پاکستان میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس کی کوریج کے لیے آنے والی خاتون بھارتی صحافی سہاسنی حیدر نے اس دورے کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر کے اس دورے سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں بہتری کی کوئی امید نہیں ہے۔ نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سہاسنی حیدر نے کہا کہ جے شنکر کا پاکستان آنا ایک مثبت اقدام ہے، لیکن اس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے تعلقات میں کوئی نرمی آتی ہے یا نہیں، یہ دیکھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کا گوا دورہ بھی ختم ہوا تو اس کے بعد تعلقات مزید خراب ہو گئے تھے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بہتری کے امکانات کم ہیں۔
سہاسنی حیدر نے مزید کہا کہ بھارتی سیاست میں یہ عمومی سوچ پائی جاتی ہے کہ اگر کسی بھی حکومت کی کوششوں کے باوجود پاکستان کے ساتھ تعلقات میں کوئی بہتری آتی ہے تو اس کا ایک حد تک ہی ہونا ممکن ہے۔ انہوں نے بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کی جانب سے کئی مرتبہ تعلقات میں بہتری کی کوششوں کا ذکر کیا، لیکن اس کے باوجود 2019 کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں نمایاں خرابی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر دونوں ممالک 2019 کی سطح پر بھی پہنچ جاتے ہیں تو یہ ایک بڑی پیشرفت ہوگی۔سہاسنی حیدر نے اس خدشے کا بھی ذکر کیا کہ بھارتی سیاست دانوں میں یہ خوف پایا جاتا ہے کہ اگر وہ کسی بھی نئی پہل کی کوشش کریں اور کوئی دہشتگرد حملہ ہو جائے تو ان کے لیے یہ ایک بڑی مصیبت بن سکتی ہے۔
دوسری جانب، بھارتی خاتون صحافی سمیتا شرما نے کہا کہ اگر جے شنکر کی پاکستانی حکام سے کوئی ملاقات ہوئی تو انہیں اس کی کوریج کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وزیراعظم نریندرا مودی کا ایس سی او اجلاس کے لیے پاکستان نہ آنا ان کا سیاسی فیصلہ ہے، کیونکہ وہ ہیڈز آف اسٹیٹس کی میٹنگز میں شرکت کرتے ہیں نہ کہ ہیڈز آف گورنمنٹس کی میٹنگز میں۔سمیتا شرما نے مزید کہا کہ ایس سی او کے اجلاس سے چند دن قبل پاکستان میں ذاکر نائیک جیسے شخص کو مدعو کرنا، جو بھارت کی نظر میں اشتہاری ہے، ایک حساس معاملہ ہے۔ انہوں نے یہ بات کہی کہ دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے جذبات کی قدر کرنی چاہیے، اور یہ بات اہم ہے کہ پاکستانی حکومت بھی کہہ رہی ہے کہ بھارت کو انہیں ڈی پورٹ کر دینا چاہیے۔یہ گفتگو دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدہ تعلقات کے پس منظر میں اہمیت رکھتی ہے، اور بھارتی صحافیوں کی آراء سے یہ واضح ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری کے لیے ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے۔
Author: صدف ابرار

بھارتی صحافیوں کا پاک-بھارت تعلقات پر مایوسی کا اظہار

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی پاکستان تحریک انصاف پر تنقید
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو آئینی ترامیم پر اپنی تجاویز پیش کرنے میں ناکام قرار دیا ہے، جبکہ اس بات کا بھی ذکر کیا کہ ناقدین یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں کہ مجوزہ آئینی ترمیم انسانی حقوق، مفاد عامہ یا عدالتی آزادی کی خلاف ورزی کرتی ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ پر اپنے ایک ٹویٹ میں، وزیر قانون نے کہا کہ مجوزہ آئینی ترمیم سے متعلق خصوصی کمیٹی کے سات اجلاس ہونے کے باوجود پی ٹی آئی نے کوئی تجویز یا سفارش پیش نہیں کی۔ انہوں نے اس پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات واضح ہے کہ ترمیم کی مخالفت کرنے والے کسی بھی ایسی شق کی نشاندہی کرنے میں ناکام رہے ہیں جو بنیادی انسانی حقوق یا آئین کی روح کو نقصان پہنچاتی ہو۔
