک میں سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا۔وزیراعظم نے اس منصوبے کے نفاذ کے لیے ایک خصوصی کمیٹی قائم کرنے کا اعلان کیا جو منصوبے پر عملدرآمد کے تمام پہلوؤں پر نظر رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ حکام اور وزارتیں پالیسی اقدامات کا بروقت اور مؤثر نفاذ یقینی بنائیں تاکہ اس منصوبے کے پہلے مرحلے کے تحت انتہائی اہمیت کے حامل شعبوں میں اصلاحات شروع کی جا سکیں۔
    اجلاس کے دوران وزیراعظم کو بریفنگ دی گئی کہ اس ڈیجیٹل رجسٹری کے ذریعے ملک میں موجود تمام قوانین اور ضابطوں کو ایک جگہ پر جمع کیا جائے گا، اور ان کی ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے کاروبار اور سرمایہ کاری کے لیے درکار وقت کو کم کیا جا سکے گا۔ اس منصوبے کا مقصد کاروبار کی راہ میں حائل غیر ضروری رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔ اجلاس میں مختلف وفاقی وزراء اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی، جن میں محمد اورنگزیب، احد خان چیمہ، عطاء اللہ تارڑ، عبدالعلیم خان، وزیرِ مملکت شزہ فاطمہ خواجہ، چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز اور دیگر متعلقہ حکام شامل تھے۔ اجلاس میں موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور ملکی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے مختلف اقدامات پر غور کیا گیا۔اجلاس کے اختتام پر وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ منصوبے کے نفاذ کے حوالے سے جلد از جلد عملی اقدامات کریں تاکہ ملک میں کاروباری ماحول کو بہتر بنایا جا سکے اور سرمایہ کاروں کے لیے ایک سازگار ماحول فراہم کیا جا سکے۔ اس اقدام سے نہ صرف ملکی معیشت کو فروغ ملے گا بلکہ بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بھی اضافہ ہوگا۔

  • جماعت اسلامی کا  دھرنا ختم ہونے کے قریب، لیکن  بجلی 2.56 روپے فی یونٹ مزید مہنگی ہو گئی

    جماعت اسلامی کا دھرنا ختم ہونے کے قریب، لیکن بجلی 2.56 روپے فی یونٹ مزید مہنگی ہو گئی

    جماعت اسلامی اور حکومت کے درمیان 14 روز سے جاری دھرنے کے خاتمے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات کا پانچواں دور آج کامیابی کے ساتھ مکمل ہوا۔ مذاکرات کے دوران جماعت اسلامی کے مطالبات پر حکومتی کمیٹی نے مثبت ردعمل دیا، جس کے بعد معاہدے کی دستاویزات کا تبادلہ ہوا۔ جماعت اسلامی کی جانب سے لیاقت بلوچ اور حکومت کی جانب سے عطا تارڑ نے معاہدے پر دستخط کیے۔معاہدے کے بعد حکومتی کمیٹی لیاقت باغ میں موجود جماعت اسلامی کے دھرنے میں پہنچی، جہاں دھرنے کے شرکاء کو معاہدے کی تفصیلات سے آگاہ کیا گیا۔ تاہم، مذاکرات کے دوران ایک اہم پیشرفت سامنے آئی ہے جس نے جماعت اسلامی کے دھرنے کے شرکاء کو مزید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
    وفاقی حکومت نے بجلی کی قیمتوں میں 2 روپے 56 پیسے فی یونٹ مزید اضافہ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق، بجلی کی قیمت میں اضافہ جون کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت کیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق، لائف لائن صارفین اور کےالیکٹرک صارفین پر اس اضافے کا اطلاق نہیں ہوگا، لیکن دیگر صارفین کو اگست کے بجلی کے بلوں میں اضافی ادائیگیاں کرنی ہوں گی۔واضح رہے کہ سینٹرل پاور پرچیزنگ کمپنی (سی پی پی اے) نے نیپرا سے 2 روپے 63 پیسے فی یونٹ کا اضافہ مانگا تھا، جس کے بعد نیپرا نے 2 روپے 56 پیسے کا اضافہ منظور کیا۔
    جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے اس فیصلے پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ حکومت عوام کو مزید بوجھ تلے دبا رہی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اگر حکومت نے عوام کے مطالبات پر عملدرآمد نہ کیا تو جماعت اسلامی دوبارہ احتجاج کی راہ اختیار کر سکتی ہے۔آج ہونے والے مذاکرات کے بعد جماعت اسلامی کے دھرنے کے خاتمے کا امکان ہے، لیکن حکومت کے اس فیصلے سے عوام میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ جماعت اسلامی کے دھرنے کا مقصد بجلی کی قیمتوں میں کمی تھا، لیکن مذاکرات کے دوران ہی قیمتوں میں مزید اضافے نے صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ جماعت اسلامی کی قیادت نے عوام کو یقین دلایا ہے کہ وہ ان کے حقوق کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے اور حکومت کو عوامی مطالبات پر عملدرآمد کے لیے دباؤ میں رکھیں گے۔

