Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • سنگجانی میں قیدیوں کی وینز پر حملہ؛ پی ٹی آئی رہنما ارباب عاصم نے حکومتی سازش قرار دے دیا

    سنگجانی میں قیدیوں کی وینز پر حملہ؛ پی ٹی آئی رہنما ارباب عاصم نے حکومتی سازش قرار دے دیا

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما ارباب عاصم نے سنگجانی میں قیدیوں کی وینز پر حملے کو حکومتی سازش قرار دے دیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہ واقعہ پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف مزید جعلی مقدمات قائم کرنے کی ایک منظم کوشش ہے۔ارباب عاصم نے اپنے بیان میں کہا کہ سنگجانی میں قیدیوں کی وینز پر فائرنگ کا دعویٰ محض حکومت کی طرف سے ایک سازش ہے اور حقیقت میں پی ٹی آئی کے ایم پی ایز اور کارکنوں نے کوئی حملہ نہیں کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے کارکنوں سے رابطہ کیا ہے اور ان کے مطابق کسی قسم کی فائرنگ نہیں ہوئی۔پی ٹی آئی رہنما نے یہ بھی بتایا کہ قیدیوں کی وین میں معاون خصوصی ملک لیاقت بھی موجود تھے۔ ارباب عاصم کے مطابق، یہ تمام کوششیں محض پی ٹی آئی کے رہنماؤں کو بدنام کرنے اور ان کے خلاف جعلی مقدمات قائم کرنے کے لیے کی جارہی ہیں۔
    دوسری جانب، اسلام آباد پولیس نے اس واقعے کے بعد چند حملہ آوروں کو گرفتار کرلیا ہے۔ آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی نے ایک بیان میں نجی ٹی وی کو بتایا کہ واقعے کے بعد چار حملہ آوروں کو گرفتار کیا گیا، جبکہ 18 سے 20 افراد نے حملہ کیا تھا۔ ان میں ایک ایم پی اے کا بیٹا اور پولیس اہلکار بھی شامل تھے۔پولیس کے مطابق، اس واقعے کے وقت قیدیوں کی تین وینز میں 82 ملزمان کو عدالت میں پیشی کے بعد واپس اٹک جیل منتقل کیا جا رہا تھا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ حملہ آوروں نے ٹول پلازہ کے قریب قیدیوں کی وینز پر حملہ کیا اور کچھ ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ تاہم، بعد میں فرار ہونے والے تمام قیدیوں کو دوبارہ گرفتار کر کے اسلام آباد منتقل کر دیا گیا۔یہ واقعہ اسلام آباد میں موجود سیاسی ماحول میں کشیدگی کی ایک اور مثال ہے۔ پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے بارہا حکومت پر الزامات لگائے ہیں کہ وہ ان کے خلاف جھوٹے مقدمات بناتے ہوئے ان کی جماعت کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

