چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری نے حال ہی میں سپریم کورٹ کے جج جسٹس دراب پٹیل کے تجربے کی روشنی میں آئینی عدالت کے قیام کی ضرورت پر زور دیا۔ کراچی سے جاری بیان میں، بلاول نے کہا کہ جسٹس پٹیل نے آئینی عدالت کے قیام کا خیال عاصمہ جہانگیر، آئی اے رحمان اور دیگر اہم شخصیات کے ساتھ شیئر کیا، جنہوں نے ان کے اس خیال سے اتفاق کیا۔بلاول بھٹو زرداری نے اس موقع پر کہا، "تاریخ ان لوگوں کے لئے ناگوار ہے جو سمجھتے ہیں کہ سیاست کا آغاز کرکٹ ورلڈکپ سے ہوتا ہے۔” انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جو لوگ سمجھتے ہیں کہ سیاست کا عروج بانی پی ٹی آئی اور جنرل فیض کے انقلاب پر ہوتا ہے، وہ بھی تاریخ کے صفحات میں اپنا مقام کھو دیں گے۔
بلاول نے کہا کہ ان کا عزم آئینی ارتقاء، منشور، اور میثاق جمہوریت کے لئے ہمیشہ یکساں رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "چاہے وزیراعظم، ججز، اور اسٹیبلشمنٹ کے چہرے بدلتے رہیں، ہم کبھی بھی آمروں اور ججز کی طرح من مانی سے قانون سازی یا آئین میں ترمیم نہیں کرتے۔ ہم اپنی نسلوں کے لئے اہداف حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔چیئرمین پی پی پی نے واضح کیا کہ 18ویں ترمیم میں 1973 کے آئین کو بحال کرنے میں انہیں 30 سال لگے، اور جسٹس افتخار چوہدری کے سیاسی فیصلوں کے نقصانات دور کرنے میں دو دہائیاں گزر چکی ہیں۔ انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ 26ویں ترمیم کی تیاری عجلت میں نہیں کی جا رہی، حالانکہ یہ کافی عرصہ پہلے ہی ہونی چاہیے تھی۔
Author: صدف ابرار

بلاول بھٹو کا آئینی عدالت کے قیام اور آئینی اصلاحات کی ضرورت پر زور

بابر اعظم: پاکستانی ٹیم پر بوجھ، اوقات یاد دلا دی گئی
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی بابر اعظم کا کیرئیر آج کل شدید تنقید کی زد میں ہے، اور حالیہ پی سی بی اجلاس کے فیصلے نے اس بحث کو مزید تقویت دی ہے کہ آیا بابر اعظم واقعی قومی ٹیم کے معیار پر پورا اترتے ہیں یا نہیں۔ بابر اعظم اب خود ایک سوالیہ نشان بن چکے ہیں۔دس سالہ طویل کرکٹ کیریئر میں بابر اعظم کی کارکردگی پر نظر ڈالیں تو حقائق حیران کن ہیں۔ اتنے لمبے عرصے میں بابر کا ایک ففٹی نہ بنانا ان کی کرکٹ اہلیت پر سنجیدہ سوالات کھڑے کرتا ہے۔ ایک ایسا کھلاڑی جس سے قوم کو بڑی امیدیں وابستہ تھیں، اس کی مسلسل ناکامیوں نے شائقین کو مایوس کر دیا ہے۔ پی سی بی کے حالیہ اجلاس میں بابر کو ملتان ٹیسٹ سے باہر کرنے کا فیصلہ کیا گیا، لیکن اس کو ’ریسٹ‘ کا نام دے کر چھپانے کی کوشش کی گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ بابر اعظم کی ناقص کارکردگی نے انہیں ٹیم سے باہر کروا دیا ہے۔
پی سی بی اجلاس کے دوران باخبر ذرائع کے مطابق جیسن جلسیپی اور شان مسعود جیسے کرکٹ کے ماہرین بابر کو برقرار رکھنا چاہتے تھے، لیکن عاقب جاوید کی مخالفت نے پی سی بی کو مجبور کیا کہ وہ بابر کے حق میں فیصلہ نہ دے۔اور پھر بابر اعظم کو ملتان ٹیسٹ سے باہر کر دیا گیا۔ پی سی بی اجلاس کے دوران ملتان ٹیسٹ دے بابر اعظم کو نکال کر دراصل بابر اعظم کو ان کی حدود یاد دلائی گئی ہیں۔ بابر اعظم کی حالیہ کارکردگی، مسلسل ناکامیوں اور انفرادی سطح پر بہتر کارکردگی نہ دکھانے سے ٹیم کی مجموعی پرفارمنس بھی متاثر ہو رہی ہے۔ بابر کی کپتانی کے دوران، ٹیم کو کئی مواقع پر شکست کا سامنا کرنا پڑا، اور ان کی اپنی بیٹنگ میں وہ تسلسل نظر نہیں آتا جو ایک کپتان میں ہونا چاہیے۔پاکستان کرکٹ کو اب ایسے کھلاڑیوں کی ضرورت ہے جو صرف نام کے نہیں، بلکہ عملی طور پر کارکردگی دکھا کر ٹیم کو اوپر لے جائیں۔ بابر اعظم کے پاس مواقع تھے، مگر ان کی مسلسل ناکامیوں نے انہیں اس مقام پر پہنچا دیا جہاں انہیں ٹیم سے باہر کر دیا گیا۔ اگر وہ اب بھی اپنی کارکردگی بہتر نہیں کرتے، تو شاید مستقبل میں ان کی واپسی کا کوئی امکان بھی نہ ہو۔
