Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • پی ٹی آئی نے توشہ خانہ میں کچھ نہیں چھوڑا اور ہر چیز کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کیا۔ طلال چوہدری

    پی ٹی آئی نے توشہ خانہ میں کچھ نہیں چھوڑا اور ہر چیز کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کیا۔ طلال چوہدری

    مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما طلال چودھری نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی نے ایک بار پھر اپنا پرانا موقف دہرایا ہے اور وہ کسی بھی طرح مقدمات سے اپنی جان چھڑانا چاہتی ہے۔طلال چودھری نے کہا، "تحریک انصاف کا اصل چہرہ جلد ہی سامنے آ جائے گا۔ ان کی حالیہ سرگرمیاں محض اپنے خلاف چل رہے مقدمات سے بچنے کی کوشش ہیں۔”انہوں نے توشہ خانہ معاملے کو "ایسی داستان” قرار دیا جس سے "پاکستانیوں کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔” چودھری نے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی نے توشہ خانہ میں کچھ نہیں چھوڑا اور ہر چیز کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کیا۔

    مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے پی ٹی آئی کے حالیہ اعلان کردہ "تحفظ آئین اتحاد” پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا، "یہ تحفظ آئین نہیں بلکہ پی ٹی آئی کے بانی کی غلط کاریوں کو چھپانے کی ایک کوشش ہے۔”طلال چودھری نے مزید کہا، "اگر آپ نے کوئی غلط کام نہیں کیا تو پھر ڈرنے کی کیا ضرورت ہے؟ کبھی آپ کو سپہ سالار پسند نہیں آتا، کبھی آپ کو منصف اعلیٰ۔ آپ کی یہ چیخ و پکار صاف ظاہر کر رہی ہے کہ آپ جھوٹے ہیں اور چور ہیں۔”اس بیان نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ پی ٹی آئی کے ترجمان نے طلال چودھری کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ محض سیاسی بیان بازی ہے اور ان کے الزامات بے بنیاد ہیں۔

  • وزیر دفاع خواجہ آصف کا جنرل باجوہ کے سسر کے گھر فیض حمید سے ملاقات کا انکشاف

    وزیر دفاع خواجہ آصف کا جنرل باجوہ کے سسر کے گھر فیض حمید سے ملاقات کا انکشاف

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے انکشاف کیا ہے کہ اپریل 2019 میں لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید سے جنرل باجوہ کے سسر کے گھر ایک اہم ملاقات ہوئی تھی۔ اس ملاقات میں فیض حمید نے جون میں پنجاب حکومت اور دسمبر میں وفاقی حکومت کی پیشکش کی تھی۔خواجہ آصف نے ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ملاقات بیس منٹ تک جاری رہی۔ فیض حمید نے کہا کہ ہم بانی پی ٹی آئی سے تنگ آگئے ہیں اور انہیں ایکسپوز کر دیا گیا ہے، اور ان پر اب کوئی اعتماد نہیں کرتا۔ خواجہ آصف نے کہا کہ فیض حمید نے پوچھا کہ آپ کی شرائط کیا ہیں؟ جس پر میں نے جواب دیا کہ ہماری کوئی شرائط نہیں، ہم تو ہدایات کے منتظر ہیں۔ وزیر دفاع نے مزید کہا کہ انہوں نے جنرل باجوہ کی توسیع کے حوالے سے بھی گفتگو کی تھی اور ہم نے انہیں توسیع دی بھی۔اس ملاقات کے انکشاف سے ملک کی سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے اور یہ بات چیت مختلف تجزیوں کا موضوع بن گئی ہے۔

  • آئی پی آئی کی امریکا سے صحافیوں کی جاسوسی کے نئے عالمی معاہدے کی مخالفت کی اپیل

