Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • کراچی میں چینی باشندوں پر حملہ: دفتر خارجہ کی جانب سے تحقیقات کا آغاز

    کراچی میں چینی باشندوں پر حملہ: دفتر خارجہ کی جانب سے تحقیقات کا آغاز

    کراچی: ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے کراچی کے صنعتی علاقے سائٹ اے ایریا میں دو چینی باشندوں کے زخمی ہونے کے واقعے پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور وزارت داخلہ اور چینی سفارتخانے کے ساتھ رابطے میں ہیں تاکہ ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
    ممتاز زہرا بلوچ نے ایک بیان میں کہا، "ہم زخمی چینی باشندوں کے خاندانوں سے اظہار ہمدردی کرتے ہیں اور ان کی صحتیابی کے لیے دعاگو ہیں۔ پاکستان ذمہ دار افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے پرعزم ہے۔”
    انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور چین قریبی شراکت دار اور آہنی بھائی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، پاکستان چینی شہریوں، منصوبوں، اور اداروں کے تحفظ کے لیے اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتا ہے۔یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب کراچی کے صنعتی علاقے میں غیرملکیوں اور مقامی سیکیورٹی گارڈز کے درمیان جھگڑا ہوا، جس کے نتیجے میں دو چینی شہری زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد، سندھ کے وزیرداخلہ نے تحقیقات کا حکم دیا تھا تاکہ اس واقعے کے پس پردہ وجوہات کا پتہ لگایا جا سکے اور آئندہ اس طرح کے واقعات سے بچنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔پاکستانی حکومت نے چینی شہریوں کی حفاظت کو انتہائی اہمیت دی ہے اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ اس واقعے کی تحقیقاتی رپورٹ کے بعد، مزید قانونی کاروائیاں کی جائیں گی تاکہ ذمہ داروں کو جلد سے جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

  • وفاقی حکومت کے افسران کے تقرر و تبادلے: اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی نئی نوٹیفکیشن جاری

    وفاقی حکومت کے افسران کے تقرر و تبادلے: اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی نئی نوٹیفکیشن جاری

    اسلام آباد: وفاقی حکومت کی جانب سے مختلف سرکاری افسران کے تقرر و تبادلوں کے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیے گئے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی طرف سے جاری کردہ اس نوٹیفکیشن میں متعدد اہم تقرریاں اور تبادلوں کا ذکر کیا گیا ہے، جو حکومتی کارکردگی میں بہتری کی کوششوں کا حصہ ہیں۔نوٹیفکیشن کے مطابق، وِنگ کمانڈر نعمان ساہو کو پراجیکٹ آفیسر کے طور پر پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کارپوریشن لمیٹڈ میں تعینات کیا گیا ہے۔ ان کی تقرری اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ وفاقی حکومت نے فضائی سفر اور اس سے متعلقہ امور میں بہتری کے لیے اعلیٰ سطح کے افسران کو شامل کیا ہے۔ اسی طرح، چیف فنانس افسر شہزاد اقبال کا تبادلہ وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی سے امورِ کشمیر کے لیے کیا گیا ہے، جس کا مقصد کشمیر کے امور میں مالی شفافیت کو بڑھانا اور ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کو یقینی بنانا ہے۔
    مزید ڈپٹی سیکریٹری پاور ڈویژن اکبر اعظم کا تبادلہ کیا گیا ہے، اور ان کی خدمات فیڈرل پبلک سروس کمیشن اسلام آباد کو واپس کر دی گئی ہیں۔ یہ اقدام حکومتی مشینری کی کارکردگی کو بہتر بنانے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ڈپٹی ڈائریکٹر نیشنل آرکائیوز آف پاکستان سجاد حسین کا تبادلہ کرکے انہیں سیکشن افسر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن تعینات کیا گیا ہے۔ یہ تبدیلیاں اس بات کی نشانی ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اپنی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہے۔سیکشن افسر عماد الدین کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سے ہاؤسنگ اینڈ ورکس کے شعبے میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ یہ تبادلہ عوامی ہاؤسنگ کی سکیموں کی بہتر نگرانی کے لیے کیا گیا ہے۔
    او ایس ڈی اسٹیبلشمنٹ ڈویژن ردا نور کو سیکشن افسر سائنس و ٹیکنالوجی ڈویژن تعینات کیا گیا ہے، جبکہ تقرری کی منتظر نایاب عمران کو سیکشن افسر تخفیفِ غربت ڈویژن میں تعینات کیا گیا ہے۔ ان تقررات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ حکومت معاشرتی بہتری کے لیے اہم شعبوں میں کارکردگی بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔یہ تقرریاں اور تبادلے اس بات کا ثبوت ہیں کہ وفاقی حکومت اہم عہدوں پر اہل اور تجربہ کار افسران کو مقرر کرکے ملکی نظام کی بہتری کے لیے کوشاں ہے۔ حکومت کی یہ اقدامات سرکاری خدمات میں شفافیت، مؤثریت، اور عوامی خدمات کی بہتری کی سمت میں ایک اہم قدم ہیں۔

