Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • شنگھائی تعاون کانفرنس کے سلسلے میں اسلام آباد میں ٹریفک کے انتظامات

    شنگھائی تعاون کانفرنس کے سلسلے میں اسلام آباد میں ٹریفک کے انتظامات

    اسلام آباد: شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کی کانفرنس کے سلسلے میں، اسلام آباد کی ٹریفک پولیس نے ایک جامع ٹریفک ڈائیورشن پلان ترتیب دیا ہے۔ ترجمان ٹریفک پولیس کے مطابق، یہ پلان 14، 15 اور 16 اکتوبر 2024 کو نافذ العمل ہوگا۔ عوام الناس سے درخواست کی گئی ہے کہ کسی بھی دشواری سے بچنے کے لیے متبادل راستے استعمال کریں۔ٹریفک پولیس کی جانب سے مختلف راستوں کی ہدایات جاری کی گئی ہیں تاکہ عوام کو آمد و رفت میں کسی بھی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

    جی ٹی روڈ پشاور سے روات: مسافروں کو ٹیکسلا، موٹر وے، چکری انٹرچینج، چک بیلی روڈ، اور روات روڈ استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
    لاہور جی ٹی روڈ سے پشاور: روات، چک بیلی روڈ، چکری انٹرچینج، موٹر وے، اور ٹیکسلا استعمال کریں۔
    مارگلہ روڈ سے راولپنڈی: نائنتھ ایونیو کا استعمال کریں۔
    فیصل ایونیو سے زیرو پوائنٹ: فیصل ایونیو سے آنے والی ٹریفک کو نائنتھ ایونیو کی طرف موڑا جائے گا۔
    بھارہ کہو سے راولپنڈی: رنگ روڈ اور بنی گالہ سے لہتراڑ روڈ استعمال کریں۔
    -راولپنڈی سے اسلام آباد: صدر مری روڈ سے نائنتھ ایونیو کا استعمال کریں۔

    زیر زکر تاریخوں میں، زیر و پوائنٹ فیصل ایونیو سے کورال چوک تک ایکسپریس وے آنے جانے والی سڑک تمام ٹریفک کے لئے بند ہوگی۔ کرنل شیر خان شہید روڈ سے فیض آباد آنے والے مسافروں کو نائنتھ ایونیو سگنل سے سٹیڈیم روڈ استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔پشاور سے لاہور جانے والی ہیوی ٹریفک کو ٹیکسلا، موٹر وے، اور ترنول پھاٹک سے فتح جنگ روڈ انٹرچینج اور موٹروے استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اسی طرح، لاہور جی ٹی روڈ سے راولپنڈی جانے والی ہیوی ٹریفک کے لیے چک بیلی روڈ سے چکری انٹرچینج موٹروے کھلی ہوگی۔
    اسلام آباد ٹریفک پولیس نے مزید کہا ہے کہ 14 سے 16 اکتوبر 2024 تک اسلام آباد میں ہر قسم کی ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند ہوگا۔ یہ اقدامات عوام کی سہولت اور کانفرنس کے کامیاب انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔پولیس نے عوام الناس سے اپیل کی ہے کہ وہ ان ہدایات پر عمل کریں تاکہ کانفرنس کے دوران ٹریفک کی روانی متاثر نہ ہو۔ مزید معلومات کے لیے عوام کو ٹریفک پولیس کی ہدایات کو مدنظر رکھنے کی تاکید کی گئی ہے۔

