Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • انڈر 19 ویمنز ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ کا آغاز: لاہور میں کرکٹرز کی بھرپور شرکت

    انڈر 19 ویمنز ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ کا آغاز: لاہور میں کرکٹرز کی بھرپور شرکت

    انڈر 19 ویمنز ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ کل سے لاہور کے ایل سی سی اے گراؤنڈ میں شروع ہونے جا رہا ہے، جہاں پانچ ٹیمیں مقابلہ کریں گی۔ یہ ٹورنامنٹ ڈبل لیگ فارمیٹ میں کھیلا جائے گا، جس میں ہر ٹیم کو آٹھ میچز کھیلنے ہیں۔ ٹورنامنٹ کے فائنل کا انعقاد 3 نومبر کو کیا جائے گا۔ٹورنامنٹ میں حصہ لینے والی پانچ ٹیمیں چیلنجرز، کانکررز، انونسیبلز، اسٹارز، اور اسٹرائیکرز ہیں۔ ایونٹ کے تمام 21 میچز لاہور کے ایل سی سی اے گراؤنڈ میں منعقد کیے جائیں گے، جہاں ہر روز دو میچز کھیلے جائیں گے۔ دن کا پہلا میچ صبح 9 بجے شروع ہوگا جبکہ دوسرے میچ کی پہلی گیند دوپہر 1 بجے پھینکی جائے گی۔
    ٹورنامنٹ میں 75 کرکٹرز ایکشن میں نظر آئیں گے، جن میں نوجوان کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع ملے گا۔ اس ٹورنامنٹ کی مجموعی انعامی رقم 11 لاکھ روپے رکھی گئی ہے۔ فاتح ٹیم کو 5 لاکھ روپے اور رنرز اپ کو 3 لاکھ روپے دیے جائیں گے۔ اس ایونٹ کے ذریعے نوعمر کرکٹرز کو اس سال کے آخر میں ہونے والے اے سی سی انڈر 19 ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ اور جنوری 2025 میں ملائیشیا میں ہونے والے آئی سی سی انڈر 19 ٹی ٹوئنٹی کے لیے پاکستان ویمنز انڈر 19 ٹیم میں شامل ہونے کا موقع ملے گا۔ٹورنامنٹ میں شامل 75 کھلاڑیوں میں آٹھ کرکٹرز خاص طور پر نمایاں ہیں، جن میں اریشہ انصاری، کومل خان، لائبہ ناصر، ماہم انیس، میمونہ خالد، راویل فرحان، سمیعہ افسر، اور زوفشان ایاز شامل ہیں۔ یہ تمام کھلاڑی پاکستان انڈر 19 اسکواڈ کا حصہ تھیں، جو حال ہی میں بنگلہ دیش میں خواتین کے انڈر 19 سہ ملکی ٹورنامنٹ میں حصہ لے چکی ہیں۔
    اس ایونٹ میں 15 شہروں کی کھلاڑی شرکت کر رہی ہیں، جن میں ایبٹ آباد، بہاولپور، حویلی لکھا، ہنزہ، مردان، اور واہ کینٹ سے بھی کھلاڑیوں کا انتخاب کیا گیا ہے۔ اس سلیکشن کا عمل سابق ٹیسٹ کرکٹر اسد شفیق اور سابق انٹرنیشنل کرکٹر بتول فاطمہ کی زیر قیادت قومی ویمنز سلیکشن کمیٹی نے ملک گیر اوپن ٹرائلز کے ذریعے اس سال اگست اور ستمبر میں کیا تھا۔یہ ٹورنامنٹ نہ صرف نوجوان کرکٹرز کے لیے اپنی صلاحیتوں کو ثابت کرنے کا موقع فراہم کرے گا، بلکہ پاکستان میں خواتین کرکٹ کے مستقبل کو بھی روشن کرنے کا ذریعہ بنے گا۔ شائقین کرکٹ کی بڑی تعداد کی توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں کی حمایت کریں گے اور اس ایونٹ کا لطف اٹھائیں گے۔

