Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • کھلاڑیوں کو بھاشن دینے والے محمد حفیظ خود فلائٹ مس کر بیٹھے

    کھلاڑیوں کو بھاشن دینے والے محمد حفیظ خود فلائٹ مس کر بیٹھے

    پاکستان کرکٹ ٹیم کے ڈائریکٹر محمد حفیظ تین جنوری سے شروع ہونے والے تین میچوں کی سیریز کے آخری ٹیسٹ سے قبل میلبورن سے سڈنی جانے والی پرواز مس کر گئے، محمد حفیظ، جنہوں نے حال ہی میں ڈریسنگ روم میں سونے پر کھلاڑیوں پر جرمانے متعارف کروائے، ایئرپورٹ کے قوانین پر عمل کرنا بھول گئے اور پرواز سے غائب ہو گئے۔ذرائع کے مطابق حفیظ نے پاکستانی ٹیم کے ساتھ سڈنی جانا تھا لیکن وہ ایئرپورٹ پر پرواز مس کر گئے۔اہلیہ کے ساتھ سفر کرنے والے حفیظ ایئرپورٹ پر دیر سے پہنچے جس کے بعد عملے نے انہیں طیارے میں سوار ہونے کی اجازت نہیں دی۔حفیظ اور ان کی اہلیہ ایئرپورٹ پر موجود تھے تاہم انہوں نے فلائٹ کا وقت چیک نہیں کیا۔ بعد میں، جوڑے نے چند گھنٹوں کے بعد سڈنی کے لیے ایک اور پرواز کی۔ ٹیم انتظامیہ اس معاملے پر خاموش ہے۔

  • ڈیوڈ وارنر نے اپنے کیریئر میں سب سے مشکل بولر کا نام بتا دیا

    ڈیوڈ وارنر نے اپنے کیریئر میں سب سے مشکل بولر کا نام بتا دیا

    آسٹریلیا کے اوپننگ بلے باز ڈیوڈ وارنر نے 2016/17 میں جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کی یاد تازہ کرتے ہوئے سب سے زیادہ چیلنجنگ باؤلر کا انکشاف کیا ہے۔
    ڈیوڈ وارنر 3 جنوری کو سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں پاکستان کے خلاف آسٹریلیا کے تیسرے اور آخری ٹیسٹ کے بعد ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائر ہونے کے لیے تیار ہیں۔ وارنر نے جنوبی افریقہ کے سابق فاسٹ باؤلر ڈیل سٹین کو سب سے مضبوط حریف قرار دیا جس کا انہوں نے سامنا کیا۔ سٹین نے ٹیسٹ میں جنوبی افریقہ کے سب سے زیادہ وکٹ لینے والے کھلاڑی کے طور پر اپنے کیریئر کا اختتام کیا، 93 میچوں میں 439 آؤٹ کرنے کا دعویٰ کیا۔ ایک پریسر میں، وارنر نے ڈبلیو ایس سی اے میں ایک مخصوص واقعے کو یاد کرتے ہوئے، اسٹین کو سب سے مشکل گیند باز کے طور پر بتایا جس کا وہ سامنا کر چکے ہیں۔ اسٹین ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے 10ویں نمبر پر ہیں۔ وارنر نے کہا۔کہ بلا شبہ یہ ڈیل اسٹین ہے۔ میں WACA (جنوبی افریقہ کے خلاف 2016-17 ہوم سیریز کا پہلا ٹیسٹ) میں واپس جاتا ہوں جب مجھے اور شان مارش کو 45 منٹ کے سیشن کے لیے باہر جانا پڑا۔ شان نیچے میرے پاس آیا اور کہا، ‘میں اسے نہیں کھینچ سکتا لہذا مجھے نہیں معلوم کہ ہم اس کا سامنا کیسے کریں گے’۔ اس نے مجھے اپنی پشت پر رکھا اور مجھے لگتا ہے کہ اس نے اس کھیل کے ساتھ ساتھ اس کا کندھا بھی توڑ دیا،‘‘ اس نے اسٹین کو ایک سخت حریف قرار دیتے ہوئے مزید کہا کہ اس نے اسے میدان میں کبھی ایک انچ بھی نہیں دیا۔ اسٹین نے اپنے بین الاقوامی کیریئر کا اختتام 439 ٹیسٹ وکٹوں، 196 ون ڈے وکٹوں، اور T20I میں 64 وکٹوں کے ساتھ کیا۔ اور کہا کہ وہ ایک سخت حریف ہے جس نے گیند کو بائیں ہاتھ میں واپس سوئنگ کیا، جو مچل سٹارک کی طرح ہے جیسے گیند کو دائیں ہاتھ میں تیز رفتار سے سوئنگ کرتے ہیں۔ وارنر نے مزید کہا کہ وہ ہمیشہ سے ایک آتش گیر گاہک تھا جس نے آپ کو کبھی مسکراہٹ نہیں دی اور نہ ہی آپ کو میدان میں ایک انچ یا سونگھا۔تمام نظریں وارنر پر ہوں گی جب وہ اپنا آخری ٹیسٹ میچ کھیلنے کے لیے اپنے ہوم گراؤنڈ پر نکلیں گے۔ آسٹریلیا نے پاکستان کے خلاف تین میچوں کی سیریز میں پہلے ہی 2-0 کی برتری حاصل کر لی ہے۔

