خدیجہ شاہ کو 7 روز کے ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیاگیا۔ کوئٹہ میں انسداد دہشت گردی عدالت نے خدیجہ شاہ کو مزید 7 روز کے ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔ خدیجہ شاہ کو پولیس نے 3 روز کا ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد عدالت میں پیش کیا۔ پولیس نے عدالت سے خدیجہ شاہ کے 14 روز کے ریمانڈ کی استدعا کی تھی۔اے ٹی سی میں خدیجہ شاہ کے کیس کی پیروی اقبال شاہ ایڈووکیٹ نے کی۔پولیس کے مطابق خدیجہ شاہ 9 مئی کے واقعات میں پی ٹی آئی کارکنوں کو اشتعال دلانے کے مقدمے میں نامزد ہیں۔ خدیجہ شاہ کو گزشتہ منگل کو لاہور سے حراست میں لےکر کوئٹہ منتقل کیا گیا تھا۔
Author: صدف ابرار
-

حکومت کا کرسمس کے موقع پر سرکاری ملازمین کو تنخواہ ایڈوانس میں ادا کرنے کا فیصلہ
کرسمس کےموقع پر مسیحی برادری کے سرکاری ملازمین کیلئے اچھی خبر ہےحکومت نے کرسمس کے موقع پر مسیحی برادری کے سرکاری ملازمین کی دسمبر کی تنخواہ اور پنشن ایڈوانس میں ادا کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ حکومت نے مسیحی برادری کے سرکاری ملازمین کی دسمبر کی تنخواہ اور پنشن ایڈوانس میں ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔وزارت خزانہ نےایڈوانس تنخواہ جاری کرنے کا مراسلہ جاری کردیا ہے، جس کے مطابق مسیحی برادری کے وفاقی ملازمین کو 20 دسمبر کو تنخواہ اور پنشن ادا کردی جائے گی۔ واضح رہے کہ ملک بھر میں مسیحی برادری 25 دسمبر کو کرسمس کا تہوار مذہبی جوش و عقیدت سے منائے گی۔
-

چائے کے قیمتوں میں کمی کر دی گئی
چائے کے عالمی دن پر چائے کے شوقین افراد کے لئے اچھی خبر ،ملک بھر کے یوٹیلیٹی سٹورز پر چائے کی پتی کی قیمتوں میں بھی کمی کردی گئی ہے۔ یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کی جانب سے قیمتوں میں کمی کے نوٹیفکیشن کے مطابق لیپٹن اور سپریم چائے کی قیمتوں میں 60 سے 110 روپے تک کمی کی گئی۔لیپٹن 800 گرام پیک کی قیمت 2195 سے کم ہو کر 2085 روپے، 430 گرام پیک 1197 کی بجائے 1137 کا ہوگیا، سپریم چائے 900گرام پیک 1792سے کم ہو کر 1732 روپے کا ہوگیا ہے۔
ترجمان یوٹیلٹی سٹور کے مطابق معروف برانڈز کے گھی کی قیمت میں 17 روپے فی کلو جبکہ کوکنگ آئل کی قیمتوں میں 37 روپے فی لیٹر سے 48 روپے فی لیٹر تک کی کمی کی گئی ہے۔گھی 499 روپے کی بجائے 482 روپے فی کلو دستیاب ہوگا جبکہ برانڈڈ کوکنگ آئل 470 سے 422 روپے فی لیٹر جبکہ دوسرا برانڈڈ کوکنگ آئل 555 کی بجائے 518 روپے فی لیٹر میں فراہم کیا جائے گا ۔ -

پی ٹی آئی کبھی ملک کے حالات بہتر نہیں ہونے دیتی،مریم اورنگزیب
مسلم لیگ ن بھر پور طریقے سے الیکشن کرانے کے لئے تیار ہے ، سابق وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ ہمارا موقف بڑا سادہ ہے کہ 8 فروری کو الیکشن ہونے چاہئیں، پی ٹی آئی نے رخنہ ڈالنے کی کوشش کی۔ مریم اورنگزیب نے کہا کہ جب سب کچھ ٹھیک چل رہا ہوتا ہے تو پی ٹی آئی رخنہ ڈال دیتی ہے، جو پی ٹی آئی کی پرانی عادت ہے 8 فروری کو الیکشن ہونا ہے اسے ہونے دیں۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ پی ٹی آئی نے لاہور ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کر کے انتخابات کے انعقاد میں رخنہ ڈال دیا، باہر ہم پر الیکشن روکنے کا الزام لگاتے ہیں اور پٹیشن انہوں نے دائر کی۔انہوں نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کا لارجر بینچ بن گیا ہے، اسی لیے ہم لاہور ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کریں گے۔
-