  • عرفان صدیقی کا مولانا فضل الرحمان کے ساتھ اتحاد پر زور

    عرفان صدیقی کا مولانا فضل الرحمان کے ساتھ اتحاد پر زور

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما سینیٹر عرفان صدیقی نے حالیہ ایک پروگرام میں کہا ہے کہ ان کی جماعت کو مولانا فضل الرحمان کے ووٹ اور ان کے سیاسی حمایت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مولانا کا ساتھ استحکام کے لیے ضروری ہے۔ پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر عرفان صدیقی نے مولانا فضل الرحمان سے ہونے والی بات چیت کے حوالے سے تفصیلات فراہم کیں۔ انہوں نے کہا کہ مولانا کو جو ابتدائی مسودہ فراہم کیا گیا تھا، اس پر کچھ ترمیمات کی گئی تھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان مذاکرات جاری ہیں، جن میں طے پایا ہے کہ وہ ایک مشترکہ مسودہ تیار کریں گے، جو حکومت کے ساتھ شیئر کیا جائے گا۔ اس بات کا بھی ذکر کیا گیا کہ ایک مسودہ حکومت کی طرف سے ہوگا جبکہ دوسرا پیپلز پارٹی کی طرف سے۔
    عرفان صدیقی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مولانا فضل الرحمان آج ایک پریس کانفرنس میں مطمئن نظر آئے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ تیار کردہ مسودے سے بھی خوش ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دو سے چار دن کے اندر اس مسودے کو حتمی شکل دے دی جائے گی، اور یہ بھی بتایا کہ حکومت، پیپلز پارٹی اور مولانا کے مسودات بہت قریب آ چکے ہیں۔سینیٹر عرفان صدیقی نے قاضی فائز عیسیٰ کی ریٹائرمنٹ کے حوالے سے بھی گفتگو کی، جس میں انہوں نے کہا کہ قاضی فائز عیسیٰ اپنی میعاد پر ریٹائر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان پیپلز پارٹی آئینی کورٹ کے قیام کی خواہاں ہے، اور مسلم لیگ (ن) بھی آئینی کورٹ کا قیام چاہتی ہے۔ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے آئینی ترامیم کے لیے 9 ماہ کی مدت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کے پیچھے 9 سال کا سیاسی ملبہ موجود ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ آئینی ترامیم شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے بعد ہی کی جائیں گی۔
    اس موقع پر سینیٹر عرفان صدیقی نے موجودہ سیاسی صورتحال میں اتحادی جماعتوں کے درمیان تعاون کی اہمیت کو اجاگر کیا، اور امید ظاہر کی کہ جلد ہی ایک مضبوط سیاسی معاہدے کی طرف بڑھا جائے گا۔ یہ اقدامات پاکستان کی سیاسی استحکام کے لیے اہم سمجھے جا رہے ہیں، اور سینیٹر صدیقی کے بیانات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ حکومت اور اتحادی جماعتیں مل کر ایک موثر حکمت عملی ترتیب دے رہی ہیں۔

