Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • امریکی صدر جو بائیڈن کی اسرائیلی وزیراعظم پر سخت تنقید

    امریکی صدر جو بائیڈن کی اسرائیلی وزیراعظم پر سخت تنقید

    امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر سخت مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ "مجھ سے جھوٹ نہ بولو، صدر کی بے قدری نہ کریں۔” ذرائع کے مطابق، بائیڈن نے نیتن یاہو کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کا مشورہ دیا اور غزہ میں یرغمالیوں کی رہائی اور جنگ بندی کے لیے فوری اقدامات کرنے پر زور دیا۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ خطے میں امن و امان کی بحالی کے لیے اسرائیل کو مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔بائیڈن سے ایک سوال پوچھا گیا کہ کیا ایران جوابی حملے سے دستبردار ہو جائے گا؟ جس پر انہوں نے جواب دیا کہ انہیں اس بارے میں علم نہیں ہے۔ بائیڈن کی اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ جوابی حملوں سے متعلق غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہا ہے۔
    امریکی میڈیا کے مطابق، بیروت اور تہران میں حالیہ قتل کی وارداتوں نے بائیڈن کو جھنجلا دیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ حماس اور حزب اللہ کے رہنماؤں کو اسرائیلی وزیراعظم کے دورہ امریکہ کے فوری بعد نشانہ بنایا گیا، جس نے حالات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ایرانی پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کے قتل کا بدلہ شدید ہوگا۔ ایران کے مطابق، وہ مناسب وقت، جگہ اور طریقے سے اس حملے کا بدلہ لے گا۔ یہ بیان خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ تصادم کی نشاندہی کرتا ہے۔
    بائیڈن کی اس سخت تنقید اور ایران کے بیان کے بعد خطے میں صورتحال مزید خراب ہوتی نظر آ رہی ہے۔ بین الاقوامی برادری نے دونوں ممالک کو تحمل سے کام لینے کی اپیل کی ہے اور خطے میں امن و امان کی بحالی کے لیے مذاکرات پر زور دیا ہے۔اس صورتحال نے امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات میں بھی تناؤ پیدا کر دیا ہے اور خطے میں امن کی بحالی کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ عالمی رہنماؤں نے اس موقع پر اسرائیل اور فلسطین کے درمیان مذاکرات کی بحالی کی اہمیت پر زور دیا ہے تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔

  • اسرائیلی فوج کی پناہ گزین سکول پر بمباری، بچوں سمیت 17 فلسطینی شہید

    اسرائیلی فوج کی پناہ گزین سکول پر بمباری، بچوں سمیت 17 فلسطینی شہید

    اسرائیلی فوج نے ایک بار پھر غزہ شہر کے پناہ گزین سکول پر بمباری کی جس کے نتیجے میں بچوں سمیت 17 فلسطینی شہید ہو گئے اور 60 سے زائد شدید زخمی ہو گئے۔ عرب میڈیا کے مطابق، حملے کے دوران اسکول میں موجود معصوم بچوں اور بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اسکول پر پہلے حملے کے بعد امدادی کارروائیاں جاری تھیں جب اسرائیلی فوج نے مزید بم برسائے، جس سے ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ امدادی ٹیموں کو بھی حملے کے دوران مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور زخمیوں کو بروقت طبی امداد پہنچانے میں تاخیر ہوئی۔

    اسرائیلی فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ اسکول کو فلسطینی گروپ حماس کے کمانڈ سینٹر کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔ اسرائیلی فوج کے مطابق، اسکول میں جنگجوؤں کو چھپانے اور ہتھیار بنانے کے لئے استعمال کیا جا رہا تھا۔ تاہم، حماس نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اسکول میں صرف بے گناہ پناہ گزین موجود تھے۔اسرائیلی فوج نے حماس اور حزب اللہ کے کمانڈروں پر ٹارگٹڈ حملے بڑھا دیے ہیں۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج نے 2 ڈرون حملے کیے جس میں حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ کے کمانڈر سمیت 9 فلسطینی شہید ہوئے۔ ادھر لبنان میں گاڑی پر اسرائیلی فضائی حملے میں حزب اللہ کے اہم کمانڈر علی عبد علی شہید ہو گئے۔ حزب اللہ نے بھی اسرائیلی اہداف کو راکٹوں اور توپوں سے نشانہ بنایا۔

