دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کی تیاریاں مکمل ہیں، جس کے تحت پاکستان پہلی بار اس تنظیم کی صدارت سنبھالے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایس سی او میں پاکستان کی حالیہ شمولیت اور چئیرمین شپ اہم سنگ میل ہیں، جو ملک کی خارجہ پالیسی میں نئی تبدیلیوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا کہ "ایس سی او کے قوانین کے مطابق، صدارت جس ملک کے پاس ہوتی ہے، وہی ملک کانفرنس کا انعقاد کرتا ہے۔” یہ کانفرنس مختلف موضوعات پر مرکوز ہوگی، جن میں معاشی تعاون، نوجوانوں کے امور، سماجی و اقتصادی ترقی، اور بڑھتی ہوئی غربت شامل ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ چینی وزیراعظم کی پاکستان آمد پر معاشی معاملات پر زیادہ زور دیا جائے گا۔ "ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ سی پیک (چین-پاکستان اقتصادی راہداری) کے معاملات کو کس طرح مزید آگے بڑھایا جا سکتا ہے اور کس طرح معاشی تعاون اور تجارت میں وسعت لائی جا سکتی ہے۔ممتاز زہرہ بلوچ نے یہ بھی بتایا کہ علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر پیش رفت بہت اہم ہیں، خصوصاً جب پاکستان جنوری سے اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کا رکن بننے جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "چین پہلے ہی سیکیورٹی کونسل کا مستقل رکن ہے، اور دونوں ممالک اگلے دو سالوں میں سیکیورٹی کونسل میں مل کر کام کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ "یہ چیزیں بھی ہم لیڈر شپ لیول پر ڈسکس کریں گے۔اس موقع پر ترجمان دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ بھارتی وزیر خارجہ یا وفد کے ساتھ ایس سی او اجلاس کے دوران پاکستان کی جانب سے کوئی ملاقات طے نہیں کی گئی ہے، جس سے خطے میں تعلقات کی پیچیدگیوں کی عکاسی ہوتی ہے۔ یہ کانفرنس عالمی سطح پر تعاون اور ترقی کے امور پر ایک اہم موقع فراہم کرے گی، جس کا مقصد نہ صرف علاقائی مسائل کو حل کرنا ہے بلکہ مشترکہ ترقی کی راہوں کو بھی ہموار کرنا ہے۔
Author: صدف ابرار
-

ایس سی او کانفرنس، بھارتی وفد سے ملاقات کا امکان نہیں، ممتاز زہرہ بلوچ
-

بلوچستان اسمبلی کا کل ہونے والا اجلاس: صحت، تعلیم اور مالیاتی مسائل پر اہم فیصلے متوقع
کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی کا اجلاس کل سہ پہر تین بجے ہوگا جس میں صوبے کے مختلف اہم مسائل زیر بحث آئیں گے۔ اعلامیہ کے مطابق، بی بی عصمت ملک کی جانب سے ایک توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیا جائے گا جس میں میمو ریک ہسپتال، خدا بادان، پنجگور کو فعال نہ کیے جانے کی طرف اسمبلی کی توجہ مبذول کرائی جائے گی۔بی بی عصمت ملک نے پنجگور کے لوگوں کو درپیش صحت کی بنیادی سہولیات کے فقدان پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ میمو ریک ہسپتال کا طویل عرصے سے غیر فعال رہنا عوام کے لیے شدید مشکلات پیدا کر رہا ہے، اور اس حوالے سے حکومت کی جانب سے کسی مؤثر اقدام کا نہ اٹھایا جانا قابل مذمت سمجھا جا رہا ہے۔اجلاس میں صوبے کے مالیاتی امور پر بھی گفتگو کی جائے گی۔ صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیرانی آئین کے آرٹیکل 171 کے تحت بلوچستان کے مالی سال کی آڈٹ رپورٹس پیش کریں گے۔ ان آڈٹ رپورٹس کا مقصد صوبے کے مالی معاملات میں شفافیت کو یقینی بنانا اور کسی بھی قسم کی بے ضابطگیوں کو سامنے لانا ہے۔ یہ رپورٹس حکومتی وسائل کے استعمال اور ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل سے متعلق تفصیلات فراہم کریں گی۔
