Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • اسرائیل کو جنگی جرائم کے لیے جوابدہ ہونا چاہیے،اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر

    اسرائیل کو جنگی جرائم کے لیے جوابدہ ہونا چاہیے،اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر

    غزہ میں فلسطینی عوام اور شہری انفراسٹرکچر پر اسرائیل کے بے دریغ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے، پاکستان نے اسرائیلی قابض افواج کو محصور علاقے میں جنگی جرائم کے لیے جوابدہ ٹھہرانے کا مطالبہ کیا ہے۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے قائم مقام نمائندے محمد عثمان اقبال جدون نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم اسرائیل کی جانب سے طاقت کے اندھا دھند استعمال کی شدید اور غیر واضح الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔انسانی امداد پر ایک مباحثے میں خطاب کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ شہریوں کو نشانہ بنانے کے علاوہ، اسرائیل کے دیگر اقدامات جیسے ضروری انسانی امداد کی روک تھام مقبوضہ علاقے میں لوگوں کی جبری بے گھری "بین الاقوامی انسانی قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں ہیں اور یہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے مترادف ہیں اور نسل کشی کے جرم کے مترادف ہو سکتے ہیں”۔
    دریں اثنا، نیویارک شہر میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر سے تھوڑی ہی دوری پر، ہزاروں فلسطینی حامی مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے جس کا بل "وال اسٹریٹ بند کرو” کے طور پر پیش کیا گیا تھا، بالکل اسی طرح جیسے امریکہ نے اقوام متحدہ میں ایک قرارداد کو ویٹو کر دیا تھا۔ سلامتی کونسل نے اسرائیل اور حماس تنازعہ میں انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔مظاہرین نے لوئر مین ہٹن میں سٹی ہال اور وال سٹریٹ سمیت شہر کے متعدد نمایاں مقامات کے سامنے ریلی نکالی، "آزاد فلسطین” کے نعرے لگاتے ہوئے، امریکہ کی طرف سے اسرائیل کی مالی معاونت ختم کرنے کا مطالبہ کیا اور امریکی ویٹو کی مذمت کی۔فلسطینی پرچم لہراتے ہوئے مظاہرین نے بائیڈن انتظامیہ کی مشرق وسطیٰ پالیسی کی مذمت کی اور فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔جنرل اسمبلی میں پاکستانی ایلچی نے اسرائیل کے ہاتھوں اقوام متحدہ کی ایجنسیوں اور اداروں کے عملے، انسانی ہمدردی کے کام کرنے والے کارکنوں اور صحت کی دیکھ بھال کرنے والے کارکنوں کے قتل اور زخمی ہونے پر بھی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے پہلے اس کے اتنے بہادر اہلکار اتنے مختصر عرصے میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں.امریکہ کی جانب سے غزہ جنگ بندی کال کو روکنے کے بعد اسرائیل نے خان یونس میں مزید انخلاء کا حکم دیا ہے۔سفیر جدون نے مزید کہا کہ "یہ ہماری اجتماعی مذمت اور اسرائیلی قابض افواج کو جوابدہ ٹھہرانے کے اجتماعی مطالبے کا مستحق ہے۔”