    واضح رہے کہ غزہ میں 7 اکتوبر سے جاری وحشیانہ حملوں میں اب تک 39 ہزار 500 سے زیادہ فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ یہ مسلسل حملے اور بمباری نہ صرف فلسطینی عوام کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہی ہیں بلکہ خطے میں امن و امان کی صورتحال کو بھی انتہائی نازک بنا رہی ہیں۔بین الاقوامی برادری نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے فوری طور پر جنگ بندی اور مذاکرات کی اپیل کی ہے۔ اقوام متحدہ نے بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم، اسرائیل نے اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔اس صورتحال نے غزہ کے عوام کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے اور بین الاقوامی برادری کے لئے ایک بڑا چیلنج بن گئی ہے۔ معصوم بچوں اور بے گناہ شہریوں کی ہلاکتیں نہ صرف انسانی المیہ ہیں بلکہ عالمی امن کے لئے بھی خطرہ ہیں۔

  • سیاست میں کبھی دروازے بند نہیں ہوتے” پی ٹی آئی رہنما لطیف کھوسہ

    سیاست میں کبھی دروازے بند نہیں ہوتے” پی ٹی آئی رہنما لطیف کھوسہ

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما لطیف کھوسہ نے ایک نجی ٹی وی چینل پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاست میں کبھی دروازے بند نہیں ہوتے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سیاست میں ہمیشہ مواقع موجود ہوتے ہیں اور مشکلات کے باوجود امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہئے۔لطیف کھوسہ نے اپنے بیان میں وزیراعظم شہباز شریف اور مریم نواز کی حیثیت پر سوال اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ قیادت کے پاس کوئی خاص اختیارات نہیں ہیں اور قوم کو کبھی مایوس نہیں ہونا چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جلسے اور احتجاج کی اجازت نہ دینے کے اقدام پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی ملک کی فوج اور دفاع کو مضبوط دیکھنا چاہتی ہے۔

    کھوسہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ملک کی ترقی اور فلاح کے لیے آئین اور قانون کے مطابق چلنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے محمود اچکزئی کو تحریک تحفظ آئین کی سربراہی دی ہوئی ہے، جو کہ آئین کے تحفظ کے لیے کام کر رہی ہے۔لطیف کھوسہ نے اپنے بیان میں ملک کی مجموعی صورت حال اور سیاسی محاذ پر پی ٹی آئی کی پوزیشن واضح کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کی جدوجہد آئینی اصولوں کے تحت جاری رہے گی اور تمام چیلنجز کا مقابلہ کیا جائے گا۔

  • وفاقی حکومت کی سفارش پر پنجاب حکومت نے  جماعت اسلامی  کے کارکنوں کو رہا  کر دیا

