Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • الیکشن کمیشن نے  عام انتخابات میں آرمڈ فورسز کے لیے ضابطہ اخلاق جاری کردیا

    الیکشن کمیشن نے عام انتخابات میں آرمڈ فورسز کے لیے ضابطہ اخلاق جاری کردیا

    الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کے مطابق پاک افواج آرٹیکل 245 کے تحت عام انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن کی معاونت کریں گی، سیکیورٹی کے لیے پولیس درجہ اول، سول آرمڈ فورسز اور پاک افواج ثانوی اور ثالثی درجے کی ذمہ دار ہوں گی۔ ضابطہ اخلاق میں مزید کہا گیا کہ ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد آرمڈ فورسز انتخابی سامان ریٹرننگ افسر کے دفترپہنچائیں گی، آرمڈ فورسز انتخابی ماحول کو پرامن بنانے کے لیے انتخابی عملے کی معاونت کی ذمہ دار ہوں گی۔ضابطہ اخلاق میں کہا گیا کہ افواج پاکستان کی تعیناتی صرف انتہائی حساس پولنگ سٹیشنز کے باہر کی جائے گی، سول آرمڈ فورسز بیلٹ پیپرز کی چھپائی کے دوران پرنٹنگ پریس کی سیکیورٹی پر معمور ہوں گی، آرمڈ فورسز بیلٹ پیپرز کی ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر کے آفس تک ترسیل کی ذمہ دار ہوں گی۔
    ضابطہ اخلاق کے مطابق مجاز مبصرین اور میڈیا کے افراد کو پولنگ اسٹیشنز میں داخلے کی اجازت ہوگی، دھماکا خیر مواد اور اسلحے کی کسی صورت پولنگ اسٹیشن کے اندر داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق میں یہ بھی کہا گیا کہ آرمڈ فورسز پولنگ کے دوران غیر جانبدار اور کسی سیاسی جماعت کی حمایت یا مخالفت نہیں کرہں گی، آرمڈ فورسز مشکوک افراد کی نشاندہی کے لیے پولیس اہلکاروں کے ساتھ مل کر کام کریں گی، کسی بدانتظامی کی صورت میں آرمڈ فورسز فوری طور پر پریذائیڈنگ افسر کو اطلاع کریں گی۔ضابطہ اخلاق میں کہا گیا کہ آرمڈ فورسز کسی صورت انتخابی عملے کی ذمہ داریاں نہیں سنبھالیں گی، آرمڈ فورسز بیلٹ پیپرز، اسٹامپ اور فارم 45 سمیت کوئی انتخابی سامان اپنی تحویل میں نہیں لیں گی، آرمڈ فورسز پریذائیڈنگ افسر، پولنگ ایجنٹ اور ریٹرننگ افسر کے کام میں کوئی مداخلت نہیں کریں گی۔ضابطہ اخلاق میں مزید کہا گیا کہ پولنگ اسٹیشن کے باہر کسی بے ضابطگی کی صورت میں آرمڈ فورسز کوئی جواب نہیں دیں گی، سنگین بے ضابطگی پر آرمڈ فورسز معاملہ مزید کارروائی کے لیے پریذائیڈنگ افسر کے نوٹس میں لائیں گی۔
    خیال رہےکہ وفاقی وزارت داخلہ نے عام انتخابات میں سکیورٹی فراہمی کے لیے پاک فوج کی خدمات کے حوالے سے سمری کابینہ کو بھجوائی تھی۔سمری کے مطابق 2 لاکھ 77 ہزار پاک فوج کے افسران و اہلکار الیکشن میں تعینات ہوں گے،اس کے ساتھ رینجرز اور ایف سی اہلکار بھی عام انتخابات میں تعینات ہوں گے۔بعد ازاں نگران وفاقی کابینہ نے عام انتخابات میں پاک فوج کی تعیناتی کی منظوری دی تھی۔واضح رہے کہ ملک میں عام انتخابات کا انعقاد 8 فروری کو ہونا ہے جس کے لیے تیاریاں حتمی مراحل میں داخل ہوچکی ہیں، الیکشن کمیشن نے تمام بلدیاتی محکموں کے فنڈز بھی منجمد کردیے۔

