Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • جاتی امرا میں آئینی ترمیم پر بڑی بیٹھک، سیاسی رہنماوں کی موجودگی

    جاتی امرا میں آئینی ترمیم پر بڑی بیٹھک، سیاسی رہنماوں کی موجودگی

    جاتی امرا میں آج رات 26ویں آئینی ترمیم کے مسودے پر غور کے لیے ایک اہم عشائیے کا انعقاد کیا گیا ہے ۔ اس عشائیے میں ملکی سیاسی قیادت کے اہم افراد شامل ہوئے، جن میں صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری شامل ہیں۔عشائیے کا مقصد پی پی اور جے یو آئی کے درمیان متفقہ آئینی مسودے پر حتمی اتفاق رائے قائم کرنا تھا۔ ذرائع کے مطابق اس موقع پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، گورنر پنجاب سلیم حیدر، اور دیگر اہم رہنما بھی موجود تھے۔
    ذرائع نے بتایا ہے کہ 26ویں آئینی ترمیم کے مجوزہ مسودے پر حتمی مشاورت کے دوران تین بڑی جماعتوں کے درمیان مشترکہ مسودے پر اتفاق رائے کا امکان ہے۔ یہ اہم بیٹھک بلاول بھٹو زرداری اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان کراچی میں اتفاق رائے کے بعد لاہور میں منعقد کی گئی ہے۔پی پی وفد میں سید نوید قمر اور مرتضیٰ وہاب شامل ہیں، جبکہ جے یو آئی وفد میں اسعد محمود، سینیٹر کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ، اسلم غوری اور دیگر رہنما شامل ہوں گے۔ ن لیگ کی جانب سے نواز شریف، شہباز شریف، مریم نواز اور پارٹی کے سینئر رہنما بھی موجود تھے۔

    ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس کے بعد اہم سیاسی بیٹھک میں شرکت کے لیے جاتی عمرہ پہنچ گئے ہیں۔ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ مشترکہ مسودے کو 18 اکتوبر کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ یاد رہے کہ بلاول بھٹو زرداری اور مولانا فضل الرحمان نے گزشتہ روز آئینی ترمیم کے مسودے پر اتفاق رائے ہونے کے بعد نواز شریف کو بھی آن بورڈ لینے کا اعلان کیا تھا۔ اس ملاقات سے قبل، دونوں رہنماؤں نے ایک مشترکہ حکمت عملی پر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا تاکہ ملک کی سیاسی صورت حال میں بہتری لائی جا سکے۔یہ عشائیہ ملکی سیاست میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، جہاں بڑی جماعتیں مل کر آئینی اصلاحات کے عمل کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

  • جے یو آئی کا آئینی مسودہ بہتر، وفاق میں آئینی بینچ ضروری: سلمان اکرم

    جے یو آئی کا آئینی مسودہ بہتر، وفاق میں آئینی بینچ ضروری: سلمان اکرم

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کی جانب سے پیش کردہ آئینی ترمیم کا مسودہ بہت بہتر ہے، جس کے ذریعے آئینی اصلاحات کی گفتگو آگے بڑھائی جا سکتی ہے۔اپنے بیان میں، سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ انہوں نے مولانا فضل الرحمان اور دیگر جے یو آئی رہنماؤں سے ملاقات کی ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ مولانا فضل الرحمان کی قیادت کی وجہ سے ممکن ہے کہ ان کی جماعت کی کوششوں کے باوجود اتنی بربادی نہ ہو جتنی کہ ممکنہ طور پر پیش آ سکتی تھی۔ "مولانا کا مسودہ بہتر ہے،سلمان اکرم راجہ نے مزید وضاحت کی کہ ان کا مقصد یہ ہے کہ آئینی بینچ میں پانچ سینئر ججز شامل کیے جائیں تاکہ آئین کی حفاظت کی جا سکے۔ انہوں نے کہا، "ہم پوری کوشش کریں گے کہ آئین پر حملہ نہ ہوسکے۔پی ٹی آئی کے رہنما نے کہا کہ ان کی حریف جماعتیں نئی عدالتیں قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں تاکہ ان کے من پسند ججز تعینات کیے جا سکیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کا یہ مقصد "چارٹر آف ڈیموکریسی” کے اصولوں کے مطابق نہیں ہے۔
    سلمان اکرم راجہ نے ایس سی او (شنگھائی تعاون تنظیم) کانفرنس کے انعقاد کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی باری تھی کہ یہ کانفرنس منعقد ہو، جو کہ ہو گئی ہے۔ انہوں نے اس بات کا ذکر بھی کیا کہ جب کشمیر کو نظر انداز کیا گیا تو اچھی گفتگو کی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔پروگرام میں شریک بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ آج ایک اہم میٹنگ ہو رہی ہے، جس میں حتمی فیصلے کیے جائیں گے اور تجاویز سے متعلق معاملات حل ہونے کی امید ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مولانا فضل الرحمان آئینی بینچ کے قیام پر بات کر رہے ہیں، جبکہ پیپلز پارٹی نے صوبوں میں آئینی عدالتیں قائم کرنے کی تجویز بھی دی ہے۔بیرسٹر عقیل ملک نے یہ بھی کہا کہ بہتر یہ ہوگا کہ وفاق میں آئینی عدالت ہو اور صوبوں کی سطح پر بھی آئینی بینچز موجود ہوں۔ انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ صوبوں کی سطح تک آئینی بینچز کے قیام کے حوالے سے تقریباً سب جماعتیں راضی ہیں، مگر وفاقی سطح پر بھی آئینی عدالتیں ہونی چاہئیں۔

  • وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کا جلوزئی دورہ: نیا پاکستان ہاؤسنگ سکیم اور سپورٹس کمپلیکس کا افتتاح

    وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کا جلوزئی دورہ: نیا پاکستان ہاؤسنگ سکیم اور سپورٹس کمپلیکس کا افتتاح

    وزیر اعلی خیبرپختونخوا سردار علی امین خان گنڈاپور نے نوشہرہ کے علاقے جلوزئی کا دورہ کیا اور نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام کے تحت ایک اہم کم لاگت ہاؤسنگ سکیم کا افتتاح کیا۔ اس منصوبے کا مقصد صوبے میں کم آمدنی والے افراد کو معیاری رہائش فراہم کرنا ہے۔ یہ منصوبہ 150 کنال رقبے پر محیط ہے اور اس پر کل لاگت کا تخمینہ 3300 ملین روپے لگایا گیا ہے۔ اس سکیم کے تحت 1320 کم لاگت اپارٹمنٹس تعمیر کیے جائیں گے، جن میں ہر اپارٹمنٹ کا کورڈ ایریا 780 مربع فٹ ہے۔ خیبر پختونخوا اسمبلی کے ذرائع نے بتایا کہ اس سکیم سے وہ افراد فائدہ اٹھا سکتے ہیں جن کی ماہانہ آمدنی 50 ہزار روپے سے کم ہے۔ مزید برآں، ہر اپارٹمنٹ پر وفاقی حکومت کی جانب سے 3 لاکھ روپے جبکہ صوبائی حکومت کی طرف سے 4 لاکھ روپے کی سبسڈی دی گئی ہے تاکہ کم آمدنی والے افراد اس سکیم سے مستفید ہو سکیں۔
    وزیر اعلیٰ سردار علی امین خان گنڈاپور نے اپنے خطاب میں کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح عوام کو ان کی بنیادی ضروریات فراہم کرنا ہے، اور یہ کم لاگت ہاؤسنگ سکیم اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے منصوبے نہ صرف رہائش کے مسائل حل کریں گے بلکہ صوبے کی مجموعی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔اس کے علاوہ، وزیر اعلیٰ نے جلوزئی ہاؤسنگ سکیم میں سپورٹس کمپلیکس کے منصوبے کا بھی سنگ بنیاد رکھا، جس پر 17 کروڑ روپے لاگت آئے گی۔ سپورٹس کمپلیکس میں سکواش کورٹ، فٹ سال گراؤنڈ، مصنوعی ٹینس اور باسکٹ بال کورٹس شامل ہوں گی۔ اس کے علاوہ، 500 میٹر طویل جاگنگ ٹریک بھی اس کمپلیکس کا حصہ ہے۔ کھیلوں کے شوقین افراد کے لیے 8 کنال رقبہ مختص کیا گیا ہے، جبکہ سینٹرل پارک کا کل رقبہ 42 کنال ہے جو کہ عوام کو تفریحی سہولتیں فراہم کرے گا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس کمپلیکس کا قیام نوجوانوں کو کھیلوں کی طرف راغب کرنے اور ان کے جسمانی اور ذہنی نشوونما کے لیے ضروری ہے۔جلوزئی میں اس قسم کے منصوبوں سے نہ صرف مقامی آبادی مستفید ہو گی بلکہ یہ صوبے کے دیگر اضلاع کے لیے بھی ایک ماڈل ثابت ہوں گے۔

