Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • نامور اسٹیج اداکار سردار کمال لاہور میں انتقال کر گئے

    نامور اسٹیج اداکار سردار کمال لاہور میں انتقال کر گئے

    نامور اسٹیج اداکار سردار کمال لاہور میں انتقال کر گئے، وہ دل کے عارضے میں مبتلا تھے۔فیملی ذرائع کے مطابق سردار کمال کو دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا۔خیال رہے سردار کمال نے کئی اسٹیج ڈراموں، ٹی وی ڈراموں اور فلموں میں بہترین کامیڈی کر کے لوگوں کو بھرپور ہنسایا اور بھرپور شہرت حاصل کی۔

  • عمران خان کے  بیان کو سنجیدگی  سے لے  کے   مثبت جواب دینا چاہیے،سینیٹر مشاہد حسین سید

    عمران خان کے بیان کو سنجیدگی سے لے کے مثبت جواب دینا چاہیے،سینیٹر مشاہد حسین سید

    مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر مشاہد حسین سید نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کے حالیہ بیان کو "مثبت پیشرفت” قرار دیا ہے۔ ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے، سینیٹر سید نے کہا کہ عمران خان کے اس بیان کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور اس پر مثبت جواب دینا چاہیے۔انہوں نے تجویز دی کہ اس بیان کے جواب میں سیز فائر کا اعلان کیا جائے، سوشل میڈیا پر منفی مہم کو روکا جائے، اور سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے عمران خان اور ان کی اہلیہ کو بنی گالہ ریسٹ ہاؤس میں منتقل کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔سینیٹر سید مشاہد نے زور دیا کہ ملک کے مفاد میں اداروں کے درمیان تنازعات کو ختم کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوج کا مورال تب ہی بلند ہوگا جب عوام اس کے ساتھ ہوں گے، اور یہ کہ عوام اور فوج کے درمیان فاصلے کو بڑھانے سے گریز کرنا چاہیے۔مشاہد حسین سید نے ماضی کے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے درمیان مذاکرات ہوجاتے تو ملک میں بحران پیدا نہ ہوتا۔ انہوں نے تاکید کی کہ سیاست میں اپنی غلطیوں سے سیکھنا اہم ہے اور اسٹیبلشمنٹ اور پی ٹی آئی دونوں کو کھلے دل سے آگے بڑھنا چاہیے۔اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے کچھ اہم رہنما موجودہ سیاسی بحران کے حل کے لیے مذاکرات کی راہ کو ترجیح دے رہے ہیں۔

  • اسلام آباد ہائی کورٹ نےمیٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد  کا پی ٹی آئی آفس سیل کرنے کا حکم کالعدم قرار دیا

    اسلام آباد ہائی کورٹ نےمیٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد کا پی ٹی آئی آفس سیل کرنے کا حکم کالعدم قرار دیا

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے آج ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینٹرل سیکریٹریٹ کو فوری طور پر کھولنے کا حکم دیا ہے۔ یہ فیصلہ پی ٹی آئی کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر سنایا گیا، جس میں پارٹی نے اپنے دفتر کو ڈی سیل کرنے کی استدعا کی تھی۔عدالت نے اپنے فیصلے میں میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد (ایم سی آئی) کا پی ٹی آئی آفس سیل کرنے کا حکم کالعدم قرار دیا۔ یہ فیصلہ پی ٹی آئی کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے، جو اپنے مرکزی دفتر کی بندش کے خلاف لڑ رہی تھی۔تاہم، عدالت نے پی ٹی آئی کو کچھ شرائط پر عمل کرنے کی بھی ہدایت دی ہے۔ فیصلے کے مطابق، پی ٹی آئی کو سی ڈی اے (کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی) کے ساتھ مل کر دس قسم کے حفاظتی انتظامات کرنے ہوں گے۔ ان میں سب سے اہم آگ سے بچاؤ کے اقدامات شامل ہیں۔

