Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • عوام جاننا چاہتی ہیں  کہ 2018 میں ن لیگ نے الیکشن کیوں نہیں جیتا،نواز شریف

    عوام جاننا چاہتی ہیں کہ 2018 میں ن لیگ نے الیکشن کیوں نہیں جیتا،نواز شریف

    2018ء میں سب کا یہی خیال تھا کہ الیکشن ہوئے تو (ن) لیگ دوبارہ الیکشن جیتے گی،لیکن سارا کچھ دوبارہ اپ ڈاؤن ہو گیا، کیوں ہوگیا، قوم جاننا چاہتی ہے ملک کےساتھ ایسا کیوں ہوا، 2017ء میں ہماری حکومت میں مزدور، کسان خوش تھے، پاکستان بڑی تیزی سے ترقی کر رہا تھا، ملک میں موٹرویز بن رہی تھیں، جب ہم نے اقتدارسنبھالا تو 18، 18 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہو رہی تھی،لیکن ہم نے دن رات ایک کر کے لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کر دیا ۔لاہور میں مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی بورڈ کے ملتان ڈویژن سے ٹکٹ امیدواروں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے قائد کا کہنا تھا کہ ہم نے دہشت گردی اور بے روزگاری کا خاتمہ کیا تھا، سی پیک بڑی تیزیسے اپنی کامیابی کی طرف گامزن تھی ا اور ملک میں موٹرویز بن رہی تھی، ہمارے دور میں بجلی اور گیس کی کوئی کمی نہیں تھی، ہم نے پاکستان کو خوشحالی کی ڈگر پر ڈالا تھا، مخالفین حسد کررہے تھے کہ 2018 کے شفاف الیکشن ہوئے تو ن لیگ جیتے گی، قوم جاننا چاہتی ہے ترقی کا سفر رکا کیوں۔ملک بہت پیچھے چلا گیا، اللہ ہمارے ملک کی حفاظت فرمائے، دنیا بہت آگے چلی گئی اور ہم پیچھے رہ گئے، پاکستان بہت قربانیوں کے بعد حاصل کیا گیا ہے، پاکستان وہ مقام حاصل نہیں کرسکتا جس کے لیے حاصل کیا گیا تھا۔ سابق وزیراعظم نے مزید کہا کہ جنہوں نے رابطہ توڑوایا ان کا بھی شکریہ کہ انہوں نے نہ جانے ایسا کام کیوں کیا؟ ہم نے اپنے ملک کے ساتھ خوڈ بڑی زیادتی کی ہے، شاید اس غلطی کے ازالے کا وقت آرہا ہے، ملک کو اسی جگہ پر لے جانا چاہیئے جس کا وہ مستحق ہے۔
    نواز شریف نے کہا کہ اس ملک کو دنیا میں منفرد مقام حاصل کرنا تھا، 1967 میں مجھے میرے والد نے غیر ملکی دوروں پر بھجوایا، اس زمانے میں لوگوں میں کام کرنے کا جذبہ تھا، 2017 میں ہماری حکومت اچھی جارہی تھی، لوگ خوش تھے، ہمارے دورمیں بجلی اور گیس کی کوئی کمی نہیں تھی۔انہوں نے کہا کہ پارٹی کوشش کرے گی کہ میرٹ پر تمام فیصلے ہوں، ازالہ چاہتے ہیں تو اپنی ذات سے باہر نکلنا ہوگا، ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیئے، ملک نے بہت برداشت کیا ہے، قوم پریشانی کے عالم میں ہے، پریشانی کی حالت سے باہر نکالنا ہے اور عبادت سمجھ کر قوم کی خدمت کرنی ہے، خوشحال پاکستان بہت ہی ضروری ہے، ترقی و خوشحالی کی طرف چلتا معاشرہ ہو تو سب خوش ہوتے ہیں۔