  • قومی ٹیم کے کپتان محمد وسیم نے   انٹرنیشنل کرکٹ میں تاریخ رقم کردی

    قومی ٹیم کے کپتان محمد وسیم نے انٹرنیشنل کرکٹ میں تاریخ رقم کردی

    متحدہ عرب امارات کے کپتان محمد وسیم نے ایک سال میں 100 بین الاقوامی چھکے لگانے والے پہلے کرکٹر بن کر سنگ میل عبور کرلیا۔ یہ کارنامہ 31 دسمبر کو افغانستان کے خلاف دوسرے T20I میں تین چھکے لگانے کے بعد انجام پایا۔وسیم نے افغانستان کے اسپنر نور احمد کو ڈیپ مڈ وکٹ پر کلیئر کیا، گیند کو شارجہ کرکٹ اسٹیڈیم کی چھت پر بھیج کر سال کا اپنا 100 واں چھکا لگایا۔انہوں نے اپنی تعداد میں ایک اور چھ کا اضافہ کرتے ہوئے 2023 کے اختتام پر 101 چھکوں کے ساتھ ایک سال میں سب سے زیادہ اوور باؤنڈریز کا ریکارڈ قائم کیا۔ قریب سے پیچھے ہندوستان کے کپتان روہت شرما ہیں، جنہوں نے 2023 میں 80 چھکوں، 2019 میں 78 اور 2018 میں 74 چھکوں کے ساتھ فہرست میں اگلی تین پوزیشنیں حاصل کیں۔ سوریہ کمار یادیو نے بھی 2022 میں 74 چھکوں کا اندراج کیا۔ ایک سال میں سب سے زیادہ چھکے لگانے والے بلے باز101 – 2023 میں محمد وسیم 80 – روہت شرما 2023 میں 78 – روہت شرما 2019 میں74 – روہت شرما 2018 میں74 – سوریہ کمار یادو 2022 میں 65 – روہت شرما 2017 میں لگائے گئے
    روہت کے برعکس، وسیم صرف دو فارمیٹس میں حصہ لیتے ہیں۔ ایک اوپننگ بلے باز کے طور پر، اس نے سال کے اختتام تک T20I اور ODI کے 47 میچوں میں 35.76 کی اوسط سے 1645 رنز بنائے۔خصوصی طور پر T20I میں، اس نے 23 کھیلوں میں 54 چھکے لگائے، جو 2022 میں سوریا کے 68 کے بعد ایک سال میں دوسرے سب سے زیادہ چھکے ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ سوریا اور وسیم کے درمیان، وہ اس فہرست میں سب سے اوپر پانچ مقامات پر قابض ہیں۔
    ون ڈے میں، وسیم نے 24 چھکے لگا کر 47 چھکے لگائے، ایک کیلنڈر سال میں کسی بلے باز کے سب سے زیادہ چھکوں کے لیے پانچویں نمبر پر اور کسی ایسوسی ایٹ نیشن کی جانب سے سب سے زیادہ چھکوں کا ریکارڈ اپنے نام کیا۔دوسرے T20I میچ کے حوالے سے، وسیم کے 32 گیندوں پر 53 رنز کا جارحانہ آغاز، جس میں چار چوکے اور تین چھکے شامل تھے، ساتھ ہی آریان لکرا کے 63 رنز نے میزبان ٹیم کو پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 166 رنز کا مجموعہ پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔
    جواب میں، افغانستان وقفے وقفے سے وکٹیں کھوتا رہا، 62-2 سے 99-6 پر پھسلتا رہا، محمد نبی ایک سرے پر پھنس کر رہ گئے۔ دو گیندوں پر 12 رنز درکار تھے، نبی 27 گیندوں پر 47 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، جس کے نتیجے میں ان کی ٹیم کو 11 رنز کا نقصان ہوا۔متحدہ عرب امارات نے پہلا میچ ہارنے کے بعد سیریز میں زبردست واپسی کی ہے۔ سیریز داؤ پر لگنے کے ساتھ، وہ 2 جنوری کو فیصلہ کن میچ میں فتح حاصل کرنے کے اپنے امکانات کے بارے میں پر امید ہوں گے۔