    عدالت نے حکم دیا ہے کہ پی ٹی آئی کو ہر منزل پر آگ بجھانے کے آلات نصب کرنے ہوں گے۔ اس کے علاوہ، عمارت کی چھت پر ایک فائر پمپ اور الگ سے پانی کا ٹینک بھی لگانا ہوگا۔ ایک مینول الارم سسٹم بھی نصب کرنا ہوگا تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر متنبہ کیا جا سکے۔عدالت نے کچن کی حفاظت پر بھی خصوصی توجہ دی ہے۔ حکم کے مطابق، کچن میں گیس ڈیٹیکٹر لگانا ہوگا تاکہ گیس لیک ہونے کی صورت میں فوری طور پر پتہ چل سکے۔ ساتھ ہی، ایمرجنسی نمبرز بھی واضح طور پر ظاہر کرنے ہوں گے تاکہ ضرورت پڑنے پر فوری مدد حاصل کی جا سکے۔بجلی کے نظام کو بھی محفوظ بنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کو پوری عمارت میں بجلی کی باقاعدہ اور محفوظ وائرنگ کروانی ہوگی۔یہ فیصلہ پی ٹی آئی کے لیے ایک راحت کا باعث ہے، لیکن ساتھ ہی یہ ان کی ذمہ داری بھی بڑھاتا ہے۔ پارٹی کو اب یہ یقینی بنانا ہوگا کہ وہ عدالت کی دی گئی تمام ہدایات پر عمل کرے تاکہ ان کا مرکزی دفتر نہ صرف کھلا رہے بلکہ محفوظ بھی ہو۔

  • مولانا فضل الرحمان نے ڈاکٹر عشرت العباد  کے سیاست میں دوبارہ  آنٹری کو  "نیک شگون” قرار دیا.

    مولانا فضل الرحمان نے ڈاکٹر عشرت العباد کے سیاست میں دوبارہ آنٹری کو "نیک شگون” قرار دیا.

    پاکستان کی سیاسی فضا میں ایک نئی لہر دیکھنے میں آئی ہے جب جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ملک سیاسی اور معاشی چیلنجز سے دوچار ہے۔ڈاکٹر عشرت العباد کی جانب سے مولانا فضل الرحمان کو عمرہ کی مبارکباد دینے سے ہوا۔ تاہم، جلد ہی بات چیت ملکی صورتحال کی طرف مڑ گئی۔ دونوں رہنماؤں نے موجودہ حالات پر گہری تشویش کا اظہار کیا، لیکن ساتھ ہی پاکستان کی سلامتی اور وحدت پر اپنے غیر متزلزل یقین کو دہرایا۔مولانا فضل الرحمان نے اس موقع پر کہا کہ حکومتوں کی نااہلی کی سزا ریاست اور عوام کو بھگتنی پڑ رہی ہے۔ انہوں نے حکومت کی "فاش غلطیوں” کا ذکر کیا جن کا خمیازہ عام شہری بھگت رہے ہیں۔ یہ بیان موجودہ حکومت پر ان کی تنقید کو ظاہر کرتا ہے۔ڈاکٹر عشرت العباد کی سیاست میں واپسی پر مولانا فضل الرحمان نے خوش آمدید کہا، اسے "نیک شگون” قرار دیا.
    اس موقع پر ڈاکٹر العباد نے اپنی نئی سیاسی جماعت کے بارے میں بھی بتایا، جو کہ پاکستان کی سیاسی صورتحال میں ایک نیا موڑ لا سکتی ہے۔دونوں رہنماؤں نے ملک کی سلامتی اور وحدت کے لیے ایک دوسرے کا ساتھ دینے کا عزم بھی ظاہر کیا۔ یہ بات چیت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ آنے والے دنوں میں ان دو اہم سیاسی شخصیات کے درمیان قریبی تعاون دیکھنے میں آ سکتا ہے۔یہ ملاقات پاکستان کی سیاست میں ایک نئی قوت کے ظہور کا اشارہ دے رہی ہے۔ ڈاکٹر عشرت العباد کی تجربہ کار شخصیت اور مولانا فضل الرحمان کی مذہبی و سیاسی قوت کا اتحاد ملکی سیاست میں نئے توازن کا باعث بن سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ یہ تعلقات کس سمت میں آگے بڑھتے ہیں اور ان کا ملکی سیاست پر کیا اثر پڑتا ہے۔

