اسلام آباد کی احتساب عدالت نے توشہ خانہ ریفرنس کی سماعت 27 جنوری اور 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس کی سماعت 30 جنوری تک ملتوی کردی جبکہ اس کیس میں فرجرم عائد کرنے کی کارروائی بھی ایک بار پھر مؤخر ہوگئی۔سابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ اور 190ملین پاؤنڈ ریفرنسز پر سماعت احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے اڈیالہ جیل میں کی۔نیب کی جانب سے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی، امجد پرویز ایڈووکیٹ، عرفان بھولا اور سہیل عارف جبکہ وکلاء صفائی بیرسٹر علی ظفر، سلمان صفدر،سکندر ذوالقرنین، عثمان گل اور دیگر عدالت میں پیش ہوئے۔
وکیل امجد پرویز نے کہا کہ 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں فرد جرم عائد ہونا تھی، ملزمان نے حاضری یقینی بنانا تھی لیکن بشریٰ بی بی آج بھی موجود نہیں ہیں، جان بوجھ کر کیسز میں تاخیری حربے استعمال کیے جارہے ہیں۔جس پر سابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا کہ مجھے بشریٰ بی بی سے فون پر بات نہیں کرنے دی جاتی، مجھے معلوم نہیں ہوتا کہ وہ آرہی ہیں یا نہیں، لینڈ لائن سے ہی بات کروا دیا کریں۔وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ہمارے کیسز زیادہ اور وکیل کم ہیں۔وکلاء صفائی کی جانب سے سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کی گئی جبکہ توشہ خانہ ریفرنس میں بھی وکلاء صفائی تبدیل کرنے کی درخواست کردی گئی۔توشہ خانہ ریفرنس میں سلمان صفدر اور سکندر ذوالقرنین آئندہ سماعت پر وکالت نامے جمع کرائیں گے۔بعدازاں عدالت نے توشہ خانہ ریفرنس کی سماعت 27 جنوری اور 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس کی سماعت 30 جنوری تک ملتوی کردی جبکہ اس کیس میں فرجرم عائد کرنے کی کارروائی بھی ایک بار پھر مؤخر ہوگئی۔
Author: صدف ابرار
-

توشہ خانہ اور 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس کی سماعت 30 جنوری تک ملتوی کردی
-

8 فروری کو ہم نے شیر کے شکار کا بندوبست کرنا ہے،بلاول بھٹو
بلاول بھٹو نے گجرات میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جو کہتے ہیں پیپلزپارٹی پنجاب میں نہیں وہ یہاں دیکھ لیں، ہم اقتدار میں آکر مہنگائی اور بے روزگاری کا خاتمہ کریں گے، میں نے اپنا عوامی معاشی منشور دے دیا ہے، آپ نے ہمارا 10 نکاتی ایجنڈا گھر گھر پہنچانا ہے۔ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی واحد جماعت ہے جو مکمل طور پر جمہوریت پر یقین رکھتی ہے۔ پیپلز پارٹی ہی پاکستان کو جمہوریت پسند ملک بنا سکتی ہے۔ یہ وہ شیر ہے جو نوجوانوں کا خون چوستا ہے، آپ نے شیر کا راستہ روکنا ہے تو تیر پر ٹھپہ لگائیں، اگر آپ نے کسی اور کو ووٹ ڈالا تو ووٹ ضائع ہوجائے گا، آپ نے 8 فروری کو تیر کو کامیاب کرایا تو میں 9 فروری کو ان کو واپس لندن بھیج دوں گا، میرے لئے یہ حرام ہو گا کہ میں اپنے دور میں کوئی سیاسی قیدی بناؤں۔ چیئرمین پی پی نے کہا کہ ہم تو پورے پاکستان کے دورے کر رہے ہیں لیکن ہمارے مخالف گھر سے ہی باہر نہیں نکلتے، آپ نے پہلے کبھی انہیں اتنا خوفزدہ دیکھا ہے؟ چوتھی مرتبہ وزیراعظم بننے کے خواہشمند کہہ رہے ہیں ابھی منشور پر کام چل رہا ہے، میں وزیراعظم بنا تو جاپان سے لے کر امریکا تک پاکستان کے نوجوانوں کو نوکریاں دلاؤں گا۔چیئرمین پیپلزپارٹی کا مزید کہا کہ ہم عام آدمی کی آمدنی میں اضافہ کریں گے، ہم 300 یونٹ تک بجلی صارفین کو مفت دیں گے، ملک بھر میں 30 لاکھ مکانات بنا کر دیں گے، کچی آبادیوں کو مالکانہ حقوق دلوائیں گے، ہم بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام میں اضافہ کریں گے، غریب خواتین کو بلا سود قرضہ دیں گے۔
-

شہباز شریف نے بلاول بھٹو کو کیا مشورہ دے دیا ؟
منڈی بہاؤالدین میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے صدر ن لیگ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ 2013 سے لے کر 2018 کے ہمارے دور میں کوئی سیاسی قیدی نہیں تھا۔پاکستان مسلم شہباز شریف نے نام لیے بغیر بلاول بھٹو کو مشورہ دے دیا۔ کہ ایک مہربان نے کہا اقتدار میں آئے تو کوئی سیاسی قیدی نہیں ہوگا، اپنے مہربان کو مشورہ ہے اس کے ساتھ ذاتی جیلوں کے خاتمے کا اعلان بھی کردیتے تو اچھا ہوتا، ان ذاتی جیلوں میں ظلم ہورہا ہے، بچوں، خواتین اور لوگوں پر تشدد ہوتا ہے، تھانیدار اور اسسٹنٹ کمشنر خاموش ہوتا ہے، کوئی پوچھنے والا نہیں۔انہوں نے کہا کہ 2013 کے الیکشن میں نواز شریف کو تیسری مرتبہ کامیاب کروایا تو سازش شروع ہوگئی، 14 اگست 2014 کو نواز شریف اور پاکستان کے خلاف لانگ مارچ کیا گیا، جنہوں نے لانگ مارچ کروایا اور جنہوں نے کیا انہیں سب جانتے ہیں۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ چین اور سعودی عرب کے مالی تعاون سے نواز شریف نے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا۔ن لیگی صدر کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ کے دلخراش واقعے قوم ابھی تک نہیں بھلا پائی، ستمبر 2014 میں چینی صدر کا دورہ پاکستان لانگ مارچ کی وجہ سے مؤخر ہوا، سانحہ اے پی ایس کے بعد دھرنا ختم کروایا گیا۔انہوں نے کہا کہ ملک دشمنوں سے پاکستان کی ترقی برداشت نہیں ہوئی اور نواز شریف حکومت کا تختہ الٹا گیا۔انکا کہنا تھا کہ 9 مئی کو ملک کے ساتھ دشمنی کی گئی شہباز شریف کا کہنا تھا کہ 2013 میں نواز شریف نے کسانوں کو سبسڈی اور سستی کھاد دی، نواز شریف کے دور میں پنجاب کے تمام اضلاع میں نئے اسپتال بنائے گئے، نواز شریف کے دور میں پی کے ایل آئی بنا جہاں گردوں اور جگر کی پیوندکاری ہوتی ہے۔انکا یہ بھی کہنا تھا کہ نواز شریف وزیراعظم بنے تو دیہاتوں اور قصبوں میں نوجوانوں کو زرعی قرضے دیں گے، زراعت ریڑھ کی ہڈی ہے، زراعت کے بغیر پاکستان ترقی نہیں کرسکتا، زراعت کی ترقی کےلیے نواز شریف کسانوں کو زرعی قرضہ دیں گے۔
-

الیکشن کمیشن نے عام انتخابات میں آرمڈ فورسز کے لیے ضابطہ اخلاق جاری کردیا
الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کے مطابق پاک افواج آرٹیکل 245 کے تحت عام انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن کی معاونت کریں گی، سیکیورٹی کے لیے پولیس درجہ اول، سول آرمڈ فورسز اور پاک افواج ثانوی اور ثالثی درجے کی ذمہ دار ہوں گی۔ ضابطہ اخلاق میں مزید کہا گیا کہ ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد آرمڈ فورسز انتخابی سامان ریٹرننگ افسر کے دفترپہنچائیں گی، آرمڈ فورسز انتخابی ماحول کو پرامن بنانے کے لیے انتخابی عملے کی معاونت کی ذمہ دار ہوں گی۔ضابطہ اخلاق میں کہا گیا کہ افواج پاکستان کی تعیناتی صرف انتہائی حساس پولنگ سٹیشنز کے باہر کی جائے گی، سول آرمڈ فورسز بیلٹ پیپرز کی چھپائی کے دوران پرنٹنگ پریس کی سیکیورٹی پر معمور ہوں گی، آرمڈ فورسز بیلٹ پیپرز کی ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر کے آفس تک ترسیل کی ذمہ دار ہوں گی۔
ضابطہ اخلاق کے مطابق مجاز مبصرین اور میڈیا کے افراد کو پولنگ اسٹیشنز میں داخلے کی اجازت ہوگی، دھماکا خیر مواد اور اسلحے کی کسی صورت پولنگ اسٹیشن کے اندر داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق میں یہ بھی کہا گیا کہ آرمڈ فورسز پولنگ کے دوران غیر جانبدار اور کسی سیاسی جماعت کی حمایت یا مخالفت نہیں کرہں گی، آرمڈ فورسز مشکوک افراد کی نشاندہی کے لیے پولیس اہلکاروں کے ساتھ مل کر کام کریں گی، کسی بدانتظامی کی صورت میں آرمڈ فورسز فوری طور پر پریذائیڈنگ افسر کو اطلاع کریں گی۔ضابطہ اخلاق میں کہا گیا کہ آرمڈ فورسز کسی صورت انتخابی عملے کی ذمہ داریاں نہیں سنبھالیں گی، آرمڈ فورسز بیلٹ پیپرز، اسٹامپ اور فارم 45 سمیت کوئی انتخابی سامان اپنی تحویل میں نہیں لیں گی، آرمڈ فورسز پریذائیڈنگ افسر، پولنگ ایجنٹ اور ریٹرننگ افسر کے کام میں کوئی مداخلت نہیں کریں گی۔ضابطہ اخلاق میں مزید کہا گیا کہ پولنگ اسٹیشن کے باہر کسی بے ضابطگی کی صورت میں آرمڈ فورسز کوئی جواب نہیں دیں گی، سنگین بے ضابطگی پر آرمڈ فورسز معاملہ مزید کارروائی کے لیے پریذائیڈنگ افسر کے نوٹس میں لائیں گی۔
خیال رہےکہ وفاقی وزارت داخلہ نے عام انتخابات میں سکیورٹی فراہمی کے لیے پاک فوج کی خدمات کے حوالے سے سمری کابینہ کو بھجوائی تھی۔سمری کے مطابق 2 لاکھ 77 ہزار پاک فوج کے افسران و اہلکار الیکشن میں تعینات ہوں گے،اس کے ساتھ رینجرز اور ایف سی اہلکار بھی عام انتخابات میں تعینات ہوں گے۔بعد ازاں نگران وفاقی کابینہ نے عام انتخابات میں پاک فوج کی تعیناتی کی منظوری دی تھی۔واضح رہے کہ ملک میں عام انتخابات کا انعقاد 8 فروری کو ہونا ہے جس کے لیے تیاریاں حتمی مراحل میں داخل ہوچکی ہیں، الیکشن کمیشن نے تمام بلدیاتی محکموں کے فنڈز بھی منجمد کردیے۔ -

الیکشن کمیشن مقررہ وقت میں حتمی پولنگ سکیم دینے میں ناکام
