Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • پاکستان ہاکی فیڈریشن کا خصوصی تربیتی کیمپ: 40 نوجوان کھلاڑی منتخب

    پاکستان ہاکی فیڈریشن کا خصوصی تربیتی کیمپ: 40 نوجوان کھلاڑی منتخب

    پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) نے ملک کی قومی کھیل کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔ فیڈریشن نے 40 نوجوان اور با صلاحیت کھلاڑیوں کو ایک خصوصی تربیتی کیمپ کے لیے منتخب کیا ہے، جو 31 جولائی سے اسلام آباد کے نصیر بندہ ہاکی سٹیڈیم میں شروع ہوگا۔یہ کیمپ صرف ایک معمولی تربیتی سیشن نہیں ہے۔ یہ پاکستان کی ہاکی ٹیم کے مستقبل کو شکل دینے کا ایک اہم موقع ہے۔ اولمپیئن شیخ عثمان، جو کیمپ کے کمانڈنٹ ہیں، اس کیمپ کی قیادت کریں گے۔ ان کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ ان نوجوان کھلاڑیوں میں چھپی ہوئی صلاحیتوں کو نکھاریں اور انہیں عالمی معیار کے کھلاڑی بنائیں۔
    کیمپ میں شامل کھلاڑیوں کی فہرست پاکستان کے ہر کونے سے آنے والے ٹیلنٹ کی عکاسی کرتی ہے۔ گول کیپرز عبداللہ اشتیاق خان، منیب الرحمن اور علی رضا جیسے کھلاڑی ٹیم کی آخری دفاعی لائن کو مضبوط بنانے کے لیے تیار ہیں۔ محمد عبداللہ، احتشام اسلم اور محمد سفیان خان جیسے فارورڈز اپنے حملہ آور کھیل سے حریف ٹیموں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔میدان کے درمیانی حصے کو سنبھالنے کے لیے عماد شکیل بٹ، ابوبکر محمود اور ارشد لیاقت جیسے کھلاڑی موجود ہیں۔ یہ کھلاڑی ٹیم کے "انجن” کی حیثیت رکھتے ہیں، جو حملے اور دفاع کے درمیان توازن برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
    کیمپ میں شامل دیگر نام جیسے ذکریا حیات، غضنفر علی، حماد الدین انجم اور رومان، پاکستان ہاکی کے مستقبل کے ستارے ہیں۔ ان کھلاڑیوں میں وہ صلاحیت ہے جو پاکستان کو دنیا کی بہترین ٹیموں میں شامل کر سکتی ہے۔اس کیمپ کا مقصد صرف کھلاڑیوں کی جسمانی صلاحیتوں کو بہتر بنانا نہیں ہے۔ یہ ان کی ذہنی مضبوطی، ٹیم ورک اور کھیل کے تکنیکی پہلوؤں پر بھی توجہ دے گا۔ کیمپ کے دوران، کھلاڑیوں کو جدید ترین تربیتی طریقوں سے آشنا کرایا جائے گا اور انہیں بین الاقوامی سطح کے مقابلوں کے لیے تیار کیا جائے گا۔پی ایچ ایف کے اس اقدام سے امید کی جا رہی ہے کہ پاکستان ہاکی میں ایک نیا دور شروع ہوگا۔ یہ کیمپ نہ صرف موجودہ ٹیم کو مضبوط کرے گا بلکہ آنے والے سالوں کے لیے ایک مضبوط بنیاد بھی فراہم کرے گا۔ اگر یہ کوشش کامیاب رہی تو ہم جلد ہی پاکستان کو ہاکی کے عالمی نقشے پر دوبارہ اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔

  • پی ایس ایکس 100 انڈیکس 198 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 78,628 پر بند

    پی ایس ایکس 100 انڈیکس 198 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 78,628 پر بند

    پاکستان کے مالیاتی منظرنامے میں حالیہ مثبت تبدیلیوں کے باوجود، آج پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں غیر متوقع منفی رجحان دیکھنے میں آیا۔ گزشتہ دو دنوں میں سود کی شرح میں کمی اور ملک کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کے باعث سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا تھا، لیکن آج کے کاروباری دن میں بازار نے مختلف رخ اختیار کیا۔پی ایس ایکس 100 انڈیکس 198 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 78,628 پر بند ہوا۔ پورے دن کے دوران انڈیکس 809 پوائنٹس کے دائرے میں گھومتا رہا، جو بازار میں غیر یقینی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔ اس دن کے دوران 31.30 کروڑ حصص کا کاروبار ہوا، جن کی مالیت 17.61 ارب روپے تھی۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ سرمایہ کار محتاط رہے اور بڑے پیمانے پر خرید و فروخت سے گریز کیا۔