اجلاس میں صوبے میں تعلیم کی ابتر صورتحال پر بھی توجہ دی جائے گی۔ ایک قرار داد پیش کی جائے گی جس میں صوبے میں تعلیمی سہولیات کی زبوں حالی اور بچوں کی تعلیم تک رسائی میں درپیش مشکلات پر روشنی ڈالی جائے گی۔ قرار داد کے ذریعے حکومت سے تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کیا جائے گا تاکہ صوبے کے بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کی جا سکے اور ان کی تعلیم تک رسائی کو بہتر بنایا جا سکے۔اعلامیہ کے مطابق، اجلاس میں محکمہ ایس اینڈ جی اے ڈی اور محکمہ فشریز سے متعلق مختلف سوالات بھی دریافت کیے جائیں گے جن کے جوابات ایوان کو دیے جائیں گے۔ محکمہ فشریز کے حوالے سے مچھلیوں کے غیر قانونی شکار اور اس شعبے میں ہونے والی ممکنہ بے ضابطگیوں پر بھی بحث کی توقع ہے۔اجلاس میں شرکت کے لیے تمام اراکین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بروقت اسمبلی پہنچیں تاکہ صوبے کے عوامی مسائل پر بروقت کارروائی کی جا سکے۔ بلوچستان کے عوام اس اجلاس کو انتہائی اہمیت دے رہے ہیں کیونکہ صوبے کے صحت، تعلیم اور مالیاتی مسائل کے حوالے سے مؤثر فیصلے متوقع ہیں۔
-

پاکستان کی معیشت میں بہتری: چینی سرمایہ کاری کی اہمیت پر وزیر خزانہ کا خطاب
اسلام آباد: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ چین پاکستان کے توانائی کے شعبے میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے، جس کی بدولت چینی انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز (IPPs) پاکستان میں بڑے سرمایہ کار بن گئے ہیں۔ انہوں نے یہ بات چائنہ چیمبر آف کامرس کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جہاں انہوں نے چین کی پاکستان میں سرمایہ کاری کو سراہا اور کہا کہ یہ قابل تحسین ہے۔وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ چین کی ترقی دنیا کے لیے ایک مثال ہے اور اس کے ساتھ پاکستان کی اسٹریٹجک شراکت داری انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ انہوں نے کہا، "ہم سی پیک فیز ٹو کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں، اور پاکستان کی معیشت مثبت سمت کی جانب گامزن ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ جلد ہی معاشی استحکام کی امید کی جا سکتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پچھلے چند مہینوں کے دوران پاکستان کی کرنسی میں استحکام آیا ہے اور اس کے زرمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہ پاکستان سی پیک کے دوسرے مرحلے کا آغاز کرنے جا رہا ہے، انہوں نے کہا کہ "پاکستان اور چین کی اسٹریٹیجک شراکت داری قابل تحسین ہے۔”
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات عطاءاللہ تارڑ نے پاکستان اور چین کے تعلقات کو دہائیوں پر محیط دوستی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ "پاکستان اور چین کے درمیان دوستی نسل در نسل آگے منتقل ہو رہی ہے، اور دونوں ممالک کے عوام کا ایک دوسرے کے ساتھ جذباتی لگاﺅ ہے۔” تارڑ نے چین کے اس تعاون کی تعریف کی جس نے ہر اچھے اور برے وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا۔وفاقی وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ "سی پیک دونوں ملکوں کی قربت اور مثالی دوستی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔” انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سی پیک صرف پاکستان اور چین کی خوشحالی کا منصوبہ نہیں بلکہ پورے خطے کی ترقی کے لیے بھی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ "اس منصوبے کے تحت توانائی کے اہم منصوبے لگائے گئے ہیں، جو کہ توانائی کے مسائل کے حل میں مددگار ثابت ہوئے ہیں۔عطاءاللہ تارڑ نے اس بات کی نشاندہی کی کہ "پاکستان کی معاشی بہتری میں چین کا کردار نہایت اہم ہے، اور دونوں ممالک سی پیک کے اگلے مرحلے کا آغاز کرنے جا رہے ہیں۔” ان کے اس بیان نے پاکستان اور چین کے درمیان موجود قریبی تعلقات کو ایک بار پھر اجاگر کیا ہے، جو دونوں ممالک کی مستقبل کی ترقی کے لیے خوش آئند ہے۔