  • حکومت کے نمبرز ہمارے بغیر پورے نہیں، پیپلز پارٹی سے مشاورت ہوگی: کامران مرتضیٰ

    حکومت کے نمبرز ہمارے بغیر پورے نہیں، پیپلز پارٹی سے مشاورت ہوگی: کامران مرتضیٰ

    اسلام آباد: جمعیت علماء اسلام (ف) کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا ہے کہ حکومت کے نمبرز ان کی جماعت کے بغیر پورے نہیں ہو سکتے۔ یہ بات انہوں نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کامران مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ جے یو آئی (ف) کی شمولیت کے بغیر حکومت کو پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل نہیں ہوگی اور اگر نمبرز پورے ہیں تو وہ کسی اور طریقے سے کیے جا رہے ہیں، جو ان کے مطابق ‘شرمناک’ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ہماری جماعت کے بغیر کوئی بھی آئینی ترمیم ممکن نہیں ہے۔
    سینیٹر کامران مرتضیٰ نے انکشاف کیا کہ وہ پیپلز پارٹی کے ساتھ اہم مشاورت کے لیے کل دوپہر ڈھائی بجے ملاقات کریں گے، جس میں آئینی ترمیم پر تبادلہ خیال ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اجلاس انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس میں پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی کے ساتھ متفقہ مسودے پر بات چیت کی جائے گی۔
    انہوں نے تحریک انصاف سے اپیل کی کہ موجودہ حالات میں احتجاج کا وقت نہیں ہے، بلکہ معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کی سیاسی صورت حال کے پیش نظر اتفاق رائے پیدا کرنا ضروری ہے تاکہ جمہوری عمل آگے بڑھ سکے۔کامران مرتضیٰ کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ جے یو آئی (ف) موجودہ حکومت کے لیے نہایت اہمیت رکھتی ہے اور ان کے بغیر حکومت کو پارلیمنٹ میں ضروری اکثریت حاصل نہیں ہوگی، جس کے نتیجے میں حکومت کو جے یو آئی (ف) کے ساتھ تعاون پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ملک میں سیاسی کشیدگی عروج پر ہے اور حزبِ اختلاف کی جماعتیں حکومت پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

  • گورنر خیبر پختونخوا کی جانب سے نئے صوبائی وزیر اور مشیر کی تعیناتی کی منظوری

    گورنر خیبر پختونخوا کی جانب سے نئے صوبائی وزیر اور مشیر کی تعیناتی کی منظوری

    گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور کی جانب سے بھیجی گئی سمری کی منظوری دے دی ہے، جس میں صوبائی اسمبلی کے رکن سید فخر جہاں کو صوبائی وزیر بنانے اور بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) محمد مصدق عباسی کو وزیر اعلیٰ کا مشیر مقرر کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔سمری کی منظوری کے بعد گورنر خیبر پختونخوا نے دستاویز پر دستخط کر کے اسے واپس بھیج دیا ہے، جس کے نتیجے میں اب سید فخر جہاں کو باقاعدہ طور پر صوبائی کابینہ میں شامل کر لیا جائے گا اور محمد مصدق عباسی کی بطور مشیر تعیناتی کا عمل بھی مکمل ہو جائے گا۔
    گورنر فیصل کریم کنڈی نے سمری پر دستخط کرتے ہوئے اہم ریمارکس دیے ہیں، جن میں انہوں نے زور دیا ہے کہ مستقبل میں کسی بھی نئے مشیر کی تعیناتی کے حوالے سے سمری اس وقت تک ارسال نہ کی جائے جب تک کہ پہلے سے تعینات مشیر کو ڈی نوٹیفائی نہیں کیا جاتا۔ اس ہدایت کا مقصد کابینہ کی مشاورت کے عمل کو بہتر اور منظم طریقے سے انجام دینا ہے تاکہ تعیناتیوں کے دوران کوئی قانونی پیچیدگیاں پیدا نہ ہوں۔یہ پیش رفت صوبے کی سیاسی سرگرمیوں میں ایک اہم تبدیلی سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ سید فخر جہاں کی بطور صوبائی وزیر شمولیت سے کابینہ میں ایک نیا چہرہ شامل ہو جائے گا۔ دوسری جانب بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) مصدق عباسی کی بطور مشیر تقرری صوبائی حکومت کی انتظامی ٹیم کو مزید مضبوطی فراہم کرے گی، جو ان کے تجربے اور فوجی پس منظر کی بنا پر صوبائی معاملات میں ایک نئی حکمت عملی کو فروغ دے سکتی ہے۔گورنر کی اس منظوری کے بعد خیبر پختونخوا میں سیاسی اور انتظامی سرگرمیوں میں مزید تیزی آنے کی توقع ہے، اور عوامی حلقے نئی کابینہ کے فیصلوں اور اقدامات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

