فہرست کے مطابق 7 جنرل نشستوں پر 25 امیدواروں نے کاغذات جمع کرائے ہیں، ٹیکنوکریٹ کی 2 نشستوں کیلئے سیاسی جماعتوں کے 10 امیدوار میدان میں ہیں ، خواتین کی 2 نشستوں کیلئے 7 امیدواروں کے کاغذات جمع ہوئے ، مرزا آفریدی، عرفان سلیم اور خرم ذیشان بھی جنرل نشستوں پر امیدوارہونگے، ٹیکنوکریٹ کیلئے اعظم سواتی اور ارشاد حسین تحریک انصاف کے امیدوار ہوں گے، خواتین کی نشستوں پر عائشہ بانو اور روبینہ ناز میدان میں ہوں گی، تحریک انصاف پارلیمنٹیرینز کے محمود خان جنرل نشست کیلئے انتخاب لڑیں گے، اعظم سواتی، قاضی انور کے کاغذات ٹیکنوکریٹ کیلئے جمع ہوگئے، خواتین کیلئے پیپلز پارٹی کی روبینہ خالد اور تحریک انصاف کی عائشہ بانو اہم امیدوار ہوں گی۔ جنرل نشستوں پر مراد سعید، فیصل جاوید تحریک انصاف کے امیدوارہوں گے،
Author: صدف ابرار
-

سینیٹ کی ٹکٹ میں نہ دلچسپی تھی اور نہ ہی دستیاب ہوں، آصف کرمانی
مسلم لیگ ن کے رہنما ڈاکٹر آصف کرمانی نے پارٹی کی جانب سے سینیٹ کی ٹکٹ نہ ملنے پر بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ سینیٹ ٹکٹ کیلئے پارٹی کو کوئی درخواست نہیں دی تھی، سینیٹ کی ٹکٹ میں نہ دلچسپی تھی اور نہ ہی دستیاب ہوں، سینیٹ ٹکٹ کیلئے کسی سے رابطہ تک نہیں کیا تھا۔ڈاکٹر آصف کرمانی نے اپنے بیان میں کہا کہ مسلم لیگ ن میں ہوں اور نواز شریف کو آج بھی اپنا قائد سمجھتا ہوں۔ڈاکٹر آصف کرمانی نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ مسلم لیگ نہیں چھوڑی، حادثاتی نہیں پیدائشی مسلم لیگی ہوں، مجھے کسی سے مسلم لیگی ہونے کا سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں ہے، سیاسی نومولود گمراہ کن خبریں پھیلانے سے باز رہیں۔مسلم لیگ ن کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف نے بھی سینیئر رہنماؤں کو سینیٹ الیکشن کیلئے ٹکٹ نہیں دیے۔
خیال رہے کہ سینیٹ انتخابات 2 اپریل کو ہوں گے جس میں قومی اسمبلی اور تمام صوبائی اسمبلیوں کے ارکان حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔ -

میثاق معیشت کی ہماری دعوت قبول کی جاتی تو آج حالات مختلف ہوتے، عطا تارڈ
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عطاء اللّٰہ تارڑ نے کہا کہ ٹیکس اصلاحات اور ایف بی آر کی تنظیم نو پر بھی کام کیا جا رہا ہے، کوئی دن نہیں گزرتا جب وزیرِ اعظم معیشت سے متعلق کوئی میٹنگ نہ کرتے ہوں، سیاسی استحکام کے نتیجے میں ہی معاشی استحکام آتا ہے، وزیرِ اعظم روز کی بنیاد پر اقتصادی معاملات پر میٹنگ کر رہے ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللّٰہ تارڑ نے کہا ہے کہ ملکی معاشی صورتِ حال فوری اقدامات کی متقاضی ہے، خسارے میں جانے والے اداروں کی نجکاری کی جائے گی ،وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ قومی یکجہتی اور سلامتی کے لیے ہمیں اکٹھے ہونا چاہیے، ہم ملک کو ڈیفالٹ نہیں ہونے دیں گے، لوگوں کی زندگی کو آسان بنانا ہمارا مشن ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کی عمارت کے سامنے احتجاج کا کیا مطلب ہے، پاکستان آکر احتجاج کریں، میثاق معیشت کی ہماری دعوت قبول کی جاتی تو آج حالات مختلف ہوتے، عالمی مالیاتی جریدوں نے وزیر خزانہ کی تقرری کو مثبت قرار دیا ہے۔
-

