محکمہ تعلیم پنجاب نے محکمہ ماحولیات کے احکامات کی تعمیل کرتے ہوئے اسکولوں کے اوقات کار میں تبدیلی کا نوٹیفیکیشن جاری کردیا ہے۔ یہ فیصلہ لاہور میں ایئر کوالٹی انڈیکس کی بلند سطح، جو کہ 150 تک پہنچ چکی ہے، کے پیش نظر کیا گیا ہے۔محکمہ تحفظ ماحول پنجاب نے فضائی آلودگی میں اضافے کے باعث اہم اقدامات کی ہدایات جاری کی ہیں۔ ان ہدایات کے مطابق، لاہور میں 28 اکتوبر سے 31 جنوری تک اسکولوں کے اوقات صبح 8:45 بجے سے پہلے شروع نہیں کیے جائیں گے۔ اسکولوں میں اسمبلی اور کلاس رومز کی سرگرمیاں اندرون عمارت کروائی جائیں گی، جبکہ آؤٹ ڈور سرگرمیوں کو معطل کیا جائے گا۔محکمہ تعلیم کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفیکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ تمام سرکاری اور نجی اسکولوں کے کھلنے کا وقت صبح 8:45 بجے سے پہلے نہیں ہوگا۔ یہ اوقات کار کی تبدیلی 28 اکتوبر سے 31 جنوری تک نافذ رہے گی، جس کا مقصد طلباء کی صحت اور حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔
محکمہ تحفظ ماحول پنجاب نے عوام کو اسموگ سے بچنے کے لیے حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ عوام کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ لازمی طور پر ماسک کا استعمال کریں، گھروں کی کھڑکیاں اور دروازے بند رکھیں، اور زیادہ دیر کھلی جگہوں پر نہ رہیں۔اس کے علاوہ، 31 جنوری 2025 تک لاہور میں ہر قسم کی آتشبازی پر پابندی بھی عائد کردی گئی ہے۔ مریم اورنگزیب، وفاقی وزیر برائے اطلاعات، نے کہا ہے کہ یہ حفاظتی اقدامات شہریوں کو اسموگ کے منفی اثرات سے بچانے کے لیے کیے گئے ہیں۔یہ اقدامات اسموگ کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر کیے گئے ہیں، جو کہ صحت کے لیے مضر ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس صورتحال میں، حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کو عوامی صحت کی بہتری کی جانب ایک مثبت قدم سمجھا جا رہا ہے۔
Author: صدف ابرار

محکمہ تعلیم پنجاب کا اسکولوں کے اوقات کار میں تبدیلی کا نوٹیفیکیشن

سرفراز بگٹی کا بلدیاتی اداروں کے ترقیاتی فنڈز میں 100 فیصد اضافہ کرنے کا اعلان
کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے بلدیاتی اداروں کے ترقیاتی فنڈز میں 100 فیصد اضافہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان انہوں نے بلوچستان کے بلدیاتی اداروں کے سربراہوں کے ساتھ ایک اہم ملاقات میں کیا، جہاں انہوں نے صوبے میں ترقیاتی سرگرمیوں کو تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔وزیراعلیٰ نے اس موقع پر کہا کہ یہ فنڈز کی فراہمی کارکردگی کی بنیاد پر ہوگی، جس کا مقصد بلدیاتی اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صرف وہی ادارے ترقیاتی فنڈز حاصل کر سکیں گے جو اپنے کاموں میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے۔
اس کے ساتھ ہی سرفراز بگٹی نے وسائل کے بےدریغ استعمال اور بدعنوانی کے معاملات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر ایک مؤثر میکنزم تیار کرنے کا حکم دیا تاکہ صوبے میں ترقیاتی فنڈز کا صحیح استعمال یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے پیسوں کا غلط استعمال کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔اس اعلان کے بعد، بلدیاتی اداروں کو توقع ہے کہ اس اضافے سے ترقیاتی منصوبے تیزی سے مکمل ہوں گے، جس کا براہ راست فائدہ مقامی آبادی کو پہنچے گا۔ وزیراعلیٰ نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ صوبے کی ترقی کے لیے وہ ہر ممکن اقدام اٹھائیں گے۔ یہ اقدام بلوچستان میں ترقیاتی کاموں کو فروغ دینے اور عوامی سہولیات میں بہتری لانے کی سمت میں ایک اہم قدم ہے۔