  • لاہور: فلار ملز کی جانب سے آٹے کی قیمتوں میں اضافہ

    لاہور: فلار ملز کی جانب سے آٹے کی قیمتوں میں اضافہ

    لاہور کی فلار ملز نے 20 کلو گرام آٹے کے تھیلے کی قیمت میں 20 روپے اور 10 کلو گرام آٹے کے تھیلے کی قیمت میں 10 روپے اضافہ کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد لاہور کے عوام کے لئے آٹے کی دستیابی مزید مہنگی ہو گئی ہے، جس سے روزمرہ کے استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں بھی اضافہ متوقع ہے۔ڈیلرز کے مطابق، یہ قیمتوں میں اضافہ پانچ بڑی فلار ملز کی جانب سے کیا گیا ہے، جن کا کہنا ہے کہ وہ گندم کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے آٹے کی قیمتیں بڑھانے پر مجبور ہیں۔ گندم کی مہنگائی نے فلار ملز کی کاروباری حالت کو متاثر کیا ہے، اور انہوں نے صارفین کی قیمتوں میں اضافے کا جواز فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔تاہم، عوامی حلقوں کی جانب سے اس اقدام پر شدید تنقید کی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کی قیمتوں میں اضافہ بغیر کسی واضح وجہ کے ہوتا ہے، جس کی وجہ سے عوامی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ صارفین کے حقوق کے علمبرداروں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ حکومت کو فلار ملز کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اشیاء کی قیمتوں میں بلاجواز اضافے کو روکا جا سکے۔
    ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑے کاروباری ادارے مل کر اجارہ دارانہ کیفیت پیدا کر لیتے ہیں، جس کا بھرپور فائدہ وہ عوامی ضرورت کی اشیاء کی قیمتیں بڑھا کر اٹھاتے ہیں۔ ایسے حالات میں حکومت کو بروقت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عوامی مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔یہ صورتحال ملک کی معیشت اور عام لوگوں کے روزمرہ زندگی پر منفی اثر ڈال رہی ہے۔ آٹے کی قیمتوں میں یہ اضافہ ایک بار پھر اس بات کا ثبوت ہے کہ قیمتوں کی کنٹرولنگ میں کیا مشکلات درپیش ہیں اور عوامی مسائل کے حل کے لئے حکومتی مداخلت کی ضرورت ہے۔

  • وزیراعظم شہباز شریف کا شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کے انتظامات کا جائزہ

    وزیراعظم شہباز شریف کا شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کے انتظامات کا جائزہ

    اسلام آباد: وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) اجلاس کے انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم دورہ کیا۔ اس دورے میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ بھی ان کے ہمراہ تھے۔ شاہراہ دستور کے مقام پر وزیراعظم کو بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے بتایا کہ ایس سی او اجلاس میں متعدد سربراہان مملکت کی شرکت متوقع ہے، اور حکومت مہمانوں کو خوش آمدید کہنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ انہوں نے یہ بھی یقین دلایا کہ ایس سی او کانفرنس خوش اسلوبی سے آگے بڑھے گی اور شرپسند عناصر کو اس میں رخنہ ڈالنے کا موقع نہیں ملے گا۔
    عطااللہ تارڑ نے مزید کہا کہ کانفرنس کے لیے سیکیورٹی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں، اور اسلام آباد میں فوج، رینجرز اور پولیس کی تعیناتی کی گئی ہے تاکہ سیکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان رواں برس شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے، جو 14 اکتوبر سے اسلام آباد میں شروع ہوگا۔ کانفرنس کی تیاریوں کے سلسلے میں اسلام آباد میں سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے گئے ہیں، جبکہ وفاقی دارالحکومت میں تزئین و آرائش کے ساتھ ساتھ مختلف مقامات پر سجاوٹ بھی کی گئی ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر ایس سی او کانفرنس کو ملکی معیشت کے لیے انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کانفرنس کی میزبانی کرنا ہمارے لیے اعزاز کی بات ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس کانفرنس کے ذریعے پاکستان کے عالمی سطح پر روابط مزید مستحکم ہوں گے اور ملکی معیشت کو فروغ ملے گا۔یہ اجلاس نہ صرف پاکستان کے لیے ایک اہم موقع ہے بلکہ یہ ملک کی خارجہ پالیسی میں بھی ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ حکومتی عہدیداران اس بات پر متفق ہیں کہ اس اجلاس کی کامیابی پاکستان کی عالمی حیثیت کو بہتر بنانے میں مدد دے گی۔