  • الیکشن کمیشن مقررہ وقت میں حتمی پولنگ سکیم دینے میں ناکام

    الیکشن کمیشن مقررہ وقت میں حتمی پولنگ سکیم دینے میں ناکام

    کیا عام انتخابات 8فروری کو ہوں گے نیا سوال کھڑا ہوگیا، الیکشن کمیشن آف پاکستان مقررہ وقت میں حتمی پولنگ سکیم جنرل الیکشن 2024دینے میں ناکام ہوگیا پولنگ سکیم کے اندر قومی و صوبائی اسمبلی کے حلقوں کی مکمل تفصیل ہوتی ہے کتنے پولنگ سٹیشن بننے ہیں اور کہاں بننے ہیں پولنگ اسٹیشن میں کتنے ووٹرز ہوں گے پولنگ سٹیشن کے اندر کتنے پولنگ بوتھ ہوں گے مکمل تفصیل ہوتی ہے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 24جنوری کو حتمی پولنگ سکیم جاری کرنے کا شیڈول دیا تھا مگر دو دن گزرجانے کے باجود الیکشن کمیشن حتمی پولنگ سکیم دینے میں مکمل ناکام ہوگیا ہےالیکشن کمیشن نے شیڈول کے مطابق 24جنوری کو چاروں صوبوں اور اسلام آباد کا حتمی پولنگ سکیم دینا تھا مگر دو دن گزرنے کے باوجود الیکشن کمیشن حتمی پولنگ سکیم دینے میں ناکام ہوگیا ہے ترجمان نے حتمی پولنگ سکیم میں ناکامی پر موقف نہیں دیا ۔

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 24جنوری کو حتمی پولنگ سکیم چاروں صوبوں اور اسلام آباد کے تین قومی اسمبلی کے حلقوں کے لیے دینی تھی مگر مقررہ تاریخ گزرنے کے باوجود الیکشن کمیشن حتمی پولنگ سکیم دینے میں مکمل ناکام ہوگیا ہے. چاروں صوبوں اور وفاقی دارلحکومت کے پولنگ سکیم مقررہ وقت میں جاری نہ ہونے سے جنرل انتخابات 2024کے 8فروری کو انعقاد پر سوالیہ نشان اٹھنا شروع ہوگئے ہیں کہ کیا 8فروری کو الیکشن کا انعقاد ممکن بھی ہوگا کہ نہیں ۔ترجمان الیکشن کمیشن سے اس حوالے سے سوال کئے گئے کہ کب تک حتمی پولنگ سکیم جاری ہوگا مگر انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا ۔

    رپورٹ، محمد اویس، اسلام آباد

    چیف الیکشن کمشنر کا سخت رویہ، الیکشن کمیشن کے افسران بیمار ہونے لگے

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    انتخابات سے متعلق سروے کرنے پر ٹی وی چینلز کیخلاف کارروائی کا حکم

    تحریک انصاف کے وکیل شعیب شاہین چیف جسٹس پاکستان کے سامنے پیش

    ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

  • سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کے انتخابی نشان سے متعلق کیس کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا

    سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کے انتخابی نشان سے متعلق کیس کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا

    ‏تحریک انصاف کو بلے کا انتخابی نشان دینے سے متعلق کیس کا فیصلہ کو الیکشن کمیشن کی اپیل منظور کرتے ہوئے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا گیا، . سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کے انتخابی نشان سے متعلق کیس 38 صفحات پر مشتمل فیصلہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے تحریر کیا، تفصیلی فیصلہ میں کہا کہا کہ تحریک انصاف نے انٹرا پارٹی انتخابات میں اپنے ہی ممبران کو لاعلم رکھا، اور قانون کے مطابق پی ٹی آئی کو بلے کا انتخابی نشان نہیں دیا جاسکتا، فیصلے کے مطابق الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو متعدد شوکاز نوٹس جاری کیے، شوکاز نوٹسز کے باوجود پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی انتخابات نہیں کرائے، تفصیلی فیصلہ میں مزید لکھا گیا ہے کہ الیکشن ایکٹ کے مطابق الیکشن کمیشن سیاسی جماعت سے انتخابی نشان واپس لے سکتا ہے، اور انٹرا پارٹی انتخابات نہ کرانے پر انتحابی نشان واپس لیا جاسکتا ہے، سپریم کورٹ کے جاری فیصلے میں مزید بتایا گیا ہے کہ انٹرا پارٹی الیکشن جیت کر آنے والوں کو یہ اختیار ملتا ہے کہ وہ پارٹی امور چلائیں،
    لہذا الیکشن کمیشن کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ انٹرا پارٹی الیکشن نہ ہونے پر انتخابات نشان نہ دیں، تفصیلی فیصلہ میں یہ بھی کہا گیا کہ جب الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کو انٹرا پارٹی انتخابات کیلئے ایک سال کا وقت دیا اس وقت تحریک انصاف حکومت میں تھی، اس وقت عمران خان وزیراعظم تھے، اور اس وقت پنجاب اور خیبرپختونخوا میں بھی تحریک انصاف کی حکومتیں تھیں، تفصیلی فیصلہ کے مطابق متعدد نوٹسز جاری کرنے اور اضافی وقت دینے کے باوجود تحریک انصاف نے انٹرا پارٹی انتخابات نہیں کروائے ، تحریک انصاف نے انٹرا پارٹی انتخابات کے انعقاد میں قانونی تقاضوں کو نظر انداز کیا، فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ 10 جنوری 2024 کا پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جاتا ہے، الیکشن کمیشن کا 22 دسمبر 2023 کا فیصلہ بحال کیا جاتا ہے، جسٹس فائز عیسیٰ نے فیصلے میں لکھا ہے کہ یہ بات ناقابلِ فہم ہے کہ پشاور ہائیکورٹ نے درخواست گزار کو الیکشن کمیشن کے سامنے پیش ہونے کا کہا، 20 دن بعد پشاور ہائیکورٹ نے فیصلہ دیا کہ الیکشن کمیشن انٹرا پارٹی انتخابات سے متعلق کچھ نہیں کر سکتا،
    تفصیلی فیصلے کے مطابق پشاور ہائیکورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو بھی نظر انداز کیا، پشاور ہائیکورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کے حتمی فیصلے کا انتظار بھی نہ کیا، تاہم
    لاہور ہائیکورٹ میں یہ معاملہ لارجر بینچ کے سامنے زیر سماعت تھا، پشاور ہائیکورٹ کے سامنے محض سرٹیفکیٹ کا معاملہ نہیں تھا بلکہ پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن کا معاملہ تھا، اگر انٹرا پارٹی انتخابات ہوئے ہی نہیں تو سرٹیفکیٹ کے معاملے کو کیسے برقرار رکھا جا سکتا ہے، فیصلے میں بتایا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کا ایسے حالات میں مکمل اختیار ہے، پشاور ہائیکورٹ کا الیکشن کمیشن کے اختیارات میں دخل اندازی اختیارات سے تجاوز ہے ، ہائیکورٹ کیسے الیکشن کمیشن کے 22 دسمبر کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دے سکتی ہے،

  • جس صوبے نے مینڈیٹ نہیں دیا اس صوبے کے  چپے چپے میں بھی  نواز شریف کے کام نظر آتے ہیں،  مریم نواز

    جس صوبے نے مینڈیٹ نہیں دیا اس صوبے کے چپے چپے میں بھی نواز شریف کے کام نظر آتے ہیں، مریم نواز

    مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزرمریم نواز کا سنگھ پورہ این اے 119میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ، مریم نواز کاکہنا تھا کہ آپ سے ووٹ مانگنے نہیں آئی۔ووٹ لوگوں کے مستقبل کا فیصلہ ہوتا ہے کہ میں آج حلقے میں پہلی بار آئی ہوں۔سوچا جا کر پہلے اجازت لے لو۔این اے 119 سے آپ نے فیصلہ دیا ہے۔اب یہ میرا گھر ہے میں گھر والوں سے بات کرنے آئی ہوں۔مجھ پر الزام یہ تھا کہ اپنے باپ کے ساتھ کھڑی کیوں ہوئی۔جان چلی جاتی، کرسی چلی جاتی میں اپنے والد کے ساتھ کھڑی رہی۔ مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزرمریم نوازکاکہنا تھا کہ ایک شخص کہتا ہے نواز شریف نے منشور نہیں دیا۔نواز شریف نے منشور دیا تو اس پر کام بھی کیا۔نواز شریف آج بھی صبح سے بیٹھے ہوئے کام کررہے تھے کہ بجلی گیس کے بل کیسے کم کرنے ہیں۔لاہور اور پنجاب کا دل بہت بڑا ہے جس صوبے نے نواز شریف کو مینڈیٹ دیا نواز شریف نے کام کیا۔جس صوبے نے مینڈیٹ نہیں دیا اس صوبے کے بھی چپے چپے پر نواز شریف کے کام نظر آتے ہیں۔ن لیگ کے علاوہ کسی جماعت نے کام کیا ہے۔ایک جماعت ایسی ہے جو نہ الزامات لگاتے ہے نہ تنقید کرتی ہے صرف کام کرتی ہے۔باقی پارٹیاں صرف تنقید کرتی ہیں۔کچھ جماعتیں آج پنجاب میں ایسی بھی آئی ہوئی ہیں جنھوں نے پندرہ پندرہ سال حکومتیں کی۔اپنے پندرہ منصوبے نہیں گنوا سکتے۔نواز شریف پر تنقید کررہے ہیں پنجاب نواز شریف پر تنقید نہیں سکتا۔

    مسلم لیگ ن کی چیف آٰرگنائزرمریم نواز کاکہناتھا کہ یہ ووٹ امانت ہے پاکستان کی اس مٹی کی اس دھرتی کی۔اس ووٹ نے ہماری نسلوں کا فیصلہ کرنا ہے۔ہم نے یہ ملک چھوڑ کر کہیں نہیں جانا مریم نواز اور جنید صفدر یہی رہے گا ۔ میں سب کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں آپ نے جیسا میرا استقبال کیا ہے۔8 فروری کو اپنا فرض سمجھ کر اس ملک اپنی جماعت کی خاطر اپنا ووٹ ڈالنا ہے۔مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ میرا یہ پہلا الیکشن ہے میں اس مالک کی بیٹی ہوں جس نے چار دہائیوں تک آپ کی خدمت کی۔مجھے پتہ ہے میرے کندھوں پر کتنا بوجھ ہےمیں وہ امیدوار نہیں جسے لوگ پرچی پر لکھ کر مسئلے دیتا ہے وہ امیدوار ہوں جو گھر سے پتہ کرکے آئی ہوں۔مجھے پتہ ہے اس حلقے میں گیس اور سڑکوں کا مسئلہ ہے۔میری ٹیم اس وقت این اے 119 میں موجود ہیں ۔میں نے انکو کہا ہے کہ ان کو کہنا کہ آپ کی بیٹی مریم نواز نے بھیجا ہے۔اگر آپ نے یہاں سے شیر کو جتایا تو ہمیشہ کے لئے میرا یہاں دفتر قائم ہوگا مریم نواز خود آپ سے ملاقات کرے گی۔

  • صوبائی الیکشن کمشنر کا ٹریننگ سے غیر حاضر عملے کے خلاف فوری اور سخت تادیبی کارروائی کا فیصلہ

    صوبائی الیکشن کمشنر کا ٹریننگ سے غیر حاضر عملے کے خلاف فوری اور سخت تادیبی کارروائی کا فیصلہ