  • پاک بمقابلہ آسٹریلیا: کیا ابرار احمد آسٹریلیا کے خلاف تیسرا ٹیسٹ کھیلیں گے؟

    پاک بمقابلہ آسٹریلیا: کیا ابرار احمد آسٹریلیا کے خلاف تیسرا ٹیسٹ کھیلیں گے؟

    پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان تیسرا ٹیسٹ میچ 3 جنوری 2023 کو سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں شروع ہونا ہے۔مہمان ٹیم کو ابتدائی دو ٹیسٹ میچوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے، اس کے باوجود آنے والا میچ آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے تناظر میں اہمیت کا حامل ہے۔ اس دوران، پاکستانی ٹیم حتمی ٹیسٹ کے لیے اسپنر ابرار احمد کی ممکنہ واپسی کے بارے میں پر امید ہے۔ ابرار، جو پہلے دو ٹیسٹ میچوں کے لیے دائیں ٹانگ کی چوٹ کی وجہ سے باہر ہو گئے تھے، نے پیر کو پاکستان کے تربیتی سیشن کے دوران نمایاں باؤلنگ میں حصہ لیا، جس میں کوئی واضح تکلیف نہیں دکھائی دی۔ کرک انفو نے رپورٹ کیا کہ ابرار کی چوٹ کی نوعیت کا مطلب ہے کہ یہ تیسرے ٹیسٹ میں ان کی شرکت کی ضمانت نہیں دیتا۔ کینبرا میں پرائم منسٹر الیون کے خلاف پاکستان کے ٹور گیم کے دوران ابتدائی طور پر "دائیں ٹانگ میں تکلیف” کی شکایت کے بعد انہیں باہر کردیا گیا تھا، ابرار کی چوٹ کے مسائل کی تاریخ کسی بھی حد تک یقینی بناتی ہے۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ابرار کی حالت دائیں ٹانگ میں اعصابی تناؤ اور پٹھوں کی کمزوری سے متاثر ہوئی ہے۔ اس نے اپنے علاج کے حصے کے طور پر انجیکشن لگائے۔ تاہم، پاکستان آج کی ٹریننگ کے بعد رات بھر ان کی حالت کا انتظار کرے گا۔ اگر اگلے 12 گھنٹوں کے اندر کافی درد یا تکلیف ظاہر ہوتی ہے، تو یہ فیصلہ کرے گا کہ آیا وہ آخری ٹیسٹ میں شروع کر سکتا ہے۔
    پاکستان ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے ایک سال میں ابرار کے زخمی ہونے کے خطرے سے بھی آگاہ ہے۔ وہ نیوزی لینڈ کے خلاف آئندہ پانچ میچوں کی T20I سیریز کے لیے پاکستان کے اسکواڈ کا حصہ ہیں، اور پی سی بی انھیں سفید گیند کا قیمتی اثاثہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اہم ٹیسٹ اسپنر بھی سمجھتا ہے۔
    25 سالہ ابرار نے گزشتہ دسمبر میں انگلینڈ کے خلاف ڈیبیو کرنے کے بعد سے صرف چھ ٹیسٹ میچ کھیلے ہیں۔ تاہم، اپنے پہلے ٹیسٹ میں 11 وکٹیں اور اب تک مجموعی طور پر 38، پاکستان کے اسپن باؤلنگ آپشنز کی کمی کے ساتھ، وہ ایک اہم کھلاڑی بن گئے ہیں۔ اپنے ابتدائی کرکٹ کے دنوں میں متعدد طویل اور مسلسل چوٹوں کو برداشت کرنے کے باوجود، اس بات کے اشارے ملے تھے کہ وہ ان چیلنجوں پر قابو پا رہا ہے، حالانکہ ان کی موجودہ چوٹ کا خوف ممکنہ طور پر اس کی پیشرفت کو تبدیل کر سکتا ہے۔پاکستان نے ساجد خان اور محمد نواز کو بھی کور کے طور پر شامل کیا ہے، حالانکہ اس سیریز کے دوران دونوں میں سے کسی نے بھی ٹیسٹ میچ میں حصہ نہیں لیا۔ دونوں پیر کو پاکستان کے تربیتی سیشن میں شامل تھے۔پاکستان تیسرے ٹیسٹ میں ماہر اسپنر کو میدان میں اتارنے کا خواہاں ہے، اس نے پچھلے دو میچوں میں آل سیم اٹیک کا انتخاب کیا ہے۔ آغا سلمان نے ان کھیلوں میں اسپنر کے کردار کو پورا کیا، اور اگرچہ ان کے نظم و ضبط اور اکانومی ریٹ نے پاکستان کو متاثر کیا ہے، لیکن وکٹیں لینے کے قابل اسپنر کی عدم موجودگی نمایاں رہی ہے۔ جہاں نیتھن لیون نے پہلے دو ٹیسٹ میں نو وکٹیں حاصل کیں، سلمان صرف ایک وکٹ حاصل کر سکے۔