  • سری لنکن اے کی پاکستان شاہینز کو شکست، فائنل میں رسائی

    سری لنکن اے کی پاکستان شاہینز کو شکست، فائنل میں رسائی

    ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) ایمرجنگ ٹیمز ٹی20 ایشیا کپ کے پہلے سیمی فائنل میں سری لنکا اے نے پاکستان شاہینز کو 7 وکٹوں سے شکست دے کر فائنل میں جگہ بنا لی ہے۔ عمان کے العامرات کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلے گئے اس میچ میں سری لنکن ٹیم کی بہترین بیٹنگ کارکردگی نے پاکستان کی بولنگ کو چیلنجنگ ہدف حاصل کرنے سے روک دیا۔پاکستان شاہینز نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 135 رنز بنائے۔ اوپنر عمیر بن یوسف نے بہترین بیٹنگ کرتے ہوئے 48 گیندوں پر 68 رنز کی اننگز کھیلی، جس میں ان کی 6 چوکے اور 3 چھکے شامل تھے۔ عمیر کے علاوہ کوئی اور بلے باز سری لنکن بولنگ لائن کا مقابلہ نہیں کرسکا۔ حیدر علی نے 14، محمد عمران نے 13 اور عرفات منہاس نے 10 رنز بنائے، مگر کسی بھی کھلاڑی نے دوہرا ہندسہ عبور نہیں کیا۔ سری لنکن گیند بازوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستانی بیٹنگ کو دباؤ میں رکھا۔
    136 رنز کے ہدف کے تعاقب میں سری لنکن اے ٹیم نے پراعتماد آغاز فراہم کیا اور مضبوط بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 17 اوورز میں ہدف حاصل کرلیا۔ سری لنکن بلے باز اہان وکرما سنگھے نے ناقابل شکست 52 رنز کی اننگز کھیلی جبکہ ان کے ساتھی لہیرو اوڈاارا نے 43 رنز بنائے۔ اس جوڑی کی بیٹنگ نے سری لنکن ٹیم کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ پاکستان شاہینز کے بولر سفیان مقیم اور عباس آفریدی نے ایک ایک وکٹ حاصل کی، مگر سری لنکا کی بیٹنگ لائن کے سامنے پاکستانی بولنگ لائن بے اثر ثابت ہوئی۔ایمرجنگ ٹیمز ٹی20 ایشیا کپ میں دوسرا سیمی فائنل آج شام 6 بجے افغانستان اور بھارت کے درمیان کھیلا جائے گا۔ یہ دیکھنا ہوگا کہ کونسی ٹیم سری لنکا اے کا فائنل میں مقابلہ کرے گی۔ اس بڑے مقابلے کا فائنل اتوار کو کھیلا جائے گا، جس میں ایشیا کپ کی فاتح ٹیم کا فیصلہ ہوگا۔

  • آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی عالمی سطح پر خدمات کی پذیرائی

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی عالمی سطح پر خدمات کی پذیرائی

    پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی عالمی سطح پر پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور قیادت کا اعتراف کیا جانے لگا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے معروف جریدے "یونی پاتھ” نے اپنے حالیہ شمارے میں انہیں انتہا پسندی کے خلاف ایک مضبوط اور مؤثر آواز قرار دیا ہے۔ یہ مضمون جنرل عاصم منیر کی فوجی قیادت، انسداد دہشتگردی کی کامیاب کارروائیوں اور پاکستان کی معاشی و سماجی ترقی کے لیے کیے گئے اقدامات کا احاطہ کرتا ہے، جو کہ عالمی سطح پر پاکستان کی کامیابیوں کو نمایاں کرنے کا اہم موقع ہے۔

    جنرل عاصم منیر: انتہا پسندوں کے خلاف ایک مضبوط آواز
    یونی پاتھ نے اپنے مضمون میں جنرل سید عاصم منیر کو "انتہا پسندوں کے خلاف ایک مضبوط آواز” قرار دیا ہے۔ یہ تعریف جنرل عاصم منیر کے مؤثر اور مستعد قیادت پر مرکوز ہے، جو انہوں نے نومبر 2022 میں بطور آرمی چیف پاکستان کی فوج کی کمان سنبھالنے کے بعد دکھائی۔ مضمون میں اس بات پر زور دیا گیا کہ جنرل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن کیے، جن میں 22,409 انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیاں شامل تھیں، جن کے نتیجے میں 398 دہشت گردوں کا خاتمہ کیا گیا۔ ان آپریشنز نے نہ صرف ملک کی سلامتی کو مستحکم کیا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سنجیدگی اور عزم کو بھی اجاگر کیا۔
    unipath
    انسداد دہشت گردی میں کلیدی کردار
    یونی پاتھ نے آرمی چیف کی قیادت میں پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کی بھرپور تعریف کی ہے۔ جنرل عاصم منیر کے دور میں دہشت گردوں کے خلاف جو آپریشنز ہوئے، ان کا مقصد شدت پسند گروہوں کی جڑیں کاٹنا اور ملک میں استحکام کو فروغ دینا تھا۔ مضمون میں اس بات پر زور دیا گیا کہ جنرل سید عاصم منیر نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں واضح پیغام دیا کہ "دہشت گردوں کو ریاست کی رٹ کے سامنے جھکنا ہوگا۔” ان کا یہ عزم واضح کرتا ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کو تباہ کرنے اور ملک کے عوام کی حفاظت کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔

    ففتھ جنریشن وارفیئر سے نمٹنے کی تیاری
    جنرل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کی فوج نے روایتی جنگ کے علاوہ ففتھ جنریشن وارفیئر جیسے نئے چیلنجز کا بھی سامنا کیا۔ یونی پاتھ جریدے نے جنرل عاصم منیر کی اس معاملے میں شعور اور تیاری کی تعریف کی ہے۔ مضمون کے مطابق، آرمی چیف نے ففتھ جنریشن وارفیئر کی پیچیدگیوں کو تسلیم کرتے ہوئے فوج کی جدید تربیت اور تیاری پر زور دیا ہے، تاکہ پاکستان کی خودمختاری اور دفاع کے لیے ہر قسم کے خطرات سے نمٹا جا سکے۔

    ایران کے میزائل حملوں کا جواب اور فوجی کامیابیاں
    یونی پاتھ جریدے نے پاکستان کی فوج کی حالیہ کارروائیوں کو بھی اجاگر کیا، خاص طور پر ایران کی طرف سے میزائل حملوں کے بعد کی گئی جوابی کارروائیوں کا ذکر کیا گیا۔ جنرل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے ایران میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر اپنی دفاعی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ اس کامیابی نے نہ صرف پاکستان کی فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو دنیا کے سامنے پیش کیا بلکہ خطے میں پاکستان کے مضبوط اور موثر دفاعی کردار کو بھی اجاگر کیا۔

    معیشت کی ترقی اور خصوصی اقدامات
    یونی پاتھ نے آرمی چیف کے اقتصادی ترقی کے اقدامات کی بھی تعریف کی ہے۔ جنرل عاصم منیر نے ملک میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل اور گرین پاکستان انیشیٹو جیسے منصوبوں کی حمایت کی ہے۔ ان اقدامات کا مقصد نہ صرف ملک کی معیشت کو مستحکم کرنا ہے بلکہ نئے روزگار کے مواقع پیدا کر کے عوام کی فلاح و بہبود کو بھی یقینی بنانا ہے۔

    اقلیتوں کا تحفظ اور مذہبی ہم آہنگی
    آرمی چیف کی سماجی اصلاحات کی کاوشوں کو بھی یونی پاتھ جریدے میں سراہا گیا۔ جنرل سید عاصم منیر نے پاکستان میں اقلیتوں کے تحفظ اور مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں۔ جریدے کے مطابق، آرمی چیف نے عدم برداشت کی ہر قسم کی کارروائیوں کی سخت مذمت کی ہے اور مذہبی ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان کے اس مؤقف کو بین الاقوامی سطح پر بھی تسلیم کیا جا رہا ہے اور اس سے پاکستان کا بین الاقوامی امیج بہتر ہوا ہے۔

    عالمی فوجی تعلقات اور ملٹری ڈپلومیسی
    جنرل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کی فوج نے نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اپنی سفارتی اور فوجی تعلقات کو مضبوط کیا ہے۔ جریدے نے امریکہ سمیت دیگر ممالک کے ساتھ پاکستان کے فوجی تعاون کو سراہا ہے۔ آرمی چیف کے دور میں کئی مشترکہ فوجی مشقیں ہوئیں، جن کا مقصد بین الاقوامی فوجی روابط کو مزید فروغ دینا تھا۔ ان مشقوں میں پاکستان کی فعال شرکت نے ملک کی فوجی صلاحیتوں کو دنیا کے سامنے نمایاں کیا۔