  • آئینی ترمیم جمہوریت کی تقویت اور قیدیوں کی مشکلات کے حل کے لیے ضروری ہے، عرفان صدیقی

    آئینی ترمیم جمہوریت کی تقویت اور قیدیوں کی مشکلات کے حل کے لیے ضروری ہے، عرفان صدیقی

    اسلام آباد: حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر عرفان صدیقی نے مجوزہ آئینی ترمیم کے مخالفین پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس ترمیم میں شامل کسی بھی شق کی نشاندہی نہیں کر پا رہے جو بنیادی انسانی حقوق، عوامی مفاد، آئین کی روح یا عدلیہ کی آزادی کے خلاف ہو۔ اپنے ایک بیان میں سینیٹر صدیقی نے واضح کیا کہ یہ ترمیم نہ صرف جمہوریت کی تقویت کے لیے ضروری ہے بلکہ اس سے قیدیوں کی مشکلات بھی کم ہوں گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پارلیمنٹ کو وہ مقام ملنا چاہیے جو کسی بھی جمہوری پارلیمانی نظام کا بنیادی تقاضا ہے۔
    عرفان صدیقی نے مزید کہا کہ مخالفین کی جانب سے آئینی ترمیم کو صرف دھڑا بند سیاست کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے خصوصی کمیٹی کی سات میٹنگز کا ذکر کیا، جس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے ایک بھی سفارش یا تجویز پیش نہیں کی۔ سینیٹر صدیقی نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ بعض افراد نہیں چاہتے کہ جیلوں میں قید ہزاروں قیدیوں کی مشکلات کم ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ترمیم عوامی مفاد میں ہے اور اس کی مخالفت کرنے والوں کی نیت پر سوال اٹھتا ہے۔ عرفان صدیقی کے اس بیان کے بعد یہ واضح ہوتا ہے کہ حکومتی جماعت آئینی ترمیم کے معاملے میں کسی بھی قسم کی مایوسی یا مزاحمت برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہے اور وہ اپنی جانب سے کی جانے والی کوششوں کو جمہوریت کی تقویت کے لیے ایک اہم قدم سمجھتی ہے۔

  • روسی وزیراعظم ایس سی او اجلاس میں شرکت کے لئے  اسلام آباد پہنچ گئے ،

    روسی وزیراعظم ایس سی او اجلاس میں شرکت کے لئے اسلام آباد پہنچ گئے ،

    اسلام آباد: روسی فیڈریشن کے ڈپٹی وزیراعظم الیکسی اوورچک کے بعد، روس کے وزیراعظم میخائل ولادیمیرووچ مشہوسٹن بھی ایک بڑے وفد کے ساتھ اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔ یہ دورہ اہم سمجھے جانے والے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہان مملکت اجلاس کے حوالے سے ہے، جہاں روسی وفد کی تعداد نمایاں طور پر زیادہ ہے۔سفارتی ذرائع کے مطابق، مشہوسٹن کے ہمراہ آنے والا وفد دو حصوں میں پاکستان پہنچا ہے، جس میں وزیراعظم، ڈپٹی وزیراعظم، اور دو سے تین دیگر وزراء شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، وفد میں 58 سے زائد روسی صحافی بھی شامل ہیں جو اس اہم ملاقاتوں کی کوریج کے لیے موجود ہیں۔
    روسی وزیراعظم کے دورے کا مقصد نہ صرف ایس سی او اجلاس میں شرکت کرنا ہے بلکہ پاکستانی قیادت کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو مضبوط کرنا بھی ہے۔ اس موقع پر میخائل مشہوسٹن کی اعلیٰ پاکستانی انتظامیہ سے ملاقاتیں بھی متوقع ہیں، جس میں باہمی تعاون، تجارت، اور سیکورٹی کے معاملات پر بات چیت ہوگی۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ روس اور چین دونوں ایس سی او کے بانی ممالک ہیں، جنہوں نے مل کر 1996 میں شنگھائی فائیو کی بنیاد رکھی، جو بعد میں شنگھائی تعاون تنظیم کی شکل میں ترقی پذیر ہوئی۔ ایس سی او کا مقصد علاقائی سلامتی، اقتصادی تعاون، اور ثقافتی تبادلے کو فروغ دینا ہے۔
    میخائل مشہوسٹن کا یہ دورہ پاکستان کے لیے ایک اہم موقع ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کی امید ہے۔ اجلاس میں شرکت کے دوران، توقع ہے کہ وہ مختلف اہم مسائل پر بات چیت کریں گے، خاص طور پر بین الاقوامی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں اور چیلنجز کے حوالے سے۔یہ دورہ نہ صرف دو طرفہ تعلقات کے لئے اہمیت کا حامل ہے بلکہ یہ خطے میں ایک نئے اقتصادی اور سیاسی اتحاد کے قیام کی طرف بھی ایک قدم ہے، جس کی بنیادی حیثیت روس اور چین کے درمیان موجود مضبوط شراکت داری ہے۔

