Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • کراچی سے لاپتہ صنعت کار ذوالفقار احمد  لاہور میں اپنے گھر پہنچ گئے

    کراچی سے لاپتہ صنعت کار ذوالفقار احمد لاہور میں اپنے گھر پہنچ گئے

    کراچی کے معروف کاروباری شخصیت ذوالفقار احمد، جو کولا نیکسٹ، میزان گروپ اور پراچہ انڈسٹریز کے مالک ہیں، 23 جولائی کو ایک دلخراش واقعے میں اغوا کر لیے گئے۔ کراچی کے علاقے ماڑی پور میں ان کی سفید ٹویوٹا سرف گاڑی کو آٹھ مسلح افراد نے روکا اور انہیں اغوا کر لیا جبکہ ان کے ایک دوست کو جانے دیا۔اغوا کی خبر سے ذوالفقار احمد کے اہل خانہ اور کمپنی انتظامیہ میں شدید پریشانی پھیل گئی۔ اسی دن کلری پولیس اسٹیشن میں درخواست جمع کرانے کی کوشش کی گئی، لیکن پولیس نے شکایت درج کرنے سے انکار کر دیا، جس سے ان کے اہل خانہ اور انتظامیہ کو سندھ ہائی کورٹ کا رخ کرنا پڑا۔ سندھ ہائی کورٹ نے پولیس کو جمعہ کے دن مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا۔

    پولیس نے تصدیق کی کہ کلری تھانے میں اغوا کا مقدمہ دفعہ 365 کے تحت ٹیکسٹائل کے منیجر عمران ملک کی جانب سے درج کیا گیا۔ دفعہ 365 کے تحت، یہ مقدمہ کسی شخص کو اغوا کرنے کے جرم میں درج کیا جاتا ہے جو کسی کو زبردستی قید یا اغوا کرتا ہے۔ڈی آئی جی ساؤتھ، اسد رضا نے بتایا کہ ذوالفقار احمد کو لاہور میں اپنے گھر پہنچا دیا گیا ہے۔ ان کی بازیابی نے ان کے خاندان اور کاروباری حلقوں میں راحت کی لہر دوڑا دی۔ اسد رضا کا کہنا تھا کہ ذوالفقار احمد کی حالت بہتر ہے اور انہیں کوئی جسمانی نقصان نہیں پہنچا۔اس سے قبل، ذوالفقار احمد کے وکیل نے ایک نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ذوالفقار احمد کا اپنی فیملی سے رابطہ ہو چکا ہے اور وہ جلد اپنے گھر پہنچ جائیں گے۔ وکیل کے مطابق، ذوالفقار احمد کی بازیابی ان کی زندگی میں ایک نئی امید کی کرن لے آئی ہے۔

    یہ واقعہ کاروباری حلقوں میں خوف و ہراس پیدا کرنے والا تھا، کیونکہ ذوالفقار احمد جیسے بڑے صنعتکار کا اغوا ایک سنگین مسئلہ کی نشاندہی کرتا ہے۔ کاروباری کمیونٹی نے اس واقعے کی مذمت کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ایسے واقعات کے خلاف سخت کارروائی کرے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔ذوالفقار احمد کی بازیابی کے بعد، ان کے اہل خانہ اور دوستوں نے پولیس اور عدلیہ کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کی بازیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ اس واقعے نے یہ بھی واضح کیا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اور عدلیہ مل کر کسی بھی مشکل صورتحال کا مقابلہ کر سکتے ہیں اور شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنا سکتے ہیں۔ذوالفقار احمد کا اغوا اور بازیابی ایک یاد دہانی ہے کہ ہمارے معاشرے میں قانون کی بالا دستی اور عوام کے تحفظ کو یقینی بنانا کتنا ضروری ہے۔ اس واقعے نے کاروباری برادری کو مزید متحد کر دیا ہے اور انہوں نے حکومت سے مزید بہتر حفاظتی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

  • یہ دھرنا پاکستان کی تاریخ کو تبدیل کر دے گا۔ ہم حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیں گے.حافظ نعیم الرحمان

    یہ دھرنا پاکستان کی تاریخ کو تبدیل کر دے گا۔ ہم حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیں گے.حافظ نعیم الرحمان

