Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • جنوبی افریقہ کی شکست میں پاکستان پر سلو اوور ریٹ پر جرمانہ

    جنوبی افریقہ کی شکست میں پاکستان پر سلو اوور ریٹ پر جرمانہ

    پاکستان کی آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈ کپ مہم کو ایک اور دھچکا لگا ہے جب ٹیم کو جنوبی افریقہ کے خلاف اپنے حالیہ میچ کے دوران سلو اوور ریٹ کی منظوری دی گئی تھی۔چنئی میں جنوبی افریقہ کی بیٹنگ اننگز کے دوران ایشیائی ٹیم چار اوورز کم پائی گئی اور اس پر ان کی میچ فیس کا 20 فیصد جرمانہ عائد کیا گیا۔ آئی سی سی کوڈ آف کنڈکٹ میں کہا گیا ہے کہ مقررہ وقت میں ناکام ہونے والے ہر اوور کے لیے کھلاڑیوں پر ان کی میچ فیس کا پانچ فیصد جرمانہ عائد کیا جائے گا۔جنوبی افریقہ سے پاکستان کی شکست کے بعد فیلڈ امپائرز ایلکس وارف اور پال ریفل، تھرڈ امپائر رچرڈ ایلنگ ورتھ اور چوتھے امپائر رچرڈ کیٹلبرو نے یہ الزام عائد کیا۔ اور پاکستانی کپتان بابر اعظم نے یہ پابندی قبول کر لی۔پاکستان اس سال کے ورلڈ کپ میں چھ کھیلوں میں سے صرف دو میچوں میں ہی غالب رہا ہے اور 1992 کے چیمپئن کو سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کرنے کے لیے اپنے باقی تین میچ جیتنے کی ضرورت ہے۔ان کا اگلا مقابلہ منگل کو کولکتہ میں ہوگا، جس میں پاکستان کا مقابلہ بنگلہ دیش سے ہوگا جس میں جیتنا ضروری ہے۔

  • 300 یونٹ تک بجلی مفت اور موٹرسائیکل والوں کیلئے پٹرول 140 روپے دینے کا دعویٰ کس نے کیا

    300 یونٹ تک بجلی مفت اور موٹرسائیکل والوں کیلئے پٹرول 140 روپے دینے کا دعویٰ کس نے کیا

    استحکام پاکستان پارٹی کے صدر عبدالعلیم خان نے جہانیاں میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئیں کہا کہ کہ آئی پی پی حکومت میں آکر مزدور کی کم از کم اجرت 50 ہزار کرے گی۔ 300 یونٹ تک بجلی مفت دی جائے گی۔ موٹرسائیکل والوں کیلئے پٹرول 140 روپے ہوگا۔ جہانیاں میں آئی پی پی کے پہلے جلسے سے خطاب کرتے عبدالعلیم خان نے کہا کہ ساڑھے 12 ایکڑ تک والے کسانوں کو ٹیوب ویل پر بجلی فری دیں گے۔ خواتین کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کریں گے۔ عبدالعلیم خان کا مزید کہنا تھا کہ ہم عمران خان کے ساتھ اس لیے گئے تھے کہ چاہتے تھے کہ نیا پاکستان بنے اور باریاں لگانے والوں سے جان چھڑائے لیکن چیئرمین پی ٹی آئی کسی اور کے ہاتھوں میں کھیلنے لگے۔ انہوں نے کہا کہ آپ سب میرے دل میں اور رہیں گے اور ایک نیا پاکستان بنانے کی کوشش میں ہے ۔ ہم عوام دوست سسٹم لانا چاہتے ہے ، صاف پانی ، بے روزگاری کا خاتمہ ، خواتین کے لیے تکنیکی بنیاد پر روزگار کا سسٹم بنایا ہے۔ علیم خان نے کہا کہ جنوبی پنجاب میں بھی ایسے ہسپتال ہوں جو لاہور میں ہے بچوں کے لئے بہترین اسکول ہوں، ہر کسی کے پاس روزگار چاہتے ہیں روزگار ایسا ہو کہ فیکٹریاں کارخانے لگے ہوں پڑھے لکھے نوجوان مارے مارے نہ پھرتے ہوں بہنوں کیلئے منشور میں ویمن امپاورمنٹ اسکلز شامل کی ہے۔عبدالعلیم خان نے کہا کہ کئی بار مسلم لیگ ن پنجاب میں اقتدار میں آچکی ہےآج بھی عوام سے ووٹ مانگنے آئے گی،عوام آخر انہیں کتنی بار موقع دےسندھ میں پیپلز پارٹی 15سال بیٹھی ہے، وہاں عوام کا حال برا ہے پیپلز پارٹی عوام کے سامنے جاکر ڈھٹائی سے کہتی ہے انہیں موقع دے8سالوں میں ہم نے خوابوں کو چکنا چور ہوتے دیکھا۔