سینیٹر فیصل واوڈا کی اسٹیٹ بینک سے صارفین کے مسائل حل کرنے کا مطالبہ
اسلام آباد: سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں سینیٹر فیصل واوڈا نے بینکوں کے خلاف شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ "بینک صارفین کو شدید مشکلات سے دوچار کرتے ہیں اور میرے ذاتی تجربے میں بھی یہ واضح ہوا کہ بینک کتنی مشکلات پیدا کرتے ہیں۔اجلاس میں سینیٹر واوڈا نے مزید کہا کہ اسٹیٹ بینک ماضی میں بھی اپنا کردار مؤثر طریقے سے ادا نہیں کر پایا اور بینکنگ سیکٹر میں موجود مسائل کو نظرانداز کیا جاتا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بینکوں کے ناروا سلوک کی وجہ سے صارفین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اسٹیٹ بینک کو فوری طور پر صارفین کے مسائل حل کرنے کی ضرورت ہے۔
اجلاس کے دوران سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے بھی بینکنگ سیکٹر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "بینکوں سے متعلق متعدد شکایات موصول ہو رہی ہیں، لیکن ان شکایات کو حل کرنے کے لیے کوئی مؤثر فورم موجود نہیں ہے۔” انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کو ان معاملات میں مداخلت کرنی چاہیے اور شکایات کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔سینیٹر مانڈوی والا نے مزید کہا کہ مرکزی بینک کا یہ کہنا کافی نہیں کہ "عدالت چلے جائیں”، بلکہ اسے صارفین کے مسائل حل کرنے کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔ انہوں نے اسٹیٹ بینک سے مطالبہ کیا کہ وہ صارفین کی شکایات کے حل کے لیے مزید اقدامات کرے۔قائمہ کمیٹی خزانہ نے اسٹیٹ بینک کو 4 ہفتوں میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے جس میں بینکوں کے خلاف موصول ہونے والی شکایات اور ان کے حل کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا تفصیلی جائزہ شامل ہوگا۔ اس اقدام کا مقصد بینکنگ سیکٹر میں شفافیت لانا اور صارفین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔
جسٹس یحییٰ آفریدی: عدالتی کیریئر اور اہم فیصلوں پر ایک نظر
پاکستان کے عدالتی نظام میں ایک اہم تبدیلی کا وقت قریب آ رہا ہے، جب جسٹس یحییٰ آفریدی کو چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے پر نامزد کیا گیا ہے۔ خصوصی پارلیمانی کمیٹی نے ان کی تقرری کی سفارش کی ہے، جس کے بعد عدالتی اور قانونی حلقوں میں ان کے نام پر بحث و مباحثہ جاری ہے۔ اس تقرری کو عدالتی نظام میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، اور عوام کو امید ہے کہ جسٹس آفریدی عدلیہ کی آزادی، آئینی بالادستی اور انصاف کی فراہمی کو مزید مستحکم کریں گے۔
جسٹس یحییٰ آفریدی 23 جنوری 1965 کو ڈیرہ غازی خان میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم ایچی سن کالج لاہور سے حاصل کی، جو پاکستان کا ایک نامور تعلیمی ادارہ ہے، اور بعد ازاں گورنمنٹ کالج لاہور سے گریجویشن مکمل کی۔ اس کے بعد، جسٹس آفریدی نے کیمبرج یونیورسٹی کے جیسس کالج سے ایل ایل ایم کی ڈگری حاصل کی، جہاں انہوں نے قانون کے مختلف پہلوؤں میں مہارت حاصل کی۔ تعلیمی میدان میں اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کے بعد، انہوں نے 1990 میں اپنی وکالت کا آغاز کیا اور جلد ہی اپنے قانونی کیریئر میں کامیابیوں کی بنیاد رکھی۔ 2004 میں، انہوں نے سپریم کورٹ آف پاکستان میں وکالت شروع کی، جہاں وہ نہایت اہم اور پیچیدہ قانونی معاملات میں پیش پیش رہے۔عدالتی سفر اور تقرریاں
