اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اعتراف کیا ہے کہ ان کی حکومت نے حماس کی عسکری صلاحیت کا صحیح اندازہ لگانے میں ناکامی کا سامنا کیا۔ نیتن یاہو نے یہ اعتراف ایک اہم بیان میں کیا، جس میں انہوں نے غزہ کی موجودہ جنگ کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق نیتن یاہو نے واضح کیا کہ غزہ میں جاری جنگ کا مقصد حماس کی انتظامی اور عسکری صلاحیتوں کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل ایسی فتح حاصل کرنا چاہتا ہے جو حماس کو آئندہ حکومتی انتظام سنبھالنے کے قابل نہ چھوڑے اور نہ ہی وہ اسرائیل کے لیے دوبارہ خطرہ بن سکے۔نیتن یاہو نے اس بات پر بھی زور دیا کہ غزہ جنگ کا مستقبل قریب میں خاتمہ ہوتا نظر نہیں آ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اس وقت خطے میں ایک وسیع جنگ لڑ رہا ہے، جس میں حماس سمیت ایران کے تمام اتحادی شامل ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر علاقائی جنگ چھڑ گئی تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے، تاہم اسرائیل ان چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے۔
وزیراعظم نیتن یاہو نے مزید کہا کہ وہ اسرائیل کے پرامن مستقبل اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے اپنے عہدے پر قائم رہیں گے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ غزہ جنگ کے خاتمے کے بعد 7 اکتوبر 2023 کے واقعات کی تحقیقات کے لیے ایک آزاد کمیشن تشکیل دیا جائے گا۔ نیتن یاہو نے اس بات کی تصدیق کی کہ وہ خود سمیت تمام متعلقہ ذمہ داران اس کمیشن کے سامنے پیش ہونے کے پابند ہوں گے۔نیتن یاہو نے اپنے بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ اسرائیل موجودہ جنگ کے خاتمے کے بعد غزہ پٹی کا انتظام خود سنبھالنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ حماس یا کسی اور عسکری گروپ کو دوبارہ منظم ہونے اور اسرائیل کے لیے خطرہ بننے کا موقع نہ ملے۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ میں جاری جنگ شدت اختیار کرتی جا رہی ہے اور عالمی سطح پر اس کے انسانی اور سیاسی نتائج پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ نیتن یاہو کے اس اعتراف نے اسرائیل کی عسکری حکمت عملی اور اس کے نتائج پر ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔
Author: صدف ابرار
-

حماس کی عسکری صلاحیت کا اندازہ لگانے میں غلطی ہوئی،اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا اعتراف
-

پی ایس ایکس میں مثبت کاروباری دن: 100 انڈیکس 759 پوائنٹس اضافے سے بند
اسلام آباد: پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں آج (منگل) کاروبار کا مثبت دن رہا ہے۔ 100 انڈیکس 759 پوائنٹس کے اضافے سے 77 ہزار 874 پر بند ہوا ہے۔کاروباری دن کے دوران 100 انڈیکس 883 پوائنٹس کے بینڈ میں رہا۔ حصص بازار میں 49 کروڑ شیئرز کے سودے 25 ارب 84 کروڑ روپے میں طے ہوئے۔ اس طرح مارکیٹ کیپٹلائزیشن 98 ارب روپے بڑھ کر 10 ہزار 402 ارب روپے ہو گئی ہے۔