  • دینی مدارس پاکستان کے قانون کے تحت قائم ہیں اور قانون کے دائرے میں کام کر رہے ہیں۔ اتحاد تنظیمات مدارس پاکستان

    دینی مدارس پاکستان کے قانون کے تحت قائم ہیں اور قانون کے دائرے میں کام کر رہے ہیں۔ اتحاد تنظیمات مدارس پاکستان

    پاکستان کے معروف علماء نے آج کراچی میں ایک اہم پریس کانفرنس کی، جس میں انہوں نے دینی مدارس کے حق میں آواز بلند کی اور حال ہی میں ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان پر شدید تنقید کی۔ اتحاد تنظیمات مدارس پاکستان کے زیر اہتمام ہونے والی اس کانفرنس میں مولانا مفتی تقی عثمانی، مفتی منیب الرحمٰن اور حافظ جالندھری سمیت دیگر اہم علماء نے شرکت کی۔مفتی منیب الرحمٰن نے کانفرنس کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ یہ اجلاس ڈی جی آئی ایس پی آر کی 22 جولائی کی پریس کانفرنس کے تناظر میں منعقد کیا گیا ہے۔ انہوں نے اس بیان کی شدید مذمت کی جس میں یہ تاثر دیا گیا تھا کہ 50 فیصد دینی مدارس اور ان کے سربراہان نامعلوم لوگ ہیں۔ مفتی منیب نے زور دے کر کہا کہ دینی مدارس پاکستان کے قانون کے تحت قائم ہیں اور قانون کے دائرے میں کام کر رہے ہیں۔
    اس موقع پر مولانا مفتی تقی عثمانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ سیکولر لوگ ہمیشہ سے دینی مدارس کے خلاف منفی پروپیگنڈا کرتے رہے ہیں، لیکن اب افسوس کی بات یہ ہے کہ عسکری ادارے بھی اسی طرح کے بیانات دے رہے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جو لوگ اڑتی چڑیا کے پر گن سکتے ہیں اور زمین میں چھپی سرنگوں کا پتہ لگا سکتے ہیں، وہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ انہیں 50 فیصد مدارس کے بارے میں معلوم نہیں؟علماء نے مدارس کے بینک اکاؤنٹس کو منجمد کرنے کے فیصلے پر بھی سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف مالی شفافیت کا مطالبہ کیا جاتا ہے اور دوسری طرف مدارس کے اکاؤنٹس بند کر دیے جاتے ہیں۔ مفتی تقی عثمانی نے مطالبہ کیا کہ دینی مدارس کے بینک اکاؤنٹس فوراً کھولے جائیں۔
    کانفرنس میں علماء نے دینی مدارس کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ مدارس ہی وہ ادارے ہیں جو حفاظ قرآن پیدا کر رہے ہیں، جبکہ سکول، کالج یا یونیورسٹیوں میں ایسا کوئی انتظام نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں اڑھائی کروڑ افراد ایسے ہیں جنہیں دینی علوم کا علم نہیں۔علماء نے آرمی چیف سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے ادارے کے ذمہ دار افسران کو ہدایات جاری کریں کہ وہ دینی مدارس کے سربراہان، اساتذہ اور طلبہ کو مجرم یا مشتبہ سمجھ کر بات نہ کریں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ دینی مدارس نے ہمیشہ ملکی تحفظ، سلامتی اور مفاد کو مقدم رکھا ہے اور دہشت گردی کی مخالفت کی ہے۔کانفرنس کے اختتام پر علماء نے اعلان کیا کہ وہ چاروں صوبوں اور وفاقی دارالحکومت میں بڑے پیمانے پر کنونشن منعقد کریں گے، جن کا مقصد قوم کو حقائق سے آگاہ کرنا ہوگا۔ پہلا صوبائی کنونشن 28 اگست کو کراچی میں منعقد ہوگا۔