  • اسلام آباد ٹریفک پولیس نے تعمیراتی کام کے باعث ٹریفک پلان جاری کر دیا

    اسلام آباد ٹریفک پولیس نے تعمیراتی کام کے باعث ٹریفک پلان جاری کر دیا

    اسلام آباد ٹریفک پولیس نے ایف ایٹ ایکسچینج چوک اور انڈر پاس ڈھوکری سرینہ چوک میں جاری تعمیراتی کام کی وجہ سے شہریوں کی آسانی کے لیے ایک تفصیلی ٹریفک پلان جاری کیا ہے۔ یہ اقدام شہریوں کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے تاکہ وہ بلا رکاوٹ اپنی منزل مقصود تک پہنچ سکیں۔ٹریفک پولیس کے مطابق، ایف ایٹ ایکسچینج چوک پر جاری تعمیراتی کام کے باعث نائنتھ ایونیو سے آنے والی ٹریفک کو شاہین چوک کی طرف موڑا جائے گا۔ یہ ٹریفک ابن سینا روڈ (G-9) کی جانب اور ایف ایٹ ایکسچینج لوپ سے ایف ٹین راؤنڈ اباؤٹ کی طرف منتقل کی جائے گی۔ ایف 10 سے خیابان چوک کی طرف آنے والی ٹریفک بھی شاہین چوک کی طرف موڑی جائے گی، جبکہ شاہین چوک کی جانب سے آنے والی ٹریفک کو ناظم الدین روڈ پر ڈال دیا جائے گا، جو ایف ایٹ ون لوپ سے جناح ایونیو تک پہنچ سکتی ہے۔ نائنتھ ایونیو پر آئی جے پی روڈ اور ملحقہ سیکٹرز سے آنے والی ٹریفک کو پشاور موڑ سے سری نگر ہائی وے پر موڑ دیا جائے گا۔
    جناح ایونیو سے 10-F کی طرف آنے والی ٹریفک کو ٹیپو چوک لوپ سے ابن سینا روڈ کی جانب موڑ دیا جائے گا۔ ایف-10، G-7، G-6، F-7 اور F-6 سے آنے والی ٹریفک بھی آئی جے پی روڈ کے ذریعے پشاور موڑ سے سری نگر ہائی وے کا استعمال کرے گی۔ ایف-11، F-10، E-11، اور D-12 سے آنے والی ٹریفک مارگلہ روڈ پر سفر کرتے ہوئے فیصل ایونیو یا ساتویں ایونیو کے ذریعے جناح ایونیو، بلیو ایریا، ریڈ زون یا سری نگر ہائی وے تک پہنچ سکتی ہے۔

    انڈرپاس ڈھوکری سرینہ چوک کے لیے ٹریفک پلان
    انڈرپاس ڈھوکری سرینہ چوک کی تعمیر کے دوران، ٹریفک پولیس نے شہریوں کی سہولت کے لیے ایک الگ ٹریفک پلان جاری کیا ہے۔ ریڈ زون سے مری روڈ یا ایکسپریس ہائی وے کی جانب جانے والے افراد کو شاہراہ دستور سے فرانس ٹرن، جناح کنونشن سینٹر، کشمیر چوک اور کلب روڈ کا استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
    بہارہ کہو یا مری سے ریڈ زون جانے والے حضرات مری روڈ سے قائداعظم یونیورسٹی روڈ استعمال کرتے ہوئے بری امام ناکے سے داخل ہوں گے۔ جبکہ F-6، G-7، G-6، F سے بہارہ کہو یا مری جانے والے حضرات سیونتھ ایونیو سے چاند تارا فلائی اوور، گارڈن ایونیو کے ذریعے مری روڈ کی جانب سفر کریں گے۔موٹروے اور سری نگر بائی وے سے بہارہ کہو یا مری کی طرف سفر کرنے والے افراد زیرو پوائنٹ سے ایکسپریس وے کے ذریعے فیض آباد پل استعمال کرتے ہوئے مری روڈ کی جانب بڑھ سکتے ہیں۔بہارہ کہو یا مری سے موٹروے پر جانے کے لیے مری روڈ سے کشمیر چوک، کلب روڈ، فیض آباد پل، فیصل ایونیو اور زیرو پوائنٹ سے سری نگر ہائی وے کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ایکسپریس وے سے ریڈ زون جانے والے افراد زیرو پوائنٹ سے سری نگر ہائی وے، سیونتھ ایونیو، جناح ایونیو کا استعمال کریں گے۔