  • اگر کسی کو اسٹبلشمنٹ نے جتوانا ہے تو وہ ووٹ مانگنے کیوں آتا ہے؟سعید غنی

    اگر کسی کو اسٹبلشمنٹ نے جتوانا ہے تو وہ ووٹ مانگنے کیوں آتا ہے؟سعید غنی

    کراچی کے حلقہ پی ایس 106 میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کے امیدوار سعید غنی نے کہا کہ 1988ء سے اس نشست پر پیپلز پارٹی کبھی نہیں جیتی، 2017ء کے ضمنی انتخاب میں پہلی بار پیپلز پارٹی جیتی، 1988ء سے اس حلقے سے جو بھی جیتا ہے وہ وزیر بنا لیکن حلقے کی حالت سے نہیں لگتا تھا کہ یہ وزیروں کا حلقہ ہے۔ سعید غنی نے اپنے حلقے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ حلقہ جب ایم کیو ایم، مسلم لیگ اور مروت کا گڑھ تھا، میں تب یہاں سے جیتا تھا۔اُنہوں نے کہا کہ حلقے میں 5 لالھ لوگ ہیں، کوئی ایک لے آئیں جو کہے کہ میں نے اس سے بدتمیزی کی ہو، ہم نے اپنے حلقے والوں کو اپنے گھر کے فرد کی طرح سمجھا ہے، جو غنڈہ گردی بدمعاشی ہم نے یہاں ختم کی ہے اسے دوبارہ یہاں نہیں آنے دیں گے۔ سعید غنی نے کہا کہ گزشتہ 5 برسوں میں یہاں بہت سے مسائل تھے، اس علاقے میں پانی کا سب سے زیادہ مسئلہ تھا، ہم نے محمودآباد کے حلقے کے 80 سے 85 فیصد مسائل حل کر لئے ہیں، اپنے دور حکومت میں 3 پانی کے مںصوبے مکمل کرائے، ایسے ایسے گھروں میں بھی پانی لائے جہاں لوگ ناامید ہوگئے تھے۔سابق صوبائی کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنے دور میں ایک اسپتال کو مکمل کرایا جو نشئی افراد کا مسکن بنا ہوا تھا، ٹیکنیکل کالج کو دوبارہ بنوایا، محمود آباد نالے کے ساتھ ایک بھی گھر نہیں ٹوٹنے دیا، جن علاقوں میں سیوریج لائنوں کا کام ہورہا ہے وہاں سڑکیں ٹوٹی ملیں گی، باقی جہاں کام مکمل ہوچکا ہے وہاں سڑکیں بنادی ہیں، ایک فٹ بال اسٹیڈیم بنا رہے ہیں، جو مسائل حل کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے وہ کرتے رہیں گے۔اُنہوں نے مزید کہا کہ 2018ء میں میڈیا نے ٹوٹی پھوٹی سڑکیں دکھائیں تو میں نے کہا 5 سال بعد آ کر یہ حلقہ دیکھیں۔ سعید غنی نے یہ بھی کہا کہ دعویٰ کر سکتا ہوں کہ 80 فیصد تک اس حلقے کے مسائل حل کیے ہیں۔پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ یہ شریفوں کا علاقہ ہے، دھمکیاں دینے والا آپ کی نمائندگی کرنے کا حق رکھتا ہے، عرفان اللہ مروت کو ووٹ مانگنے کا حق ہے، لیکن آپ لوگوں کو دھمکیاں دیتے ہیں یہ اچھی بات نہیں ہے، اگر تم کو اسٹیبلشمنٹ جیتوائے گی تو ووٹ مانگنے کیوں آتے ہو۔