    ایک اور کارروائی میں، 193-اسمبلی نے ایک قرارداد منظور کی، جسے بیلجیئم نے متعارف کرایا، جس میں ایک پائیدار جنگ بندی معاہدے کی ضرورت پر زور دیا گیا جس سے غزہ میں فلسطینی عوام کے حالات زندگی میں بنیادی بہتری آئے اور شہریوں کی حفاظت اور بہبود کو یقینی بنایا جائے۔ متن میں سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر مکمل عمل درآمد کے ذریعے غزہ کے بحران کے پائیدار حل تک پہنچنے کی فوری ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے۔ عام بحث کے دوران خطاب کرتے ہوئے، فلسطینی ریاست کے ایک مبصر، فدا عبدالہادی-ناصر نے کہا کہ ان کی پوری قوم کو تباہی کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کی پٹی میں انسانی مصائب کی ناقابل تصور ہولناکیوں اور اس کی شدت کو بیان کرنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں۔ یہ صرف نمبر نہیں ہیں، بلکہ نام، خاندان، کہانیاں اور خواب والے لوگ ہیں۔” فلسطینی سفارت کار نے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ دنیا کے اجتماعی ضمیر کو داغدار کر رہا ہے۔موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والی آفات کی طرف رجوع کرتے ہوئے، پاکستانی ایلچی نے کہا، "ہم موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے افراتفری کی طرف جا رہے ہیں”۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس طرح کی آفات سے غیر متناسب طور پر متاثر ہوتا ہے۔سفیر جدون نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی ہمدردی کے امور نے گزشتہ سال تباہ کن سیلاب کے بعد پاکستان کی بحالی کے منصوبے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔پاکستانی ایلچی نے کہا کہ بے مثال عالمی انسانی چیلنجز کی بنیادی وجوہات کو حل کرنے کے لیے سیاسی عزم کی ضرورت ہوتی ہے، چاہے وہ تنازعات سے ہوں یا موسمیاتی تبدیلی ،مزید، انہوں نے کہا، مقبوضہ علاقوں سمیت بین الاقوامی انسانی قانون اور جنیوا کنونشنز کی خلاف ورزی کے لیے زیرو ٹالرنس کی اجازت ہونی چاہیے۔
    بین الاقوامی برادری کو اسباب کو حل کرتے ہوئے یکجہتی اور بوجھ بانٹنے کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ کثیر جہتی غربت، انسانی بحران پر غور کیا جانا چاہیے تاکہ سب کی بھلائی کو یقینی بنایا جا سکے۔سفیر جدون نے کہا کہ "گھڑی ٹک رہی ہے اور اب کام کرنے کا وقت ہے۔”

  • پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہان کا انسانی حقوق  کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام جاری کئے ہے

    پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہان کا انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام جاری کئے ہے

    انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں آصف زرداری کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ انسانی حقوق کے چارٹر پر سختی سے عمل کرائے، غزہ میں اسرائیلی فوج انسانی حقوق کو پامال کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کو مودی حکومت نے دنیا کی سب سے بڑی جیل بنا دیا ہے، جنگی جنون اور شدت پسندی انسانی حقوق سے انحراف کی علامت ہیں، اقوام متحدہ دنیا میں انسانی حقوق کے احترام کو یقینی بنانے میں اپنا کردارادا کرے۔
    چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ مقبوضہ کشمیر اور فلسطین میں مسلسل جاری انسانی حقوق کی سنگین پامالی عالمی امن کیلئے خطرہ اور انسانیت کی توہین ہے۔انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو مقبوضہ کشمیر اور غزہ میں جاری جارحیت کا بلاتاخیر نوٹس لینا ہوگا، پاکستان پیپلز پارٹی اپنے بانی چیئرمین شہید بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے ویژن کے مطابق انسانی حقوق کیلئے جدوجہد کرتی رکھے گی۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھاکہ ہم نے ملک میں انسانی حقوق پر کام کرنے کیلئے پارٹی کا انسانی حقوق سیل قائم کیا ہے۔

  • زبیدہ جلال نے 190 پاؤنڈ کیس میں گواہی کی تیاری کر دی،ندیم افضل چن نے انکار کر دیا

    زبیدہ جلال نے 190 پاؤنڈ کیس میں گواہی کی تیاری کر دی،ندیم افضل چن نے انکار کر دیا