-

بلاول بھٹو کا آئینی عدالت کے قیام اور آئینی اصلاحات کی ضرورت پر زور
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری نے حال ہی میں سپریم کورٹ کے جج جسٹس دراب پٹیل کے تجربے کی روشنی میں آئینی عدالت کے قیام کی ضرورت پر زور دیا۔ کراچی سے جاری بیان میں، بلاول نے کہا کہ جسٹس پٹیل نے آئینی عدالت کے قیام کا خیال عاصمہ جہانگیر، آئی اے رحمان اور دیگر اہم شخصیات کے ساتھ شیئر کیا، جنہوں نے ان کے اس خیال سے اتفاق کیا۔بلاول بھٹو زرداری نے اس موقع پر کہا، "تاریخ ان لوگوں کے لئے ناگوار ہے جو سمجھتے ہیں کہ سیاست کا آغاز کرکٹ ورلڈکپ سے ہوتا ہے۔” انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جو لوگ سمجھتے ہیں کہ سیاست کا عروج بانی پی ٹی آئی اور جنرل فیض کے انقلاب پر ہوتا ہے، وہ بھی تاریخ کے صفحات میں اپنا مقام کھو دیں گے۔
بلاول نے کہا کہ ان کا عزم آئینی ارتقاء، منشور، اور میثاق جمہوریت کے لئے ہمیشہ یکساں رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "چاہے وزیراعظم، ججز، اور اسٹیبلشمنٹ کے چہرے بدلتے رہیں، ہم کبھی بھی آمروں اور ججز کی طرح من مانی سے قانون سازی یا آئین میں ترمیم نہیں کرتے۔ ہم اپنی نسلوں کے لئے اہداف حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔چیئرمین پی پی پی نے واضح کیا کہ 18ویں ترمیم میں 1973 کے آئین کو بحال کرنے میں انہیں 30 سال لگے، اور جسٹس افتخار چوہدری کے سیاسی فیصلوں کے نقصانات دور کرنے میں دو دہائیاں گزر چکی ہیں۔ انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ 26ویں ترمیم کی تیاری عجلت میں نہیں کی جا رہی، حالانکہ یہ کافی عرصہ پہلے ہی ہونی چاہیے تھی۔ -

بابر اعظم: پاکستانی ٹیم پر بوجھ، اوقات یاد دلا دی گئی
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی بابر اعظم کا کیرئیر آج کل شدید تنقید کی زد میں ہے، اور حالیہ پی سی بی اجلاس کے فیصلے نے اس بحث کو مزید تقویت دی ہے کہ آیا بابر اعظم واقعی قومی ٹیم کے معیار پر پورا اترتے ہیں یا نہیں۔ بابر اعظم اب خود ایک سوالیہ نشان بن چکے ہیں۔دس سالہ طویل کرکٹ کیریئر میں بابر اعظم کی کارکردگی پر نظر ڈالیں تو حقائق حیران کن ہیں۔ اتنے لمبے عرصے میں بابر کا ایک ففٹی نہ بنانا ان کی کرکٹ اہلیت پر سنجیدہ سوالات کھڑے کرتا ہے۔ ایک ایسا کھلاڑی جس سے قوم کو بڑی امیدیں وابستہ تھیں، اس کی مسلسل ناکامیوں نے شائقین کو مایوس کر دیا ہے۔ پی سی بی کے حالیہ اجلاس میں بابر کو ملتان ٹیسٹ سے باہر کرنے کا فیصلہ کیا گیا، لیکن اس کو ’ریسٹ‘ کا نام دے کر چھپانے کی کوشش کی گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ بابر اعظم کی ناقص کارکردگی نے انہیں ٹیم سے باہر کروا دیا ہے۔
پی سی بی اجلاس کے دوران باخبر ذرائع کے مطابق جیسن جلسیپی اور شان مسعود جیسے کرکٹ کے ماہرین بابر کو برقرار رکھنا چاہتے تھے، لیکن عاقب جاوید کی مخالفت نے پی سی بی کو مجبور کیا کہ وہ بابر کے حق میں فیصلہ نہ دے۔اور پھر بابر اعظم کو ملتان ٹیسٹ سے باہر کر دیا گیا۔ پی سی بی اجلاس کے دوران ملتان ٹیسٹ دے بابر اعظم کو نکال کر دراصل بابر اعظم کو ان کی حدود یاد دلائی گئی ہیں۔ بابر اعظم کی حالیہ کارکردگی، مسلسل ناکامیوں اور انفرادی سطح پر بہتر کارکردگی نہ دکھانے سے ٹیم کی مجموعی پرفارمنس بھی متاثر ہو رہی ہے۔ بابر کی کپتانی کے دوران، ٹیم کو کئی مواقع پر شکست کا سامنا کرنا پڑا، اور ان کی اپنی بیٹنگ میں وہ تسلسل نظر نہیں آتا جو ایک کپتان میں ہونا چاہیے۔پاکستان کرکٹ کو اب ایسے کھلاڑیوں کی ضرورت ہے جو صرف نام کے نہیں، بلکہ عملی طور پر کارکردگی دکھا کر ٹیم کو اوپر لے جائیں۔ بابر اعظم کے پاس مواقع تھے، مگر ان کی مسلسل ناکامیوں نے انہیں اس مقام پر پہنچا دیا جہاں انہیں ٹیم سے باہر کر دیا گیا۔ اگر وہ اب بھی اپنی کارکردگی بہتر نہیں کرتے، تو شاید مستقبل میں ان کی واپسی کا کوئی امکان بھی نہ ہو۔