    نتیجے کے طور پر، پی ایس ایکس کی مجموعی مارکیٹ ویلیو (کیپٹلائزیشن) میں 43 ارب روپے کی کمی واقع ہوئی، جو اب 10,454 ارب روپے پر آ گئی ہے۔ یہ کمی ملکی معیشت کے لیے ایک چیلنج ہے، خاص طور پر حال ہی میں ہونے والی مثبت پیش رفت کے بعد۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ منفی رجحان عارضی ہو سکتا ہے اور بین الاقوامی مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ تاہم، وہ سرمایہ کاروں کو مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ مستقبل کے رجحانات پر قریبی نظر رکھیں اور احتیاط سے فیصلے کریں۔حکومت اور معاشی ماہرین اب اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ کیسے مزید اصلاحات اور پالیسیوں کے ذریعے مارکیٹ کو مستحکم کیا جا سکتا ہے تاکہ ملکی معیشت کی مجموعی صحت کو یقینی بنایا جا سکے۔

  • پنجاب حکومت کا طالب علموں کے لیے  ای بائیک پراجیکٹ میں نمایاں رعایت کا اعلان

    پنجاب حکومت کا طالب علموں کے لیے ای بائیک پراجیکٹ میں نمایاں رعایت کا اعلان

    لاہور: پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز نے آج صوبائی کابینہ کے 12ویں اجلاس میں کئی اہم فیصلے کیے، جن میں سب سے نمایاں طلبہ کے لیے ای بائیک پراجیکٹ میں بڑی رعایت کا اعلان تھا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ طلبہ سے ای بائیک پراجیکٹ کے ابتدائی چارجز نہیں لیے جائیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صرف بائیک کی انشورنس کے علاوہ تمام چارجز حکومت پنجاب خود ادا کرے گی۔ یہ فیصلہ طلبہ کے لیے ایک بڑی ریلیف ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر ان طلبہ کے لیے جو مالی مشکلات کا شکار ہیں۔اجلاس میں متعدد دیگر اہم فیصلے بھی کیے گئے۔ پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کی منظوری دی گئی، جو کہ صوبے میں قانون کے نفاذ اور ریگولیشن کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ یہ اتھارٹی مختلف شعبوں میں قوانین کے موثر نفاذ کو یقینی بنانے میں مدد دے گی۔
    تعلیمی شعبے میں بھی اہم پیش رفت ہوئی۔ ہائر اور سکول ایجوکیشن کے لیے ای ٹرانسفر پالیسی کی منظوری دی گئی۔ یہ پالیسی اساتذہ کے تبادلوں کو زیادہ شفاف اور منصفانہ بنانے میں مدد دے گی، جس سے تعلیمی معیار میں بہتری آنے کی توقع ہے۔کابینہ نے دفعہ 144 کے نفاذ کے حوالے سے بھی اہم فیصلہ کیا۔ اب ڈپٹی کمشنر 30 دن، ہوم سیکرٹری 90 دن اور کابینہ اس سے زیادہ مدت کے لیے دفعہ 144 لگا سکے گی۔ یہ فیصلہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔غریب طبقے کے لیے خوشخبری یہ ہے کہ ہمت کارڈ کا سہ ماہی وظیفہ بڑھا کر 10 ہزار 500 روپے کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ اقدام غریب خاندانوں کو مالی مدد فراہم کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔ ای بائیک پراجیکٹ میں رعایت کا فیصلہ نہ صرف طلبہ کے لیے فائدے مند ہوگا بلکہ اس سے ماحولیاتی آلودگی کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ اسی طرح، تعلیمی شعبے میں اصلاحات سے طویل مدتی فوائد حاصل ہونے کی توقع ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق، ان فیصلوں پر عملدرآمد جلد شروع کر دیا جائے گا۔

  • ایران: ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے صدارت کا حلف اٹھا لیا