  • ملک  بھر میں   نیشنل ہائی ویز اور موٹرویز  کے لئے  نئے  قوانین اور جرمانے عائد

    ملک بھر میں نیشنل ہائی ویز اور موٹرویز کے لئے نئے قوانین اور جرمانے عائد

    نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس کی جانب سے جرمانوں کی نئی فہرست جاری کی گئی ہے جس کے مطابق حدِ رفتار کی خلاف ورزی پر موٹر سائیکل کو 1500 روپے، کار کو 2500 روپے، ایچ ٹی وی کو 5000 روپے اور مسافر بردار گاڑی کو 10 ہزار روپے جرمانہ ہوگا۔ نئے قانون کا اطلاق یکم جنوری 2024 سے تمام قومی شاہراہوں پر سفر کے دوران ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی گاڑیوں پر بلا تفریق بھاری جرمانہ عائد کرکے کیا جائے گا ، اسی طرح سامان کی اوور لوڈنگ کرنے پر اضافی جرمانہ 5 ہزار روپے اور مسافر بردار گاڑی میں گنجائش سے زائد مسافر بٹھانے پر 10 ہزار روپے جرمانہ ہوگا۔


    مخالف سمت میں گاڑی چلانے پر جرمانہ 2500 روپے ہوگا۔رات کو لائٹس کے بغیر گاڑی چلانے پراضافی جرمانہ 5000 روپے ہوگا، ممنوع مقام پر اوور ٹیکنگ کرنے پر کار، موٹر سائیکل اقور ایل ٹی وی کو 1500 روپے جرمانہ جبکہ مسافر بردار گاڑی اور ایچ ٹی وی کو 3000 روپے جرمانہ ہوگا۔ٹریفک سگنل کی پیلی نظر انداز کرنے پر جرمانہ ایک ہزار روپے، لال فلیشن کو نظر انداز کرنے پر جرمانہ 2000 روپے اور لال بتی نظر انداز کرنے پر جرمانہ 5000 روپے ہوگا۔دوسری گاڑی کو اُس کا راستہ نہ دینے پر جرمانہ ایک ہزار روپے ہوگا۔سامان کو خطرناک انداز میں لوڈ کرنے پر اضافی جرمانہ 10000 روپے ہوگا، جبکہ ایمر جنسی گاڑی کے راستے میں خلل کا باعث بننے پر جرمانہ 5000 روپے ہوگا۔