    190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل کی تحقیقات میں پی ٹی آئی دور کی وفاقی وزیر زبیدہ جلال بھی گواہ بن گئیں۔ نیب کو ریکارڈ کرائے گئے بیان میں زبیدہ جلال نے کہا کہ بحیثیت کابینہ رکن 190 ملین پاؤنڈ کی تحقیقات کا مطالبہ کیا، لیکن اصرار کے باوجود بانی پی ٹی آئی نے بطور وزیر اعظم کسی کی ایک نہ سنی۔ زبیدہ جلال نے نیب ٹیم کو بتایا کہ کابینہ ارکان 190 ملین پاؤنڈ کو پاکستان کا اثاثہ سمجھتے تھے تاہم ارکان کے تحفظات کے باوجود 190 ملین پاؤنڈ کے معاملے کو خفیہ رکھنے کی منظوری دی گئی۔
    دوسری جانب ندیم افضل چن نے کسی قسم گواہی دینے سے انکار کر دیا سابق وفاقی وزیر ندیم افضل چن کا کہنا ہے کہ میں عمران خان کے خلاف ہواہی نہیں دوں گا، اگر کسی نے مجھے عدالت میں بلاکر یہ کہا کہ گواہی دو تو میں ہرگز ایسا نہیں کروں گا۔تحریک انصاف کابینہ کا حصہ رہنے والے سابق وزیر ندیم افضل چن نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے نیب نے 2 نوٹسز بھیجے اور طلب کیا، جس پر میں نیب آفس گیا، وہاں مجھ سے القادر ٹرسٹ کیس کے حوالے سے سوال کئے گئے میں وہ بتادیا جو کابینہ میں ہوا تھا۔

  • ہمارا مقابلہ سیاستدانوں سے نہیں بلکہ مہنگائی بھوک اور بے روزگاری سے ہیں،بلاول بھٹو

    ہمارا مقابلہ سیاستدانوں سے نہیں بلکہ مہنگائی بھوک اور بے روزگاری سے ہیں،بلاول بھٹو

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیر مین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم عوام کے لئے الیکشن لڑ رہے ہے ہمارا اپنا کوئی مفاد نہیں جبکہ باقی لوگ کوئی اپنے کیسز معاف کروا رہا ہے تو کوئی جیل سے رہائی کے لئے الیکش لڑنا چاہ رہا ہے،بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم الیکش لڑ کر بینظیر مزدور متعارف کرائے گے.پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کوہاٹ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ،ہم عوام پر یقین رکھتے ہیں،ہمارا مقابلہ سیاستدانوں سے نہیں بلکہ مہنگائی بھوک اور بے روزگاری سے ہیں اور میں خواد عوام کے مسائل کے حل کے لئے الیکشن لڑ رہا ہوں ،ہم روایتی سیاست کو دفن کر کے خدمت کے سیاست کرے گے، بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کہا گیا کہ خیبر پختون خوا میں سیکیورٹی معاملات ٹھیک نہیں یہاں دہشت گرد پھر رہے ہیں۔ لیکن مین آج اپنے عوام سے بپھر بھی ملنے آیا ہوں کیونکہ مجھے محترمہ بینظیر کا خواب سچ کرانا ہے اور ہر قسم کے حالات میں اپنے عوام کے ساتھ کھڑی رہی، انہوں نے کہا کہ کہا گیا کہ فیصلہ تو ہو گیا ہے خیبر پختون خوا میں تو کسی اور کو وزیرِ اعلیٰ بنانا ہے، میں نے کہا کہ جیالے ڈرنے والے نہیں، وہ پی پی کے ساتھ کھڑے ہیں، بلاول نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اور نواز شریف نے 18ویں ترمیم پر عمل درآمد نہیں کیا جن کو وہ آج خود بھگت رہے ہے،

  • آئی پی پی آور مسلم لیگ ن کی سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی فہرست تیار

    آئی پی پی آور مسلم لیگ ن کی سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی فہرست تیار

    استحکام پاکستان پارٹی قومی اسمبلی کی 20 نشستوں پر سیٹ ایڈ جسٹمنٹ کی فہرست مسلم لیگ ن کے حوالے کرے گی ، استحکام پاکستان پارٹی کی کمیٹی نے مسلم لیگ ن سے سیٹ ایڈ جسٹمنٹ کے لئے حلقوں اور امیدواروں کی فہرست تیار کر لی، ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی پی پی کی قیادت آج رات تک سیٹ ایڈجسٹمنٹ والی فہرست مسلم لیگ ن کی قائم کردہ کمیٹی کے حوالے کر دے گی، قومی اسمبلی کے 19 حلقے پنجاب اور ایک کا تعلق کراچی سے ہے۔ذرائع کے مطابق اسحاق خاکوانی، عون چودھری اور نعمان لنگڑیال پر مشتمل آئی پی پی کمیٹی نے قیادت اور پارٹی رہنماؤں کی مشاورت سے فہرست مرتب کی ہے۔
    ذرائع کے مطابق آئی پی پی پنجاب اسمبلی کے 44 حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی خواہش مند ہے، مسلم لیگ ن قومی اسمبلی کے جن حلقوں سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ سے معذرت کرے گی ان حلقوں میں صوبائی سیٹ پر ایڈجسٹمنٹ کی ڈیمانڈ کی جائے گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ استحکام پاکستان پارٹی کے گزشتہ روز اجلاس میں مسلم لیگ ن کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے فیصلے کی توثیق کر دی گئی تھی۔

