Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • پاک بمقابلہ آسٹریلیا: کیا ابرار احمد آسٹریلیا کے خلاف تیسرا ٹیسٹ کھیلیں گے؟

    پاک بمقابلہ آسٹریلیا: کیا ابرار احمد آسٹریلیا کے خلاف تیسرا ٹیسٹ کھیلیں گے؟

    پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان تیسرا ٹیسٹ میچ 3 جنوری 2023 کو سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں شروع ہونا ہے۔مہمان ٹیم کو ابتدائی دو ٹیسٹ میچوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے، اس کے باوجود آنے والا میچ آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے تناظر میں اہمیت کا حامل ہے۔ اس دوران، پاکستانی ٹیم حتمی ٹیسٹ کے لیے اسپنر ابرار احمد کی ممکنہ واپسی کے بارے میں پر امید ہے۔ ابرار، جو پہلے دو ٹیسٹ میچوں کے لیے دائیں ٹانگ کی چوٹ کی وجہ سے باہر ہو گئے تھے، نے پیر کو پاکستان کے تربیتی سیشن کے دوران نمایاں باؤلنگ میں حصہ لیا، جس میں کوئی واضح تکلیف نہیں دکھائی دی۔ کرک انفو نے رپورٹ کیا کہ ابرار کی چوٹ کی نوعیت کا مطلب ہے کہ یہ تیسرے ٹیسٹ میں ان کی شرکت کی ضمانت نہیں دیتا۔ کینبرا میں پرائم منسٹر الیون کے خلاف پاکستان کے ٹور گیم کے دوران ابتدائی طور پر "دائیں ٹانگ میں تکلیف” کی شکایت کے بعد انہیں باہر کردیا گیا تھا، ابرار کی چوٹ کے مسائل کی تاریخ کسی بھی حد تک یقینی بناتی ہے۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ابرار کی حالت دائیں ٹانگ میں اعصابی تناؤ اور پٹھوں کی کمزوری سے متاثر ہوئی ہے۔ اس نے اپنے علاج کے حصے کے طور پر انجیکشن لگائے۔ تاہم، پاکستان آج کی ٹریننگ کے بعد رات بھر ان کی حالت کا انتظار کرے گا۔ اگر اگلے 12 گھنٹوں کے اندر کافی درد یا تکلیف ظاہر ہوتی ہے، تو یہ فیصلہ کرے گا کہ آیا وہ آخری ٹیسٹ میں شروع کر سکتا ہے۔
    پاکستان ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے ایک سال میں ابرار کے زخمی ہونے کے خطرے سے بھی آگاہ ہے۔ وہ نیوزی لینڈ کے خلاف آئندہ پانچ میچوں کی T20I سیریز کے لیے پاکستان کے اسکواڈ کا حصہ ہیں، اور پی سی بی انھیں سفید گیند کا قیمتی اثاثہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اہم ٹیسٹ اسپنر بھی سمجھتا ہے۔
    25 سالہ ابرار نے گزشتہ دسمبر میں انگلینڈ کے خلاف ڈیبیو کرنے کے بعد سے صرف چھ ٹیسٹ میچ کھیلے ہیں۔ تاہم، اپنے پہلے ٹیسٹ میں 11 وکٹیں اور اب تک مجموعی طور پر 38، پاکستان کے اسپن باؤلنگ آپشنز کی کمی کے ساتھ، وہ ایک اہم کھلاڑی بن گئے ہیں۔ اپنے ابتدائی کرکٹ کے دنوں میں متعدد طویل اور مسلسل چوٹوں کو برداشت کرنے کے باوجود، اس بات کے اشارے ملے تھے کہ وہ ان چیلنجوں پر قابو پا رہا ہے، حالانکہ ان کی موجودہ چوٹ کا خوف ممکنہ طور پر اس کی پیشرفت کو تبدیل کر سکتا ہے۔پاکستان نے ساجد خان اور محمد نواز کو بھی کور کے طور پر شامل کیا ہے، حالانکہ اس سیریز کے دوران دونوں میں سے کسی نے بھی ٹیسٹ میچ میں حصہ نہیں لیا۔ دونوں پیر کو پاکستان کے تربیتی سیشن میں شامل تھے۔پاکستان تیسرے ٹیسٹ میں ماہر اسپنر کو میدان میں اتارنے کا خواہاں ہے، اس نے پچھلے دو میچوں میں آل سیم اٹیک کا انتخاب کیا ہے۔ آغا سلمان نے ان کھیلوں میں اسپنر کے کردار کو پورا کیا، اور اگرچہ ان کے نظم و ضبط اور اکانومی ریٹ نے پاکستان کو متاثر کیا ہے، لیکن وکٹیں لینے کے قابل اسپنر کی عدم موجودگی نمایاں رہی ہے۔ جہاں نیتھن لیون نے پہلے دو ٹیسٹ میں نو وکٹیں حاصل کیں، سلمان صرف ایک وکٹ حاصل کر سکے۔