    ریڈ زون کے داخلے کے لیے راستے
    ریڈ زون میں داخلے کے لیے ایمبیسی روڈ سے نادر چوک، ایوب چوک اور مارگلہ روڈ کھلی رہیں گی۔ یہ ٹریفک پلان شہریوں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے اور ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے کے لیے وضع کیا گیا ہے، اور شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ان ہدایات کی پابندی کریں تاکہ ممکنہ مسائل سے بچا جا سکے۔

  • خالد خان خٹک کو نیشنل کوآرڈینیٹر نیکٹا کا چارج سونپ دیا گیا

    خالد خان خٹک کو نیشنل کوآرڈینیٹر نیکٹا کا چارج سونپ دیا گیا

    اسلام آباد: پولیس سروس کے سینئر افسر محمد خالد خان خٹک کو نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کا نیشنل کوآرڈینیٹر مقرر کیا گیا ہے۔ یہ تقرری اس وقت عمل میں آئی ہے جب خٹک نیکٹا میں ممبر کاؤنٹر ٹیررزم کے طور پر اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں، اور یہ ان کی شاندار خدمات کا اعتراف ہے۔خالد خان خٹک کے پاس 29 سال کا پولیس سروس کا تجربہ ہے۔ انہوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں مختلف اہم عہدوں پر فائز رہنے کے ساتھ ساتھ کئی صوبائی اور وفاقی سطح کی ذمہ داریاں بھی نبھائی ہیں۔ ان کی صلاحیتوں اور تجربے کی بنا پر انہیں نیکٹا کے نیشنل کوآرڈینیٹر کی حیثیت سے منتخب کیا گیا ہے، جہاں وہ ملک میں انسداد دہشت گردی کے لیے حکمت عملی تیار کرنے اور اس پر عمل درآمد کرنے کے ذمہ دار ہوں گے۔
    محمد خالد خان خٹک کی سابقہ خدمات میں اینٹی نارکاٹک فورس، وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) اور اسلام آباد پولیس کے چیف کی حیثیت شامل ہے۔ ان کی یہ شاندار کارکردگی انہیں اپنے نئے عہدے کے لیے بہترین امیدوار بناتی ہے، جہاں انہیں ملک میں امن و امان کی صورت حال بہتر بنانے اور دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہوگی۔خالد خان خٹک کی تعیناتی پر نیکٹا کے اعلیٰ حکام نے اطمینان کا اظہار کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ وہ اپنے نئے عہدے پر بھی اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے، جس سے ملک میں دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں مزید کامیابیاں حاصل کی جا سکیں گی۔