جسٹس آفریدی کا عدالتی سفر 2010 میں شروع ہوا جب انہیں پشاور ہائی کورٹ کا ایڈیشنل جج مقرر کیا گیا۔ اپنے عزم، قانونی مہارت، اور غیرجانبدارانہ فیصلوں کی بدولت، 2012 میں انہیں مستقل جج کے عہدے پر فائز کیا گیا۔ اس دوران، وہ کئی اہم آئینی مقدمات کی سماعت میں شامل رہے، جن میں عوامی اور آئینی اہمیت کے معاملات بھی شامل تھے۔2016 میں، انہیں پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے عہدے پر ترقی دی گئی۔ اس دور میں انہوں نے عدالت کے انتظامی امور میں شفافیت، مقدمات کے جلد فیصلوں اور عدلیہ کی آزادی کو فروغ دینے کے لیے اقدامات کیے۔ ان کی سربراہی میں پشاور ہائی کورٹ نے کئی اہم آئینی اور قانونی مقدمات میں فیصلے سنائے۔پرویز مشرف آئین شکنی مقدمہ اور جسٹس آفریدی کا کردار
جسٹس یحییٰ آفریدی کے عدالتی کیریئر میں ایک اہم موڑ پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کا مقدمہ تھا، جس میں انہوں نے کچھ عرصے کے لیے خصوصی بینچ کی سربراہی کی۔ یہ مقدمہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک حساس اور متنازعہ باب رہا ہے، اور جسٹس آفریدی نے اس دوران اپنے اصولی موقف اور غیرجانبداری کا مظاہرہ کیا۔ تاہم، کچھ عرصے بعد انہوں نے ذاتی وجوہات کی بنا پر اس بینچ سے علیحدگی اختیار کر لی تھی، جس پر بھی قانونی و سیاسی حلقوں میں بحث جاری رہی۔سپریم کورٹ میں تقرری اور اہم فیصلے
2018 میں، جسٹس یحییٰ آفریدی کو سپریم کورٹ آف پاکستان کا جج مقرر کیا گیا، جہاں انہوں نے اہم اور پیچیدہ مقدمات کی سماعت کی۔ ان کے فیصلوں نے قانونی اور عوامی حلقوں میں کافی پذیرائی حاصل کی، کیونکہ وہ ہمیشہ آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے فیصلے کرتے ہیں۔ وہ سپریم کورٹ کے لارجر بینچ کا حصہ بھی رہے اور ذوالفقار علی بھٹو صدارتی ریفرنس پر فیصلے میں اختلافی نوٹ تحریر کیا تھا، جس نے ان کی قانونی بصیرت اور جرأت کو نمایاں کیا۔ ان کے اختلافی نوٹ کو عدالتی حلقوں میں ایک علمی بحث کا مرکز بنایا گیا اور اسے عدلیہ میں اختلاف رائے کی اہمیت کے طور پر دیکھا گیا۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس
سپریم کورٹ میں جسٹس آفریدی کے کیریئر میں ایک اور اہم مقدمہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس تھا۔ اس مقدمے میں جسٹس آفریدی نے قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست کو مسترد کر دیا تھا، جس پر بھی عدالتی حلقوں میں کافی بحث ہوئی۔ ان کے اس فیصلے کو آئین اور قانون کے مطابق سمجھا گیا اور اسے عدلیہ کی آزادی کے لیے ایک اہم اقدام کے طور پر دیکھا گیا۔مخصوص نشستوں کے فیصلے میں اختلاف
حال ہی میں، جسٹس یحییٰ آفریدی پاکستان تحریک انصاف کی مخصوص نشستوں کے حوالے سے بنچ میں شامل تھے، جہاں انہوں نے تحریک انصاف کو مخصوص نشستیں الاٹ کرنے کی مخالفت کی تھی۔ ان کا یہ اختلافی فیصلہ ان کے اصولی موقف اور آئین کی بالادستی کے حوالے سے ان کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔سینیارٹی اور تقرری کا معاملہ
جسٹس یحییٰ آفریدی اس وقت سپریم کورٹ میں سینیارٹی کے لحاظ سے تیسرے نمبر پر ہیں، اور ان کی بطور چیف جسٹس تقرری کی سفارش کو عدالتی اور قانونی حلقوں میں بڑی اہمیت دی جا رہی ہے۔ ان کی عدلیہ میں سینیارٹی اور ان کی تقرری کے عمل کو آئینی اور قانونی نقطہ نظر سے درست قرار دیا جا رہا ہے۔جسٹس یحییٰ آفریدی اس وقت 59 سال کے ہیں، اور اگر ان کی بطور چیف جسٹس تقرری منظور کر لی جاتی ہے تو انہیں تین برس قبل ہی ریٹائر ہونا پڑے گا۔ اس کی وجہ 26ویں آئینی ترمیم ہے، جس کے مطابق ملک کے چیف جسٹس کی تقرری تین سال کے لیے کی جاتی ہے، اور یہ مدت مکمل ہونے کے بعد انہیں ریٹائر سمجھا جائے گا، چاہے وہ 65 سال کی عمر کو نہ بھی پہنچے ہوں۔
آئینی اور قانونی اہمیت