پی ٹی آئی کا شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی چیک پوسٹ پر دہشت گرد حملوں کی مذمت
پاکستان تحریک انصاف نے شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی چیک پوسٹ پر دہشت گرد حملوں کی مذمت کی ہے۔ ترجمان تحریک انصاف کا مزمت کرتے ہوئے کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے حملے میں پاک فوج کے بہادر سپوتوں کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار اور شمالی وزیرستان میں خود کش حملوں کے نتیجے میں7 افسران و جوانوں کی جانوں کے ضیاع کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ دہشت گردوں کی بزدلانہ کارروائی کا جواں مردی سے مقابلہ کرنے پر سیکیورٹی فورسز کے بہادر جوان خراج تحسین کے مستحق ہیں۔ سیکیورٹی فورسز کے بہادر سپوتوں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کیلئے پاکستانی قوم اور افواج کے بہادر جوانوں نے تاریخی قربانیاں پیش کی ہیں۔
ملک بھر خصوصاً خیبرپختوا اور بلوچستان میں اٹھنے والی دہشت گردی کی نئی لہر حکمرانوں سے مؤثر اور ٹھوس حکمت عملی کے نفاذ کا تقاضا کرتی ہے۔دہشت گرد اور فتنہ پرور عناصر بزدلانہ کارروائیوں سے ملک کو داخلی عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستانی قوم ملک دشمن عناصر کے خلاف اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور مکمل اتحاد اور ثابت قدمی سے اندرونی و بیرونی دشمنوں کو شکست فاش دینے کیلئے پرعزم ہے۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ حملے میں قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہدا کے بلندی درجات اور اہل خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا کرتے ہیں اور امن عامہ کی بحالی اور دہشت گردی کے تدارک کیلئے فوری اور مؤثر پالیسی اقدامات کرتے ہوئے ملک دشمن عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ -

چڑیاں، جو کبھی شہری اور دیہی علاقوں میں یکساں طور پر دیکھائی دیتے تھے، آج ان کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے
ہر سال 20 مارچ کو چڑیوں کا عالمی دن دنیا بھر میں منایا جاتا ہے تاکہ چڑیوں کی کم ہوتی ہوئی آبادی کے بارے میں شعور بیدار کیا جا سکے اور ان چھوٹے پرندوں کے تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کیا جا سکے۔ یہ دن ہمارے ماحولیاتی نظام میں چڑیوں کے اہم کردار اور ان کی حفاظت کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت کی یاد دہانی کا کام کرتا ہے۔
چڑیاں، جو کبھی شہری اور دیہی علاقوں میں یکساں طور پر دیکھا جاتا تھا، مختلف عوامل جیسے بڑی عمارتیں ، آلودگی، کیڑے مار ادویات کے استعمال، اور گھونسلے بنانے کی جگہوں کی کمی کی وجہ سے ان کی تعداد سالوں میں کم ہوتی جا رہی ہے۔ ان کا زوال نہ صرف انسانی نقصان ہے بلکہ ماحولیاتی تباہی کی ایک انتباہی علامت بھی ہے۔
چڑیا کے عالمی دن کا مقصد ان مسائل کی طرف توجہ مبذول کرنا اور افراد، برادریوں اور حکومتوں کو چڑیوں اور ان کے رہائش گاہوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کرنے کی ترغیب دینا ہے۔ چڑیا کے تحفظ کی کوششوں کو فروغ دینے کے لیے پرندوں کو دیکھنے، گھوںسلا بنانے کی ورکشاپس، مقامی پودوں کو لگانا، اور پرندوں کے لیے دوستانہ جگہیں بنانے جیسی سرگرمیاں منعقد کی جاتی ہیں۔بیداری بڑھانے کے علاوہ، ورلڈ اسپیرو ڈے لوگوں کو حیاتیاتی تنوع کی اہمیت اور تمام جانداروں کے باہم رابطے کے بارے میں آگاہ کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر بھی کام کرتا ہے۔ چڑیاں نہ صرف دلکش چھوٹے پرندے ہیں بلکہ ہمارے ماحول کی صحت کے لیے بھی قیمتی اثاثہ ہیں۔ چڑیوں کی حفاظت کرکے، ہم دوسری نسلوں اور ان کے رہنے والے ماحولیاتی نظام کی بھی حفاظت کرتے ہیں۔
جب ہم چڑیا کا عالمی دن منا رہے ہیں، آئیے عہد کریں کہ ہم ان پیارے پرندوں کی حفاظت کے لیے اقدامات کریں گے۔ خواہ وہ خوراک اور پانی کے ذرائع فراہم کر کے، گھونسلے بنانے کے لیے، کیڑے مار ادویات کے استعمال کو کم کر کے، یا شہری علاقوں میں سبز جگہوں کی وکالت کر کے، ہر کوشش چڑیوں اور ہمارے سیارے کے روشن مستقبل کو یقینی بنانے کے لیے شمار ہوتی ہے۔آخر میں، چڑیا کا عالمی دن ہمیں اپنے اردگرد کی قدرتی دنیا کی حفاظت اور تحفظ کی ہماری ذمہ داری کی یاد دلاتا ہے۔ آئیے ہم مل کر ان خوش کن پرندوں کو منانے کے لیے آئیں اور آنے والی نسلوں کے لیے زیادہ پائیدار اور پرندوں کے لیے دوستانہ ماحول پیدا کرنے کے لیے کام کریں۔ -