دوسری جانب پی سی بی اجلاس کے دوران عثمان کا فارغ کر دیا گیا اور اب امید کی جا رہی ہے کہ عثمان کی جگہ مدثر نذر کو لائے جانے کا امکان ہے۔ مدثر نذر اور عاقب جاوید جیسے منجھے ہوئے کھلاڑیوں کے پی سی بی میں ہونے سے پاکستان کرکٹ میں بہتری آئے گی اور کھلاڑیوں کا کھیل بھی بہتر ہو گا ۔

وفاقی دارالحکومت میں روٹی اور نان کی نئی قیمتیں مقرر
اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں روٹی اور نان کی نئی قیمتیں مقرر کر دی گئی ہیں۔ ڈپٹی کمشنر کی ہدایت پر، اسسٹنٹ کمشنر سیکرٹریٹ نے نان بائی ایسوسی ایشن کے نمائندوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کی، جس کے نتیجے میں روٹی کی قیمت 16 روپے جبکہ نان کی قیمت 20 روپے طے کی گئی ہے۔ترجمان ضلعی انتظامیہ کے مطابق، نئی قیمتوں کے تعین کے لیے نان بائی ایسوسی ایشن کے ساتھ تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اس مشاورت کا مقصد صارفین کے مفادات کا تحفظ اور مارکیٹ میں استحکام کو برقرار رکھنا تھا۔ باہمی مشاورت کے بعد طے شدہ قیمتوں کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق، 120 گرام روٹی کی قیمت 16 روپے ہوگی جبکہ 120 گرام نان کی قیمت 20 روپے مقرر کی گئی ہے۔ یہ نئی قیمتیں 13 اکتوبر، بروز اتوار سے نافذ العمل ہوں گی۔ ضلعی انتظامیہ نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ وہ نان بائیوں اور دکانداروں سے مقررہ قیمتوں پر اشیاء کی خریداری کریں اور کسی بھی انحراف کی صورت میں فوری طور پر انتظامیہ سے شکایت کریں۔یہ اقدام عوامی دباؤ اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناظر میں کیا گیا ہے، تاکہ لوگوں کو بنیادی ضروریات کی اشیاء معقول قیمتوں پر فراہم کی جا سکیں۔ نان بائی ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے بھی نئی قیمتوں کو تسلیم کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ان قیمتوں پر عمل درآمد کریں گے۔ عوامی سطح پر اس فیصلے کو سراہا جا رہا ہے، اور امید کی جا رہی ہے کہ اس سے روٹی اور نان کی رسد میں بہتری آئے گی اور صارفین کی مشکلات کم ہوں گی۔
کسی کے مرضی کے خلاف ان کے ضمیر خریدنے کی کوششیں جمہوری عمل نہیں ہیں۔ اسد قیصر
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیئر رہنما اور رکن قومی اسمبلی اسد قیصر نے اپنی پارٹی کے چیئرمین عمران خان کی صحت کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عمران خان کے ذاتی معالج کو ان سے ملاقات کی اجازت دی جائے، تاکہ ان کی صحت کا بہتر خیال رکھا جا سکے۔ اسد قیصر نے اپنی بات چیت میں کہا کہ ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال ایسی ہے کہ جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ آئین میں ترمیم کے لیے لوگوں کو ووٹ کے لیے اغوا کیا جا رہا ہے، جو کہ جمہوری اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ دنیا بھر میں کہیں بھی نہیں دیکھا گیا کہ ووٹ کے لیے لوگوں کے گھروں کی چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کروڑوں اور اربوں روپے کی پیشکشوں، عہدوں کے لالچ، اور لوگوں کی مرضی کے خلاف ان کے ضمیر خریدنے کی کوششیں جمہوری عمل نہیں ہیں۔ اسد قیصر نے پی ٹی آئی کے سینیٹرز اور ممبران اسمبلی کے گھروں پر چھاپے مارنے، ان کی عزت و ناموس کو پامال کرنے، اور کھلے عام پیسوں اور عہدوں کی پیشکشوں کی بھرپور مذمت کی۔ اسد قیصر نے اس موقع پر 15 اکتوبر کو اسلام آباد میں ہونے والے احتجاج کے بارے میں بھی بات کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کسی صورت شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کانفرنس کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتی، بلکہ پارٹی کے کارکنان کی جانب سے ہونے والے احتجاج کا مقصد عمران خان کی صحت کے حوالے سے حکومت کی عدم توجہی کی نشاندہی کرنا ہے۔