  • اسلام آباد: ای سی سی کا اجلاس، 5 لاکھ ٹن چینی کی برآمد کی منظوری

    اسلام آباد: ای سی سی کا اجلاس، 5 لاکھ ٹن چینی کی برآمد کی منظوری

    وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں پاکستان میں چینی کے اضافی ذخائر کی موجودگی کی بنیاد پر 5 لاکھ ٹن چینی کی برآمد کی اجازت دی گئی۔ ای سی سی کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، ملک میں چینی کے ذخائر کی صورت حال کے بارے میں صوبائی اعداد و شمار کی روشنی میں 30 ستمبر تک تقریباً 20 لاکھ ٹن چینی موجود تھی۔ یہ ذخائر ملکی مارکیٹ میں استحکام کے لیے اہم ثابت ہو سکتے ہیں، خاص طور پر جب گزشتہ 10 ماہ کے دوران ملک میں 54 لاکھ ٹن چینی کا استعمال کیا گیا۔ مزید برآں، اکتوبر اور نومبر کے مہینوں کے دوران تقریباً 9 لاکھ ٹن چینی کے استعمال کی توقع ہے۔
    ای سی سی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ چینی کی برآمد کا عمل شوگر ملز کی طرف سے 21 نومبر کو کرشنگ سیزن کے آغاز سے مشروط ہے۔ اس فیصلے کے تحت، چینی کی برآمد تین ماہ کی مدت میں کی جائے گی، تاہم ملک میں چینی کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں یہ سہولت کسی بھی وقت واپس لی جا سکتی ہے۔
    اجلاس میں یہ بھی منظور کیا گیا کہ جاںبحق چینی انجینئرز کے لیے تلافی پیکیج کی منظوری دی گئی، جس سے ان کے اہل خانہ کو امداد فراہم کی جائے گی۔ یہ اقدام حکومت کی جانب سے چینی صنعت کے ساتھ وابستہ افراد کی بھلائی کی کوششوں کا حصہ ہے۔وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات ملکی معیشت کی بہتری اور صارفین کے مفاد میں کیے جا رہے ہیں، اور حکومت مستقبل میں بھی ایسے فیصلے کرتی رہے گی جو ملک کی اقتصادی حالت کو مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوں۔

  • چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا سرکاری خرچ پر الوداعی عشائیہ لینے سے انکار

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا سرکاری خرچ پر الوداعی عشائیہ لینے سے انکار

    اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سرکاری خرچ پر دیے جانے والے الوداعی عشائیے کی دعوت کو مؤدبانہ طور پر مسترد کر دیا ہے۔ اسسٹنٹ رجسٹرار کی جانب سے جاری کیے گئے ایک مراسلے میں بتایا گیا ہے کہ چیف جسٹس نے اپنے مؤقف میں کہا ہے کہ عشائیے پر آنے والا خرچ 20 لاکھ روپے سے تجاوز کر سکتا ہے، جس کے باعث انہوں نے اس تقریب میں شرکت سے معذرت کر لی ہے۔سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے اعزاز میں 24 اکتوبر 2024 کو ایک الوداعی عشائیے کی دعوت دی گئی تھی۔ اس تقریب کا مقصد چیف جسٹس کی عدالتی خدمات کا اعتراف کرنا اور انہیں ریٹائرمنٹ پر عزت و احترام کے ساتھ الوداع کہنا تھا۔ تاہم، چیف جسٹس نے عوامی خزانے پر بوجھ ڈالنے سے بچنے کے لیے عشائیے میں شرکت سے انکار کیا ہے۔
    اسسٹنٹ رجسٹرار کی جانب سے سیکریٹری سپریم کورٹ بار کو ارسال کیے گئے مراسلے میں واضح کیا گیا ہے کہ الوداعی ڈنر عام طور پر چیف جسٹس کے لیے ایک روایتی اعزاز کے طور پر دیا جاتا ہے، لیکن جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے غیر ضروری سرکاری اخراجات کے باعث اسے قبول کرنے سے معذرت کرلی ہے۔ اسی مراسلے میں یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ کے موقع پر ایک فُل کورٹ ریفرنس منعقد کیا جائے گا۔ اسسٹنٹ رجسٹرار نے اس حوالے سے اٹارنی جنرل کو بھی دعوتی مراسلہ ارسال کیا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ فُل کورٹ ریفرنس 25 اکتوبر 2024 کو دن ساڑھے 10 بجے سپریم کورٹ میں ہوگا۔
    فل کورٹ ریفرنس کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی قانونی خدمات، ان کے عدالتی فیصلے اور ان کی سربراہی میں ہونے والے اہم مقدمات پر گفتگو کی جائے گی۔ یہ تقریب سپریم کورٹ کے ججز، وکلاء، اور دیگر اہم قانونی شخصیات کے لیے ایک اہم موقع ہوگا کہ وہ چیف جسٹس کی خدمات کو خراج تحسین پیش کریں۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ 25 اکتوبر 2024 کو اپنی مدت ملازمت مکمل کر کے ریٹائر ہو جائیں گے۔ ان کی سادگی اور اخراجات میں کمی کی سوچ ان کے فیصلے میں جھلکتی ہے، جس نے انہیں عوامی حلقوں میں مزید مقبول بنا دیا ہے۔