    راولپنڈی: جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے راولپنڈی میں جاری دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے حکومت پر شدید تنقید کی اور ملک بھر میں احتجاجی تحریک کو وسیع کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے اپنے طویل اور جذباتی خطاب میں موجودہ حکمرانوں کو "طبقہ بدمعاشیہ” قرار دیا اور عوام سے اتحاد کی پرزور اپیل کی۔
    حافظ نعیم الرحمان نے کہا، "یہ دھرنا پاکستان کی تاریخ کو تبدیل کر دے گا۔ ہم حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیں گے۔” انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ احتجاج پورے پاکستان کو متحد کر رہا ہے اور ملک کو جاگیرداروں سے آزاد کرانے کا ذریعہ بنے گا۔جماعت اسلامی کے سربراہ نے موجودہ حکمرانوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا، "یہ ایسا طبقہ ہے جو جنرلوں، عدلیہ اور جاگیرداروں پر مشتمل ہے۔ یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان کو خوب لوٹ لیں اور ریٹائرڈ ہونے کے بعد بھی کسی صورت مسلط رہیں۔”

    حافظ نعیم الرحمان نے نوجوانوں سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا، "نوجوانو! ملک سے مایوس نہ ہونا۔ میں جانتا ہوں کہ آپ کے لیے روزگار کے مواقع بند کیے جا رہے ہیں، لیکن یہ تکلیفیں عارضی ہیں۔ اگر آپ مایوس ہو جاؤ گے تو ظالم طاقتور ہو جائیں گے۔”انہوں نے حکومت کی معاشی پالیسیوں پر سخت تنقید کی اور کہا، "چھوٹی چھوٹی چیزوں پر ٹیکس لگا دیا گیا ہے۔ آٹے، چاول اور دودھ پر ٹیکس لگا دیا گیا ہے۔ ہم معیشت کے مسائل حل کرنا جانتے ہیں۔” انہوں نے آئی پی پیز کے معاہدوں اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے پر بھی سوالات اٹھائے۔تعلیم کے شعبے پر بات کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے امیر نے کہا، "سرکاری اسکولوں کو بیچا جا رہا ہے۔ پنجاب حکومت کے 13 ہزار اسکول بیچنے کی مزاحمت کی جائے گی۔ ہم طبقاتی نظام تعلیم کو منظور نہیں کرتے۔ بچوں کو ایک یکساں نظام تعلیم دیا جائے۔”

    حافظ نعیم الرحمان نے دھرنے کو ملک بھر میں پھیلانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا، "ہم کراچی، لاہور، پشاور اور کوئٹہ میں بھی تاریخی دھرنے دیں گے۔ جمعہ یا ہفتے کے روز پشاور میں دھرنے کا آغاز ہو جائے گا۔ یہ دھرنا ڈی چوک، پارلیمنٹ تک پہنچے گا۔”انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کو خبردار کرتے ہوئے کہا، "شہباز شریف، ہمارا موڈ سمجھ لو۔ ہم تمہاری عیاشیاں کم کرنے آئے ہیں۔ مفت بجلی کا نظام فوری بند کرو، مفت پٹرول بھی بند کرو۔ حکمرانوں کی گاڑیاں بھی چھوٹی کراؤیں گے، پٹرول بھی ختم کراؤیں گے۔”جماعت اسلامی کے سربراہ نے اپنے کارکنوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا، "میں جانتا ہوں گرمی شدید ہے، لیکن آپ سے نوجوان امید لگائے بیٹھے ہیں۔ یہ طویل لڑائی ہے، اپنے حق کے لیے اٹھنا ہوگا، لڑنا ہوگا۔ کیا آپ تیار ہیں؟”