  • چین اور پاکستان کے تعلقات: سی پیک کی اہمیت پر چینی قونصل جنرل کا خطاب

    چین اور پاکستان کے تعلقات: سی پیک کی اہمیت پر چینی قونصل جنرل کا خطاب

    کراچی پریس کلب میں ایک اہم تقریب کے دوران، چینی قونصل جنرل یانگ یوڈونگ نے پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ سی پیک (چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور) پاکستان کی معاشی خوشحالی کا ایک اہم ذریعہ ثابت ہوگا۔یانگ یونے زور دے کر کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات صرف دو طرفہ نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ تعلقات غیر جانبدارانہ ہیں، جو عالمی سیاست میں ایک متوازن رویے کی عکاسی کرتے ہیں۔ حالیہ واقعات پر تبصرہ کرتے ہوئے، یانگ نے وزیراعظم شہباز شریف کے حالیہ دورہ چین کو کامیاب قرار دیا۔ تاہم، انہوں نے گوادر میں جاری احتجاج کا بھی ذکر کیا، مقامی لوگوں سے اپیل کرتے ہوئے کہ وہ وہاں جاری منصوبوں کی اہمیت کو سمجھیں۔ قونصل جنرل نے دھابیجی اکنامک زون پر جاری کام کو بھی اہم قرار دیا۔
    کشمیر کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے، یانگ نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ چین کا مؤقف پاکستان کے مؤقف سے مماثل ہے۔ انہوں نے خنجراب کے ذریعے دونوں ملکوں کے درمیان تجارت بڑھانے کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے، قونصل جنرل نے کہا کہ اس شعبے میں تعاون نے دونوں ملکوں کے تعلقات کو مزید مضبوط بنایا ہے۔ انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان سیاسی ہم آہنگی اور اعتماد کو بھی اجاگر کیا، یہ بتاتے ہوئے کہ چین پاکستان کی خودمختاری اور سالمیت کا مکمل حامی ہے۔یہ تقریب پاک-چین تعلقات کی موجودہ صورتحال اور مستقبل کے امکانات پر ایک اہم روشنی ڈالتی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ملک نہ صرف اقتصادی شعبے میں بلکہ سیاسی اور سلامتی کے شعبوں میں بھی گہرے تعاون کے خواہاں ہیں۔ تاہم، مقامی سطح پر کچھ تحفظات کا سامنا بھی ہے، جن کو حل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ سی پیک جیسے منصوبوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جا سکے۔

  • ملک  کے مختلف اضلاع  میں طوفانی بارشوں  نے تباہی مچا دی ، اموات  23 تک جا پہنچی