    وفاقی حکومت کی سفارش پر پنجاب حکومت نے جماعت اسلامی کے کارکنوں کو رہا کر دیا

    اسلام آباد: وفاقی حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کے بعد، جماعت اسلامی کے گرفتار رہنما اور کارکنان کو رہا کر دیا گیا ہے۔ پنجاب میں دھرنے کے دوران گرفتار کیے گئے جماعت اسلامی کے رہنماؤں اور کارکنوں کی رہائی وفاقی حکومت کی سفارش پر عمل میں آئی۔جماعت اسلامی کے رہنما عبدالعزیز عابد نے اس بات کی تصدیق کی کہ تمام کارکنان جو گزشتہ رات گرفتار کیے گئے تھے، اب آزاد ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ رہائی کے باوجود، دھرنے کے لیے روانہ ہونے والی بسوں کو تھانے میں بند کیا جا رہا ہے اور منصورہ کے باہر پولیس افسران موجود ہیں جو نظر رکھے ہوئے ہیں۔جماعت اسلامی کے رہنما احمد سلمان بلوچ نے بتایا کہ ان پر ابھی بھی ایک ایف آئی آر باقی ہے جو کہ خارج نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ملتان میں 16 ایم پی او کے تحت قید کارکنان کو ہائی کورٹ نے رہا کر دیا ہے، جبکہ لاہور میں بھی کارکنوں پر درج مقدمات کو عدالت کے ذریعے خارج کیا گیا ہے۔یہ مذاکرات اور رہائی کے عمل نے حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان تعلقات میں ایک نیا موڑ لیا ہے، اور یہ صورت حال کی بہتری کی طرف ایک قدم ثابت ہو سکتی ہے۔

  • پی آئی اے کے ملازم کو جعلی ڈگری پر شو کاز نوٹس جاری

    پی آئی اے کے ملازم کو جعلی ڈگری پر شو کاز نوٹس جاری

    اسلام آباد، پاکستان: پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) نے اپنے ایک ملازم جاوید اقبال باجوہ کو جعلی انٹرمیڈیٹ ڈگری رکھنے کے الزام میں شو کاز نوٹس جاری کر دیا ہے۔نوٹس کے مطابق، جاوید اقبال باجوہ، جو پی آئی اے برمنگھم میں ڈپٹی اسٹیشن مینیجر ہیں، سے اگست 2023 میں ان کی تعلیمی دستاویزات کی کاپیوں کی فراہمی طلب کی گئی تھی۔ تصدیق کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ ان کی انٹرمیڈیٹ سند، جس پر رول نمبر 25703 درج ہے، بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن لاہور کی جانب سے "جعلی” قرار دی گئی ہے۔
    ایئرلائن نے باجوہ کے خلاف پی آئی اے ملازمین کی ڈسپلنری پالیسی (EDP) 2019 کی شقوں 54 اور 32 کے تحت کارروائی شروع کی ہے، جو کہ غلط معلومات فراہم کرنے اور کمپنی کے قواعد کی خلاف ورزی سے متعلق ہیں۔جاوید باجوہ کو شو کاز نوٹس کا جواب دینے کے لیے سات دن کا وقت دیا گیا ہے۔ اگر وہ تسلی بخش وضاحت فراہم کرنے میں ناکام رہتے ہیں، تو ایئرلائن مزید ڈسپلنری کارروائی کر سکتی ہے۔اس واقعے نے سرکاری اداروں میں تعلیمی دستاویزات کی تصدیق کے عمل پر سوالات اٹھائے ہیں اور ایسے کیسز کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔

  • حافظ نعیم الرحمان کی اسماعیل ہنیہ کے بیٹوں سے ملاقات، تعزیت کا اظہار

    حافظ نعیم الرحمان کی اسماعیل ہنیہ کے بیٹوں سے ملاقات، تعزیت کا اظہار

    دوحہ: جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے دوحہ میں حماس کے سیاسی سربراہ اسماعیل ہنیہ کی نمازِ جنازہ میں شرکت کی اور ان کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔ اس موقع پر انہوں نے اسماعیل ہنیہ کے صاحبزادوں اور حماس کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کی، جس میں گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا۔اسماعیل ہنیہ، جو ایران میں اسرائیلی حملے میں شہید ہوئے، کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں دفن کیا گیا۔ ان کی نمازِ جنازہ میں امیر قطر شیخ تمیم بن حمد، حماس کے سابق رہنما خالد مشعل، اسماعیل ہنیہ کے بیٹے، اور فلسطینی تنظیموں کے اعلیٰ رہنماؤں نے شرکت کی۔ حافظ نعیم الرحمان نے اس موقع پر دوحہ میں اتحاد العلما العالمی الاسلامی کی قیادت سے بھی ملاقات کی، جس میں اسلامی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اسماعیل ہنیہ کو دوحہ کے لوسیل قبرستان میں علامہ یوسف القرضاوی کے پہلو میں سپرد خاک کیا گیا۔ ان کی وفات نے عالمی سطح پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں، اور ان کے جنازے میں شرکت کرنے والے لوگوں کی تعداد نے ان کے عالمی مقام اور فلسطین کی جدوجہد میں ان کے کردار کو اجاگر کیا۔