    حافظ نعیم الرحمان نے زور دیا کہ پرامن مزاحمت سب سے بڑی طاقت ہے اور کہا کہ انہوں نے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کو اپنے مطالبات پیش کر دیے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک تمام مطالبات نہیں مانے جاتے، دھرنا جاری رہے گا۔یہ دھرنا راولپنڈی میں جاری ہے اور جماعت اسلامی کے مطالبات میں بجلی کی قیمتوں میں کمی، مہنگائی پر قابو پانے، معاشی اصلاحات اور حکومتی اخراجات میں کمی شامل ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ حکومت ان مطالبات پر کیا ردعمل دیتی ہے اور کیا جماعت اسلامی اپنے اعلان کردہ ملک گیر احتجاجی مہم کو عملی جامہ پہنا سکتی ہے۔

  • حکومت کو آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں میں تبدیلی کی کوشش میں سنگین چیلنچز کا سامنا

    حکومت کو آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں میں تبدیلی کی کوشش میں سنگین چیلنچز کا سامنا

    اسلام آباد: پاکستان کی حکومت کو بجلی کی قیمتوں میں کمی لانے کے لیے آزاد بجلی پیداکنندگان (آئی پی پیز) کے ساتھ موجودہ معاہدوں میں تبدیلی کی کوششوں میں سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ پاور ڈویژن کے اعلیٰ حکام نے خبردار کیا ہے کہ حکومت یکطرفہ طور پر ان معاہدوں سے دستبردار نہیں ہو سکتی۔ایک سینئر حکام نے بتایا کہ اگر حکومت نے ایسا کیا تو اسے ریکوڈک کیس کی طرح بین الاقوامی ثالثی عدالتوں میں بھاری جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ معاہدے خودمختار ضمانتوں پر مبنی ہیں، جو حکومت کو ان سے یکطرفہ انخلا سے روکتے ہیں۔
    تاہم، حکومت آئی پی پیز کے ساتھ دوبارہ مذاکرات کر سکتی ہے، لیکن صرف اس صورت میں جب وہ رضاکارانہ طور پر ایسا کرنے پر راضی ہوں۔ اس طرح کے مذاکرات سے بجلی کے صارفین کو محدود ریلیف مل سکتا ہے۔حکومت کے سامنے سب سے بڑا چیلنج کیپیسٹی پیمنٹس ہیں، جو اس سال 2 ٹریلین روپے سے تجاوز کر سکتی ہیں۔ یہ ادائیگیاں خاص طور پر 2015 کی پاور پالیسی کے تحت قائم کیے گئے پلانٹس کے لیے زیادہ ہیں، جنہیں امریکی ڈالر کے اشاریہ کی بنیاد پر 17 فیصد واپسی کی ضمانت دی گئی تھی۔اس مسئلے کے حل کے لیے، حکومتی وفد چین کا دورہ کر رہا ہے تاکہ قرضوں کی دوبارہ پروفائلنگ، پانڈا بانڈز کے اجراء اور درآمد شدہ کول پلانٹس کو مقامی تھر کول پر منتقل کرنے پر بات چیت کی جا سکے۔
    پاور ڈویژن کے حکام نے یہ بھی بتایا کہ اگر حکومت اپنے پاور پلانٹس پر سالانہ 100 ارب روپے کی ریٹرن آن ایکویٹی (RoE) حاصل کرنا بند کر دے تو صارفین کے لیے بجلی کی قیمت میں 0.95 روپے فی یونٹ کی کمی ممکن ہے۔ تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ RoE میں مزید کمی سے واپڈا کے موجودہ اور مستقبل کے منصوبوں کے لیے مالی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔مجموعی طور پر، حکومت کو بجلی کی قیمتوں میں کمی لانے اور آئی پی پیز کے ساتھ موجودہ معاہدوں کو برقرار رکھنے کے درمیان ایک نازک توازن برقرار رکھنا ہوگا۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید پیش رفت کی توقع ہے۔