سول سرونٹس ملکی مشینری کا اہم حصہ ہیں جس کے بغیر ملک آگے بڑھ سکتا ہے،صدر مملکت
سرکاری افسران عوام کی خدمت کرنے میں کوئی کمی نہ چھوڑے، ٹیم ورک کی بدولت ہم کسی کام کو بہتر طور پر انجام دے سکتے ہیں،ہم نے جمہوریت کیلئے بہت جدو جہد کی ہے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے سول سروسز اکیڈمی میں 46ویں سپیشلائزڈ ٹریننگ پروگرام کے تحت تربیت مکمل کرنے والے پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے 46افسران میں ایوارڈ زو اسناد تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سول سروسز اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل فرحان عزیز خواجہ بھی موجود تھے تربیت مکمل کرنے والوں میں پنجاب، سندھ اور بلوچستان سمیت تمام صوبوں کے افسران شامل تھے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ ایڈمنسٹریٹو افسران کو انسانیت کی خدمت کر نا سکھایا جا تا ہے، ایڈمنسٹرٹیو افسران کو شیروانی میں دیکھ کر خوشی ہو ئی،
آپ خودکو منظم کریں اور خوشی کا کوئی لمحہ ہاتھ سے نہ جانے دیں،آپ خوش ہوں گے توآپ کاخاندان بھی خوش ہو گا ۔ انہوں نے تربیت مکمل کرنے والے افسران کیلئے نیک خواہشات کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ وہ لوگوں کیلئے آسانیاں پیدا کریں، آج کا دن تربیت مکمل کرنے والے افسران کیلئے ایک عظیم دن کی حیثیت رکھتا ہے، جو انہیں پوری زندگی یاد رہے گا۔ صدر مملکت نے سرکاری افسران پر زور دیا کہ وہ اپنے اپنے شعبوں میں عوام کی خدمت کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں ،عوامی فلاح و بہبود اور انہیںریلیف کی فراہمی کیلئے عوام دوست پالیسیاں تشکیل دیں تا کہ عام آدمی کے مسائل فوری حل ہو سکیں، آپ سول سرونٹس ہونے کے ناطے معاشرے کی بہتر اصلاح اور ملک و قوم کی ترقی کیلئے ہمہ وقت کوشاں رہیں کیونکہ عوام کی امیدیں آپ سے وابستہ ہیں۔ -

رات کے اندھیرے میں اگر آرڈیننس جاری ہوسکتا ہے تو الیکشن کا شیڈول کیوں نہیں، فیصل کریم کنڈی
پیپلزپارٹی نے لاہورہائیکورٹ کے الیکشن کے حوالے سے فیصلے پر تحفظات کا اظہارکر کے کہا کہ پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی رہنما کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس کہہ چکے ہیں 8 فروری کو الیکشن پتھر پر لکیر ہے، رات کے اندھیرے میں اگر آرڈیننس جاری ہوسکتا ہے تو الیکشن کا شیڈول جاری کیوں نہیں ہوسکتا۔ کہ الیکشن کمیشن نے سولہ دسمبر کو الیکشن شیڈول کا اعلان کرنا تھا، کیا خلائی مخلوق یہ کردارادا کرے گی۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ نے آرآوز اور ڈی آر اوز کیلئے بیورو کریسی کی تعیناتی پر تحفظات کا اظہار کیا، اب کیا الیکشن کمیشن کا کردار بھی سپریم کورٹ کو ادا کرنا پڑے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ ن لیگ اورپی ٹی آئی ایک پیج پر ہیں۔ یہ دونوں پارٹیاں الیکشن سے کیوں بھاگنا چاہتی ہیں۔ پی ٹی آئی اور ن لیگ آئیں ملکر بیٹھتے ہیں عوام کو فیصلہ کرنے دیں۔انھوں نے کہا کہ جیسے بھی حالات ہوں لیونگ پلیئنگ فیلڈ ہو یا نہ ہو پیپلزپارٹی وقت پر الیکشن چاہتی ہے، ہم الیکشن ملتوی ہونے کو کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں پرویزخٹک کے کہنے پر ٹرانسفر اور پوسٹنگ ہوئی ہیں، باقی صوبوں میں ن لیگ کے کہنے پر ہوئی ہیں۔پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد کا نام لیے بغیر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ وہ پہلے کہتے تھے مجھے کیوں نکالا، اب کہہ رہے ہیں مجھے کیوں بلایا۔ -

