Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • پٹرولیم مصنوعات کے قیمتوں میں بڑی کمی کا امکان

    پٹرولیم مصنوعات کے قیمتوں میں بڑی کمی کا امکان

    عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں گزشتہ کچھ عرصے میں زبردست کمی دیکھی گئی جبکہ رواں برس کے اغاز میں مجموعی طور پر تیل کی قیمتیں نیچے انے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔وفاقی حکومت کا پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کرنے کا امکان ہے جس کے لئے جنوری کے باقی 15 دن کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا اعلان پیر کو کرنے والی ہے۔ اوگرا نے اس سلسلے میں تخمینہ تیار کر لیا ہے اور ذرائع کا کہنا ہے کہ پیٹرول کی قیمت میں پانچ روپے سے زائد کی کمی ہو سکتی ہے۔ جنوری کے پہلے دو ہفتوں میں خام تیل برینٹ کی قیمت 75 ڈالر فی بیرل کے آس پاس رہی۔آئل اینڈ گیس اتھارٹی اوگرا نے پیٹرولیم قیمتوں کا تخمینہ تیار کر لیا ہے جس کے مطابق پیٹرول کی قیمت فروخت میں5.32 روپے فی لیٹر کمی کا امکان ہے۔ مٹی کے تیل کے نرخ میں3.29اور لائٹ ڈیزل کے نرخ میں1.75روپے فی لیٹر کمی متو قع ہے۔
    البتہ ڈیزل کی قیمت میں کمی کا امکان نہیں۔اگر حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اسی تناسب سے کمی کی تو پیٹرول کی قیمت 276.21 سے کم ہو کر 267.34روپے فی لیٹر ہو جائے گی۔مٹی کے تیل کی قیمت 188.83سے کم ہو کر 185.54روپے فی لیٹر ہو جائے گی جبکہ لائٹ ڈیزل کی قیمت 165.75سے کم ہو کر 164روپے فی لیٹر ہو جائے گی۔

  • الیکشن کمیشن نے پاکستان تحریک انصاف کے امیدواروں کو آزاد حیثیت میں انتخابی نشانات الاٹ کر دیئے

    الیکشن کمیشن نے پاکستان تحریک انصاف کے امیدواروں کو آزاد حیثیت میں انتخابی نشانات الاٹ کر دیئے

    پی ٹی آئی اپنے انتخابی نشان سے محروم ہونے کے بعد الیکشن کمیشن نے پاکستان تحریک انصاف کے امیدواروں کو آزاد حیثیت میں انتخابی نشانات الاٹ کر دیئے۔
    جس میں بیرسٹرگوہر علی خان کو ’چینک‘ کا نشان الاٹ کیا گیا جبکہ شوکت یوسفزئی کو ’ریکٹ‘ کا نشان مل گیا۔ پارٹی رہنما شہریارآفریدی کو ’بوتل‘ کے نشان پر الیکشن لڑنا ہوگا، شاندانہ گلزار کو ’پیالہ‘ اور مہر بانو قریشی کو ’چمٹا‘ کا انتخابی نشان دیا گیا ہے۔ جبکہ ملتان سے زین قریشی کو ’جوتے‘، ڈاکٹر ریاض لانگ کو ’راکٹ‘، لاہور سے عالیہ حمزہ ملک کو ’ڈائس‘ ، بھکر سے ثناء اللہ خان مستی خیل کو ’لیٹربکس‘ کا نشان مل گیا۔ پرویزالہیٰ کی اہلیہ قیصرہ الہٰی ’فریج‘ کے نشان پر الیکشن لڑیں گی، ملتان سے ہی عامر ڈوگر کو ’کلاک‘ کا انتخابی نشان مل گیا، عرفان اللہ خان نیازی کو ’گھڑیال‘ کا نشان ملا ہے۔ این اے 122 سے تحریک انصاف کے اظہر صدیق کو ’میڈل‘ جبکہ لطیف کھوسہ کو الفابیٹ ’(K)‘ کا انتخابی نشان الاٹ مل گیا جبکہ این اے 123 سے پی ٹی آئی امیدوار افضال عظیم پاہٹ کو ’ریڈیو‘ کا نشان الاٹ کیا گیا ہے تحریک انصاف کے امیدوار این اے 107 سے مہر ریاض فتیانہ کو کرسی، پی پی 123 آشفہ ریاض فتیانہ اور پی پی 124سے سیدہ سونیا علی رضا شاہ کو پیالہ کا نشان الاٹ کیا گیا۔
    این اے 124 سےپی ٹی آئی امیدوار سردار عظیم اللہ کو ’گھڑی‘ اور ضمیر احمد کو ’ڈولفن‘ کا نشان الاٹ کیا گیا جبکہ این اے 125 سے پی ٹی آئی امیدوار جمیل اصغر بھٹی کو ’ڈھول‘ کا نشان مل گیا۔این اے 128 سے پی ٹی آئی کے سلمان اکرم راجہ کو ’ریکٹ’ کا نشان الاٹ کیا گیا جبکہ این اے 129 سے پی ٹی آئی امیدوار میاں اظہر ’کرکٹ سٹمپ‘ کے نشان پر الیکشن لڑیں گے۔واضح رہے کہ گزشتہ شب سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ درست اور پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، جس کے بعد پی ٹی آئی ’بلے‘ کے انتخابی نشان سے محروم ہوگئی ہے۔