کیا عام انتخابات 8فروری کو ہوں گے نیا سوال کھڑا ہوگیا، الیکشن کمیشن آف پاکستان مقررہ وقت میں حتمی پولنگ سکیم جنرل الیکشن 2024دینے میں ناکام ہوگیا پولنگ سکیم کے اندر قومی و صوبائی اسمبلی کے حلقوں کی مکمل تفصیل ہوتی ہے کتنے پولنگ سٹیشن بننے ہیں اور کہاں بننے ہیں پولنگ اسٹیشن میں کتنے ووٹرز ہوں گے پولنگ سٹیشن کے اندر کتنے پولنگ بوتھ ہوں گے مکمل تفصیل ہوتی ہے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 24جنوری کو حتمی پولنگ سکیم جاری کرنے کا شیڈول دیا تھا مگر دو دن گزرجانے کے باجود الیکشن کمیشن حتمی پولنگ سکیم دینے میں مکمل ناکام ہوگیا ہےالیکشن کمیشن نے شیڈول کے مطابق 24جنوری کو چاروں صوبوں اور اسلام آباد کا حتمی پولنگ سکیم دینا تھا مگر دو دن گزرنے کے باوجود الیکشن کمیشن حتمی پولنگ سکیم دینے میں ناکام ہوگیا ہے ترجمان نے حتمی پولنگ سکیم میں ناکامی پر موقف نہیں دیا ۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 24جنوری کو حتمی پولنگ سکیم چاروں صوبوں اور اسلام آباد کے تین قومی اسمبلی کے حلقوں کے لیے دینی تھی مگر مقررہ تاریخ گزرنے کے باوجود الیکشن کمیشن حتمی پولنگ سکیم دینے میں مکمل ناکام ہوگیا ہے. چاروں صوبوں اور وفاقی دارلحکومت کے پولنگ سکیم مقررہ وقت میں جاری نہ ہونے سے جنرل انتخابات 2024کے 8فروری کو انعقاد پر سوالیہ نشان اٹھنا شروع ہوگئے ہیں کہ کیا 8فروری کو الیکشن کا انعقاد ممکن بھی ہوگا کہ نہیں ۔ترجمان الیکشن کمیشن سے اس حوالے سے سوال کئے گئے کہ کب تک حتمی پولنگ سکیم جاری ہوگا مگر انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا ۔
رپورٹ، محمد اویس، اسلام آباد
چیف الیکشن کمشنر کا سخت رویہ، الیکشن کمیشن کے افسران بیمار ہونے لگے
نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں
انتخابات سے متعلق سروے کرنے پر ٹی وی چینلز کیخلاف کارروائی کا حکم
تحریک انصاف کے وکیل شعیب شاہین چیف جسٹس پاکستان کے سامنے پیش
ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن
الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ
-

سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کے انتخابی نشان سے متعلق کیس کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا
تحریک انصاف کو بلے کا انتخابی نشان دینے سے متعلق کیس کا فیصلہ کو الیکشن کمیشن کی اپیل منظور کرتے ہوئے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا گیا، . سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کے انتخابی نشان سے متعلق کیس 38 صفحات پر مشتمل فیصلہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے تحریر کیا، تفصیلی فیصلہ میں کہا کہا کہ تحریک انصاف نے انٹرا پارٹی انتخابات میں اپنے ہی ممبران کو لاعلم رکھا، اور قانون کے مطابق پی ٹی آئی کو بلے کا انتخابی نشان نہیں دیا جاسکتا، فیصلے کے مطابق الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو متعدد شوکاز نوٹس جاری کیے، شوکاز نوٹسز کے باوجود پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی انتخابات نہیں کرائے، تفصیلی فیصلہ میں مزید لکھا گیا ہے کہ الیکشن ایکٹ کے مطابق الیکشن کمیشن سیاسی جماعت سے انتخابی نشان واپس لے سکتا ہے، اور انٹرا پارٹی انتخابات نہ کرانے پر انتحابی نشان واپس لیا جاسکتا ہے، سپریم کورٹ کے جاری فیصلے میں مزید بتایا گیا ہے کہ انٹرا پارٹی الیکشن جیت کر آنے والوں کو یہ اختیار ملتا ہے کہ وہ پارٹی امور چلائیں،