  • آئی سی سی نے ڈی آر ایس سسٹیم کی غلطی کا اعتراف کر لیا

    آئی سی سی نے ڈی آر ایس سسٹیم کی غلطی کا اعتراف کر لیا

    بھارت میں جاری انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) ون ڈے ورلڈ کپ کے 13 ویں ایڈیشن میں گزشتہ روز کھیلے جانے والے پاکستان اور جنوبی افریقہ میچ کے دوران ڈی آر ایس سسٹم کی غلطی تسلیم کر لی، میچ میں جب پاکستان کو جیت کے لئے ایک وکٹ اور جنوبی افریقہ کو 8 رنز درکار تھے تب حارث رؤف کی گیند پر ساؤتھ افریقن بیٹر تبریز شمسی کے پیڈ پر لگی، پاکستان کی جانب سے زور دار اپیل کی گئی لیکن امپائر کے کان پر جوں تک نا رینگی اور آؤٹ قرار نہ دینے پر پاکستان نے امپائر کے فیصلے کا ریویو لے لیا، ریویو میں دکھایا گیا کہ گیند وکٹ کو صرف چھو رہی ہے اور قانون کے تحت فیصلہ امپائر کے فیصلے کے تابع ہوگا جس پر امپائر کا ٹاٹ آؤٹ کا فیصلہ برقرار رہا۔
    اس فیصلے پر سابق بھارتی سپنر ہاربھجن سنگھ نے آئی سی سی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ خراب امپائرنگ اور برے قوانین کے باعث پاکستان کو میچ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے، اس قانون کو تبدیل ہونا چاہئے اگر گیند وکٹوں کو لگ رہی ہے تو لگ رہی ہے امپائر کال کا کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیے۔
    اسی میچ کے دوران ایک اور فیصلہ بھی سوشل میڈیا پر کڑی تنقید کی زد میں آیا جس پر آئی سی سی کو وضاحت بھی پیش کرنا پڑی، جنوبی افریقہ کی اننگز کے دوران 19 ویں اوور میں اسامہ میر کی گیند پر پروٹیز کے بلے باز رسی وین ڈر ڈوسن کو امپائر نے ایل بی ڈبلیو قرار دے دیا، وین ڈر ڈوسن کی جانب سے ریویو لیا گیا تو ری پلے میں دکھایا گیا کہ گیند وکٹوں سے اوپر جا رہا ہے لیکن کچھ ہی لمحوں کے بعد ایک اور ری پلے میں دکھایا گیا کہ گیند وکٹوں کو چھو رہی ہے، امپائر کال ہونے پر امپائر کا آؤٹ کا فیصلہ برقرار رہا۔
    اس معاملے پر آئی سی سی کی جانب سے سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید پر وضاحت پیش کرتے ہوئے ڈی آر ایس کی غلطی کو تسلیم کر لیا۔

  • مہنگائی کو ختم تو نہیں کیا گیا لیکن کم کرنے کی کوشیش کی جارہی ہے،نگران وزیر خزانہ

    مہنگائی کو ختم تو نہیں کیا گیا لیکن کم کرنے کی کوشیش کی جارہی ہے،نگران وزیر خزانہ