  • چئیر مین پی ٹی آئی کے گھر پر چھاپہ، 5 افسران معطل

    چئیر مین پی ٹی آئی کے گھر پر چھاپہ، 5 افسران معطل

    تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر گوہر کے گھر پولیس جانے پر انکوائری کے معاملے پر ترجمان اسلام آباد پولیس کا بیان سامنے آگیا۔ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر خان کی رہائشگاہ پر پولیس کے چھاپے مارے جانے کے معاملے پر 5 افسران بشمول ایس ایچ او مارگلہ کو تا حکم ثانی معطل کردیا گیا۔ ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق گزشتہ روز بیرسٹر گوہر کے گھر مقامی پولیس کے جانے پر انکوائری عمل میں لائی گئی ہے۔ آئی سی سی پی او ڈاکٹر اکبر ناصر خان نے چیئرمین پی ٹی آئی کو کسی بھی پولیس افسر کے قصوروار ہونے پر محکمانہ کارروائی کی یقین دہانی کروائی ہے۔ ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق بیرسٹر گوہر نے سپریم کورٹ میں اپنے گھر پولیس جانے کی شکایت کی، جس پر چیف جسٹس پاکستان نے کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر کو طلب کیا اور معاملے کی تحقیق کا حکم دیا تھا۔ترجمان کا کہنا ہے کہ معزز عدالت نے آئی سی سی پی او کو ذاتی طور پر چئیرمن پی ٹی آئی کی شکایت کو سننے کا کہا، آئی سی سی پی او اکبر ناصر خاں نے بیرسٹر گوہر کو تحقیق کی یقین دہانی کروائی ہے۔ترجمان کا کہنا ہے کہ آئی سی سی پی او نے کسی بھی پولیس افسر کے قصور وار ہونے پر کارروائی کی یقین دہانی کرائی ہے اور ڈی پی او سٹی کو انکوائری افسر مقرر کر کے تفصیلی رپورٹ 3 دن میں طلب کی گئی ہے۔ترجمان کا مزید کہنا ہے کہ 5 افسران بشمول ایس ایچ او مارگلہ کو تاحکم ثانی معطل کردیا گیا ہے، انکوائری ہو رہی ہے، قانون کی خلاف ورزی پر اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی

  • سینئیر اداکار شوکت زیدی انتقال کر گئے

    سینئیر اداکار شوکت زیدی انتقال کر گئے

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے سینئر اداکار شوکت زیدی 72 سال کی عمر میں دنیا فانی سے کوچ کر گئے، شوکت زیدی پچھلے کچھ عرصہ سے گردوں کی بیماری میں مبتلا ہونے کی وجہ سے لاہور کے نجی اسپتال میں زیرِ علاج تھے۔اداکاری کے علاوہ وہ 1970ء سے 1998ء تک صحافت کے شعبے سے بھی وابستہ رہے۔
    شوکت زیدی نے بطور اداکار لاتعداد ڈراموں میں بے مثال اداکاری کے جوہر دکھائے مگر ان کو حقیقی شہرت جیو ٹی وی کے شہرۂ آفاق پروگرام ’ہم سب امید سے ہیں‘ سے ملی جس میں انہوں مختلف قسم کے دلچسپ کردار ادا کیے،اُنہوں نے بطور مصنف افسانے اور غزلیں لکھنے کے علاوہ 10 سال تھیٹر کے لیے بھی لکھا۔اس شو میں اُنہیں غریب عوام کی نمائندگی کرنے والے شخص کے کردار میں شائقین نے سب سے زیادہ پسند کیا۔

  • دل سے چاہتا تھا کہ پی ٹی آئی کو بلا مل جائے، ناصر حسین شاہ

    دل سے چاہتا تھا کہ پی ٹی آئی کو بلا مل جائے، ناصر حسین شاہ

    پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما ناصرحسین شاہ نے کہا ہے کہ ذاتی طور پر پی ٹی آئی سے ’’بلا‘‘ چھیننے کے فیصلے پر خوش نہیں ہوں، دل سےچاہتا تھا ان کو بلے کا نشان ملنا چاہیے۔مقامی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ناصر حسین شاہ کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی سے تلوار کا نشان چھینا گیا تو ہمیں تیر کا نشان لینا پڑا، پی ٹی آئی کو متفقہ طور پر ایک نشان ضرور ملنا چاہیے تھا۔ رہنما پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف بھی انٹرا پارٹی انتخابات بہتر طریقے سے کرا سکتی تھی لیکن ایسا نہیں ہوا، بلاول بھٹونےکئی بارکہا سب کولیول پلیئنگ فیلڈ ملنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی ہائی کورٹ کے فیصلے کو پورے ملک پر لاگو نہیں کیا جا سکتا، عدالت میں پی ٹی آئی کے پاس دلائل اور ثبوت نہیں تھے۔ناصر حسین شاہ نے مزید کہا کہ آئینی و قانونی طور پر سپریم کورٹ کا فیصلہ بالکل ٹھیک ہے، چیف جسٹس آف پاکستان کو سلام پیش کرتا ہوں۔

  • الیکشن 2024: پشاور اور اسلام آباد میں قومی اور صوبائی اسمبلی کے امیدوروں کو نشانات الاٹ

    الیکشن 2024: پشاور اور اسلام آباد میں قومی اور صوبائی اسمبلی کے امیدوروں کو نشانات الاٹ