اعظم نذیر تارڑ نے مزید کہا کہ 26 ویں آئینی ترمیم کے معاملے کو جانبدارانہ سیاست کی عینک سے دیکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ بعض عناصر ہزاروں قیدیوں کی مشکلات کو کم کرنے اور جمہوری پارلیمانی نظام میں پارلیمنٹ کی جائز حیثیت کو بحال کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ان کے اس بیان نے ملکی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے، جہاں پی ٹی آئی کی خاموشی اور تنقید کا نشانہ بننے والی آئینی ترامیم کے مستقبل کے بارے میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ وزیر قانون کے مطابق، یہ اہم ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں مل کر ملک کی بہتری کے لیے مثبت تجاویز پیش کریں تاکہ عوام کے مفاد میں فیصلے کیے جا سکیں۔پی ٹی آئی کی جانب سے اس معاملے پر ابھی تک کوئی سرکاری جواب نہیں آیا، لیکن ان کی جانب سے متوقع ردعمل نے سیاسی حلقوں میں تشویش کی لہر پیدا کر دی ہے۔
حافظ نعیم کا شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں مسئلہ فلسطین پر آواز اٹھانے کا مطالبہ
جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے اسلام آباد میں جاری شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے سربراہ اجلاس میں مسئلہ فلسطین پر بات چیت کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے غزہ میں جاری تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری بالخصوص شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کو غزہ میں ہونے والے مظالم کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔فیصل آباد میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے حکومت کی طرف سے غزہ آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) بلانے کی جماعت اسلامی کی تجویز کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا، "شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں فلسطین کے مسئلے پر بات چیت ہونی چاہیے، اور رکن ممالک کو اجتماعی طور پر غزہ میں ہونے والے مظالم کی مذمت کرنی چاہیے۔ اگر بھارت اسرائیل کی حمایت کرتا ہے تو وہ خود کو الگ تھلگ محسوس کرے گا۔حافظ نعیم الرحمان نے سیاسی جماعتوں، بشمول پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)، کو آئینی فریم ورک کے اندر اپنے تحفظات کے اظہار کا حق تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی نے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف پرامن احتجاج کیا ہے اور سیاسی بدامنی کے وقت بھی پی ٹی آئی کے حق میں آواز بلند کی ہے۔
انہوں نے افغان جنگ اور اس کے نتیجے میں ہونے والے تنازعات کے دوران قوم پرست دھڑوں کی حمایت کرنے پر تنقید کی اور کہا کہ جماعت اسلامی ہمیشہ پشتون برادری کے ساتھ کھڑی رہے گی۔حافظ نعیم الرحمان نے آئینی ترامیم کے حوالے سے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ مجوزہ ترامیم کی ہر شق پر غور کرنے کے بجائے انہیں مکمل طور پر مسترد کریں، اس تجویز کے ساتھ کہ موجودہ چیف جسٹس کی مدت ملازمت کے بعد اس معاملے پر دوبارہ غور کیا جائے۔اس موقع پر حافظ نعیم الرحمان نے فیصل آباد کے تاجروں کی حمایت کا بھی اظہار کیا اور شہر کی معیشت میں اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے ان کی جاری شکایات کے حل کا مطالبہ کیا۔
16 اکتوبر کے لیے ٹریفک پلان جاری: اولڈ ایئرپورٹ روڈ سمیت متعدد سڑکیں بند
سٹی ٹریفک پولیس راولپنڈی نے 16 اکتوبر کے لیے خصوصی ٹریفک پلان جاری کر دیا ہے، جس کے تحت اولڈ ایئرپورٹ روڈ صبح 6 بجے سے رات 11 بجے تک ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند رہے گی۔ چیف ٹریفک آفیسر (سی ٹی او) بینش فاطمہ کے مطابق بھاری گاڑیوں کا راولپنڈی میں داخلہ مکمل طور پر ممنوع ہو گا، جبکہ اولڈ ایئرپورٹ سے منسلک پانچ سڑکوں پر ڈائیورشن لگائی جائے گی۔ متبادل راستے فراہم کر دیے گئے ہیں تاکہ شہریوں کو کم سے کم پریشانی کا سامنا کرنا پڑے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فوجی ٹاور، چوہان چوک، عمار چوک اور گلزار قائد کے مقامات پر بھی ڈائیورشن ہو گی، جبکہ کورال چوک مکمل طور پر بند رہے گا۔ مری روڈ سے اسلام آباد جانے والے راستے کو فیض آباد کے ذریعے بند کیا جائے گا۔تاہم، چاندنی چوک سے سید پور روڈ براستہ نائنتھ ایونیو اسلام آباد جانے کا راستہ کھلا رہے گا۔ بینش فاطمہ نے خبردار کیا کہ چاندنی چوک سے ڈبل روڈ تک رسائی بعض اوقات عارضی طور پر بند کی جا سکتی ہے۔شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس دوران متبادل راستوں کا استعمال کریں اور کسی بھی زحمت سے بچنے کے لیے ٹریفک حکام کی ہدایات پر عمل کریں۔