معاشی تجزیہ نگار شنکر تلریجا کے مطابق مارکیٹ کا مثبت رجحان ماڑی پیٹرولیم کے بہتر نتائج کے سبب رہا ہے۔ کمپنی نے اپنے شیئرز ہولڈرز کو بونس شیئرز دینے کا اعلان کیا ہے۔ماڑی پیٹرولیم نے حالیہ عرصے میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ کمپنی نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔ بونس شیئرز کا اعلان بھی اس کی علامت ہے۔پی ایس ایکس میں تیزی کا رجحان موجود ہے اور یہ مستحکم ترین مارکیٹوں میں سے ایک ہے۔ مستقبل میں حصص بازار میں مزید اضافے کی توقع ہے۔ سرمایہ کاروں کو اپنی سرمایہ کاری میں اضافہ کرنے کی سفارش کی جاتی ہے۔سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے عملے کی کاوشوں کی وجہ سے حصص بازار مستحکم ہے۔ سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھانے اور آگے بڑھانے میں ان کی اہم کردار ہے۔ -

پیرس اولمپکس: ارشد ندیم نے پاکستان کو 40 سال بعد اولمپک گولڈ مڈل جتوا دیا
پیرس اولمپکس 2024 میں پاکستانی جیولین تھرو ایتھلیٹ ارشد ندیم نے 92.97 میٹر کی شاندار تھرو کے ذریعے پاکستان کو 40 سال بعد اولمپک گولڈ میڈل جتوا دیا۔
فائنل میں 12 کھلاڑیوں نے شرکت کی، جن میں سب سے پہلے گرینیڈا کے پیٹر اینڈرس نے 84.70 میٹر، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو کے کیشور نے 86.16 میٹر کی تھرو کی۔ بھارت کے نیرج چوپڑا کی پہلی تھرو فاؤل ہوئی، اور فن لینڈ کے لاسی نے 78.81 میٹر کی تھرو کی۔پاکستان کے ارشد ندیم اور جرمنی کے جیولین ویبر کی پہلی تھرو ناکام رہی، لیکن ارشد ندیم نے اپنی دوسری تھرو میں 92.97 میٹر کی پھینک کر نہ صرف گولڈ میڈل جیتا بلکہ ناروے کے ایندریاس تھورڈکلسین کا 2008 کے بیجنگ اولمپکس میں قائم 90.57 میٹر کا ریکارڈ بھی توڑ دیا۔یہ تاریخی کامیابی پاکستان کے کھیلوں کی تاریخ میں ایک نیا سنگ میل ہے، اور ارشد ندیم کی پرفارمنس نے ملک بھر میں خوشی کی لہر دوڑا دی۔ ارشد ندیم کی کامیابی نے یہ ثابت کیا کہ پاکستانی کھلاڑی عالمی سطح پر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
پیرس اولمپکس 2024 میں پاکستان کے جیولین تھرو ایتھلیٹ ارشد ندیم آج فائنل مقابلے میں میدان میں اترے تھے ، انہوں نے ملک کے لئے میڈل جیتا،۔ فائنل میں 12 کھلاڑیوں کے درمیان سخت مقابلہ ہوا ، ارشد ندیم کی کامیابی کے لیے پوری قوم دعاگو تھی ۔ کھلاڑی، فنکار، اداکار، اور سیاستدان سب ارشد ندیم کی حوصلہ افزائی کر رہے تھے۔ ان کی اہلیہ نے کہا کہ "ہمارے ساتھ ساتھ پورا ملک ارشد کی کامیابی کے لیے دعا کر رہا ہے، محلے کے لوگ بھی ان کی کامیابی کے لیے دعاگو تھے۔”فائنل مقابلے میں تمام 12 ایتھلیٹس نے تین، تین بار جیولین پھینکیں


ارشد ندیم کی والدہ کی قوم سے دعا کی اپیل، بیٹے کی کامیابی کے لیے پر امید
میاں چنوں میں قومی کھلاڑی ارشد ندیم کی والدہ نے قوم سے اپنے بیٹے کے لیے دعا کی اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ارشد ندیم پہلے بھی پاکستانی قوم کی دعاؤں سے سیمی فائنل سے فائنل میں پہنچا ہے، اور اب وہ ایک بار پھر قوم کی دعاؤں کے سہارے پاکستان کے لیے میڈل جیتنے کا عزم رکھتا ہے۔ارشد ندیم کی والدہ نے مزید کہا کہ ان کا بیٹا پاکستانی قوم کو مایوس نہیں کرے گا اور وہ پاکستان کے لیے میڈل جیت کر ملک کا نام روشن کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے بیٹے کی کامیابی کے لیے دعائیں کر رہی ہیں اور انہیں یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ ارشد ندیم کو کامیاب کرے گا۔شاباش ارشد ندیم ،آپ نے قوم کا سر فخر سے بلند کردیا.وزیراعظم