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پشاور سے قومی اسمبلی کے اور صوبائی اسمبلی کے 13 حلقوں کے امیدواروں کو بھی نشانات الاٹ کردیے گئے۔ جس کے مطابق پیپلز پارٹی کے امیدواروں کو تیر، مسلم لیگ ن کے امیدواروں کو شیر اور عوامی نیشنل پارٹی کو لالٹین کا انتخابی نشان الاٹ کیا گیا ہے۔ اسی طرح جماعت اسلامی کو ترازو، جے یو آئی ف کو کتاب، قومی وطن پارٹی کو چراغ، پی ٹی آئی پارلیمنٹیرین کو پگڑی، پاکستان تحریک انصاف نظریاتی کو بیٹسمین کا نشان الاٹ کیا گیا ہے۔استحکام پاکستان پارٹی کو عقاب، ایم کیو ایم کو اور تحریک لبیک پاکستان کو کرین کا انتخابی نشان دیا گیا ہے۔علاوہ ازیں پی ٹی آئی سے بلے کا نشان واپس لینے کے بعد امیدواروں کو مختلف نشانات الاٹ کیے گئے ہیں۔ ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفس اسلام آباد کی جانب سے تمام امیدواروں کو انتخابی نشانات جاری کر دیے گئے۔ اسی طرح وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے 3 حلقوں سے مجموعی طور پر 119 امیدواروں کو انتخابی نشانات جاری کیے گئے ہیں۔ این اے 46 سے 29 امیدوار آزاد حیثیت اور 16 جماعتوں کے امیدوار الیکشن لڑیں گے ،جبکہ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 46 میں مجموعی طور پر 44 امیدوار میدان میں اتریں گے۔ اسی طرح اسلام آباد سے این اے 46 میں آزاد امیدوار مصطفین کاظمی کا انتخابی نشان پیرا شوٹ اور شعیب شاہین کا انتخابی نشان شوز ہو گا۔علاوہ ازیں این اے 47 میں آزاد امیدوار چوہدری الیاس مہربان کو بیٹری، مصطفیٰ نواز کھوکھر کو گھڑی، خواجہ سراء امیدوار کو سبز مرچ انتخابی نشان دیا گیا ہے۔ این اے 47 سے مجموعی طور پر37 امیدوار میدان میں اتریں گے، یہاں سے 25 آزاد امیدوار انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں جبکہ 12 مختلف سیاسی جماعتوں کے امیدوار بھی میدان میں ہیں۔دوسری جانب این اے 48 میں مجموعی طور پر 38 امیدوار میدان میں اتریں گے، یہاں سے 11 جماعتوں کے امیدوار اور 27 آزاد حیثیت میں الیکشن لڑیں گے۔این اے 48 سے آزاد امیدوار راجہ خرم نواز انار کے نشان پر میدان میں اتریں گے جبکہ علی بخاری پیراشوٹ کے نشان پرالیکشن لڑیں گے۔

  • پی ٹی آئی کے پی کے میں غیر منصفانہ ٹکٹوں کی تقسیم پر کارکنان سراپہ احتجاج

    پی ٹی آئی کے پی کے میں غیر منصفانہ ٹکٹوں کی تقسیم پر کارکنان سراپہ احتجاج

    پی ٹی آئی میں ٹکٹوں کی غیر منصفانہ تقسیم پر اختلاف پی ٹی آئی کے ورکرز کا پشاور پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا ، ٹکٹ نہ ملنے پر افتخار اللہ کا پی کے 64 سے آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے کا اعلان کیا ، پی ٹی آئی ضلعی نائب افتخار اللہ پارٹی کو ہونے والے نقصانات کے ذمہ دار بیرسٹر گوہر علی ، علی آمین اور عمران ایوب ہونگے- پی ٹی آئی چیئر مین نے پی کے 64 پر میرے مقابلے میں غیر موزوں امیدوار کو ٹکٹ جاری کیا- افتخار اللہ نے کہا کہ ٹکٹ حاصل کرنے والا امیدوار حمزہ نصیرسابق ایم این اے فضل محمد خان کا داماد ہے- پارٹی نے فضل محمد خان کو این اے 25 کیلئے بھی ٹکٹ دے رکھا ہے- چیئر مین نے فضل محمد خان کے بھابھی کو خواتین کے مخصوض نشست کا ٹکٹ دیا ہے- پشاور ایک ہی گھر میں تین ٹکٹ دینا کونسا انصاف ہے- ٹکٹوں کی تقسیم میں اقربا پروری سے کام لیا گیا ہے- پی ٹی آئی ضلعی نائب صدر افتخار اللہ نے کہا کہ پارٹی کی طرف سے شوکاز نوٹس دینے کی پروا نہیں کیونکہ پارٹی کارکنان میرے ساتھ ہیں،میرے پاس اتنا ووٹ ہے کہ آزاد حیثیت سے سیٹ جیت سکتا ہوں ، انہوں نے کہا پارٹی چیئر مین بانی پی ٹی آئی کے وژن کے خلاف ہیں،