دوسری جانب پی سی بی اجلاس کے دوران عثمان کا فارغ کر دیا گیا اور اب امید کی جا رہی ہے کہ عثمان کی جگہ مدثر نذر کو لائے جانے کا امکان ہے۔ مدثر نذر اور عاقب جاوید جیسے منجھے ہوئے کھلاڑیوں کے پی سی بی میں ہونے سے پاکستان کرکٹ میں بہتری آئے گی اور کھلاڑیوں کا کھیل بھی بہتر ہو گا ۔
-

وفاقی دارالحکومت میں روٹی اور نان کی نئی قیمتیں مقرر
اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں روٹی اور نان کی نئی قیمتیں مقرر کر دی گئی ہیں۔ ڈپٹی کمشنر کی ہدایت پر، اسسٹنٹ کمشنر سیکرٹریٹ نے نان بائی ایسوسی ایشن کے نمائندوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کی، جس کے نتیجے میں روٹی کی قیمت 16 روپے جبکہ نان کی قیمت 20 روپے طے کی گئی ہے۔ترجمان ضلعی انتظامیہ کے مطابق، نئی قیمتوں کے تعین کے لیے نان بائی ایسوسی ایشن کے ساتھ تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اس مشاورت کا مقصد صارفین کے مفادات کا تحفظ اور مارکیٹ میں استحکام کو برقرار رکھنا تھا۔ باہمی مشاورت کے بعد طے شدہ قیمتوں کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق، 120 گرام روٹی کی قیمت 16 روپے ہوگی جبکہ 120 گرام نان کی قیمت 20 روپے مقرر کی گئی ہے۔ یہ نئی قیمتیں 13 اکتوبر، بروز اتوار سے نافذ العمل ہوں گی۔ ضلعی انتظامیہ نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ وہ نان بائیوں اور دکانداروں سے مقررہ قیمتوں پر اشیاء کی خریداری کریں اور کسی بھی انحراف کی صورت میں فوری طور پر انتظامیہ سے شکایت کریں۔یہ اقدام عوامی دباؤ اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناظر میں کیا گیا ہے، تاکہ لوگوں کو بنیادی ضروریات کی اشیاء معقول قیمتوں پر فراہم کی جا سکیں۔ نان بائی ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے بھی نئی قیمتوں کو تسلیم کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ان قیمتوں پر عمل درآمد کریں گے۔ عوامی سطح پر اس فیصلے کو سراہا جا رہا ہے، اور امید کی جا رہی ہے کہ اس سے روٹی اور نان کی رسد میں بہتری آئے گی اور صارفین کی مشکلات کم ہوں گی۔ -

کسی کے مرضی کے خلاف ان کے ضمیر خریدنے کی کوششیں جمہوری عمل نہیں ہیں۔ اسد قیصر
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیئر رہنما اور رکن قومی اسمبلی اسد قیصر نے اپنی پارٹی کے چیئرمین عمران خان کی صحت کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عمران خان کے ذاتی معالج کو ان سے ملاقات کی اجازت دی جائے، تاکہ ان کی صحت کا بہتر خیال رکھا جا سکے۔ اسد قیصر نے اپنی بات چیت میں کہا کہ ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال ایسی ہے کہ جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ آئین میں ترمیم کے لیے لوگوں کو ووٹ کے لیے اغوا کیا جا رہا ہے، جو کہ جمہوری اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ دنیا بھر میں کہیں بھی نہیں دیکھا گیا کہ ووٹ کے لیے لوگوں کے گھروں کی چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کروڑوں اور اربوں روپے کی پیشکشوں، عہدوں کے لالچ، اور لوگوں کی مرضی کے خلاف ان کے ضمیر خریدنے کی کوششیں جمہوری عمل نہیں ہیں۔ اسد قیصر نے پی ٹی آئی کے سینیٹرز اور ممبران اسمبلی کے گھروں پر چھاپے مارنے، ان کی عزت و ناموس کو پامال کرنے، اور کھلے عام پیسوں اور عہدوں کی پیشکشوں کی بھرپور مذمت کی۔ اسد قیصر نے اس موقع پر 15 اکتوبر کو اسلام آباد میں ہونے والے احتجاج کے بارے میں بھی بات کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کسی صورت شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کانفرنس کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتی، بلکہ پارٹی کے کارکنان کی جانب سے ہونے والے احتجاج کا مقصد عمران خان کی صحت کے حوالے سے حکومت کی عدم توجہی کی نشاندہی کرنا ہے۔