  • وزیراعظم شہباز شریف نے نئے سیکرٹری خارجہ اور سفیروں کی تعیناتی کی منظوری دے دی

    وزیراعظم شہباز شریف نے نئے سیکرٹری خارجہ اور سفیروں کی تعیناتی کی منظوری دے دی

    وزیراعظم شہباز شریف نے وزارت خارجہ کو نئے سیکرٹری خارجہ اور مختلف ممالک میں پاکستان کے نئے سفیروں کی تعیناتی کے حوالے سے باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے۔ وزیراعظم آفس سے دستخط شدہ سمری وزارت خارجہ کو موصول ہو گئی ہے۔نئے سیکرٹری خارجہ کے طور پر پاکستان کی یورپی یونین میں موجودہ سفیر آمنہ بلوچ کی تعیناتی کی گئی ہے۔ آمنہ بلوچ آئندہ ماہ سائرس سجاد قاضی کی ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے عہدے کا چارج سنبھالیں گی۔ اس ضمن میں وزیراعظم شہباز شریف نے دو روز قبل تعیناتی کی منظوری دی تھی، جس کی بنیاد وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی سفارش پر رکھی گئی۔
    وزیراعظم آفس نے سفیروں کی تعیناتی کی سمری بھی وزارت خارجہ کو ارسال کی ہے، جس کے تحت پاکستان کی نئی سفیر فرانس میں ممتاز زہرا بلوچ ہوں گی۔ ممتاز زہرا بلوچ اس وقت وزارت خارجہ میں بطور ترجمان دفتر خارجہ فرائض انجام دے رہی ہیں اور آئندہ سال اپریل میں اپنے عہدے کا چارج سنبھالیں گی۔پاکستان کے موجودہ سفیر فرانس میں، عاصم افتخار، مارچ 2025 میں نیو یارک میں بطور پاکستان کے مستقل مندوب اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ برونائی میں پاکستان کے نئے سفیر جانباز خان ہوں گے، جو اس وقت کینیڈا کے شہر اوٹاوا میں قونصل جنرل کے طور پر کام کر رہے ہیں۔
    پاکستان کے نئے ہائی کمشنر کینیڈا میں محمد سلیم ہوں گے، جو اس وقت وزارت خارجہ میں بطور ایڈیشنل سیکریٹری ایڈمن خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ملک فاروق، جو اس وقت کویت میں پاکستان کے سفیر ہیں، ساؤتھ افریقا میں پاکستان کے نئے ہائی کمشنر ہوں گے۔ پاکستان کے بیلجیئم اور یورپی یونین میں نئے سفیر فیصل نیاز ترمذی ہوں گے، جو اس وقت متحدہ عرب امارات میں پاکستان کے سفیر ہیں۔ یہ تعیناتیاں بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے تعلقات کو مضبوط کرنے اور خارجہ پالیسی کے اہداف کو پورا کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔

  • پاک بحریہ کا جنگی جہاز یرموک بحرین میں میری ٹائم سیکیورٹی مشقوں میں شریک

    پاک بحریہ کا جنگی جہاز یرموک بحرین میں میری ٹائم سیکیورٹی مشقوں میں شریک

    پاک بحریہ کے جنگی جہاز پی این ایس یرموک نے ریجنل میری ٹائم سیکیورٹی پٹرول کے دوران بحرین کا دورہ کیا، جو دونوں ممالک کے درمیان سمندری تعاون اور علاقائی سیکیورٹی کے فروغ کی ایک اہم کاوش تھی۔ یہ دورہ بحرین کے بندرگاہ مینا سلمان پر پہنچنے کے ساتھ شروع ہوا، جہاں بحرین کی بحریہ اور پاکستانی سفارتخانے کے اعلیٰ حکام نے جہاز کا پرتپاک استقبال کیا۔ پی این ایس یرموک کے کمانڈنگ آفیسر نے بحرین میں قیام کے دوران کمانڈر رائل بحرین نیول فورس، کمانڈر رائل بحرین کوسٹ گارڈز اور بحرین بحریہ کے دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں باہمی دلچسپی کے پیشہ وارانہ امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور دو طرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ کمانڈنگ آفیسر نے کمبائنڈ میری ٹائم فورسز کے ہیڈ کوارٹرز کا دورہ بھی کیا، جہاں انہوں نے ڈپٹی کمانڈر کمبائنڈ میری ٹائم فورسز سے ملاقات کی۔
    دورے کے دوران، پی این ایس یرموک نے بحرین بحریہ کے جنگی جہاز المنامہ، امریکی بحری جنگی جہاز ڈینئیل انوائے، اور جاپان کے جنگی بحری جہاز جے ایس کے ساتھ دو طرفہ بحری مشقوں میں حصہ لیا۔ ان مشقوں کا مقصد مختلف بحری افواج کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا، باہمی تعلقات کو مضبوط بنانا، اور خطے میں مشترکہ آپریشنز کی صلاحیت کو بہتر بنانا تھا۔
    اس دورے کے دوران، پاکستانی سفیر، کمانڈر میری ٹائم کولیشن فورسز، بحرین نیوی کے حکام، ممتاز کاروباری شخصیات، پاکستانی کمیونٹی اور دوست ممالک کے سفارتی حکام نے بھی پی این ایس یرموک کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے پاک بحریہ کی خدمات اور ان کے کردار کو سراہا، جو کہ خطے میں امن و امان کے قیام کے لیے انتہائی اہم ہے۔ پاک بحریہ کے ترجمان کے مطابق، پاکستان بحریہ خطے میں سمندری تحفظ، بین الاقوامی بحری تجارتی گزرگاہوں کی حفاظت، اور بحری قزاقی و منشیات کی سمگلنگ کے خلاف آپریشنز میں سرگرم عمل ہے۔ بحر ہند کے علاقے میں پاکستان بحریہ کی مستقل موجودگی نہ صرف قومی مفادات کی حفاظت کے لیے ہے بلکہ بین الاقوامی سمندری راستوں کی نگرانی اور استحکام کے لیے بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔یہ دورہ اور اس کے دوران ہونے والی ملاقاتیں و مشقیں پاکستان اور بحرین کے درمیان سمندری تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ خطے میں مشترکہ آپریشنز کی صلاحیت کو بھی بڑھانے میں معاون ثابت ہوں گی۔