لہذا الیکشن کمیشن کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ انٹرا پارٹی الیکشن نہ ہونے پر انتخابات نشان نہ دیں، تفصیلی فیصلہ میں یہ بھی کہا گیا کہ جب الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کو انٹرا پارٹی انتخابات کیلئے ایک سال کا وقت دیا اس وقت تحریک انصاف حکومت میں تھی، اس وقت عمران خان وزیراعظم تھے، اور اس وقت پنجاب اور خیبرپختونخوا میں بھی تحریک انصاف کی حکومتیں تھیں، تفصیلی فیصلہ کے مطابق متعدد نوٹسز جاری کرنے اور اضافی وقت دینے کے باوجود تحریک انصاف نے انٹرا پارٹی انتخابات نہیں کروائے ، تحریک انصاف نے انٹرا پارٹی انتخابات کے انعقاد میں قانونی تقاضوں کو نظر انداز کیا، فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ 10 جنوری 2024 کا پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جاتا ہے، الیکشن کمیشن کا 22 دسمبر 2023 کا فیصلہ بحال کیا جاتا ہے، جسٹس فائز عیسیٰ نے فیصلے میں لکھا ہے کہ یہ بات ناقابلِ فہم ہے کہ پشاور ہائیکورٹ نے درخواست گزار کو الیکشن کمیشن کے سامنے پیش ہونے کا کہا، 20 دن بعد پشاور ہائیکورٹ نے فیصلہ دیا کہ الیکشن کمیشن انٹرا پارٹی انتخابات سے متعلق کچھ نہیں کر سکتا،
تفصیلی فیصلے کے مطابق پشاور ہائیکورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو بھی نظر انداز کیا، پشاور ہائیکورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کے حتمی فیصلے کا انتظار بھی نہ کیا، تاہم
لاہور ہائیکورٹ میں یہ معاملہ لارجر بینچ کے سامنے زیر سماعت تھا، پشاور ہائیکورٹ کے سامنے محض سرٹیفکیٹ کا معاملہ نہیں تھا بلکہ پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن کا معاملہ تھا، اگر انٹرا پارٹی انتخابات ہوئے ہی نہیں تو سرٹیفکیٹ کے معاملے کو کیسے برقرار رکھا جا سکتا ہے، فیصلے میں بتایا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کا ایسے حالات میں مکمل اختیار ہے، پشاور ہائیکورٹ کا الیکشن کمیشن کے اختیارات میں دخل اندازی اختیارات سے تجاوز ہے ، ہائیکورٹ کیسے الیکشن کمیشن کے 22 دسمبر کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دے سکتی ہے، -

جس صوبے نے مینڈیٹ نہیں دیا اس صوبے کے چپے چپے میں بھی نواز شریف کے کام نظر آتے ہیں، مریم نواز
مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزرمریم نواز کا سنگھ پورہ این اے 119میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ، مریم نواز کاکہنا تھا کہ آپ سے ووٹ مانگنے نہیں آئی۔ووٹ لوگوں کے مستقبل کا فیصلہ ہوتا ہے کہ میں آج حلقے میں پہلی بار آئی ہوں۔سوچا جا کر پہلے اجازت لے لو۔این اے 119 سے آپ نے فیصلہ دیا ہے۔اب یہ میرا گھر ہے میں گھر والوں سے بات کرنے آئی ہوں۔مجھ پر الزام یہ تھا کہ اپنے باپ کے ساتھ کھڑی کیوں ہوئی۔جان چلی جاتی، کرسی چلی جاتی میں اپنے والد کے ساتھ کھڑی رہی۔ مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزرمریم نوازکاکہنا تھا کہ ایک شخص کہتا ہے نواز شریف نے منشور نہیں دیا۔نواز شریف نے منشور دیا تو اس پر کام بھی کیا۔نواز شریف آج بھی صبح سے بیٹھے ہوئے کام کررہے تھے کہ بجلی گیس کے بل کیسے کم کرنے ہیں۔لاہور اور پنجاب کا دل بہت بڑا ہے جس صوبے نے نواز شریف کو مینڈیٹ دیا نواز شریف نے کام کیا۔جس صوبے نے مینڈیٹ نہیں دیا اس صوبے کے بھی چپے چپے پر نواز شریف کے کام نظر آتے ہیں۔ن لیگ کے علاوہ کسی جماعت نے کام کیا ہے۔ایک جماعت ایسی ہے جو نہ الزامات لگاتے ہے نہ تنقید کرتی ہے صرف کام کرتی ہے۔باقی پارٹیاں صرف تنقید کرتی ہیں۔کچھ جماعتیں آج پنجاب میں ایسی بھی آئی ہوئی ہیں جنھوں نے پندرہ پندرہ سال حکومتیں کی۔اپنے پندرہ منصوبے نہیں گنوا سکتے۔نواز شریف پر تنقید کررہے ہیں پنجاب نواز شریف پر تنقید نہیں سکتا۔
وہ دیکھو نواز شریف کا منشور 🚆 pic.twitter.com/FN0qx69P9f
— Maryam Nawaz Sharif (@MaryamNSharif) January 25, 2024
مسلم لیگ ن کی چیف آٰرگنائزرمریم نواز کاکہناتھا کہ یہ ووٹ امانت ہے پاکستان کی اس مٹی کی اس دھرتی کی۔اس ووٹ نے ہماری نسلوں کا فیصلہ کرنا ہے۔ہم نے یہ ملک چھوڑ کر کہیں نہیں جانا مریم نواز اور جنید صفدر یہی رہے گا ۔ میں سب کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں آپ نے جیسا میرا استقبال کیا ہے۔8 فروری کو اپنا فرض سمجھ کر اس ملک اپنی جماعت کی خاطر اپنا ووٹ ڈالنا ہے۔مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ میرا یہ پہلا الیکشن ہے میں اس مالک کی بیٹی ہوں جس نے چار دہائیوں تک آپ کی خدمت کی۔مجھے پتہ ہے میرے کندھوں پر کتنا بوجھ ہےمیں وہ امیدوار نہیں جسے لوگ پرچی پر لکھ کر مسئلے دیتا ہے وہ امیدوار ہوں جو گھر سے پتہ کرکے آئی ہوں۔مجھے پتہ ہے اس حلقے میں گیس اور سڑکوں کا مسئلہ ہے۔میری ٹیم اس وقت این اے 119 میں موجود ہیں ۔میں نے انکو کہا ہے کہ ان کو کہنا کہ آپ کی بیٹی مریم نواز نے بھیجا ہے۔اگر آپ نے یہاں سے شیر کو جتایا تو ہمیشہ کے لئے میرا یہاں دفتر قائم ہوگا مریم نواز خود آپ سے ملاقات کرے گی۔
-

صوبائی الیکشن کمشنر کا ٹریننگ سے غیر حاضر عملے کے خلاف فوری اور سخت تادیبی کارروائی کا فیصلہ
صوبائی الیکشن کمشنر پنجاب نے کہا ہے کہ ٹریننگ سے غیر حاضر عملے کے خلاف فوری اور سخت تادیبی کارروائی کی جائے، پولنگ عملے کی تربیت کی حاضری کو 100فیصد یقینی بنایا جائے۔صوبائی الیکشن کمشنر پنجاب نے ٹریننگ سے غیر حاضر عملے کے خلاف کارروائی کیلئے چیف سیکرٹری کو مراسلہ لکھ دیا۔صوبائی الیکشن کمشنر پنجاب کی جانب سے جاری مراسلے میں چیف سیکرٹری زاہد اخترزمان کو الیکشن ٹریننگ سے غیر حاضر عملے کے خلاف کارروائی کی ہدایات کی گئی ہیں۔مراسلےمیں چیف سیکرٹری پنجاب کو غیر حاضر عملے کیلئے الیکشن کمیشن کی ہدایات سے آگاہ کیا گیا۔صوبائی الیکشن کمشنر نے مزید کہا کہ ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ افسران انتخابی عملے کی تربیت کی مانیٹرنگ کریں گے، پنجاب مانیٹرنگ افسران کی رپورٹ روزانہ کی بنیاد پر الیکشن کمیشن کو بھیجی جائے گی۔