عوام کا حق ان کی دہلیز پر پہنچانا ہمارا فرض ہے، کسی پر احسان نہیں،مریم نواز
پنجاب حکومت کی جانب سے 30 لاکھ سے زائد گھرانوں کو نگہبان رمضان پیکیج فراہم کر دیا گیا۔ترجمان پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ 64 لاکھ گھرانوں کو نگہبان رمضان پیکیج کی ترسیل جلد مکمل کر لی جائے گی۔وزیرِ اعلیٰ مریم نواز کا کہنا ہے کہ عوام کو ان کا حق ان کی دہلیز پر پہنچانا ہمارا فرض ہے، کسی پر احسان نہیں۔مریم نواز کا کہنا ہے کہ نگہبان رمضان پیکیج میں شفافیت یقینی بنانے کے لیے ہر بیگ پر کیو آر کوڈ پرنٹ کیا گیا ہے، کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ اور کیو آر کوڈ کے ذریعے شفافیت کو یقینی بنایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ 64 لاکھ افراد کو ان کی دہلیز پر رمضان پیکیج کی ترسیل منفرد ریکارڈ ہے۔
-

شہدا کی قربانیوں پر تضحیک آمیز مہم چلانے والوں کے ساتھ سختی سے پیش آئے گے، عطا اللہ تارڈ
وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللّٰہ تارڑ نے کہا کہ ایک سیاسی جماعت نے شہداء کی قربانیوں سے متعلق سوشل میڈیا پر توہین آمیز مہم چلائی گئی، جس کی مذمت کرتا ہوں، پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا کی ٹیم ان اکاؤنٹس کے پیچھے ہے، ایک سیاسی جماعت پہلے بھی شہداء کے خلاف توہین آمیز رویہ اختیار کر چکی ہے، ایسا رویہ ناقابل برداشت ہے، اس کے پیچھے لوگوں کی شناخت کی جا چکی ہے۔ کچھ ریڈ لائنز کو عبور نہیں کرنا چاہیے، تنقید برائے اصلاح کریں، لیکن شہدا کے خلاف مہم چلانے والوں کی شناخت کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا، اس طرح کی مہم چلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی، بارڈر کے پار پاکستان مخالف لابی بھی اس گھناؤنی مہم میں اپنا حصہ ڈال رہی ہے، شہداء کی توہین اور تضحیک کسی صورت قابل قبول نہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری شہداء کی توہین سے متعلق مہم کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے ۔ عطاء اللّٰہ تارڑ نے کہا کہ شمالی وزیرستان میں دہشت گردی کا واقعہ پیش آیا، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج، پولیس اور عوام نے قربانیاں دی ہیں، شہداء کے اہل خانہ کے ساتھ کھڑے ہیں۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ ٹیکس اصلاحات اور ایف بی آر کی تنظیم نو پر بھی کام کیا جا رہا ہے، کوئی دن نہیں گزرتا جب وزیرِ اعظم معیشت سے متعلق کوئی میٹنگ نہ کرتے ہوں، سیاسی استحکام کے نتیجے میں ہی معاشی استحکام آتا ہے، وزیرِ اعظم روز کی بنیاد پر اقتصادی معاملات پر میٹنگ کر رہے ہیں، ملکی معاشی صورتِ حال فوری اقدامات کی متقاضی ہے، خسارے میں جانے والے اداروں کی نجکاری کی جائے گی۔وزیر اطلاعات کا یہ بھی کہنا ہے کہ قومی یکجہتی اور سلامتی کے لیے ہمیں اکٹھے ہونا چاہیے، ہم ملک کو ڈیفالٹ نہیں ہونے دیں گے، لوگوں کی زندگی کو آسان بنانا ہمارا مشن ہے، آئی ایم ایف کی عمارت کے سامنے احتجاج کا کیا مطلب ہے، پاکستان آکر احتجاج کریں، میثاق معیشت کی ہماری دعوت قبول کی جاتی تو آج حالات مختلف ہوتے۔ -

