اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی سینیٹر شیری رحمان نے ایک اہم پارلیمانی سیشن میں تقریر کی، جس میں انہوں نے آئینی اصلاحات کی ضرورت، ملک کی سیاسی صورت حال، اور پارٹی کے تاریخی کردار پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ 1973 کے آئین کی بنیاد شراکت داری اور وفاقی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے رکھی گئی تھی، اور اس کی اہمیت آج بھی برقرار ہے۔سینیٹر شیری رحمان نے اپنی تقریر میں کہا، "ہم نے اس کمیٹی میں شمولیت کی دعوت دی تھی اور بار بار اپنی تجاویز پیش کیں، مگر بدقسمتی سے، کچھ جماعتیں اپنی شقوں پر عمل نہیں کر سکیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس کمیٹی کے بار بار اجلاس منعقد کیے گئے ہیں تاکہ تمام جماعتوں کی آراء کو سنا جا سکے، اور یہ عمل سیاسی مقاصد کے تحت نہیں، بلکہ آئینی اصلاحات کے لیے ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ "پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عوامی حقوق کی حفاظت کے لیے جدوجہد کی ہے، خاص طور پر صوبوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے۔” سینیٹر شیری رحمان نے یہ بھی کہا کہ موجودہ صورتحال میں، تمام جماعتوں کی کوششوں کا مقصد ایک مضبوط اور بہتر پاکستان بنانا ہے، جس کے لیے آئینی اصلاحات ناگزیر ہیں۔شیری رحمان نے بلاول بھٹو زرداری کی قیادت کی تعریف کی، جنہوں نے اس عمل میں شفافیت اور قیادت فراہم کی۔ انہوں نے کہا، "یہ عمل نہ صرف قانونی اصلاحات کا حصہ ہے، بلکہ یہ ہماری جماعت کی وراثت اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے خواب کی تکمیل کی جانب ایک اہم قدم ہے۔”
ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کو اپنے حقوق کی حفاظت کے لیے ایک مضبوط اور شفاف نظام کی ضرورت ہے، اور اس کے لیے ضروری ہے کہ ہر جماعت اپنی آراء کو پیش کرے اور مشترکہ طور پر کام کرے۔ "ہمیں فخر ہے کہ ہم سیاست کرتے ہیں اور اس میں قربانی دیتے ہیں، تاکہ قوم کے حقوق کی حفاظت کی جا سکے۔شیری رحمان نے سول سوسائٹی کے ساتھ مشاورت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا، "یہ ضروری ہے کہ ہم ہر ایک کی آواز سنیں، چاہے وہ کسی بھی طبقے سے تعلق رکھتے ہوں۔انہوں نے سول سوسائٹی کے کردار کو اہمیت دیتے ہوئے کہا کہ ان کی آراء کو شامل کرنا عوامی مفاد کے لیے ضروری ہے۔سینیٹر شیری رحمان کی یہ تقریر آئینی اصلاحات کی اہمیت، پارٹی کی تاریخ، اور ملک کی سیاسی صورتحال کے بارے میں ایک جامع نظر پیش کرتی ہے۔ انہوں نے یہ واضح کیا کہ یہ اصلاحات نہ صرف موجودہ حالات کی بہتری کے لیے ضروری ہیں، بلکہ یہ ملک کی سیاسی استحکام اور عوامی حقوق کی حفاظت کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔
Author: صدف ابرار

پاکستان پیپلز پارٹی عوامی حقوق کی حفاظت کے لیے کوشاں ہے:شیری رحمان

بیرسٹر علی ظفر کا سینیٹ میں آئینی ترامیم پر تنقید
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما بیرسٹر علی ظفر نے سینیٹ میں اپنے ایک بصیرت افروز خطاب میں جاری آئینی ترامیم پر اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جو آئین لوگوں کی مرضی اور اتفاق رائے سے نہیں بنتا، وہ اپنی موت آپ مر جاتا ہے اور قوم کو بھی 25 سال تک پیچھے دھکیل دیتا ہے۔بیرسٹر ظفر نے زور دیا کہ آئین ایک ایسی اجتماعی معاہدہ ہے جو قوم کو یکجا کرتا ہے، اور یہ حکمرانی میں اس کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ "آئین لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے ہوتا ہے، نہ کہ انہیں جدا کرنے کے لیے۔ اگر یہ لوگوں کی رضامندی سے نہیں بنے گا تو یہ اپنی حیثیت کھو دے گا اور قوم کو بے یقینی میں دھکیل دے گا،تاریخی مثالوں پر روشنی ڈالتے ہوئے، بیر سٹر علی ظفر نے بتایا کہ 1956 میں بنا آئین عوامی اتفاق رائے کے بغیر قائم ہوا، جس کی وجہ سے یہ چند سالوں میں ناکام ہوا اور ملک میں مارشل لا نافذ ہوا۔ اسی طرح، انہوں نے 1962 کے آئین کی بھی نشاندہی کی، جو عوامی حمایت کی کمی کی وجہ سے بھی کامیاب نہیں ہوا۔”آئین میں ترمیم بھی عوام کی رضامندی اور اتفاق رائے سے ہونی چاہیے؛ بصورت دیگر، قوم کو بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے آرٹیکل 58-2B کا حوالہ دیا، جس نے صدر کو منتخب حکومتوں کو تحلیل کرنے کا اختیار دیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اس آرٹیکل کا استعمال پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی حکومتوں کو ہٹانے کے لیے کیا گیا تھا۔
اپنے خطاب کے دوران، ظفر نے اپنے جماعت کی اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ کسی بھی آئینی ترمیم کی مخالفت کریں گے جو وسیع اتفاق رائے کے بغیر کی جائے۔ انہوں نے ایک پارلیمانی اجلاس کا ذکر کیا جہاں پی ٹی آئی کے سینیٹرز نے اجتماعی طور پر اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ کسی بھی ایسی آئینی ترمیم کی حمایت نہیں کریں گے۔ "ہم نے واضح طور پر بیان کیا کہ ہم کسی غیر آئینی ترمیم کی حمایت نہیں کریں گے،
بیر سٹر علی ظفر نے ترمیمی عمل میں شفافیت اور عوامی شمولیت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ فیصلے راز میں نہیں کیے جا سکتے۔ انہوں نے پارلیمانی کمیٹیوں میں اپنی شمولیت کے تجربات کو بیان کیا، جہاں پی ٹی آئی کے اراکین صرف مشاہدہ کرنے کے لیے موجود تھے، اور اس عمل میں شمولیت سے گریز کیا۔انہوں نے تجویز کردہ ترامیم کی سنگینی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ایک حکومتی دستاویز میں 80 سے زائد ترامیم شامل ہیں، جنہیں انہوں نے بنیادی حقوق کے لیے خطرہ قرار دیا۔ "یہ دستاویز ہمارے بنیادی حقوق، بشمول زندگی کا حق، اظہار رائے کی آزادی، اور نقل و حرکت کی آزادی کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہے،” انہوں نے افسوس کا اظہار کیا۔
علی ظفر نے یہ بھی ذکر کیا کہ آئینی عدالت کے قیام کا مقصد حکومت کو پسندیدہ ججز کی تقرری کی اجازت دینا ہے، جس سے عدلیہ کی غیر جانبداری کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ "یہ عدالت سیاسی مفادات کے حق میں چالاکی سے کام لے سکتی ہے، خاص طور پر پی ٹی آئی اور اس کے رہنماوں کے خلاف، انہوں نے دیگر سیاسی جماعتوں کی کوششوں کا ذکر کیا کہ وہ حکومت کے بل کی مخالفت کر رہی ہیں، ظفر نے تیز رفتار آئینی ترمیم کے عمل پر تشویش کا اظہار کیا۔ "ہم دیکھ رہے ہیں کہ آئین میں ترامیم کے لیے جلد بازی کی جا رہی ہے، جو کہ مناسب مشاورت کے بغیر ہے۔ اس سے ہماری جمہوری اقدار کو نقصان پہنچ سکتا ہے،
انہوں نے اپنے خیالات کا اختتام کرتے ہوئے پی ٹی آئی کی اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ تجویز کردہ ترامیم کی مخالفت کریں گے اور دیگر سیاسی جماعتوں کا شکریہ ادا کیا جو ان کی تشویش کا اشتراک کرتی ہیں۔ "ہم آئین اور عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں۔ تجویز کردہ ترامیم قوم کو طویل مدت تک نقصان پہنچا سکتی ہیں.
