Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • نجکاری کمیٹی کی 2024-29 نجکاری پروگرام کے لیے 24 اداروں کی منظوری

    نجکاری کمیٹی کی 2024-29 نجکاری پروگرام کے لیے 24 اداروں کی منظوری

    اسلام آباد: نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت کابینہ کی نجکاری کمیٹی کے اجلاس میں 2024-29 کے نجکاری پروگرام کے لیے 24 اداروں کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اجلاس میں مختلف وزارتوں کے وزراء اور وفاقی سیکرٹریز نے شرکت کی، جن میں وزیر خزانہ، وزیر نجکاری، وزیر تجارت اور وزیر توانائی بھی شامل تھے۔اعلامیہ کے مطابق، نجکاری کا مقصد تجارتی میدان میں وفاق کے عمل دخل کو کم کرنا ہے۔ کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ وفاق کو صرف اسٹریٹجک اور ضروری سرکاری اداروں تک محدود کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ، منافع کمانے والے اداروں کی نجکاری پر بھی غور کیا جائے گا۔ کابینہ کی ایس او ایز کمیٹی ان اداروں کی درجہ بندی کر رہی ہے اور درجہ بندی کی تکمیل کے بعد دیگر سرکاری اداروں کو بھی نجکاری کے پروگرام میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

    اجلاس میں او جی ڈی سی ایل کے حصص پٹرولیم ڈویژن کو منتقل کرنے پر بھی غور کیا گیا۔ اس کے علاوہ، مالی سال 2024-25 کے لیے کمیشن کے بجٹ تخمینوں کی منظوری بھی دی گئی، جس میں رواں مالی سال کے لیے کمیشن کے بجٹ کی رقم 8169 ملین روپے مقرر کی گئی ہے۔اجلاس میں وزیر صنعت و پیداوار، وزیر مملکت خزانہ، اور وفاقی سیکرٹریز نے بھی شرکت کی۔ اس فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت تجارتی جگہ میں اپنی مداخلت کم کرنے اور سرکاری اداروں کو مزید کارآمد بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھا رہی ہے۔نجکاری کمیٹی کے اس فیصلے سے ملک کی معیشت میں بہتری اور سرکاری اداروں کی کارکردگی میں اضافہ متوقع ہے۔ کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں ان اداروں کی نجکاری کے عمل کو شفاف اور موثر طریقے سے انجام دیا جائے گا تاکہ عوام کو بہترین خدمات فراہم کی جا سکیں۔

  • گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کا بانی پی ٹی آئی پر تنقید، مذاکرات کے امکانات پر شکوک

    گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کا بانی پی ٹی آئی پر تنقید، مذاکرات کے امکانات پر شکوک

    گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بانی پی ٹی آئی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے ان کے مذاکراتی عمل پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے، گورنر کنڈی نے کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ بانی پی ٹی آئی کس کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں۔فیصل کریم کنڈی نے کہا، "بانی پی ٹی آئی پہلے کہتے تھے کہ کسی سیاسی جماعت سے بات چیت نہیں کریں گے، اب کبھی مولانا فضل الرحمان، کبھی محمود خان اچکزئی اور کبھی سردار اختر مینگل کے در پر حاضر ہیں۔” انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا اب سیاسی جماعتیں بانی پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کریں گی یا نہیں۔
    گورنر کے پی نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی جن کندھوں اور بیساکھیوں پر اقتدار میں آئے تھے، اب وہ سہارا نہیں رہے۔ کنڈی نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ صوبے میں برائے نام حکومت چل رہی ہے اور پاراچنار کے مسئلے پر بھی حکومت کی خاموشی پر تنقید کی۔انہوں نے پی ٹی آئی کی گزشتہ حکومت پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی نے 10 سال حکومت کی، اور اب وہ سابق حکومت کو خزانے کی خالی حالت کا ذمہ دار نہیں ٹھہرا سکتے۔ "آج تعلیمی اداروں کی زمینیں بیچی جا رہی ہیں، جب تک میں ہوں، صوبے کی ایک مرلہ زمین بھی نہیں بیچنے دوں گا۔ میرے پاس ایم پی ایز آئے تھے اور تحفظات کا اظہار کیا تھا۔”
    گورنر کنڈی نے صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر بھی بات کی، خاص طور پر ٹانک میں ججز پر حملوں اور لوگوں کے اغواء کی واقعات کا ذکر کیا۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ کو امن و امان کی بحالی کے لیے اجلاس بلانے کی تجویز دی اور کہا کہ اٹھارھویں ترمیم کے بعد یہ صوبے کی ذمہ داری ہے کہ امن و امان کو برقرار رکھا جائے۔کنڈی نے بانی پی ٹی آئی کی فرنچائزز پر بھی تنقید کی، کہتے ہوئے کہ وہ پانچ فرنچائزز چلا رہے ہیں جبکہ حقیقی فرنچائز کا کچھ پتا نہیں۔گورنر خیبر پختونخوا کے ان بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ صوبے میں سیاسی تناؤ بڑھتا جا رہا ہے اور حکومت کے اقدامات پر مزید سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

  • وزیر اعلیٰ سندھ کا صوبے میں بجلی پیدا کرنے اور تقسیم کرنے والی کمپنی کے قیام کا اعلان

    وزیر اعلیٰ سندھ کا صوبے میں بجلی پیدا کرنے اور تقسیم کرنے والی کمپنی کے قیام کا اعلان

    کراچی: وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے صوبے میں بجلی پیدا کرنے اور تقسیم کرنے والی کمپنی کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، مراد علی شاہ نے اس بات پر زور دیا کہ کیپیسٹی پیمنٹ کے مسئلے کو حل کیا جا سکتا ہے، مگر اس کے لیے سب کو ساتھ مل کر چلنا ہوگا۔مراد علی شاہ نے تقریب میں کہا کہ سندھ بہت جلد اپنی بجلی پیدا کرنے اور تقسیم کرنے والی کمپنی بنانے جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ سندھ پاکستان کا 70 فیصد گیس پیدا کرتا ہے، اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ سندھ کو اس کی پیدا کردہ گیس فراہم کرے تاکہ صوبہ خود پاور پلانٹس لگا سکے۔
    انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ تھر کول پورے ملک کی بجلی کی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، لیکن اس کے استعمال میں مسائل کا سامنا ہے۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ بجلی کا ٹیرف بہت زیادہ ہے جس کی وجہ سے صنعتیں تیزی سے اپنی صلاحیت کھو رہی ہیں۔وزیر اعلیٰ نے تاجروں کے مسائل کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ان کے مسائل سے پوری طرح آگاہ ہے اور انہیں حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاجروں کی مشکلات کو کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں گے تاکہ صنعتی ترقی کو فروغ مل سکے اور معیشت میں استحکام آئے۔مراد علی شاہ کے اس اعلان سے ظاہر ہوتا ہے کہ سندھ حکومت صوبے کی توانائی کی ضروریات کو خود پورا کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھا رہی ہے۔ اس سے نہ صرف صوبے کی صنعتوں کو فائدہ ہوگا بلکہ عوام کو بھی کم قیمت پر بجلی فراہم کی جا سکے گی۔
    تقریب میں موجود شرکاء نے وزیر اعلیٰ کے اس اعلان کا خیرمقدم کیا اور امید ظاہر کی کہ ان اقدامات سے سندھ کی معیشت میں بہتری آئے گی۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ بجلی کی پیداوار اور تقسیم کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا۔وزیر اعلیٰ سندھ نے اس بات پر زور دیا کہ صوبے کے وسائل کو بہتر طریقے سے استعمال کرتے ہوئے توانائی کے مسائل کو حل کیا جائے گا اور سندھ کو توانائی کے شعبے میں خود کفیل بنایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات نہ صرف سندھ بلکہ پورے ملک کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں گے۔