یہ صورت حال نہ صرف پی ٹی آئی کے لیے چیلنج بنی ہوئی ہے بلکہ ملک کی سیاسی فضا پر بھی منفی اثر ڈال رہی ہے۔ اسد قیصر کے بیانات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ پی ٹی آئی موجودہ حالات کے خلاف ایک منظم ردعمل دینے کے لیے تیار ہے، اور وہ عمران خان کی صحت کو ہر ممکن طریقے سے محفوظ رکھنا چاہتی ہے۔
حکومت کے رویے اور موجودہ سیاسی صورت حال کے تناظر میں، اسد قیصر کی گفتگو سے یہ بھی عیاں ہوتا ہے کہ ملک میں جمہوری روایات کی پاسداری کی ضرورت ہے تاکہ عوامی اعتماد بحال ہو سکے۔
ایس سی او اجلاس کے دوران احتجاج ملکی مفادات کے خلاف ہے، اسحاق ڈار
نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک سیاسی جماعت کی جانب سے ریاست پر حملہ آور ہونے اور 15 اکتوبر کو شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس کے دوران احتجاج کی کال دینے کو ملکی مفادات کے خلاف قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات نہ صرف ریاست کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی سفارتی پوزیشن کو بھی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔اسحاق ڈار نے کہا کہ ایک سیاسی جماعت نے ریاست پر حملہ کر کے ریڈ لائن کو عبور کر لیا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر 15 اکتوبر کو ہونے والے احتجاج کی کال پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس موقع پر احتجاج کی کال دینا ناقابل فہم ہے، کیونکہ پاکستان شنگھائی تعاون تنظیم کے ایک بڑے اور اہم اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، "یہ کہاں کی عقل مندی ہے کہ جب ہمارے ملک میں بین الاقوامی مہمان آ رہے ہوں، اس وقت احتجاج کیا جائے؟ یہ ریاست اور عوام دونوں کے مفاد کے خلاف ہے۔ اگر کسی کو احتجاج کرنا ہے، تو وہ ایس سی او اجلاس کے بعد کرے۔ ہمیں ملک کی عزت اور وقار کو ہمیشہ مقدم رکھنا چاہیے۔اسحاق ڈار نے واضح طور پر کہا کہ 15 اکتوبر کو ہونے والا احتجاج فوری طور پر منسوخ کیا جانا چاہیے تاکہ پاکستان کا بین الاقوامی سطح پر ایک مثبت تاثر ابھر سکے اور اجلاس کے دوران کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ ایس سی او اجلاس کے لیے پاکستان کی تمام تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں اور حکومت اس بڑے سفارتی ایونٹ کو کامیاب بنانے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑے گی۔ انہوں نے کہا، "پاکستان ایس سی او کے تمام ممبر ممالک کے وفود کو خوش آمدید کہنے کے لیے تیار ہے اور شاندار میزبانی کی روایت کو جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔” اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ یہ اجلاس پاکستان کے لیے ایک موقع ہے کہ وہ بین الاقوامی سطح پر اپنا مثبت امیج دوبارہ قائم کرے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دنیا کے بڑے ممالک یہاں جمع ہو رہے ہیں۔اسحاق ڈار نے ان عناصر پر بھی تنقید کی جو پاکستان کی بین الاقوامی تنہائی کی باتیں کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا، "جو لوگ یہ کہہ رہے تھے کہ پاکستان سفارتی طور پر تنہا ہو گیا ہے، وہ اب کہاں ہیں؟” ان کا کہنا تھا کہ ایس سی او جیسے بڑے اجلاس کی میزبانی کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر اپنا اہم کردار ادا کر رہا ہے اور بین الاقوامی برادری کا پاکستان پر اعتماد بحال ہو رہا ہے۔