    ایران: ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے صدارت کا حلف اٹھا لیا

    تہران: ایران کے نومنتخب صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے آج ایرانی پارلیمنٹ میں اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔ یہ تقریب ملک کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ پزشکیان کو ایران کے اصلاح پسند حلقوں کا نمائندہ سمجھا جاتا ہے۔حلف برداری کی اس پرشکوہ تقریب میں 80 سے زائد ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی، جس میں پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی شامل تھے۔ یہ بین الاقوامی شرکت ایران کی عالمی سطح پر اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔70 سالہ ڈاکٹر پزشکیان، جو پیشے کے لحاظ سے ایک ہارٹ سرجن ہیں، کا انتخاب حالیہ ہفتوں میں ہوا۔ یہ انتخاب غیر معمولی حالات میں ہوا، کیونکہ سابق صدر ابراہیم رئیسی کی مئی 2023 میں ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاکت کے بعد قبل از وقت انتخابات کا انعقاد کیا گیا۔ اس حادثے میں ایران کے وزیر خارجہ امیر حسین سمیت 6 دیگر اہم حکومتی شخصیات بھی جاں بحق ہوئی تھیں۔
    پزشکیان کے انتخاب کو ایران کی سیاست میں ایک نئے دور کا آغاز سمجھا جا رہا ہے۔ وہ اپنے آپ کو ایک اعتدال پسند رہنما کے طور پر پیش کرتے ہیں اور انہوں نے اپنی انتخابی مہم میں سماجی انصاف، متوازن ترقی اور اصلاحات پر زور دیا تھا۔ خاص طور پر، انہوں نے خواتین کے حقوق کے حوالے سے لچک کا مظاہرہ کیا ہے، حجاب پر سختی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے، اور ایران کی ‘اخلاقی پولیس’ کو ‘غیر اخلاقی’ قرار دیا ہے۔بین الاقوامی سطح پر، پزشکیان نے مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے اور جوہری معاہدے کو بحال کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ ان کا مقصد ایران پر عائد عالمی پابندیوں کو ختم کروانا ہے تاکہ ملک کی معیشت کو مستحکم کیا جا سکے۔ملک کے اندر، نئے صدر نے معیشت میں شفافیت لانے، بدعنوانی کے خاتمے، صحت کے شعبے میں بہتری اور تعلیمی معیار کو بلند کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
    پزشکیان کو سابق اصلاح پسند صدور حسن روحانی اور محمد خاتمی کی حمایت حاصل ہے، جبکہ سابق وزیر خارجہ جواد ظریف بھی ان کے حامیوں میں شامل ہیں۔ یہ حمایت ان کے اصلاحاتی ایجنڈے کی مضبوطی کا اشارہ دیتی ہے۔ایران کے آئین کے مطابق، نئے صدر کو اگلے دو ہفتوں میں اپنی کابینہ کا اعلان کرنا ہوگا۔ یہ انتخاب ان کی پالیسیوں اور حکمت عملی کے بارے میں مزید واضح تصویر پیش کرے گا۔پزشکیان کی صدارت ایران کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہو سکتی ہے، جہاں وہ اندرونی اصلاحات اور بین الاقوامی تعلقات میں بہتری کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کریں گے۔ آنے والے مہینوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ وہ اپنے وعدوں پر کس حد تک عمل کر پاتے ہیں اور ایران کی سیاسی اور معاشی صورتحال میں کیا تبدیلیاں آتی ہیں۔