  • جماعت اسلامی کا مئیر کراچی کے خلاف عدم اعتماد کا فیصلہ

    جماعت اسلامی کا مئیر کراچی کے خلاف عدم اعتماد کا فیصلہ

    سٹی کونسل کے اجلاس کو چلانے کی پوری کوشش کی لیکن پیپلز پارٹی کا قبضہ مئیر کا رویہ قوم کے سامنے ہے۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم نے کہا کہ کراچی کو پسماندہ رکھا جا رہا ہے، کراچی کے عوام پر مزید ظلم برداشت نہیں کر سکتے، کراچی کی میئر شپ ان شا اللہ عوام کے حقیقی نمائندے کو ملے گی اور عوام کی مشکلات کا ازالہ کریں گے۔
    حافظ نعیم نے کہا کہ ’کے الیکٹرک ’ کراچی کے عوام کی دشمن ہے، بجلی کے بلوں میں میونسپل ٹیکس جمع کرنا کراچی کے عوام سے دشمنی کا منہ بولتا ثبوت ہے ہم عوام پر مزید ظلم برداشت نہیں کریں گے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومتی قرارداد میونسپل کارپوریشن کے ووٹ کے بغیر اکثریت سے منظور کی گئی، فاشزم اور بنیاد پرست سوچ جاری نہیں رہ سکتی۔ان شا اللہ عدم اعتماد کا ووٹ میئر کراچی کو گھر بھیج دے گا اور آئندہ میئر کراچی جماعت اسلامی سے ہو گا۔

  • کرکٹ کا کھیل پوری قوم کو متحد کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے.انوارلحق کاکڑ

    کرکٹ کا کھیل پوری قوم کو متحد کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے.انوارلحق کاکڑ

    نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ سے پی سی بی منیجمنٹ کمیٹی کے سربراہ ذکا اشرف نے ملاقات کی ہے ملاقات میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے انتظامی امور کے حوالے سے آگاہ کیا۔پی سی بی منیجمنٹ کمیٹی کے سربراہ ذکا اشرف نے پی ایس ایل، چیمپئنز ٹرافی کے انعقاد سمیت دیگر امور پر بات چیت سمیت وزیراعظم کو قومی کرکٹ ٹیم کی حالیہ پرفارمنس سے بھی آگاہ کیا، نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کی زیر صدارت پاکستان کرکٹ بورڈ کے امور کے حوالے سے اہم اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ پی سی بی مینجمنٹ کمیٹی کے سربراہ ذکاء اشرف نے وزیراعظم کو پاکستان کرکٹ بورڈ کے انتظامی امور سے آگاہ کیا۔ اجلاس کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ کرکٹ کا کھیل پوری قوم کو متحد کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے جس سے قومی جذبہ ابھرتا ہے۔ صرف ٹیم ورک کی بدولت ہی پاکستان کرکٹ ٹیم متحد ہوکر ہر میدان میں کامیابی حاصل کر سکتی ہے۔ وزیراعظم نے تاکید کرتے ہوئے کہا کہ پی سی بی میں ٹرینرز، سپورٹ اسٹاف اور دیگر عہدیداران کی تعیناتی کرتے ہوئے ملکی مفاد اور وقار کا خیال رکھا جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ کھلاڑیوں کو اچھی کوچنگ کے ساتھ ساتھ بہترین تربیت بھی کی جائے تاکہ وہ ہر سطح پر ملک و قوم کی بہتر نمائندگی کرسکیں۔