جسٹس یحییٰ آفریدی کی بطور چیف جسٹس نامزدگی ایک اہم آئینی اور قانونی معاملہ ہے، جس پر قانونی ماہرین اور عدالتی حلقوں میں کافی بحث ہو رہی ہے۔ ان کی تقرری کو عدلیہ کی آزادی کے حوالے سے ایک مثبت اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، اور ان سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ آئین کی بالادستی اور انصاف کی فراہمی کے حوالے سے مزید کام کریں گے۔پاکستان کے عوام اور قانونی حلقے جسٹس یحییٰ آفریدی سے بہت سی امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہیں۔ عوام کو امید ہے کہ وہ عدالتی نظام میں اصلاحات لائیں گے، مقدمات کی جلد سماعت اور فیصلوں میں شفافیت کو یقینی بنائیں گے۔ ان کی بطور چیف جسٹس تقرری کا اثر ملک کے عدالتی نظام پر گہرا ہو سکتا ہے، کیونکہ وہ ہمیشہ سے آئین اور قانون کی پاسداری کرتے رہے ہیں اور عوامی مفاد کے مقدمات میں انصاف کی فراہمی کو مقدم رکھتے ہیں۔جسٹس یحییٰ آفریدی کی بطور چیف جسٹس پاکستان نامزدگی نہ صرف ان کے قانونی کیریئر کی ایک اہم پیشرفت ہے بلکہ ملک کے عدالتی نظام کے لیے بھی ایک نئی امید ہے۔ ان کی قانونی بصیرت، آئینی معاملات پر گہری نظر، اور انصاف کے لیے ان کے اصولی موقف سے امید کی جا رہی ہے کہ وہ چیف جسٹس کے عہدے پر فائز ہونے کے بعد عدلیہ کی آزادی، آئین کی بالادستی، اور عوام کو انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائیں گے۔ان کی تقرری کے بعد ملک کی عدلیہ کو نئے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا، اور جسٹس آفریدی کی قائدانہ صلاحیتوں سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ ان چیلنجز کا سامنا کرتے ہوئے عدلیہ کو مضبوط کریں گے اور عوام کا اعتماد بحال کریں گے۔

پشین: لیویز فورس کی کارروائی، فتنہ الخوارج کے 2 دہشتگرد ہلاک، 1 گرفتار
بلوچستان کے ضلع پشین کی تحصیل برشور توبہ میں لیویز فورس نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الخوارج کے دو دہشتگردوں کو ہلاک جبکہ ایک دہشتگرد کو گرفتار کرلیا۔ اس کارروائی میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے بروقت اور مؤثر اقدامات سے علاقے کو ایک بڑے دہشتگردی کے حملے سے محفوظ کر لیا گیا۔حکومت بلوچستان کے ترجمان کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب علاقے کے ایک بہادر مقامی چرواہے نے دہشتگردوں کو اپنے گاؤں میں داخل ہونے سے روکنے کی کوشش کی۔ چرواہے کی جرات مندی سے دہشتگردوں کو ٹکر ملی جس کے نتیجے میں مقامی لوگوں اور دہشتگردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ چرواہے اور مقامی افراد کی جانب سے دہشتگردوں کی روک تھام کی کوشش نے سکیورٹی فورسز کو فوری کارروائی کا موقع فراہم کیا۔لیویز فورس نے علاقے میں فوری کارروائی کرتے ہوئے دہشتگردوں کو گھیرے میں لے لیا۔ اس دوران شدید مقابلہ ہوا جس میں فتنہ الخوارج کے دو دہشتگرد موقع پر ہلاک ہوگئے جبکہ ایک کو گرفتار کرلیا گیا۔ گرفتار دہشتگرد سے اہم معلومات حاصل ہونے کی توقع ہے جس کی مدد سے مزید کارروائیاں کی جا سکیں گی۔
حکومت بلوچستان کے ترجمان نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز دہشتگردی کے خاتمے کے لئے پوری طرح پرعزم ہیں اور بے گناہ شہریوں کی حفاظت کے لئے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوام کی حمایت سے دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی اور کسی بھی دہشتگرد کو بلوچستان کے امن کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔اس کامیاب کارروائی کے بعد علاقے میں سکیورٹی مزید سخت کردی گئی ہے تاکہ کوئی بھی ممکنہ خطرہ روکا جا سکے۔ سکیورٹی فورسز علاقے میں مزید آپریشنز کر رہی ہیں تاکہ دہشتگردوں کے نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے اور عوام کو ایک محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔بلوچستان میں حالیہ کارروائیاں اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ سکیورٹی فورسز دہشتگردوں کے خلاف پوری طرح متحرک ہیں اور دہشتگردوں کے عزائم کو ناکام بنانے کے لئے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہیں۔