    آئی پی آئی کی امریکا سے صحافیوں کی جاسوسی کے نئے عالمی معاہدے کی مخالفت کی اپیل

    آزاد میڈیا کے عالمی نیٹ ورک انٹرنیشنل پریس انسٹیٹیوٹ (آئی پی آئی) نے امریکا سے صحافیوں کی جاسوسی کے نئے عالمی معاہدے کی مخالفت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مطالبہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں آزادی صحافت پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے اور کئی ممالک میں صحافیوں کی حفاظت خطرے میں ہے۔
    آئی پی آئی نے اپنے تازہ ترین بیان میں، جو مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ (سابقہ ایکس) پر جاری کیا گیا، امریکا پر زور دیا ہے کہ وہ جاسوسی و نگرانی کے اس نئے عالمی معاہدے کو مسترد کرے۔ انسٹیٹیوٹ کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ حکومتوں کو وسیع پیمانے پر جاسوسی اور نگرانی کے اختیارات دے گا، جو کہ آزادی صحافت کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔آئی پی آئی کے ڈائریکٹر جنرل باربرا ٹریونیئن نے اس موقع پر کہا، "یہ معاہدہ نہ صرف صحافیوں کی آزادی کو محدود کرے گا بلکہ آمرانہ حکومتوں کو پریس کو نشانہ بنانے اور دبانے کے لیے مزید آلات فراہم کرے گا۔ ہم امریکا سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس خطرناک معاہدے کو مسترد کرے اور دنیا بھر میں صحافیوں، آزادی صحافت اور جمہوریت کے حق میں کھڑا ہو۔”

    معاہدے کی تفصیلات ابھی تک عوامی نہیں کی گئی ہیں، لیکن ذرائع کے مطابق اس میں حکومتوں کو صحافیوں کے ڈیجیٹل مواصلات کی نگرانی، ان کے ذرائع کی شناخت، اور حساس معلومات تک رسائی کے وسیع اختیارات دینے کی تجویز ہے۔ یہ اقدامات بظاہر قومی سلامتی کے نام پر کیے جا رہے ہیں، لیکن تنقید کاروں کا کہنا ہے کہ یہ آزادی اظہار رائے اور صحافتی آزادی کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔آئی پی آئی نے اپنے بیان میں دنیا بھر کی مختلف صحافتی تنظیموں کو بھی ٹیگ کیا ہے، جن میں کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے)، رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز (آر ایس ایف)، اور انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس (آئی ایف جے) شامل ہیں۔ ان تنظیموں سے اس مہم میں شامل ہونے اور اپنی آواز بلند کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔

    صحافتی آزادی کے ماہر اور سابق صحافی ڈاکٹر علی احمد نے اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، "یہ معاہدہ ایک خطرناک مثال قائم کر سکتا ہے۔ اگر امریکا جیسی جمہوری ریاست اس قسم کے اقدامات کی حمایت کرتی ہے، تو یہ دنیا بھر میں آمرانہ حکومتوں کو صحافیوں پر دباؤ بڑھانے کا بہانہ دے سکتا ہے۔”واضح رہے کہ گزشتہ کچھ سالوں میں کئی ممالک میں صحافیوں پر حملے، ان کی گرفتاریاں اور قتل کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق، صرف گزشتہ سال 100 سے زائد صحافی اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران مارے گئے یا قید کیے گئے۔

    آئی پی آئی کے اس اقدام کو عالمی سطح پر صحافتی برادری کی جانب سے زبردست حمایت مل رہی ہے۔ کئی ممالک کے صحافتی اداروں نے بھی اس مہم میں شمولیت کا اعلان کیا ہے اور اپنی حکومتوں سے اس معاہدے کی مخالفت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔اس معاملے پر امریکی حکومت کی جانب سے ابھی تک کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم، امریکی محکمہ خارجہ کے ایک ترجمان نے نجی طور پر کہا ہے کہ حکومت صحافتی آزادی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے اور کسی بھی ایسے معاہدے پر دستخط نہیں کرے گی جو اس بنیادی حق کو متاثر کرے۔

    آئی پی آئی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر مزید آگاہی پھیلانے کے لیے ایک عالمی مہم شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور جلد ہی اس سلسلے میں ایک آن لائن کانفرنس کا انعقاد کیا جائے گا جس میں دنیا بھر کے صحافی اور میڈیا ماہرین شرکت کریں گے۔یہ معاملہ آنے والے دنوں میں مزید توجہ کا مرکز بننے کا امکان ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف صحافیوں کی آزادی بلکہ عام شہریوں کی رازداری اور آزادی اظہار رائے کے حقوق بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ آئی پی آئی کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے پر مسلسل نظر رکھے گی اور ضرورت پڑنے پر مزید اقدامات کرے گی۔