  • ترک بحری وفد کا کراچی کا دورہ، پاک بحریہ کے ساتھ پیشہ ورانہ تعاون کو فروغ دینے پر بات چیت

    ترک بحری وفد کا کراچی کا دورہ، پاک بحریہ کے ساتھ پیشہ ورانہ تعاون کو فروغ دینے پر بات چیت

    کراچی: ترکیہ کی بحریہ کے چیف آف اسٹاف وائس ایڈمرل ابراہیم اوزدم کوچر کی قیادت میں ترک بحری وفد نے کراچی کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے پاک بحریہ کے فیلڈ کمانڈرز سے اہم ملاقاتیں کیں۔ اس دورے کا مقصد باہمی دلچسپی کے امور اور پیشہ ورانہ تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔ترک وفد نے اپنے دورے کے دوران مزار قائد پر حاضری دی اور بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کو خراج عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر وفد نے قائد اعظم کے مزار پر پھول بھی چڑھائے اور ان کی قربانیوں کو یاد کیا۔دورے کے اختتام پر پاکستان اور ترکیہ کی بحریہ کے جہازوں نے بحیرہ عرب میں مشترکہ پٹرولنگ اور بحری مشق میں حصہ لیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق، اس مشق کا مقصد دونوں ممالک کی بحریہ کے مابین مشترکہ آپریشنز میں تعاون کو فروغ دینا تھا۔ ترک بحریہ کے جہاز اور وفد کے دورے سے دونوں برادر ممالک کے عوام، بالخصوص بحریہ کے مابین دیرینہ تعلقات کو مزید تقویت ملے گی۔ یہ دورہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دفاعی اور پیشہ ورانہ تعلقات کے فروغ میں ایک اہم قدم ثابت ہوگا، اور مستقبل میں دونوں ممالک کی بحریہ کے درمیان مزید مشترکہ مشقوں اور آپریشنز کی توقع کی جا رہی ہے۔