یہ صورت حال نہ صرف پی ٹی آئی کے لیے چیلنج بنی ہوئی ہے بلکہ ملک کی سیاسی فضا پر بھی منفی اثر ڈال رہی ہے۔ اسد قیصر کے بیانات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ پی ٹی آئی موجودہ حالات کے خلاف ایک منظم ردعمل دینے کے لیے تیار ہے، اور وہ عمران خان کی صحت کو ہر ممکن طریقے سے محفوظ رکھنا چاہتی ہے۔
حکومت کے رویے اور موجودہ سیاسی صورت حال کے تناظر میں، اسد قیصر کی گفتگو سے یہ بھی عیاں ہوتا ہے کہ ملک میں جمہوری روایات کی پاسداری کی ضرورت ہے تاکہ عوامی اعتماد بحال ہو سکے۔ -

ایس سی او اجلاس کے دوران احتجاج ملکی مفادات کے خلاف ہے، اسحاق ڈار
نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک سیاسی جماعت کی جانب سے ریاست پر حملہ آور ہونے اور 15 اکتوبر کو شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس کے دوران احتجاج کی کال دینے کو ملکی مفادات کے خلاف قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات نہ صرف ریاست کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی سفارتی پوزیشن کو بھی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔اسحاق ڈار نے کہا کہ ایک سیاسی جماعت نے ریاست پر حملہ کر کے ریڈ لائن کو عبور کر لیا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر 15 اکتوبر کو ہونے والے احتجاج کی کال پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس موقع پر احتجاج کی کال دینا ناقابل فہم ہے، کیونکہ پاکستان شنگھائی تعاون تنظیم کے ایک بڑے اور اہم اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، "یہ کہاں کی عقل مندی ہے کہ جب ہمارے ملک میں بین الاقوامی مہمان آ رہے ہوں، اس وقت احتجاج کیا جائے؟ یہ ریاست اور عوام دونوں کے مفاد کے خلاف ہے۔ اگر کسی کو احتجاج کرنا ہے، تو وہ ایس سی او اجلاس کے بعد کرے۔ ہمیں ملک کی عزت اور وقار کو ہمیشہ مقدم رکھنا چاہیے۔اسحاق ڈار نے واضح طور پر کہا کہ 15 اکتوبر کو ہونے والا احتجاج فوری طور پر منسوخ کیا جانا چاہیے تاکہ پاکستان کا بین الاقوامی سطح پر ایک مثبت تاثر ابھر سکے اور اجلاس کے دوران کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ ایس سی او اجلاس کے لیے پاکستان کی تمام تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں اور حکومت اس بڑے سفارتی ایونٹ کو کامیاب بنانے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑے گی۔ انہوں نے کہا، "پاکستان ایس سی او کے تمام ممبر ممالک کے وفود کو خوش آمدید کہنے کے لیے تیار ہے اور شاندار میزبانی کی روایت کو جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔” اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ یہ اجلاس پاکستان کے لیے ایک موقع ہے کہ وہ بین الاقوامی سطح پر اپنا مثبت امیج دوبارہ قائم کرے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دنیا کے بڑے ممالک یہاں جمع ہو رہے ہیں۔اسحاق ڈار نے ان عناصر پر بھی تنقید کی جو پاکستان کی بین الاقوامی تنہائی کی باتیں کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا، "جو لوگ یہ کہہ رہے تھے کہ پاکستان سفارتی طور پر تنہا ہو گیا ہے، وہ اب کہاں ہیں؟” ان کا کہنا تھا کہ ایس سی او جیسے بڑے اجلاس کی میزبانی کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر اپنا اہم کردار ادا کر رہا ہے اور بین الاقوامی برادری کا پاکستان پر اعتماد بحال ہو رہا ہے۔