  • حکومت نے جماعت اسلامی کے 35 کارکنان کی فوری رہائی کا حکم دے دیا ہے، عطا تارڑ

    حکومت نے جماعت اسلامی کے 35 کارکنان کی فوری رہائی کا حکم دے دیا ہے، عطا تارڑ

    راولپنڈی: حکومت پاکستان اور جماعت اسلامی کے درمیان جاری کشیدگی کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی ۔ راولپنڈی میں جماعت اسلامی کے زیر اہتمام دھرنے پر بات چیت کا دوسرا مرحلہ راولپنڈی کمشنر آفس میں منعقد ہوا، جس میں دونوں فریقین نے اہم پیش رفت کی۔حکومتی وفد میں وزیر اطلاعات عطا تارڑ، ڈاکٹر فضل چودھری اور وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان امیر مقام شامل تھے، جبکہ جماعت اسلامی کے وفد کی قیادت لیاقت بلوچ نے کی۔ مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کئی اہم انکشافات کیے۔انہوں نے بتایا کہ حکومت نے جماعت اسلامی کے 35 کارکنان کی فوری رہائی کا حکم دے دیا ہے، جو کہ ایک بڑی پیش رفت ہے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے کہا کہ 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو دو ماہ کے لیے 50 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی ہے، جو کہ عوام کو ریلیف دینے کی ایک اہم کوشش ہے۔

    عطا تارڑ نے حکومت کی کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ملک کو ڈیفالٹ سے بچانا ایک مشکل کام تھا، جسے حکومت نے کامیابی سے انجام دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اخراجات میں کمی، نجکاری اور معاشی اصلاحات کے ذریعے عوام تک ریلیف پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے۔جماعت اسلامی کے مطالبات کے حوالے سے عطا تارڑ نے بتایا کہ ان کے 10 مطالبات ہیں، جو بنیادی طور پر زراعت، بجلی اور ٹیکس سے متعلق ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت خوشحال اور خودمختار پاکستان کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائے گی۔معیشت کے حوالے سے وزیر اطلاعات نے کہا کہ روپے کا استحکام حکومت کا سب سے بڑا اقدام ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومتی اخراجات میں کمی کے لیے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں اور معیشت کو بہتر کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

    دھرنے کے حوالے سے عطا تارڑ نے کہا کہ لیاقت باغ کے مقام کا تعین کیا گیا تھا، کیونکہ سڑکیں بند ہونے سے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مذاکرات کے اگلے دور میں معاملات خوش اسلوبی سے طے پائیں گے۔توانائی کے شعبے میں حکومتی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اطلاعات نے بتایا کہ وزیراعظم نے پہلے ہی سولر ٹیوب ویلز کا منصوبہ شروع کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 38 ہزار سولر ٹیوب ویلز بلوچستان میں لگائے جا رہے ہیں، جبکہ پنجاب، سندھ، اور خیبر پختونخوا کی حکومتوں کے ساتھ مل کر بینکنگ فنانس کے ذریعے ٹیوب ویلوں کو سولر پر منتقل کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔عطا تارڑ نے یہ بھی بتایا کہ ایک ٹیکنیکل کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو آئندہ مذاکرات کرے گی۔ اس کمیٹی میں وزیر پانی و بجلی، سیکرٹری توانائی، وزارت خزانہ اور ایف بی آر کے نمائندوں کو شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگلے دن دوپہر 12 بجے دوبارہ مذاکرات متوقع ہیں۔

    وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان امیر مقام نے حکومت کی مالی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ جیب میں اگر 100 روپے ہوں اور مطالبہ 200 روپے کا ہو تو 100 روپے کہاں سے آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ذرائع آمدن اور اخراجات دیکھ کر فیصلہ کیا جاتا ہے۔طارق فضل نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی نے جو مذاکرات رکھے، وہی باتیں تمام عمائدین کر رہے ہوتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگلے دور میں مزید بہتری آئے گی تاکہ دھرنا جلد از جلد ختم ہو سکے۔مجموعی طور پر، یہ مذاکرات حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان تعلقات میں بہتری کی طرف ایک اہم قدم معلوم ہوتے ہیں۔ دونوں فریقین کی جانب سے مثبت رویے کا مظاہرہ کیا گیا، جس سے امید کی جا سکتی ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید پیش رفت ہو گی۔ تاہم، یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا یہ مذاکرات دھرنے کے خاتمے اور تمام معاملات کے حل تک پہنچ سکیں گے۔ آنے والے دنوں میں مزید واضح تصویر سامنے آنے کی توقع ہے۔