واضح رہے کہ8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات کے لیے ملک بھر میں پولنگ عملے کی تربیت جاری ہے اور اس میں غیر حاضری کے واقعات کا الیکشن کمیشن نے نوٹس لیتے ہوئے غیر حاضر عملے کے خلاف سخت انضباطی کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ -

بھارت کا پاکستان میں دہشتگردانہ کارروائیوں کا ہولناک منصوبہ بے نقاب
بھارت نے خطے اور بالخصوص پاکستان میں دہشتگردانہ کارروائیوں اور خطے کے ممالک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی ہےپاکستانی سیکیورٹی اداروں نے بھارت کے دہشتگرد گروہ اور بھارتی ہینڈلرز/سہولت کاروں جو کہ دہشتگردانہ کارروائیوں اور ٹارگٹ کلنگ میں ملوث تھے،ان کو کامیابی کے ساتھ بے نقاب کر دیاپاکستانی سیکریٹری خارجہ سائرس سجاد قاضی نے جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میں دونوں بھارتیوں کے نام لیے اور بھارت کے خلاف عالمی سطح پر کارروائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ بھارتی ایجنٹوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستان میں قاتلوں کی خدمات لیں۔سیکورٹی ذرائع نے بھی بھارتی شہریوں کے حوالے سے تفصیلات فراہم کی ہیں جن میں دونوں بھارتی باشندوں کے پاسپورٹس کی نقول شامل ہیں۔ پاکستان کے سیکیورٹی اداروں نے شواہد کی بنیاد پر بے نقاب کیا کے محمد ریاض اور شاہد لطیف کے قتل میں بھارتی شہری اشوک کمار آنند اور یوگیش کمار براہ راست ملوث ہیں ،پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے محمد ریاض اور شاہد لطیف کے ٹارگٹ کلرز کو ناقابل تردید شواہد کی روشنی میں گرفتار کیا، قتل میں ملوث ٹارگٹ کلرز، ان کے ساتھیوں اور سہولت کاروں کو اس وقت گرفتار کیا جب وہ پاکستان سے فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے
قتل کئے جانے محمد ریاض اور شاہد طیف پرامن شہری تھے اور ان کا قصور صرف یہ تھا کہ انھوں نے کشمیر میں جاری ظلم اور بربریت اور بھارت کے گھناؤنے چہرے کو بے نقاب کیا محمد ریاض کو 8 ستمبر 2023ء کو راولا کوٹ جبکہ شاہد لطیف کو 11 اکتوبر 2023ء کو ڈسکہ میں ٹارگٹ کلرز نے قتل کیا،تحقیقاتی اداروں کے پاس مستند شواہد ہیں کہ اس پوری ٹارگٹڈ کلنگ مہم میں تیسرے ملک میں موجود بھارتی شہری شامل ہیں جو کہ اس کی فنڈنگ کرنے کے ساتھ ساتھ ہدایات بھی دے رہے تھے اور مہم کو کنٹرول بھی کر رہے تھےبھارت نےپاکستان سمیت دیگر ممالک میں مختلف معصوم افراد کو دہشتگردانہ کارروائیوں میں قتل کیا مگر ان کی سرگرمیوں کے بارے کوئی بھی ٹھوس شواہد فراہم نہیں کیے، بھارت بین الاقوامی قوانین کی مسلسل خلاف ورزیوں میں مصروف ہے بھارت نے یونیورسل ڈکلریشن آف ہیومن رائیٹس کے آرٹیکل3 اور انٹرنیشنل کنونشنل آف سول اینڈ پولیٹیکل رائنٹس کے آرٹیکل 2 (4)کی مکمل خلاف ورزی کر رہا ہے اسکے علاوہ بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی راء ایک عالمی دہشتگرد تنظیم کا کرادار ادا کر رہی ہے