  • خضدار :محکمہ انسداد دہشت گردی  کی گاڑی پر  دھماکہ ، ایس ایچ او سی ٹی ڈی شہید

    خضدار :محکمہ انسداد دہشت گردی کی گاڑی پر دھماکہ ، ایس ایچ او سی ٹی ڈی شہید

    سلطان ابراہیم خان روڈ پر دھماکا ہوا ، جس کی زد میں آکر ایس ایچ او سی ٹی ڈی شہید اور 2 افراد زخمی ہوگئے۔ایس ایچ او سی ٹی ڈی کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔ جس کے نتیجہ میں ایس ایچ اومحمد مراد شہید ہوگئے۔پولیس حکام کے مطابق بلوچستان کے ضلع خضدار کے علاقے سلطان ابراہیم خان روڈ پر دھماکا ہوا، جس میں ایس ایچ او سی ٹی ڈی شہید،اور 2 راہگیر زخمی ہوگئے۔پولیس حکام کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور ریسکیو کی ٹیمیں وقوعہ پر پہنچ گئیں اور لاش اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کردیا۔ جب کہ علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔

  • الیکش کمیشن  کے حوالے سے سوشل میڈیا پر چلنے والی خبریں بے بنیاد ہے

    الیکش کمیشن کے حوالے سے سوشل میڈیا پر چلنے والی خبریں بے بنیاد ہے

    الیکشن کمیشن کے انتخابات کے حوالے سے سوشل میڈیا پر چلنے والی خبریں بے بنیاد ہے ،اس بعد کی تردید الیکش کمیش کی جانب کیا گیا ہے،
    واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر کچھ خبریں زیر گردش تھی جس میں الیکش شیڈول کو کچھ اس طرح بیان کیا گیا تھا ،
    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے عام انتخابات کا شیڈول جاری کر دیا، ملک بھر میں انتخابات 8 فروری 2024 کو منعقد ہوں گے۔ اعلامیہ کے مطابق 20 سے 25 دسمبر تک امیدوار کاغذات نامزدگی جمع کراسکیں گے، امیدواروں کے ناموں کی فہرست 27 دسمبر کو جاری کی جائیگے، یکم جنوری سے 6 جنوری 2024 تک کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال ہوگی،جبکہ 9 جنوری 2024 کو کاغذات کی منظوری اور مسترد ہونے پر اپیلوں کی سماعت ہوگی الیکش کمیش کے اعلامیے کے مطابق 11 جنوری 2024 کو اپیلوں پر اپیلٹ اتھارٹی کے فیصلوں کا آخری روز ہوگا ، جبکہ 15 جنوری 2024 کو امیدواروں کی نظرثانی فہرست جاری کی جائے گی اعلامیے کے مطابق 16 جنوری 2024 کو کاغذات نامزدگی واپس لینے کی آخری تاریخ ہوگی، 17 جنوری 2024 کو امیدواروں کو انتخابی نشان الاٹ ہوں گے۔ جبکہ پولنگ ڈے 8 فروری 2024 بروز جمعرات کو ہوگی