  • عوام پاکستان پارٹی کے جنرل سیکرٹری مفتاح اسماعیل کا  وزیرا عظم سے بجلی کے معاملے پر نوٹس لینے کی اپیل

    عوام پاکستان پارٹی کے جنرل سیکرٹری مفتاح اسماعیل کا وزیرا عظم سے بجلی کے معاملے پر نوٹس لینے کی اپیل

    کراچی: عوام پاکستان پارٹی کے جنرل سیکرٹری مفتاح اسماعیل نے ایک احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عوامی مسائل پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے وزیر اعظم سے درخواست کی کہ بجلی کے بل کم کیے جائیں اور کے الیکٹرک کی اوور بلنگ کو ختم کیا جائے۔ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ اگر 12 گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے تو بل کم ہونا چاہیے۔مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے تین سو یونٹ فری دینے کا وعدہ کیا تھا، اگر یہ وعدہ پورا نہیں کیا جا سکتا تو کم از کم بجلی کے ریٹ کو مناسب بنایا جائے۔ انہوں نے کے الیکٹرک سے مطالبہ کیا کہ بجلی کے نرخ کم کیے جائیں، کیونکہ 2015 سے اب تک بجلی کے نرخوں میں تین سو فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کس کی تنخواہ میں اتنا اضافہ ہوا ہے؟
    مفتاح اسماعیل نے مزید کہا کہ عوام انتشار نہیں چاہتے، لیکن جب تک لیڈرز صحیح تربیت نہیں دیتے، مسائل حل نہیں ہوں گے۔ انہوں نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بجلی کے بل آدھے کیے جائیں اور کمرشل بلوں پر 37 فیصد ٹیکس کو ختم کیا جائے۔مفتاح اسماعیل نے کہا کہ صدر، سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اخراجات بڑھائے گئے ہیں جبکہ عوام پر اضافی بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ گھریلو صارفین پر ٹیکس نہ لگایا جائے اور صرف 50 ارب روپے کی کٹوتی سے جولائی سے ستمبر تک کے ٹیکس کو ختم کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو گھریلو صارفین کا ٹیکس ختم کرنا چاہیے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔ مفتاح اسماعیل نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عوام کی مشکلات کو سمجھتے ہوئے فوری طور پر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کی زندگی آسان ہو سکے۔مفتاح اسماعیل نے اپنے خطاب کا اختتام کرتے ہوئے عوام سے درخواست کی کہ وہ حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے اپنے مطالبات کے حق میں آواز اٹھائیں اور متحد ہو کر ان مسائل کا حل نکالنے کے لیے جدوجہد کریں۔ عوام پاکستان پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ اگر ان کے مطالبات پورے نہیں کیے گئے تو وہ اپنے احتجاج کو مزید وسعت دیں گے۔