آئینی اصلاحات کا سفر: 26ویں آئینی ترمیم کا بل سینیٹ میں پیش
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے 26ویں آئینی ترمیم کا بل پاکستان کے ایوان بالا، سینیٹ، میں منظوری کے لیے پیش کر دیا ہے۔ یہ بل اتوار کے روز وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد سینیٹ اجلاس میں پیش کیا گیا، جس کی صدارت چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے کی۔وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے سینیٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے مسودے پر اتحادی اور اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ بھرپور مشاورت کی گئی ہے، تاکہ اس پر اتفاق رائے پیدا کیا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت نے تمام جماعتوں کو اس معاملے میں شامل کرنے کی کوشش کی ہے۔اجلاس کے دوران، انہوں نے 18ویں آئینی ترمیم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تقرری کے طریقہ کار کو تبدیل کیا گیا تھا، جس کے بعد 19ویں آئینی ترمیم کی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ 18ویں ترمیم میں پارلیمان نے ایک شفاف اور میرٹ کے مطابق طریقہ کار متعارف کرایا، جس نے اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تقرری کو بہتر بنایا۔
وزیر قانون نے مزید کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم کی ضرورت اس لیے محسوس کی گئی تاکہ موجودہ نظام میں مزید بہتری لائی جا سکے۔ انہوں نے چیئرمین سینیٹ سے درخواست کی کہ انہیں 26ویں ترمیم کا مسودہ پیش کرنے کی اجازت دی جائے اور یہ ترامیم ضمنی ایجنڈے کے طور پر ایوان میں پیش کی جائیں۔اس ترمیم کا مقصد پاکستان کے آئینی ڈھانچے میں بہتری اور عدلیہ کی شفافیت کو بڑھانا ہے، جو عوام کی توقعات کے عین مطابق ہے۔ اب یہ دیکھنا ہے کہ سینیٹ میں اس بل پر بحث اور رائے شماری کے بعد یہ کیسا اثر مرتب کرے گا۔ اس موقع پر، اعظم نذیر تارڑ نے یقین دلایا کہ حکومت عوامی مفاد میں فیصلہ کن اقدامات اٹھائے گی اور آئینی اصلاحات کے ذریعے ملک کی عدلیہ کو مضبوط اور باقاعدہ بنانے کی کوشش کرے گی۔ سینیٹ کے اراکین نے بھی اس بل کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اس پر بحث کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ آئینی ترمیم کا یہ عمل ملک کی سیاست میں نئی جہتیں پیدا کر سکتا ہے اور عوام کی توقعات پر پورا اترنے کی سمت میں ایک قدم ثابت ہو سکتا ہے۔
26ویں آئینی ترمیم میں آرٹیکل 184 اور ازخود نوٹس کے مسائل حل ہوں گے، اسحاق ڈار
اسلام آباد: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ آئینی ترمیم کے سلسلے میں 26ویں ترمیم میں آرٹیکل 184 اور ازخود نوٹس کے معاملات کو حل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدام اٹھارویں ترمیم کی کمی بیشی کو دور کرنے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے۔اسحاق ڈار کا کہنا تھا، "ہمیں ایسی صورتحال کا سامنا ہے جہاں 19ویں آئینی ترمیم کو مکمل طور پر واپس لینا ممکن نہیں ہے، بلکہ ہمیں اس میں موجود نکات پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔” ان کے مطابق، 26ویں ترمیم میں اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ آئین میں موجود پیچیدگیاں ختم ہوں۔نائب وزیراعظم نے مزید کہا کہ مولانا فضل الرحمان کی پارٹی نے سود، نظریاتی کونسل اور دیگر پانچ ترامیم کی تجویز دی تھی، جنہیں آئینی ترامیم کے مسودے میں شامل کیا گیا ہے۔ اس ترمیم کا مقصد ملک میں عدلیہ کی آزادی اور عوامی مسائل کے حل میں بہتری لانا ہے۔ ملک میں آئینی ترامیم پر بات چیت جاری ہے اور مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان اس پر اختلافات بھی موجود ہیں۔ ان کا یہ کہنا کہ آئینی ترامیم کی ضرورت ہے، ایک اہم پہلو ہے جو ملکی سیاست میں نئی راہیں کھول سکتا ہے۔ یہ آئینی ترمیم نہ صرف قانونی پیچیدگیوں کو حل کرنے کی کوشش ہے بلکہ یہ ملک کی سیاسی استحکام کے لیے بھی اہم ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کا مقصد عوامی مسائل کو بہتر طور پر حل کرنا اور عدلیہ کی خودمختاری کو یقینی بنانا ہے۔