  • عمران خان کی میڈیکل رپورٹ: صحت مکمل بہتر، نئی ادویات کی ضرورت نہیں

    عمران خان کی میڈیکل رپورٹ: صحت مکمل بہتر، نئی ادویات کی ضرورت نہیں

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں ہونے والے طبی معائنے کی رپورٹ جاری کر دی گئی ہے۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے اس رپورٹ کو سوشل میڈیا پر شیئر کیا، جس میں بتایا گیا ہے کہ عمران خان کی صحت مکمل طور پر بہتر ہے اور انہیں کسی نئی ادویات کی ضرورت نہیں ہے۔میڈیکل رپورٹ کے مطابق، عمران خان کا معائنہ پمز اسپتال کے دو ڈاکٹروں نے کیا، جنہوں نے ان کی صحت کی مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا۔ رپورٹ میں درج کیا گیا ہے کہ ان کا بلڈ پریشر نارمل ہے، تاہم انہیں گزشتہ پانچ روز سے بدہضمی کی شکایت تھی جس کے لیے وہ ادویات استعمال کر رہے ہیں۔ مزید برآں، رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عمران خان کو گزشتہ کچھ ماہ سے ٹنی ٹس بیماری کی شکایت بھی رہی ہے، جس کے لیے وہ مخصوص دوائیں لے رہے ہیں۔

    یہ طبی معائنہ اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کی درخواست پر کیا گیا تھا، جس کا مقصد عمران خان کی صحت کی حالت کا جائزہ لینا تھا۔ طبی رپورٹ میں ان کی عمومی صحت کی تصدیق کرتے ہوئے یہ بات بھی واضح کی گئی ہے کہ انہیں کسی نئے علاج یا اضافی میڈیکیشن کی ضرورت نہیں ہے۔دوسری جانب، پی ٹی آئی نے شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر 15 اکتوبر کو ڈی چوک میں احتجاج کی کال دی تھی۔ پارٹی نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اگر عمران خان سے ملاقات کی اجازت دے دی جائے تو احتجاج کی کال واپس لے لی جائے گی۔ حکومت نے پی ٹی آئی کو یہ پیشکش کی تھی کہ وہ سرکاری ڈاکٹروں کی ایک ٹیم کے ذریعے عمران خان کا معائنہ کرا دے گی۔ پی ٹی آئی نے اس پیشکش کو قبول کرتے ہوئے اپنے احتجاج کو مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ اقدام پی ٹی آئی کی جانب سے عمران خان کی صحت کے حوالے سے عوامی تشویش کے مدنظر لیا گیا، جبکہ ان کی صحت کی بحالی کے لئے جاری کوششوں کو بھی سامنے لاتا ہے۔

  • وفاقی حکومت کا  پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل کا اعلان