  • وفاقی وزیر عطا تارڑ نے عمران خان کو سیکیورٹی رسک قرار  دے دیا

    وفاقی وزیر عطا تارڑ نے عمران خان کو سیکیورٹی رسک قرار دے دیا

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللّٰہ تارڑ نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان پر سخت تنقید کی۔ یہ تقریر موجودہ سیاسی ماحول میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔ عطا تارڑ نے اپنی تقریر کا آغاز اڈیالہ جیل سے جاری ہونے والے حالیہ بیانات کا ذکر کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے عمران خان کے مشہور بیان "نیوٹرل تو جانور ہوتا ہے” کی یاد دلائی، جو کہ فوج کی جانب سے سیاست میں غیر جانبداری کے اعلان کے بعد دیا گیا تھا۔ وزیر کا کہنا تھا کہ اب یہ بیان ایک طنزیہ مثال بن گیا ہے، کیونکہ اب وہی شخص جو کبھی نیوٹریلٹی کو مذاق اڑاتا تھا، اب خود مذاکرات کی منت کر رہا ہے۔عطا تارڑ نے عمران خان کے متغیر موقف پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ان کا نعرہ تھا "چھوڑوں گا نہیں”، لیکن اب وہ کہہ رہے ہیں "مجھ سے بات کرلو”۔ وزیر نے اس تبدیلی کو عمران خان کی سیاسی مجبوری قرار دیا۔وفاقی وزیر نے عمران خان کے سائفر سے متعلق بیانات کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ کس طرح عمران خان نے کھلے عام کہا تھا کہ وہ سائفر کے ساتھ کھیلنا چاہتے ہیں، لیکن جب فوج نے اپنی غیر جانبداری کا اعلان کیا تو اب وہی شخص ان سے حمایت مانگ رہا ہے۔

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے 9 مئی کے واقعات کا بھی ذکر کیا، کہ جب پی ٹی آئی کے کارکنان نے مختلف شہروں میں حکومتی عمارتوں پر حملے کیے تھے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ عمران خان کے بھانجے اور پارٹی کے دیگر رہنما کور کمانڈر ہاؤس کے باہر موجود تھے، جو کہ ان حملوں میں ان کی مبینہ شمولیت کی نشاندہی کرتا ہے۔وزیر اطلاعات نے عمران خان کو "سیکیورٹی رسک” قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ملک کے لیے خطرہ ہیں۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے سپورٹرز کے اس دعوے کی بھی تنقید کی جس میں کہا جاتا ہے کہ "عمران خان نہیں تو پاکستان نہیں”۔ تارڑ نے اسے ایک خطرناک سوچ قرار دیا۔عطا تارڑ نے پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا سیل پر بھی تنقید کی، یہ الزام لگاتے ہوئے کہ اس کے تعلقات بیرون ملک سے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سیل پکڑا گیا ہے اور اس کی سرگرمیوں کی تحقیقات جاری ہیں۔وزیر نے خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کا ذمہ دار بھی عمران خان کو ٹھہرایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ عمران خان نے اپنے دور حکومت میں دہشتگردوں کو آباد کیا اور اب وہ ملک کے لیے خطرہ بن گئے ہیں۔
    انہوں نے اپنی تقریر کے آخر میں معاشی صورتحال کا ذکر کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر عمران خان حکومت میں رہتے تو ملک ڈیفالٹ کر جاتا، لیکن شہباز شریف کی قیادت میں حکومت نے ملک کو بچا لیا۔ انہوں نے کہا کہ اب معیشت کے حوالے سے اچھی خبریں آنا شروع ہو گئی ہیں، جس کی وجہ سے عمران خان پریشان ہیں اور اب مذاکرات کی منت کر رہے ہیں۔ وفاقی وزیر نے 9 مئی کے واقعات کے حوالے سے پولی گرافک ٹیسٹ کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس ٹیسٹ سے ثابت ہو جائے گا کہ عمران خان نے ان حملوں کو منصوبہ بند طریقے سے کروایا تھا۔

  • اسد قیصر نے ایک بار  پھر پی ٹی آئی کے  اقتدار  میں انے کا دعوی کر دیا

    اسد قیصر نے ایک بار پھر پی ٹی آئی کے اقتدار میں انے کا دعوی کر دیا

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے مردان میں منعقدہ ایک وکلاء کنونشن میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ان کے بیان نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔اسد قیصر نے اپنے خطاب میں موجودہ حکومت پر تنقید کی۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف اور مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنا بوریا بستر سمیٹ لیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ دسمبر تک پی ٹی آئی کی حکومت آ جائے گی۔ یہ بیان موجودہ سیاسی صورتحال میں ایک بڑا دعویٰ سمجھا جا رہا ہے۔سابق اسپیکر نے قومی اسمبلی میں جاری قانون سازی پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ قومی اسمبلی صرف فارم 47 کی اسمبلی ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ مکمل طور پر قانونی نہیں ہے۔ انہوں نے خاص طور پر اعظم نذیر تارڑ کی قیادت میں ہونے والی قانون سازی کو تنقید کا نشانہ بنایا، یہ کہتے ہوئے کہ اس سے ملک میں قانون کی بالادستی متاثر ہو رہی ہے۔