جوڈیشل کمیشن ججز کی تعداد اور آئینی بینچز کے قیام کا فیصلہ کرے گا، مسودہ پیش
اسلام آباد: جوڈیشل کمیشن نے آئینی بینچز اور ججز کی تعیناتی کے حوالے سے ایک اہم مسودہ پیش کیا ہے جس میں پاکستان کی عدلیہ کے مختلف آئینی امور کو حل کرنے کے لیے تجاویز دی گئی ہیں۔ اس مسودے میں آئینی بینچز، چیف جسٹس کی تقرری، اور سپریم کورٹ کے مختلف آئینی اختیارات کے حوالے سے اہم نکات شامل ہیں۔مسودے کے مطابق آئینی بینچز میں پاکستان کے تمام صوبوں سے مساوی نمائندگی یقینی بنائی جائے گی۔ اس کا مقصد ملک کے تمام حصوں سے قانونی ماہرین اور ججز کو موقع فراہم کرنا ہے تاکہ وفاق کی نمائندگی ہو اور عدالتی فیصلے قومی یکجہتی کی عکاسی کریں۔مسودے کے تحت سپریم کورٹ کے آرٹیکل 184 کے تحت ازخود نوٹس کا اختیار آئینی بینچز کو سونپا جائے گا۔ مزید یہ کہ آئین کی تشریح سے متعلق کیسز، آرٹیکل 185 کے تحت، صرف آئینی بینچز کے دائرہ اختیار میں آئیں گے۔ اس سے آئین کی تشریح میں یکسانیت اور عدلیہ کے فیصلوں میں ہم آہنگی کو فروغ ملے گا۔
مسودے کی سب سے اہم تجویز چیف جسٹس کی تقرری کے حوالے سے ہے۔ اس تجویز کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان کا تقرر خصوصی پارلیمانی کمیٹی کی سفارش پر کیا جائے گا، جس میں سپریم کورٹ کے تین سینئر ترین ججز میں سے ایک کو منتخب کیا جائے گا۔ یہ کمیٹی 12 ارکان پر مشتمل ہوگی جس میں 8 ارکان قومی اسمبلی اور 4 ارکان سینیٹ سے ہوں گے، اور اس میں تمام پارلیمانی جماعتوں کی متناسب نمائندگی ہوگی۔مسودے میں تجویز دی گئی ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان کی مدت تین سال مقرر کی جائے اور ان کی عمر کی بالائی حد 65 سال ہو۔ اس سے عدلیہ میں تسلسل اور تجربے کا فروغ ہوگا، اور چیف جسٹس کی مدت مکمل ہونے کے بعد نئے ججز کو بھی موقع ملے گا۔
آرٹیکل 184 تین کے تحت سپریم کورٹ اپنے طور پر کوئی ہدایت یا ڈیکلریشن نہیں دے سکتی۔ یہ اختیار صرف آئینی بینچز کو حاصل ہوگا، جس سے فیصلوں کی قانونی حیثیت مزید مضبوط ہوگی۔ اس کے علاوہ، آرٹیکل 186 اے کے تحت سپریم کورٹ ہائی کورٹ کے کسی بھی کیس کو کسی دوسری ہائی کورٹ یا اپنے پاس منتقل کر سکتی ہے۔ یہ تجویز مختلف عدالتوں کے درمیان کیسز کے بوجھ کو بہتر انداز میں تقسیم کرنے کے لیے پیش کی گئی ہے۔مسودے میں ججز تقرری کمیشن کو ہائی کورٹ کے ججز کی سالانہ کارکردگی کا جائزہ لینے کا اختیار دیا گیا ہے۔ اس سے ججز کی پیشہ ورانہ ترقی اور معیار کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
سینیٹ میں آئینی ترمیم کی منظوری: حکومت کو تاحال ایک ووٹ کی کمی کا سامنا
اسلام آباد: حکومت کو سینیٹ سے 26ویں آئینی ترمیم منظور کروانے کے لیے ایک ووٹ کی کمی کا سامنا ہے۔ اس ترمیم کے لیے پارلیمنٹ کے ایوان بالا (سینیٹ) سے دو تہائی اکثریت یعنی 64 ووٹوں کی ضرورت ہے۔ حکومتی اتحاد اس اہم مرحلے پر مجموعی طور پر 63 ووٹ حاصل کر چکا ہے لیکن اب بھی ایک ووٹ کی کمی کا سامنا کر رہا ہے، جس کی وجہ سے آئینی ترمیم کی منظوری کا عمل تعطل کا شکار ہو سکتا ہے۔سینیٹ میں حکومتی بینچوں پر پاکستان پیپلز پارٹی کے 24، مسلم لیگ ن کے 19، بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کے 4، اور متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے 3 سینیٹرز موجود ہیں۔ ان جماعتوں کے علاوہ حکومت کو 4 آزاد سینیٹرز، عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے 3، نیشنل پارٹی اور مسلم لیگ قاف کے ایک، ایک رکن کی حمایت بھی حاصل ہے، جس سے مجموعی طور پر 59 ووٹ بن رہے ہیں۔