  • حکومت کی جانب سے تنخواہ دار طبقے کو بڑا ریلیف ملنے کا  امکان

    حکومت کی جانب سے تنخواہ دار طبقے کو بڑا ریلیف ملنے کا امکان

    اسلام آباد: حکومت نے تنخواہ دار طبقے کے لیے ریلیف پر غور شروع کر دیا ہے۔ وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے معاشی ٹیم کو خصوصی ٹاسک دے دیا ہے تاکہ تنخواہ دار طبقے کے لیے ریلیف کی ممکنہ صورتیں تیار کی جا سکیں۔ذرائع نے بتایا کہ تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کے لیے فنڈنگ ترقیاتی بجٹ سے لینے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس اقدام کا مقصد تنخواہ دار طبقے کی معاشی مشکلات کو کم کرنا ہے۔ ذرائع کے مطابق، تنخواہ دار طبقے کے انکم ٹیکس ریلیف پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو بھی اعتماد میں لیا جائے گا تاکہ اس اہم اقدام کی منظوری حاصل کی جا سکے۔
    ماہانہ ایک لاکھ روپے تک کی تنخواہ حاصل کرنے والے تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کے لیے مختلف تجاویز پر غور جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق، کم تنخواہ والے سلیب کو 40 ارب روپے کا ریلیف دینے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ اس ریلیف پیکیج کا مقصد ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور معاشی مشکلات کا سامنا کرنے والے عوام کو سہولت فراہم کرنا ہے۔حکومت اس بات پر غور کر رہی ہے کہ تنخواہ دار طبقے کو کیسے بہترین انداز میں ریلیف فراہم کیا جائے تاکہ ان کی زندگیوں میں بہتری آسکے۔ اس حوالے سے مختلف مالیاتی ماہرین اور اقتصادی ماہرین کی مشاورت بھی شامل ہے تاکہ بہترین ممکنہ تجاویز تیار کی جا سکیں۔
    حکومت نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ انکم ٹیکس ریلیف کی تجاویز پر آئی ایم ایف کو اعتماد میں لیا جائے گا تاکہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے کی حمایت بھی حاصل کی جا سکے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ مل کر کام کرنے کا مقصد ملکی معیشت کو مستحکم کرنا اور عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔حکومت کی جانب سے جلد ہی حتمی تجاویز تیار کر کے ان پر عملدرآمد کی حکمت عملی مرتب کی جائے گی۔ اس حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف نے معاشی ٹیم کو ہدایت دی ہے کہ وہ تیزی سے کام کریں اور جلد از جلد ریلیف پیکیج کو حتمی شکل دیں تاکہ عوام کو فوری ریلیف فراہم کیا جا سکے۔حکومت کی اس اہم اقدام سے توقع ہے کہ تنخواہ دار طبقے کو مہنگائی کے دباؤ سے کچھ راحت ملے گی اور ان کی معاشی صورتحال میں بہتری آئے گی۔ عوامی حلقوں میں بھی اس اقدام کو سراہا جا رہا ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ حکومت جلد ہی اس منصوبے کو عملی جامہ پہنائے گی۔

  • 2 اگست کی تاریخ: اہم واقعات کا جائزہ

    2 اگست کی تاریخ: اہم واقعات کا جائزہ

    تحقیق : آغا نیاز مگسی

    تاریخ کے آئینے میں 2 اگست کے دن کو کئی اہم واقعات نے یادگار بنا دیا۔ آئیے ان میں سے چند پر ایک نظر ڈالتے ہیں:
    18ویں اور 19ویں صدی کے اہم واقعات
    1763: مرشد آباد پر قبضہ کرنے کے بعد برطانوی فوج نے گیریا کی لڑائی میں میر قاسم کو دوبارہ شکست دی۔
    1790: امریکہ میں پہلی بار مردم شماری ہوئی۔
    1831: نیدرلینڈ کی فوج نے دس دن کی مہم کے بعد بیلجیم پر قبضہ کیا۔
    1858: برطانوی پارلیمنٹ نے ہندوستان میں انتظامیہ کی باگ ڈور ایسٹ انڈیا کمپنی سے لینے کے لئے ایک قانون پاس کیا، جس کے نتیجے میں برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی کا خاتمہ اور ہندوستان پر برطانوی اقتدار کا آغاز ہوا۔

    20ویں صدی کے اہم واقعات
    1914: پہلی عالمی جنگ کے دوران جرمنی اور ترکی نے ایک خفیہ معاہدہ پر دستخط کیا، جبکہ بیلجیم کی حکومت نے جرمنی کو الٹی میٹم دیا۔
    1922: چین میں آئے بھیانک گردابی سمندری طوفان ‘ٹائیفون’ کے قہر سے 60 ہزار افراد ہلاک ہو گئے۔ اسی سال مسولینی نے ایتھوپیا کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کئے۔
    1934: ایڈولف ہٹلر کو جرمنی کا کمانڈر انچیف بنایا گیا۔
    1937: مری جوانا کو امریکہ میں غیر قانونی قرار دے دیا گیا۔
    1948: پاکستان نے اپنا پہلا ہاکی کا میچ کھیلا۔
    1955: سوویت یونین نے نیوکلیائی تجربہ کیا۔
    1960: وزارت خزانہ حکومت پاکستان نے انعامی بانڈ سکیم کا اعلان کیا۔
    1968: لاہور اور اسپین کے شہر قرطبہ کو جڑواں شہر قرار دیا گیا۔
    1985: ناسا نے ایس 209 خلائی طیارہ چھوڑا، اسی دن امریکہ میں ڈلاس کے فورتھ ورتھ ایئر پورٹ پر طیارے کے حادثہ کے شکار ہونے سے 137 افراد ہلاک ہو گئے۔
    1989: پاکستان کی دولت مشترکہ میں واپسی ہوئی۔
    1990: عراق نے کویت پر حملہ کر دیا جس سے خلیج جنگ کی ابتداء ہوئی۔