  • اگر کسی کو اسٹبلشمنٹ نے جتوانا ہے تو وہ ووٹ مانگنے کیوں آتا ہے؟سعید غنی

    اگر کسی کو اسٹبلشمنٹ نے جتوانا ہے تو وہ ووٹ مانگنے کیوں آتا ہے؟سعید غنی

    کراچی کے حلقہ پی ایس 106 میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کے امیدوار سعید غنی نے کہا کہ 1988ء سے اس نشست پر پیپلز پارٹی کبھی نہیں جیتی، 2017ء کے ضمنی انتخاب میں پہلی بار پیپلز پارٹی جیتی، 1988ء سے اس حلقے سے جو بھی جیتا ہے وہ وزیر بنا لیکن حلقے کی حالت سے نہیں لگتا تھا کہ یہ وزیروں کا حلقہ ہے۔ سعید غنی نے اپنے حلقے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ حلقہ جب ایم کیو ایم، مسلم لیگ اور مروت کا گڑھ تھا، میں تب یہاں سے جیتا تھا۔اُنہوں نے کہا کہ حلقے میں 5 لالھ لوگ ہیں، کوئی ایک لے آئیں جو کہے کہ میں نے اس سے بدتمیزی کی ہو، ہم نے اپنے حلقے والوں کو اپنے گھر کے فرد کی طرح سمجھا ہے، جو غنڈہ گردی بدمعاشی ہم نے یہاں ختم کی ہے اسے دوبارہ یہاں نہیں آنے دیں گے۔ سعید غنی نے کہا کہ گزشتہ 5 برسوں میں یہاں بہت سے مسائل تھے، اس علاقے میں پانی کا سب سے زیادہ مسئلہ تھا، ہم نے محمودآباد کے حلقے کے 80 سے 85 فیصد مسائل حل کر لئے ہیں، اپنے دور حکومت میں 3 پانی کے مںصوبے مکمل کرائے، ایسے ایسے گھروں میں بھی پانی لائے جہاں لوگ ناامید ہوگئے تھے۔سابق صوبائی کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنے دور میں ایک اسپتال کو مکمل کرایا جو نشئی افراد کا مسکن بنا ہوا تھا، ٹیکنیکل کالج کو دوبارہ بنوایا، محمود آباد نالے کے ساتھ ایک بھی گھر نہیں ٹوٹنے دیا، جن علاقوں میں سیوریج لائنوں کا کام ہورہا ہے وہاں سڑکیں ٹوٹی ملیں گی، باقی جہاں کام مکمل ہوچکا ہے وہاں سڑکیں بنادی ہیں، ایک فٹ بال اسٹیڈیم بنا رہے ہیں، جو مسائل حل کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے وہ کرتے رہیں گے۔اُنہوں نے مزید کہا کہ 2018ء میں میڈیا نے ٹوٹی پھوٹی سڑکیں دکھائیں تو میں نے کہا 5 سال بعد آ کر یہ حلقہ دیکھیں۔ سعید غنی نے یہ بھی کہا کہ دعویٰ کر سکتا ہوں کہ 80 فیصد تک اس حلقے کے مسائل حل کیے ہیں۔پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ یہ شریفوں کا علاقہ ہے، دھمکیاں دینے والا آپ کی نمائندگی کرنے کا حق رکھتا ہے، عرفان اللہ مروت کو ووٹ مانگنے کا حق ہے، لیکن آپ لوگوں کو دھمکیاں دیتے ہیں یہ اچھی بات نہیں ہے، اگر تم کو اسٹیبلشمنٹ جیتوائے گی تو ووٹ مانگنے کیوں آتے ہو۔