  • اٹھارہویں ترمیم کے تجربے کو مدنظر رکھتے ہوئے 19ویں ترمیم کا خاتمہ ضروری، مولانا فضل الرحمان

    اٹھارہویں ترمیم کے تجربے کو مدنظر رکھتے ہوئے 19ویں ترمیم کا خاتمہ ضروری، مولانا فضل الرحمان

    اسلام آباد: جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے آئینی ترمیم کے حکومتی مسودے پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ لچک کے بغیر اس پر اتفاق ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے حکومت کے ترمیمی مسودے کو غیر قابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت جے یو آئی کی تجاویز پر آمادگی ظاہر کرے تو وہ ووٹ دینے کے قابل ہوں گے۔مولانا فضل الرحمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم کے دوران اتفاق رائے کے لیے نو ماہ کا وقت لگا تھا، اس لیے موجودہ مسودے کے لیے کم از کم نو دن تو لگیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسودے پر اتفاق رائے اس وقت ہی ممکن ہے جب لچک کا مظاہرہ کیا جائے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ "ہمارے وکلا مسودہ کی کاپیاں دیکھیں گے اور جمعیت علماء اسلام اور پیپلز پارٹی کے درمیان متفقہ مسودہ تیار کرنے کی کوشش کی جائے گی۔” مزید برآں، انہوں نے حکومت کی دیگر اتحادی جماعتوں کو بھی مسودے پر اعتماد میں لینے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ "ہم اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ اتفاق رائے کی طرف جانا چاہتے ہیں۔
    مولانا نے یہ بھی کہا کہ حکومت کے مسودے میں قابل اعتراض مواد کو مکمل طور پر صاف کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج حکومت کی طرف سے پہلی بار مسودے کی کاپیاں تقسیم کی گئیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ حکومتی مسودے پر غور کا آغاز کر رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے چیف جسٹس کی متوقع ریٹائرمنٹ کا ذکر کیا اور کہا کہ "چیف جسٹس 25 اکتوبر کو ریٹائرڈ ہوجائیں گے تو ٹھیک ہے۔” ان کی خواہش ہے کہ 19ویں ترمیم کو ختم کرکے 18ویں ترمیم کو بحال کیا جائے تاکہ ججوں کی تقرری میں پارلیمان کا کردار بڑھے۔انہوں نے عدلیہ سے اپیل کی کہ "خدا کے لیے سیاسی جماعتوں میں تقسیم نہ کریں۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ عدلیہ کو ایک جج کی ریٹائرمنٹ یا توسیع کی بات کرکے تقسیم نہیں کیا جانا چاہیے، بلکہ ججوں کو اپنے رویے اور کارکردگی کے ذریعے عوام کا اعتماد حاصل کرنا چاہیے۔مولانا فضل الرحمان نے یہ بات واضح کی کہ آئینی عدالت ہو یا آئینی بینچ، دونوں ایک دوسرے کے متبادل ہوسکتے ہیں، اور اس معاملے کو اصولی طور پر طے کیا جانا چاہیے۔

  • وزیر اعظم شہباز شریف کا پولیس لائنز کا دورہ، اسلام آباد پولیس کی خدمات کا اعتراف

    وزیر اعظم شہباز شریف کا پولیس لائنز کا دورہ، اسلام آباد پولیس کی خدمات کا اعتراف

    اسلام آباد: وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے اسلام آباد پولیس کی پیشہ ورانہ خدمات کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد پولیس نے جنونی جتھے کا لاشیں گرانے کا منصوبہ ناکام بنا دیا ہے۔ جمعہ کو پولیس لائنز کے دورے کے دوران انہوں نے پولیس کے اہلکاروں کی محنت اور لگن کی تعریف کی اور کہا کہ اسلام آباد پولیس نے ہمیشہ اپنے فرائض کو شایان شان طریقے سے ادا کیا ہے۔وزیر اعظم نے اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ کی موجودگی میں پولیس کے چاق و چوبند دستے سے سلامی لی۔ انہوں نے یادگار شہداء پر پھول چڑھائے اور شہداء گیلری کا دورہ کرتے ہوئے مہمانوں کی کتاب میں تاثرات بھی قلمبند کیے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے شہید عبدالحمید شاہ کے اہلخانہ سے اظہار تعزیت کیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ "شہید عبدالحمید شاہ نے فرض کی ادائیگی کے دوران جام شہادت نوش کیا۔” انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شہیدوں کے اہلخانہ کو صبر اور استقامت کا مظہر پایا گیا ہے۔ انہوں نے قرآن پاک کی ایک آیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، "شہید کو مردہ مت کہو، یہ زندہ ہیں۔وزیر اعظم نے اسلام آباد پولیس کی شجاعت اور بہادری کو سراہا اور کہا کہ انہیں مکمل طور پر اہلکاروں کی کمی پوری کرنے کے لیے میرٹ کی بنیاد پر بھرتی کے عمل کو فوری مکمل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 2014ء میں ڈی چوک پر فسادیوں نے سات ماہ تک ملک میں افراتفری پھیلائے رکھی، جس سے پاکستان کی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا۔

    انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں بھی اسلام آباد پولیس نے قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ "4 اور 5 اکتوبر کو ایک صوبہ کی جانب سے وفاق پر حملے اور لشکر کشی کو ناکام بنایا گیا، یہ غیر آئینی تھا۔” وزیر اعظم نے اس بات کی وضاحت کی کہ اس وقت ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم پاکستان کے دورے پر تھے اور اسلام آباد پولیس نے ان کے دورے کو محفوظ بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔وزیر اعظم نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے ہمیشہ پولیس کلچر کو بہتر بنانے کی کوششیں کی ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ اسلام آباد پولیس کی تنخواہیں فی الفور پنجاب پولیس کے برابر کر دی جائیں گی اور ایگزیکٹو الائونس کے نفاذ کا بھی وعدہ کیا۔
    اس کے علاوہ، وزیر داخلہ محسن نقوی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد پولیس کی خدمات میں گزشتہ پانچ ماہ کے دوران 38 فیصد کمی آئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خواتین پولیس اسٹیشن کو سیف سٹی میں قائم کیا گیا ہے اور 27 تھانوں کی دوبارہ بحالی کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔آئی جی اسلام آباد پولیس علی ناصر رضوی نے بھی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد پولیس شہیدوں اور غازیوں کی وارث ہے اور انہوں نے سٹریٹ کرائم سے دہشت گردوں کے خاتمے تک مشن سرانجام دیئے ہیں۔وزیر اعظم کے عزم اور عہد کے مطابق، اسلام آباد پولیس کو مستقبل میں ایک رول ماڈل کے طور پر پیش کرنے کی کوششیں جاری رہیں گی، جس کے ذریعے عوام کی خدمت اور امن و امان کے قیام کے لیے اہم اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