  • آصف علی زرداری اور ترکیہ کے پارلیمنٹ کے سپیکر کی ملاقات

    آصف علی زرداری اور ترکیہ کے پارلیمنٹ کے سپیکر کی ملاقات

    صدر مملکت آصف علی زرداری نے حال ہی میں ترکیہ کے پارلیمنٹ کے سپیکر سے ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان ریل روابط اور اقتصادی تعاون کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ ملاقات کے دوران، صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تجارتی اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔ انہوں نے دونوں برادر ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید بہتر بنانے اور وفود کے تبادلوں پر زور دیا۔ یہ اقدامات نہ صرف دونوں ممالک کے عوامی رابطوں کو بڑھائیں گے بلکہ دوطرفہ تعلقات میں بھی استحکام لائیں گے۔صدر مملکت نے ترکیہ کو ایک عظیم اور مخلص دوست قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ملک ہمیشہ مسلم دنیا کو درپیش مسائل پر اصولی موقف اختیار کرتا آیا ہے۔ انہوں نے ترکیہ کی طرف سے ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنے کے کردار کی تعریف کی۔ اس کے ساتھ ہی، ملاقات میں فلسطین اور لبنان کی سنگین انسانی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا، جسے مسلم دنیا کے چیلنجز میں ایک اہم مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔
    آصف علی زرداری نے مزید کہا کہ ترکیہ اقتصادی طاقت بننے کی راہ پر گامزن ہے، اور انہوں نے ترکیہ کی کامیابی اور خوشحالی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ یہ بات چیت دونوں ممالک کے درمیان باہمی روابط کو مستحکم کرنے کے لیے اہم قدم ہے اور مسلم دنیا کی مشکلات سے نمٹنے کے لیے مخلصانہ اور سنجیدہ کوششوں کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ اس ملاقات نے اس بات کی تصدیق کی کہ پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات کو مضبوط کرنے کے لیے حکومتی سطح پر تعاون اور مشترکہ منصوبوں کی ضرورت ہے، جس سے دونوں ملکوں کے عوام کو بھی فائدہ ہوگا۔