  • ملک  بھر میں   نیشنل ہائی ویز اور موٹرویز  کے لئے  نئے  قوانین اور جرمانے عائد

    ملک بھر میں نیشنل ہائی ویز اور موٹرویز کے لئے نئے قوانین اور جرمانے عائد

    نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس کی جانب سے جرمانوں کی نئی فہرست جاری کی گئی ہے جس کے مطابق حدِ رفتار کی خلاف ورزی پر موٹر سائیکل کو 1500 روپے، کار کو 2500 روپے، ایچ ٹی وی کو 5000 روپے اور مسافر بردار گاڑی کو 10 ہزار روپے جرمانہ ہوگا۔ نئے قانون کا اطلاق یکم جنوری 2024 سے تمام قومی شاہراہوں پر سفر کے دوران ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی گاڑیوں پر بلا تفریق بھاری جرمانہ عائد کرکے کیا جائے گا ، اسی طرح سامان کی اوور لوڈنگ کرنے پر اضافی جرمانہ 5 ہزار روپے اور مسافر بردار گاڑی میں گنجائش سے زائد مسافر بٹھانے پر 10 ہزار روپے جرمانہ ہوگا۔


    مخالف سمت میں گاڑی چلانے پر جرمانہ 2500 روپے ہوگا۔رات کو لائٹس کے بغیر گاڑی چلانے پراضافی جرمانہ 5000 روپے ہوگا، ممنوع مقام پر اوور ٹیکنگ کرنے پر کار، موٹر سائیکل اقور ایل ٹی وی کو 1500 روپے جرمانہ جبکہ مسافر بردار گاڑی اور ایچ ٹی وی کو 3000 روپے جرمانہ ہوگا۔ٹریفک سگنل کی پیلی نظر انداز کرنے پر جرمانہ ایک ہزار روپے، لال فلیشن کو نظر انداز کرنے پر جرمانہ 2000 روپے اور لال بتی نظر انداز کرنے پر جرمانہ 5000 روپے ہوگا۔دوسری گاڑی کو اُس کا راستہ نہ دینے پر جرمانہ ایک ہزار روپے ہوگا۔سامان کو خطرناک انداز میں لوڈ کرنے پر اضافی جرمانہ 10000 روپے ہوگا، جبکہ ایمر جنسی گاڑی کے راستے میں خلل کا باعث بننے پر جرمانہ 5000 روپے ہوگا۔