  • پاکستان گرل گائیڈز نے لڑکیوں کے عالمی دن کے موقع پر فورم کا انعقاد کیا

    پاکستان گرل گائیڈز نے لڑکیوں کے عالمی دن کے موقع پر فورم کا انعقاد کیا

    اسلام آباد: پاکستان گرل گائیڈز ایسوسی ایشن نیشنل ہیڈ کوارٹرز نے 10 اکتوبر 2024 کو لڑکیوں کے عالمی دن کے موقع پر "پاکستان گرلز ایمپاورمنٹ فورم- مستقبل کا وژن” کے عنوان سے ایک شاندار تقریب کا انعقاد کیا، جس میں 500 گائیڈز اور طالبات نے شرکت کی۔ یہ تقریب یونیسیف پاکستان، وزارت انسانی حقوق اور بچوں کے حقوق کے قومی کمیشن کے تعاون سے منعقد کی گئی۔تقریب کے دوران لڑکیوں نے صحت، غذائیت، واش (پانی، صفائی، اور حفظان صحت)، جذباتی صحت اور قیادت کے حوالے سے مختلف سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ تقریب میں پاکستان بھر سے 70 گرلز ایمپاورمنٹ چیمپئنز نے حصہ لیا، جنہوں نے ان سرگرمیوں کو سیکھا اور بعد ازاں انہیں دیگر گائیڈز کے ساتھ شیئر کیا۔
    تقریب کی مہمان خصوصی رکن قومی اسمبلی مسز نزہت صادق تھیں، جو وزیر اعظم پاکستان کی نمائندگی کر رہی تھیں۔ پاکستان گرل گائیڈز ایسوسی ایشن کی نیشنل کمشنر مسز ماریہ موعود صابری نے مہمانوں کا استقبال کیا اور گائیڈنگ کے پروگرام اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلات فراہم کیں۔ انہوں نے کہا کہ گائیڈنگ لڑکیوں کو مستقبل کے لیے لیڈرز تیار کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے اور انہیں ہر مشکل کا سامنا کرنا سکھاتی ہے۔ مسز صابری نے ایسوسی ایشن کے حالیہ پروگراموں کا ذکر کرتے ہوئے فنانشل لٹریسی، چائلڈ ڈومیسٹک لیبر کے خلاف بیج، پراجیکٹ سٹے سیف، اور دیگر اہم منصوبوں پر روشنی ڈالی۔ اس کے علاوہ چھاتی کے کینسر، ٹی بی کی روک تھام، اور تمباکو نوشی کے خلاف مہم بھی گائیڈز پروگرام کا حصہ ہیں۔
    پینل ڈسکشن میں معروف شخصیات، جیسے کہ رکن قومی اسمبلی محترمہ ذہرا ودود فاطمی، سابق رکن قومی اسمبلی محترمہ مہناز اکبر عزیز، پاکستان ویمن نیشنل فٹ بال ٹیم کی ملیکہ نور، اور یونیسیف کی جینڈر اینڈ ڈویلپمنٹ سپیشلسٹ محترمہ فہمیدہ خان شامل تھیں۔ اس پینل ڈسکشن کا عنوان "انسپائرنگ گرلز: شئیرنگ ایکسپرینس بائی رول ماڈلز” تھا، جس میں مقررین نے لڑکیوں کو بڑے خواب دیکھنے اور غیر روایتی کردار ادا کرنے کی ترغیب دی۔مسز نزہت صادق نے اپنی تقریر میں نوجوان لڑکیوں میں قائدانہ صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کی ضرورت پر زور دیا اور گرل گائیڈز ایسوسی ایشن کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ اگر لڑکیوں کو نوجوانی کے دور میں سپورٹ کیا جائے تو وہ کل کی کامیاب کارکن، ماں، کاروباری شخصیت اور سیاسی رہنما بن سکتی ہیں۔تقریب کے دوران گرل چیمپئنز نے پینٹنگ کے ذریعے مستقبل کے لیے اپنے وژن کا اظہار کیا، جس سے ماخوذ ایک وژن سٹیٹمنٹ وزیر اعظم پاکستان کو پیش کرنے کے لیے مہمان خصوصی کے حوالے کیا گیا۔

  • انسداد دہشتگردی عدالت نے پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجہ کی عبوری ضمانت منظور کرلی

    انسداد دہشتگردی عدالت نے پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجہ کی عبوری ضمانت منظور کرلی

    انسداد دہشتگردی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور سینئر وکیل سلمان اکرم راجہ کی دو مقدمات میں عبوری ضمانت منظور کر لی ہے۔ یہ مقدمات تھانہ صدر حسن ابدال میں درج کیے گئے تھے، جن کی سماعت انسداد دہشتگردی عدالت کے جج امجد علی شاہ کی زیر صدارت ہوئی۔سلمان اکرم راجہ نے اپنی ضمانت کے لیے درخواست دائر کی، جس میں انہوں نے الزام لگایا کہ ان کے خلاف مقدمات سیاسی طور پر متاثر ہوکر درج کیے گئے ہیں۔ عدالت نے درخواست پر سماعت کرتے ہوئے تفتیشی افسر کو 26 اکتوبر کو ریکارڈ سمیت عدالت میں طلب کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے سلمان اکرم راجہ کی گرفتاری سے روکنے کا بھی فیصلہ کیا، جو ان کے لیے ایک اہم قانونی فتح ہے۔
    عدالت نے سلمان اکرم راجہ کو ایک لاکھ روپے کے مچلکے داخل کرانے کی ہدایت کی، جو انہیں ضمانت پر رہائی کے لیے جمع کرانے ہوں گے۔ یہ پیشرفت پی ٹی آئی کے رہنما کے لیے ایک ریلیف کی حیثیت رکھتی ہے، جو حالیہ دنوں میں اپنے سیاسی سرگرمیوں کے باعث مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔سلمان اکرم راجہ کے خلاف یہ مقدمات 5 اکتوبر کو اسلام آباد میں ہونے والے احتجاج کے دوران درج کیے گئے تھے۔ ان مقدمات کی نوعیت میں انسداد دہشتگردی قوانین کے تحت عائد کیے گئے الزامات شامل ہیں، جو کہ ان کی سیاسی سرگرمیوں اور احتجاج کے حق میں آواز بلند کرنے کے باعث سامنے آئے ہیں۔پی ٹی آئی کے کارکنان اور رہنما ان مقدمات کو سیاسی انتقام سمجھتے ہیں اور ان کی حمایت میں اظہار خیال کر رہے ہیں۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ مقدمات موجودہ سیاسی ماحول میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہیں، جہاں حکومت مخالف آوازوں کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
    سلمان اکرم راجہ کی قانونی ٹیم نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ان کے موکل کو صرف ان کی سیاسی سرگرمیوں کی بنیاد پر ہراساں کیا جا رہا ہے۔ ان کے خلاف لگائے گئے الزامات کی حقیقت کو سامنے لانے کے لیے قانونی لڑائی جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔عدالت کے فیصلے نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا ہے کہ قانونی نظام میں عدالتوں کا کردار ہمیشہ سے اہم رہا ہے، اور وہ سیاسی معاملات میں انصاف کی فراہمی کی کوششیں جاری رکھیں گی۔ مستقبل میں ہونے والی سماعتوں میں یہ دیکھنا باقی ہے کہ سلمان اکرم راجہ کے خلاف لگائے گئے الزامات کا کیا نتیجہ نکلتا ہے اور کیا ان کے سیاسی سفر میں یہ مشکلات مزید بڑھیں گی یا کم ہوں گی۔