  • پی ایم ایل این نے خیبر پختونخوا میں اپنے امیدواروں کو ٹکٹ جاری کر دئے

    پی ایم ایل این نے خیبر پختونخوا میں اپنے امیدواروں کو ٹکٹ جاری کر دئے

    مسلم لیگ ن نے خیبر پختونخوا کے امیدوار کے نام فائنل کر کے ٹکٹ جاری کر دئے ہیں ۔ جن میں مانسہرہ این اے 15 سے سابق وزیراعظم نواز شریف مسلم لیگ ن کے امیدوار ہونگے ،اسی طرح این اے 2 اور این اے 11 سے ن لیگ کے صوبائی صدر میر مقام کو ٹکٹ دے دیا گیا ہے، امیر مقام کو پی کے 5 سے بھی ٹکٹ جاری کیا گیا ہے، عباس خان آفریدی این اے 35 کوہاٹ سے امیدوار ہونگے .پشاور سردار محمد یوسف کو این اے 14 مانسہرہ سے ٹکٹ جاری کر دئے، این اے 28 ارباب خضر حیات، این اے 29 صوبیہ شاہد اور این اے 30 پشاور سے رئیس خان امیدوار ہوں گے۔
    پشاور۔این اے 31 سے صوبیہ شاہد اور این اے 32 سے شیر رحمان کو ٹکٹ جاری جبکہ پی کے 5 سے امیر مقام ہی ہونگے، پی کے 69 سے شفیق افریدی اور پی کے 70 سے بلاول افریدی کو ٹکٹ دے دیا گیا ، اسی طرح پی کے 72 عظمت خان اور پی کے 74 سے ارباب افضل اکبر امیدوار ہونگے، ن لیگ کے لئے پی کے 75 سے ارباب غلام فارق، پی کے 76 سے صوبیہ شاہد، پی کے 78 سے ظاہر خان، اور پی کے 79 سے جلال خان امیدوارہوںگے،پی کے 80 سے حیدر شاہ کو ٹکٹ دے دیا گیا ہے

  • سابق بھارتی کپتان ایم ایس دھونی کا آٹوگراف دینے سے انکار

    سابق بھارتی کپتان ایم ایس دھونی کا آٹوگراف دینے سے انکار

    ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان ایم ایس دھونی کے مداحوں کی بڑی تعداد ہے اور دنیا کا کوئی کونا ایسا نہیں ہو سکتا جو ایم ایس دھونی کے بارے میں نہ جانتا ہو۔ دھونی جہاں سوشل میڈیا پر بہت کم ایکٹو رہتے ہیں، وہیں ان کے مداح ہمیشہ ان کی ذاتی زندگی کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔ اپنی ٹھنڈی اور پرسکون طبیعت کے لیے بھی جانا جاتا ہے جو کہ ان کے بہت بڑے مداحوں کی پیروی کی ایک اور بڑی وجہ ہے۔ سوشل میڈیا ہمیشہ ایم ایس دھونی کی ویڈیوز سے بھرا رہتا ہے۔ کسی کی شادی ہو یا عوامی تقریب، کسی بھی تقریب میں دھونی کی موجودگی کی جھلک انٹرنیٹ پر دستیاب ہے۔ ایک حالیہ وائرل ویڈیو میں ایم ایس دھونی کو فوج کے کچھ جوانوں کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک اور ویڈیو میں، دھونی کو ایک مداح کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے دیکھا گیا جو اس کا آٹوگراف مانگ رہا تھا۔ دھونی کے مداح کو اس وجہ سے انکار کر دیا کہ وہ ہاتھ پر اپنا آٹوگراف نہیں دیتا ہے.دھونی ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے بہترین اور کامیاب کپتانوں میں سے ایک ہیں۔ ایم ایس دھونی تین آئی سی سی ٹرافی جیتنے والے واحد ہندوستانی کپتان ہیں اور انہوں نے چنئی سپر کنگز کے ساتھ پانچ IPL ٹائٹل بھی جیتے ہیں۔ ایک کامیاب لیڈر ہونے کے علاوہ، دھونی کھلاڑیوں کو تیار کرنے کا طریقہ بھی جانتا ہے