  • پی سی بی نے ورلڈ کپ اور حالیہ سیریز میں کھلاڑیوں کی ڈسپلن خلاف ورزیوں پر سخت نوٹس لے لیا

    پی سی بی نے ورلڈ کپ اور حالیہ سیریز میں کھلاڑیوں کی ڈسپلن خلاف ورزیوں پر سخت نوٹس لے لیا

    لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ورلڈ کپ اور حالیہ سیریز میں کھلاڑیوں کی جانب سے ڈسپلن کی خلاف ورزیوں کو مزید سنجیدگی سے لینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ 2024 میں ٹیم میں گروپنگ اور کھلاڑیوں کے ڈسپلن پر پی سی بی نے مزید نظرثانی کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔پی سی بی نے ہیڈ کوچ گیری کرسٹن اور منیجر وہاب ریاض کی رپورٹ کے جائزے کے لیے ایک کمیٹی کے قیام کا فیصلہ کیا ہے، جس کا سربراہ کسی سابق کپتان کو بنائے جانے کا امکان ہے۔ یہ کمیٹی کھلاڑیوں کے ڈسپلن اور ٹیم میں گروپنگ کی رپورٹس کا بغور جائزہ لے گی اور اس کی سفارشات کی روشنی میں مناسب کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
    ذرائع کے مطابق، ورلڈ کپ کے دوران شاہین شاہ آفریدی کے ڈسپلن کی خلاف ورزیوں اور برے رویے کی خبریں منظر عام پر آئیں۔ میڈیا رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ ٹیم منیجر وہاب ریاض نے شاہین آفریدی کی ڈسپلن کی خلاف ورزیوں کو نظر انداز کیا۔ اسی دوران، بعض کھلاڑیوں کی غیر ضروری طرف داری کے الزامات بھی سامنے آئے، جنہوں نے ٹیم کے پرفارمنس پر منفی اثر ڈالا۔رپورٹس میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ ورلڈ کپ کے دوران کھلاڑیوں کے درمیان اختلافات نے ڈریسنگ روم کے ماحول کو خراب کیا۔ کھلاڑی ایک دوسرے کے خلاف باتیں کرتے رہے، جس سے ٹیم کی یکجہتی متاثر ہوئی۔
    پی سی بی کے اس فیصلے کا مقصد ٹیم میں نظم و ضبط کو بحال کرنا اور مستقبل میں ایسے واقعات سے بچنا ہے۔ کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں گروپنگ اور ڈسپلن توڑنے والے کھلاڑیوں کے خلاف سخت کارروائی متوقع ہے۔ اس اقدام سے پی سی بی امید کرتا ہے کہ ٹیم کی کارکردگی میں بہتری آئے گی اور کھلاڑیوں کا رویہ بھی بہتر ہوگا۔

  • بلوچستان میں پولیو کا ایک اور کیس رپورٹ، تعداد 8 ہوگئی

    بلوچستان میں پولیو کا ایک اور کیس رپورٹ، تعداد 8 ہوگئی

    کوئٹہ: بلوچستان کے ضلع جھل مگسی میں پولیو وائرس کا ایک اور کیس رپورٹ ہوا ہے۔ محکمہ صحت کے مطابق جھل مگسی میں 3 سال کے بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے۔اس نئے کیس کے ساتھ ہی بلوچستان میں پولیو وائرس کے مصدقہ کیسز کی تعداد 8 ہوگئی ہے۔ محکمہ صحت کے حکام نے بتایا کہ رواں سال بلوچستان میں پولیو کے سب سے زیادہ 3 کیسز قلعہ عبداللّٰہ سے رپورٹ ہوئے ہیں۔ دیگر کیسز میں چمن، ژوب، ڈیرہ بگٹی اور جھل مگسی سے ایک ایک کیس شامل ہیں۔محکمہ صحت کے حکام نے اس صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ پولیو وائرس کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ والدین سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے میں کوئی کسر نہ چھوڑیں تاکہ اس خطرناک بیماری کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔محکمہ صحت کی جانب سے پولیو کے خلاف جاری مہمات کو مزید مضبوط اور موثر بنانے کے لیے اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ عوام میں پولیو ویکسین کی اہمیت کے بارے میں آگاہی بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ ہر بچے کو اس بیماری سے محفوظ بنایا جا سکے۔