  • آئینی بحران کی کوششیں ناکام، پارلیمان کا اختیار برقرار رہے گا، خواجہ آصف

    آئینی بحران کی کوششیں ناکام، پارلیمان کا اختیار برقرار رہے گا، خواجہ آصف

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے حال ہی میں ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے 26ویں آئینی ترمیم کے معاملے پر چیف جسٹس کو لکھے گئے خط کو ملک میں آئینی بحران پیدا کرنے کی ایک اور کوشش قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس خط کا مقصد عدالت کے ذریعے پارلیمنٹ کے اختیار کو چیلنج کرنا ہے، اور یہ سوال کیا کہ "یہ لوگ مانیٹر کیوں بننا چاہتے ہیں؟”خواجہ آصف نے اکتوبر میں ہونے والے بحران کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ان خطرات اب ٹل چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مطلع صاف ہونے کی وجہ سے گرج چمک کا کوئی امکان نہیں، تاہم پارلیمانی جمہوریت میں خطرات ہمیشہ رہتے ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ پاکستان میں ان کی پارٹی کو اکثریت حاصل ہے، لیکن نظام میں خطرات ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ، پی ٹی آئی کے اکتوبر کے بعد کے دعوؤں کی کچھ حقیقت تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ "ان میں کسی حد تک صداقت تھی، ہوم ورک بھی تھا اور عدلیہ بھی اس میں شامل تھی۔
    وزیر دفاع نے یہ بھی ذکر کیا کہ ملک میں اب ماحول بہتر ہوگیا ہے اور استحکام کی فضا قائم ہو گئی ہے۔ انہوں نے حکومت کی کوششوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ "اب حکومت کی کوشش ہوگی کہ اپنی کارکردگی دکھائے۔خواجہ آصف نے ایک واقعے کا ذکر کیا جب بیرسٹر گوہر کو قانون سازی سے پہلے ایوان میں بات کرنے کا موقع دیا گیا تھا، لیکن ان کی اپنی پارٹی کے لوگوں نے انہیں بات نہیں کرنے دیا۔ اس پر انہوں نے افسوس کا اظہار کیا۔فوجی سربراہوں کی مدت ملازمت میں توسیع کے بارے میں بات کرتے ہوئے، وزیر دفاع نے وضاحت کی کہ یہ اقدام کسی فرد واحد کے لیے نہیں بلکہ ادارے کے مفاد میں کیا گیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں خواجہ آصف نے کہا کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی صدر بننے کی صورت میں یہاں کوئی تبدیلی آئے گی تو یہ اس کی سوچ ہی ہے، کیونکہ "خواب دیکھنے پر کوئی پابندی نہیں۔یہ بیان اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ حکومت آئینی مسائل کے حوالے سے اپنی پوزیشن کو مستحکم کرنے کے لیے کوشاں ہے اور ملک کی پارلیمانی جمہوریت کی اہمیت کو اجاگر کر رہی ہے۔

  • علی رضا سید کا شہدائے جموں کو خراج عقیدت

    علی رضا سید کا شہدائے جموں کو خراج عقیدت

    برسلز: چیئرمین کشمیر کونسل ای یو، علی رضا سید نے یورپی ہیڈکوارٹر برسلز میں شہدائے جموں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ جموں کے شہداء نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے قربانی کی عظیم مثال قائم کی اور پورے خطہ جموں و کشمیر میں جذبہ حریت کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری شہداء کی قربانیاں آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والے کشمیریوں کے لیے مشعل راہ ہیں، اور یہ جدوجہد 1947 سے آج تک جاری ہے۔یورپ میں کشمیر کونسل کے مرکزی سیکرٹریٹ میں ہونے والے اجلاس میں علی رضا سید کے علاوہ چوہدری خالد جوشی، راؤ مستجاب احمد اور سردار صدیق سمیت دیگر شخصیات نے بھی شرکت کی۔ مقررین نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی سخت مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ کشمیری اسیروں کو فوری رہا کیا جائے اور بھارتی فوجیں جموں و کشمیر سے انخلا کریں۔
    علی رضا سید نے اپنے خطاب میں کہا کہ جموں کے شہداء سے لے کر آج تک تمام کشمیری شہداء نے اپنے خون سے تحریک آزادی کی آبیاری کی ہے اور ان کی قربانیاں کشمیریوں کے حوصلے کو مزید مضبوط کر رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی مظالم سے کشمیریوں کے جذبہ حریت کو ختم نہیں کیا جا سکتا اور کشمیر کی تحریک آزادی کی تاریخ شہداء کے خون سے لکھی گئی ہے، جسے منطقی انجام تک پہنچانا ہمارا عزم ہے۔چیئرمین کشمیر کونسل ای یو نے عالمی برادری، اقوام متحدہ اور یورپی یونین سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کا نوٹس لیں اور مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے لیے مؤثر کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہم بھارتی مظالم کو عالمی فورمز پر اجاگر کرتے رہیں گے اور مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کو انصاف دلانے کی کوششیں جاری رکھیں گے۔

  • محسن نقوی کا فرنٹیئر کانسٹیبلری کے شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت

    محسن نقوی کا فرنٹیئر کانسٹیبلری کے شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ڈیرہ اسماعیل خان میں خوارجی دہشتگردوں کی فائرنگ سے فرنٹیئر کانسٹیبلری کے شہید ہونے والے دو اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے شہید سپاہی شیر الرحمن اور شہید سپاہی سید امین کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان جوانوں نے اپنی جانیں دے کر دہشتگردوں کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا ہے۔محسن نقوی نے شہداء کے خاندانوں کے ساتھ دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ان خاندانوں کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔ انہوں نے زخمی سپاہیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کرتے ہوئے یقین دلایا کہ ان کے علاج معالجے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے گی۔وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ فرنٹیئر کانسٹیبلری کے بہادر جوانوں کی قربانیاں ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔ ان کی بہادری اور قربانیوں پر قوم کو ناز ہے، اور حکومت ان کی خدمات کا بھرپور اعتراف کرتی ہے۔