فرانسیسی صدر کا اسرائیل کو انتباہ: اقوام متحدہ کی قراردادوں کو نظرانداز نہ کریں
پیرس: فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو یاد دہانی کراتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں بھولنا نہیں چاہیے کہ اسرائیل اقوام متحدہ کی ایک قرارداد کے نتیجے میں ہی وجود میں آیا تھا۔ ماکروں نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے فیصلوں اور قراردادوں کا احترام کرے۔یہ بیان فرانسیسی صدر نے منگل کو کابینہ کے اجلاس کے دوران دیا۔ اجلاس میں ماکروں نے اسرائیل کی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نومبر 1947 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک قرارداد منظور کی تھی، جس کے تحت فلسطین کو دو ریاستوں یعنی ایک یہودی ریاست اور ایک عرب ریاست میں تقسیم کیا گیا تھا۔ اسی قرارداد کی بدولت اسرائیل کا قیام عمل میں آیا۔ماکروں نے اسرائیل کو یاد دلایا کہ اقوام متحدہ کے فیصلوں کی بدولت ہی ان کا ملک وجود میں آیا تھا اور ان فیصلوں کو نظر انداز کرنا کسی بھی ملک کے لیے مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے کہا، "یہ وقت اقوام متحدہ کے فیصلوں کو نظر انداز کرنے کا نہیں ہے۔”
اسرائیل کو اسلحہ فراہمی روکنے پر فرانس کا مطالبہ
مائکروں کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل کو اسلحے کی فراہمی روکنے کے حوالے سے فرانس کی جانب سے شدید دباؤ ہے۔ اسلحے کی فراہمی روکنے کے مطالبے پر اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی جانب سے فرانسیسی حکومت کو تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔مائکروں نے کابینہ کے اجلاس میں اسرائیلی حکومت کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے قوانین اور قراردادوں کا احترام عالمی امن کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے خلاف اقدامات سے گریز کرے اور فلسطینی علاقوں میں اقوام متحدہ کے فیصلوں کا احترام کرے۔
دوسری طرف، اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے فرانس کے مطالبے پر تنقید کی اور کہا کہ اسرائیل اپنے دفاع کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔ نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کے لیے اسلحے کی ضرورت ہے اور وہ کسی بیرونی دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے۔ایمانیول ماکروں کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب خطے میں حالات کشیدہ ہیں اور اسرائیل کی طرف سے فلسطینی علاقوں میں فوجی کارروائیوں پر بین الاقوامی سطح پر تنقید ہو رہی ہے۔ فرانس کی حکومت نے حالیہ ہفتوں میں اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینی عوام کے حقوق کا احترام کرے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی پاسداری کرے۔فرانسیسی صدر کے اس بیان کو عالمی سطح پر بھی بڑی توجہ حاصل ہو رہی ہے، اور اس سے اسرائیل پر دباؤ بڑھنے کا امکان ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے فیصلوں کو نظر انداز نہ کرے اور عالمی قوانین کی پاسداری کرے۔
نورین نیازی کا شکوہ: عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ نورین نیازی نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں اپنے بھائی سے ملاقات کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی، اور اڈیالہ جیل میں حالات بظاہر مارشل لا کی طرح ہیں۔ ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے، نورین نیازی نے کہا، "میں عمران خان سے ملاقات کرنا چاہتی تھی لیکن مجھے اجازت نہیں ملی۔ جب میں نے 2 اکتوبر کو ان سے ملاقات کی تھی، تب ان کی طبیعت ٹھیک تھی۔” انہوں نے مزید بتایا کہ "ہماری دونوں بہنیں بھی جیل میں ہیں لیکن ان کی بھی عمران خان سے ملاقات نہیں کروائی گئی، جبکہ حکومت کی طرف سے ہمارے ساتھ کوئی رابطہ بھی نہیں کیا گیا۔نورین نیازی نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ عمران خان کو ایک سابق وزیراعظم ہونے کی حیثیت سے جیل میں مناسب سہولیات نہیں دی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا، "عمران خان اپنی ہمت اور حوصلے کی وجہ سے جیل میں قید کاٹ رہے ہیں، لیکن ان کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، وہ انتہائی غیر انسانی ہے۔”
اس کے علاوہ، پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے ایک بیان میں کہا کہ سرکاری اسپتال کے ڈاکٹروں نے عمران خان کا معائنہ کیا ہے، جس کے بعد انہیں بتایا گیا ہے کہ ان کی طبیعت ٹھیک ہے۔ تاہم، عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل بھی اڈیالہ جیل گئے لیکن انہیں بانی پی ٹی آئی تک رسائی نہیں دی گئی، جس کے بعد وہ واپس آ گئے۔ یہ صورتحال ان لوگوں کی تشویش میں اضافہ کر رہی ہے جو عمران خان کی صحت اور ان کے جیل میں حالات کے بارے میں فکر مند ہیں۔ قانونی ماہرین اور انسانی حقوق کے کارکنان اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، اور عمران خان کی رہائی کے لئے ممکنہ اقدامات کے بارے میں بھی گفتگو جاری ہے۔
پی ٹی آئی کی رہنماؤں اور حامیوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عمران خان کو انسانی حقوق کے مطابق سہولیات فراہم کی جائیں، تاکہ ان کی صحت اور بھلائی کو یقینی بنایا جا سکے۔
26ویں آئینی ترمیم کسی کو دیوار سے لگانے کے لیے نہیں ، شازیہ مری
کراچی: پیپلز پارٹی کی مرکزی رہنما شازیہ مری نے کہا ہے کہ 26ویں آئینی ترمیم کسی کو دیوار سے لگانے کے لیے نہیں ہے بلکہ یہ ایک اہم آئینی ضرورت ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار بلاول ہاؤس کراچی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔شازیہ مری نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ججز کی ریٹائرمنٹ کی مدت کا تعین اور آئینی عدالت کا قیام وقت کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری مسلسل آئینی ترمیم کے حوالے سے بات کر رہے ہیں اور انہوں نے ہر فورم پر آئینی ترامیم کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ شازیہ مری نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو کا دیرینہ مطالبہ آئینی عدالت کا قیام ہے، اور یہ بات قائداعظم محمد علی جناح نے بھی مانی تھی۔ آئندہ آئینی ترمیم میں آئینی عدالت کی شق شامل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ سندھ کے عوام کے دکھ درد کو سمجھتی ہے۔ کراچی میں حالیہ افسوسناک واقعات کا ذکر کرتے ہوئے شازیہ مری نے کہا کہ سندھ صوفیوں کی دھرتی ہے اور ہمیشہ امن دشمنوں نے اس کی شناخت کو متاثر کرنے کی کوشش کی ہے۔ کراچی میں دفعہ 144 نافذ کی گئی تھی، لیکن اس کے باوجود عوام نے رواداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے حقوق کے لیے باہر نکلنے کا حق استعمال کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیرداخلہ نے اس حوالے سے فوری ایکشن لیا ہے۔شازیہ مری کے اس بیان کے بعد 26ویں آئینی ترمیم کی حمایت میں مزید شدت آنے کا امکان ہے، خاص طور پر آئینی عدالت کے قیام کے حوالے سے بحث مزید گرم ہو گئی ہے۔

مولانا فضل الرحمان اور بلاول بھٹو کی ملاقات: آئینی ترمیم اور خطے کے استحکام پر تبادلہ خیال
کراچی: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے بلاول ہاؤس میں اہم ملاقات کی، جس میں مجوزہ آئینی ترمیم پر گفتگو کی گئی۔ یہ ملاقات دونوں رہنماؤں کے درمیان سیاسی ہم آہنگی کے لیے ایک نیا باب کھولنے کی غمازی کرتی ہے۔ملاقات کے دوران، مولانا فضل الرحمان نے اس بات پر زور دیا کہ آئینی ترمیم کے مسودے پر اتفاق رائے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ترمیم نہ صرف سیاسی استحکام کے لیے اہم ہے بلکہ ملک کی آئینی ضروریات کو بھی پورا کرے گی۔ بلاول بھٹو نے اس موقع پر اس بات کا ذکر کیا کہ ان کی پارٹی آئینی اصلاحات کے عمل میں مکمل تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
دونوں رہنماؤں نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس کے پاکستان میں انعقاد پر خوشی کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس اجلاس کو خطے کی سلامتی اور استحکام کے لیے ایک مثبت قدم قرار دیا۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ایسے اجلاس بین الاقوامی تعلقات کو مضبوط بنانے اور اقتصادی ترقی کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ملاقات میں پیپلز پارٹی کے وفد میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، پیپلز پارٹی شعبہ خواتین کی صدر فریال تالپور، نثار کھوڑو، شازیہ مری، سید نوید قمر اور مرتضیٰ وہاب شامل تھے۔ اس کے مقابلے میں، جمعیت علمائے اسلام کے وفد میں سابق وفاقی وزیر مولانا اسعد محمود، مولانا ضیاالرحمان، راشد محمود سومرو، ناصر محمود سومرو، کامران مرتضیٰ، مفتی ابرار، مولانا اسجد، مولانا عبیدالرحمان اور عثمان بادینی شامل تھے۔
اس ملاقات کا مقصد سیاسی اتحاد اور باہمی تعاون کو فروغ دینا تھا، جس کے تحت دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو سمجھنے کی کوشش کی۔ اس موقع پر گفتگو کے دوران، دونوں جماعتوں نے ملک کی ترقی کے لیے مشترکہ حکمت عملی وضع کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔یہ ملاقات اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر آئینی اور سیاسی مسائل کا حل تلاش کرنے کے لیے کوشاں ہیں، جس کی ضرورت اس وقت بڑھ گئی ہے جب ملک مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ سیاسی رہنماؤں کے اس مشترکہ اقدام کو عوامی سطح پر بھی خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے، اور یہ امید کی جا رہی ہے کہ اس کے نتیجے میں ملک کی سیاسی صورتحال میں مثبت تبدیلیاں آئیں گی۔ ملاقات میں پاکستان پیپلزپارٹی کے وفد میں شازیہ مری، سید نوید قمر اور مرتضی وہاب بھی شامل تھے جمعیت علمائے اسلام کے وفد میں مولانا اسعد محمود، مولانا ضیاالرحمان، راشد محمود سومرو اور ناصر محمود سومرو ، کامران مرتضی، مفتی ابرار، مولانا اسجد محمود، مولانا عبیدالرحمان اور عثمان بادینی بھی شامل تھے،
پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کی جانب سے عمران خان کی صحت کی تصدیق
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے تصدیق کی ہے کہ اڈیالہ جیل میں پارٹی کے بانی چیئرمین عمران خان کا مکمل طبی معائنہ ہو چکا ہے اور ڈاکٹروں نے ان کی صحت کو تسلی بخش قرار دیا ہے۔ یہ معائنہ اس وقت ممکن ہوا جب ڈاکٹروں کو جیل میں عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی گئی۔ بیرسٹر گوہر نے مزید بتایا کہ عمران خان نے منگل کے روز ایک گھنٹہ ورزش بھی کی، جس سے ان کی بہتر صحت کا اشارہ ملتا ہے۔اس سے قبل، بیرسٹر گوہر خان نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا تھا کہ 3 اکتوبر کے بعد سے عمران خان کی صحت خراب ہونے کے باوجود کسی بھی وکیل، خاندان کے فرد، یا پارٹی رہنما کو ان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ پی ٹی آئی نے وزارت داخلہ کو بارہا درخواست دی کہ پارٹی رہنماؤں، خاندان کے کسی فرد، یا طبی ماہرین کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی جائے تاکہ ان کی صحت کا جائزہ لیا جا سکے۔
بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ منگل کو شام 4 بجے ایک سرکاری ڈاکٹر، ایک ای این ٹی (کان، ناک، گلا) اسپیشلسٹ سمیت دو ڈاکٹروں کی ٹیم اڈیالہ جیل پہنچی۔ ڈاکٹروں نے عمران خان کا مکمل طبی معائنہ کیا اور بتایا کہ ان کی صحت بہتر ہے اور وہ مکمل طور پر صحت مند ہیں۔ بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ عمران خان نے اس دوران ایک گھنٹہ ورزش بھی کی، جو ان کی جسمانی فٹنس کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں جلد ہی عمران خان کے طبی معائنے کی تفصیلی رپورٹس مل جائیں گی، جنہیں پارٹی کارکنوں اور عوام کے ساتھ شیئر کیا جائے گا تاکہ عوام میں پھیلنے والی افواہوں اور تشویش کا خاتمہ ہو سکے۔پی ٹی آئی کے کارکنان اور حامی گزشتہ چند دنوں سے عمران خان کی صحت کے حوالے سے شدید پریشانی میں مبتلا تھے کیونکہ کسی کو بھی ان سے ملنے کی اجازت نہیں دی جا رہی تھی۔ بیرسٹر گوہر نے پارٹی کارکنوں کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے عمران خان کی صحت کے حوالے سے مسلسل تشویش ظاہر کی اور اس بات پر زور دیا کہ پارٹی قیادت بھی عمران خان کی صحت کے معاملے میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کرے گی۔
یاد رہے کہ ایک روز قبل، عمران خان کی صحت کے حوالے سے یقین دہانی ملنے کے بعد پی ٹی آئی نے اسلام آباد میں ہونے والے ممکنہ احتجاج کو منسوخ کر دیا تھا۔ اس احتجاج کا مقصد عمران خان کی صحت اور ان سے ملاقات کی اجازت نہ دینے کے خلاف آواز اٹھانا تھا۔ یہ احتجاج شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے جاری سربراہ اجلاس کے موقع پر ہو سکتا تھا، جس میں کئی ممالک کے اہم رہنما اور معززین موجود تھے اور اسلام آباد میں سخت سیکیورٹی نافذ تھی۔پی ٹی آئی کی جانب سے یہ اعلان کارکنان اور حامیوں کے لیے اطمینان کا باعث بنا ہے کیونکہ عمران خان کی صحت کے حوالے سے خدشات ختم ہو چکے ہیں اور جلد ہی ان کی مکمل صحت یابی کی تفصیلات عوام کے ساتھ شیئر کی جائیں گی۔
حکومت جو وعدہ کرتی ہے اس سے مکر جاتی ہے، شاہد خاقان عباسی
کراچی: عوام پاکستان پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے ایک تقریب میں کہا ہے کہ انفرادی بجلی پیدا کرنے والے ادارے (آئی پی پیز) کی ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ ملک کی معیشت کو تباہ کریں، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ معیشت خود آئی پی پیز کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ شاہد خاقان عباسی نے حکومت پاکستان کی جانب سے کئے گئے وعدوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "حکومت جو وعدہ کرتی ہے اس پر کھڑی نہیں رہتی۔ آپ کیسے ملک چلا سکتے ہیں؟” انہوں نے کہا کہ "آپ دعویٰ کرتے ہیں کہ 411 ارب روپے کی بچت ہوئی، لیکن اس کے عوض آپ کو 4 ہزار ارب روپے ادا کرنا پڑتے ہیں۔سابق وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ 2014 میں ملک میں 16 گھنٹے تک بجلی کی لوڈشیڈنگ ہوتی تھی، لیکن آج پاکستان کی کل بجلی کی پیداوار صرف 18 ہزار میگاواٹ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ "پاکستان آج صرف 18 ہزار میگاواٹ بجلی پر کھڑا ہے۔”
خاقان عباسی نے مزید کہا کہ "مجھے پلانٹس کے نام زبانی یاد ہیں، کیپسٹی چارجز تقریباً 18 روپے فی یونٹ بنتے ہیں۔ اگر آج ڈالر کی قیمت 100 روپے ہوتی تو یہ 18 روپے 6 روپے ہوتے۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان سالانہ 90 ارب یونٹس بجلی پیدا کرتا ہے، اور یہ کہ بجلی کی کھپت بہت زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا، "ہم نے اپنی معیشت کو تباہ کر دیا ہے۔ اگر ڈالر 100 روپے کا ہوتا تو معیشت ترقی کر رہی ہوتی، آج ہر یونٹ 3 روپے کا ہوتا۔ سارا پاکستان ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا ہوا ہے کہ آئی پی پیز پاکستان کو کھا گئے۔خآقان عباسی نے اس پر افسوس کا اظہار کیا کہ ہمیں سمجھ نہیں ہے کہ دنیا اور ملک کیسے چلتے ہیں، اور ہمیں مارکیٹ بیسڈ اکانومی کی حقیقی تعریف بھی نہیں معلوم۔ انہوں نے کہا کہ "آج بھی ہمارے ریگولیٹرز انتہائی کمزور ہیں۔سابق وزیراعظم نے واپڈا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ "کسی زمانے میں واپڈا ایک بہترین ادارہ تھا، لیکن آج ہمیں موجودہ مسائل کو سمجھنے اور ان کا حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔عباسی کی یہ تقریر اس وقت سامنے آئی ہے جب پاکستان بجلی کی قلت اور معیشت کی مشکلات کا سامنا کر رہا ہے، جس نے عوامی زندگی کو متاثر کیا ہے اور حکومت کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے ہیں۔