    نگران وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر نے کہا ہے کہ ہم نے مہنگائی کو ختم تو نہیں کیا اور نہ ہی قابو کیا لیکن اس میں کمی آرہی ہیں۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد سے روپیہ مستحکم ہوگیا ہے۔ کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری میں تقریب سے خطاب کرتے نگران وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ میرا کام معیشت کو مشکل حالات سے نکالنا ہے ۔ اس کے لیے بہت محنت کر رہے ہے ۔ نگران حکومت نے 2 ماہ میں خاطر خواہ کوشش کی ، کہ مہنگائی پر قابو پایا جائے.
    انہوں نے کہا کہ جب ہم نےجب حکومت سنبھالی معیشت کو کیا مشکلات درپیش تھیں اسکا علم سب کو ہے ۔ لہذا ہم نے بہت جلد معیشت کو بحال کرنے کی کوشش کی جو آسان کام نہیں تھا ۔ ہم زیادہ وقت ضائع نہیں کرسکتے ، اس لیے کام پر توجہ دیتے ہیں ۔ ادویات کی صنعت کے بارے میں متعلقہ وزارت سے رابطہ کریں گے معاشی بحالی کی سرگرمیاں شروع ہوچکی ہیں ۔ ہم اس عمل کو تیز کرنا چاہتے ہیں، انہوں نے کہا کہ معاشی ترقی کی شرح نمو 2 سے 3 فیصد ہوگی ۔ ورلڈ بینک نے اس ضمن میں محتاط تخمینہ دیا ہے ۔ پہلی مرتبہ 14 ماہ میں لارج اسکیل اور پاور سیکٹر نے گروتھ کی ہے۔ سیمنٹ اور ٹریکٹرز کی پیداوار میں بہتری آئی ہے ۔ کھاد کی فروخت تیزی سے بحال ہوئی جب کہ کپاس کی پیداوار 80 فیصد بڑھی ہے ۔ کسانوں کے جولائی ستمبر کے دوران قرض میں 44 فیصد اضافہ ہوا۔
    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ انٹربینک میں ڈالر 279 روپے پر مستحکم ہوچکا ہے۔ 8 فیصد روپے کی قدر بہتر ہوئی ہے۔ انٹربینک میں ڈالر 305 تک پہنچ چکا تھا ۔ روپے کی قدر کو بہتر بنانے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بہت اچھا کردار ادا کیا ہے۔ سرحدوں پر کرنسی کے حوالے سے غلط کام ہورہا تھا ۔ ایکس چینج کمپنیوں کی اصلاحات نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ ڈاکٹر شمشاد اختر نے کہا کہ بجلی کی چوری ایک بڑا مسئلہ ہے۔بجلی گیس کی قیمتوں کو انٹرنیشنل مارکیٹ کے مطابق بنایا ہے ۔ تیل کی قیمت میں کمی کے فوری اثرات عوام کو منتقل کیے۔ ایف بی آر نے پہلی سہ ماہی میں آئی ایم ایف کے ہدف سے زائد ٹیکس وصولی کی ہے ۔ اس ہدف پر رکنا نہیں حکومت چلانے کے لیے پیسا چاہیے۔ سرکاری اداروں کے لیے اصلاحات بھی لا رہے ہیں۔

  • خیبر پختونخوا کے سرکاری سکولوں میں  پچیس ہزار سے زائد اساتذہ ڈیوٹی  سے غائب

    خیبر پختونخوا کے سرکاری سکولوں میں پچیس ہزار سے زائد اساتذہ ڈیوٹی سے غائب

    خیبر پختونخوا کے سرکاری اسکولوں سے 25 ہزار 395 اساتذہ غیر حاضر، ڈی جی مانیٹرنگ نے اساتذہ کی رپورٹ تیار کرلی، رپورٹ کے مطابق رواں سال 25 ہزار 395 اساتذہ سرکاری اسکولوں سے غیر حاضر ہونے کا انکشاف ہوا ہے. جن میں 4 ہزار 679 ایسے جو گھر بیٹھیں تنخواہیں وصول کر رہے تھے، رپورٹ میں بتایا گیا ہے 8 ہزار 409 اساتذہ مستقل غیر حاضر رہے، جبکہ 6 ہزار 33 اساتذہ ہفتہ میں دو چھٹیاں کیں رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 6 ہزار 274 اساتذہ ایسے ہیں جنہوں نے ہر ہفتہ میں ایک چھٹی کی۔رپورٹ کے مطابق محکمہ تعلیم کے ڈی جی مانیٹرنگ نےاساتذہ کی رپورٹ تیار کر کے وزیر تعلیم کو ارسال کر دی ، نگراں وزیر تعلیم کے مطابق ان اساتذہ کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی، گھوسٹ اور مستقل غیر حاضر رہنے والے اساتذہ کے خلاف سخت لائحہ عمل بنا کر کاروائی کرے گے، رعنا حسین نے کہا کہ جو اساتذہ ہر ماہ اور ہفتہ میں چھٹی کرنے کے عادی ہیں انہیں وارننگ جاری کی جائے گی،