جسٹس یحییٰ آفریدی نئے چیف جسٹس آف پاکستان نامزد: خصوصی پارلیمانی کمیٹی نے دو تہائی اکثریت سے منظوری دے دی
خصوصی پارلیمانی کمیٹی نے سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس یحییٰ آفریدی کو دو تہائی اکثریت کے ساتھ نیا چیف جسٹس آف پاکستان نامزد کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد جسٹس یحییٰ آفریدی جلد ہی پاکستان کے 30ویں چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالیں گے۔ کمیٹی کا یہ فیصلہ سپریم کورٹ کی تاریخ میں ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کیونکہ اس تقرری کے ساتھ ملکی عدالتی نظام میں نئی قیادت آئے گی۔ذرائع کے مطابق، پارلیمانی کمیٹی میں اکثریتی ارکان نے جسٹس یحییٰ آفریدی کے نام پر اتفاق کیا۔ کمیٹی کے تمام ارکان نے دن بھر جاری رہنے والی مشاورت اور غور و خوض کے بعد جسٹس آفریدی کے نام کی منظوری دی۔ سپریم کورٹ کے تین سینئر ترین ججز میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، اور جسٹس یحییٰ آفریدی شامل تھے، لیکن آخر کار کمیٹی نے جسٹس آفریدی کے نام پر اتفاق کیا۔
پی ٹی آئی کا بائیکاٹ اور حکومتی ارکان کی منانے کی کوششیں
تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ارکان نے اس اہم اجلاس میں شرکت سے انکار کیا تھا۔ پی ٹی آئی کے اس بائیکاٹ کے باوجود اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اور وفاقی وزیر احسن اقبال نے پی ٹی آئی کے ارکان کو اجلاس میں شرکت کے لیے منانے کی بھرپور کوششیں کیں۔ تاہم، پی ٹی آئی کے بیرسٹر گوہر نے واضح الفاظ میں کہا کہ وہ اور ان کی جماعت کے دیگر ارکان اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔اس سے قبل بھی پی ٹی آئی کے اہم ارکان بشمول بیرسٹر گوہر، بیرسٹر علی ظفر، اور سنی اتحاد کونسل کے صاحبزادہ حامد رضا شام کے اجلاس میں شریک نہیں ہوئے تھے۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بھی کوشش کی تھی کہ پی ٹی آئی کے ارکان کو منایا جائے، لیکن ناکامی کے بعد حکومت نے فیصلہ کیا کہ آئینی طور پر کمیٹی پی ٹی آئی کے بغیر بھی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔کمیٹی اجلاس کی تفصیلات
خصوصی پارلیمانی کمیٹی کا یہ بند کمرہ اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس کے کمیٹی روم 5 میں جاری رہا۔ اگرچہ پی ٹی آئی اور سنی اتحاد کونسل کے بعض ارکان غیر حاضر رہے، لیکن ان کے لیے نشستیں مختص تھیں۔ اجلاس میں موجود تمام 12 ارکان کی نیم پلیٹس لگا دی گئی تھیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تمام ارکان کی شمولیت متوقع تھی۔اجلاس میں شریک نمایاں حکومتی ارکان میں راجہ پرویز اشرف، فاروق ایچ نائیک، کامران مرتضیٰ، رعنا انصار، احسن اقبال، شائشتہ پرویز ملک، اعظم نذیر تارڑ، اور خواجہ آصف شامل تھے۔ یہ اجلاس دوپہر کو شروع ہوا، لیکن کچھ ہی دیر بعد ساڑھے 8 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔سیکریٹری قانون کی جانب سے ججز کے نام پیش کیے گئے
ذرائع کے مطابق، سیکریٹری قانون کی جانب سے کمیٹی کو چیف جسٹس کی تقرری کے لیے سپریم کورٹ کے تین سینئر ترین ججز کے نام پیش کیے گئے۔ ان ججز میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، اور جسٹس یحییٰ آفریدی شامل تھے۔ یہ پینل کمیٹی کو سپریم کورٹ میں موجود ججز کی سنیارٹی کے مطابق بھیجا گیا تھا، جس کا مقصد میرٹ کی بنیاد پر نئے چیف جسٹس کی تقرری کرنا تھا۔کمیٹی نے ان ناموں پر تفصیلی غور و خوض کیا، اور ذرائع کا کہنا ہے کہ جسٹس یحییٰ آفریدی کے نام پر اکثریتی ارکان نے اتفاق کر لیا۔ کمیٹی کے اجلاس میں یہ توقع کی جا رہی تھی کہ آج ہی نئے چیف جسٹس کی تقرری کی منظوری دی جائے گی، اور اس سلسلے میں تمام رسمی کارروائیاں مکمل کر لی گئی تھیں۔