    21ویں صدی کے اہم واقعات
    1994: چین کے گوانگ کسی میں جستہ اور سیسہ کی ایک کان میں دھماکہ ہونے سے 120 سے زائد کان کنوں کی موت ہو گئی۔
    1999: برہم پتر میل اور آسام ایکسپریس کے درمیان کیسل میں بھیانک ٹکر ہوئی۔

    2 اگست کی تاریخ میں یہ واقعات دنیا کے مختلف حصوں میں رونما ہوئے اور انہوں نے عالمی تاریخ پر اپنا گہرا اثر چھوڑا۔ ان اہم واقعات کی یاد دہانی ہمیں تاریخ کے اہم موڑوں کو سمجھنے اور ان سے سیکھنے میں مدد دیتی ہے۔

  • نجکاری کمیٹی کی 2024-29 نجکاری پروگرام کے لیے 24 اداروں کی منظوری

    نجکاری کمیٹی کی 2024-29 نجکاری پروگرام کے لیے 24 اداروں کی منظوری

    اسلام آباد: نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت کابینہ کی نجکاری کمیٹی کے اجلاس میں 2024-29 کے نجکاری پروگرام کے لیے 24 اداروں کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اجلاس میں مختلف وزارتوں کے وزراء اور وفاقی سیکرٹریز نے شرکت کی، جن میں وزیر خزانہ، وزیر نجکاری، وزیر تجارت اور وزیر توانائی بھی شامل تھے۔اعلامیہ کے مطابق، نجکاری کا مقصد تجارتی میدان میں وفاق کے عمل دخل کو کم کرنا ہے۔ کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ وفاق کو صرف اسٹریٹجک اور ضروری سرکاری اداروں تک محدود کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ، منافع کمانے والے اداروں کی نجکاری پر بھی غور کیا جائے گا۔ کابینہ کی ایس او ایز کمیٹی ان اداروں کی درجہ بندی کر رہی ہے اور درجہ بندی کی تکمیل کے بعد دیگر سرکاری اداروں کو بھی نجکاری کے پروگرام میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

    اجلاس میں او جی ڈی سی ایل کے حصص پٹرولیم ڈویژن کو منتقل کرنے پر بھی غور کیا گیا۔ اس کے علاوہ، مالی سال 2024-25 کے لیے کمیشن کے بجٹ تخمینوں کی منظوری بھی دی گئی، جس میں رواں مالی سال کے لیے کمیشن کے بجٹ کی رقم 8169 ملین روپے مقرر کی گئی ہے۔اجلاس میں وزیر صنعت و پیداوار، وزیر مملکت خزانہ، اور وفاقی سیکرٹریز نے بھی شرکت کی۔ اس فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت تجارتی جگہ میں اپنی مداخلت کم کرنے اور سرکاری اداروں کو مزید کارآمد بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھا رہی ہے۔نجکاری کمیٹی کے اس فیصلے سے ملک کی معیشت میں بہتری اور سرکاری اداروں کی کارکردگی میں اضافہ متوقع ہے۔ کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں ان اداروں کی نجکاری کے عمل کو شفاف اور موثر طریقے سے انجام دیا جائے گا تاکہ عوام کو بہترین خدمات فراہم کی جا سکیں۔