  • کوہاٹ،نامعلوم افراد کا نجی ٹی وی چینل کے رپورٹر پر حملہ

    کوہاٹ،نامعلوم افراد کا نجی ٹی وی چینل کے رپورٹر پر حملہ

    خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ سے تعلق رکھنے والے نجی ٹی وی کے رپورٹر پر نا معلوم افراد کی فائرنگ،جس کے نتیجے میں نجی ٹی وی کا رپورٹر یاس شاہ شدید زخمی ہوگئے پولیس کے مطابق حملہ آور موٹر سائیکل پر سوار تھے جو فائرنگ کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے،تاہم زخمی رپورٹر کو فوری طور پر ڈسٹرکت ہیڈ کواٹر ہسپتال پہنچا دیا گیا،۔سید یاسر شاہ جو کہ سینئر صحافی ہیں اور ان کے ساتھ آنے والے کیمرہ مین کو دو نقاب پوش موٹر سائیکل سواروں نے اٹک سے مکھڑ شریف عرس کی کوریج کے بعد واپس جاتے ہوئے گولی مار دی۔ یاسر شاہ نے اس نمائندے سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ فائرنگ کی وجہ سے موٹر سائیکل سے گرنے کے نتیجے میں زخمی ہوئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حملہ آوروں نے حملے کے بعد ہمارا پیچھا کرنے کی بھی کوشش کی لیکن بعد میں فرار ہو گئے۔ دونوں زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کوہاٹ منتقل کر دیا گیا۔ خوش قسمتی سے دونوں گولیاں لگنے سے محفوظ رہے ۔شاہ جیو نیوز کے سینئر نمائندے ہیں، 2007 سے کام کر رہے ہیں۔ انہیں کافی عرصے سے دھمکیاں مل رہی تھیں۔ رواں سال میں کوہاٹ کے نامہ نگار پر یہ دوسرا حملہ ہے۔ نامعلوم حملہ آوروں کے ایک گروپ نے 21 مارچ کو کوہاٹ میں شاہ کی رہائش گاہ پر دھماکہ خیز مواد سے دھماکہ کیا اور گولی مار دی۔ انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس (IFJ) نے 2020 میں عالمی صحافت پر اپنا وائٹ پیپر جاری کیا، جس میں پاکستان کو صحافیوں کے لیے پانچواں بدترین ملک قرار دیا گیا، 1990 سے کم از کم 138 صحافیوں کو قتل کیا گیا اور گزشتہ چار سالوں میں 42 قتل ہوئے۔رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز (RSF) کے مطابق، پاکستان صحافیوں کے لیے دنیا کے مہلک ترین ممالک میں سے ایک ہے، جہاں ہر سال تین سے چار قتل ہوتے ہیں جن کا تعلق اکثر بدعنوانی یا غیر قانونی اسمگلنگ سے ہوتا ہے اور جن کی مکمل سزا نہیں ملتی۔
    تنظیم نے گزشتہ سال پاکستان کو آزادی صحافت کی فہرست میں 180 ممالک میں سے 150 ویں نمبر پر رکھا تھا۔