    صوبائی الیکشن کمشنر پنجاب نے کہا ہے کہ ٹریننگ سے غیر حاضر عملے کے خلاف فوری اور سخت تادیبی کارروائی کی جائے، پولنگ عملے کی تربیت کی حاضری کو 100فیصد یقینی بنایا جائے۔صوبائی الیکشن کمشنر پنجاب نے ٹریننگ سے غیر حاضر عملے کے خلاف کارروائی کیلئے چیف سیکرٹری کو مراسلہ لکھ دیا۔صوبائی الیکشن کمشنر پنجاب کی جانب سے جاری مراسلے میں چیف سیکرٹری زاہد اخترزمان کو الیکشن ٹریننگ سے غیر حاضر عملے کے خلاف کارروائی کی ہدایات کی گئی ہیں۔مراسلےمیں چیف سیکرٹری پنجاب کو غیر حاضر عملے کیلئے الیکشن کمیشن کی ہدایات سے آگاہ کیا گیا۔صوبائی الیکشن کمشنر نے مزید کہا کہ ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ افسران انتخابی عملے کی تربیت کی مانیٹرنگ کریں گے، پنجاب مانیٹرنگ افسران کی رپورٹ روزانہ کی بنیاد پر الیکشن کمیشن کو بھیجی جائے گی۔
    واضح رہے کہ8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات کے لیے ملک بھر میں پولنگ عملے کی تربیت جاری ہے اور اس میں غیر حاضری کے واقعات کا الیکشن کمیشن نے نوٹس لیتے ہوئے غیر حاضر عملے کے خلاف سخت انضباطی کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