  • جماعت اسلامی کا دھرنا جاری: حکومت سے مذاکرات ناکام

    جماعت اسلامی کا دھرنا جاری: حکومت سے مذاکرات ناکام

    جماعت اسلامی کے دھرنے کے تیسرے روز، حکومت اور جماعت کے درمیان مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں۔ جماعت اسلامی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنا احتجاجی دھرنا جاری رکھے گی۔نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ حکومت کی جانب سے دو مرتبہ مذاکرات کی پیشکش کی گئی تھی۔ پہلا اجلاس خوشگوار ماحول میں ہوا، جہاں جماعت نے اپنے مطالبات پیش کیے۔بلوچ نے واضح کیا کہ یہ دھرنا کسی ذاتی مقصد کے لیے نہیں، بلکہ عوامی مسائل کے حل کے لیے ہے۔ انہوں نے بجلی کے بلوں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، عام زندگی کی مشکلات، اور آئی پی پیز کے معاہدوں کو ملکی معیشت کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔
    حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے بین الاقوامی معاہدوں کا حوالہ دیا، لیکن جماعت اسلامی کا موقف ہے کہ ان کے اہم بین الاقوامی معاہدے چین کے ساتھ ہیں، جو پاکستان کا دوست ملک ہے۔مذاکرات میں برآمد کنندگان اور بجلی کے بلوں پر لگائے گئے ٹیکسوں پر بھی بات چیت ہوئی۔ حکومت نے ایک ٹیکنیکل کمیٹی بنانے کا وعدہ کیا ہے، لیکن جماعت اسلامی اس پر اکتفا نہیں کر رہی۔لیاقت بلوچ نے زور دے کر کہا کہ جب تک ان کے مطالبات پورے نہیں ہوتے، دھرنا اور احتجاج جاری رہے گا۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس احتجاج میں شامل ہوں۔
    شہر کے مختلف حصوں سے لوگ دھرنے میں شرکت کر رہے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ مہنگائی اور بجلی کے بلوں نے ان کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔
    حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ صورتحال پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وزیر توانائی نے ایک بیان میں کہا کہ وہ جماعت اسلامی کے تحفظات کو سمجھتے ہیں اور انہیں دور کرنے کی کوشش کریں گے۔شہر میں ٹریفک کی صورتحال متاثر ہو رہی ہے۔ پولیس نے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے ہیں۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ دھرنے سے ان کے کاروبار پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر جلد حل نہ نکالا گیا تو یہ احتجاج مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔ وہ حکومت پر زور دے رہے ہیں کہ وہ جماعت اسلامی کے ساتھ مذاکرات کو سنجیدگی سے لے۔آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان کوئی معاہدہ ہوتا ہے یا نہیں۔ فی الحال، کراچی کے شہری اس کشمکش کے درمیان پھنسے ہوئے ہیں۔

  • تحریک انصاف کا 5 اگست کو ملک گیر احتجاج کا اعلان

    تحریک انصاف کا 5 اگست کو ملک گیر احتجاج کا اعلان

    اسلام آباد: تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 5 اگست کو ملک بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ پی ٹی آئی کے رہنما عمر ایوب اور اسد قیصر نے ایک پریس کانفرنس میں حکومت کی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے نئے انتخابات کا مطالبہ کیا۔قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے کہا کہ نواز شریف، شہباز شریف اور مریم نواز تحریک انصاف اور فوج کے درمیان تصادم کی کوشش کر رہے ہیں، جو ملک کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے حکومت کو ہوش کے ناخن لینے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے مسائل کا واحد حل نئے انتخابات ہیں۔
    اسد قیصر نے مزید کہا کہ 5 اگست کو پورے ملک میں دو اہم مسائل پر احتجاج کیا جائے گا۔ پہلا مسئلہ بانی پی ٹی آئی کی غیرقانونی گرفتاری ہے اور دوسرا مہنگائی کے خلاف مظاہرے ہیں۔ انہوں نے جماعت اسلامی کے احتجاج کو بھی سپورٹ کرنے کا اعلان کیا۔سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ پی ٹی آئی کے 41 ایم این ایز کو خصوصی طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ان کے خلاف کارروائیاں ہو رہی ہیں۔ انہوں نے سپریم کورٹ سے ان کارروائیوں پر از خود نوٹس لینے کی اپیل کی اور کہا کہ ایم این ایز پر دباؤ ڈالنے کی مذمت کرتے ہیں۔
    سابق سپیکر نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ارکان اور سوشل میڈیا ورکرز کے خلاف کریک ڈاؤن ہو رہا ہے۔ انہوں نے شہباز شریف اور مریم نواز کے اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے ناجائز مقدمات کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام جماعتوں کو حکومت کو ختم کرنے کے لیے ایک میز پر بیٹھنا ہوگا۔شیخ وقاص نے کہا کہ احتجاج کرنا ہمارا حق ہے اور افسران کو یاد رکھنا چاہیے کہ موجودہ حکومت ہمیشہ نہیں رہے گی۔ انہوں نے ایم این ایز کے خلاف کارروائیوں کو فوری روکنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اگر یہ کارروائیاں نہ روکی گئیں تو ملک میں انارکی پھیل سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت نے ملک کی معیشت کو تباہ کر دیا ہے۔
    شیخ وقاص نے کہا کہ جمعہ کو تحریک انصاف نے ہر ضلع میں احتجاج کیا تھا، جس دوران سیکڑوں کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے باوجود پی ٹی آئی کے کارکنان ڈرنے والے نہیں ہیں اور اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔تحریک انصاف نے 5 اگست کو ملک گیر احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے حکومت کے خلاف اپنے مطالبات پر زور دیا ہے اور عوام کو بڑی تعداد میں مظاہروں میں شرکت کرنے کی اپیل کی ہے۔