پشاور ہائیکورٹ: انتخابات عدلیہ کی نگرانی میں کرانے کے لئے دائر درخواست پر سماعت
پشاور ہائیکورٹ میں انتخابات عدلیہ کی نگرانی میں کرانے کے لئے دائر درخواست پر سماعت ہوئی ، عدالت نے کہا کہ یہ قومی ایشو ہے, آپ ضمنی درخواست جمع کریں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ انتہائی اہم ایشو ہے ہم کسی کو الیکشن میں تاخیر کی اجازت نہیں دینگے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کا جو تاریخ مقرر ہے اس سے ایک دن زیادہ یا کم نہ کرے ۔ پی ٹی آئی وکلاء نے ضمنی درخواست کے لئے مہلت مانگ لی۔ عدالت نے کہا کہ آپ ضمنی درخواست جمع کریں پھر اس کو سنے گے۔
انتخابات عدلیہ کی نگرانی میں کرانے کے لئے دائر درخواست پر سماعت چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس محمد ابراہیم خان اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل دو رکنی خصوصی بنچ نے کی، ایڈوکیٹ جنرل, ایڈیشنل اٹارنی جنرل, وکیل الیکشن کمیشن اور درخواست گزار وکیل عدالت میں پیش ہوئے، ایڈوکیٹ جنرل عامر جاوید نے کہا کہ اس درخواست میں نوٹفیکیشن کو چیلنج ہی نہیں کیا گیا۔ جب یہ درخواست دائر ہوئی تواس وقت آراوز اور ڈی آر اوز کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا۔ چیف جسٹس محمدابراہیم خان نے کہا کہ لاھور ہائیکورٹ نے تو الیکشن کمیشن کا نوٹیفکیشن معطل کیا ہے۔ وکیل درخواست گزار معظم بٹ نے کہا کہ جی لاھور ہائیکورٹ نے آر اوز اور ڈی آر اوز کا الیکشن کمیشن کا نوٹیفکیشن معطل کیا ہے۔ چیف جسٹس محمد ابراہیم خان نے کہا کہ اس وقت انتظامیہ کاکوئی اور کام نہیں ہے صرف تھری ایم پی اوز کے آرڈرز جاری کررہی ہے۔ اس وقت صوبے میں 700 سے زائد تھری ایم پی اوز کے آرڈر جاری کئے گئے ہیں۔کیا ایسے حالات میں ایسی انتظامیہ کے تحت صاف اور شفاف الیکشن مکمن ہے۔ چیف جسٹس محمد ابراہیم خان نے کہا کہ کیا ایسی صورتحال میں یہ افسران اپنے فرائض انجام دے سکتے ہیں۔ ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ صوبائی حکومت کے پاس ڈیٹا موجود ہے کہ ایک ہی پارٹی ہے جو بغیر اجازت کے جلسے کررہی ہے, اور حلف نامہ نہیں دے رہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جب ایسا موسم آتا ہے تو پھر تھری ایم پی اوز کے آرڈر جاری کئے جاتے ہیں۔ الیکشن قوم کی امانت ہے۔ وکیل الیکشن کمیشن محسن کامران نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس اختیار ہے جو خلاف ورزی کرتے ہیں ان کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے۔ چیف جسٹس محمد ابراہیم خان نے کہا کہ اب تک کتنے افسران کے خلاف کارروائی کی اور سزا دی ہے۔ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ خلاف ورزی کرنے والے متعدد افراد کے خلاف کارروائی ہوئی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہر کوئی یہ چاہتا ہے کہ الیکشن صاف اور شفاف ہوں۔ عدالت نے کہا کہ آپ ایسا کریں اس درخواست میں ترمیم کرلیں۔ آپ نے پہلے درخواست دائر کیا نوٹیفکیشن کو چیلنج نہیں کیا آپ اس کو چیلنج کرلیں پھر اس کو سنے گے۔ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ جی میں ضمنی درخواست جمع کرتا ہوں, اس کو پھر جلد سماعت کے لئے مقرر کیا جائے۔ عدالت نے کہا کہ یہ قومی ایشو ہے, آپ ضمنی درخواست جمع کریں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ انتہائی اہم ایشو ہے ہم کسی کو الیکشن میں تاخیر کی اجازت نہیں دینگے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کا جو تاریخ مقرر ہے اس سے نہ ایک دن زیادہ یا کم کریں گے۔ پی ٹی آئی وکلاء نے ضمنی درخواست کے لئے مہلت مانگ لی۔ عدالت نے کہا کہ آپ ضمنی درخواست جمع کریں پھر اس کو سنے گے۔ -