  • بھارت کا پاکستان میں دہشتگردانہ کارروائیوں کا  ہولناک منصوبہ بے نقاب

    بھارت کا پاکستان میں دہشتگردانہ کارروائیوں کا ہولناک منصوبہ بے نقاب

    بھارت نے خطے اور بالخصوص پاکستان میں دہشتگردانہ کارروائیوں اور خطے کے ممالک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی ہےپاکستانی سیکیورٹی اداروں نے بھارت کے دہشتگرد گروہ اور بھارتی ہینڈلرز/سہولت کاروں جو کہ دہشتگردانہ کارروائیوں اور ٹارگٹ کلنگ میں ملوث تھے،ان کو کامیابی کے ساتھ بے نقاب کر دیاپاکستانی سیکریٹری خارجہ سائرس سجاد قاضی نے جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میں دونوں بھارتیوں کے نام لیے اور بھارت کے خلاف عالمی سطح پر کارروائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ بھارتی ایجنٹوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستان میں قاتلوں کی خدمات لیں۔سیکورٹی ذرائع نے بھی بھارتی شہریوں کے حوالے سے تفصیلات فراہم کی ہیں جن میں دونوں بھارتی باشندوں کے پاسپورٹس کی نقول شامل ہیں۔ پاکستان کے سیکیورٹی اداروں نے شواہد کی بنیاد پر بے نقاب کیا کے محمد ریاض اور شاہد لطیف کے قتل میں بھارتی شہری اشوک کمار آنند اور یوگیش کمار براہ راست ملوث ہیں ،پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے محمد ریاض اور شاہد لطیف کے ٹارگٹ کلرز کو ناقابل تردید شواہد کی روشنی میں گرفتار کیا، قتل میں ملوث ٹارگٹ کلرز، ان کے ساتھیوں اور سہولت کاروں کو اس وقت گرفتار کیا جب وہ پاکستان سے فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے
    قتل کئے جانے محمد ریاض اور شاہد طیف پرامن شہری تھے اور ان کا قصور صرف یہ تھا کہ انھوں نے کشمیر میں جاری ظلم اور بربریت اور بھارت کے گھناؤنے چہرے کو بے نقاب کیا محمد ریاض کو 8 ستمبر 2023ء کو راولا کوٹ جبکہ شاہد لطیف کو 11 اکتوبر 2023ء کو ڈسکہ میں ٹارگٹ کلرز نے قتل کیا،تحقیقاتی اداروں کے پاس مستند شواہد ہیں کہ اس پوری ٹارگٹڈ کلنگ مہم میں تیسرے ملک میں موجود بھارتی شہری شامل ہیں جو کہ اس کی فنڈنگ کرنے کے ساتھ ساتھ ہدایات بھی دے رہے تھے اور مہم کو کنٹرول بھی کر رہے تھےبھارت نےپاکستان سمیت دیگر ممالک میں مختلف معصوم افراد کو دہشتگردانہ کارروائیوں میں قتل کیا مگر ان کی سرگرمیوں کے بارے کوئی بھی ٹھوس شواہد فراہم نہیں کیے، بھارت بین الاقوامی قوانین کی مسلسل خلاف ورزیوں میں مصروف ہے بھارت نے یونیورسل ڈکلریشن آف ہیومن رائیٹس کے آرٹیکل3 اور انٹرنیشنل کنونشنل آف سول اینڈ پولیٹیکل رائنٹس کے آرٹیکل 2 (4)کی مکمل خلاف ورزی کر رہا ہے اسکے علاوہ بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی راء ایک عالمی دہشتگرد تنظیم کا کرادار ادا کر رہی ہے
    اس سے قبل بھی پاکستان میں اور بین الاقوامی سطح پر بھارتی ایجنسیوں کے ریاستی سرپرستی میں کئے جانے والے ماورائے عدالت قتل کے منصوبے بے نقاب ہو چکے ہیں بھارت نے گزشتہ سال سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کو کینیڈا میں قتل کیا کینڈا نے اس پر شدید سفارتی رد عمل ظاہر کیا اور اس قتل کو عالمی سطح پر اجاگر کیا
    بھارت نے اُن تمام سکھ رہنماؤں کو قتل کا منصوبہ بنایا جو بھارت کی ظالمانہ کاروائیوں کے خلاف آواز بلند کرتے تھے نجر کے قتل کے بعد بھارت نے امریکہ میں مقیم سکھ رہنما گر پتونت سنگھ پنوں کے قتل کا منصوبہ بنایا جو امریکی خفیہ اداروں کی بروقت کارروائی سے بے نقاب ہوا ،اس قتل کی سازش کا ملزم امریکہ میں عدالتی کاروائی کا سامنا کر رہا ہے،بھارت نے دنیا بھر میں راء کے ذریعے اجرتی قاتلوں کا ایک گروہ بنایا ہوا ہے،پاکستان کے سکیورٹی اداروں کی یہ ایک بڑی کامیابی ہے کہ اُنہوں نے اس گروہ کو پکڑا اور ثبوت منظر عام پر لائے،اقوام عالم کو چاہئے کہ وہ بھارت کی اس کھلم کھلا دہشتگردی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی پرنوٹس لے کر اس سے جواب طلبی کرے.پاکستان کے سلامتی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بھارتی دہشتگردی کا جواب دینے اور اپنے شہریوں کو محفوظ بنانے کے لئے ہر وقت کوشاں ہیں
    https://twitter.com/MarkhorTweets/status/1750499136229523617