  • سانحہ  9 مئی کے واقعات میں ملوث افراد کو سزا ملنی چاہئے،حافظ طاہر اشرفی

    سانحہ 9 مئی کے واقعات میں ملوث افراد کو سزا ملنی چاہئے،حافظ طاہر اشرفی

    پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین حافظ طاہر اشرفی کا کہنا ہے کہ حج ایک لاکھ روپے سستا کر دیا گیا ، ریگولر اسکیم کے لیے کوٹے سے زیادہ درخواستیں آئی ہیں۔لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ طاہر اشرفی نے کہا کہ انصاف کا ترازو سب کے لیے برابر ہونا چاہیے، پاکستان ریاست مدینہ کی اساس پر قائم ہوا۔حافظ طاہر اشرفی کا کہنا ہے کہ سانحہ 9 مئی کے مجرموں کو ضرور سزا دینا آپ کی ذمے داری ہے، ہم نے دشمنی کرنے والے کو کھلا چھوڑنے کے بہت سے تجربات دیکھے ہیں، غیر مسلموں کے حقوق کا تحفظ بھی نظامِ مصطفیٰ کا ایک حصہ ہے۔انہوں نے کہا کہ مال سے زکوۃ نکالیں تو کوئی مانگنے والا نظر نہیں آئے گا، آج کل جس کا جو دل چاہتا ہے چلا دیتا ہے، فیک نیوز اور افواہ سازی سے گھر کے گھر تباہ ہو رہے ہیں، ہمیں اپنے گھروں سے نظامِ مصطفیٰ کا اطلاق کرنا چاہیے۔
    پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین نے کہا کہ پہلی بات کہ عالم اسلام کی کوئی اپنی فوج نہیں ہے، عالم اسلام کی کوئی فوج ہو تو اسے فلسطین اسرائیل جنگ میں جانا چاہیے، قطر میں جنگ بندی کے لیے مذاکرات جاری ہیں، ان شاء اللّٰہ مثبت بات سامنے آئے گی۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اُمید ہے کہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی آئے گی، چیف جسٹس اور چیف الیکشن کمشنر کہہ رہے ہیں کہ الیکشن کروائیں گے، جب یہ دونوں حضرات کہہ رہے ہیں تو ہمیں یقین کرنا چاہیے۔

  • 2023 میں بانی پی ٹی آئی کے آثاثوں کی مالیت  کیا  تھی؟ تفصیلات سامنے آگئی

    2023 میں بانی پی ٹی آئی کے آثاثوں کی مالیت کیا تھی؟ تفصیلات سامنے آگئی

    بانیٔ پی ٹی آئی کے کاغذاتِ نامزدگی کے مطابق 2023ء میں اثاثوں کی مالیت 31 کروڑ 59 لاکھ 50 ہزار روپے سے زائد تھی۔ انہوں نے کاغذاتِ نامزدگی میں زمان پارک لاہور میں 7 کنال 8 مرلے کا گھر وراثت میں ظاہر کیا۔بانیٔ پی ٹی آئی کے اثاثوں میں گزشتہ 5 برس میں 27 کروڑ 72 لاکھ 55 ہزار روپے سے زائد کا اضافہ ہوا۔ 2018ء میں ان کے اثاثوں کی مالیت 3 کروڑ 86 لاکھ 94 ہزار روپے تھی۔بانیٔ پی ٹی آئی نے کاغذات میں زمان پارک کے گھر کی تعمیر پر 4 کروڑ 86 لاکھ روپے سے زائد کا خرچہ ظاہر کیا۔کاغذات میں اسلام آباد کے علاقے مہرہ نور میں 50 لاکھ مالیت سے زائد کی 6 کنال 16 مرلے اراضی ظاہر کی گئی جبکہ اسلام آباد کے شاپنگ پلازہ میں 12 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی دکان بھی ظاہر کی گئی ہے۔سابق وزیراعظم نے کاغذات میں ظاہر کیا کہ بنی گالا میں 300 کنال اراضی بطور تحفہ وصول کیا۔ کاغذات میں بنی گالا گھر کی تزئین و آرائش اور ریگولرائزیشن کی مد میں 39 لاکھ روپے سے زائد کا خرچ ظاہر کیا گیا۔کاغذات میں 3 کروڑ 40 لاکھ روپے سے زائد مالیت کا دو کمروں کا فلیٹ بھی اسلام آباد کے پلازے میں ظاہر کیا گیا ہے۔
    بانیٔ پی ٹی آئی نے بھکر میں وراثت میں ملی 188 کنال اراضی بھی کاغذات میں ظاہر کی ہے۔بانیٔ پی ٹی آئی کے کاغذات میں کہا گیا ہے کہ وہ کسی ایک گاڑی کے مالک نہیں ہیں جبکہ 3 کروڑ 15 لاکھ روپے سے زائد نقد موجود ہیں۔کاغذات میں اسلام آباد کے مختلف بینک اکاؤنٹس میں 6 کروڑ روپے سے زائد کی رقم ظاہر کی گئی ہے جبکہ 2 لاکھ روپے کی 4 بکریاں بھی ان کی ملکیت بتائی گئی ہیں۔کاغذات میں توشہ خانہ سے خریدی گئی قیمتی اشیا کی قیمت ایک کروڑ 18 لاکھ 77 ہزار سے زائد ظاہر کی گئی ہے، اہلیہ بشریٰ بی بی کے نام پاکپتن اور دیپالپور میں 698 کنال اراضی ظاہر کی گئی ہے۔بشریٰ بی بی کے نام بنی گالا میں 3 کنال کا گھر بھی بانیٔ پی ٹی آئی کے کاغذات میں ظاہر کیا گیا ہے۔بانیٔ پی ٹی آئی نے ایف بی آر کو 2021ء میں 14 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کے اثاثے ظاہر کیے تھے، ایک سال کے دوران 2022ء میں ان کے اثاثوں کی مالیت بڑھ کر 32 کروڑ روپے سے زائد ہوگئی۔ایف بی آر سرٹیفکیٹ کے مطابق بانیٔ پی ٹی آئی نے 2023ء میں اثاثوں کی مالیت 31 کروڑ 59 لاکھ روپے ظاہر کی تھی۔بانیٔ پی ٹی آئی نے کاغذات میں اپنی تعلیمی قابلیت پولیٹیکل سائنس میں بی اے ظاہر کی ہے جبکہ اپنا موجودہ پیشہ فلنتھروپسٹ ظاہر کیا ہے۔