امیر سراج الحق کا وزیراعظم اور آرمی چیف سے کچے کے ڈاکؤں کے خلاف آپریشن کی اپیل
رحیم یار خان میں کچے کے ڈاکوؤں کے ہاتھوں قتل ہونے والے مغوی احسن کی نماز جنازہ ادا کردی گئی ہے، نماز جنازہ میں امیر جماعت اسلامی سراج الحق، سیاسی سماجی اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر سراج الحق نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کچے میں ڈاکو راج قائم ہے، مغویوں کو پورے پاکستان سے جھانسہ دیکر اغوا کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومتیں ڈاکوؤں کیخلاف ناکام ہو چکی ہیں، مغوی احسن کی بہنیں قرآن پاک لیکر ڈاکوؤں کے پاس گئیں، ڈاکوؤں نے احسن اور شہزاد کو قتل کر کے لاشیں دریا میں پھینک دیں۔سراج الحق نے مزید کہا کہ ڈاکو سوشل میڈیا پر سر عام دھمکیاں لگا رہے ہیں، ریاست کو انکے نام پتے سب معلوم ہیں اب کارروائی کا وقت ہے، وزیر اعظم، آرمی چیف اور آئی جی پنجاب اپنی ذمہ داری ادا کریں۔
-

ملیکہ بخاری کا نام نو فلائی لسٹ سے نکال دیا گیا
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی بروقت مداخلت سے ملیکہ بخاری کو بیرون ملک جانے کی اجازت مل گئی۔ملیکہ بخاری نے اپنی بڑی بہن کی بیماری کے حوالے سے بیرون ملک جانے کی اپیل کی تھی، ڈاکٹرز نے فیملی کو 24 گھنٹے کا وقت دیا تھا ۔وزیراعلیٰ مریم نواز نے سوشل میڈیا پر متعلقہ حکام سے بات کرنے کا کہا تھا، تھوڑی دیر بعد ملیکہ بخاری نےسماجی رابطے کی سائٹ ’ایکس‘ پر مریم نواز کا شکریہ ادا کیا۔ملیکہ بخاری نے بتایا کہ انہیں اجازت ملنے کی اطلاع موصول ہوگئی ہے، اور ان کا نام نو فلائی لسٹ سے ہٹا دیا گیا ہے۔واضح رہے کہ ملیکہ بخاری کا کہنا تھا کہ ان کی بڑی بہن آسٹریلیا میں شدید بیماری کے باعث وینٹی لیٹر پر ہیں۔
-

پاکستان میں ایکس سروس فوری بحال کی جائے، ایمنسٹی انٹر نیشنل
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی خاموشی پر بھی تشویش کا اظہار کر کے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) کو فوری طور پر بحال کیا جائے ۔رپورٹ کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ’ایکس‘ پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سول سوسائٹی کی 28 تنظیموں کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کئے ہیں جس میں پاکستانی حکام پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ’ایکس‘ تک رسائی بحال کریں۔ بیان میں نشاندہی کی گئی کہ اس طرح کے اقدامات سے نہ صرف مختلف سیاسی جماعتوں کی رائے کو دبانے کی کوشش ہے بلکہ غلط معلومات بھی پھیلنے کا خدشہ ہے۔مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ ایسی کارروائیاں نہ صرف آزادی اظہار اور معلومات تک رسائی جیسے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرتی ہیں بلکہ ملک کے اندر مختلف آوازوں سمیت حقیقی سیاسی بات چیت کو دبانے کی ایک مثالی کوشش کی۔مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے ایکس کی بندش سے متعلق کوئی وجہ نہیں بتائی اور پورے انٹرنیٹ پلیٹ فارم کو بلاک کر کے اپنے اختیار سے تجاوز کیا۔یاد رہے کہ پاکستان بھر میں ایکس کی سروس 17 فروری سے بند ہے اور سندھ ہائیکورٹ کے حکم کے باوجود تاحال بحال نہ ہوسکی ہے۔