نائب وزیر اعظم نے ملک کی تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ قومی مفاد کو اولین ترجیح دیں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو ملک کے بین الاقوامی وقار کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ حکومت تمام سیاسی جماعتوں سے توقع کرتی ہے کہ وہ مل کر کام کریں اور پاکستان کے وقار اور ساکھ کو مزید مضبوط کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں ایسے وقت میں احتجاج کرنا جب عالمی رہنما پاکستان میں موجود ہوں، غیر ذمہ دارانہ حرکت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کو احتجاج کرنے کے حق سے انکار نہیں، لیکن انہیں ملکی مفادات اور قومی وقار کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے فیصلے کرنے چاہئیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس پاکستان کے لیے ایک انتہائی اہم ایونٹ ہے۔ یہ نہ صرف علاقائی سطح پر بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے لیے اہمیت کا حامل ہے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ یہ اجلاس پاکستان کی سفارتی اور اقتصادی پوزیشن کو مضبوط کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔ ایس سی او کے رکن ممالک میں چین، روس، بھارت، اور وسطی ایشیائی ریاستیں شامل ہیں، اور ان تمام ممالک کے وفود کی موجودگی میں پاکستان کے لیے دو طرفہ اور کثیر الجہتی تعلقات کو فروغ دینے کے امکانات روشن ہوں گے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ یہ اجلاس علاقائی امن و استحکام کے لیے اہم ثابت ہو گا اور پاکستان کا اس میں کردار کلیدی ہو گا۔
نائب وزیر اعظم اسحاق ڈا نے زور دیا کہ ملک کی عزت اور استحکام کو ہر حال میں مقدم رکھا جانا چاہیے۔ احتجاجی سرگرمیاں، خاص طور پر ایسے اہم مواقع پر جب پاکستان بین الاقوامی توجہ کا مرکز ہو، ملکی وقار کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی حکمت عملی طے کریں اور اس ایونٹ کو کامیاب بنانے میں حکومت کے ساتھ تعاون کریں۔یہ بیان پاکستان کے لیے ایک اہم موقع ہے کہ وہ عالمی سطح پر اپنا کردار مزید مضبوط کرے اور علاقائی و عالمی امن کے فروغ میں اپنا حصہ ڈالے۔
بلاول بھٹو اور نواز شریف کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ، 26ویں آئینی ترمیم پر تبادلہ خیال
اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف کے درمیان اہم ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے جس میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال اور آئندہ ممکنہ آئینی ترامیم پر بات چیت کی گئی۔ذرائع کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے خصوصی طور پر 26ویں آئینی ترمیم پر پیش رفت کا جائزہ لیا۔ بلاول بھٹو زرداری نے نواز شریف کو مجوزہ آئینی ترمیم پر جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) سے ہونے والی بات چیت اور پیش رفت سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر بلاول نے جے یو آئی کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیش رفت اور سیاسی جماعتوں کے درمیان ہونے والے اتفاق رائے کی تفصیلات فراہم کیں۔اس رابطے میں دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کے مابین تعاون اور مفاہمت ضروری ہے۔ خاص طور پر آئینی ترمیم کے معاملے پر تمام جماعتوں کو اتفاق رائے سے آگے بڑھنا ہوگا تاکہ آئینی تبدیلیاں عوام کی بہتری اور ملکی استحکام کے لیے مؤثر ثابت ہوں۔
بلاول بھٹو زرداری اور نواز شریف کے درمیان ہونے والی گفتگو کو ملک میں جاری سیاسی بحران اور آئینی معاملات کے حل کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان اتحاد اور اتفاق رائے قومی مفاد کے لیے ناگزیر ہے۔یاد رہے کہ 26ویں آئینی ترمیم کا مقصد ملک میں کچھ بنیادی آئینی مسائل کو حل کرنا ہے، جس پر سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔ اس ترمیم کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ مشاورت کا عمل جاری ہے، اور بلاول بھٹو زرداری نے نواز شریف کو اس حوالے سے تازہ ترین پیش رفت سے آگاہ کیا۔اس ٹیلی فونک رابطے کے بعد سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ دونوں رہنما ملک میں جاری سیاسی بحران کے حل کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر کام کرنے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواست: اہم سیاسی ارکان کا وزارت داخلہ سے رجوع