وزیراعظم شہباز شریف نے ارشد ندیم کی جانب سے جیولین تھرو میں اولمپک میڈل جیتنے پر مبارک باد دی اور کہا کہ اولمپک کی 118 سالہ ہسٹری میں منفرد تاریخی ریکارڈ قائم کرنے پر ارشد ندیم آپ ڈھیروں مبارکباد کے مستحق ہیں۔شاباش ارشد ندیم ،آپ نے قوم کا سر فخر سے بلند کردیا.پاکستان کو 32 سال بعد گولڈ میڈل دینے پر ہر پاکستانی آپکا شکرگزار ہے۔اولمپک میں تاریخ رقم کر کے آپ نے ثابت کیا کہ ارادے مضبوط ہوں تو ناممکن ممکن بن جاتا ہے۔قوم کے بیٹے اولمپئین ارشد ندیم پر والدین ہی نہیں ہم سب کو ناز ہے۔ -

بانی پی ٹی آئی کا مشروط معافی کا اعلان اپنے اوپر اعتماد ہے.ڈاکٹر ہمایوں مہمند
اسلام آباد: پی ٹی آئی رہنما ڈاکٹر ہمایوں مہمند نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کا مشروط معافی کا اعلان اپنے اوپر اعتماد ہے۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اور ہمیں یہ اعتماد ہے کہ ہم نے کوئی پرتشدد احتجاج نہیں کیا۔ڈاکٹر ہمایوں مہمند نےنجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی میں تشدد کا کوئی عنصر نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جلاؤ گھیراؤ والوں میں شاید پی ٹی آئی لوورز ہوں لیکن پی ٹی آئی کا آفس ہولڈر نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم غلط کام کو ڈیفنڈ نہیں کریں گے چاہے وہ ہمارے لوگ بھی ہوں۔ڈاکٹر ہمایوں مہمند نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو ناجائز گرفتار کیا گیا تھا اور انہوں نے کارکنوں کو انسداد دہشتگردی کورٹ آنے سے روکا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان پر 9 مئی کا کیس ہے جو ملٹری انسٹالیشن پر حملوں سے متعلق ہے۔
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے کل پرانی والی بات کہی لیکن تھوڑی سے بدل کر کہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر 9 مئی کے واقعے کی ویڈیوز اس وقت نکال کر ملوث افراد کو سزا دے دی جاتی تو بہتر ہوتا۔ڈاکٹر ہمایوں مہمند نے مزید کہا کہ پاکستان سمیت پورے خطے سے خاندانی بادشاہت کا نظام ختم ہو رہا ہے اور اگر پاکستان میں اس طرح کے اقدامات نہ کیے گئے تو عنقریب وہی کچھ یہاں ہونے والا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاندانہ گلزار کا "بانی نہیں تو پاکستان نہیں” والا بیان انتہائی غلط تھا۔ -

کوہستان لوئر: لڑکیوں کے لیے ہائی اسکول کی عدم دستیابی کا انکشاف، تعلیمی مسائل پر تشویش