  • سانحہ  9 مئی کے واقعات میں ملوث افراد کو سزا ملنی چاہئے،حافظ طاہر اشرفی

    سانحہ 9 مئی کے واقعات میں ملوث افراد کو سزا ملنی چاہئے،حافظ طاہر اشرفی

    پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین حافظ طاہر اشرفی کا کہنا ہے کہ حج ایک لاکھ روپے سستا کر دیا گیا ، ریگولر اسکیم کے لیے کوٹے سے زیادہ درخواستیں آئی ہیں۔لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ طاہر اشرفی نے کہا کہ انصاف کا ترازو سب کے لیے برابر ہونا چاہیے، پاکستان ریاست مدینہ کی اساس پر قائم ہوا۔حافظ طاہر اشرفی کا کہنا ہے کہ سانحہ 9 مئی کے مجرموں کو ضرور سزا دینا آپ کی ذمے داری ہے، ہم نے دشمنی کرنے والے کو کھلا چھوڑنے کے بہت سے تجربات دیکھے ہیں، غیر مسلموں کے حقوق کا تحفظ بھی نظامِ مصطفیٰ کا ایک حصہ ہے۔انہوں نے کہا کہ مال سے زکوۃ نکالیں تو کوئی مانگنے والا نظر نہیں آئے گا، آج کل جس کا جو دل چاہتا ہے چلا دیتا ہے، فیک نیوز اور افواہ سازی سے گھر کے گھر تباہ ہو رہے ہیں، ہمیں اپنے گھروں سے نظامِ مصطفیٰ کا اطلاق کرنا چاہیے۔
    پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین نے کہا کہ پہلی بات کہ عالم اسلام کی کوئی اپنی فوج نہیں ہے، عالم اسلام کی کوئی فوج ہو تو اسے فلسطین اسرائیل جنگ میں جانا چاہیے، قطر میں جنگ بندی کے لیے مذاکرات جاری ہیں، ان شاء اللّٰہ مثبت بات سامنے آئے گی۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اُمید ہے کہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی آئے گی، چیف جسٹس اور چیف الیکشن کمشنر کہہ رہے ہیں کہ الیکشن کروائیں گے، جب یہ دونوں حضرات کہہ رہے ہیں تو ہمیں یقین کرنا چاہیے۔

  • 2023 میں بانی پی ٹی آئی کے آثاثوں کی مالیت  کیا  تھی؟ تفصیلات سامنے آگئی

    2023 میں بانی پی ٹی آئی کے آثاثوں کی مالیت کیا تھی؟ تفصیلات سامنے آگئی

    بانیٔ پی ٹی آئی کے کاغذاتِ نامزدگی کے مطابق 2023ء میں اثاثوں کی مالیت 31 کروڑ 59 لاکھ 50 ہزار روپے سے زائد تھی۔ انہوں نے کاغذاتِ نامزدگی میں زمان پارک لاہور میں 7 کنال 8 مرلے کا گھر وراثت میں ظاہر کیا۔بانیٔ پی ٹی آئی کے اثاثوں میں گزشتہ 5 برس میں 27 کروڑ 72 لاکھ 55 ہزار روپے سے زائد کا اضافہ ہوا۔ 2018ء میں ان کے اثاثوں کی مالیت 3 کروڑ 86 لاکھ 94 ہزار روپے تھی۔بانیٔ پی ٹی آئی نے کاغذات میں زمان پارک کے گھر کی تعمیر پر 4 کروڑ 86 لاکھ روپے سے زائد کا خرچہ ظاہر کیا۔کاغذات میں اسلام آباد کے علاقے مہرہ نور میں 50 لاکھ مالیت سے زائد کی 6 کنال 16 مرلے اراضی ظاہر کی گئی جبکہ اسلام آباد کے شاپنگ پلازہ میں 12 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی دکان بھی ظاہر کی گئی ہے۔سابق وزیراعظم نے کاغذات میں ظاہر کیا کہ بنی گالا میں 300 کنال اراضی بطور تحفہ وصول کیا۔ کاغذات میں بنی گالا گھر کی تزئین و آرائش اور ریگولرائزیشن کی مد میں 39 لاکھ روپے سے زائد کا خرچ ظاہر کیا گیا۔کاغذات میں 3 کروڑ 40 لاکھ روپے سے زائد مالیت کا دو کمروں کا فلیٹ بھی اسلام آباد کے پلازے میں ظاہر کیا گیا ہے۔
    بانیٔ پی ٹی آئی نے بھکر میں وراثت میں ملی 188 کنال اراضی بھی کاغذات میں ظاہر کی ہے۔بانیٔ پی ٹی آئی کے کاغذات میں کہا گیا ہے کہ وہ کسی ایک گاڑی کے مالک نہیں ہیں جبکہ 3 کروڑ 15 لاکھ روپے سے زائد نقد موجود ہیں۔کاغذات میں اسلام آباد کے مختلف بینک اکاؤنٹس میں 6 کروڑ روپے سے زائد کی رقم ظاہر کی گئی ہے جبکہ 2 لاکھ روپے کی 4 بکریاں بھی ان کی ملکیت بتائی گئی ہیں۔کاغذات میں توشہ خانہ سے خریدی گئی قیمتی اشیا کی قیمت ایک کروڑ 18 لاکھ 77 ہزار سے زائد ظاہر کی گئی ہے، اہلیہ بشریٰ بی بی کے نام پاکپتن اور دیپالپور میں 698 کنال اراضی ظاہر کی گئی ہے۔بشریٰ بی بی کے نام بنی گالا میں 3 کنال کا گھر بھی بانیٔ پی ٹی آئی کے کاغذات میں ظاہر کیا گیا ہے۔بانیٔ پی ٹی آئی نے ایف بی آر کو 2021ء میں 14 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کے اثاثے ظاہر کیے تھے، ایک سال کے دوران 2022ء میں ان کے اثاثوں کی مالیت بڑھ کر 32 کروڑ روپے سے زائد ہوگئی۔ایف بی آر سرٹیفکیٹ کے مطابق بانیٔ پی ٹی آئی نے 2023ء میں اثاثوں کی مالیت 31 کروڑ 59 لاکھ روپے ظاہر کی تھی۔بانیٔ پی ٹی آئی نے کاغذات میں اپنی تعلیمی قابلیت پولیٹیکل سائنس میں بی اے ظاہر کی ہے جبکہ اپنا موجودہ پیشہ فلنتھروپسٹ ظاہر کیا ہے۔

  • الیکشن 2024 کے لئے  کاغذات نامزدگی کے فیصلوں پراپیلیں کل سے دائرہوں گی

    الیکشن 2024 کے لئے کاغذات نامزدگی کے فیصلوں پراپیلیں کل سے دائرہوں گی

    ملک بھر میں عام انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی جمع ہونے، منظور یا مسترد ہونے کا مرحلہ مکمل ہو گیا ہے ، ریٹرننگ افسروں کے فیصلوں پر اپیلوں کا عمل کل سے 3 جنوری تک جاری رہے گا۔ اپیلوں پر انتخابی ٹریبونل 10 جنوری تک فیصلہ کریں گے جبکہ امیدوار اپنے کاغذات 12 جنوری تک واپس لے سکیں گے۔
    آج سے کاغذاتِ نامزدگی منظور یا مسترد ہونے کے خلاف اپیلیں دائر کی جا سکیں گی۔ جبکہ امیدواروں کی حتمی فہرست 11 جنوری 2024ء کو آویزاں کی جائے گی۔امیدوار 12 جنوری 2024ء تک اپنے کاغذاتِ نامزدگی واپس لے سکتے ہیں اور انتخابی نشانات 13 جنوری 2024 کو الاٹ کیے جائیں گے جبکہ عام انتخابات کے لیے پولنگ 8 فروری 2024ء کو ہو گی۔واضح رہے کہ ملک بھر میں ریٹرننگ افسران کی جانب سے کاغذات نامزدگی جانچ پڑتال کا عمل مکمل کرنے کے بعد امیدواروں کی فہرستیں جاری کی گئیں ، کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانیوالوں میں نامور سیاستدان بھی شامل ہیں۔

  • پیپلز پارٹی کارکردگی کے بنیاد پر الیکشن لڑنے جا رہی ہے،یوسف رضا گیلانی

    پیپلز پارٹی کارکردگی کے بنیاد پر الیکشن لڑنے جا رہی ہے،یوسف رضا گیلانی

    پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ صاف و شفاف انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، لیول پلئینگ سب کے لیے یکساں ہونی چاہیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ کوئی بھی جماعت پیپلز پارٹی کے بغیر حکومت نہیں بناسکتی۔یوسف رضا گیلانی نے ملتان میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ اقلیتوں کے حقوق کی بات کی، جنوبی پنجاب کی مسیحی برادری نے پیپلز پارٹی پر اعتماد کا اظہار کیا۔ ا نہوں نے کہا کہ جب سینیٹ میں اقلیتوں کی کوئی نمائندگی نہیں تھی تب بینظیر بھٹو نے اقلیتوں کو سیٹیں دیں۔پیپلز پارٹی کے رہنما یوسف رضا گیلانی کا یہ بھی کہنا ہے کہ خود کو عوام کے سامنے امیدوار کے طور پر لانے کا فیصلہ کیا ہے، کارکردگی کی بنیاد پر الیکشن لڑ رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی جماعت پیپلز پارٹی کے بغیر ملک میں حکومت نہیں بناسکتی۔یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ یہ تاثر زائل ہونا چاہیے کہ کون سی جماعت حکومت میں آئے گی۔کوئی بھی آئے تو الیکشن کے زریعے آئے سلیکشن کے نہیں ،