  • عمران خان نے محمود خان اچکزئی کو دیگر جماعتوں سے بات چیت کی اجازت دے دی، بیرسٹر گوہر

    عمران خان نے محمود خان اچکزئی کو دیگر جماعتوں سے بات چیت کی اجازت دے دی، بیرسٹر گوہر

    اسلام آباد: چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے انکشاف کیا ہے کہ عمران خان نے محمود خان اچکزئی کو اجازت دی ہے کہ وہ دیگر سیاسی جماعتوں سے بھی بات چیت کریں۔ نجی ٹی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے جس میں بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ ابھی تک کسی جانب سے کوئی پروپوزل نہیں آیا ہے۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ عمران خان نے محمود خان اچکزئی کو کھلی اجازت دی ہے کہ وہ اپنی مرضی سے کسی بھی پارٹی سے بات کر سکتے ہیں۔ "ہم چاہتے ہیں کہ مذاکرات کے دریچے کھلے رہیں اور بات چیت کا سلسلہ جاری رہے”، انہوں نے زور دیا۔
    انہوں نے بتایا کہ عمران خان نے یہ بھی کہا ہے کہ مذاکرات کے نتیجے میں اگر کوئی پیشکش ملے تو ہمیں آگاہ کریں۔ تاہم، ابھی تک کسی جانب سے کوئی جواب نہیں آیا ہے۔ بیرسٹر گوہر نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ 9 مئی کو جو کچھ ہوا، وہ غلط تھا اور ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا۔پی ٹی آئی کے چیئرمین نے مزید کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ باقی جماعتیں بھی اتحاد میں شامل ہوں۔ مولانا فضل الرحمان کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ بات چیت کامیاب ہوگی اور امید ہے کہ مولانا استعفے کی شرط نہیں رکھیں گے۔بیرسٹر گوہر نے اختتام پر کہا کہ تناؤ کو کم کرنے کی کوشش جاری ہے اور امید ہے کہ مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل نکالا جا سکے گا۔