  • وزیراعظم کا بلوچستان میں کان کنوں پر دہشت گرد حملے کا نوٹس، رپورٹ طلب

    وزیراعظم کا بلوچستان میں کان کنوں پر دہشت گرد حملے کا نوٹس، رپورٹ طلب

    اسلام آباد: وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے بلوچستان کے ضلع دُکی میں کان کنوں پر ہونے والے دہشت گرد حملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے فوری رپورٹ طلب کر لی ہے۔ وزیراعظم نے گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل اور وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے ٹیلیفونک گفتگو میں واقعے پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا اور دہشت گرد حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم شہباز شریف نے جاں بحق ہونے والے کان کنوں کے لواحقین سے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مکمل طور پر پُرعزم ہے اور کسی بھی قسم کی دہشت گردی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس واقعے میں جاں بحق ہونے والے شہداء کے خاندانوں کے ساتھ حکومت کھڑی ہے اور ان کی ہر ممکن مدد کی جائے گی۔
    وزیراعظم نے واقعے میں زخمی ہونے والے کان کنوں کی جلد صحت یابی کے لیے بھی دعا کی اور متعلقہ حکام کو زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے متعلقہ اداروں سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے کہا کہ ملوث عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ملک بھر میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، خاص طور پر بلوچستان میں، جہاں کان کن اور دیگر مزدور طبقے اکثر دہشت گردوں کے نشانے پر ہوتے ہیں۔ وزیراعظم نے اس موقع پر کہا کہ دہشت گردی کے خلاف وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مکمل ہم آہنگی موجود ہے اور دہشت گردوں کو ان کے انجام تک پہنچانے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رہیں گی۔وزیراعظم نے واقعے کی تحقیقات کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دینے کی بھی ہدایت کی، جو جلد از جلد تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ پیش کرے گی۔