  • ملکی معیشت کو تباہ کرنے میں عمران خان کا ہاتھ تھا،پرویز خٹک

    ملکی معیشت کو تباہ کرنے میں عمران خان کا ہاتھ تھا،پرویز خٹک

    عمران خان نے تبدیلی کے نام پر عوام کو دھوکہ دیا ، سابق وزیردفاع پرویز خٹک کا کہنا ہے کہ اسمبلی توڑنے کا فیصلہ عمران خان کا تھا جو غلط تھا، یہ اقدام پی ٹی آئی کے تباہی ثابت ہوا۔ نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے پی ٹی آئی پی کے سربراہ اور سابق وزیردفاع پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ 2018 سے 2023 کے سال ملک کے لئے تباہی کے سال رہے ، پاکستان میں افراتفری کےباعث سرمایہ کاری نہیں ہوئی، امید ہے اگلا برس سیاسی طور پر بہترین سال ثابت ہوگا۔پرویزخٹک کا کہنا تھا کہ سیاستدان آپس میں جو مرضی کریں لیکن ملک کو نہ نقصان پہنچائیں،ملک کو بیچ کے نہ کھائے عوام کا سوچیں ان کا آپس میں بیٹھنا ملک کے فائدے میں ہے، 2024 میں انتخابات ہوں گے تمام جماعتوں کی تیاریاں جاری ہیں، حکومت اور سیاسی جماعتیں شفاف انتخابات کی طرف جائیں انتشار نہ پھیلائیں۔سابق وزیردفاع نے کہا کہ اسمبلی توڑنا غلط فیصلہ تھا، جمہوریت میں اسمبلیاں نہیں توڑی جاتی، اسمبلی توڑنے کا فیصلہ سابق چیئرمین پی ٹی آئی کا تھا، جو پی ٹی آئی کے لئے تباہی ثابت ہوئی۔پرویزخٹک کا کہنا تھا کہ سابق چیئرمین پی ٹی آئی نے مجھے اسمبلی توڑنے کا کہا تھا، اور میں اس کے بجائے استعفیٰ دینے کا مشورہ دیا تھا۔

  • اے ایف سی اور پی ایف ایف کا 12 دسمبر کو ہونے والا اجلاس ملتوی

    اے ایف سی اور پی ایف ایف کا 12 دسمبر کو ہونے والا اجلاس ملتوی

    پاکستانی حکومت، فیفا، ایشین فٹ بال کنفیڈریشن (اے ایف سی) اور پاکستان فٹ بال فیڈریشن (پی ایف ایف) نارملائزیشن کمیٹی کے درمیان ہونے والا اجلاس جو 12 دسمبر کو دبئی میں ہونا تھا، حیران کن طور پر ملتوی کر دیا گیا ہے۔ پی ایف ایف این سی نے پاکستان اسپورٹس بورڈ (پی ایس بی) اور آئی پی سی کی وزارت کو ملتوی کرنے کا پیغام پہنچا دیا ہے۔ اس نمائندے کو معلوم ہوا کہ ریاست نے فیصلے کی دوبارہ تصدیق کے لیے فیفا کو ایک ای میل بھی لکھا ہے۔التوا کی وجہ پوچھنے پر ہارون نے کہا کہ وہ ملاقات سے قبل چند باتیں طے کرنا چاہتے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ یہ ملاقات مستقبل قریب میں ہوگی۔ میں میٹنگ سے پہلے کچھ چیزیں حل کرنا چاہتا ہوں۔ اور اگر ایسا ہو جاتا ہے تو ہم جنوری یا فروری کے شروع میں میٹنگ کے لیے جا سکتے ہیں،‘‘ جب ان سے پوچھا گیا کہ کن چیزوں کو حل کرنے کی ضرورت ہے، ہارون نے کہا کہ معاملات جاری ہیں اور امید ہے کہ وہ جلد ہی میٹنگ کو دوبارہ ترتیب دیں گے۔ہارون نے کہا کہ انہوں نے اجلاس ملتوی کرنے کے حوالے سے حکومت کو پیغام پہنچا دیا ہے۔