  • ٹینس سٹار نوواک جوکووچ بھی  ویرات کوہلی کے مداح نکلے

    ٹینس سٹار نوواک جوکووچ بھی ویرات کوہلی کے مداح نکلے

    مشہور ٹینس کھلاڑی نوواک جوکووچ نے انکشاف کیا ہے کہ وہ بھارتی بلے باز ویرات کوہلی کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک دوسرے کو کچھ سالوں سے جانتے ہیں اور وہ ویرات کوہلی کی بہت تعریف کرتے ہیں۔ ویرات کوہلی ایک عالمی برانڈ بن چکے ہیں اور دنیا کی مشہور شخصیات میں سے ایک ہیں۔ٹینس اسٹار نوواک جوکووچ آسٹریلین اوپن 2024 میں ایک اور گرینڈ سلیم ٹائٹل جیتنے کے لیے کوشاں ہیں، جب کہ ہندوستانی بلے باز ویرات کوہلی اتوار کو افغانستان کے خلاف دوسرے T20I کی تیاری کر رہے ہیں۔ویرات کوہلی کے معاملے میں نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا بھر میں ان کے مداح ہیں۔ یہاں تک کہ ان علاقوں میں جہاں کرکٹ اتنی نمایاں نہیں ہے،سونی اسپورٹس نیٹ ورک پر بات کرتے ہوئے، جوکووچ نے انکشاف کیا کہ گزشتہ چند سالوں میں، ذاتی طور پر ملاقات نہ ہونے کے باوجود، جوڑی ٹیکسٹ پیغامات کے ذریعے رابطے میں رہی۔انہوں نے کہا کہ ویرات کوہلی اور میں کچھ سالوں سے تھوڑا سا ٹیکسٹ کر رہے ہیں۔ ہمیں کبھی بھی ذاتی طور پر ملنے کا موقع نہیں ملا، لیکن یہ واقعی ایک اعزاز کی بات تھی کہ انہیں میرے بارے میں اچھی بات کرتے ہوئے سنا۔ میں واضح طور پر اس کے تمام کیریئر اور کامیابیوں کی تعریف کرتا ہوں۔ میں نے کرکٹ کھیلنا شروع کر دیا، لیکن میں اس میں زیادہ اچھا نہیں ہوں۔ لیکن میرے پاس ہندوستان آنے سے پہلے اپنی کرکٹ کی مہارت کو مکمل کرنے کا کام ہے، اور جب میں وہاں ہوں تو مکمل تیاری کے ساتھ ہوں،بھارت کے لیے اپنی محبت کا اضافہ کرتے ہوئے، ٹینس اسٹار نے کہا، ’’میں کئی سالوں سے ہندوستان کی محبت کو محسوس کر رہا ہوں۔ میں صرف ایک بار، 10-11 سال پہلے، نئی دہلی میں ایک نمائشی ٹینس میچ کھیلنے کے لیے ہندوستان گیا ہوں، اس لیے مجھے امید ہے کہ میں مستقبل قریب میں واپس آنے کے قابل ہو جاؤں گا۔ میری بہت خواہش ہے کہ میں آپ کے خوبصورت ملک کو تلاش کروں جس کی تاریخ اور ثقافت دنیا کو پیش کرنے کے لیے بہت زیادہ ہے۔”