  • بنگلہ دیش: جماعت اسلامی اور اس کی طلبا تنظیم پر پابندی عائد

    بنگلہ دیش: جماعت اسلامی اور اس کی طلبا تنظیم پر پابندی عائد

    ڈھاکہ: بنگلہ دیش کی حکومت نے جماعت اسلامی اور اس کی طلبا تنظیم پر پابندی عائد کردی ہے، ان کو عسکری اور دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا گیا ہے۔ حسینہ واجد کی حکومت نے حالیہ طلبا احتجاج میں تشدد کے واقعات کے بعد جماعت اسلامی اور اس کی طلبا ونگ پر انسداد دہشت گردی قانون کے تحت پابندی لگا دی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ تنظیمیں طلبا مظاہروں میں تشدد کی ذمہ دار ہیں۔پچھلے ماہ سرکاری ملازمتوں کے کوٹا سسٹم کے خلاف طلبا نے بڑے پیمانے پر احتجاج کیا تھا۔ ان مظاہروں کے دوران پولیس کے کریک ڈاؤن میں 200 سے زیادہ افراد جاں بحق اور 10 ہزار سے زائد گرفتار ہوئے تھے۔بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ نے سرکاری ملازمتوں کے لیے 97 فیصد اوپن میرٹ مقرر کیا ہے، جس کے بعد طلبا نے احتجاج شروع کیا۔ مظاہرین نے اپنے رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے دوبارہ احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔یہ تنازع بنگلہ دیش میں حکومت اور طلبا تنظیموں کے درمیان ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے، اور اس کی وجہ سے ملک میں سیاسی اور سماجی کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

  • وزیرِاعظم شہباز شریف کا چینی وفد سے ملاقات: چینی شہریوں کے لئے مفت ویزہ کی سہولت کا اعلان

    وزیرِاعظم شہباز شریف کا چینی وفد سے ملاقات: چینی شہریوں کے لئے مفت ویزہ کی سہولت کا اعلان

    وزیرِاعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے جمعرات کو چینی وفد سے ملاقات کے دوران کہا کہ چین اور پاکستان کے تعلقات لازوال ہیں اور چینی شہریوں کو مفت ویزہ کی سہولت دینے کا فیصلہ کیا ہے جس پر 14 اگست سے عملدرآمد ہوگا۔ملاقات میں نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزراء سید محسن نقوی، احسن اقبال، محمد اورنگزیب، احد خان چیمہ، معاون خصوصی طارق فاطمی، وزیرِاعظم کے کوآرڈینیٹر رانا احسان افضل، چینی سفیر جیانگ زائیڈونگ اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ چینی وفد کی قیادت وانگ فوکانگ کر رہے تھے۔

    وزیرِاعظم نے چینی وفد کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ ان کا دورہ پاکستان انتہائی مفید ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان صنعت،زراعت،معدنیات، آئی ٹی اور خصوصی اقتصادی زونز میں تعاون بڑھے گا اور مشترکہ منصوبوں کے ذریعے چینی صنعت کی پاکستان منتقلی فائدہ مند ثابت ہوگی۔شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان میں چینی شہریوں کی فول پروف سکیورٹی کے لئے موثر اقدامات اٹھائے گئے ہیں اور بشام واقعہ میں ملوث افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی حکومت اور عوام اس واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں اور ملوث افراد کو قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔

    انہوں نے کہا کہ چین پاکستان دوستی پہاڑوں سے اونچی اور سمندروں سے گہری ہے اور چین کے تعاون سے پاکستان نے اپنا سیٹلائٹ فضا میں بھیجا ہے۔ انہوں نے چینی قیادت صدر شی جن پنگ اور وزیرِاعظم لی چیانگ کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔چینی وفد وزیرِاعظم شہباز شریف کے دورہ چین کے بعد پاکستان کے دورے پر ہے اور مختلف شعبوں میں تعاون اور اشتراک کے لئے اپنی آراء پیش کرے گا۔ 12 رکنی چینی وفد میں 10 مختلف وزارتوں کے نمائندے شامل ہیں۔ وفد پاکستان میں چینی سرمایہ کاری، سی پیک کے دوسرے مرحلے کے حوالے سے اشتراک و تعاون اور پاکستان کی برآمدات کے فروغ پر تجاویز دے گا۔چینی وفد انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت، صنعت، سرمایہ کاری، توانائی، معدنیات اور کان کنی، خصوصی اقتصادی زونز اور مواصلات کے شعبوں میں تعاون کے فروغ پر تجاویز پیش کرے گا۔