    ملک کے مختلف اضلاع میں طوفانی بارشوں نے تباہی مچا دی ، اموات 23 تک جا پہنچی

    پاکستان کے مختلف حصوں میں حالیہ دنوں میں موسمی آفات نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔ شدید بارشوں، لینڈ سلائیڈنگ، اور آسمانی بجلی گرنے کے واقعات نے ملک بھر میں 23 افراد کی جان لے لی ہے۔ یہ افسوسناک واقعات ملک کے مختلف علاقوں میں رونما ہوئے، جس سے ہر صوبے میں لوگوں کی زندگیاں متاثر ہوئی ہیں۔خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ میں شدید بارشوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ یہاں پل، مکانات، باغات اور فصلیں شدید متاثر ہوئیں۔ اسی صوبے کے لوئر دیر میں ایک المناک واقعے میں، گھر پر مٹی کا تودہ گرنے سے دو معصوم بچوں کی جان چلی گئی۔کوہاٹ میں ایک اور دلخراش واقعہ پیش آیا جہاں بارش کا پانی ایک گھر میں داخل ہو گیا۔ اس کے نتیجے میں گھر کے تہہ خانے میں سو رہے 11 افراد پانی میں ڈوب کر جاں بحق ہو گئے۔ یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کس طرح غیر منصوبہ بند تعمیرات اور ناقص نکاسی آب کے نظام موسمی آفات کے دوران کتنے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
    سندھ کے ضلع تھرپارکر میں آسمانی بجلی گرنے سے 8 افراد جاں بحق ہوئے۔ یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ شدید بارشوں کے دوران کھلے میدانوں میں رہنا کتنا خطرناک ہو سکتا ہے۔پنجاب کے شہر فیصل آباد میں بھی ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں بارش کے باعث ایک گودام کی چھت گر گئی۔ اس حادثے میں ملبے تلے دب کر دو خواتین جاں بحق ہو گئیں۔چترال میں صورتحال انتہائی سنگین ہے۔ یہاں موسلادھار بارشوں کے باعث دریائے چترال میں اونچے درجے کا سیلاب آیا، جس نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ کوغزی پل، پولیس چوکی، مکانات، مساجد، باغات اور فصلیں سیلابی پانی میں بہہ گئیں۔ اس کے علاوہ، دریا کے کٹاؤ کی وجہ سے چترال مستوج روڈ، گلگت اپر چترال روڈ، کالاش ویلی روڈ اور شی شی کوہ ویلی روڈ بھی بند ہو گئیں، جس سے علاقے کا رابطہ باقی ملک سے منقطع ہو گیا ہے۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کو فوری طور پر متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی، طویل مدتی حکمت عملی کے تحت آفات سے بچاؤ کے منصوبوں، بہتر انتباہی نظام، اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

  • پنجاب :  "اپنی چھت اپنا گھر” پروگرام کے لیے 9 ارب 88 کروڑ 96 لاکھ روپے کی منظوری

    پنجاب : "اپنی چھت اپنا گھر” پروگرام کے لیے 9 ارب 88 کروڑ 96 لاکھ روپے کی منظوری

    لاہور میں صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی کا دسواں اجلاس منعقد ہوا، جس میں متعدد ترقیاتی منصوبوں کے لیے خطیر فنڈز کی منظوری دی گئی۔ اس اجلاس کی صدارت چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ، بیرسٹر نبیل احمد اعوان نے کی۔ اجلاس میں "اپنی چھت اپنا گھر” پروگرام کے لیے 9 ارب 88 کروڑ 96 لاکھ روپے کی منظوری دی گئی، جس کا مقصد عوام کو اپنی رہائش فراہم کرنا ہے۔ اس کے علاوہ، سیالکوٹ میں مرالہ بیرج کے کالونی پروٹیکشن بند کی توسیع کے لیے 3 ارب 16 کروڑ روپے منظور کیے گئے۔پنجاب میں تعلیم کے فروغ کے لیے بھی اہم اقدامات کیے گئے، جن میں چیف منسٹر پنجاب سکول میلز پروگرام کے لیے 6 ارب 1 کروڑ 12 لاکھ روپے کی منظوری شامل ہے۔ ماحولیات کے تحفظ کے لیے وزیراعلیٰ پلانٹ فار پاکستان پروگرام کے لیے 8 ارب روپے منظور کیے گئے۔