    اندرونی چیلنجز سے نمٹنے کا وژن

    یونی پاتھ نے جنرل سید عاصم منیر کے مستقبل کے وژن پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ جریدے کے مطابق، آرمی چیف کا مقصد اندرونی چیلنجز کا سامنا کرنا اور ملک کی مسلح افواج اور عوام کے درمیان پیشہ ورانہ مہارت اور اتحاد کو فروغ دینا ہے۔ اس وژن کے تحت جنرل عاصم منیر ملک میں معاشرتی اور اقتصادی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہیں اور فوج کے کردار کو قومی تعمیر میں مزید فعال بنانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔

    دفاعی ماہرین کی آراء
    دفاعی ماہرین نے یونی پاتھ جریدے میں شائع ہونے والے مضمون کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق، کسی بھی ملک کے آرمی چیف کے بارے میں لکھا جانے والا یہ مضمون ایک غیر معمولی اعزاز ہے، اور اس میں بیان کردہ حقائق حقیقت پر مبنی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جنرل سید عاصم منیر نے اپنی قائدانہ صلاحیتوں، دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائیوں، اور ملک کی معاشی و سماجی ترقی کے لیے کیے گئے اقدامات کے ذریعے پاکستان کی عالمی سطح پر مثبت تصویر پیش کی ہے۔

    یونی پاتھ: ایک پیشہ ور فوجی جریدہ
    یونی پاتھ جریدہ امریکی سینٹرل کمانڈ کے زیرِ نگرانی شائع کیا جاتا ہے اور اسے مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا میں فوجی اہلکاروں کے لیے ایک اہم فورم کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ جریدے میں شائع ہونے والے مضامین خالصتاً فوجی نوعیت کے ہوتے ہیں اور انہیں عالمی سطح پر انتہائی اہمیت دی جاتی ہے۔
    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی عالمی سطح پر پیشہ ورانہ خدمات کی پذیرائی پاکستان کے لیے ایک اعزاز ہے۔ یونی پاتھ جیسے اہم جریدے میں ان کی قیادت اور صلاحیتوں کا اعتراف ملک کی فوجی و سماجی کامیابیوں کا عالمی سطح پر اظہار ہے۔ جنرل عاصم منیر نے اپنی قائدانہ صلاحیتوں سے نہ صرف ملکی استحکام اور سلامتی کو یقینی بنایا ہے بلکہ دنیا کے سامنے ایک مضبوط اور محفوظ پاکستان کا تصور بھی پیش کیا ہے۔

  • اسرائیلی جنگی جرائم کی تحقیقات: پراسیکیوٹر کریم خان کو کردار کشی کا سامنا

    اسرائیلی جنگی جرائم کی تحقیقات: پراسیکیوٹر کریم خان کو کردار کشی کا سامنا

    بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کے پراسیکیوٹر کریم خان پر حالیہ دنوں میں شدید الزامات عائد کیے گئے ہیں، جن کا تعلق ان کی اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کے خلاف جنگی جرائم کی تحقیقات سے ہے۔ کریم خان نے چند ماہ قبل نیتن یاہو اور دیگر اسرائیلی اعلیٰ حکام کے خلاف فلسطینیوں کی نسل کشی اور جنگی جرائم میں ملوث ہونے پر وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی درخواست دی تھی۔اس درخواست کے بعد سے کریم خان کے خلاف مختلف الزامات سامنے آئے ہیں، جن میں ان پر بدانتظامی اور ہراسانی کے الزامات شامل ہیں۔ اگرچہ ان الزامات کی نوعیت واضح نہیں ہے، لیکن ان کا وقت اور طریقہ کار نے بین الاقوامی سطح پر خدشات پیدا کر دیے ہیں کہ یہ الزامات دراصل ICC کی جاری تحقیقات کو روکنے اور اس کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی ایک منظم کوشش کا حصہ ہو سکتے ہیں۔
    کریم خان نے اپنے اوپر عائد تمام الزامات کی سختی سے تردید کی ہے اور واضح کیا ہے کہ ان کی تین دہائیوں کی عالمی خدمات کے دوران ان پر کبھی بھی اس قسم کے الزامات نہیں لگائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ICC کی آزاد تفتیشی کمیٹی کے ساتھ ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہیں اور ان کا عزم ہے کہ وہ انصاف کے لیے اپنی کوششوں کو جاری رکھیں گے۔ان الزامات کے باوجود، کریم خان کی زیر قیادت ICC کے جج نیتن یاہو اور دیگر اسرائیلی حکام کے خلاف جنگی جرائم کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں۔ نیتن یاہو کی گرفتاری کی درخواست کے بارے میں فیصلہ آنے والا ہے، اور دنیا بھر میں انسانی حقوق کے کارکن اس کیس پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔یہ صورت حال بین الاقوامی انصاف اور انسانی حقوق کی تحریکوں کے لیے ایک بڑی آزمائش بن گئی ہے۔ بہت سے لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کہ آیا ICC اپنی خود مختاری کو برقرار رکھتے ہوئے ان طاقتور عالمی رہنماؤں کے خلاف کارروائی کرنے میں کامیاب ہو سکے گی یا نہیں۔