    وزیراعظم نے کرکٹ بورڈ مینجمنٹ کمیٹی کے انتخابات بطریق احسن کروانے کی بھی ہدایت کی اور کہا کہ کرکٹ کو ملک کے دور دراز علاقوں میں بھی فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اندرون سندھ، بلوچستان، جنوبی پنجاب، گلگت بلتستان، کے پی کے نئے ضم شدہ اضلاع، آزاد جموں و کشمیر وغیرہ میں کرکٹ کا بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے جس کو قومی سطح پر نمائندگی کا موقع دینے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ کوئٹہ کے بگٹی اسٹیڈیم اور پشاور کے ارباب نیاز اسٹیڈیم کی بحالی کا کام فوری شروع کیا جائے تاکہ یہاں قومی اور بین الاقوامی کرکٹ میچز کا انعقاد کیا جاسکے۔ گوادر کے کرکٹ اسٹیڈیم اور گلگت بلتستان کے علاقے نگر میں موجود پسن اسٹیڈیم کو کرکٹ میچوں کے انعقاد کے قابل بنایا جاسکتا ہے۔ ا وزیر اعظم نے کرکٹ بورڈ کو ضلع نگر کے پسن اسٹیڈیم کا فوری سروے کرانے کی ہدایت بھی کی۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ موجودہ کرکٹ اسٹیڈیمز کی جدید خطوط پر بحالی کیلئے ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کیا جائے۔
    علاوہ ازیں وزیراعظم نے ہدایت کی کہ جدید سہولیات سے آراستہ نئے کرکٹ اسٹیڈیمز اور ان کے ساتھ بین الاقوامی معیار کے ہوٹلز اور شاپنگ ایریاز کے قیام کیلئے لائحہ عمل تیار کیا جائے تاکہ سیاحت کو بھی فروغ دیا جاسکے۔ وزیراعظم نے کرکٹ کی ترقی کیلئے اسلام آباد میں چار کرکٹ گراؤنڈز کو سی ڈی اے سے لے کر پاکستان کرکٹ بورڈ کی سرپرستی میں دینے کی ہدایت بھی کی۔ پاکستان سپر لیگ کے حوالے سے وزیراعظم نے لیگ کے میچز کا انعقاد ملک بھرمیں کرانے کیلئے جامع حکمت عملی بنانے کی ہدایت کی۔ پاکستان کو کرکٹ کے میدان میں دوست ممالک کے ساتھ ہر ممکن تعاون کے فروغ کیلئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اجلاس کو پاکستان کرکٹ بورڈ کے حکام کی جانب سے بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستان سپر لیگ کا انعقاد فروری 2024ء میں ہوگا۔ لیگ کے میچز کراچی، لاہور، راولپنڈی اور ملتان میں منعقد ہوں گے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستان کرکٹ چیمپئنز ٹرافی کی میزبانی کرے گا۔ اجلاس کو پاکستان میں خواتین کی کرکٹ کے فروغ کیلئے اٹھائے جا رہے اقدامات سے بھی آگاہ کیا گیا۔ اجلاس میں نگران وفاقی وزیر برائے نجکاری فواد حسن فواد، پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر سلمان نصیر، چیف سلیکٹر وہاب ریاض، ڈائریکٹر قومی کرکٹ ٹیم محمد حفیظ، بولنگ کوچ عمر گل اور سعید اجمل نے بذریعہ وڈیو لنک آسٹریلیا سے شرکت کی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے الیکشن کے حوالے سے بھی مشاورت کی گئی۔نگران وزیراعظم نے کرکٹ بارے بریفنگ پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ملک میں کرکٹ کی بہتری کیلئے ذکا اشرف کو مزید اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ پاکستان میں کرکٹ کی بہتری چاہتے ہیں، کرکٹ ڈپلومیسی سے سفارتی تعلقات میں بہتری لائی جا سکتی ہے، حکومت پی ایس ایل کے شاندار انعقاد کیلئے ہر ممکن سہولیات فراہم کرے گی۔

  • نگران حکومت صوبے کے عوام کے فلاح وبہبود کے لئے پر عزم ہے،نگران وزیر اعلی کے پی کے

    نگران حکومت صوبے کے عوام کے فلاح وبہبود کے لئے پر عزم ہے،نگران وزیر اعلی کے پی کے

    نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا جسٹس ریٹائرڈ سید ارشد حسین شاہ نے کہا ہے کہ نگران صوبائی حکومت اپنی مختصر مدت میں صوبے کے لوگوں کی فلاح و بہبود کے لئے پر عزم ہے اور اس مقصد کے لئے بہت جلد خوشحال خیبرپختونخوا کے نام سے ایک پروگرام کا اجراء کردیا جائے گا جس کے تحت صوبے کے مالی مسائل کو ٹھیک کرنے، امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے، بہتر طرز حکمرانی کو یقینی بنانے، نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے، عوامی خدمات کے نظام کو عوامی توقعات کے مطابق بنانے اور لوگوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ قلیل المدتی اقدامات پر فی الفور عملدرآمد کیا جائے گ.ا جبکہ طویل المدتی اقدامات آنے والی منتخب حکومت کے لئے تجویز کئے جائیں گے۔ اس طرح آنے والی حکومت کے لئے ایک روڈ میپ فراہم کیا جائے گا تاکہ وہ عوامی فلاح و بہبود کے اقدامات کا تسلسل جاری رکھ سکے۔ ان خیالات کا اظہاروزیر اعلیٰ نگران کابینہ کے 17 ویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا جس میں نگران صوبائی کا بینہ کے اراکین،چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ، متعلقہ انتظامی سیکرٹریوں اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے خوشحال خیبر پختونخوا پروگرام کی تیاری میں چیف سیکرٹری اور انتظامی سیکرٹریوں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ چیف سیکرٹری اور ان کی ٹیم نے مختصر وقت میں ایک بہت ہی اچھا اور قابل عمل پروگرام تیار کیا ہے، جس پر عملدرآمد کرکے صوبے کے عوام کی بہتر انداز میں خدمت ہوگی۔

    انہوں نے تمام متعلقہ حکام پر زور دیا کہ وہ اس پروگرام پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں اور صوبے کے عوام کی بھلائی کے کام میں اپنا حصہ ڈالیں، یہ اللہ کی مخلوق کی بھلائی کا کام ہے جس کا اجر اللہ دنیا اور آخرت میں دے گا۔ جسٹس ریٹائرڈ سید ارشد حسین شاہ نے کہا کہ اگرچہ ہمارے پاس تھوڑا وقت ہے لیکن ہم ایک اچھی شروعات کی بنیاد رکھ رہے ہیں اور اگر نیت اور جذبہ نیک ہو تو ہم تھوڑے سے وقت میں بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ خوشحال پختونخوا پروگرام کی چیدہ چیدہ خصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امن و امان اور مالی صورتحال کی بہتری اس پروگرام کے ایجنڈے میں سرفہرست ہے، اس کے علاوہ گورننس کو بہتر بنانے اور عوامی خدمات کی فراہمی کے نظام کو بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دی جائے گی جبکہ نوجوانوں کو بیرون ملک روزگار حاصل کرنے کے قابل بنانے کے لئے انٹرنیشنل مارکیٹ کی ڈیمانڈز کے مطابق آئی ٹی بیسڈ کورسز کرائے جائیں گے تاکہ وہ بین الاقوامی مارکیٹ میں اپنی جگہ بنا سکیں اور اپنے لئے روزگار کے مواقع پیدا کر سکیں۔

    نگران وزیر اعلی نے مزید کہا کہ اس پروگرام کے تحت اگلے ایک سال میں پانچ لاکھ تک نوجوانوں کو روزگار کے لئے بیرون ملک بھیجا جائے گا۔صوبائی کابینہ نے مالی سال 2023-24کے دوران سکول جانے والے بچوں میں پیٹ کے کیڑوں کے خاتمے کیلئے نان اے ڈی پی کے تحت 218.7 ملین روپے لاگت پر مشتمل سکیم کی منظوری دی اور ساتھ ہی یہ بھی ہدایت کی کہ آئندہ کیلئے جب بھی امدادی ایجنسیوں کی مدد سے اس طرح کا کوئی پروگرام بنایا جائے تو اس میں صوبائی حکومت پرمستقبل میں پڑنے والے بوجھ کا اندازہ بھی لگایا جائے۔ اس موقع پر صوبائی کابینہ نے فارسٹ ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے مینجنگ ڈائریکٹر کی خالی اسامی کو پر کرنے کے لئے احسان اللہ (پی سی ایس ای جی بی ایس-20) کی تعیناتی کی منظوری دی۔ تاہم اس حوالے سے اعلامیے کا اجراء الیکشن کمیشن آف پاکستان کی این او سی سے مشروط ہو گا۔کابینہ نے تحصیل شرینگل ضلع دیر اپر میں جوڈیشل کمپلیکس کی تعمیر کے لئے 4 کنال سرکاری اراضی اس شرط کے ساتھ عدلیہ کو منتقل کرنے کی منظوری دے دی کہ اس کے ساتھ ریونیو عدالتیں بھی بنائی جائیں گی تاکہ عوام کو ایک ہی جگہ سہولتیں میسر ہوں۔