    اسد قیصر نے عوامی مسائل کو بھی اٹھایا۔ انہوں نے مہنگائی اور بجلی کے بلوں میں اضافے کے خلاف 5 اگست کو احتجاج کا اعلان کیا۔ ساتھ ہی، انہوں نے آئی پی پیز (آزاد بجلی پیدا کرنے والے) کے معاہدوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے کا مطالبہ کیا، جو کہ ملک میں بجلی کے بحران سے متعلق ایک اہم موضوع ہے۔اپنے خطاب کے اختتام پر، سابق اسپیکر نے ملک میں قانون اور آئین کی بالادستی پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ اسمبلی کی قانون سازی کی کوئی حیثیت نہیں ہے، جو کہ ایک متنازعہ بیان ہے اور اس سے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے۔

  • ماہ رنگ بلوچ کا مارچ ناکام: بلوچستان میں اسمگلرز مافیا کی سازش بے نقاب

    ماہ رنگ بلوچ کا مارچ ناکام: بلوچستان میں اسمگلرز مافیا کی سازش بے نقاب

    بلوچستان میں ماہ رنگ بلوچ کی قیادت میں ہونے والا راجی مچی ڈگوسلا مارچ وقت سے پہلے ہی ناکام ہوگیا ہے۔ مستند ذرائع کے مطابق، حکومت کی "عزم استحکام” مہم کے اعلان کے بعد، صوبے میں اسمگلرز مافیا نے ماہ رنگ بلوچ کو تقریباً ایک ارب روپے کی خطیر رقم فراہم کی تھی۔ اس رقم کا مقصد تھا کہ وہ صوبے میں ایف سی کی تعیناتی اور فوج کے خلاف لوگوں کو سڑکوں پر نکال کر امن و امان کو خراب کرے، تاکہ عزم استحکام کی مہم کو متاثر کیا جا سکے اور اسمگلرز مافیا اور دہشت گردوں کے گٹھ جوڑ کو توڑا جا سکے۔ماہ رنگ بلوچ نے اس امید کے ساتھ کہ پچھلی بار کی طرح اس بار بھی لوگوں کو بیوقوف بنا سکے گی، ایک فضول ایجنڈے پر مارچ کا آغاز کیا۔ لیکن عوام کی عدم دلچسپی نے مارچ کو ناکامی کی طرف دھکیل دیا۔ اس صورت حال سے مایوس ہوکر، ماہ رنگ نے مستونگ میں بلوچ دہشت گردوں کے ساتھ مل کر فائرنگ کی تاکہ لوگوں کو مشتعل کیا جا سکے اور خون خرابا کروا سکے۔ اس فائرنگ کے واقعے کی ویڈیو کو پروفیشنل کیمرا مین سے فلمایا گیا، جسے سوشل میڈیا پر بھرپور تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

    ذرائع کے مطابق، اسمگلرز مافیا، جو ماہ رنگ بلوچ کو اتنی بڑی رقم فراہم کرچکا تھا، اب سخت پریشانی میں مبتلا ہے۔ ڈیل کے مطابق، ماہ رنگ نے عوامی انتشار کے ذریعے ایف سی کی تعیناتی ختم کروانے کا وعدہ کیا تھا، لیکن ناکام مارچ اور فیلڈرامے کی وجہ سے یہ ممکن نہیں ہوسکا۔مستند ذرائع بتاتے ہیں کہ ماہ رنگ اور اسمگلرز مافیا اب شدید پریشانی اور غصے میں کوئی انتہائی قدم اٹھا سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں مزید معصوم جانیں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔ بلوچستان کے عوام کو ان شر پسند عناصر کے شر سے دور رہنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ اپنے مذموم مقاصد میں کبھی کامیاب نہ ہو سکیں۔حالات کی اس سنگینی کے پیش نظر، مقامی حکام اور سیکیورٹی فورسز کو چوکس رہنے کی ضرورت ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ دہشت گردی یا عوامی انتشار کی کوشش کو ناکام بنایا جا سکے۔

  • بجلی کی قیمتیں کم کرنا پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے،وزیر توانائی اویس لغاری