حکومت کے نمائندوں نے دعویٰ کیا ہے کہ جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی ف) کے سینیٹرز کی حمایت ملنے کے بعد یہ تعداد 64 ہو جائے گی، جو آئینی ترمیم منظور کروانے کے لیے درکار ووٹوں کی تعداد ہے۔ تاہم، چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی آئینی قواعد کے تحت ووٹ نہیں ڈال سکیں گے، جس کے باعث حکومتی ووٹوں کی تعداد 63 رہ جائے گی، اور اسے ایک ووٹ کی کمی کا سامنا ہو گا۔26ویں آئینی ترمیم کے ذریعے حکومت ملک میں بعض اہم قانونی اور آئینی تبدیلیاں لانا چاہتی ہے۔ اس ترمیم کی منظوری حکومت کے لیے اہم سیاسی کامیابی ہوگی، جس سے حکومت کی آئینی پوزیشن مزید مضبوط ہو سکتی ہے۔ لیکن موجودہ صورتحال میں حکومت کو ایک ووٹ کی کمی کے باعث سنجیدہ مشکلات کا سامنا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق حکومت کی پوری کوشش ہے کہ وہ سینیٹ میں موجود دیگر آزاد سینیٹرز یا چھوٹی جماعتوں سے رابطے کر کے اس ایک ووٹ کی کمی کو پورا کرے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومتی نمائندے اس معاملے پر تیزی سے رابطے کر رہے ہیں تاکہ سینیٹ میں مطلوبہ ووٹوں کی تعداد پوری کی جا سکے اور آئینی ترمیم منظور ہو سکے۔

پی ٹی آئی 26ویں آئینی ترمیم کے بل پر ووٹ نہیں دے گی ، بیر سٹر گوہر
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 26ویں آئینی ترمیم کے بل پر ووٹ نہ دینے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے مولانا فضل الرحمان کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس میں اس بات کا اعلان کیا۔ پی ٹی آئی نے آئینی ترمیمی عمل پر اپنے موقف کو اصولی بنیادوں پر قائم رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔پریس کانفرنس میں پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف اپنے بانی کی ہدایات کے مطابق آگے بڑھ رہی ہے اور آئینی ترمیم کے بل پر ووٹ نہیں دے گی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی نے آئینی ترمیم پر پہلے ہی ایک واضح موقف اختیار کر لیا تھا اور اس سے پیچھے ہٹنے کا کوئی ارادہ نہیں۔بیرسٹر گوہر نے اپنے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے اراکینِ قومی اسمبلی کو اس معاملے میں دھونس اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے کہا، "ہمارے ایم این ایز کو اٹھا کر ڈرایا دھمکایا گیا تاکہ ان پر دباؤ ڈالا جا سکے کہ وہ اس ترمیم کے حق میں ووٹ دیں۔”
اس موقع پر مولانا فضل الرحمان کا ذکر کرتے ہوئے پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ جمیعت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے آئینی ترمیم کے عمل میں اپنا بہترین کردار ادا کیا ہے اور ان کے اس کردار کی پی ٹی آئی بھرپور تعریف کرتی ہے۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ کسی قسم کی شکایت یا گلہ نہیں ہے اور ہمارا مستقبل میں بھی ان سے تعلق برقرار رہے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی نے آئینی ترمیم کے بل پر اپنے اصولی موقف کو برقرار رکھا ہے، تاہم وہ جمہوری عمل کا حصہ رہیں گے اور آئندہ بھی قومی مفاد کے لیے فیصلے کرتے رہیں گے۔یہ اہم اعلان اس وقت سامنے آیا جب حکومت کی جانب سے آئینی ترمیم کے بل کو قومی اسمبلی میں پیش کرنے کے لیے کوششیں کی جا رہی تھیں، جس کا مقصد ملک میں آئینی اور قانونی معاملات کو بہتر بنانا ہے۔ تاہم پی ٹی آئی کے اس اعلان نے حکومتی ایوانوں میں ایک نئی بحث کا آغاز کر دیا ہے۔