  • قومی اسمبلی کا اجلاس کل منعقد ہوگا، اہم قانون سازی متوقع

    قومی اسمبلی کا اجلاس کل منعقد ہوگا، اہم قانون سازی متوقع

    اسلام آباد : قومی اسمبلی کا اجلاس کل بروز جمعہ صبح 11 بجے اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیرِ صدارت منعقد ہوگا، جس میں اہم قانون سازی اور توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیے جائیں گے۔ اجلاس میں ملک کے مختلف شعبوں سے متعلق متعدد اہم امور زیرِ بحث آئیں گے، جن میں بجلی کے بلوں میں زائد وصولیوں کا مسئلہ، پاکستان شہریت ترمیمی بل 2024، اور ملکی معیشت کی صورت حال پر رپورٹ پیش کی جائے گی۔اجلاس میں سب سے اہم ایجنڈا ڈسکوز کی جانب سے عوام سے بجلی کے بلوں میں زائد وصولیوں پر توجہ دلاؤ نوٹس ہوگا، جس میں اس سنگین مسئلے پر حکومتی وضاحت اور ممکنہ اقدامات پر بات کی جائے گی۔ یہ معاملہ عوام میں شدید غم و غصہ کا باعث بنا ہوا ہے، اور اسمبلی میں اس پر بھرپور بحث متوقع ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی پاکستان شہریت ترمیمی بل 2024 پیش کریں گے، جس کا مقصد شہریت سے متعلق قوانین میں ضروری ترامیم کرنا ہے۔
    یہ بل قومی سلامتی اور ملکی قوانین میں اہم تبدیلیاں لا سکتا ہے، جس کے اثرات مستقبل میں پاکستانی شہریت کے حوالے سے دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔اجلاس میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی سالانہ رپورٹ برائے مالی سال 2023-24 بھی پیش کی جائے گی۔ اس رپورٹ میں معیشت کے مختلف پہلوؤں، بینکنگ سیکٹر کی کارکردگی، اور مالی پالیسیوں کا جائزہ شامل ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ گورنر اسٹیٹ بینک کی جانب سے بھی سالانہ رپورٹ پیش کی جائے گی، جو ملکی معاشی صورتحال پر تفصیلی روشنی ڈالے گی۔ اجلاس میں ایک اور توجہ دلاؤ نوٹس بھی زیرِ غور آئے گا جو ماحول کے لیے مضر پلاسٹک کی بوتلوں کی غیر مناسب تلفی سے متعلق ہے۔ اس مسئلے کی جانب حکومت کی توجہ دلانے کے لیے اقدامات تجویز کیے جائیں گے تاکہ ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔یہ اجلاس ملکی مسائل پر اہم بحثوں اور قانون سازی کا موقع فراہم کرے گا، جہاں حکومتی ارکان کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کا کردار بھی کلیدی ہو گا۔

  • چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کے اعزاز میں عشائیہ

    چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کے اعزاز میں عشائیہ

    اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کے اعزاز میں سپریم کورٹ بار اور پاکستان بار کونسل کی جانب سے ایک عشائیے کا اہتمام کیا گیا۔ اس موقع پر نامزد چیف جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس نعیم افغان کے علاوہ جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس امین الدین خان، اور جسٹس عقیل عباسی بھی موجود تھے۔عشائیے میں جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس شاہد بلال، اور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے بھی شرکت کی۔ مزید برآں، اسلام آباد ہائی کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ کے دیگر ججز نے بھی اس تقریب میں اپنی موجودگی سے اسے شرف بخشا۔یہ عشائیہ قاضی فائز عیسیٰ کی خدمات کو سراہنے کے موقع پر منعقد کیا گیا، جس سے قانونی برادری کے درمیان خوشگوار ماحول پیدا ہوا۔

    بس ایک دن کیلئے برداشت کر لیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    سپریم کورٹ میں 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف ایک اور درخواست

    جسٹس منصور علی شاہ کا چیف جسٹس کو خط،مخصوص بنچ میں بیٹھنے سے معذرت

    رجسٹرار آفس کو آئینی بنچ کے حوالے سے پالیسی دے دی ہے،نامزد چیف جسٹس

    پی ٹی آئی کو جسٹس یحییٰ آفریدی کی تقرری پر نہیں، آئینی ترامیم پر تحفظات ہے: شعیب شاہین

    سپریم کورٹ،برطرف ملازمین بحالی کی درخواست آئینی بینچز کو بھیج دی گئی

    40 فیصد مقدمات آئینی بنچوں کو منتقل کئے جائیں گے

  • خواجہ آصف نے عمران خان کا فوجی عدالت میں  ٹرائل کا مطالبہ کر دیا

    خواجہ آصف نے عمران خان کا فوجی عدالت میں ٹرائل کا مطالبہ کر دیا

    اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کا ٹرائل فوجی عدالت میں ہونا چاہیے۔ ان کا یہ بیان نو مئی کے واقعات کے حوالے سے آیا ہے، جب پی ٹی آئی کے کارکنوں نے فوجی تنصیبات پر حملے کیے تھے۔خواجہ آصف نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "جو کچھ بھی نو مئی کو ہوا، اس کے حوالے سے ٹرائل میرے نزدیک فوجی عدالتوں میں ہونے چاہئیں، کیونکہ فوجی تنصیبات پر حملہ ہوا تھا۔ اگر ان کا کنیکشن اسٹیبلش ہوتا ہے، تو پھر ٹرائل اُدھر ہوگا۔” انہوں نے مزید کہا کہ اگر ان کے دور میں آرٹیکل چھ ان پر لگایا جا سکتا ہے تو عمران خان کے لیے فوجی ٹرائل کیوں نہیں ہوسکتا۔بشریٰ بی بی کی ضمانت پر رہائی کے بارے میں سوال کے جواب میں خواجہ آصف نے کہا کہ "اگر انہیں ضمانت ملی ہے تو یہ عدالتی فیصلہ ہے۔ مجھے اس پر تبصرہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔” انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وہ اس معاملے میں کوئی سیاسی مضمرات نہیں دیکھتے۔
    خواجہ آصف نے ملک میں قیاس آرائیوں کا ماحول ختم ہونے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ "حالات بے یقینی کی طرف سے یقینی صورت حال کی طرف جا رہے ہیں۔انہوں نے 26ویں آئینی ترمیم کے بارے میں بھی بات کی اور کہا کہ "جوڈیشل ایڈونچرازم کے دروازے بند ہوئے ہیں۔عمران خان کے حوالے سے امریکی کانگریس کے اراکین کے حکومت کو لکھے گئے خط پر خواجہ آصف نے کہا کہ "امریکی کانگریس پاکستان کے معاملات کا نوٹس لے لیتی ہے لیکن اسرائیل کے قتل عام کا نوٹس نہیں لیتی۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ "امریکہ اسرائیل کے جرائم کی سرپرستی کر رہا ہے۔وزیر دفاع نے کشمیر کے معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ "ہم نے کشمیر کے لیے جنگیں لڑی ہیں، اور اگر ضرورت پیش آئے تو ہمیں دوبارہ جنگ لڑنی چاہیے۔” انہوں نے کہا کہ بھارت سے مذاکرات میں کشمیر ہمیشہ سرفہرست ہوگا۔
    نواز شریف کے جمعہ کو لندن روانگی کے سوال پر خواجہ آصف نے کہا کہ "نواز شریف کے دوست کی اہلیہ اس دنیا سے رخصت ہوئی ہیں، وہ اس کی تعزیت کے لیے بیرون ملک جا رہے ہیں۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ "نواز شریف چند دنوں میں واپس آ جائیں گے۔”خواجہ آصف کا یہ بیان پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال اور پارٹی کے اندرونی معاملات کے حوالے سے اہمیت رکھتا ہے۔ ان کے بیانات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کے ساتھ کشیدگی جاری ہے اور مسلم لیگ (ن) ملک میں استحکام کی کوششیں کر رہی ہے۔