اس سے قبل بھی پاکستان میں اور بین الاقوامی سطح پر بھارتی ایجنسیوں کے ریاستی سرپرستی میں کئے جانے والے ماورائے عدالت قتل کے منصوبے بے نقاب ہو چکے ہیں بھارت نے گزشتہ سال سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کو کینیڈا میں قتل کیا کینڈا نے اس پر شدید سفارتی رد عمل ظاہر کیا اور اس قتل کو عالمی سطح پر اجاگر کیا
بھارت نے اُن تمام سکھ رہنماؤں کو قتل کا منصوبہ بنایا جو بھارت کی ظالمانہ کاروائیوں کے خلاف آواز بلند کرتے تھے نجر کے قتل کے بعد بھارت نے امریکہ میں مقیم سکھ رہنما گر پتونت سنگھ پنوں کے قتل کا منصوبہ بنایا جو امریکی خفیہ اداروں کی بروقت کارروائی سے بے نقاب ہوا ،اس قتل کی سازش کا ملزم امریکہ میں عدالتی کاروائی کا سامنا کر رہا ہے،بھارت نے دنیا بھر میں راء کے ذریعے اجرتی قاتلوں کا ایک گروہ بنایا ہوا ہے،پاکستان کے سکیورٹی اداروں کی یہ ایک بڑی کامیابی ہے کہ اُنہوں نے اس گروہ کو پکڑا اور ثبوت منظر عام پر لائے،اقوام عالم کو چاہئے کہ وہ بھارت کی اس کھلم کھلا دہشتگردی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی پرنوٹس لے کر اس سے جواب طلبی کرے.پاکستان کے سلامتی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بھارتی دہشتگردی کا جواب دینے اور اپنے شہریوں کو محفوظ بنانے کے لئے ہر وقت کوشاں ہیں
https://twitter.com/MarkhorTweets/status/1750499136229523617 -

میاں صاحب سے چوتھی بار میچ فکس کرنے کی امید نہیں تھی ،قمر زمان کائرہ
پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما قمر زمان کائرہ نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین پی پی بلاول بھٹو کا شکریہ ادا کرتا ہوں، یہ علاقہ کبھی پیپلزپارٹی کا گڑھ ہوتا تھا، پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر قمرزمان کائرہ نے کہا کہ ہمارے مخالفین پھر میچ فکس کرکے کھیلنا چاہتے ہیں۔قمر زمان کائرہ نے کہا کہ ہمارے مخالفین آج تک اس ملک کے مسائل کا حل نہیں پیش کر سکے، ہمارے مخالفین چوتھی بار وزیراعظم بننے کا خواب دیکھ رہے ہیں، پیپلزپارٹی نے کبھی میچ فکس نہیں کیا، بلاول کے لاہور سے الیکشن کے اعلان کے بعد مخالف کانپ رہے ہیں۔
ہمارے مخالفین بلاول بھٹو کے منشور سے خوفزدہ ہیں، جو پنجاب کو اپنی جاگیر سمجھ رہے تھے انہیں پتہ چل گیا کہ بلاول اپنے شہید نانا، شہید ماں کے نقش قدم پر چل پڑا ہے۔سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ میاں صاحب آپ سے توقع نہیں تھی کہ آپ میچ فکس کر کے کھیلیں گے، چوتھی بار وزیراعظم کا خواب دیکھنے والے ریاستی طاقت کے سہارے کھڑے ہیں، ہم ریاستی طاقت سے نہیں عوام کی طاقت سے جیتیں گے۔