نائب وزیر اعظم نے ملک کی تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ قومی مفاد کو اولین ترجیح دیں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو ملک کے بین الاقوامی وقار کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ حکومت تمام سیاسی جماعتوں سے توقع کرتی ہے کہ وہ مل کر کام کریں اور پاکستان کے وقار اور ساکھ کو مزید مضبوط کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں ایسے وقت میں احتجاج کرنا جب عالمی رہنما پاکستان میں موجود ہوں، غیر ذمہ دارانہ حرکت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کو احتجاج کرنے کے حق سے انکار نہیں، لیکن انہیں ملکی مفادات اور قومی وقار کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے فیصلے کرنے چاہئیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس پاکستان کے لیے ایک انتہائی اہم ایونٹ ہے۔ یہ نہ صرف علاقائی سطح پر بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے لیے اہمیت کا حامل ہے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ یہ اجلاس پاکستان کی سفارتی اور اقتصادی پوزیشن کو مضبوط کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔ ایس سی او کے رکن ممالک میں چین، روس، بھارت، اور وسطی ایشیائی ریاستیں شامل ہیں، اور ان تمام ممالک کے وفود کی موجودگی میں پاکستان کے لیے دو طرفہ اور کثیر الجہتی تعلقات کو فروغ دینے کے امکانات روشن ہوں گے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ یہ اجلاس علاقائی امن و استحکام کے لیے اہم ثابت ہو گا اور پاکستان کا اس میں کردار کلیدی ہو گا۔
نائب وزیر اعظم اسحاق ڈا نے زور دیا کہ ملک کی عزت اور استحکام کو ہر حال میں مقدم رکھا جانا چاہیے۔ احتجاجی سرگرمیاں، خاص طور پر ایسے اہم مواقع پر جب پاکستان بین الاقوامی توجہ کا مرکز ہو، ملکی وقار کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی حکمت عملی طے کریں اور اس ایونٹ کو کامیاب بنانے میں حکومت کے ساتھ تعاون کریں۔یہ بیان پاکستان کے لیے ایک اہم موقع ہے کہ وہ عالمی سطح پر اپنا کردار مزید مضبوط کرے اور علاقائی و عالمی امن کے فروغ میں اپنا حصہ ڈالے۔ -

بلاول بھٹو اور نواز شریف کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ، 26ویں آئینی ترمیم پر تبادلہ خیال
اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف کے درمیان اہم ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے جس میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال اور آئندہ ممکنہ آئینی ترامیم پر بات چیت کی گئی۔ذرائع کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے خصوصی طور پر 26ویں آئینی ترمیم پر پیش رفت کا جائزہ لیا۔ بلاول بھٹو زرداری نے نواز شریف کو مجوزہ آئینی ترمیم پر جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) سے ہونے والی بات چیت اور پیش رفت سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر بلاول نے جے یو آئی کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیش رفت اور سیاسی جماعتوں کے درمیان ہونے والے اتفاق رائے کی تفصیلات فراہم کیں۔اس رابطے میں دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کے مابین تعاون اور مفاہمت ضروری ہے۔ خاص طور پر آئینی ترمیم کے معاملے پر تمام جماعتوں کو اتفاق رائے سے آگے بڑھنا ہوگا تاکہ آئینی تبدیلیاں عوام کی بہتری اور ملکی استحکام کے لیے مؤثر ثابت ہوں۔