آئینی ترمیم میں کالے سانپ کا زہر نکال دیا،مولانا فضل الرحمان
اسلام آباد: جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ہم نے 26ویں آئینی ترمیم کے عمل میں کالے سانپ کے دانت توڑ کر اس کا زہر نکال دیا ہے۔ انہوں نے یہ بات پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) چیئرمین بیرسٹر گوہر کے ہمراہ ایک اہم پریس کانفرنس میں کہی، جہاں انہوں نے آئینی ترمیم، پی ٹی آئی کے اعتراضات اور ملک میں جاری آئینی عمل پر تفصیلی بات چیت کی۔پریس کانفرنس کے دوران مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آئینی ترمیم کے متن پر تحریک انصاف کو کوئی خاص اعتراض نہیں، تاہم پی ٹی آئی کا اختلاف اس پر تھا جو ان کے بانی اور پارٹی کے ساتھ ہوا۔ مولانا فضل الرحمان نے تحریک انصاف کے احتجاج کو "جائز” قرار دیا اور کہا کہ ہم کسی کو بھی جبر کے ذریعے اس عمل میں شامل نہیں کر سکتے۔
جے یو آئی-ف کے سربراہ نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے لیے احتجاجاً ووٹنگ کے عمل میں حصہ نہ لینا ان کا آئینی حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے بل میں جتنے بھی قابل اعتراض نکات تھے، انہیں ختم کر دیا گیا ہے تاکہ تمام سیاسی جماعتوں کے تحفظات دور ہو سکیں۔مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ آئین ایک قومی دستاویز ہے اور اسے قوم کے مفاد میں بنایا جاتا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اگرچہ کسی بھی سیاسی عمل میں کسی نہ کسی درجے میں اختلافات باقی رہتے ہیں، مگر ہم نے قومی مفاہمت کے تحت بل میں ترمیمات کی ہیں۔مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ ہم نے آئینی پیکج پر اصولی طور پر اتفاق کیا ہے، لیکن اس کے جزوی نکات پر ابھی بھی بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آئین قوم کا ہوتا ہے اور اس کی تشکیل قوم کے مفاد کے لیے کی جاتی ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے بلوچستان اسمبلی کے تحلیل ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آئین پاکستان اسی وقت بنا جب بلوچستان اسمبلی کو تحلیل کر دیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ آئینی ترمیم کا مقصد ملک کی بہتر حکمرانی اور آئینی اداروں کی مضبوطی ہے، اور اس سلسلے میں ہم مفاہمت کی آخری کوشش کریں گے تاکہ قومی اتفاق رائے پیدا کیا جا سکے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ابھی بھی بل پیش نہیں ہوا، اور ہم تمام جماعتوں کے ساتھ مل کر مفاہمت کا وقت نکال رہے ہیں تاکہ آئینی عمل کو کامیابی سے مکمل کیا جا سکے۔پریس کانفرنس میں مولانا فضل الرحمان نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ حکومت نے اولین بل سے تمام متنازع نکات نکال کر ترمیمات کی ہیں تاکہ سیاسی جماعتوں کے اعتراضات دور کیے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی جماعت کا اپنا مؤقف ہوتا ہے، لیکن ہم نے اس ساری صورتحال میں قومی مفاد کو اولین ترجیح دی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سنیارٹی اور کارکردگی دونوں ہی اپنی جگہ اہم ہیں اور آئین کا مقصد ہمیشہ ملک کے مفاد میں ہوتا ہے۔مولانا فضل الرحمان کی پریس کانفرنس میں کی گئی باتوں سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان آئینی ترمیم پر اختلافات موجود ہیں، مگر دونوں فریقین مفاہمت کی آخری کوشش کر رہے ہیں تاکہ ایک جامع اور متفقہ آئینی ترمیم سامنے لائی جا سکے۔