خیبر پختونخوا کے ضلع کوہستان لوئر میں لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے ایک سنگین مسئلہ سامنے آیا ہے۔ انکشاف ہوا ہے کہ پورے ضلع میں لڑکیوں کے لیے ایک بھی ہائی اسکول موجود نہیں ہے، جو علاقے میں تعلیمی سہولیات کی کمی اور لڑکیوں کی تعلیم کے مواقع کی محدودیت کو ظاہر کرتا ہے۔یہ معلومات خیبر پختونخوا اسمبلی میں محکمہ تعلیم کے سوال کے جواب میں پیش کی گئیں۔ اسمبلی میں جمع کروائے گئے جواب میں محکمہ تعلیم نے تصدیق کی کہ کوہستان لوئر میں لڑکیوں کے لیے کوئی ہائی اسکول نہیں ہے، جو کہ علاقے میں خواتین کی تعلیم کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔محکمہ تعلیم نے مزید وضاحت کی کہ مڈل اسکول کو ہائی اسکول کا درجہ دینے کے لیے کم از کم 25 طالبات کا ہونا ضروری ہے۔ اس شرط کے تحت بھی، علاقے میں کوئی مڈل اسکول ہائی اسکول میں تبدیل نہیں کیا جا سکا کیونکہ اتنی تعداد میں طالبات کا اندراج نہیں ہو سکا۔ا
س مسئلے کے حل کے لیے محکمہ تعلیم نے بتایا ہے کہ رواں سال ایشین ڈویلپمنٹ بینک (ADB) کے تعاون سے کوہستان میں اسکولوں کی اپ گریڈیشن اور نئے اسکولوں کے قیام کا منصوبہ شامل ہے۔ نئے اسکولوں کے قیام اور مڈل اسکولوں کی اپ گریڈیشن کے بعد امید کی جا رہی ہے کہ کوہستان لوئر میں لڑکیوں کی تعلیمی مشکلات کو حل کیا جا سکے گا۔اس انکشاف کے بعد عوامی اور تعلیمی حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ لڑکیوں کی تعلیم کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ وہ بھی ملک کے دیگر حصوں کی طرح تعلیمی مواقع سے مستفید ہو سکیں۔ حکومت کی جانب سے اس مسئلے کے حل کے لیے اقدامات کا وعدہ کیا گیا ہے، لیکن اس کے نتائج کا انتظار ہے کہ کیا واقعی یہ منصوبے لڑکیوں کی تعلیم میں مثبت تبدیلی لائیں گے یا نہیں۔یہ خبر علاقے میں تعلیمی مسائل کی شدت کو ظاہر کرتی ہے اور حکومت کو اس حوالے سے فوری اور موثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کوہستان لوئر کی لڑکیاں بھی بہتر تعلیمی مواقع حاصل کر سکیں۔ -

9 مئی کے واقعات کی حقیقت ویڈیوز سے سامنے آئے گی، شعیب شاہین کا دعویٰ
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکریٹری اطلاعات شعیب شاہین نے کہا ہے کہ 9 مئی کو کور کمانڈر ہاؤس میں آگ لگانے والوں کی شناخت ویڈیوز کے ذریعے ممکن ہو سکے گی۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے شعیب شاہین نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے بانی، جو کہ خود کو ٹھنڈے مزاج کے حامل انسان ہیں، اہم سیاسی فیصلے بصیرت کے ساتھ کرتے ہیں۔شعیب شاہین نے سوال اٹھایا کہ یاسمین راشد نے یہ ہدایت دی تھی کہ کوئی کور کمانڈر ہاؤس کے اندر نہ جائے، تو سوال یہ ہے کہ وہ کون تھا جو اندر گیا اور آگ لگائی؟ ان کا کہنا تھا کہ ویڈیوز سے واضح ہو جائے گا کہ آگ لگانے والے کون ہیں اور آیا وہ پی ٹی آئی کے کارکنان میں شامل تھے یا نہیں۔
شعیب شاہین نے مزید کہا کہ اگر ان کی جماعت کی نیت بدنظری ہوتی تو وہ سپریم کورٹ میں جوڈیشل کمیشن کی درخواست نہ دیتے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے کارکنان اور قیادت کو جیل میں ڈال دیا گیا ہے، جو کہ ان کے خیال میں غیر منصفانہ ہے۔انہوں نے بتایا کہ 22 تاریخ کو جلسے کے لیے این او سی مل چکا ہے، مگر ابھی تک جلسے کی جگہ کا انتخاب نہیں ہوا۔ دھرنے یا لانگ مارچ کے متعلق فیصلے کا انحصار 22 تاریخ کے بعد ہوگا۔شعیب شاہین نے کہا کہ دہشت اور وہشت پھیلانے کی کوششیں ناکام ہو گئی ہیں، جیسے کہ صوابی میں حالیہ جلسے کے دوران دیکھنے کو ملا۔ یہ بیان پی ٹی آئی کی جانب سے جاری سیاسی دباؤ کے دوران پارٹی کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات کی وضاحت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ -

آئی پی پیز "اندھا کنواں” ہیں جو ملکی معیشت کو تباہی کی طرف دھکیل رہے ہیں، لیاقت بلوچ
جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے حال ہی میں حکومت کی اقتصادی پالیسیوں پر سخت تنقید کی ہے۔ میڈیا سے گفتگو میں، انہوں نے خاص طور پر آئی پی پیز (مستقل بجلی خریداروں) کے معاہدوں کو نشانہ بنایا۔بلوچ کے مطابق، آئی پی پیز "اندھا کنواں” ہیں جو ملکی معیشت کو تباہی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ انہوں نے ان معاہدوں پر نظرثانی کا مطالبہ کیا، یہ خبردار کرتے ہوئے کہ اگر حکومت آئی پی پیز مالکان کی حمایت جاری رکھے گی تو عوام اس کا حساب مانگیں گے۔معاشی مشکلات کا تذکرہ کرتے ہوئے، بلوچ نے تنخواہ دار طبقے پر نئے ٹیکسوں اور دکانداروں کے لیے پیدا کی گئی مشکلات کا ذکر کیا۔
جماعت اسلامی کے حالیہ دھرنے کے حوالے سے،لیاقت بلوچ نے دعویٰ کیا کہ اس نے قوم میں ایک نئی بیداری پیدا کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومتی کمیٹی کے ساتھ مثبت بات چیت ہوئی ہے جس میں انہوں نے اپنے چھ نکاتی ایجنڈے پر تبادلہ خیال کیا۔آنے والے مارچ کے بارے میں، بلوچ نے کہا کہ یہ منصوبے کے مطابق ہوگا اور کسی پیشرفت کی صورت میں میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔معاشی اصلاحات کے لیے، بلوچ نے غیر ترقیاتی اخراجات میں 50 فیصد کمی کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت کی سنجیدگی صرف عوامی ریلیف سے ظاہر ہوگی۔لیاقت بلوچ نے سرکاری مراعات کے خاتمے کا مطالبہ کیا، یہ انتباہ دیتے ہوئے کہ اگر طاقتور طبقے نے حالات کو نہ سمجھا تو پورا ملک متاثر ہوگا۔یہ تنقیدی موقف ملک کی موجودہ معاشی چنوتیوں اور سیاسی کشیدگی کو ظاہر کرتا ہے، جہاں اپوزیشن جماعتیں حکومت پر اصلاحات کے لیے دباؤ ڈال رہی ہیں۔ -

حکومت اور جماعت اسلامی کے مذاکرات: پیش رفت کے باوجود آئی پی پیز پر ڈیڈ لاک بر قرار
راولپنڈی میں کمشنر آفس کے اندر حکومت پاکستان اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کا چوتھا دور منعقد ہوا۔ اس اہم ملاقات میں حکومتی ٹیم کی نمائندگی وزیر داخلہ محسن نقوی، وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ، وفاقی وزیر امیر مقام اور طارق فضل چوہدری نے کی، جبکہ جماعت اسلامی کی جانب سے نائب امیر لیاقت بلوچ سرفہرست تھے۔مذاکرات کے دوران دونوں فریقین نے اپنے موقف پر تبادلہ خیال کیا۔ حکومت نے ایک مسودہ پیش کیا جس میں دو بار ترامیم کی گئیں، جبکہ جماعت اسلامی نے بھی اپنے حتمی مطالبات رکھے۔ مذاکرات کے دوران 15 منٹ کا وقفہ بھی دیا گیا جس میں دونوں فریقین نے اپنے موقف پر غور کیا۔