  • صنفی تشدد کی بڑھتی ہوئی لہر: قانون و انصاف کمیشن کی تشویشناک رپورٹ

    صنفی تشدد کی بڑھتی ہوئی لہر: قانون و انصاف کمیشن کی تشویشناک رپورٹ

    قانون و انصاف کمیشن کی جانب سے جاری کی گئی تازہ ترین رپورٹ نے پاکستان میں صنفی تشدد کی سنگین صورتحال پر روشنی ڈالی ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک بھر میں صنفی تشدد کے واقعات میں نہ صرف اضافہ ہوا ہے، بلکہ ان کیسز کے حل میں بھی تاخیر ہو رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق، سال 2023 میں صنفی تشدد کے زیر التواء مقدمات کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ سال 21,891 کیسز کے مقابلے میں اس سال یہ تعداد بڑھ کر 39,665 تک پہنچ گئی ہے۔ یہ تقریباً 81 فیصد کا اضافہ ظاہر کرتا ہے۔
    صوبائی سطح پر دیکھا جائے تو پنجاب میں صورتحال سب سے زیادہ تشویشناک ہے، جہاں زیر التواء مقدمات میں 100 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ دیگر صوبوں میں بھی اضافے کا رجحان دیکھا گیا ہے۔ سندھ میں 3 فیصد، خیبر پختونخوا میں 14 فیصد، بلوچستان میں 2 فیصد، جبکہ اسلام آباد میں 1 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ صنفی تشدد کے کیسز میں سب سے زیادہ مقدمات جنسی زیادتی کے ہیں۔ اس کے علاوہ، اغواء، انسانی سمگلنگ اور خواتین کے قتل کے کیسز بھی نمایاں ہیں۔ حیران کن طور پر، الیکٹرانک جرائم میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ معاشی جرائم میں کمی دیکھی گئی ہے۔
    انصاف کے حصول کے حوالے سے رپورٹ میں انتہائی تشویشناک اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ صنفی جرائم میں ملوث ملزمان کو سزا دینے کی شرح محض 5 فیصد ہے، جبکہ 64 فیصد ملزمان کو بری کر دیا جاتا ہے۔ یہ اعداد و شمار انصاف کے نظام پر سوالیہ نشان لگاتے ہیں۔یہ قابل ذکر ہے کہ 2019 میں حکومت نے صنفی جرائم سے نمٹنے کے لیے 480 خصوصی عدالتیں قائم کی تھیں۔ تاہم، زیر التواء مقدمات کی بڑھتی ہوئی تعداد اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ان عدالتوں کی کارکردگی مطلوبہ سطح پر نہیں ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے تجویز دی ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیت بڑھانے، عدالتی نظام میں اصلاحات لانے، اور معاشرے میں آگاہی پھیلانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔
    حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ اس رپورٹ کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں اور جلد ہی اس حوالے سے ایک جامع حکمت عملی مرتب کی جائے گی۔ تاہم، انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ صرف وعدوں سے کام نہیں چلے گا، بلکہ فوری اور موثر اقدامات کی ضرورت ہے۔اس رپورٹ نے ایک بار پھر پاکستان میں خواتین کے حقوق اور تحفظ کے مسئلے کو زیر بحث لا دیا ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ اس رپورٹ کے نتیجے میں حکومت اور سول سوسائٹی مل کر اس سنگین مسئلے کے حل کے لیے موثر اقدامات اٹھائیں گے۔

  • جماعت اسلامی کے دھرنے میں پولیس پہنچ گئی، شعیب شاہین خطاب ادھورا چھوڑ کے بھاگ نکلے

    جماعت اسلامی کے دھرنے میں پولیس پہنچ گئی، شعیب شاہین خطاب ادھورا چھوڑ کے بھاگ نکلے

    جماعت اسلامی کے جاری دھرنے میں آج ایک حیرت انگیز واقعہ پیش آیا جب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شعیب شاہین کو اپنا خطاب درمیان میں ہی چھوڑ کر فرار ہونا پڑا۔ واقعے کی تفصیلات کے مطابق، شعیب شاہین جب اپنے خطاب کے عروج پر تھے، اچانک پولیس کی بھاری نفری دھرنے کے مقام پر پہنچ گئی۔ پولیس کو دیکھتے ہی شعیب شاہین نے اپنا خطاب روک دیا اور بغیر کسی تاخیر کے ایک موٹرسائیکل پر سوار ہو کر مقام سے فرار ہو گئے۔یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب پی ٹی آئی کی اسلام آباد اور راولپنڈی کی قیادت جماعت اسلامی کے دھرنے میں شرکت کے لیے پہنچی تھی۔ اسلام آباد سے شعیب شاہین اور عامر مغل، جبکہ راولپنڈی سے شہریار ریاض نے دھرنے میں شرکت کی۔جماعت اسلامی کے قائم مقام امیر لیاقت بلوچ نے پی ٹی آئی کی قیادت کا گرمجوشی سے استقبال کیا تھا۔ یہ قابل ذکر ہے کہ پی ٹی آئی کے بانی نے پہلے ہی جماعت اسلامی کے اس دھرنے کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔حکومتی ذرائع نے اس واقعے پر خاموشی اختیار کی ہے، جبکہ اپوزیشن جماعتیں اسے جمہوری حقوق کی پامالی قرار دے رہی ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس واقعے کے مزید پہلو سامنے آنے کی توقع ہے۔