  • پی ٹی آئی کا دھرنا غیر ذمہ دارانہ، آئینی شفافیت ضرورت ہے،شاہد خاقان عباسی

    پی ٹی آئی کا دھرنا غیر ذمہ دارانہ، آئینی شفافیت ضرورت ہے،شاہد خاقان عباسی

    سابق وزیراعظم اور عوام پاکستان پارٹی کے سربراہ شاہد خاقان عباسی نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حالیہ دھرنے کے اعلان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر سیاسی جماعت کو ملک کے حالات کے مطابق فیصلے کرنے چاہئیں اور اس غیر ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ہمیں اس تقسیم کو ختم کرنا ہوگا ورنہ یہ سلسلہ جاری رہے گا۔شاہد عباسی نے کہا کہ پی ٹی آئی کے احتجاج کا اعلان پاکستان کی سیاسی صورتحال کے پیش نظر مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ چھوٹے احتجاج کی نوعیت ہو، لیکن یہ پھر بھی ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ "غیر ذمہ دارانہ رویہ پاکستان کو کہیں نہیں لے جائے گا۔
    چیف جسٹس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے، عباسی نے کہا کہ حکومت کو آئینی ترمیم کے مسودے کو عوام کے سامنے لانا چاہیے۔ انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ "ہمیں نہیں معلوم کہ آئینی ترمیم کیا ہے۔ اسے لوگوں کے سامنے کیوں نہیں رکھا جاتا؟” انہوں نے یہ بھی کہا کہ عوام کو حق ہے کہ وہ مسودہ دیکھیں اور حکومت کو چاہیے کہ وہ اس معاملے میں شفافیت کو یقینی بنائے۔سابق وزیراعظم نے مزید کہا کہ اگر کسی نے قیاس آرائی کے وقت اس حوالے سے کوئی وضاحت کی ہوتی تو اس کی ضرورت ہی نہ پڑتی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ حکومت مسودہ تیار کرتی ہے، جو پارلیمنٹ میں پیش ہوتا ہے، اور پھر کمیٹی میں اس میں ترامیم کی جاتی ہیں۔ جب یہ کمیٹی میں ہوتا ہے، تو یہ عوامی دستاویز بن جاتا ہے۔
    انہوں نے مزید کہا کہ "نو نہیں بلکہ ترامیم لانے میں 90 دن لگیں۔ 25 اکتوبر کے بعد آنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔” اس کے علاوہ، عباسی نے اس بات پر زور دیا کہ اگر ضرورت ہو تو سپریم کورٹ کے ججوں کی تعداد میں اضافہ کیا جا سکتا ہے، تاکہ آئینی عدالت کو موثر طور پر دیکھنے کے لیے ججوں کی تعداد کو بڑھایا جا سکے۔عباسی نے یہ بھی کہا کہ "19 ویں ترمیم کو چیف جسٹس افتخار چوہدری نے دباؤ میں لایا تھا، لیکن 18ویں ترمیم پر بھی نظرثانی کی ضرورت ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایک اہم موقع ہے کہ مسائل کو حل کرنے کے لیے وسیع تر ترمیم کی جائے، تاکہ نظام متاثر نہ ہو اور معاملات مزید پیچیدہ نہ ہوں۔سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے پاکستان کی سیاسی صورتحال میں ذمہ داری اور شفافیت کی اہمیت پر زور دیا، جس کی ضرورت ان کے نزدیک ملک کی ترقی کے لیے انتہائی اہم ہے۔

  • آئی سی سی ویمنز ٹی ٹوئنٹی: آسٹریلیا کی 9 وکٹوں سے فتح، سیمی فائنل میں رسائی

    آئی سی سی ویمنز ٹی ٹوئنٹی: آسٹریلیا کی 9 وکٹوں سے فتح، سیمی فائنل میں رسائی

    دبئی: آئی سی سی ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں آسٹریلیا کی ویمنز کرکٹ ٹیم نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کو 9 وکٹوں سے شکست دے دی۔ اس فتح کے ساتھ ہی آسٹریلیا نے سیمی فائنل میں اپنی جگہ یقینی بنالی ہے، جبکہ پاکستان کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔پاکستانی ٹیم نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 82 رنز کا مجموعہ ترتیب دیا اور پوری ٹیم 20 اوورز میں آؤٹ ہوگئی۔ پاکستان کی طرف سے عالیہ ریاض نے سب سے زیادہ 26 رنز بنائے، جبکہ دیگر کھلاڑیوں کا اسکور کم رہا۔ یہ بیٹنگ لائن اپ آسٹریلیا کی باؤلنگ کے سامنے زیادہ دیر نہ ٹھہر سکی۔آسٹریلیا کی باؤلنگ کا سلسلہ شاندار رہا، جہاں ایشلی گارڈنر نے متاثر کن کارکردگی دکھاتے ہوئے 4 وکٹیں حاصل کیں، جس نے پاکستانی بلے بازوں کی مشکلات کو مزید بڑھا دیا۔
    جواب میں آسٹریلیا کی ویمنز ٹیم نے پاکستان کی جانب سے دیے گئے 83 رنز کے ہدف کو 11 اوورز میں صرف ایک وکٹ کے نقصان پر حاصل کر لیا۔ اس میچ میں آسٹریلیا کی بلے بازوں نے زبردست کھیل کا مظاہرہ کیا، جس کے نتیجے میں انہوں نے باآسانی اپنی فتح کو یقینی بنایا۔آسٹریلیا نے اپنے گروپ کا تیسرا میچ جیت کر سیمی فائنل میں پہنچنے کی قابلیت کو ثابت کیا ہے۔ اس کے برعکس، پاکستان کے تین میچز میں صرف دو پوائنٹس ہیں، جس سے ان کی سیمی فائنل میں رسائی کے امکانات کمزور ہوگئے ہیں۔ آنے والے میچز میں پاکستان کو اپنی کارکردگی میں بہتری لانے کی ضرورت ہوگی تاکہ وہ اس ٹورنامنٹ میں اپنی حیثیت کو بہتر بنا سکیں۔ آسٹریلیا کی فتح نے ان کے حوصلے کو بڑھایا ہے اور وہ اگلے مرحلے کے لیے پُرعزم ہیں۔