بلاول بھٹو زرداری اور نواز شریف کے درمیان ہونے والی گفتگو کو ملک میں جاری سیاسی بحران اور آئینی معاملات کے حل کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان اتحاد اور اتفاق رائے قومی مفاد کے لیے ناگزیر ہے۔یاد رہے کہ 26ویں آئینی ترمیم کا مقصد ملک میں کچھ بنیادی آئینی مسائل کو حل کرنا ہے، جس پر سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔ اس ترمیم کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ مشاورت کا عمل جاری ہے، اور بلاول بھٹو زرداری نے نواز شریف کو اس حوالے سے تازہ ترین پیش رفت سے آگاہ کیا۔اس ٹیلی فونک رابطے کے بعد سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ دونوں رہنما ملک میں جاری سیاسی بحران کے حل کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر کام کرنے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ -
بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواست: اہم سیاسی ارکان کا وزارت داخلہ سے رجوع
اسلام آباد: وزارت داخلہ کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کی باضابطہ درخواست موصول ہو گئی ہے۔ یہ درخواست پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما بیرسٹر گوہر اور سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا کی جانب سے دی گئی ہے، جنہوں نے سابق وزیراعظم اور پی ٹی آئی کے بانی عمران خان سے فوری ملاقات کی اجازت طلب کی ہے۔درخواست کے متن میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ آخری بار 3 اکتوبر کو پی ٹی آئی کے وکلا کی عمران خان سے ملاقات ہوئی تھی، اور اب ایک بار پھر فوری ملاقات کرنے کی ضرورت ہے۔ بیرسٹر گوہر اور صاحبزادہ حامد رضا نے وزارت داخلہ سے درخواست کی ہے کہ انہیں عمران خان سے جیل میں ملاقات کی اجازت دی جائے تاکہ وہ اہم معاملات پر تبادلہ خیال کر سکیں۔ درخواست میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ جیل میں قید عمران خان کی موجودہ صورتحال اور سیاسی حکمت عملی پر بات چیت کے لیے یہ ملاقات ضروری ہے۔
یہ بھی قابل ذکر ہے کہ عمران خان کی بہن نورین خان نیازی نے بھی اپنے بھائی سے ملاقات کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ عدالت نے ان کی درخواست پر فوری کارروائی کرتے ہوئے عمران خان اور ان کی بہن نورین نیازی کی ملاقات کروانے کا حکم دیا تھا۔ نورین نیازی کا کہنا تھا کہ وہ اپنے بھائی کی خیریت جاننا چاہتی ہیں اور جیل میں ان سے بات چیت کرنا چاہتی ہیں۔عمران خان کو گزشتہ چند مہینوں سے اڈیالہ جیل میں رکھا گیا ہے، اور ان کی سیاسی سرگرمیاں جیل کی دیواروں کے پیچھے محدود ہو چکی ہیں۔ اس دوران ان کے وکلا اور قریبی ساتھیوں نے جیل میں ان سے ملاقات کے لیے کئی بار درخواست دی ہے، تاہم ان ملاقاتوں کی اجازت ہر بار نہیں دی جاتی۔ پی ٹی آئی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ موجودہ سیاسی حالات میں عمران خان سے ملاقات اہم ہے تاکہ مستقبل کی سیاسی حکمت عملی پر غور کیا جا سکے۔
صاحبزادہ حامد رضا، جو سنی اتحاد کونسل کے سربراہ ہیں، کا پی ٹی آئی قیادت کے ساتھ قریبی تعلق رہا ہے، اور وہ متعدد مواقع پر پی ٹی آئی کی سیاسی حکمت عملی میں شامل رہے ہیں۔ ان کی اس درخواست سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی اور دیگر سیاسی و مذہبی قوتیں اب بھی عمران خان کی رہنمائی میں سرگرم رہنا چاہتی ہیں۔یہ ملاقات کی درخواست سیاسی حلقوں میں ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ عمران خان کی جیل میں موجودگی کے باوجود ان کی سیاسی اہمیت کم نہیں ہوئی۔ ملک میں سیاسی صورتحال کی پیچیدگی کے پیش نظر، ایسی ملاقاتیں عمران خان کی قیادت میں پی ٹی آئی کی مستقبل کی حکمت عملی کے لیے اہم ہو سکتی ہیں۔