    یہ پوچھے جانے پر کہ کیا این سی کا اجلاس ملتوی کرنے کا ارادہ تھا کیونکہ وہ کچھ چیزوں کو حل کرنا چاہتی تھی ہارون نے کہا: "نہیں، ایسا نہیں ہے کیونکہ اس طرح کے فیصلے باہمی اتفاق سے ہوتے ہیں۔ اب بات یہ ہے کہ میٹنگ ملتوی کر دی گئی ہے اور جلد ہی اسے دوبارہ ترتیب دیا جائے گا، "انہوں نے کہا۔اس دوران ریاست کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے دی نیوز کو بتایا کہ ان کے پاس میٹنگ کے ملتوی ہونے کے حوالے سے ایسی کوئی اطلاع نہیں ہے۔این سی نے ہمیں ایک ای میل بھیجی ہے کہ میٹنگ ملتوی کر دی گئی ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ آیا اس سب کے پیچھے NC کا ذاتی ارادہ ہے۔ اور فی الحال میٹنگ حکمت عملی میں ہے۔ ہم پہلے ہی فیفا کو ایک ای میل لکھ چکے ہیں اور ان کے جواب کا انتظار کر رہے ہیں،‘‘ عہدیدار نے کہا۔ کہ وہ ایسے وقت میں میٹنگ ملتوی کرنے کے اس اقدام کے پیچھے کیا دیکھتے ہیں جب فٹ بال کے اسٹیک ہولڈرز ہر روز NC کے مبینہ غیر آئینی اقدامات کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، اہلکار نے کہا کہ ہو سکتا ہے این سی نہیں چاہتی کہ ریاست کے حکام فیفا اور اے ایف سی سے ملاقات کریں۔ انہوں نے کہا، "میرے خیال میں یہ این سی کی طرف سے ایک اقدام ہو سکتا ہے تاکہ ہم فیفا اور اے ایف سی کے سامنے اپنا نقطہ نظر پیش نہ کریں اور ملک بھر میں ہونے والے احتجاج کے دوران اسٹیک ہولڈرز جو تحفظات یہاں ظاہر کر رہے ہیں.این سی کے ایک ذریعہ نے بتایا کہ فیفا ریاست کے ملکیتی اداروں کو براہ راست نہیں لکھتا ہے بلکہ وہ اپنے منسلک پی ایف ایف کے ذریعے اپنا پیغام پہنچاتا ہے اور فیفا این سی کی ہدایات کے مطابق ریاست کے کھیلوں کے اداروں کو اجلاس ملتوی کرنے کے بارے میں مطلع کر دیا ہے۔فیفا نے جولائی میں لکھے گئے خط کے ذریعے 11 سے 13 ستمبر تک دبئی میں پاکستان کے سرکاری حکام سے ملاقات کی تجویز دی تھی لیکن مختلف جماعتوں کے عہدیداروں کے مصروف شیڈول کے باعث یہ ملاقات نہ ہو سکی۔اس کے بعد کچھ اور آپشنز پر غور کیا گیا اور بالآخر فیصلہ ہوا کہ مختلف جماعتوں کا اجلاس 12 دسمبر کو دبئی میں ہوگا۔

  • غزہ میں نہتے فلسطینیوں پر جاری اسرائیلی مظالم باعث تشویش ہیں،انوارلحق کاکڑ

    غزہ میں نہتے فلسطینیوں پر جاری اسرائیلی مظالم باعث تشویش ہیں،انوارلحق کاکڑ

    انسانی حقوق کےعالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ پاکستان انسانی حقوق کےعالمی منشورکی حمایت جاری رکھے گا، اور بلاتفریق انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے کوشاں رہے گا، پاکستان نے ملکی، بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے مؤثر اقدامات کئے ہیں۔ انوار الحق کا کہنا تھا کہ غزہ میں نہتے فلسطینیوں پر جاری اسرائیلی مظالم باعث تشویش ہیں، اسرائیل غزہ میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کررہاہے، فلسطین میں خواتین،بچوں سمیت ہزاروں افرادشہیدہوچکےہیں۔نگراں وزیراعظم نے کہا کہ بھارت کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کررہا ہے، 5 اگست 2019 کےغیرقانونی بھارتی اقدامات کا مقصد کشمیر میں آبادیاتی تبدیلی ہے، عالمی برادری کشمیریوں کے حقوق کیلئے بھارت پر دباؤ ڈالے۔وزیراعظم نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں انسانی حقوق کی تشویشناک صورتحال سب کے سامنے ہے، عالمی برادری غزہ میں فوری جنگ بندی کیلئے کوششیں کرے، اور فلسطینی عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دے۔