    وفاقی حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل کا اعلان

    وفاقی حکومت نے آئندہ 15 روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تبدیلی کا اعلان کیا ہے۔ وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، پیٹرول کی قیمت فی لیٹر 247 روپے 3 پیسے پر برقرار رکھی گئی ہے۔نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 5 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 251 روپے 29 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ یہ نئی قیمتیں آج رات 12 بجے سے نافذ العمل ہوں گی۔حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل کا یہ فیصلہ ملکی اقتصادی صورتحال اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تبدیلی کے تناظر میں کیا گیا ہے۔
    اس کے علاوہ، اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں یہ اضافہ ملک میں مہنگائی کی شرح پر مزید دباؤ ڈال سکتا ہے، جس کے اثرات عوام پر محسوس کیے جائیں گے۔ حکومت کی جانب سے یہ اقدامات ایسے وقت میں کیے جا رہے ہیں جب ملک مہنگائی اور اقتصادی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔شہریوں نے نئی قیمتوں کے حوالے سے مختلف ردعمل کا اظہار کیا ہے، کچھ نے اسے ضروری قرار دیا ہے جبکہ دیگر نے اس پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ عوام کی جانب سے یہ مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے کہ حکومت مزید عوامی مفاد میں اقدام اٹھائے تاکہ مہنگائی کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل کا اثر ملک کی معیشت، ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور دیگر بنیادی ضروریات کی قیمتوں پر بھی پڑے گا۔

  • لاہور میں طالبہ کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی: پنجاب حکومت کی ہائی پاور کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ

    لاہور میں طالبہ کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی: پنجاب حکومت کی ہائی پاور کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ

    لاہور کے ایک نجی کالج میں ایک طالبہ کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کے معاملے میں پنجاب حکومت کی ہائی پاور کمیٹی نے اپنی ابتدائی رپورٹ جاری کی ہے۔ کمیٹی نے متاثرہ لڑکی اور اس کے والدین سے ان کے گھر پر تین گھنٹے تک ملاقات کی اور اس معاملے میں 36 افراد کے بیانات ریکارڈ کیے۔رپورٹ کے مطابق، وزیراعلیٰ پنجاب کی تشکیل کردہ ہائی پاور کمیٹی نے منگل کو اس کیس کی انکوائری میں دن گزارا۔ سول سیکریٹریٹ میں منعقدہ اعلیٰ سطح کے اجلاس میں تمام عوامل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کے ارکان میں ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران، ڈائریکٹر پنجاب گروپ آف کالجز عارف چوہدری، کالج کی پرنسپل ڈاکٹر سعدیہ جاوید، اے ایس پی گلبرگ شاہ رخ خان، اور دیگر شامل تھے۔
    متاثرہ طالبہ اور اس کے والدین نے واضح کیا کہ 2 اکتوبر کو بچی اپنے گھر میں بیڈ سے گری، جس کے بعد وہ پہلے جنرل اسپتال اور پھر 3 اکتوبر کو کینٹ میں موجود برین اینڈ سپائن کلینک میں ڈاکٹر صابر حسین کے پاس علاج کروانے گئیں۔ 4 اکتوبر کو انہیں ماڈل ٹاؤن لاہور کے اتفاق اسپتال میں داخل کرایا گیا، جہاں بچی کی حالت کی شدت کے باعث وہ آئی سی یو میں بھی رہیں۔ انہیں 11 اکتوبر کو اسپتال سے ڈسچارج کیا گیا۔متاثرہ لڑکی اور اس کے والدین نے بتایا کہ وہ 3 اکتوبر سے 15 اکتوبر تک کالج سے باقاعدہ چھٹی پر رہی ہیں، اور اس دوران سوشل میڈیا پر ان کا نام جھوٹے واقعات سے جوڑا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے ساتھ کسی قسم کا زیادتی کا واقعہ پیش نہیں آیا اور وہ اس بارے میں پھیلائی جانے والی جھوٹی معلومات کے خلاف قانونی کاروائی کرنا چاہتے ہیں۔متاثرہ طالبہ اور اس کے والدین نے پولیس کو درخواست دی ہے کہ سوشل میڈیا پر ان کے خلاف جھوٹی معلومات پھیلانے والوں کے خلاف سائبر کرائم ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ انہیں اس واقعے میں ملوث کرنے والے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
    اس معاملے میں غلط معلومات اور انتشار پھیلانے والوں کے خلاف انکوائری کے لیے ایف آئی اے نے سائبر کرائم سیل کی 7 رکنی کمیٹی بھی قائم کی ہے، تاکہ اس واقعے کی حقیقی صورت حال کا پتہ لگایا جا سکے۔یہ رپورٹ حکومت کی جانب سے انصاف کی فراہمی کے عزم کی عکاسی کرتی ہے اور اس واقعے کے تمام پہلوؤں کا جامع جائزہ لینے کی کوشش ہے۔