  • خواجہ آصف نے  بانی پی ٹی آئی  کو 9 مئی کی بغاوت کا سرغنہ قرار دیا

    خواجہ آصف نے بانی پی ٹی آئی کو 9 مئی کی بغاوت کا سرغنہ قرار دیا

    اسلام آباد: مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان 9 مئی کی بغاوت کے سرغنہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر بانی پی ٹی آئی معافی بھی مانگ لیں تو انہیں رہا نہیں کیا جائے گا۔ ایک ٹی وی انٹرویو میں خواجہ آصف نے کہا کہ 9 مئی کا بیانیہ پٹ گیا ہے یا نہیں، یہ وقت ہی بتائے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات میں بہتری کا کوئی امکان نہیں ہے۔وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ عمران خان ہی 9 مئی کی بغاوت کے سرغنہ ہیں اور اس حوالے سے ثبوت موجود ہیں کہ یہ سارا پلان انہی کا بنایا ہوا تھا۔بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ عمران خان کے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات اچھے ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ جو کچھ عمران خان نے کیا اس پر معافی نہیں دی جا سکتی۔ایک سوال کے جواب میں خواجہ آصف نے کہا کہ اگر عمران خان کے دور میں لوگوں کو فوجی عدالتوں میں سزائیں سنائی گئیں اور جیلوں میں ڈالا گیا تو آج ایسا کیوں نہیں ہو سکتا۔
    خواجہ آصف نے کہا کہ اگر عمران خان معافی مانگ بھی لیں تو انہیں جیل سے رہائی نہیں ملے گی کیونکہ 9 مئی کا کچھ بھی ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس دن ملک پر حملہ کیا گیا اور جلاؤ گھیراؤ کیا گیا، اس کے واضح ثبوت ہیں۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کہہ رہے ہیں کہ 9 مئی کے فوٹیج سامنے کیے جائیں اور ملوث افراد پارٹی سے نکال دیں گے۔ خواجہ آصف کا موقف ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی مشروط معافی کی پیشکش پر بھی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ان کے تعلقات میں بہتری کا امکان نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو سمجھنا چاہیے کہ 9 مئی کا واقعہ ریاست کے خلاف بغاوت تھا۔

  • وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس ویژن: میانوالی میں اہم اقدامات کا اعلان

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس ویژن: میانوالی میں اہم اقدامات کا اعلان

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے میانوالی میں کرائم ریٹ کے بڑھنے اور عوامی شکایات پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ڈی پی او مطیع اللہ کو عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ مریم نواز نے کرپشن کے خاتمے اور کرپٹ عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کرپشن کے معاملے پر زیرو ٹالرنس رکھتی ہے۔انہوں نے میانوالی کے ڈی سی آفس میں ایک خصوصی اجلاس کی صدارت کی، جس میں میانوالی کی تعمیر و ترقی کے لیے اہم فیصلے کیے گئے۔ وزیر اعلیٰ نے دل کے مریضوں کے لیے میانوالی میں پہلی کیتھ لیب قائم کرنے کا اعلان کیا اور زرعی ٹیوب ویل کی سولرائزیشن کا اصولی فیصلہ کیا۔
    انہوں نے صفائی کے نظام میں بہتری لانے، گرین بیلٹ کی ترقی، سٹریٹ لائٹس کو فعال کرنے اور تجاوزات کے خاتمے پر زور دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ، سکولوں کی حالت اور معیار تعلیم میں بہتری، کلینک آن وہیل اور فیلڈ ہسپتالوں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے بھی اقدامات کرنے کی ہدایت دی۔وزیر اعلیٰ نے عوام کو بجلی کے بلوں سے نجات دلانے کے لیے سولر پینلز فراہم کرنے کا اعلان کیا اور غریبوں کے لیے 90 فیصد مفت ادویات کی فراہمی پر بھی زور دیا۔ اجلاس میں سینئر منسٹر مریم اورنگزیب، چیف سیکرٹری، کمشنر، آر پی او، ڈپٹی کمشنر اور دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔

  • مطالبات نہ مانے گئے تو آخری مذاکرات ہوں گے،حافظ نعیم الرحمان

    امیر جماعت اسلامی، حافظ نعیم الرحمان نے ایک اہم خطاب میں کہا ہے کہ اگر حکومت نے ان کے مطالبات کو تسلیم نہ کیا تو آج ہونے والے مذاکرات آخری ثابت ہو سکتے ہیں، اس کے بعد مزید مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔ حافظ نعیم الرحمان نے دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی نے اس وقت عوام کی ترجمانی کی جب قوم مایوسی میں ڈوبی ہوئی تھی اور ہر طرف خاموشی کا عالم تھا۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اپنے مطالبات پر قائم ہے اور اس دھرنے سے پورے ملک میں امید پیدا ہوئی ہے۔
    انہوں نے حکمران طبقے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ آئی پی پیز (نجی بجلی گھروں) کے ذریعے عوام کا استحصال کیا جا رہا ہے اور ملک کی معیشت کو تباہ کرنے والے حکومتی ٹولے ہیں۔ حافظ نعیم الرحمان نے اپنے دھرنے کے ایجنڈے کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مطالبات میں بجلی کی قیمتوں میں کمی، آٹا، چینی، دال اور بچوں کے دودھ پر ٹیکس کا خاتمہ شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے مطالبات ناجائز نہیں ہیں بلکہ قوم کی آواز ہیں۔
    انہوں نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ آئی ایم ایف کے پروگرام میں نہ جایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے ریلیف نہ دیا تو یہ دھرنا پورے ملک میں پھیل جائے گا۔ حافظ نعیم الرحمان نے اس بات کا اعلان بھی کیا کہ بہت جلد جماعت اسلامی کی رابطہ عوام مہم کا آغاز ہوگا، جو ہر گھر اور ہر ضلع تک جائے گی۔آج حکومت کے ساتھ مذاکرات کا ایک اور دور ہونے جا رہا ہے، جس کے حوالے سے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو یہ مذاکرات آخری ہوں گے، اور اس کے بعد مذاکرات کا سلسلہ ختم کر دیا جائے گا۔

  • نریندر مودی کی پروفیسر محمد یونس کے لیے نیک خواہشات: بنگلہ دیش میں اقلیتوں کے تحفظ اور خطے میں امن و ترقی پر زور

    نریندر مودی کی پروفیسر محمد یونس کے لیے نیک خواہشات: بنگلہ دیش میں اقلیتوں کے تحفظ اور خطے میں امن و ترقی پر زور

    بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے حال ہی میں پروفیسر محمد یونس کو ان کی نئی ذمہ داریوں کے آغاز پر نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔ ایک ٹویٹ کے ذریعے مودی نے نہ صرف پروفیسر یونس کے لیے اپنی دعائیں اور حمایت بھیجی بلکہ بنگلہ دیش میں جلد از جلد حالات کی بحالی کی امید بھی ظاہر کی۔نریندر مودی نے اپنے پیغام میں بنگلہ دیش میں ہندوؤں اور دیگر اقلیتی برادریوں کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت بنگلہ دیش کے ساتھ مل کر دونوں ممالک کے عوام کی مشترکہ امنگوں کو پورا کرنے کے لیے کام کرنے کے لیے پرعزم ہے، جو کہ امن، سلامتی اور ترقی پر مبنی ہیں۔مودی کا یہ پیغام اس وقت سامنے آیا ہے جب بنگلہ دیش میں حالیہ دنوں میں اقلیتوں کے تحفظ اور بین المذاہب ہم آہنگی پر مختلف چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔

    https://x.com/narendramodi/status/1821574094195769549?t=ohj3gq_MRV2FrpLiH8QudA&s=19

    ان حالات میں پروفیسر محمد یونس کی نئی ذمہ داریاں ایک اہم موڑ پر سامنے آئی ہیں، اور مودی نے اس موقع کو ان کے لیے نیک تمنائیں پیش کرنے اور علاقائی استحکام کے لیے بھارت کی وابستگی کا اعادہ کرنے کے لیے استعمال کیا۔بھارتی وزیر اعظم کے اس پیغام میں بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان تاریخی تعلقات اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان مضبوط رشتہ کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔ نریندر مودی نے اپنی ٹویٹ میں اس بات پر زور دیا کہ بھارت بنگلہ دیش کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ خطے میں پائیدار امن، سلامتی اور ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔نریندر مودی کا یہ بیان دونوں ممالک کے درمیان جاری تعاون کی ایک کڑی ہے، جس کا مقصد علاقائی استحکام اور عوامی فلاح و بہبود کو یقینی بنانا ہے۔ پروفیسر محمد یونس کی نئی ذمہ داریاں اور ان کی قیادت میں بنگلہ دیش کے داخلی امور میں ممکنہ پیشرفت پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے، اور بھارتی وزیر اعظم کے نیک خواہشات کے پیغام نے اس تعاون کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا ہے۔