  • قومی اسمبلی کا اجلاس: اہم بلز اور توجہ دلاؤ نوٹسز ایجنڈے میں شامل

    قومی اسمبلی کا اجلاس: اہم بلز اور توجہ دلاؤ نوٹسز ایجنڈے میں شامل

    اسلام آباد: سپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس کل صبح 11 بجے ہو گا۔ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے اجلاس کا 9 نکاتی ایجنڈا جاری کر دیا ہے۔وزیر داخلہ محسن نقوی دارالحکومت اسلام آباد مقامی حکومت ایکٹ 2015 میں ترمیم کا بل ایوان میں پیش کریں گے۔ اس بل کا مقصد مقامی حکومت کے نظام میں بہتری لانا ہے تاکہ دارالحکومت میں عوامی خدمات کی فراہمی کو مزید موثر بنایا جا سکے۔ چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی سید امین الحق ٹیلی کمیونیکیشن ایپلٹ ٹریبونل کے قیام کے بل پر قائمہ کمیٹی کی رپورٹ پیش کریں گے۔ یہ ٹریبونل ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبے میں تنازعات کے فوری اور منصفانہ حل کو یقینی بنانے کے لئے قائم کیا جائے گا۔
    اجلاس میں قومی اقتصادی کونسل کی سالانہ رپورٹ برائے مالی سال 21-2020 بھی ایوان میں پیش کی جائے گی۔ یہ رپورٹ ملک کی اقتصادی حالت اور ترقیاتی منصوبوں کی پیشرفت پر روشنی ڈالے گی۔پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے صدر مملکت کے خطاب پر بحث بھی جاری رہے گی۔ اس بحث میں مختلف ارکان اپنی رائے کا اظہار کریں گے اور ملک کے مختلف اہم امور پر بات چیت کریں گے۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں اسلام آباد میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس بھی ایوان میں پیش کیا جائے گا۔
    اس نوٹس میں اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے پر حکومت سے جواب طلب کیا جائے گا۔اسی طرح پاسپورٹ کے اجراء میں غیر معمولی تاخیر سے متعلق ایک اور توجہ دلاؤ نوٹس بھی ایوان میں پیش کیا جائے گا۔ اس نوٹس میں عوام کو درپیش مشکلات کا تذکرہ کیا جائے گا اور حکومت سے اس مسئلے کے فوری حل کا مطالبہ کیا جائے گا۔اجلاس میں مختلف اہم بلز اور توجہ دلاؤ نوٹسز پر بحث اور ان کی منظوری کے بعد قومی اسمبلی کے ایجنڈے کو مکمل کیا جائے گا۔ توقع ہے کہ یہ اجلاس ملک کے مختلف اہم مسائل پر پیشرفت کا باعث بنے گا اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں گے۔

  • اسماعیل ہنیہ کی شہادت تہران کے گیسٹ ہاؤس میں نصب ریموٹ کنٹرول بم سے ہوئی، نیو یارک ٹائمز کا دعویٰ

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت تہران کے گیسٹ ہاؤس میں نصب ریموٹ کنٹرول بم سے ہوئی، نیو یارک ٹائمز کا دعویٰ