  • پی این ایس ذوالفقار کا جبوتی کا دورہ: بحری تعاون میں اضافہ

    پی این ایس ذوالفقار کا جبوتی کا دورہ: بحری تعاون میں اضافہ

    پاکستان نیوی کے جہاز پی این ایس ذوالفقار نے ریجنل میری ٹائم سیکیورٹی پٹرول کے دوران جبوتی کا دورہ کیا ہے، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان بحری تعاون کو فروغ دینا ہے۔ یہ دورہ پاکستان اور جبوتی کی بحری افواج کے درمیان دوطرفہ روابط کو مزید مستحکم کرنے کی ایک اہم کڑی ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق، پی این ایس ذوالفقار کی جبوتی کی بندرگاہ پر آمد پر مقامی بحریہ کے حکام نے ان کا شاندار استقبال کیا۔ بندرگاہ پر پاک بحریہ کے جہاز کی موجودگی نے جبوتی کی بحریہ اور دیگر مقامی حکام کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا موقع فراہم کیا۔
    دورے کے دوران، کمانڈنگ آفیسر پی این ایس ذوالفقار نے جبوتی کی بحریہ کے کمانڈر اور کوسٹ گارڈز کے ساتھ اہم ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں پیشہ ورانہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، جس میں دونوں ممالک کی بحری افواج کی آپریشنل صلاحیتوں میں بہتری کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔آئی ایس پی آر کے مطابق، دورے کے اختتام پر جبوتی کوسٹ گارڈز کے ساتھ مشترکہ بحری مشق کا بھی انعقاد کیا گیا۔ اس مشق کا مقصد مشترکہ آپریشنز کی صلاحیت کو مزید بہتر بنانا اور باہمی تعاون کو فروغ دینا تھا۔ اس طرح کی مشقیں دونوں ممالک کی بحری افواج کے درمیان ہم آہنگی کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
    ملاقاتوں اور مشق کے علاوہ، مختلف ممالک کے سفیروں، دفاعی اتاشی، جبوتی کی اعلیٰ سول و عسکری قیادت، اور مقامی و پاکستانی کمیونٹی کے افراد نے بھی جہاز کا دورہ کیا۔ یہ دورہ نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید فروغ دے گا بلکہ یہ پاکستانی بحریہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا بھی مظہر ہے۔آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ اس دورے سے پاکستان اور جبوتی کے درمیان دوستانہ تعلقات میں مزید اضافہ ہوگا، اور دونوں ممالک کی بحری افواج کے درمیان تعاون کی نئی راہیں ہموار ہوں گی۔

  • فواد چوہدری کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کیس کی سماعت کل ہوگی

    فواد چوہدری کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کیس کی سماعت کل ہوگی

    اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کے خلاف توہین الیکشن کمیشن اور توہین چیف الیکشن کمشنر کے کیسز میں نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ یہ کیس دو سال سے زیر التوا ہیں اور ان کی سماعت کل صبح 10 بجے الیکشن کمیشن کے ممبر نثار درانی کریں گے۔ فواد چوہدری پر توہین الیکشن کمیشن کیس میں فرد جرم عائد کی جا چکی ہے۔ فواد چوہدری نے اپنے خلاف مقدمے میں اوپن ٹرائل کی درخواست دی ہے، جس کا مقصد شفافیت کو یقینی بنانا اور عوامی سطح پر اپنی بے گناہی ثابت کرنا ہے۔ یہ کیس اس وقت شروع ہوا جب فواد چوہدری نے الیکشن کمیشن کے فیصلوں اور چیف الیکشن کمشنر کی توہین کی تھی، جس کے بعد الیکشن کمیشن نے ان کے خلاف کارروائی شروع کی۔ اس دوران، فواد چوہدری کی وکالت میں بھی کچھ قانونی نکات اٹھائے گئے، جن میں ان کا یہ کہنا شامل تھا کہ انہیں ان کے حقوق سے محروم نہیں کیا جانا چاہئے۔
    سماعت کے دوران، الیکشن کمیشن کے ممبر نثار درانی فواد چوہدری کے وکلا اور دیگر فریقین کی جانب سے پیش کردہ دلائل کو سنیں گے۔ یہ کیس ملکی سیاست میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس کے نتائج نہ صرف فواد چوہدری کی سیاسی حیثیت بلکہ پاکستان کی سیاسی فضا پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔فواد چوہدری کے اس کیس کا عوامی اور سیاسی حلقوں میں خاصا چرچا ہے، اور اس کے ممکنہ نتائج کے حوالے سے مختلف تبصرے جاری ہیں۔ عوامی دلچسپی کی بناء پر کل ہونے والی سماعت کی رپورٹس پر میڈیا اور سوشل میڈیا پر خاص توجہ دی جائے گی۔اس کیس کی سماعت کے بعد دیکھنا یہ ہوگا کہ الیکشن کمیشن کس طرح کی کارروائی عمل میں لاتا ہے اور فواد چوہدری کے مستقبل کی سیاسی سرگرمیاں اس کے نتیجے میں کس طرح متاثر ہوتی ہیں۔