  • پی ٹی آئی اور جے یو آئی کی مذاکراتی کمیٹیوں کی ملاقات منگل کو طے پا گئی،

    پی ٹی آئی اور جے یو آئی کی مذاکراتی کمیٹیوں کی ملاقات منگل کو طے پا گئی،

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) کی مذاکراتی کمیٹیوں کے درمیان اہم ملاقات منگل کو ہوگی، جس میں اتحاد سے متعلق اہم پیش رفت متوقع ہے۔ذرائع کے مطابق اس ملاقات میں جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان بھی شرکت کریں گے۔ دونوں جماعتوں کی جانب سے مذاکرات کے لیے پہلے ہی پانچ پانچ رکنی کمیٹیاں تشکیل دی جا چکی ہیں۔مولانا فضل الرحمان عمرہ کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب گئے ہوئے ہیں اور اتوار کو وطن واپس پہنچنے کی توقع ہے۔ ملاقات میں دونوں جماعتوں کے درمیان مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا اور ممکنہ اتحاد کے امکانات پر غور کیا جائے گا۔ادھر جماعت اسلامی کے ساتھ مذاکرات میں بھی پیش رفت ہوئی ہے۔ پنجاب حکومت نے گرفتار رہنماؤں اور کارکنان کی رہائی کا فیصلہ کیا ہے، جس سے مذاکرات کے مثبت نتائج نکلنے کی امید ہے۔اس ملاقات کو سیاسی حلقوں میں بڑی اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ یہ دونوں جماعتوں کے درمیان تعلقات میں اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔

  • پاکستان میں وی پی این کی مکمل بندش ممکن لیکن کاروباری نقصانات کا خدشہ: چیئرمین پی ٹی اے

    پاکستان میں وی پی این کی مکمل بندش ممکن لیکن کاروباری نقصانات کا خدشہ: چیئرمین پی ٹی اے

    پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے چیئرمین میجر جنرل (ر) حفیظ رحمان نے جمعرات کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی اور ٹیلی کام کو بتایا کہ ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورکس (وی پی این) کو ملک بھر میں مکمل طور پر بلاک کیا جا سکتا ہے، لیکن ایسا کرنے سے کاروبار کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی اے نے غیر مجاز خدمات کو روکنے کے لیے وی پی این کی وائٹ لسٹنگ شروع کر دی ہے۔ اس کے نتیجے میں، پاکستان میں ایکس (سابقہ ٹوئٹر) کے استعمال میں 70 فیصد کمی آئی ہے، جبکہ صرف 30 فیصد صارفین وی پی این کے ذریعے اس تک رسائی حاصل کر رہے ہیں۔
    حفیظ رحمان نے بتایا کہ ایکس نے گزشتہ تین ماہ میں پی ٹی اے کی صرف 7 فیصد شکایات پر کارروائی کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایکس کو اَن بلاک کرنے کا فیصلہ وفاقی حکومت کے پاس ہے۔اسی موقع پر وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پاکستان میں مذہبی جذبات سے متعلق پوسٹس کی بلاکنگ نہ ہونے کی صورت میں مظاہرے ہوتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی تنقید یوٹیوب اور ٹک ٹاک پر ایکس کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے، لیکن حکومت اس تنقید سے اختلاف نہیں کرتی۔یہ بیانات ایسے وقت میں آئے ہیں جب پاکستان میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی نگرانی اور ضابطہ کاری پر بحث جاری ہے۔ حکومت اور ریگولیٹری اداروں کا کہنا ہے کہ وہ آن لائن مواد کو قانون کے مطابق رکھنا چاہتے ہیں، جبکہ تنقید کرنے والوں کا خیال ہے کہ یہ اقدامات آزادی اظہار رائے کو محدود کر سکتے ہیں۔