جسٹس یحییٰ آفریدی کا نام سامنے آنا ایک بڑی پیشرفت ہے کیونکہ وہ سپریم کورٹ کے ایک انتہائی تجربہ کار اور باصلاحیت جج ہیں۔ ان کی تعلیمی اور قانونی خدمات قابل تحسین ہیں اور وہ مختلف عدالتی معاملات میں اپنے فیصلوں کے باعث پہچانے جاتے ہیں۔ ان کا عدالتی کیریئر کئی دہائیوں پر محیط ہے اور وہ عدلیہ میں ایک معتدل اور متوازن شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔یہ تقرری پاکستان کی عدلیہ میں اہم تبدیلیوں کی غمازی کرتی ہے، خاص طور پر آئینی ترمیم کے تحت دو تہائی اکثریت کی شرط کے مطابق چیف جسٹس کی تقرری کی گئی ہے۔ آئینی ترمیم کے تحت، اگر تین سینئر ترین ججز میں سے کوئی ایک نامزدگی قبول نہیں کرتا تو حکومت کے پاس باقی دو ججز میں سے کسی ایک کو منتخب کرنے کا اختیار ہوتا ہے۔ اگر دونوں ججز بھی انکار کر دیں تو پھر چوتھے نمبر پر موجود جج کو چیف جسٹس نامزد کیا جا سکتا ہے۔ذرائع کے مطابق، جسٹس یحییٰ آفریدی کو دو تہائی اکثریت کے ساتھ نامزد کیا گیا ہے اور ان کے نام پر کمیٹی میں مکمل اتفاق رائے پایا گیا۔ اجلاس میں شریک ارکان نے کہا کہ اس فیصلے سے عدلیہ میں استحکام آئے گا اور عدالتی نظام کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔نئے چیف جسٹس کی تقرری کے بعد عدالتی نظام میں ایک نیا باب کھلنے جا رہا ہے۔ جسٹس یحییٰ آفریدی کی تقرری سے عدلیہ کو ایک تجربہ کار اور مضبوط قیادت میسر آئے گی جو ملک میں انصاف کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرے گی۔
آئی ایم ایف کی پاکستان میں مہنگائی اور بے روزگاری میں کمی کی پیش گوئی
اسلام آباد: عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے رواں مالی سال 2024-25 میں پاکستان میں مہنگائی اور بے روزگاری میں کمی کی پیش گوئی کی ہے۔ آئی ایم ایف کی جانب سے جاری کردہ ورلڈ اکنامک آؤٹ لک رپورٹ 2024 میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں مہنگائی کی اوسط شرح 9.5 فیصد رہنے کی توقع ہے، جو کہ گزشتہ سال کے 23 فیصد سے بہت کم ہے۔رپورٹ کے مطابق، مہنگائی کی سالانہ شرح 12 فیصد کے ہدف کے مقابلے میں 10.6 فیصد تک محدود رہنے کی توقع ہے، جس سے اقتصادی استحکام کی جانب ایک مثبت اشارہ ملتا ہے۔ آئی ایم ایف نے کہا کہ بے روزگاری کی شرح کم ہوکر 7.5 فیصد پر آنے کا امکان ہے، جس کا مطلب ہے کہ معیشت میں کچھ بہتری کی گنجائش ہے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ رواں مالی سال کے دوران پاکستان کی اقتصادی ترقی کی رفتار میں بتدریج تیزی متوقع ہے، جس کی شرح نمو 3.2 فیصد رہنے کا اندازہ ہے، جبکہ اگلے سال یہ 4 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ 2029 تک یہ شرح بتدریج 4.5 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے۔
ورلڈ اکنامک آؤٹ لک رپورٹ میں عالمی معیشت کے بارے میں بھی اشارے دیے گئے ہیں۔ 2024 میں عالمی معیشت کی ترقی کی شرح 3.2 فیصد رہنے کی توقع ہے، حالانکہ علاقائی تنازعات، سماجی تناؤ، اور موسمیاتی تبدیلی کے خطرات پیٹرولیم مصنوعات اور اجناس کی عالمی سپلائی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ آئی ایم ایف نے اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتایا کہ امریکا میں صدارتی انتخابات سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں عالمی معاشی پالیسیوں میں تبدیلی بھی متوقع ہے۔یہ رپورٹ اس وقت جاری کی گئی ہے جب پاکستان کو مالی استحکام کے چیلنجز کا سامنا ہے اور حکومت کو بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے مزید تعاون کی ضرورت ہے۔ ایسی صورت میں، آئی ایم ایف کی پیش گوئیاں ملکی معیشت کے حوالے سے ایک امید کی کرن کے طور پر دیکھی جا رہی ہیں۔