  • جمیعت علمائے اسلام (ف) کا حکومت کی قانون سازی پر سخت ردعمل

    جمیعت علمائے اسلام (ف) کا حکومت کی قانون سازی پر سخت ردعمل

    جمیعت علمائے اسلام (ف) کے ترجمان اسلم غوری نے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور پاکستان مسلم لیگ ن (مسلم لیگ ن) کی حالیہ قانون سازی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے غیر جمہوری قرار دیا ہے۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اسلم غوری نے "جعلی مینڈیٹ والی اسمبلی” کی جانب سے پاس کیے گئے قوانین کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمان اور جے یو آئی (ف) اس قانون سازی کو قبول نہیں کرتے۔اسلم غوری نے کہا کہ اسمبلی کی حالیہ قانون سازی عوامی خواہشات کی نمائندگی نہیں کرتی۔ انہوں نے کہا، "ہم اور مولانا فضل الرحمان اس اسمبلی کے پاس کردہ قوانین کو مسترد کرتے ہیں۔” انہوں نے مزید بتایا کہ مولانا فضل الرحمان نے بانی پی ٹی آئی کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا ہے اور ان کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک کی مذمت کی ہے۔
    ترجمان نے حکومت کی حالیہ کارروائیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ "حکومت نے جمہوریت پر شب خون مارا ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے حکومت کی اپنی مدت اور اختیارات کو طول دینے کی کوشش ہیں۔اسلم غوری نے کہا کہ جے یو آئی (ف) دوسری اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت کے فیصلوں کو چیلنج کرنے کے لیے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر جدوجہد کرے گی۔ "ہم دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر پارلیمنٹ اور پارلیمان سے باہر اپنے حقوق کی جنگ لڑیں گے۔جب ان سے پی ٹی آئی اور جے یو آئی (ف) کے ممکنہ تعاون کے بارے میں پوچھا گیا تو غوری نے موجودہ سیاسی صورتحال کو "پہلے سے مختلف” قرار دیتے ہوئے کہا، "آج جو حالات بنے ہیں، وہ پہلے کبھی نہیں تھے۔”
    چھبسیویں ترمیم کے بعد بننے والے آئینی بینچ پر سوال کے جواب میں غوری نے مذاکرات میں دی جانے والی کچھ رعایتوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا، "جب مذاکرات کرتے ہیں تو کچھ لو اور کچھ دو کی پالیسی ہوتی ہے۔” انہوں نے بتایا کہ فوجی عدالتوں سمیت بہت سے نکات اصل مسودے سے نکلوائے گئے تھے، تاہم حکومت نے اب کچھ شقوں کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کیا ہے۔ بانی پی ٹی آئی کی ممکنہ رہائی کے بارے میں سوال پر اسلم غوری نے کہا، "اگر میرٹ پر ان کی رہائی بنتی ہے تو ضرور ملنی چاہیے۔ مقدمات پر مقدمات نہیں بننے چاہیئں۔” یہ بیان جے یو آئی (ف) کے موقف کو واضح کرتا ہے کہ وہ قانونی کارروائیوں میں انصاف کو یقینی بنانے اور سیاسی بنیادوں پر کیے جانے والے مقدمات کی مخالفت کے حق میں ہیں۔سیاسی کشیدگی کے بڑھتے ہوئے حالات میں، جمیعت علمائے اسلام (ف) حکومت کی حالیہ قانون سازی کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کر رہی ہے، جس سے پاکستان میں نمائندگی اور جوابدہی کی سیاست میں مزید مشکلات کا سامنا متوقع ہے۔