    بجلی کی قیمتیں کم کرنا پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے،وزیر توانائی اویس لغاری

    وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے بجلی کی قیمتوں میں کمی لانے کے حکومتی منصوبے کی تفصیلات کا انکشاف کیا ہے۔ جیو نیوز کے پروگرام ‘نیا پاکستان’ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے چین کے ساتھ پاور سیکٹر میں قرضوں کی ری پروفائلنگ پر تفصیلی مذاکرات کیے ہیں۔ اویس لغاری نے بتایا کہ کول پاور پلانٹس کو مقامی کوئلے پر منتقل کرنے سے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں دو سے ڈھائی روپے تک کی کمی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ طور پر درآمد شدہ کوئلے سے بجلی کی پیداوار کی لاگت 24 روپے فی یونٹ ہے، جبکہ مقامی کوئلے کے استعمال سے یہ لاگت 7.50 سے 8 روپے فی یونٹ تک کم ہو سکتی ہے۔وزیر توانائی نے بتایا کہ ملک میں چار کول پاور پلانٹس ہیں، جن میں سے ایک حکومت کے زیر انتظام ہے۔ حکومت اپنے پلانٹ کو کے الیکٹرک کے ساتھ مل کر مقامی کوئلے پر منتقل کر رہی ہے۔ باقی تین پلانٹس 1200 میگاواٹ کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
    وفاقی وزیر اویس لغاری نے چینی کمپنیوں سے کول کنورژن میں سرمایہ کاری کی اپیل کی ہے تاکہ بجلی کی قیمتوں میں مزید کمی لائی جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ چین کی نیشنل انرجی ایڈمنسٹریشن کے ساتھ توانائی شعبے میں اصلاحات پر بات چیت ہوئی ہے اور چینی حکام نے اس حوالے سے جلد اقدامات کرنے پر اتفاق کیا ہے۔وزیر توانائی نے مزید بتایا کہ 1994 اور 2002 کی پالیسیوں کے تحت 20 پرانے پاور پلانٹس کی مدت مکمل ہو چکی ہے۔ ان پلانٹس کو نظام سے نکالنے سے صارفین کو سالانہ 80 ارب روپے کا فائدہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روپے کی قدر میں کمی اور شرح سود میں اضافے کے باعث کیپیسٹی پیمنٹس 800 ارب سے بڑھ کر 2100 ارب روپے تک پہنچ گئی ہیں۔
    اویس لغاری نے زور دے کر کہا کہ بجلی کی قیمتوں میں کمی پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ قرضوں کی ری پروفائلنگ سے کیپیسٹی پیمنٹس میں جو بھی کمی آئے گی، اس کا فائدہ براہ راست صارفین کو دیا جائے گا۔حکومت کا یہ منصوبہ ملک میں بجلی کے شعبے میں اصلاحات کا ایک اہم قدم ہے۔ اگر کامیابی سے نافذ کیا گیا تو یہ نہ صرف بجلی کی قیمتوں میں نمایاں کمی لا سکتا ہے بلکہ پاکستان کی معاشی صورتحال کو بہتر بنانے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

  • پاکستان میں سرمایہ کاری اور سیاحت کو فروغ دینے کے لیے ویزا پالیسی میں بڑی تبدیلی