    واشنگٹن: امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ حماس کے سیاسی سربراہ اسماعیل ہنیہ کی شہادت تہران کے گیسٹ ہاؤس میں نصب ریموٹ کنٹرول بم سے ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق یہ بم دو ماہ قبل اِس اہم ترین عمارت میں اسمگل کیا گیا تھا۔نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شمالی تہران میں واقع یہ گیسٹ ہاؤس ایک بڑے کمپاؤنڈ کا حصہ ہے جس کی سیکیورٹی پاسدارانِ انقلاب کے پاس ہے۔ بم کو ریموٹ کنٹرول سے اُس وقت پھاڑا گیا جب اسماعیل ہنیہ کی اپنے کمرے میں موجودگی کی تصدیق ہو گئی۔ دھماکے میں ان کا ذاتی محافظ بھی شہید ہوا۔ دھماکے سے عمارت کی کھڑکیاں ٹوٹ گئیں اور باہری دیوار جزوی طور پر گر گئی۔
    رپورٹ کے مطابق اسماعیل ہنیہ تہران کے دوروں کے دوران کئی مرتبہ اس گیسٹ ہاؤس میں قیام کر چکے تھے۔ ایرانی حکام، حماس اور کئی امریکی اہلکاروں کا ماننا ہے کہ اس حملے کا ذمہ دار اسرائیل ہے۔ اگرچہ اسرائیل نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، لیکن اسرائیلی انٹیلی جنس اہلکاروں نے حملے کے فوراً بعد امریکا اور دیگر مغربی حکومتوں کے ساتھ آپریشن کی تفصیلات شیئر کیں۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بم کو گیسٹ ہاؤس میں کیسے پہنچایا گیا، یہ ابھی واضح نہیں ہے، لیکن اسماعیل ہنیہ کے قتل کی پلاننگ اور کمپاؤنڈ کی نگرانی بظاہر کئی مہینوں تک کی گئی تھی۔ اسماعیل ہنیہ سے ملحقہ کمرے میں فلسطینی اسلامک جہاد کے رہنما زیاد النخالا ٹھہرے ہوئے تھے لیکن ان کے کمرے کو کچھ بھی نہیں ہوا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حملے کا ہدف صرف اسماعیل ہنیہ تھے۔

  • جے یو آئی ایف کا اسرائیلی جارحیت کے خلاف ملک بھر میں مظاہروں کا اعلان

    جے یو آئی ایف کا اسرائیلی جارحیت کے خلاف ملک بھر میں مظاہروں کا اعلان

    اسلام آباد: جمیعت علماء اسلام (جے یو آئی ایف) نے اسرائیلی جارحیت کے خلاف کل جمعہ کو ملک بھر میں مظاہرے کرنے کا اعلان کیا ہے۔ مولانا فضل الرحمان کے حکم پر حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کو خراج عقیدت پیش کیا جائے گا۔جے یو آئی ایف کے ترجمان اسلم غوری نے کہا ہے کہ پاکستانی مسلمان اسماعیل ہنیہ کو شہید کرنے کے گھناؤنے جرم کی پاداش میں اسرائیل کے خلاف مظاہروں میں شریک ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اسماعیل ہنیہ شہید کے قتل کے دکھ کو ہر پاکستانی محسوس کرتا ہے اور کارکن بھرپور مظاہروں کی تیاری کریں۔ترجمان نے مزید کہا کہ ملک کے چھوٹے بڑے شہروں میں بھرپور احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔ خطباء اپنی تقاریر میں اسرائیلی جارحیت کو بے نقاب کریں گے اور عوام کو اس بات پر زور دیں گے کہ وہ فلسطینی بھائیوں کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام اور جے یو آئی کارکن اسرائیل اور اس کے حواریوں کو پیغام دیں گے کہ ہم اپنے فلسطینی بھائیوں کے شانہ بشانہ ہیں۔ اسلم غوری نے مزید کہا کہ یہ مظاہرے اس بات کا ثبوت ہوں گے کہ پاکستان کے عوام فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کی حمایت میں کسی بھی قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔اس موقع پر جے یو آئی ایف کے رہنماؤں نے عوام سے بھرپور شرکت کی اپیل کی اور کہا کہ اس مظاہرے کے ذریعے ہم دنیا کو یہ پیغام دیں گے کہ پاکستان کے مسلمان اپنے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ ہیں اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے۔

  • وزیراعظم کی زیر صدارت اتحادی جماعتوں کا اہم اجلاس ، اسرائیلی انتہا پسندی پر تشویش

    وزیراعظم کی زیر صدارت اتحادی جماعتوں کا اہم اجلاس ، اسرائیلی انتہا پسندی پر تشویش

    اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں کا اہم اجلاس منعقد کیا گیا۔ اجلاس میں کئی اہم فیصلے کیے ، جن میں حماس کے سربراہ اسماعیل ہانیہ کی شہادت کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر تفصیلی غور شامل ہے۔اجلاس میں اتحادی جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں نے اپنی تجاویز پیش کیں اور فیصلہ کیا گیا کہ قومی اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں اسماعیل ہانیہ کو نشانہ بنانے کے اسرائیلی اقدام کے خلاف قرارداد مذمت منظور کی جائے گی۔ اس قرارداد کے ذریعے فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی کیا جائے گا۔
    اجلاس کے دوران وزیراعظم نے پیپلز پارٹی کے بعض تحفظات کو بھی دور کیا اور پی ٹی آئی کی احتجاجی سیاست کے جواب میں حکومتی اقدامات پر بھی مشاورت کی۔ اتحادی جماعتوں نے الیکشن ایکٹ ترمیمی بل کی منظوری میں تعاون کی یقین دہانی بھی کروا دی۔ ذرائع کے مطابق، حکومت نے فیصلہ کیا کہ تحریک انصاف پر پابندی کے حوالے سے کوئی بھی اقدام اتحادیوں کے ساتھ مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔
    وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیلی انتہا پسندی اور دہشت گردی پر پوری دنیا کی خاموشی کو لمحہ فکریہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین میں گزشتہ نو مہینوں سے جاری خونریزی اور ہزاروں فلسطینیوں کی شہادت انتہائی افسوسناک ہے۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ ہسپتالوں کی تباہی اور روزانہ کی بنیاد پر غزہ میں گرنے والی لاشیں انتہائی دلخراش ہیں اور اس طرح کے واقعات تاریخ میں کم ہی دیکھے گئے ہیں۔
    شہباز شریف نے تہران میں ہونے والے واقعے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ سرحدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے راکٹ حملے کے ذریعے اسماعیل ہانیہ کو شہید کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قوانین کو پاؤں تلے روند دیا گیا اور اس طرح کی سفاکیت پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔اجلاس میں شریک اتحادی جماعتوں کے اراکین نے بھی اس موقع پر اظہار یکجہتی کیا اور فلسطینی عوام کے حقوق کی حمایت کی۔ وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حقوق کی حمایت جاری رکھے گا اور اسرائیلی مظالم کے خلاف آواز بلند کرتا رہے گا۔

  • چیئرمین پی ٹی آئی کا الیکشن ترمیمی بل کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان

    چیئرمین پی ٹی آئی کا الیکشن ترمیمی بل کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی نے الیکشن ترمیمی بل کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر علی نے کہا کہ کل جو قانون سازی کی جا رہی ہے وہ غیر آئینی اور غیر قانونی ہے۔بیرسٹر گوہر علی نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم اس قانون سازی کے خلاف سپریم کورٹ جائیں گے کیونکہ سپریم کورٹ کا فیصلہ پہلے ہی آ چکا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ عدل و انصاف پر مبنی فیصلوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کو نہ ماننا غیر آئینی ہے۔

    چیئرمین پی ٹی آئی نے یہ بھی کہا کہ ماضی میں بھی این آر او کے ذریعے نشستیں لی گئی تھیں اور اب دوبارہ ایسا ہی کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جسے پی ٹی آئی قبول نہیں کرے گی۔ انہوں نے چیف جسٹس سمیت عدلیہ سے گزارش کی کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کروانا ان کی آئینی ذمہ داری ہے۔بیرسٹر گوہر علی نے واضح کیا کہ کسی بھی قسم کی قانون سازی جو سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہو، غیر آئینی قرار پائے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پی ٹی آئی اس قانون سازی کے خلاف ہر ممکن اقدام اٹھائے گی اور اس کے لیے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے گا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ یہ نشستیں پی ٹی آئی کی ہیں اور ہماری ہی رہیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم اس قانون سازی کے خلاف بھرپور جدوجہد کریں گے اور انصاف کی فراہمی کے لیے عدلیہ سے تعاون کی توقع رکھتے ہیں۔اس بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے اور قانونی ماہرین کی نظریں سپریم کورٹ پر مرکوز ہو گئی ہیں کہ وہ اس معاملے پر کیا فیصلہ دیتی ہے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے سپریم کورٹ جانے کا اعلان سیاسی ماحول کو مزید گرم کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