  • ایتھوپیا کے امہارا علاقے میں کشتی حادثہ، 19 افراد جاں بحق

    ایتھوپیا کے امہارا علاقے میں کشتی حادثہ، 19 افراد جاں بحق

    ایتھوپیا کے شمالی امہارا علاقے میں ایک دریا میں کشتی الٹنے سے 19 افراد جاں بحق ہوگئے۔ خبر رساں ادارے "اے ایف پی” کے مطابق، امہارا میڈیا کارپوریشن (اے ایم سی) نے مقامی انتظامیہ کے حوالے سے بتایا کہ حادثے کے وقت کشتی میں 26 افراد سوار تھے۔ حادثے کے بعد 7 افراد کو بچا لیا گیا، جن میں ایک بچہ بھی شامل ہے، جبکہ 2 افراد کی لاشیں برآمد کی جاچکی ہیں۔حکام نے بتایا کہ ریسکیو آپریشن جاری ہے اور مزید لاشوں کی تلاش کی جا رہی ہے۔ بچائے گئے افراد کو قریبی ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ امہارا کے دور دراز علاقے میں ذرائع ابلاغ کی رسائی محدود ہونے کے باعث معلومات کئی گھنٹوں بعد موصول ہوئیں، جس سے ریسکیو کاموں میں مشکلات کا سامنا ہے۔

    امہارا، ایتھوپیا کا دوسرا سب سے زیادہ آبادی والا خطہ، حالیہ مہینوں میں ایتھوپیا کی فوج اور نسلی امہارا ملیشیا "فانو” کے درمیان جھڑپوں کی زد میں ہے۔ اس صورتحال نے علاقے میں امن و امان کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے اور ذرائع ابلاغ کی رسائی کو بھی محدود کر دیا ہے۔حادثے کے بعد علاقے میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے، اور مقامی افراد اپنے پیاروں کی تلاش میں ہیں۔ حکام نے متاثرین کے لیے امدادی کاموں کی یقین دہانی کرائی ہے اور علاقے میں امدادی ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں تاکہ مزید جانی نقصان کو روکا جا سکے۔

  • امریکا کا جاپان میں فوجی موجودگی بڑھانے کا فیصلہ: علاقائی کشیدگی میں اضافہ

    امریکا کا جاپان میں فوجی موجودگی بڑھانے کا فیصلہ: علاقائی کشیدگی میں اضافہ

    امریکہ نے حال ہی میں ایک اہم فوجی فیصلہ کیا ہے جو مشرقی ایشیا کی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ جاپان میں اپنی فوجی موجودگی کو نہ صرف بڑھائے گا بلکہ وہاں موجود اپنے عسکری ڈھانچے کو بھی جدید بنائے گا۔یہ فیصلہ چین کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں لیا گیا ہے۔ امریکہ کا خیال ہے کہ چین کی جانب سے بڑھتے ہوئے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے یہ قدم ضروری ہے۔ اس منصوبے کے تحت، امریکہ جاپان میں ایک نیا جوائنٹ فورس ہیڈکوارٹر قائم کرے گا۔جاپان کی حکومت نے بھی اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ جاپان خود بھی چین اور شمالی کوریا سے پیدا ہونے والے خطرات سے پریشان ہے اور وہ امریکہ کے ساتھ اپنے عسکری تعاون کو مزید مضبوط کرنا چاہتا ہے۔
    فی الحال، امریکہ کے تقریباً 54,000 فوجی جاپان میں تعینات ہیں۔ نئے منصوبے کے تحت، یہ تعداد بڑھ سکتی ہے۔ نیا جوائنٹ فورس ہیڈکوارٹر جاپان کی مجوزہ جوائنٹ آپریشنز کمانڈ کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔اس فیصلے سے پہلے، اپریل 2024 میں امریکی صدر جو بائیڈن اور جاپانی وزیراعظم فومیو کشیدا نے واشنگٹن میں ملاقات کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز کیا تھا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ علاقے میں طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتا ہے۔ چین پہلے ہی امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کرتا رہا ہے۔ اس نئے فیصلے سے علاقائی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔عالمی برادری اب اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہے کہ چین اس صورتحال پر کیا ردعمل دے گا۔ کچھ تجزیہ کار خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ اس سے علاقے میں ایک نئی مسابقت تسلیحات کا آغاز ہو سکتا ہے۔
    اگرچہ امریکہ اور جاپان کا کہنا ہے کہ ان کے اقدامات دفاعی نوعیت کے ہیں، لیکن یہ واضح ہے کہ مشرقی ایشیا میں فوجی صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس علاقے میں مزید اہم گھٹنا ؤں کی توقع کی جا سکتی ہے۔