  • پنجاب: میانوالی میں دہشت گردوں کے خلاف کامیاب آپریشن، 10 خوارجی ہلاک

    پنجاب: میانوالی میں دہشت گردوں کے خلاف کامیاب آپریشن، 10 خوارجی ہلاک

    پنجاب کے شہر میانوالی میں پولیس نے ایک کامیاب آپریشن کے دوران 10 خوارجی دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔ یہ کارروائی ملاخیل کے علاقہ مکڑوال میں کی گئی، جہاں خفیہ اطلاعات پر 10 سے 15 دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی۔پنجاب پولیس کے ترجمان کے مطابق، یہ آپریشن ڈی پی او میانوالی کی قیادت میں کیا گیا، جس میں پولیس اور ایلیٹ فورس کی بھاری نفری نے حصہ لیا۔ آپریشن کے دوران پولیس اور دہشت گردوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ پولیس کی جوابی کارروائی میں 10 خوارجی دہشت گرد مارے گئے، جبکہ آپریشن کے دوران پولیس کے تمام افسران اور جوان محفوظ رہے۔
    پنجاب کے آئی جی، نے اس کامیابی پر ڈی پی او میانوالی اور ان کی ٹیم کی تعریف کی اور کہا کہ پنجاب پولیس ہر وقت الرٹ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ہم دہشت گردوں کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا کر دم لیں گے۔ڈی پی او میانوالی نے بھی اس موقع پر کہا کہ "ہماری پولیس امن دشمن عناصر کا اسی طرح جواں مردی سے مقابلہ کرتی رہے گی۔” ان کا یہ بیان اس عزم کا اظہار کرتا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کے خلاف اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔یہ آپریشن اس وقت ہوا جب ملک میں دہشت گردی کی کارروائیوں کی روک تھام کے لیے پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے اپنی کوششیں بڑھا دی ہیں، اور ان کی کوششوں کے نتیجے میں عوامی تحفظ کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

  • اسلام آباد:   بی این پی کے سابق ایم پی اے اختر نواز لانگو  گرفتار

    اسلام آباد: بی این پی کے سابق ایم پی اے اختر نواز لانگو گرفتار

    اسلام آباد: بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے سابق رکن صوبائی اسمبلی (ایم پی اے) اختر نواز لانگو کو اسلام آباد پولیس نے انسداد دہشتگردی کے مقدمے میں گرفتار کر لیا ہے۔ یہ کارروائی تھانہ سیکریٹریٹ کی پولیس ٹیم نے کی، جو بی این پی کے سیکریٹری خزانہ بھی ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق، بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل اور پارٹی کے دیگر رہنماؤں کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ جوائنٹ سیکریٹری سینیٹ جمیل احمد کی مدعیت میں یہ مقدمہ درج کیا گیا ہے، جس میں دہشتگردی کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔مقدمے کی ایف آئی آر کے متن میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ اختر مینگل اور دیگر پانچ افراد نے مسلح ہو کر سینیٹ ہال میں زبردستی گھسنے کی کوشش کی۔ ملزمان نے سیکیورٹی اسٹاف کو دھکے دیتے ہوئے ہال میں داخل ہونے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں سینیٹ ہال میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