اسلام آباد: وزارت داخلہ کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کی باضابطہ درخواست موصول ہو گئی ہے۔ یہ درخواست پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما بیرسٹر گوہر اور سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا کی جانب سے دی گئی ہے، جنہوں نے سابق وزیراعظم اور پی ٹی آئی کے بانی عمران خان سے فوری ملاقات کی اجازت طلب کی ہے۔درخواست کے متن میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ آخری بار 3 اکتوبر کو پی ٹی آئی کے وکلا کی عمران خان سے ملاقات ہوئی تھی، اور اب ایک بار پھر فوری ملاقات کرنے کی ضرورت ہے۔ بیرسٹر گوہر اور صاحبزادہ حامد رضا نے وزارت داخلہ سے درخواست کی ہے کہ انہیں عمران خان سے جیل میں ملاقات کی اجازت دی جائے تاکہ وہ اہم معاملات پر تبادلہ خیال کر سکیں۔ درخواست میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ جیل میں قید عمران خان کی موجودہ صورتحال اور سیاسی حکمت عملی پر بات چیت کے لیے یہ ملاقات ضروری ہے۔
یہ بھی قابل ذکر ہے کہ عمران خان کی بہن نورین خان نیازی نے بھی اپنے بھائی سے ملاقات کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ عدالت نے ان کی درخواست پر فوری کارروائی کرتے ہوئے عمران خان اور ان کی بہن نورین نیازی کی ملاقات کروانے کا حکم دیا تھا۔ نورین نیازی کا کہنا تھا کہ وہ اپنے بھائی کی خیریت جاننا چاہتی ہیں اور جیل میں ان سے بات چیت کرنا چاہتی ہیں۔عمران خان کو گزشتہ چند مہینوں سے اڈیالہ جیل میں رکھا گیا ہے، اور ان کی سیاسی سرگرمیاں جیل کی دیواروں کے پیچھے محدود ہو چکی ہیں۔ اس دوران ان کے وکلا اور قریبی ساتھیوں نے جیل میں ان سے ملاقات کے لیے کئی بار درخواست دی ہے، تاہم ان ملاقاتوں کی اجازت ہر بار نہیں دی جاتی۔ پی ٹی آئی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ موجودہ سیاسی حالات میں عمران خان سے ملاقات اہم ہے تاکہ مستقبل کی سیاسی حکمت عملی پر غور کیا جا سکے۔
صاحبزادہ حامد رضا، جو سنی اتحاد کونسل کے سربراہ ہیں، کا پی ٹی آئی قیادت کے ساتھ قریبی تعلق رہا ہے، اور وہ متعدد مواقع پر پی ٹی آئی کی سیاسی حکمت عملی میں شامل رہے ہیں۔ ان کی اس درخواست سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی اور دیگر سیاسی و مذہبی قوتیں اب بھی عمران خان کی رہنمائی میں سرگرم رہنا چاہتی ہیں۔یہ ملاقات کی درخواست سیاسی حلقوں میں ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ عمران خان کی جیل میں موجودگی کے باوجود ان کی سیاسی اہمیت کم نہیں ہوئی۔ ملک میں سیاسی صورتحال کی پیچیدگی کے پیش نظر، ایسی ملاقاتیں عمران خان کی قیادت میں پی ٹی آئی کی مستقبل کی حکمت عملی کے لیے اہم ہو سکتی ہیں۔
ذاتی عناد سے قومیں برباد، ترقی کے لیے وسائل بروئے کار لائے جائیں گے،وزیراعظم آزاد کشمیر
راولا کوٹ: وزیراعظم آزاد کشمیر چودھری انوار الحق نے کہا ہے کہ ذاتی عناد اور نفرت کی سیاست قوموں کی تباہی کا باعث بنتی ہے، اور ہمیں ملک دشمن سازشوں کا متحد ہو کر مقابلہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے یہ بات کل جماعتی مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی جو راولا کوٹ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت سمیت مختلف جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی اور مشترکہ طور پر درپیش مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔ چودھری انوار الحق نے اپنے خطاب میں کہا کہ ترقی کے عمل کو کسی طور نظریاتی بنیادوں کے ساتھ موازنہ نہیں کیا جا سکتا، اور ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے تمام وسائل کو بروئے کار لایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کی سرزمین شہداء اور غازیوں کی ہے، اور اس کی تعمیر و ترقی ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ موجودہ دور میں آزاد کشمیر کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے جن سے نمٹنے کے لیے سیاسی قیادت کو متحد ہو کر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آج کے اجلاس میں تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کیا ہے جو ایک مثبت پیغام ہے۔ اس اجلاس کا مقصد نہ صرف آزاد کشمیر کے عوام کے مسائل کا حل تلاش کرنا تھا، بلکہ ایک مضبوط پیغام دینا بھی تھا کہ ہم سب متحد ہیں اور کشمیر کے مستقبل کے لیے ایک ہی پلیٹ فارم پر کھڑے ہیں۔
چودھری انوار الحق نے مزید کہا کہ آزاد کشمیر کو درپیش چیلنجز میں غیر ملکی سازشیں بھی شامل ہیں، جن کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ذاتی عناد اور نفرت کی سیاست کو ترک کر کے اجتماعی مفاد کے لیے کام کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ذاتی اختلافات اور دشمنی قوموں کی ترقی کے راستے میں رکاوٹ بنتی ہیں اور اسی وجہ سے کئی قومیں برباد ہو چکی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے حکومت آزاد کشمیر تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لانے کے لیے پرعزم ہے اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے مسلسل اقدامات کیے جائیں گے۔اجلاس کے اختتام پر شرکاء نے اتفاق رائے سے آزاد کشمیر کی ترقی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے اجتماعی کوششوں کی اہمیت پر زور دیا اور مزید مشاورتی اجلاسوں کے انعقاد پر اتفاق کیا۔
بلوچستان میں کوئلے کی کان میں مزدوروں کا قتل عام: بی ایل اے کی تردید
کالعدم دہشتگرد تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے دُکی میں کوئلے کی کان میں کام کرنے والے 21 مزدوروں کے قتل عام میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔ جمعہ کے روز درجنوں مسلح افراد نے دُکی کے علاقے میں واقع کوئلے کی کانوں پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں متعدد مزدور ہلاک ہوئے۔ حملہ آوروں نے بندوقوں، راکٹوں، اور دستی بموں کا استعمال کیا، اور متعدد مزدوروں کو نیند کی حالت میں ہی نشانہ بنایا۔ کچھ مزدوروں کو بیدار کرنے کے بعد قطار میں کھڑا کر کے گولی مار دی گئی، جس نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلادیا۔کئی خبر رساں اداروں نے رپورٹ کیا کہ اس حملے میں بی ایل اے ملوث ہے، تاہم تنظیم نے ہفتے کی رات خبر رساں ایجنسی "روئٹرز” کو ایک ای میل میں کہا، "بلوچ لبریشن آرمی دُکی میں 21 پشتون مزدوروں کے قتل عام کی مذمت کرتی ہے، اور یہ واضح کرتی ہے کہ ہماری تنظیم کا اس المناک واقعے میں کوئی دخل نہیں ہے۔”
حملہ جنید کول کمپنی کی کانوں پر کیا گیا جو افغانستان اور ایران کی سرحدوں کے قریب واقع ہے اور یہ علاقہ معدنیات سے مالا مال ہے۔ تاحال کسی بھی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے، جسے حالیہ ہفتوں میں ہونے والے اسی نوعیت کے حملوں میں سب سے بدترین قرار دیا جا رہا ہے۔ دُکی میں اس وحشیانہ حملے کے بعد، وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے صوبے میں کسی بھی فوجی آپریشن کی ضرورت کو مسترد کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی پلان کا جائزہ لینے کے لیے 15 اکتوبر کو صوبائی ایپکس کمیٹی کا اجلاس طلب کیا گیا ہے۔ وفاقی حکومت نے صوبائی حکومت کو دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے، جس کا مقصد علاقے میں سیکیورٹی کی صورتحال کو بہتر بنانا ہے۔