  • پاک چین ملاقات: تعلقات کو مضبوط کرنے کے عزم کا مشترکہ اعلامیہ  جاری

    پاک چین ملاقات: تعلقات کو مضبوط کرنے کے عزم کا مشترکہ اعلامیہ جاری

    اسلام آباد: پاکستان اور چین نے آج ہونے والی ملاقاتوں کے بعد ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے جس میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جدوجہد کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔ مشترکہ بیان کے مطابق، چینی وزیراعظم نے پاکستانی وزیراعظم، صدر، چیئرمین سینٹ، اسپیکر قومی اسمبلی اور سروسز چیفس کے ساتھ ملاقاتیں کیں، جن میں فریقین نے پاک چین اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ کو مزید مضبوط اور گہرا کرنے، عملی تعاون کو فروغ دینے، اور باہمی مفادات کے امور پر وسیع اتفاق رائے کیا۔دونوں ممالک نے پاک چین دوستی اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔ پاکستان نے صدر شی جن پنگ کے ویژن اور تجاویز کی بھرپور تعریف اور مضبوطی سے حمایت کی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان امن، سلامتی، خوشحالی اور ترقی کے روشن مستقبل کے لیے دنیا بھر کے تمام ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پرعزم ہے، اور پاک چین تعاون میں خلل ڈالنے یا کمزور کرنے کی کوئی بھی کوشش ناکامی سے دوچار ہوگی۔ چین نے بھی اپنے عزم کا اعادہ کیا کہ چین پاکستان تعلقات اس کے خارجہ امور میں اولین ترجیح ہیں۔ دونوں فریق مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

    چین نے وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں اقتصادی اصلاحات اور ترقی میں پاکستان کی کامیابیوں کی تعریف کی۔ دونوں فریقوں نے ترقیاتی حکمت عملیوں کے درمیان زیادہ سے زیادہ ہم آہنگی کو فروغ دینے پر اتفاق کیا اور ایک دوسرے کے بنیادی مفادات اور خدشات پر بے لوث حمایت کا اعادہ کیا۔پاکستان نے یہ بھی واضح کیا کہ تائیوان عوامی جمہوریہ چین کی سرزمین کا ایک ناقابل تنسیخ حصہ ہے اور چین کی قومی اتحاد کے حصول کے لیے تمام کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔ اعلامیے کے مطابق، چین نے قومی خود مختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کے دفاع میں پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔ دونوں فریقوں نے ترقی کی راہداری، گرین کوریڈور، اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کی مکمل حمایت کا عہد کیا۔ انہوں نے ایم ایل 1 کی اپ گریڈیشن اور کراچی، حیدرآباد اور دیگر سیکشنز کی مرحلہ وار تعمیر پر بھی اتفاق کیا۔ اس کے علاوہ، دونوں ممالک نے قراقرم ہائی وے (رائیکوٹ-تھاکوٹ) کی بہتری کے لیے مالی مدد حاصل کرنے کا فیصلہ کیا اور گوادر پورٹ کے معاون انفراسٹرکچر کی ترقی کو تیز کرنے پر زور دیا۔

    دونوں ممالک نے دہشت گردی کی تمام شکلوں اور مظاہر کا مقابلہ کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ پاکستان نے داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر مامور چینی اہلکاروں پر دہشت گرد حملے کی مکمل تحقیقات کا عہد کیا اور چین نے پاکستان میں ٹارگٹ سیکیورٹی اقدامات کی فوری ضرورت پر زور دیا۔ مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دونوں فریقوں نے فوجی دوروں، تربیت، مشقوں اور فوجی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کو بڑھانے پر اتفاق کیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر بین الاقوامی نظام کو برقرار رکھنے، جنوبی ایشیا میں تمام تصفیہ طلب تنازعات کے حل کی ضرورت، اور کسی بھی یکطرفہ کارروائی کی مخالفت کا عہد کیا۔چین نے جموں و کشمیر کے تنازع کے اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور دو طرفہ معاہدوں کے مطابق پرامن طریقے سے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
    دونوں فریقوں نے افغانستان کے معاملے پر رابطے اور رابطہ کاری کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا اور عبوری افغان حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ تمام دہشت گرد گروہوں کو ختم کرے۔ اس کے علاوہ، دونوں ممالک نے افغانستان کو بین الاقوامی برادری میں ضم کرنے میں مدد کے لیے تعمیری کردار ادا کرنے پر بھی اتفاق کیا۔ بیان میں غزہ میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا اور فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت کی حمایت کا اعادہ کیا گیا۔ پاکستان اور چین نے لبنان پر حالیہ اسرائیلی جارحیت پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا۔ یہ ملاقاتیں دونوں ممالک کے درمیان موجودہ اور مستقبل کے تعلقات کی ایک اہم جھلک پیش کرتی ہیں، جس میں اقتصادی، سیاسی اور سیکیورٹی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے پر زور دیا گیا ہے۔