    کابینہ نے یہ بھی ہدایت کی کہ آئندہ کے لئے جس جگہ بھی جوڈیشل عدالتیں بنائی جائیں وہاں پر ریونیو اور انتظامی عدالتوں کی عمارتیں بھی بنائی جائیں تاکہ عوام اور وکلاء کو مختلف عدالتوں میں جانے میں آسانی ہو۔ صوبائی حکومت نے محکمہ مواصلات و تعمیرات کے تحت سرکاری عمارات اور دفاتر کی مرمت اور بحالی پر عائد پابندی ہٹانے کی منظوری بھی دی۔اجلاس میں مالاکنڈ لیویز کو پولیس میں شامل کرنے کے معاملے پر مختلف رپورٹس کا جائزہ لیا گیا۔چونکہ یہ معاملہ قانون سازی کے ذریعے حل ہو سکتا ہے اور اس میں بہت سے پیچیدہ اور دور رس قانونی،سیاسی اورمالی امور شامل ہیں اسی لیئے اس کا فیصلہ آئندہ آنے والی منتخب حکومت تک موخر کر دینے کا فیصلہ کیا گیا۔

  • سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے گرفتاری کے خلاف درخواست جمع کر دی

    سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے گرفتاری کے خلاف درخواست جمع کر دی

    سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی تھری ایم پی او کے تحت گرفتاری کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی گئی۔عدالت عالیہ پشاور میں اسد قیصر کی گرفتاری کو چیلنج کیا گیا اور کہا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ نے سابق اسپیکر قومی اسمبلی کو کسی مقدمے میں گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا تھا۔
    درخواست میں عدالت عالیہ پشاور سے استدعا کی گئی کہ اسد قیصر کی تھری ایم پی او کے تحت گرفتاری معطل کی جائے۔درخواست میں ڈی پی او اور ڈی سی صوابی، صوبائی حکومت اور آئی جی خیبرپختونخوا کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ ایک میں مقدمے میں رہائی ملتے ہی دوسرے مقدمے میں گرفتار کرلیا جاتا ہے، اسد قیصر کو انتخابی مہم چلانے سے روکنے کےلیے تھری ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا۔دو روز قبل سابق سپیکر قومی اسمبلی کو 9 مئی واقعات میں جب ضمانت ملی تو صوابی کے ڈی سی کی جانب سے تھری ایم پی او کے حکم پر گرفتار کیا۔اسد قیصر نے سنکدر حیات شاہ ایڈووکیٹ کی توسط سے تھری ایم پی او کے تحت گرفتاری پشاور ہائیکورٹ میں چینلج کی ہے۔