مذاکرات کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے میڈیا کو بتایا کہ جماعت اسلامی سے مثبت بات چیت ہوئی ہے اور کچھ معاملات تحریری طور پر طے پا گئے ہیں۔ تاہم، جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے کہا کہ حکومت آئی پی پیز کے معاملے پر عوام کو ریلیف دینے کے لیے تیار نہیں ہے اور انہیں ابھی بھی حکومت کی تجاویز پر تحفظات ہیں۔لیاقت بلوچ نے آئی پی پیز کو "اندھا کنواں” قرار دیا جس میں قومی وسائل کو غرق کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس آئی پی پیز کے معاہدوں پر نظرثانی کے سوا کوئی حل نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت میں موجود لوگ کپیسٹی بلنگ کی مد میں اربوں روپے کے فوائد حاصل کر رہے ہیں اور موجودہ حالات میں سول بیوروکریسی، فوج، اور ججز کی مراعات پر بھی نظرثانی ہونی چاہیے۔
مذاکرات کے نتیجے میں وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر ایک ٹاسک فورس قائم کی گئی ہے۔ دونوں فریقین نے چھ نکات پر تجاویز کا تبادلہ کیا ہے۔ جماعت اسلامی نے کہا ہے کہ وہ اپنی مرکزی کمیٹی سے مشاورت کے بعد آگے کا فیصلہ کریں گے۔یہ مذاکرات پاکستان کی موجودہ معاشی صورتحال کے پس منظر میں انتہائی اہم ہیں۔ حکومت ایک طرف عالمی مالیاتی اداروں کی شرائط پوری کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ دوسری طرف عوامی دباؤ کا سامنا ہے۔ آئندہ دنوں میں مزید مذاکرات کی توقع ہے اور یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ کیا دونوں فریقین کسی مفاہمت پر پہنچ پاتے ہیں یا پھر اختلافات برقرار رہتے ہیں۔
-

پاکستان کا مسلم ممالک سے اسرائیل پر پابندیاں لگانے کا مطالبہ
جدہ: پاکستان نے تنظیم اسلامی تعاون (او آئی سی) کے ارکان ممالک سے اسرائیل پر سخت تجارتی پابندیاں عائد کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ یہ موقف پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے او آئی سی وزرائے خارجہ کی ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں پیش کیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا، "اسرائیل کو لگام ڈالنے کے لیے مکمل اتحاد کی ضرورت ہے۔ او آئی سی کو جو کچھ ہو سکتا ہے، وہ ضرور کرنا چاہیے۔ اگر اسرائیل جنگ بندی نہیں کرتا تو اس پر پابندیاں لگانی چاہئیں۔”
انہوں نے ایران میں اسماعیل ہنیہ کی شہادت اور فلسطین میں اسرائیل کی بربریت کی شدید مذمت کی۔اسحاق ڈار نے کہا، "اسرائیل نے غزہ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ اب صرف مذمت کافی نہیں ہے، بلکہ اسرائیل کو اس کے جرائم کا ذمہ دار ٹھہرانا ہوگا۔”پاکستان کے وزیر خارجہ نے مزید تجاویز پیش کرتے ہوئے کہا، "تمام او آئی سی ارکان تجارتی اور تیل کی پابندیاں لگائیں۔ او آئی سی کو مکمل سیز فائر کی کوشش کرنی چاہیے۔”اسحاق ڈار نے مسلم دنیا کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "مسلم امہ آج ایک مشکل موڑ پر کھڑی ہے۔ یہ یاد رکھا جائے گا کہ ہم نے ظالم سے کس طرح نمٹا۔ ہمیں امن چاہیے، جنگ نہیں۔ استحکام چاہیے، تباہی نہیں۔”