  • الیکشن 2024 کے لئے  کاغذات نامزدگی کے فیصلوں پراپیلیں کل سے دائرہوں گی

    الیکشن 2024 کے لئے کاغذات نامزدگی کے فیصلوں پراپیلیں کل سے دائرہوں گی

    ملک بھر میں عام انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی جمع ہونے، منظور یا مسترد ہونے کا مرحلہ مکمل ہو گیا ہے ، ریٹرننگ افسروں کے فیصلوں پر اپیلوں کا عمل کل سے 3 جنوری تک جاری رہے گا۔ اپیلوں پر انتخابی ٹریبونل 10 جنوری تک فیصلہ کریں گے جبکہ امیدوار اپنے کاغذات 12 جنوری تک واپس لے سکیں گے۔
    آج سے کاغذاتِ نامزدگی منظور یا مسترد ہونے کے خلاف اپیلیں دائر کی جا سکیں گی۔ جبکہ امیدواروں کی حتمی فہرست 11 جنوری 2024ء کو آویزاں کی جائے گی۔امیدوار 12 جنوری 2024ء تک اپنے کاغذاتِ نامزدگی واپس لے سکتے ہیں اور انتخابی نشانات 13 جنوری 2024 کو الاٹ کیے جائیں گے جبکہ عام انتخابات کے لیے پولنگ 8 فروری 2024ء کو ہو گی۔واضح رہے کہ ملک بھر میں ریٹرننگ افسران کی جانب سے کاغذات نامزدگی جانچ پڑتال کا عمل مکمل کرنے کے بعد امیدواروں کی فہرستیں جاری کی گئیں ، کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانیوالوں میں نامور سیاستدان بھی شامل ہیں۔