  • آئی سی سی نے انڈر 19 ورلڈ کپ 2024 کے شیڈول کا اعلان کر دیا۔

    آئی سی سی نے انڈر 19 ورلڈ کپ 2024 کے شیڈول کا اعلان کر دیا۔

    انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے انڈر 19 ورلڈ کپ 2024 کے شیڈول کا اعلان کر دیا۔ جنوبی افریقہ کے پانچ مقامات ایونٹ کے 15ویں ایڈیشن میں جنوری اور فروری میں تین ہفتوں سے زائد عرصے کے دوران کل 41 میچوں کی میزبانی کریں گے۔ گزشتہ ماہ، آئی سی سی نے 2024 میں مردوں کے انڈر 19 کرکٹ ورلڈ کپ کے 15 ویں ایڈیشن کے لیے ایک نئے میزبان ملک کا اعلان کیا تھا۔ آئی سی سی بورڈ کی جانب سے سری لنکا کو بطور میزبان تبدیل کرنے کی تصدیق کے بعد ایونٹ جنوبی افریقہ میں ہوگا۔سری لنکا کرکٹ (SLC) کو بطور رکن اپنی ذمہ داریوں کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے آئی سی سی کی جانب سے معطلی کا سامنا کرنا پڑا، خاص طور پر حکومتی مداخلت کے بغیر اپنے آپریشنز کو آزادانہ طور پر منظم کرنے میں ناکامی پر۔
    ہر گروپ سے ٹاپ تین ٹیمیں بینونی میں سیمی فائنل اور فائنل سے قبل ایونٹ کے سپر سکس مرحلے کے لیے کوالیفائی کریں گی۔
    آئی سی سی انڈر 19 مینز کرکٹ ورلڈ کپ گروپس:
    گروپ اے: بھارت، بنگلہ دیش، آئرلینڈ، امریکہ
    گروپ بی: انگلینڈ، جنوبی افریقہ، ویسٹ انڈیز، سکاٹ لینڈ
    گروپ سی: آسٹریلیا، سری لنکا، زمبابوے، نمیبیا
    گروپ ڈی: افغانستان، پاکستان، نیوزی لینڈ، نیپال

  • پی ایس ایل 9 کا عارضی شیڈول سامنے آگیا

    پی ایس ایل 9 کا عارضی شیڈول سامنے آگیا

    پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) سیزن نائن کا عارضی شیڈول سامنے آ گیا، توقع ہے کہ مکمل شیڈول کا اعلان 13 دسمبر کو لاہور میں نیشنل کرکٹ اکیڈمی (این سی اے) میں ڈرافٹ کے دوران کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق پی سی بی ان میچوں کی میزبانی کراچی، لاہور، ملتان اور راولپنڈی میں کرانے کے حق میں ہے۔ٹیمیں 12 فروری کو جمع ہونا شروع ہوں گی جہاں وہ چار دن پریکٹس سیشنز اور میچوں میں حصہ لیں گی۔ایونٹ کا آغاز 17 فروری سے لاہور میں ہوگا جس کے افتتاحی میچ میں دفاعی چیمپئن لاہور قلندرز کا مقابلہ اسلام آباد یونائیٹڈ سے ہوگا۔ ملتان سلطانز اور کراچی کنگز 18 فروری کو ملتان میں کھیلیں گی۔ دریں اثناء کراچی میں پہلا میچ کراچی کنگز اور اسلام آباد یونائیٹڈ کے درمیان 28 فروری کو کرانے کی سفارش کی گئی ہے۔ راولپنڈی میں میچز یکم مارچ سے یونائیٹڈ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے ساتھ شروع ہوں گے۔ ایونٹ کے دوران چھ ڈبل ہیڈرز بھی کھیلے جائیں گے۔
    کراچی میں 11، لاہور اور راولپنڈی میں 9 اور ملتان میں 5 میچ کھیلے جائیں گے۔تین پلے آف میچز اور فائنل کراچی میں ہوگا، فائنل 17 مارچ کو شیڈول ہے۔گزشتہ ہفتے، کرکٹ باڈی نے جمعرات کو تمام چھ فرنچائزز کے ذریعے برقرار رکھے گئے تمام کھلاڑیوں کی فہرست جاری کی تھی جہاں ان کی فرنچائزز نے بہت سے بڑے اور اہم نام نہیں رکھے تھے۔دفاعی چیمپئن لاہور قلندرز نے اپنے کپتان شاہین آفریدی کو پلاٹینم کیٹیگری میں برقرار رکھا۔ اسلام آباد یونائیٹڈ نے اپنے ٹاپ ٹریڈ نسیم شاہ کے ساتھ اپنے کپتان شاداب خان کو کامیابی سے برقرار رکھا۔پی سی بی نے ایک پریس ریلیز میں کہا، "تمام ٹریڈز اور ریٹینشنز کو حتمی شکل دینے کے بعد، ملتان سلطانز کے پاس اب پلاٹینم کیٹیگری کے پہلے راؤنڈ میں پہلا انتخاب ہوگا، جس کے بعد ملتان اور کوئٹہ نے افتخار احمد اور ریلی روسو کو ان کے درمیان ٹریڈ کیا”۔نسیم شاہ کے اسلام آباد یونائیٹڈ میں جانے سے ان کے پہلے راؤنڈ کے پلاٹینم پک کا کوئٹہ گلیڈی ایٹر کے تیسرے راؤنڈ کے پلاٹینم پک سے تبادلہ ہوا۔شان مسعود کے کراچی کنگز میں جانے کے بعد، ان کے پہلے راؤنڈ کی سلور پک کا تبادلہ ملتان سلطان کے چوتھے راؤنڈ کے سلور پک سے ہوا۔ عماد وسیم کے اسلام آباد یونائیٹڈ میں جانے کی وجہ سے، اسلام آباد کے پہلے راؤنڈ کی سلور پک کا تبادلہ کراچی کے دوسرے راؤنڈ کی سلور پک سے ہوا ہے۔ مزید برآں، کراچی کنگز اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو پلاٹینم کیٹیگری میں ایک مقامی کھلاڑی کا انتخاب کرنا ہوگا۔