    اجلاس میں 50 ارب 76 کروڑ روپے کے فنڈز مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے منظور کیے گئے، جن میں وزیراعلیٰ ایگرو فاریسٹ فار فاریسٹ ویسٹ پروگرام کے لیے 1 ارب روپے اور پنجاب میں کیکڑے کی فارمنگ کے لیے 8 ارب 53 کروڑ 4 لاکھ روپے شامل ہیں۔ وزیراعلیٰ پروگرام برائے روشن گھرانہ کے لیے 9 ارب 50 کروڑ روپے بھی منظور کیے گئے۔لاہور میں قائداعظم انٹر چینج سے واہگہ بارڈر تک جی ٹی روڈ کی مرمت و بحالی کے لیے 3 ارب 28 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی، جبکہ شیخوپورہ میں کچہری رسول نگر روڈ پر انڈر پاس کی تعمیر کے لیے 1 ارب 39 کروڑ 7 لاکھ روپے منظور کیے گئے۔اجلاس میں سیکرٹری پی اینڈ ڈی بورڈ ڈاکٹر آصف طفیل اور پی اینڈ ڈی بورڈ کے ممبران کے ساتھ متعلقہ سیکٹرز کے افسران بھی شریک تھے، جنہوں نے مختلف منصوبوں پر غور و فکر کیا اور ان کی منظوری دی۔ اس اجلاس میں منظور شدہ منصوبے صوبے کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے اہم قدم ثابت ہوں گے۔

  • صدرمملکت آصف علی زرداری کی  دولت مشترکہ کی  سیکرٹری  جنرل پیٹریشیا اسکاٹ لینڈ سے ملاقات

    صدرمملکت آصف علی زرداری کی دولت مشترکہ کی سیکرٹری جنرل پیٹریشیا اسکاٹ لینڈ سے ملاقات

    ایوان صدر میں ایک اہم ملاقات ہوئی جس میں پاکستان اور دولت مشترکہ کے درمیان تعلقات کو نئی جہت دینے کی کوشش کی گئی۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے دولت مشترکہ کی سیکرٹری جنرل پیٹریشیا اسکاٹ لینڈ کی قیادت میں آنے والے وفد سے ملاقات کی۔اس اہم نشست میں صدر زرداری نے پاکستان کے دولت مشترکہ کے ساتھ گہرے تعلقات پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان، دولت مشترکہ کا بانی رکن ہونے کے ناطے، اس تنظیم کو خصوصی اہمیت دیتا ہے۔ یہ بیان پاکستان کی خارجہ پالیسی میں دولت مشترکہ کے کردار کو اجاگر کرتا ہے۔ملاقات کا ایک اہم موضوع موسمیاتی تبدیلی تھا۔ صدر زرداری نے پاکستان پر اس کے شدید اثرات کا ذکر کیا اور بتایا کہ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر سندھ میں 20 لاکھ سے زائد مینگرووز کے پودے لگانے کا ذکر کیا، جو نہ صرف ماحولیاتی توازن کو بہتر بناتا ہے بلکہ ساحلی علاقوں کو بھی تحفظ فراہم کرتا ہے۔
    صدر مملکت نے ایک اہم معاشی پہلو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے بین الاقوامی کاربن کریڈٹ مارکیٹ میں شرکت کر کے 27 ملین ڈالر کمائے ہیں۔ یہ ماحولیاتی تحفظ اور معاشی ترقی کے درمیان ایک متوازن نقطہ نظر کی عکاسی کرتا ہے۔2022 کے تباہ کن سیلاب کا ذکر بھی آیا۔ صدر نے بتایا کہ حکومت سندھ نے اس آفت کے بعد 20 لاکھ پائیدار مکانات کی تعمیر کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ منصوبہ نہ صرف متاثرین کو ریلیف فراہم کرے گا بلکہ مستقبل کی آفات کے خلاف بھی تحفظ دے گا۔
    سیکرٹری جنرل پیٹریشیا اسکاٹ لینڈ نے پاکستان کے سامنے موجود موسمیاتی چیلنجز کو تسلیم کیا اور دولت مشترکہ کی جانب سے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ صدر زرداری نے 2022 کے سیلاب کے دوران ان کی ذاتی توجہ اور خدمات کو خاص طور پر سراہا۔ملاقات میں دیگر اہم شعبوں جیسے تعلیم اور پارلیمانی تبادلوں پر بھی بات چیت ہوئی۔ صدر زرداری نے خاص طور پر نوجوان پارلیمنٹیرینز اور طلبہ کے درمیان روابط بڑھانے پر زور دیا، جو مستقبل کے لیے ایک مثبت قدم ہے۔اس ملاقات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان اپنے بین الاقوامی تعلقات کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بھی سنجیدہ ہے۔ دولت مشترکہ کے ساتھ یہ تعاون پاکستان کو اپنے مقاصد حاصل کرنے میں مدد دے سکتا ہے، خاص طور پر موسمیاتی تبدیلی، تعلیم اور پارلیمانی جمہوریت کے شعبوں میں۔