انہوں نے سوال اٹھایا، "کیا ہم کسی اور بحران کے متحمل ہو سکتے ہیں؟ کیا ہم او آئی سی ریجن کو پاور گیم کے لیے شطرنج کی بساط بننے دیں؟ کیا وہ ہمارے لوگوں کی تقدیر کا فیصلہ کریں؟ کبھی نہیں۔”پاکستان کے وزیر خارجہ نے او آئی سی سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطین اور ایران کے ساتھ یکجہتی کا پیغام بھیجے اور مقبوضہ وادی میں جنگ بندی کرانے کے لیے اقدامات کرے۔یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔ پاکستان کا یہ موقف اس کی فلسطین کے حق میں مستقل پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کا یہ مؤقف مسلم دنیا میں اسرائیل کے خلاف سخت اقدامات کے لیے حمایت حاصل کرنے کی کوشش ہے۔ تاہم، یہ دیکھنا باقی ہے کہ او آئی سی کے دیگر ارکان اس تجویز پر کس حد تک عمل کرتے ہیں۔اس اجلاس کے نتائج پر دنیا کی نظریں لگی ہوئی ہیں، کیونکہ اس سے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر مسلم دنیا کے مؤقف کا اندازہ ہوگا۔ پاکستان کی جانب سے پیش کی گئی یہ تجاویز عالمی سطح پر اسرائیل پر دباؤ بڑھانے کا ایک کوشش سمجھی جا رہی ہیں۔
-

برطانوی حکومت کا لبنان کے لیے سفری مشورہ: سیکیورٹی کی صورتحال کی بنا پر فوری انخلا کی ہدایت
برطانوی حکومت نے لبنان میں سیکیورٹی کی بدتر ہوتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر اپنے سفری مشورے کو تازہ کر دیا ہے۔ برطانوی وزارت خارجہ، دولت مشترکہ اور ترقیات (FCDO) نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بیروت میں برطانوی سفارت خانے کے عملے کے اہل خانہ کو عارضی طور پر واپس بلالیا گیا ہے۔FCDO کے ترجمان نے کہا، "ہم لبنان میں انتہائی غیر مستحکم سیکیورٹی صورتحال پر گہری تشویش میں ہیں۔ برطانوی شہریوں کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے، یہی وجہ ہے کہ ہم نے اضافی قونصلر اہلکار، بارڈر فورس اور برطانوی فوجی عملہ خطے میں تعینات کیا ہے۔”انہوں نے مزید کہا، "ہم نے برطانوی سفارت خانے کے اہلکاروں کے خاندانوں کو عارضی طور پر واپس بلالیا ہے۔ سفارت خانہ برطانوی شہریوں کو مدد فراہم کرتا رہے گا اور صورتحال کی قریبی نگرانی جاری رہے گی۔”FCDO نے برطانوی شہریوں کو لبنان چھوڑنے کی ہدایت دی ہے، خاص طور پر جب تک تجارتی راستے دستیاب ہیں۔ "تمام برطانوی شہریوں کو ابھی لبنان چھوڑ دینا چاہیے،
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ برطانوی سفارت خانہ برطانوی شہریوں کے مسائل حل کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے اور ان کی مدد کے لیے فعال ہے۔
لبنان میں حالیہ دنوں میں سیکیورٹی کی صورتحال تیزی سے بگڑ چکی ہے، جس میں راکٹ اور میزائل حملے شامل ہیں۔ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران کی ممکنہ مداخلت نے خطے کی سیکیورٹی کو مزید غیر مستحکم کر دیا ہے۔FCDO کی جانب سے یہ مشورہ اس وقت جاری کیا گیا ہے جب متعدد ممالک نے اپنے سفارتی عملے کو لبنان سے نکالنے کا فیصلہ کیا ہے، اور بیروت ایئرپورٹ پر بھی افراتفری کا ماحول ہے۔ برطانوی حکومت کی طرف سے اضافی سیکیورٹی اور امدادی ٹیمیں خطے میں تعینات کی گئی ہیں تاکہ برطانوی شہریوں کو محفوظ طریقے سے نکالا جا سکے۔