  • محمد حفیظ پرتھ ٹیسٹ سے قبل آسٹریلیا کی حکمت عملی سے مایوس

    محمد حفیظ پرتھ ٹیسٹ سے قبل آسٹریلیا کی حکمت عملی سے مایوس

    پاکستان ٹیم کے ڈائریکٹر محمد حفیظ نے پرتھ میں 14 دسمبر سے شروع ہونے والی تین میچوں کی ٹیسٹ سیریز کی تیاریوں کے دوران میزبان آسٹریلیا کی جانب سے استعمال کیے جانے والے ہتھکنڈوں پر حیرت اور مایوسی کا اظہار کیا ہے۔آسٹریلوی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حفیظ نے پریکٹس میچ کے لیے فراہم کی گئی پچ کی نوعیت پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے اسے آسٹریلیا میں مہمان ٹیم کے طور پر اب تک کی سب سے سست رفتار قرار دیا۔
    محمد حفیظ نے کہا سچ پوچھیں تو ہم ایک ٹیم کے طور پر زیادہ تر باکسز پر ٹک کرتے ہیں لیکن ظاہر ہے کہ کینبرا میں پریکٹس میچ کے لیے ہمیں ملنے والی پچ سے واقعی حیرت اور مایوسی ہوئی ہے۔ یہ سب سے سست پچ تھی جس پر ہم آسٹریلیا میں بطور مہمان ٹیم کھیل سکتے ہیں۔ ایک ٹیم جس کی تیاریوں سے ہم بہت خوش ہیں، زیادہ تر باکسز پر ٹک ہو چکے ہیں اور ہم اپنے سامنے آنے والے دلچسپ چیلنج کے لیے بالکل تیار ہیں، انہوں نے کہا جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا انہوں نے انتظامات کے حوالے سے کرکٹ آسٹریلیا کے ساتھ معاملہ اٹھایا تو حفیظ نے جواب دیا، "یہ سب جانتے تھے، بار بار اسے دہرانے کا کوئی فائدہ نہیں، مایوسی واقعی بہت زیادہ تھی کیونکہ ہمیں اس قسم کے انتظامات کی توقع نہیں تھی لیکن یہ ان کی حکمت عملی ہو سکتی ہے لیکن ہم اس کے لیے تیار ہیں،‘انہوں نے مزید کہا کہ ہم یہاں آسٹریلیا کو شکست دینے کے لیے آئے ہیں نہ کہ صرف مقابلہ کرنے کے لیے۔ دریں اثناء آسٹریلیا کے کوچ اینڈریو میکڈونلڈ نے کہا ہے کہ پاکستان کم اچھال والی سطحوں پر مشق کر رہا تھا، خاص طور پر کینبرا میں، اور وہ امید کرتا ہے کہ پرتھ کی ایک اچھال والی پچ پر ان کو بے نقاب کر کے اس ممکنہ کمزوری سے فائدہ اٹھایا جائے گا۔

  • مخصوص جماعتوں کی طرف سے الیکشن میں تاخیر کرنے کے لئے حربے استعمال کیئے جا رہے ہے،فیصل کریم کنڈی