  • فافن کی تیسری رپورٹ: الیکشن ٹربیونلز کی کارکردگی پر تشویش

    فافن کی تیسری رپورٹ: الیکشن ٹربیونلز کی کارکردگی پر تشویش

    فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) نے الیکشن ٹربیونلز کی کارکردگی پر تیسری رپورٹ جاری کی ہے، جس میں ان کی کارکردگی کا تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ الیکشن ٹربیونلز نے کل 334 درخواستوں میں سے صرف 40 درخواستوں کا فیصلہ کیا۔ فافن نے مجموعی طور پر 377 درخواستوں کی نشاندہی کی، لیکن پنجاب میں 43 درخواستوں کی تفصیلات حاصل نہیں ہو سکیں۔رپورٹ کے مطابق، الیکشن کمیشن نے حال ہی میں پنجاب کے 8 ٹربیونلز کا نوٹیفکیشن کیا ہے، مگر یہ ٹربیونلز ابھی تک کام شروع نہیں کر پائے ہیں۔ اس صورتحال نے عوامی اعتماد میں مزید کمی پیدا کی ہے، کیونکہ الیکشن ٹربیونلز کی اہمیت انتخابات کے بعد کے مراحل میں بہت زیادہ ہوتی ہے۔
    فافن کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بلوچستان کے ٹربیونلز نے 51 میں سے 28 درخواستوں کو نمٹایا، جبکہ پنجاب کے ٹربیونلز نے 155 میں سے صرف 2 درخواستوں پر فیصلہ کیا۔ خیبر پختونخوا کے ٹربیونلز نے 42 میں سے 4 درخواستیں نمٹائیں، سندھ کے ٹربیونلز نے 83 میں سے 6 درخواستیں سنیں، جبکہ اسلام آباد کے ٹربیونلز نے کوئی درخواست بھی نہیں نمٹائی۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ زیادہ تر درخواستیں ٹیکنیکل بنیادوں پر مسترد کی گئیں، جو کہ عوامی خدشات کو بڑھاتی ہیں کہ نظام انصاف میں کمزوری اور شفافیت کی کمی موجود ہے۔
    الیکشن کمیشن نے فافن کی رپورٹ کو غلط فہمی پر مبنی قرار دیا ہے، تاہم فافن نے اپنے اعداد و شمار اور تجزیے کی بنیاد پر الیکشن ٹربیونلز کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے ہیں۔ یہ رپورٹ ملک میں انتخابات کے آزادانہ اور منصفانہ انعقاد کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے، اور اس بات کی ضرورت کو بیان کرتی ہے کہ الیکشن کمیشن کو اپنی کارکردگی کو بہتر بنانا ہوگا تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ الیکشن کے بعد کے مراحل میں فوری کارروائی کی ضرورت ہے تاکہ شفافیت اور انصاف کو یقینی بنایا جا سکے۔ عوامی توقعات کے مطابق، الیکشن ٹربیونلز کو اپنی ذمہ داریوں کا ادا کرنا ہوگا تاکہ عوام کی آواز سنی جا سکے اور انتخابی نظام کی بنیاد کو مستحکم کیا جا سکے۔

  • اسلام آباد: کلب روڈ پر شادی ہالز اور ہوٹلز کی بندش، انتظامیہ کا نوٹس

    اسلام آباد: کلب روڈ پر شادی ہالز اور ہوٹلز کی بندش، انتظامیہ کا نوٹس

    اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے کلب روڈ پر واقع شادی ہالز اور ہوٹلز کے مالکان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ تمام کاروبار 14 سے 16 اکتوبر تک بند رہیں گے۔ یہ فیصلہ شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے سربراہی اجلاس کے کامیاب انعقاد کے لیے کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے شہر میں سیکیورٹی اور سہولیات کے حوالے سے خصوصی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ضلعی انتظامیہ کے حکام کا کہنا ہے کہ کلب روڈ پر شادی ہالز اور ہوٹلز کی بندش کا مقصد اجلاس کے دوران کسی بھی قسم کی ممکنہ رکاوٹوں سے بچنا ہے۔ اس کے باوجود، اسلام آباد کے دیگر مقامات پر موجود شادی ہالز، ہوٹلز اور ریسٹورنٹس کھلے رہیں گے، تاکہ شہریوں کی روزمرہ کی ضروریات پوری ہوتی رہیں۔
    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ضلعی انتظامیہ نے قبل ازیں اس سلسلے میں 14 سے 16 اکتوبر تک تمام پرائیویٹ تقریبات منسوخ کرنے کی ہدایت دی تھی۔ یہ ہدایات انتظامیہ کی جانب سے اجلاس کے دوران مکمل سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے دی گئی ہیں، تاکہ شرکاء اور معزز مہمانوں کے لیے بہترین ماحول فراہم کیا جا سکے۔شہریوں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اس دوران کسی بھی قسم کی پریشانی سے بچنے کے لیے انتظامات کو مدنظر رکھیں اور متبادل مقامات پر اپنی تقریبات کا انعقاد کریں۔ اسلام آباد کی انتظامیہ نے اس معاملے میں سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے اپنی ٹیمیں متعین کر دی ہیں، تاکہ غیر قانونی طور پر کھلنے والے ہالز اور ہوٹلز کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