  • میاں صاحب سے چوتھی بار میچ فکس کرنے کی امید نہیں تھی ،قمر زمان کائرہ

    میاں صاحب سے چوتھی بار میچ فکس کرنے کی امید نہیں تھی ،قمر زمان کائرہ

    پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما قمر زمان کائرہ نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین پی پی بلاول بھٹو کا شکریہ ادا کرتا ہوں، یہ علاقہ کبھی پیپلزپارٹی کا گڑھ ہوتا تھا، پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر قمرزمان کائرہ نے کہا کہ ہمارے مخالفین پھر میچ فکس کرکے کھیلنا چاہتے ہیں۔قمر زمان کائرہ نے کہا کہ ہمارے مخالفین آج تک اس ملک کے مسائل کا حل نہیں پیش کر سکے، ہمارے مخالفین چوتھی بار وزیراعظم بننے کا خواب دیکھ رہے ہیں، پیپلزپارٹی نے کبھی میچ فکس نہیں کیا، بلاول کے لاہور سے الیکشن کے اعلان کے بعد مخالف کانپ رہے ہیں۔
    ہمارے مخالفین بلاول بھٹو کے منشور سے خوفزدہ ہیں، جو پنجاب کو اپنی جاگیر سمجھ رہے تھے انہیں پتہ چل گیا کہ بلاول اپنے شہید نانا، شہید ماں کے نقش قدم پر چل پڑا ہے۔سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ میاں صاحب آپ سے توقع نہیں تھی کہ آپ میچ فکس کر کے کھیلیں گے، چوتھی بار وزیراعظم کا خواب دیکھنے والے ریاستی طاقت کے سہارے کھڑے ہیں، ہم ریاستی طاقت سے نہیں عوام کی طاقت سے جیتیں گے۔

  • آزاد امیدوار قرار دینے کے خلاف سلمان اکرم راجہ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    آزاد امیدوار قرار دینے کے خلاف سلمان اکرم راجہ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    سلمان اکرم راجہ کی خود کو آزاد امیدوار قرار دینے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی، لاہور ہائی کورٹ نے آزاد امیدوار قرار دینے کے خلاف سلمان اکرم راجہ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔ جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ کیا بیلٹ پیپر چھپ چکے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ 80 فیصد کے قریب چھپ چکے ہیں۔
    جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ کسی امیدوار کی نشاندھی کیسے ہوتی ہے؟ الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ بیلٹ پیپر پر انتخابی نشان اور امیدوار کا نام ہوتا ہے، بیلٹ پیپر پر ماضی میں اور نہ اب سیاسی جماعتوں کا نام لکھا جاتا ہے، فارم 33 کے مطابق 2 طرح کے امیدوار ہوتے ہیں، آزاد اور سیاسی جماعتوں کے، سیاسی جماعت کے سرٹیفکیٹ جاری کرنے پر امیدوار اس سیاسی جماعت کا کہلاتا ہے۔ جسٹس علی باقر نجفی نے سوال کیا کہ کیا سرٹیفکیٹ جاری کیے گئے؟
    الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ یہ لازم ہے کہ سرٹیفکیٹ متعلقہ شخص کی جانب سے جاری کیا جائے، انتخابی نشان کے بغیر ایک جماعت بحیثیت جماعت الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتی۔

  • عوام خود پی ٹی آئی کے سپورٹ میں نکل رہی ہے،بیرسٹر علی ظفر

    عوام خود پی ٹی آئی کے سپورٹ میں نکل رہی ہے،بیرسٹر علی ظفر

    بانی پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ پی ٹی آئی کو اپنا الیکشن کمپئین نہیں کرنے دیا جارہا لیکن اس الیکشن میں الٹا ہو رہا ہے، ہمارے امیدواروں کے پاس خود لوگ آرہے ہیں۔اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے کہا ہے صرف پی ٹی آئی کو الیکشن مہم نہیں چلانے دے رہے۔ بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ الیکشن کے بعد ایسا ملک بنے جہاں قانون کی پاسداری ہو، الیکشن میں لوگوں کو اپنا حق واپس لینا ہے۔
    انہوں نے کہا کہ وکیل کی حیثیت سے ہمارے قانونی تقاضے عدالت کو پورے کرنا ہوں گے، یہ بھی نہیں ہوسکتا کہ تیزی سے کیس چلے اور انصاف نہ ہو سکے۔
    انہوں نے کہا کہ اس الیکشن سے ہی اصل آزادی ملے گی قانون کی حکمرانی ہو سکے گی، بڑے سے بڑا شخص قانون کے تابع ہونا چاہیے، کسی سے زیادتی نہیں ہونی چاہیے۔بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ ضروری ہے کیس چلانے کے لیے قانون کے تقاضے پورے ہوں، کیسز کا الیکشن سے تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ امیدواروں اور ٹکٹوں کے فیصلے ہوچکے ہیں، اس الیکشن میں الٹا ہو رہا ہے، ہمارے امیدواروں کے پاس خود لوگ آرہے ہیں۔