  • جمعیت علما اسلام اور پیپلزپارٹی کا آئینی ترمیم پر اتفاق: سیاسی جماعتوں سے مشاورت کی کوشش

    جمعیت علما اسلام اور پیپلزپارٹی کا آئینی ترمیم پر اتفاق: سیاسی جماعتوں سے مشاورت کی کوشش

    کراچی میں جمعیت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایک اہم پریس کانفرنس کے دوران آئینی ترمیم کے مسودے پر اتفاق کا اعلان کیا ہے۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے آئینی ترامیم کی اہمیت اور قومی مفاد میں سیاسی جماعتوں کے مابین اتفاق رائے کی ضرورت پر زور دیا۔مولانا فضل الرحمان نے پریس کانفرنس کے دوران پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کے کردار کو سراہا اور کہا کہ آئینی ترامیم کے مسودے پر اتفاق رائے میں بلاول بھٹو نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وہ چاہتے ہیں کہ آئینی ترامیم پر تمام سیاسی جماعتیں، بشمول پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)، متفق ہوں۔مولانا فضل الرحمان نے واضح کیا کہ وہ ملک کی بہتری کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لینے کی کوشش کریں گے اور پی ٹی آئی سے بھی اس حوالے سے بات کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ قومی اہمیت کا مسئلہ ہے اور اس پر ہر طبقہ فکر کا اتفاق ضروری ہے تاکہ ایک مضبوط اور پائیدار حل نکل سکے۔
    بلاول بھٹو زرداری نے اس موقع پر کہا کہ مولانا فضل الرحمان کل مسلم لیگ (ن) کی قیادت سے مشاورت کریں گے، جبکہ وہ خود بھی نواز شریف سے ملاقات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں آئینی سازی کے عمل میں پاکستان پیپلزپارٹی اور جے یو آئی (ف) کا ہمیشہ سے اہم کردار رہا ہے اور وہ امید کرتے ہیں کہ ماضی کی طرح دونوں جماعتیں آئندہ بھی مل کر ملک کی خدمت کرتی رہیں گی۔بلاول بھٹو کا مزید کہنا تھا کہ کل وہ نواز شریف کے ساتھ بیٹھ کر آئینی ترامیم کے مسودے پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی بھرپور کوشش کریں گے تاکہ آئینی ترمیم کو متفقہ طور پر منظور کرایا جا سکے۔
    پریس کانفرنس کے دوران بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ آئینی ترمیم پر سیاسی جماعتوں کا اتفاق رائے ملک کے وسیع تر مفاد میں ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ تمام سیاسی جماعتیں اپنی ذاتی سیاست کو بالائے طاق رکھ کر ملکی مفاد کے لیے متحد ہوں گی اور آئینی ترامیم پر متفقہ رائے قائم کریں گی۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ جے یو آئی (ف) اور پیپلزپارٹی ماضی میں بھی آئینی ترمیم کے عمل میں ایک ساتھ کام کرتی رہی ہیں اور وہ مستقبل میں بھی اسی طرح ملک کے آئینی معاملات کو آگے بڑھانے کے لیے ایک ساتھ مل کر کام کریں گے۔
    مولانا فضل الرحمان نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کی آئینی تبدیلیوں پر سب کا اتفاق ضروری ہے اور وہ تمام جماعتوں، بشمول پاکستان تحریک انصاف، کے ساتھ مشاورت کریں گے تاکہ آئین میں کی جانے والی ترامیم پورے ملک کی نمائندگی کریں اور ملک کے استحکام کے لیے معاون ثابت ہوں۔اس پریس کانفرنس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جے یو آئی (ف) اور پیپلزپارٹی مل کر آئینی ترامیم کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور دونوں جماعتیں سیاسی اتفاق رائے کو برقرار رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہیں تاکہ ملک میں آئینی استحکام اور قومی مفاد کو ترجیح دی جا سکے۔