  • پیپلز پارٹی کارکردگی کے بنیاد پر الیکشن لڑنے جا رہی ہے،یوسف رضا گیلانی

    پیپلز پارٹی کارکردگی کے بنیاد پر الیکشن لڑنے جا رہی ہے،یوسف رضا گیلانی

    پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ صاف و شفاف انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، لیول پلئینگ سب کے لیے یکساں ہونی چاہیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ کوئی بھی جماعت پیپلز پارٹی کے بغیر حکومت نہیں بناسکتی۔یوسف رضا گیلانی نے ملتان میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ اقلیتوں کے حقوق کی بات کی، جنوبی پنجاب کی مسیحی برادری نے پیپلز پارٹی پر اعتماد کا اظہار کیا۔ ا نہوں نے کہا کہ جب سینیٹ میں اقلیتوں کی کوئی نمائندگی نہیں تھی تب بینظیر بھٹو نے اقلیتوں کو سیٹیں دیں۔پیپلز پارٹی کے رہنما یوسف رضا گیلانی کا یہ بھی کہنا ہے کہ خود کو عوام کے سامنے امیدوار کے طور پر لانے کا فیصلہ کیا ہے، کارکردگی کی بنیاد پر الیکشن لڑ رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی جماعت پیپلز پارٹی کے بغیر ملک میں حکومت نہیں بناسکتی۔یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ یہ تاثر زائل ہونا چاہیے کہ کون سی جماعت حکومت میں آئے گی۔کوئی بھی آئے تو الیکشن کے زریعے آئے سلیکشن کے نہیں ،

  • کسانوں کے مسائل سننے پر آرمی چیف کے شکر گزار ہیں،کسان کنونشن کے کوآرڈینیٹر کرنل ریٹائرڈ ہاشم ڈوگر

    کسانوں کے مسائل سننے پر آرمی چیف کے شکر گزار ہیں،کسان کنونشن کے کوآرڈینیٹر کرنل ریٹائرڈ ہاشم ڈوگر

    کسان کنونشن کے کوآرڈینیٹر کرنل ریٹائرڈ ہاشم ڈوگرنے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دن آرمی چیف نے کسانوں کے مسائل سنے وزیر اعظم اور آرمی چیف نے کسانوں کی اوور بلنگ کو ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئےکسانوں کے ذمہ واجبات کو قسطوں میں ادائیگی کرنے نظام بنایا ، کسانوں کو فصل کی مناسب قیمت دیے کا لائحہ عمل بنائیں گے، بنجر زمین کو آباد کرنے کا بھی عہد کیا، انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں کسانوں کو کھاد کی قلت کا سامنا ہے کھاد کی قلت پر قابو پانے کیلئے جلد حکومت اقدامات کرے گی واپڈا میں بہت مس مینجمنٹ ہے کسانوں سے اوور بلنگ وصول کی جارہی ہے اگر پروگرام جاری رہا تو کسانوں مزید ریلیف ملے گا،ملک کی تاریخ میں پہلے دفعہ کسانوں کے مسائل پر چیف آف آرمی سٹاف نے بولا ہے ہمیں لگتا ہے پہلی دفعہ کسانوں کے مسائل کو ایڈریس کیا گیا ، انھوں نے ان خیالات کا اظہار نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں کسان اتحاد کے دیگر راہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا،اس موقع پر کسان اتحاد کے چیئرمین چوہدری خالد بانٹھ نے کہا کہ کسان اتحاد کے کوآرڈینیٹر عمیر مسعود نے کہا کہ یوریا کھاد اور بجلی کے بلوں پر پہلی دفعہ کسانوں کے مسائل سنے گئے، جس پر ہم آرمی چیف کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہے ،انہوں نے کہا کہ بھل صفائی کے نام پر پیسے کھائے گئے، وزیر اعظم اور آرمی چیف کے کسانوں کے مسائل سننے پر مشکور ہیں،شوگر مافیاز کے حوالے سے آرمی چیف سے بات ہوئی ہے،سولر سسٹم بھی کرپشن کا نظر ہو گیا،