یہ صوبہ اہم کان کنی کے منصوبوں کا گھر ہے، جن میں ریکوڈک بھی شامل ہے، جسے دیو بیرک گولڈ چلاتا ہے۔ ریکوڈک کو دنیا کی سونے اور تانبے کی سب سے بڑی کانوں میں سے ایک تصور کیا جاتا ہے۔ اس حملے کے وقت، سعودی عرب کا ایک وفد اسلام آباد میں موجود تھا جو ریکوڈک میں حصص خریدنے کے لیے تیار تھا، اور وہ اس کان میں شراکت دار بننے کا ارادہ رکھتا تھا۔یہ واقعہ پاکستان کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب وہ یوریشین گروپ شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے۔ دُکی میں پیش آنے والے اس حملے نے نہ صرف انسانی جانوں کا ضیاع کیا بلکہ ملک کی سیکیورٹی صورتحال پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ حکومتی اقدامات اور بی ایل اے کی تردید کے باوجود، اس واقعے نے بلوچستان میں سیکیورٹی کے نظام کی ناکامی کو بے نقاب کیا ہے، جو کہ ملک کے امن و امان کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔
فافن کی مجوزہ آئینی اصلاحات پر شفاف سیاسی مذاکرات کی اپیل
پاکستان میں آئینی اصلاحات کے سلسلے میں فافن (فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک) نے ایک جامع اعلامیہ جاری کرتے ہوئے شفاف اور جامع سیاسی مذاکرات کا مطالبہ کیا ہے۔ فافن نے آئینی اصلاحات کے دائرہ کار کو وسعت دینے کی تجویز دی ہے تاکہ ملک کی قانون سازی، انتخابی نظام، اور مقامی حکومتوں کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔فافن کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ تجویز کردہ اصلاحات نہ صرف قانون سازی کو مضبوط کریں گی بلکہ عوامی مفادات کے تحفظ کو بھی یقینی بنائیں گی۔ فافن نے زور دیا ہے کہ حکومتی جماعتیں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت کی حمایت حاصل کرنے کے لیے سیاسی اتفاق رائے پیدا کریں، تاکہ ملک میں جاری سیاسی عدم استحکام کو ختم کیا جا سکے۔ فافن نے اس بات پر زور دیا کہ آئینی کمزوریاں ملک کے موجودہ سیاسی حالات کی بنیادی وجہ ہیں، اور ان کمزوریوں کو فوری طور پر دور کرنا چاہیے۔ ان اصلاحات کا بنیادی مقصد پارلیمانی اختیارات میں اضافہ کرنا ہے، تاکہ عوام کے مفادات کی حفاظت کی جا سکے۔
اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایک مضبوط پارلیمنٹ شہریوں کے بنیادی حقوق اور آزادیوں کو فروغ دینے اور تحفظ فراہم کرنے کے لیے بہت ضروری ہے۔ فافن نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا ہے کہ وہ ذاتی اور فرقہ وارانہ اختلافات کو ایک طرف رکھیں اور آئینی دفاتر کے تقرر کے عمل میں عوامی جانچ پڑتال کو یقینی بنائیں۔فافن نے سینیٹ کے چیئرمین کے انتخاب جیسے تنازعات سے بچنے کے لیے الیکشن کمیشن کو وزیراعظم، وزرائے اعلیٰ سمیت تمام آئینی دفاتر کے انتخابات کی نگرانی کرنے کا اختیار دینے کی تجویز پیش کی ہے۔ اس کے علاوہ، آئندہ آئینی ترامیم میں انتخابی نظام کے اندر نمائندگی کے اہم مسائل کو حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ موجودہ آئین آزاد امیدواروں کو انتخاب جیتنے کے بعد کسی بھی سیاسی جماعت میں شامل ہونے کی اجازت دیتا ہے، جو کہ انتخابی نظام کی شفافیت کو متاثر کر سکتا ہے۔ فافن نے اس مسئلے کو حل کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے، تاکہ آئندہ انتخابات میں شفافیت اور انصاف کو یقینی بنایا جا سکے۔
فافن کا یہ موقف واضح کرتا ہے کہ آئینی اصلاحات اور سیاسی مذاکرات کے ذریعے ملک کی سیاسی صورتحال کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ فافن کی تجویز کردہ اصلاحات اگر کامیاب ہوتیں تو یہ نہ صرف پارلیمانی نظام کو مضبوط بنائیں گی بلکہ عوام کی بنیادی حقوق کی حفاظت میں بھی مددگار ثابت ہوں گی۔