  • غیر ملکی لیگز کے لیے پی سی بی کی این او سی پالیسی سے کھلاڑی ناراض

    غیر ملکی لیگز کے لیے پی سی بی کی این او سی پالیسی سے کھلاڑی ناراض

    پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے غیر ملکی لیگز کے لیے این او سی جاری نہ کرنے پر قومی ٹیم کے کھلاڑی برہم ہیں، ذرائع کے مطابق بنگلہ دیش پریمیئر لیگ (بی پی ایل) کے لیے این او سی جاری نہ ہونے کی وجہ سے شکایات کی ڈھیر لگ گئی.کھلاڑیوں نے لیگز کے لیے این او سی کے حوالے سے پی سی بی کی پالیسی پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے، اس معاملے پر ٹیم مینجمنٹ کے ساتھ متعدد بات چیت میں مصروف ہیں۔ٹیم انتظامیہ کو اپنی شکایات میں، انہوں نے کہا ہے کہ ہر کھلاڑی کو مختلف معیارات کے تحت این او سی جاری کرنے کے لیے جانچا جا رہا ہے۔ کچھ کھلاڑی ایک سال کے اندر تھرڈ لیگ کھیل چکے ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ دیگر کھلاڑیوں کو بھی این او سی دیا جانا چاہیے۔ کھلاڑیوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اگر قومی ذمہ داری نہیں ہے تو پی سی بی کو این او سی جاری کرنا ہوگا۔

    جب انہیں مکمل لیگ کھیلنے کی اجازت نہیں ہے تو وہ دو این او سی رکھنے کی افادیت پر سوال اٹھا رہے ہیں۔قومی ذمہ داری کے باوجود پی سی بی این او سی جاری کرنے پر آمادگی ظاہر نہیں کر رہا ہے اور کھلاڑی غیر منصفانہ حالات میں سینٹرل کنٹریکٹ سے خارج ہونے کا معاوضہ بھی نہیں مانگ سکتے۔کھلاڑیوں نے سوال اٹھایا ہے کہ کام کا بوجھ کیسے طے کیا جاتا ہے۔ وہ پوچھ رہے ہیں کہ بغیر کسی میڈیکل یا بائیو مکینیکل ٹیسٹ کے کام کے بوجھ کا اندازہ کیسے لگایا جا سکتا ہے۔ ناانصافی کی صورت میں، کھلاڑی مرکزی معاہدوں سے دستبردار ہونے پر بھی غور کر سکتے ہیں۔یاد رہے کہ پی سی بی نے اعظم خان اور شاداب خان کو این او سی جاری کر دیا ہے جو پہلے ہی دو لیگز کھیل چکے ہیں۔واضح رہے کہ وکٹ کیپر بلے باز محمد حارث کو بی پی ایل میں شرکت کیے بغیر ڈھاکہ سے واپس آنا پڑا کیونکہ پی سی بی نے انہیں این او سی جاری کرنے سے انکار کردیا تھا۔حارث بی پی ایل کے دسویں ایڈیشن میں چٹوگرام چیلنجرز کی نمائندگی کے لیے ڈھاکہ پہنچے تھے۔تاہم، پی سی بی کی جانب سے این او سی کے لیے ان کی درخواست مسترد کر دی گئی، اس کی وجہ جولائی 2023 سے دو لیگز میں شرکت تھی۔ اس نے جولائی میں کینیڈا کی گلوبل ٹی 20 لیگ اور اگست 2023 میں لنکا پریمیئر لیگ میں کھیلا۔قبل ازیں، پی سی بی نے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے آنے والی فرنچائز پر مبنی لیگز میں شرکت کے لیے این او سی دے دیا ہے۔