جے یو آئی کے لاپتہ سینیٹر عبدالشکور پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے
اسلام آباد: جمیعت علماء اسلام (جے یو آئی) کے مبینہ لاپتہ سینیٹر عبدالشکور پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بیٹے کے ہمراہ گھر سے واپس آ رہے ہیں۔ یاد رہے کہ جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے آئینی ترمیم کے معاملے پر حکومت اور اتحادیوں کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو سے رابطہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ "ہم آپ کے ساتھ چلیں گے اور آپ کے ساتھ کیے گئے فیصلوں کی پاسداری کریں گے۔مولانا فضل الرحمان نے مزید بتایا کہ ان کے سینیٹرز اور ارکان قومی اسمبلی پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ رہے ہیں۔ اس موقع پر سینیٹر عبدالشکور نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وضاحت کی کہ "مجھ پر کسی قسم کا دباؤ نہیں ہے، میرے کچھ مسائل تھے جو حل ہوگئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ "میں اسلام آباد میں نہیں تھا، ابھی یہاں پہنچا ہوں، اور مولانا سے ملاقات کے بعد غلط فہمیاں دور ہو جائیں گی۔”

پولیو وائرس کے پھیلاؤ میں تشویشناک اضافہ: بلوچستان اور خیبرپختونخوا سے مزید کیسز رپورٹ
اسلام آباد: پاکستان میں پولیو وائرس کے پھیلاؤ میں تشویشناک اضافہ جاری ہے، جہاں بلوچستان اور خیبرپختونخوا سے حال ہی میں مزید چار کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔ قومی ادارہ صحت اسلام آباد کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، پولیو کے خاتمے کے لیے قائم کردہ ریجنل ریفرنس لیبارٹری نے بلوچستان کے تین اور خیبرپختونخوا کے ایک بچے میں پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق کی ہے۔پولیو وائرس کی ٹائپ 1 کی تصدیق بلوچستان کے تین بچوں میں ہوئی ہے۔ ان میں پشین کی ایک بچی، چمن اور نوشکی سے ایک ایک بچہ شامل ہے۔ جبکہ خیبرپختونخوا کے ضلع لکی مروت میں بھی ایک بچی پولیو وائرس سے متاثر ہوئی ہے۔
رواں سال 2024 میں پاکستان میں پولیو کیسز کی مجموعی تعداد 37 تک پہنچ گئی ہے۔ ان میں سے 20 کیسز بلوچستان سے، 10 سندھ سے، 5 خیبرپختونخوا سے، اور پنجاب و اسلام آباد سے ایک ایک کیس رپورٹ ہوا ہے۔ یہ اعداد و شمار ایک مرتبہ پھر اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ پولیو کے خاتمے کی کوششیں شدید خطرات کا شکار ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کا فوری جائزہ لینے کی ضرورت ہے اور عوامی آگاہی مہمات کو بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ والدین کو اپنے بچوں کی ویکسینیشن کے بارے میں آگاہ کیا جا سکے۔ ویکسینیشن مہمات کی ناکامی اور عوامی عدم اعتماد نے پولیو کے خاتمے کی کوششوں کو متاثر کیا ہے۔
حکومت نے پولیو کے خلاف جنگ میں مزید مؤثر اقدامات کا اعلان کیا ہے، جس میں اضافی ویکسینیشن کیمپ اور معلوماتی مہمات شامل ہیں۔ مقامی حکومتوں اور صحت کے اداروں کے درمیان تعاون کو بڑھانے کی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں تاکہ متاثرہ علاقوں میں فوراً ویکسینیشن کی جا سکے۔پاکستان کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ پولیو وائرس کا پھیلاؤ ایک مرتبہ پھر تشویش کا باعث بن رہا ہے۔ صحت کے حکام اور حکومت کو اس چیلنج کا سامنا کرنے کے لیے متحد ہو کر فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پولیو کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔ عوامی تعاون کے بغیر اس مسئلے کا حل نکالنا مشکل ہوگا، اس لیے والدین کو اپنے بچوں کی حفاظتی ویکسینیشن یقینی بنانی چاہیے۔