  • پاکستان ہاکی فیڈریشن کا خصوصی تربیتی کیمپ: 40 نوجوان کھلاڑی منتخب

    پاکستان ہاکی فیڈریشن کا خصوصی تربیتی کیمپ: 40 نوجوان کھلاڑی منتخب

    پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) نے ملک کی قومی کھیل کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔ فیڈریشن نے 40 نوجوان اور با صلاحیت کھلاڑیوں کو ایک خصوصی تربیتی کیمپ کے لیے منتخب کیا ہے، جو 31 جولائی سے اسلام آباد کے نصیر بندہ ہاکی سٹیڈیم میں شروع ہوگا۔یہ کیمپ صرف ایک معمولی تربیتی سیشن نہیں ہے۔ یہ پاکستان کی ہاکی ٹیم کے مستقبل کو شکل دینے کا ایک اہم موقع ہے۔ اولمپیئن شیخ عثمان، جو کیمپ کے کمانڈنٹ ہیں، اس کیمپ کی قیادت کریں گے۔ ان کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ ان نوجوان کھلاڑیوں میں چھپی ہوئی صلاحیتوں کو نکھاریں اور انہیں عالمی معیار کے کھلاڑی بنائیں۔
    کیمپ میں شامل کھلاڑیوں کی فہرست پاکستان کے ہر کونے سے آنے والے ٹیلنٹ کی عکاسی کرتی ہے۔ گول کیپرز عبداللہ اشتیاق خان، منیب الرحمن اور علی رضا جیسے کھلاڑی ٹیم کی آخری دفاعی لائن کو مضبوط بنانے کے لیے تیار ہیں۔ محمد عبداللہ، احتشام اسلم اور محمد سفیان خان جیسے فارورڈز اپنے حملہ آور کھیل سے حریف ٹیموں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔میدان کے درمیانی حصے کو سنبھالنے کے لیے عماد شکیل بٹ، ابوبکر محمود اور ارشد لیاقت جیسے کھلاڑی موجود ہیں۔ یہ کھلاڑی ٹیم کے "انجن” کی حیثیت رکھتے ہیں، جو حملے اور دفاع کے درمیان توازن برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
    کیمپ میں شامل دیگر نام جیسے ذکریا حیات، غضنفر علی، حماد الدین انجم اور رومان، پاکستان ہاکی کے مستقبل کے ستارے ہیں۔ ان کھلاڑیوں میں وہ صلاحیت ہے جو پاکستان کو دنیا کی بہترین ٹیموں میں شامل کر سکتی ہے۔اس کیمپ کا مقصد صرف کھلاڑیوں کی جسمانی صلاحیتوں کو بہتر بنانا نہیں ہے۔ یہ ان کی ذہنی مضبوطی، ٹیم ورک اور کھیل کے تکنیکی پہلوؤں پر بھی توجہ دے گا۔ کیمپ کے دوران، کھلاڑیوں کو جدید ترین تربیتی طریقوں سے آشنا کرایا جائے گا اور انہیں بین الاقوامی سطح کے مقابلوں کے لیے تیار کیا جائے گا۔پی ایچ ایف کے اس اقدام سے امید کی جا رہی ہے کہ پاکستان ہاکی میں ایک نیا دور شروع ہوگا۔ یہ کیمپ نہ صرف موجودہ ٹیم کو مضبوط کرے گا بلکہ آنے والے سالوں کے لیے ایک مضبوط بنیاد بھی فراہم کرے گا۔ اگر یہ کوشش کامیاب رہی تو ہم جلد ہی پاکستان کو ہاکی کے عالمی نقشے پر دوبارہ اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