  • پاکستانی گوشت کی برآمدات میں تاریخی اضافہ: مالی سال 2024 میں 20 فیصد  بہتر کارکردگی

    پاکستانی گوشت کی برآمدات میں تاریخی اضافہ: مالی سال 2024 میں 20 فیصد بہتر کارکردگی

    پاکستان کی گوشت کی صنعت نے مالی سال 2024 کے دوران شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جس کے نتیجے میں گوشت اور اس کی مصنوعات کی برآمدات نے نئی بلندیوں کو چھو لیا۔ مالی سال 2024 میں گوشت کی برآمدات 51 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئیں، جو پچھلے سال کے 42 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں 20 فیصد زیادہ ہیں۔برآمدات کے حجم میں بھی 24 فیصد کا اضافہ ہوا اور یہ 99 ہزار 892 ٹن سے بڑھ کر ایک لاکھ 23 ہزار 515 ٹن تک پہنچ گیا۔ عالمی منڈی میں گوشت کی بڑھتی ہوئی طلب اور روپے کی قدر میں کمی نے پاکستانی گوشت کی مسابقتی قیمتوں میں اضافہ کیا۔
    رپورٹ کے مطابق، گوشت کی برآمدات میں مجموعی نمو کے باوجود، عالمی منڈی میں گوشت کی اوسط قیمت 4.3 ڈالر فی کلوگرام سے کم ہو کر 4.1 ڈالر فی کلوگرام پر آ گئی۔ متحدہ عرب امارات، جو پاکستانی گوشت کی سب سے بڑی منڈی ہے، نے برآمدات کی مجموعی قدر کا 39 فیصد حصہ بنایا، جس کی مالیت 20 کروڑ ڈالر رہی۔ تاہم، متحدہ عرب امارات میں برآمدات بالحاظ قدر 2 فیصد کم ہوئیں، جبکہ دیگر منڈیوں میں قیمتیں مستحکم رہیں۔سعودی عرب پاکستانی گوشت کی دوسری بڑی منڈی بن کر ابھرا، جہاں برآمدات میں سالانہ بنیاد پر 66 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔ مالی سال 2024 کے دوران سعودی عرب کو برآمدات 14 کروڑ 20 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئیں۔
    کویت اور قطر نے پاکستانی گوشت کی برآمدی منڈی کا 17 فیصد حصہ بنایا، تاہم ان دونوں ممالک میں برآمدات کی مالیت میں کمی دیکھی گئی۔ کویت کی برآمدات 13 فیصد کم ہو کر 4 کروڑ 90 لاکھ ڈالر اور قطر کی برآمدات 2 فیصد کم ہو کر 3 کروڑ 80 لاکھ ڈالر رہ گئیں۔گوشت کی برآمدات میں اضافے کے باوجود، حکومت کو درپیش چیلنجز میں نچلے طبقے پر ٹیکس کا بوجھ نہ ڈالنے کی کوششیں شامل ہیں۔ اس حوالے سے وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ کوشش ہے کہ نچلے طبقے پر ٹیکس کا بوجھ نہ ڈالا جائے۔پاکستانی گوشت کی صنعت نے مالی سال 2024 میں عالمی منڈی میں اپنی موجودگی مضبوط کرتے ہوئے نمایاں کامیابی حاصل کی ہے، جو ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