  • حکومت کی پیشکشیں ارکان قومی اسمبلی نے ٹھکرا دیں،عمر ایوب

    حکومت کی پیشکشیں ارکان قومی اسمبلی نے ٹھکرا دیں،عمر ایوب

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مرکزی رہنما اور اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی عمر ایوب نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی جماعت کے ارکان قومی اسمبلی نے حکومت کی جانب سے دی جانے والی پیشکشوں کو مسترد کر دیا ہے۔ مقامی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہو ئے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ایم این ایز ہمارے ساتھ ہیں، حکومت والے ہر جگہ دو نمبری کرتے ہیں۔” ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے ہر ایم این اے کو آفر کی جارہی ہے، مگر ہمارے ارکان قومی اسمبلی ہر پیشکش کو ٹھکرا رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ "پارٹی کے منتخب ارکان ہمارے ساتھ کھڑے ہیں۔عمر ایوب نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت آئینی ترمیم کرنے کی کوشش کرے تو اسے اس کے نتائج کا اندازہ ہوگا۔ انہوں نے مولانا فضل الرحمان سے بھی امید ظاہر کی کہ وہ بھی حق اور سچ کا ساتھ دیں گے۔ "آئینی ترمیم کے لیے کمیٹی بنائی گئی، مگر حکومت کے پاس کوئی مسودہ موجود نہیں تھا، جس سے ایک پارٹی کو دیوار سے لگایا گیا ہے۔”
    پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ ان کی جماعت ہمیشہ پرامن احتجاج کرتی رہی ہے، جو کہ ان کا آئینی اور قانونی حق ہے۔ "اگر آئین اور قانون کی بالادستی ہوگی تو سرمایہ کاری کا ماحول بھی بہتر ہوگا۔” انہوں نے مزید کہا کہ "ہمیں بانی پی ٹی آئی تک رسائی حاصل ہے، ہم کسی کو دھمکی نہیں دے رہے۔”عمر ایوب نے یہ بھی بتایا کہ "محسن نقوی بڑھکیں مارتے ہیں۔” ان کا کہنا تھا کہ "کے پی ہاؤس میں ریڈ کیا گیا، اور اس کے بعد میرے گھر پر بھی چھاپا مارا گیا۔” یہ بیان ان کے عزم اور جماعت کے موقف کو واضح کرتا ہے کہ وہ آئینی حقوق کے لیے پرامن طور پر احتجاج کرتے رہیں گے۔عمر ایوب کا یہ بیان پی ٹی آئی کے عزم کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ حکومت کی طرف سے پیش کردہ دباؤ کے باوجود اپنے موقف پر قائم ہیں۔ ان کی گفتگو اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ پی ٹی آئی کے ارکان قومی اسمبلی اپنی پارٹی کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں اور آئینی حقوق کی حفاظت کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