الیکشن 8 فروری 2024 کو ہونے کے حوالے سے سپریم کورٹ کا کیا فیصلہ آیا تھا؟
سپریم کورٹ آف پاکستان (ایس سی پی) نے 8 فروری 2024ء کو عام انتخابات کرانے سے متعلق 3 نومبر کا حکم نامہ جاری کیا تھا۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ انتخابات کا معاملہ تمام فریقین کی رضامندی سے حل ہوچکا ہے، 3 نومبر کے فیصلے میں 8 فروری کو عام انتخابات کی تاریخ پر اتفاق ہوا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے میں یہ بھی کہا تھا گیا کہ عام انتخابات کی تاریخ کا نوٹیفکیشن بھی جاری ہو چکا ہے جبکہ 8 فروری کو الیکشن پر کسی فریق کو اعتراض بھی نہیں ہے۔الیکشن کمیشن کے فیصلے میں کہا گیا تھا کہ آئین سے انحراف کا کوئی آپشن کسی آئینی ادارے کے پاس موجود نہیں، آئین کو بنے 50 سال گزر چکے اب کوئی ادارہ آئین سے لاعلم ہونے کا نہیں کہہ سکتا۔
عدالت عظمیٰ نے فیصلے میں مزید کہا کہ عوام کو منتخب نمائندوں سے دور نہیں رکھا جاسکتا، وفاقی حکومت 8 فروری 2024ء کو انتخابات کا انعقاد یقینی بنائے۔ عدالتی فیصے میں کہا گیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں یقینی بنائیں کہ انتخابات کا عمل 8 فروری کو بغیر رکاوٹ مکمل ہو، انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہونے کے بعد پتھر پر لکیر ہوگی۔ -

جسٹس طارق مسعود قائم مقام چیف جسٹس آف پاکستان مقرر
جسٹس سردار طارق مسعود کا کل سے قائم مقام چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالے گے ، چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسٰی آئندہ ہفتے سے موسم سرما کی تعطیلات میں بیرون ملک جائیں گے،جسٹس سردار طارق مسعود کل قائم مقام چیف جسٹس پاکستان کا حلف اٹھائیں گے۔ جسٹس سردار طارق مسعود دو ہفتوں تک قائم مقام چیف جسٹس کی ذمہ داریاں سر انجام دیں گے۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسی 2 ہفتے کے چھٹی پر جا رہے ہے تاہم ان کے جانے کے بعد جسٹس سردار طارق مسعود انکے فر ائض انجام دے گے، جسکا نوٹیفکشن وزارت قانون و انصاف نے جاری کر دیا ،
-

ڈی آر اوز کی تعیناتی کو جواز بنا کر ایلکشن ملتوی کرانا ناقابل قبول ہے، پی ٹی آئی چئیر مین
ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسرز (ڈی آر اوز) کی تعیناتی کوئی جواز نہیں کہ الیکشن کمیشن انتخابات کو ملتوی کرے۔ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو لکھ دیا کہ کنونشن کیلئے این او سی اور لیول پلیئنگ فیلڈ فراہم کرے۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بانی چیئرمین کے خلاف عدت کے دوران نکاح کا جعلی کیس بنایا گیا، بانی چیئرمین کی فیملی پر الزام لگا کر ان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سائفر کیس میں بھی عدالت سے ریلیف مل جائے گا، امید ہے سائفر کیس میں ضمانت ہو جائے گی۔
پی ٹی آئی چیئرمین نے یہ بھی کہا کہ آئندہ انتخابات میں کسی کے ساتھ اتحاد کی کوئی گنجائش نہیں۔ پی ٹی آئی چیئرمین نے یہ بھی کہا کہ آئندہ انتخابات میں کسی کے ساتھ اتحاد کی کوئی گنجائش نہیں۔