  • عمران خان کی کاغذات نامزدگی کس وجہ سے مسترد کئے گئے؟ فیصلہ آگیا

    عمران خان کی کاغذات نامزدگی کس وجہ سے مسترد کئے گئے؟ فیصلہ آگیا

    لاہور کے حلقہ این اے 122 سے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانے کا تحریری فیصلہ سامنے آگیا ، جس کے تحت عمران خان کے کاغذات اخلاقی پستی پر سزا کے باعث مسترد کیے گئے۔ تحریری فیصلے کے مطابق اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج نے بانیٔ پی ٹی آئی کو سزا سنائی، انہیں اخلاقی پستی کے جرم میں سزا سنائی گئی، بانیٔ پی ٹی آئی کی سزا تاحال معطل یا کالعدم قرار نہیں دی گئی۔تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بانیٔ پی ٹی آئی کی نااہلی 5 سال کے لیے ہوئی جو معطل یا کالعدم نہیں ہوئی، انہیں آئین کے آرٹیکل 63 ون کے تحت نااہل کیا گیا ہے۔
    ریٹرنگ افسر کا تحریری فیصلہ آٹھ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ سابق چیرمین پی ٹی آئی کو اخلاقی پستی کے جرم میں سزا سنائی گی ہے، ان کی سزا تاحال معطل یا کالعدم قرار نہیں ہوئی۔فیصلے میں کہا گیا کہ عمران خان کی نااہلی پانچ سال کے لیے ہوئی ہے، ان کی نااہلی بھی معطل یا کالعدم نہیں ہوئی، عمران خان کو آئین کے آرٹیکل 63 ون کے تحت نااہل کیا گیا۔فیصلے میں کہا گیا کہ شکایت کنندہ کے اعتراضات قانونی ہیں، سابق چیرمین پی ٹی آئی کے این اے 122 سے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جاتے ہیں۔خیال رہے کہ سابق چیئرمین پی ٹی آئی پر سابق لیگی ایم پی اے میاں نصیر احمد نے اعتراضات دائر کئے تھے۔

  • کے ایم سی  کا اکھٹا ایک ایک روپیہ کراچی پر خرچ ہوگا، مرتضی وہاب

    کے ایم سی کا اکھٹا ایک ایک روپیہ کراچی پر خرچ ہوگا، مرتضی وہاب

    کراچی میں ڈینسو ہال میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ اس وقت ہم لوگ کے ایم سی کی تاریخی عمارت میں موجود ہیں، ڈینسو ہال کا قیام 1886ء میں ہوا تھا۔ میئر کراچی نے کہا کہ کچھ فیصلے ہم نے کے ایم سی میں کیے ہیں، وسیم اختر کے آخری سال کے ایم سی کی آمدنی 1.2 ارب روپے سالانہ تھی ہمارے دور میں ماہانہ آمدنی تقریباً 200 ملین ہوئی ۔ سال 2023 کے پہلے چھ ماہ میں 580 ملین کی آمدنی ہوئی، اگلے پانچ ماہ یکم جولائی سے 30 نومبر تک کے ایم سی کی آمدنی 1 ارب روپے ہوئی۔مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ 980 ملین روپے ہم نے اپنے ذرائع سے اکٹھے کیے، ہم ٹیکسیشن کے نظام کو بہتر بنائیں گے۔مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ پرامید ہیں اگلے چھ ماہ میں آمدنی میں مزید اضافہ کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ کے ایم سی جو پیسہ اکٹھا کرے گی اس کا فیصلہ منتخب کمیٹی کرے گی میئر کراچی نے کہا کہ کچھ فیصلے ہم نے کے ایم سی میں کیے ہیں، وسیم اختر کے آخری سال کے ایم سی کی آمدنی 1.2 ارب روپے سالانہ تھی۔مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ 980 ملین روپے ہم نے اپنے ذرائع سے اکٹھے کیے، ٹیکسیشن کے نظام کو بہتر بنائیں گے۔