    یہ واقعہ سینیٹ کی کاروائی کے دوران پیش آیا، جب بی این پی کے رہنماؤں نے سینیٹ ہال میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ اس کارروائی نے نہ صرف سینیٹ کی سیکیورٹی کی نگرانی کرنے والوں کے لئے مشکلات پیدا کیں، بلکہ اس واقعے نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی توجہ بھی اپنی جانب مبذول کی۔اختر نواز لانگو کی گرفتاری سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کے خلاف احتجاجی سرگرمیاں جاری ہیں اور ایسے واقعات کے ذریعے سیاسی ماحول میں کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس سلسلے میں مزید قانونی کارروائیاں متوقع ہیں، اور بی این پی کے رہنماؤں نے اس کارروائی پر شدید تنقید کی ہے۔ بلوچستان نیشنل پارٹی ہمیشہ سے صوبے کے حقوق اور مسائل کے حل کے لئے سرگرم رہی ہے، اور اس واقعے نے پارٹی کے حامیوں میں تشویش پیدا کی ہے۔ ان کی گرفتاری کے بعد، بی این پی کے دیگر رہنماؤں نے حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ سیاسی طور پر انتقام لے رہی ہے۔مزید اطلاعات کے لئے بی این پی کے رہنماؤں کی جانب سے کسی بھی رسمی بیان کا انتظار کیا جا رہا ہے، جب کہ عدالت کے سامنے پیشی کے دوران قانونی پہلوؤں پر بھی گفتگو متوقع ہے۔

  • وزیراعظم سے نئے کمیونٹی و لیبر ویلیفئر اتاشیوں کی ملاقات

    وزیراعظم سے نئے کمیونٹی و لیبر ویلیفئر اتاشیوں کی ملاقات

    اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بیرون ملک پاکستانی مشنز میں نئے تعینات ہونے والے کمیونٹی و لیبر ویلیفئر اتاشیوں سے ملاقات کی، جہاں انہوں نے ان کی ذمہ داریوں اور پاکستان کے مفادات کے تحفظ پر زور دیا۔وزیراعظم نے گفتگو کے دوران کہا کہ "مجھے اطمینان ہے کہ آپ لوگوں کا تقرر ایک انتہائی شفاف عمل کے ذریعے ہوا ہے۔” انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی کمیونٹی کی فلاح و بہبود اتاشیوں کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ شہباز شریف نے مزید کہا کہ "سمندر پار پاکستانی ہمارا اثاثہ ہیں جن کی بدولت اربوں ڈالرز کا قیمتی زرمبادلہ پاکستان پہنچتا ہے۔” انہوں نے نوتعینات افسران کو ہدایت کی کہ وہ پاکستان کے مفادات کو ہمیشہ ملحوظ خاطر رکھیں اور بیرون ملک پاکستان کا تشخص اجاگر کرنے کے لیے بھرپور کوشش کریں۔
    وزیراعظم نے افسران کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پاکستان میں کاروبار اور سرمایہ کاری لانے کے حوالے سے بھی مواقع تلاش کرنے چاہیے۔ ملاقات کے دوران نوتعینات افسران نے وزیراعظم کو اپنے متعلقہ سٹیشنز کے حوالے سے اپنے لائحہ عمل سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی، وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر رانا احسان افضل اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران بھی موجود تھے۔یہ ملاقات پاکستانی مشنز کے اندرونی امور کو بہتر بنانے اور سمندر پار پاکستانیوں کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ وزیراعظم کے اس عزم سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ سمندر پار پاکستانیوں کی خدمات کو تسلیم کرتے ہیں اور ان کی مدد کے لیے بھرپور اقدامات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