آئین کی بالادستی پر کوئی سمجھوتا نہیں، عدلیہ کے خلاف الزامات نامناسب ہیں،محمود خان اچکزئی
اسلام آباد: پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ ہم آئین کی بالادستی کی بات کرتے ہیں اور اسے ہر حال میں برقرار رکھنا چاہیے۔ انہوں نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ گزشتہ روز پارلیمنٹ میں ہونے والی بحث سن رہے تھے لیکن خاموش رہے اور بل پیش ہونے کے بعد چلے گئے تھے۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پارلیمنٹ میں عدلیہ پر تنقید کی گئی اور الزامات لگائے گئے، جو ایک جج کے فیصلے کو روکنے کے مقصد سے کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے غیر آئینی اقدام پر خاموشی اختیار کی، جو کہ ان کی ذمہ داری کے خلاف ہے۔ اچکزئی نے خبردار کیا کہ اس قسم کے اقدامات آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے عدلیہ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عدلیہ اتنی بری نہیں جتنی کہ تنقید کی جا رہی ہے، اور ہمیں عدلیہ کے خلاف اتنی دور تک نہیں جانا چاہیے تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تاریخ میں کئی ججز ایسے بھی ہیں جنہوں نے مارشل لاء ادوار میں حق کا علم بلند کیا۔ محمود خان اچکزئی نے خاص طور پر ایسے ججز کا ذکر کیا جنہوں نے پی سی او کے تحت حلف نہیں اٹھایا اور انہوں نے سندھ کے جج کا حوالہ دیا جنہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کے کیس میں اختلاف کیا تھا۔محمود خان اچکزئی نے بھٹو کی پھانسی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ بھٹو کے کیس میں بلوچستان کے جج نے بھی اختلاف کیا تھا، اور تین کورٹس کے اختلاف کے باوجود ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے دی گئی۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ جن قوتوں نے بھٹو کو پھانسی دی، ان کا کوئی ذکر نہیں کرتا اور ان پر انگلی نہیں اٹھائی جاتی۔
اسپیکر قومی اسمبلی کے کردار پر تنقید کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی ایوان کے کسٹوڈین ہیں اور انہیں آئینی اور جمہوری اصولوں کی پاسداری کرنی چاہیے تھی، لیکن انہوں نے غیر جمہوری اور غیر آئینی اقدامات پر خاموشی اختیار کی۔اس موقع پر انہوں نے سینیٹر قاسم رونجھو کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ انہیں ججز نے اٹھایا تھا۔ محمود خان اچکزئی نے سوال اٹھایا کہ جن لوگوں نے قاسم رونجھو کو اٹھایا، ان کی طرف کوئی انگلی کیوں نہیں اٹھاتا؟ انہوں نے کہا کہ ہر ادارے کو اپنی حدود میں رہ کر کام کرنا ہوگا تاکہ جمہوری نظام کو مستحکم کیا جا سکے۔ محمود خان اچکزئی نے بانی پی ٹی آئی کی گرفتاری پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں رہا کیا جانا چاہیے تھا اور تمام مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے تھا، لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ خدا ہمارے ملک کی خیر کرے اور دعا کی کہ ملک میں جمہوریت اور آئین کی بالادستی برقرار رہے۔
ملک میں ووٹرز کی تعداد 13 کروڑ 15 لاکھ 31 ہزار 645 ہوگئی، الیکشن کمیشن
اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ملک میں ووٹرز کی تعداد کے حوالے سے تازہ ترین اعداد و شمار جاری کیے ہیں، جن کے مطابق ملک میں کل ووٹرز کی تعداد 13 کروڑ 15 لاکھ 31 ہزار 645 ہو گئی ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق ملک میں مرد ووٹرز کی تعداد 7 کروڑ 7 لاکھ 18 ہزار 723 ہے، جب کہ خواتین ووٹرز کی تعداد 6 کروڑ 8 لاکھ 12 ہزار 922 ہے۔ یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مرد ووٹرز کی شرح 53.77 فیصد اور خواتین ووٹرز کی شرح 46.23 فیصد ہے۔اسلام آباد میں ووٹرز کی تعداد 11 لاکھ 54 ہزار 471 ہو گئی ہے۔ ان میں مرد ووٹرز کی تعداد 6 لاکھ 5 ہزار 31 اور خواتین ووٹرز کی تعداد 5 لاکھ 49 ہزار 440 ہے۔بلوچستان میں ووٹرز کی تعداد 54 لاکھ 94 ہزار 710 ہے، جس میں مرد ووٹرز کی تعداد 30 لاکھ 80 ہزار 135 اور خواتین ووٹرز کی تعداد 24 لاکھ 14 ہزار 575 ہے۔