    پاکستان میں سرمایہ کاری اور سیاحت کو فروغ دینے کے لیے ویزا پالیسی میں بڑی تبدیلی

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آج ملک میں بیرونی سرمایہ کاری، کاروبار اور سیاحت کو فروغ دینے کے لیے ویزا پالیسی میں اہم تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام ملکی معیشت کو مضبوط کرنے اور زرِ مبادلہ کے ذخائر میں اضافے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔نئی پالیسی کے تحت، گلف کوآپریشن کونسل (GCC) کے ممالک کے کاروباری افراد کو پاکستان میں ویزا فری داخلے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، 126 ممالک کے تاجروں، سرمایہ کاروں اور سیاحوں کو 24 گھنٹوں کے اندر آن لائن ویزا جاری کیا جائے گا، اور انہیں ویزا فیس سے بھی مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔
    مذہبی سیاحت کو فروغ دینے کے لیے، تیسرے ملک کا پاسپورٹ رکھنے والے سکھ یاتریوں کے لیے ویزا آن ارائیول کی سہولت دی جائے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ "پاکستان میں بہت سے مذاہب کے مقدس مقامات موجود ہیں اور گلگت بلتستان سمیت ملک کے دیگر شمالی علاقے سیاحوں کے لیے جنت ہیں۔”سفر کو مزید آسان بنانے کے لیے، کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے ہوائی اڈوں پر الیکٹرانک گیٹس کا نظام نافذ کیا جا رہا ہے۔وزیراعظم نے کہا، "ویزا پالیسی میں نرمی سے پاکستان بیرون ممالک کے افراد کے لیے کاروبار اور سیاحت کے حوالے سے ایک پرکشش مقام بن جائے گا۔”
    نئی ویزا پالیسی کی نگرانی کے لیے وزارت داخلہ میں ایک ڈیش بورڈ قائم کیا جائے گا۔ وزیراعظم نے اس پالیسی پر عمل درآمد میں وزارت داخلہ اور دیگر متعلقہ وزارتوں کی کارکردگی کو سراہا۔یہ اقدامات پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنانے اور بین الاقوامی سطح پر اس کی ساکھ بہتر کرنے کے لیے اٹھائے گئے ہیں۔ حکومت کو امید ہے کہ یہ تبدیلیاں ملک میں سرمایہ کاری اور سیاحت کو نئی بلندیوں تک لے جائیں گی۔

  • پاکستان کو لوٹنے والے نہیں  نوازنے  والے لیڈرز کی ضرورت ہے.شاہد خاقان عباسی

    پاکستان کو لوٹنے والے نہیں نوازنے والے لیڈرز کی ضرورت ہے.شاہد خاقان عباسی

    پیرس کے نواحی علاقے سارسل میں پاکستان بزنس فورم فرانس کے سرپرست ابراہیم ڈار کی دعوت پر منعقدہ تقریب میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے پاکستان کی موجودہ سیاسی اور اقتصادی صورتحال پر تفصیلی خطاب کیا۔ شاہد خاقان عباسی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت پاکستان کو ایسے لیڈروں کی ضرورت ہے جو ملک کو لوٹنے کی بجائے کچھ دینے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔انہوں نے پاکستان میں انتخابی نظام کی شفافیت پر سوالات اٹھائے اور کہا کہ ملک کی بدقسمتی ہے کہ آج تک ایک بھی غیر متنازع انتخاب نہیں ہو سکا۔ کبھی کسی کو جتوایا گیا، کبھی کسی کی اکثریت کم کی گئی، اور کبھی کسی کو ہرایا گیا۔ ایسی صورتحال میں ملک کیسے آگے بڑھ سکتا ہے جب عوام کسی کو مینڈیٹ دیں اور ان پر کسی اور کو بٹھا دیا جائے؟ شاہد خاقان عباسی نے زور دیا کہ ملک میں آئین پر مکمل عملدرآمد کے لیے شفاف انتخابات ضروری ہیں تاکہ عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جا سکے اور ملک صحیح سمت میں گامزن ہو سکے۔
    سابق وزیراعظم نے حکومت کے غیر ضروری اخراجات پر بھی تنقید کی اور کہا کہ حکومت کیا اپنے اخراجات کم نہیں کر سکتی تھی؟ انہوں نے نیب کو ملکی ترقی و خوشحالی میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس ادارے کے باعث کوئی بھی کام کرنے کو تیار نہیں۔ نیب آج تک کسی سیاستدان کو کرپٹ ثابت نہیں کرسکا، اور اس ادارے کی موجودگی میں ملک ترقی کی طرف نہیں جا سکتا۔شاہد خاقان عباسی نے اپنی سیاسی زندگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ 35 سال تک پاکستان مسلم لیگ (ن) میں رہے، ساڑھے چار سال وزیر اور ڈیڑھ سال وزیراعظم رہے۔ انہوں نے اپنے دورِ حکومت میں کیے گئے فیصلوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ عوام ان سے سوال پوچھ سکتے ہیں۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ ملکی ترقی و خوشحالی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ نیب کا ادارہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ادارے کی موجودگی میں ملک ترقی کی طرف نہیں جا سکتا کیونکہ نیب نے آج تک کسی سیاستدان کو کرپٹ ثابت نہیں کیا۔