    مخصوص جماعتوں کی طرف سے الیکشن میں تاخیر کرنے کے لئے حربے استعمال کیئے جا رہے ہے،فیصل کریم کنڈی

    مخصوص جماعتیں الیکشن میں تاخیر کی باتیں کر رہی تھیں تو ہم نے الیکشن کی تاخیر اور الیکشن شیڈول پر ای سی پی سے بات کی، ہماری ٹرانسفرز، پوسٹنگ اور ترقیاتی کاموں کے حوالے سے شکایات بھی تھیں۔ پیپلز پارٹی کے ترجمان نے یہ بھی کہا کہ جس کو بھی عوام مینڈیٹ دیں گے ہم اس پارٹی کو سپورٹ کریں گے، لیول پلیئگ فیلڈ میں صرف الیکشن کمیشن نہیں، صوبائی حکومتیں بھی آتی ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ہمیں مثبت جواب دیا ہے، سوشل میڈیا پر الیکشن مہم نہ چلانے دینےکا خدشہ بھی ای سی پی کے سامنے رکھا ہے۔ الیکشن کے لئے پیپلز پارٹی کی تیاریاں مکمل ہے چند لوگوں کے خاطر الیکش میں تاخیر کروانا عوام سے ناانصافی ہی ہو گی، عوام کو اپنا لیڈر منتخب کرے کا پورا حق ہے اسلئے وہ جن کو چاہے ایلیکٹ کر سکتی ہے ،

  • عمران خان کی جانب سے تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات کا فیصلہ افسوسناک تھا،بلاول بھٹو

    عمران خان کی جانب سے تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات کا فیصلہ افسوسناک تھا،بلاول بھٹو

    افسوس کے ساتھ ایک ایسا فیصلہ لیا گیا جس کا پورے قوم کو افسوس ہے ، بلاول نگراں وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ یہ بہت اچھا اقدام ہے جو سرفراز بگٹی نے لیا ہے، شہداء اور سیاستدان جو دہشت گردی کا شکار ہوئے ان کے پورٹریٹ لگائے گئے، جدوجہد کے نتیجے میں پاکستان میں امن قائم ہوا۔بلاول بھٹو نے کہا کہ دہشت گردی کو ملک سے ختم کردیا گیا تھا، سابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے ان کو پاکستان واپس آنے کا موقع دیا، بدقسمتی سے دہشت گردی کو دوبارہ دعوت دینے کا فیصلہ لیا گیا۔چیئرمین پیپلز پارٹی کا مزید کہنا تھا کہ پارلیمان اور عوام سے پوچھے بغیر دہشت گردوں کو انگیج کیا گیا، دہشت گردوں کو جیلوں سے نکالا گیا، جو پاکستان میں دہشت گردی کرتے رہے چالباز نے انہیں رہا کردیا، سنگین واقعات میں ملوث دہشت گردوں کو افغانستان سے واپس بلایا گیا، راتوں رات ایسا یو ٹرن لیا گیا جس کے اثرات پاکستان کے عوام بھگت رہے ہیں۔ کہ پارلیمان اور پاکستان کے عوام سے پوچھے بغیر کہ جن دہشگردوں کو ہمارے فوج نے جدوجہد کر کے ہروایا ، انکو پاکستان کے جیل سے نکالا ،جو افغانستان کے جیلوں میں اور پاکستانی قبائیلی علاقوں میں موجود تھے جو اس ملک کو تباہ و برباد کرنا چاہ رہے تھے عمران خان نے ان لوگوں کو لا کر ایک ساتھ بٹھانے کی کوشش کی ،اور آج پاکستان ایک بار پھر دہشت گردی جیسے لعنت کا سامنا کر رہی ہے،یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک مسلسل جدوجہد کے صورت میں اس دہشتگردی کو واپس لایا جائے، یہ کیسے ممکن ہے کہ اب ایک بار پھر اس ملک کو اس ازیت سے گزرنا پڑے گا ، عمران خان کی حکومت کو ایس اکسی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے سوچنا چاہئے تھا ،