خیبر پختونخوا میں ووٹرز کی تعداد 2 کروڑ 24 لاکھ 1 ہزار 742 ہے۔ اس میں مرد ووٹرز کی تعداد 1 کروڑ 21 لاکھ 90 ہزار 502 ہے جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد 1 کروڑ 2 لاکھ 11 ہزار 240 ہے۔پنجاب صوبے میں ووٹرز کی تعداد 7 کروڑ 48 لاکھ 91 ہزار 495 ہے، جس میں مرد ووٹرز کی تعداد 3 کروڑ 99 لاکھ 29 ہزار 617 اور خواتین ووٹرز کی تعداد 3 کروڑ 49 لاکھ 61 ہزار 878 ہے۔سندھ میں ووٹرز کی تعداد 2 کروڑ 75 لاکھ 89 ہزار 227 ہو گئی، جہاں مرد ووٹرز کی تعداد 1 کروڑ 49 لاکھ 13 ہزار 438 اور خواتین ووٹرز کی تعداد 1 کروڑ 26 لاکھ 75 ہزار 789 ہے۔یہ اعداد و شمار ملک میں جمہوری عمل کے لیے ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ووٹرز کی بڑھتی ہوئی تعداد یہ ظاہر کرتی ہے کہ عوام کی سیاسی عمل میں شرکت کی رغبت بڑھ رہی ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے فراہم کردہ یہ معلومات انتخابی عمل کی شفافیت اور عوامی باخبر رہنے کے لیے اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
خصوصی کمیٹی کا اجلاس: نئے چیف جسٹس آف پاکستان کی تقرری کا عمل جاری
اسلام آباد: نئے چیف جسٹس آف پاکستان کے نام کی فائنل کرنے کے لیے خصوصی کمیٹی کا اجلاس جاری ہے، جس میں اہم سیاسی جماعتوں کے ارکان کی شرکت متوقع ہے۔ تاہم، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اجلاس میں بیٹھنے سے انکار کر دیا ہے۔اجلاس کے دوران اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اور وفاقی وزیر احسن اقبال نے پی ٹی آئی کے اراکین کو منانے کی کوشش کی، تاکہ وہ اجلاس میں شرکت کریں۔ خصوصی پارلیمانی کمیٹی کا یہ بند کمرہ اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس کے کمیٹی روم 5 میں منعقد ہو رہا ہے۔اجلاس میں پی ٹی آئی کے بائیکاٹ کے باوجود، سنی اتحاد کونسل کے تین ارکان کے لیے نشستیں مخصوص کی گئی ہیں، جن میں علی ظفر، بیرسٹر گوہر اور حامد رضا شامل ہیں۔ اجلاس کے تمام 12 اراکین کی نیم پلیٹس بھی لگائی گئی ہیں، جس سے اس بات کی عکاسی ہوتی ہے کہ کمیٹی میں شرکت کرنے والے اراکین کی تعداد کو پورا رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔
اجلاس میں شامل دیگر اہم اراکین میں راجہ پرویز اشرف، فاروق ایچ نائیک، کامران مرتضیٰ، رعنا انصار، احسن اقبال، شائشتہ پرویز ملک، اعظم نذیر تارڑ، اور خواجہ آصف شامل ہیں۔ یہ اجلاس آج دوپہر کو شروع ہوا تھا، لیکن کچھ ہی دیر بعد اسے ساڑھے 8 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔ذرائع کے مطابق، کمیٹی میں چیف جسٹس کی تقرری کے لیے سیکریٹری قانون کی جانب سے بھیجے گئے تین ججز کے نام پیش کیے گئے۔ سیکریٹری قانون نے کمیٹی کو تین سینئر ترین ججز کے ناموں کا پینل فراہم کیا ہے، جس میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، اور جسٹس یحییٰ آفریدی شامل ہیں۔اجلاس کے دوران یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آج ہی نئے چیف جسٹس پاکستان کی تقرری کی منظوری دیے جانے کی توقع ہے، جو کہ ملک کی عدلیہ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو گا۔ نئے چیف جسٹس کی تقرری کے ساتھ ہی عدالت عظمیٰ میں مختلف مقدمات کی سماعت میں تیزی لانے کی کوششیں کی جائیں گی۔ اجلاس کے نتائج اور نئے چیف جسٹس کے نام کی رسمی اعلان کی توقع عوام اور قانونی حلقوں میں خاصی بے چینی کا باعث بن گئی ہے، جبکہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے اجلاس کے بائیکاٹ نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔








