Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • وزیراعظم لی چیانگ کا دورہ پاکستان، دوطرفہ تعلقات کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا،  چین

    وزیراعظم لی چیانگ کا دورہ پاکستان، دوطرفہ تعلقات کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا، چین

    چینی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم لی چیانگ کا حالیہ دورہ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط کرنے میں ایک اہم کردار ادا کرے گا۔ وزارت خارجہ کے ترجمان ماؤ نینگ نے اس بات کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اس دورے سے پاکستان کے ساتھ روایتی دوستی کو مزید فروغ ملے گا، اسٹریٹیجک رابطے مضبوط ہوں گے، اور چین-Pakistan Economic Corridor (CPEC) کی تعمیر اور ہمہ جہتی تعاون میں مزید وسعت کی توقع ہے۔ترجمان نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ چینی اہلکاروں کی حفاظت میں بہتری آئے گی، اور دونوں ممالک مل کر علاقائی امن، استحکام، ترقی اور خوشحالی برقرار رکھنے کے لیے کام کرتے رہیں گے۔ ماؤ نینگ کا کہنا تھا کہ "چین اور پاکستان کے تعلقات آزمائشوں کا سامنا کرتے ہوئے چٹان کی طرح مضبوط ہیں۔
    چینی وزارت خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے جون میں چین کا کامیاب دورہ کیا تھا، جس کے نتیجے میں رہنماؤں کے درمیان طے پانے والے اہم نکات پر دونوں ممالک نے پوری طرح عمل کیا ہے۔ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان موجود روابط کی عکاسی کرتا ہے اور دونوں کے تعلقات کی ترقی کی اعلیٰ سطح پر بہتر رفتار کا مظہر ہے۔ماؤ نینگ نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ چین اور پاکستان ایک "آہنی دوست” اور "تمام موسموں کے تزویراتی تعاون کے شراکت دار” ہیں، اور یہ کہ دونوں ممالک کے تعلقات ہمیشہ مضبوط رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "چین پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کے لیے پرعزم ہے۔چینی وزارت خارجہ کی اس بیان بازی سے واضح ہوتا ہے کہ چین اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں استحکام اور باہمی تعاون کی ایک نئی لہر کی توقع کی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے عوام کو مزید فوائد حاصل ہوں گے۔ یہ دورہ نہ صرف اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو بڑھانے کے لیے اہم ہوگا بلکہ اسٹریٹیجک سطح پر بھی دونوں ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دے گا۔

  • پیرس: مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال پر میکرون کا ایرانی صدر سے ٹیلیفونک رابطہ

    پیرس: مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال پر میکرون کا ایرانی صدر سے ٹیلیفونک رابطہ

    مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور خصوصاً غزہ اور لبنان کی بگڑتی صورتحال کے پیش نظر فرانس کے صدر ایمانویل میکرون نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا ہے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی اس گفتگو کا مقصد خطے میں امن و امان کے قیام اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ایران کی مدد حاصل کرنا تھا۔فرانسیسی صدارتی دفتر کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق صدر میکرون نے ایرانی صدر کو واضح طور پر کہا کہ ایران کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنی ذمہ داریاں نبھانی چاہئیں اور خطے میں استحکام لانے میں اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے ایران سے اس بات پر زور دیا کہ غزہ اور لبنان میں موجود کشیدگی کے خاتمے کے لیے ایران اپنی اثر و رسوخ کا استعمال کرے۔
    بیان میں مزید کہا گیا کہ صدر میکرون نے ایرانی صدر سے مطالبہ کیا کہ وہ حزب اللّٰہ کی جانب سے کیے جانے والے حملے رکوانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ فرانس اس وقت خطے میں جاری تنازعات کو ختم کرنے کی سفارتی کوششوں میں مصروف ہے اور چاہتا ہے کہ ایران اس سلسلے میں اپنی کوششوں کو مزید تیز کرے تاکہ خطے میں قیامِ امن ممکن ہو سکے۔میکرون نے خطے میں تنازعے کے حل کے لیے ایران کو ایک کلیدی کردار کے طور پر پیش کیا اور کہا کہ ایران، جو حزب اللّٰہ کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتا ہے، اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے حملے رکوانے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے غزہ کی صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنے اور خطے میں انسانی بحران کو کم کرنے کے لیے بھی ایران کے تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔
    واضح رہے کہ مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کی ہے، جہاں غزہ میں جاری تنازعات اور لبنان میں ہونے والی جھڑپوں نے امن کی کوششوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ فرانس، جو خطے میں استحکام اور امن کے قیام کا خواہاں ہے، اس سلسلے میں ایران جیسے کلیدی ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ صورتحال کو بہتر بنایا جا سکے۔یہ سفارتی گفتگو اس بات کی عکاس ہے کہ عالمی رہنما مشرق وسطیٰ کے تنازعات کو ختم کرنے کے لیے مل کر کام کرنے کے لیے کوشاں ہیں اور ایران کو اس میں ایک اہم کردار ادا کرنا ہو گا۔

  • پی ٹی آئی کی احتجاجی کال: مرکزی رہنماؤں کی مخالفت اور اپوزیشن کا پیغام

    پی ٹی آئی کی احتجاجی کال: مرکزی رہنماؤں کی مخالفت اور اپوزیشن کا پیغام

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی مرکزی قیادت اسلام آباد میں متوقع احتجاج کے حق میں نہیں ہے، جس کی وجہ سے اپوزیشن جماعتوں میں بھی اختلاف نظر آ رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق، پی ٹی آئی کے رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی، اسد قیصر، مولانا فضل الرحمن کی جانب سے احتجاج ملتوی کرنے کی درخواست پر غور کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں، اپوزیشن اتحاد کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے بھی ایس سی او سمٹ کے دوران احتجاج کے حق میں نہیں ہونے کی بات کہی۔ ان کے مطابق، سیاسی مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا زیادہ بہتر ہوگا۔جے آئی رہنما لیاقت بلوچ نے بھی اسد قیصر سے رابطہ کر کے 15 اکتوبر کے احتجاج کو موخر کرنے کی درخواست کی ہے۔ ذرائع کے مطابق، اسد قیصر، بیرسٹر گوہر اور علی امین گنڈاپور بھی اس احتجاج کے حق میں نہیں ہیں۔
    حامد خان اور سلمان اکرم راجہ نے بھی ایس سی او سمٹ کے دوران احتجاج کی مخالفت کی ہے۔ اس کے برعکس، پنجاب کی قیادت کے اہم رہنما، حماد اظہر اور شیخ وقاص اکرم نے احتجاج کے حق میں پیغامات جاری کیے ہیں، جس سے جماعت کے اندر اختلافات مزید بڑھ رہے ہیں۔دوسری طرف، شہباز گل اور قاسم سوری ملک سے باہر بیٹھ کر پی ٹی آئی کے ورکرز کو احتجاج کے لئے اکسا رہے ہیں، جو کہ پارٹی کے اندر موجود عدم اتفاق کی عکاسی کرتا ہے۔ ذرائع کے مطابق، تحریک تحفظ آئین پاکستان اتحاد میں شامل جماعتیں بھی اس احتجاج کے حق میں نہیں ہیں، جس نے اپوزیشن کی جماعتوں کو پی ٹی آئی قیادت کو واضح پیغام بھجوانے پر مجبور کیا ہے کہ سیاسی اختلافات کو برداشت کرنے کی بجائے ایک دوسرے کے ساتھ مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے۔
    یہ صورت حال پی ٹی آئی کے اندر موجود عدم اتفاق کی عکاسی کرتی ہے، جبکہ دیگر سیاسی جماعتیں بھی اس معاملے میں محتاط رہنے کا فیصلہ کر رہی ہیں۔ اس تنازعے کے نتیجے میں، یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا پی ٹی آئی اپنی احتجاجی کال کو برقرار رکھے گی یا سیاسی صورتحال کی روشنی میں اسے موخر کرنے کا فیصلہ کرے گی۔

  • پاکستان اور چین کی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید تقویت: اہم ملاقات کے نتائج

    پاکستان اور چین کی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید تقویت: اہم ملاقات کے نتائج

    اسلام آباد: وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف اور چین کے وزیراعظم عزت مآب لی چیانگ کے درمیان آج وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں اہم ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں کے مابین وفود کی سطح پر دو طرفہ تعلقات، علاقائی و عالمی امور، اور باہمی دلچسپی کے معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ملاقات میں پاک چین تعلقات کی تاریخی اہمیت اور اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کی گئی، جسے دونوں ممالک نے باہمی اعتماد اور مشترکہ اصولوں پر مبنی قرار دیا۔ وزیراعظم شہباز شریف اور چینی وزیراعظم لی چیانگ نے اس پر اطمینان کا اظہار کیا کہ پاک چین شراکت داری وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہی ہے اور اس میں مسلسل بہتری آ رہی ہے۔
    ملاقات میں چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے دوسرے مرحلے کی ترقی اور اس کے معیار پر خاص زور دیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سی پیک کا فیز 2، جو کہ پاکستان کی معیشت کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے، کو مزید مؤثر اور تیز رفتار طریقے سے آگے بڑھایا جائے گا۔ دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سی پیک کے تحت جاری تمام منصوبے جیسے کہ صنعت، زراعت کی جدیدیت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، اور سائنس و ٹیکنالوجی کی ترقی کو بروقت مکمل کیا جائے گا تاکہ پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔وزیراعظم شہباز شریف نے ملاقات کے دوران پاکستان میں موجود چینی باشندوں اور سی پیک منصوبوں پر کام کرنے والے چینی کارکنان کی حفاظت کے حوالے سے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ پاکستان ہر ممکن قدم اٹھائے گا تاکہ چینی باشندوں اور منصوبوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔
    ملاقات میں چینی صنعت کی پاکستان میں ری لوکیشن اور چینی سرمایہ کاری کو مزید بڑھانے کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان میں چینی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے جامع حکمت عملی وضع کی جائے گی، جس سے دونوں ممالک کو معاشی فوائد حاصل ہوں گے۔دونوں رہنماؤں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ پاکستان اور چین علاقائی اور عالمی اہمیت کے مسائل پر بھی قریبی مشاورت جاری رکھیں گے اور کثیر الجہتی فورمز پر مشترکہ موقف اپنائیں گے۔ دونوں ممالک کے رہنماؤں نے اعلیٰ سطح کے روابط کو جاری رکھنے پر زور دیا اور مستقبل میں دو طرفہ تعاون کے تمام شعبوں کو مضبوط کرنے کے لیے پر عزم رہنے کا عہد کیا۔یہ ملاقات پاکستان اور چین کے درمیان دیرینہ اور مضبوط تعلقات کے ایک اور اہم سنگ میل کی نشاندہی کرتی ہے، جس سے نہ صرف دونوں ممالک کی شراکت داری کو مزید تقویت ملے گی بلکہ خطے میں استحکام اور ترقی کو بھی فروغ ملے گا۔

  • حکومتی پالیسیوں نے گندم کی بمپر کراپ کو نقصان پہنچایا؛ بلاول بھٹو زرداری

    حکومتی پالیسیوں نے گندم کی بمپر کراپ کو نقصان پہنچایا؛ بلاول بھٹو زرداری

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حالیہ خطاب میں موجودہ حکومت کی پالیسیوں کو ملک کی زرعی معیشت کے لئے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومتی فیصلوں نے گندم کی فصل کو تباہ کیا ہے۔ بلاول بھٹو نے اپنی والدہ شہید بینظیر بھٹو کے دور حکومت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اُس وقت آلو کی بمپر کراپ ہوئی تھی اور بینظیر بھٹو نے دلیرانہ فیصلہ لیا تھا کہ حکومت آلو خریدے گی تاکہ کسانوں کو نقصان نہ ہو۔بلاول بھٹو زرداری نے بتایا کہ جب بینظیر بھٹو نے فیصلہ کیا تھا کہ حکومت آلو خرید کر مچھلیوں کو کھلائے گی لیکن کسانوں کو بھوکا نہیں سونے دے گی، اس وقت اسلام آباد میں موجود بیوروکریسی نے ان کے اس فیصلے کی مخالفت کی تھی۔ لیکن بینظیر بھٹو نے اپنے کسانوں کی فلاح کے لئے ہر چیلنج کو قبول کرتے ہوئے اس منصوبے کو عملی جامہ پہنایا۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ زراعت پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور ہر پاکستانی کسان موسمیاتی تبدیلی اور حکومتی نا اہلی کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔ ان کے مطابق، آج ہر طبقہ پریشان ہے، اور حکومتی پالیسیاں کسانوں کو مزید مشکلات میں ڈال رہی ہیں۔انہوں نے آصف زرداری کے دور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب وہ صدر بنے، اُس وقت پاکستان گندم، چاول، اور چینی باہر سے منگواتا تھا، لیکن آصف زرداری نے کسانوں کو وہ پیسہ دیا تاکہ وہ خود اپنی پیداوار کو بڑھا سکیں۔ اس کے برعکس، آج حکومت کی پالیسیاں زرعی شعبے کو کمزور کر رہی ہیں۔
    بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی نے پاکستان کے کسانوں کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں سمارٹ ایریگیشن اور گرین ایریگیشن جیسی جدید تکنیکی طریقوں کو اپنانا ہوگا تاکہ زرعی شعبے کو موسمیاتی تبدیلی کے نقصانات سے بچایا جا سکے۔ پرانے اور مہنگے طریقے ہماری معیشت کے لئے مزید نقصان دہ ثابت ہو رہے ہیں۔بلاول بھٹو نے کسانوں کے لئے ہاری کارڈ متعارف کرانے کا اعلان کیا، جو زرعی انقلاب کا آغاز ہوگا۔ اس کارڈ کے ذریعے کسانوں کو بیج، قدرتی آفات کے دوران انشورنس، اور دیگر ضروری وسائل فراہم کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق، وقت کی ضرورت ہے کہ ہم کسانوں کو ایسے بیج مہیا کریں جو ہر موسم میں کاشت ہو سکیں۔بلاول بھٹو زرداری نے عدالتی نظام پر بھی بات کی اور کہا کہ بینظیر بھٹو نے اس نظام کے مسائل کا حل بتایا تھا، اور پیپلز پارٹی آئینی عدالت کے قیام کا مطالبہ کرتی ہے، جس میں چاروں صوبوں کی برابر نمائندگی ہو۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی آئینی ترامیم کے لیے جے یو آئی کے ساتھ مل کر کام کرے گی اور حیدرآباد میں 18 اکتوبر کو جوڈیشل ریفارمز کا مطالبہ کیا جائے گا۔
    بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ مفاہمت کی سیاست کو فروغ دیا ہے اور وہ جمہوری عمل کو مضبوط کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کارکن بی بی شہید کے وعدوں کو نبھانے کے لیے کمپرومائز نہیں کریں گے۔بلاول بھٹو زرداری نے اپنے خطاب کے آخر میں کہا کہ زرعی شعبے کو بچانے اور ملک کی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے کسانوں کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ کسانوں کو براہ راست سبسڈی دی جائے اور فرٹیلائزر کمپنیوں کے بجائے کسانوں کو خود سپورٹ فراہم کی جائے۔

  • چین کا پاکستان کی ترقی میں اہم کردار جاری رہے گا: چینی وزیراعظم

    چین کا پاکستان کی ترقی میں اہم کردار جاری رہے گا: چینی وزیراعظم

    اسلام آباد: چین کے وزیراعظم لی چیانگ نے کہا ہے کہ چین پاکستان کی ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ یہ بات انہوں نے پیر کے روز اسلام آباد میں پاکستان اور چین کے درمیان مختلف معاہدوں پر دستخط کی تقریب میں کہی، جس میں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف بھی شریک تھے۔اس موقع پر دونوں ممالک نے کئی اہم معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے، جن میں اسمارٹ کلاس رومز، سی پیک ورکنگ گروپ سے متعلق مفاہمتی یادداشت، انسانی وسائل کی ترقی، آبی وسائل کے شعبے، اطلاعات و مواصلات، غذائی تحفظ اور مشترکہ لیبارٹریوں کے قیام جیسے موضوعات شامل تھے۔دونوں وزرائے اعظم نے نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا ورچوئل افتتاح بھی کیا۔ چینی وزیراعظم لی چیانگ نے اپنے خطاب میں کہا کہ گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی تکمیل ایک اہم سنگ میل ہے اور یہ دونوں ممالک کے درمیان گہری اور مضبوط دوستی کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ چین اور پاکستان کی تذویری شراکت داری مضبوط ہوتی جا رہی ہے، اور دونوں ممالک مشترکہ مستقبل اور ترقیاتی اہداف کے لیے پختہ عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔
    وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین نے متعدد شعبوں میں یادداشتوں کا تبادلہ کیا ہے، جو دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نئے باب کا اضافہ ہے۔ انہوں نے چین کے پختہ عزم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ گوادر ایئرپورٹ دونوں ممالک کی مضبوط دوستی اور باہمی تعاون کا مظہر ہے، اور چین نے پاکستان کے معاشی ترقی کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں ہمیشہ کلیدی کردار ادا کیا ہے۔یہ معاہدے پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی، تعلیمی، اور سائنسی تعاون کو مزید فروغ دینے میں اہم کردار ادا کریں گے اور دونوں ممالک کی دوستی کو ایک نئی بلندی پر لے جائیں گے۔

    مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط اور باہمی تعاون کے نئے مواقع

    اسلام آباد میں نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی تکمیل کی تقریب میں وزیراعظم شہباز شریف اور چین کے وزیراعظم لی چیانگ نے شرکت کی۔ اس تقریب میں دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے مفاہمتی یادداشتوں اور سمجھوتوں پر دستخط کیے گئے۔تقریب میں "اسمارٹ کلاس رومز” کے قیام سے متعلق مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ کیا گیا، جس کے تحت پاکستان کے تعلیمی اداروں میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھایا جائے گا۔ اس کے علاوہ سی پیک کے تحت گوادر میں ساتویں جوائنٹ ورکنگ گروپ کے اجلاس کے نکات کی دستاویزات بھی تبادلہ کی گئیں، جس سے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی راہداری کے مزید منصوبوں پر تیزی سے عمل درآمد ممکن ہو سکے گا۔دونوں ممالک نے انسانی وسائل کی ترقی کے حوالے سے بھی اہم دستاویزات کا تبادلہ کیا، جس کا مقصد پاکستان میں نوجوانوں کی تربیت اور ترقی کے مواقع کو بہتر بنانا ہے۔ اطلاعات اور مواصلات کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے حوالے سے بھی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے، جس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، انٹرنیٹ، اور معلومات کے تبادلے میں شراکت داری مزید مضبوط ہو گی۔

    آبی وسائل اور سلامتی کے شعبے میں بھی تعاون

    اس موقع پر آبی وسائل کے شعبے میں بھی مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے، جس کے تحت پاکستان میں پانی کے وسائل کے بہتر انتظام اور ترقیاتی منصوبوں میں چین کی معاونت حاصل ہوگی۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان سلامتی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کی دستاویزات کا تبادلہ بھی کیا گیا، جس کا مقصد خطے میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانا اور مشترکہ سیکیورٹی اقدامات کو فروغ دینا ہے۔یہ دورہ پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کرنے میں اہم ثابت ہوگا، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور سماجی ترقی کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی تکمیل سے بلوچستان کی علاقائی ترقی میں تیزی آئے گی اور یہ منصوبہ سی پیک کے تحت ہونے والے دیگر منصوبوں کے لیے بھی ایک نمونہ ثابت ہوگا۔

  • قطر کے شاہی خاندان کی بلوچستان کے نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کی یقین دہانی

    قطر کے شاہی خاندان کی بلوچستان کے نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کی یقین دہانی

    کوئٹہ: قطر کے شاہی خاندان کے رکن شیخ طلال خلیفہ کے اے التھانی نے بلوچستان کے نوجوانوں کو قطر میں روزگار فراہم کرنے کی یقین دہانی کروا دی۔ پیر کے روز وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے شیخ طلال کی قیادت میں قطر کے وفد نے اہم ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے قطری وفد کو بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں اور نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے حوالے سے آگاہ کیا۔ وزیراعلیٰ نے قطری وفد کو "چیف منسٹر یوتھ اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام” کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت 30 ہزار نوجوانوں کو مختلف شعبوں میں تربیت دے کر قطر اور دیگر ممالک میں روزگار کے مواقع فراہم کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔
    وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ یہ پروگرام بلوچستان کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا، جہاں پہلی بار اتنی بڑی تعداد میں نوجوانوں کو بیرون ملک باعزت روزگار فراہم کیا جائے گا۔ اس اقدام سے نہ صرف یہ نوجوان اپنے خاندانوں کی کفالت کریں گے بلکہ پاکستان کے لیے قیمتی زر مبادلہ بھی بھجوائیں گے، جس سے ملکی معیشت میں استحکام آئے گا اور غربت میں کمی واقع ہوگی۔شیخ طلال خلیفہ کے اے التھانی نے "چیف منسٹر یوتھ اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام” کو سراہتے ہوئے بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ قطر مختلف شعبوں میں بلوچستان کے نوجوانوں کو روزگار دینے کے لیے تیار ہے، تاکہ وہ اپنے ملک کی خدمت کے ساتھ ساتھ قطر میں بھی ترقی میں حصہ ڈال سکیں۔
    اس موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان نے قطری شاہی خاندان کے وفد کو بلوچستان کی ثقافت اور روایات کے مطابق سوئنیر اور تحائف پیش کیے، جس پر معزز مہمانوں نے شکریہ ادا کیا۔یہ ملاقات دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے فروغ کا باعث بنے گی اور بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے قطر میں روزگار کے دروازے کھلنے کا ایک بڑا موقع فراہم کرے گی، جس سے صوبے میں معاشی ترقی اور خوشحالی کے نئے راستے ہموار ہوں گے۔

  • پاراچنار: قبائلی تصادم میں 18 افراد جاں بحق، ٹل پاراچنار روڈ تیسرے روز بھی بند

    پاراچنار: قبائلی تصادم میں 18 افراد جاں بحق، ٹل پاراچنار روڈ تیسرے روز بھی بند

    پاراچنار میں قبائلی تصادم کے نتیجے میں جاں بحق افراد کی تعداد 18 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ تصادم سے علاقے میں شدید کشیدگی پائی جاتی ہے۔ واقعہ کنوائی کے مقام پر پیش آیا جہاں دو قبائل کے مابین فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں درجنوں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔فائرنگ کا واقعہ گزشتہ روز پیش آیا، اور اب تک پولیس کے مطابق 18 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ میں ملوث 30 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس نے واقعے کو سنگین قرار دیتے ہوئے کہا کہ امن و امان کی بحالی کے لیے مکمل آپریشن کیا جا رہا ہے تاکہ علاقے میں دوبارہ پرتشدد واقعات سے بچا جا سکے۔
    ضلعی انتظامیہ کے مطابق اس فائرنگ کے بعد سے ٹل پاراچنار مین روڈ تیسرے روز بھی مکمل طور پر بند ہے، جس سے لوگوں کی آمد و رفت میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ اس سڑک کی بندش سے نہ صرف مقامی شہری بلکہ علاقے کے دیگر افراد بھی متاثر ہو رہے ہیں جو اس سڑک پر سفر کرتے ہیں۔ڈپٹی کمشنر جاویداللہ محسود کے مطابق فائرنگ کا آغاز کنج علیزئی پہاڑی علاقے سے ہوا، جہاں دونوں قبائل کے درمیان پہلے سے چلی آنے والی دشمنی نے ایک بار پھر پرتشدد رخ اختیار کیا۔ فائرنگ میں پانچ افراد زخمی بھی ہوئے جنہیں مقامی اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ زخمیوں میں سے کچھ کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔
    واضح رہے کہ دو روز قبل بھی ضلع کرم میں دو قبائل کے درمیان مسلح جھڑپ ہوئی تھی جس میں 15 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ اس مسلسل تصادم نے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیلایا ہوا ہے اور مقامی افراد اپنے گھروں تک محدود ہو چکے ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے علاقے میں امن و امان کی بحالی کے لیے اضافی سیکیورٹی فورسز تعینات کر دی گئی ہیں تاکہ مزید جانی نقصان کو روکا جا سکے۔پولیس اور مقامی حکام کی جانب سے فریقین کے مابین مذاکرات کی کوششیں جاری ہیں، تاہم ابھی تک کوئی کامیاب حل سامنے نہیں آیا ہے۔ علاقے میں حالات تاحال کشیدہ ہیں اور فائرنگ کے مزید واقعات کے خدشے کے پیش نظر انتظامیہ ہنگامی صورتحال کے لیے تیار ہے۔

  • پی ٹی آئی بلوچستان کے صدر داؤد شاہ کاکڑ کو پولیس نے گرفتار کرلیا

    پی ٹی آئی بلوچستان کے صدر داؤد شاہ کاکڑ کو پولیس نے گرفتار کرلیا

    کوئٹہ: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بلوچستان کے صوبائی صدر اور سینئر رہنما داؤد شاہ کاکڑ کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔ داؤد شاہ کاکڑ کی گرفتاری اس وقت عمل میں آئی جب وہ کوئٹہ سے سبی جا رہے تھے تاکہ وہاں منعقد ہونے والے پی ٹی آئی کے جلسے میں شرکت کر سکیں۔اطلاعات کے مطابق داؤد شاہ کاکڑ کو سریاب روڈ پر پولیس نے روک کر حراست میں لے لیا۔ گرفتاری کے وقت داؤد شاہ کاکڑ سبی جا رہے تھے جہاں پاکستان تحریک انصاف کا ایک بڑا عوامی اجتماع منعقد ہونا تھا، جس میں ان کی شرکت اہم سمجھی جا رہی تھی۔
    پولیس کی جانب سے ان کی گرفتاری کی کوئی باضابطہ وجہ ابھی تک سامنے نہیں آئی ہے، تاہم یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب پی ٹی آئی کے خلاف ملک بھر میں کریک ڈاؤن جاری ہے۔ پارٹی کارکنان اور رہنما حالیہ مہینوں میں مختلف مقدمات اور تحقیقات کا سامنا کر رہے ہیں۔داؤد شاہ کاکڑ کی گرفتاری پر پی ٹی آئی کے کارکنان اور حامیوں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ پارٹی کے مقامی رہنماؤں نے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اسے سیاسی انتقام قرار دیا اور کہا کہ حکومت پی ٹی آئی کی مقبولیت سے خوفزدہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ داؤد شاہ کاکڑ ایک مقبول رہنما ہیں اور ان کی گرفتاری کا مقصد پارٹی کو کمزور کرنا ہے۔
    بلوچستان میں پی ٹی آئی کی قیادت کا کہنا ہے کہ جلسہ ہر حال میں منعقد ہوگا اور وہ داؤد شاہ کاکڑ کی رہائی کے لیے قانونی اور عوامی سطح پر اقدامات کریں گے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ سیاسی مخالفین کو دبانے کی بجائے جمہوری طریقہ اپنائے۔واضح رہے کہ داؤد شاہ کاکڑ بلوچستان میں پی ٹی آئی کے متحرک رہنماؤں میں سے ایک ہیں اور انہوں نے صوبے میں پارٹی کے پیغام کو عام کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کی گرفتاری نے صوبے کے سیاسی ماحول کو مزید گرم کر دیا ہے اور پی ٹی آئی کے کارکنان میں غم و غصہ پیدا کر دیا ہے۔

  • نئی دہلی میں فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے آتشبازی پر پابندی

    نئی دہلی میں فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے آتشبازی پر پابندی

    بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں فضائی آلودگی کی بڑھتی ہوئی سطح کے پیش نظر آتشبازی پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ دہلی پلوشن کنٹرول کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ آتشبازی کے سامان کی تیاری، ذخیرہ کرنے، فروخت کرنے اور استعمال کرنے پر پابندی ہوگی۔ اس فیصلے کا مقصد آلودگی کی سطح کو کم کرنا ہے، خاص طور پر اس وقت جب دو ہفتے بعد یکم نومبر کو دیوالی کا تہوار منایا جانے والا ہے، جس میں آتشبازی اہم کردار ادا کرتی ہے۔نئی دہلی کی فضائی آلودگی کی صورتحال گزشتہ چند برسوں سے تشویش ناک رہی ہے۔ 2020 کی ایک رپورٹ کے مطابق، 2019 میں فضائی آلودگی کی وجہ سے تقریباً ساڑھے 17 ہزار افراد کی جانیں گئیں۔ اس سے قبل بھی آتشبازی پر مختلف پابندیاں لگائی گئی تھیں، مگر ان پر عملدرآمد کی کمی دیکھنے میں آئی۔ پولیس اکثر مذہبی جذبات کے خیال میں ان پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے سے گریز کرتی ہے، جس کے نتیجے میں آتشبازی کا استعمال جاری رہا۔
    پلوشن کنٹرول کمیٹی کے مطابق، یہ پابندی دیوالی کے دوران آلودگی کی سطح میں اضافے کو روکنے کے لیے عائد کی گئی ہے۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ فضائی آلودگی کے اثرات سے بچنے کے لیے عوامی تعاون کی ضرورت ہے اور اس پابندی کے ذریعے ایک مثبت پیغام دیا جا رہا ہے کہ صحت اور ماحول کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے۔نئی دہلی کے رہائشیوں نے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیا ہے، تاہم بعض شہری اس پابندی کے نتیجے میں دیوالی کے تہوار کی روایتی خوشیوں میں کمی محسوس کر رہے ہیں۔ آتشبازی کے مخالفین کا کہنا ہے کہ یہ پابندی ماحول کی حفاظت کے لیے ضروری ہے، جب کہ دیگر کا خیال ہے کہ تہوار کے دوران آتشبازی کا استعمال روایتی طور پر ہوتا ہے، اور اس پر پابندی لگانے سے خوشیوں میں کمی آ سکتی ہے۔یہ پابندی اگرچہ آلودگی کی سطح کو کم کرنے کے لیے اہم قدم ہے، مگر اس کے اثرات اور عوام کی ردعمل کا اندازہ آنے والے دنوں میں ہوگا۔ اس ضمن میں حکومت کی جانب سے عوام کو آگاہ کرنے اور اس پابندی پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہوگی۔