  • پی سی بی بابر اعظم کو نظر انداز کر رہی ہے راشد لطیف کا دعویٰ

    پی سی بی بابر اعظم کو نظر انداز کر رہی ہے راشد لطیف کا دعویٰ

    پاکستان ٹیم کے سابق وکٹ کیپر راشد لطیف نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے بڑے ٹیم کے قومی ٹیم کے کپتان بابر اعظم کو نظر انداز کرنے لگے ہیں۔ جیو نیوز کے مطابق گزشتہ روز جنوبی افریقا نے پاکستان کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد ایک وکٹ سے شکست دی تھی جو ورلڈکپ میں پاکستان کی مسلسل چوتھی ہار تھی۔ ورلڈکپ میں لگاتار 4 شکستوں کے بعد قومی کھلاڑیوں کے ساتھ ٹیم کے کپتان بابر اعظم کو بھی کڑی تنقید کا سامنا ہے۔ سرکاری ٹی وی کے شو میں گفتگو کرتے ہوئے سابق مایہ ناز وکٹ کیپر نے دعویٰ کیا کہ بابر اعظم مسلسل دو روز سے چیئرمین پی سی بی مینجمنٹ کمیٹی، چیف آپریٹنگ آفیسر اور ڈائریکٹر انٹرنیشنل کرکٹ کو میسج بھیج رہے ہیں لیکن کرکٹ بورڈ کے تینوں بڑے انہیں جواب دینے سے گریز کر رہے ہیں۔ ًراشد لطیف نے یہ دعویٰ کیا کہ ذکا اشرف، سلمان نصیر اور عثمان واہلہ بابر اعظم کے بھیجے گئے میسجز کو مسلسل نظر انداز کر رہے ہیں۔ً سابق ٹیسٹ کرکٹر کے مطابق پی سی بی نے کھلاڑیوں سے کہا ہے کہ انہوں نے جو سینٹرل کنٹریکٹ سائن کیے ہیں وہ مانے نہیں جائیں گے اور کھلاڑیوں کو نئے سینٹرل کنٹریکٹ سائن کرنا ہوں گے۔ راشد لطیف کا کہنا ہے کہ ورلڈکپ کے بعد بہت ساری کہانیاں سامنے آئیں گی تاہم پاکستان کرکٹ بورڈ نے تاحال راشد لطیف کے بیان کی تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔ خیال رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے ورلڈکپ کے شروع ہونے سے چند روز قبل ہی کھلاڑیوں کے لیے سینٹرل کنٹریکٹ کا اعلان کیا تھا جس میں اے کیٹیگری میں شامل بابر اعظم، محمد رضوان اور شاہین آفریدی کو ماہانہ 61 لاکھ دینے کا فیصلہ کیا تھا جبکہ بی کیٹیگری میں شامل کھلاڑیوں کی تنخواہ 43 لاکھ ماہانہ مقرر کی گئی تھی۔

  • ہمارا منشور ملک کو ترقی اور خود مختاری دینا ہے ،جہانگیر ترین

    ہمارا منشور ملک کو ترقی اور خود مختاری دینا ہے ،جہانگیر ترین

    پی ٹی آئی کی حکومت ملک کو درست سمت پر لے جانے میں ناکام ہوئی.استحکام پاکستان کے سربراہ جانگیر ترین کا جہانیا ں میں جلسے سے خطاب ،انہوں نے کہا کہ زراعت کے شعبے میں ترقی ہماری ترجیح ہے میں نے اپنی پوری زندگی زراعت میں لگائی لہذا ہم کسانوں کو عزت سے روٹی کمانے اور انکے حقوق دلانے میں اہم کردار ادا کرے گے،اس کے علاوہ دیہی علاقوں میں صاف پانی اور ترقی کروانا ہمارا ترجیح ہے،جہانگیر ترین نے کہا کہ ہمارا منشور ملک کو صحیح سمت میں ڈالنا ہے اور ہم صرف نعروں تک نہیں بلکہ عملی کارکردگی کر کے دکھائے گے.جہانگیر ترین نے نفرت اور دشمنی کی سیاست کو ہمیشہ کے لئے دفن کرنے اور محبت اور عزت والی سیاست کو فروغ دینے کا عزم ظاہر کیا،جہانگیر ترین نے کہا کہ آپ سوچ رہے ہونگے کہ پی ٹی آئی کے بہت سارے لوگ استحکام پاکستان میں کیوں شامل ہو رہے ہے تو کہا کہ یہ لوگ ایک عہد اور عزم کے لے پی ٹی آئی میں شریک ہوئیں تھے جو عمران خان نے پورا نہیں کیا ،اس لئے استحکام پٔاکستان پارٹی اس عزم کو آگے لے کر جائے گی اور اس ملک کو ایک کامیاب اور خود مختیار ملک بنا کر دم لے گی،

  • سابق بھارتی کر کٹرز بھی امپائر کے غلط فیصلے پر بول اٹھے

    سابق بھارتی کر کٹرز بھی امپائر کے غلط فیصلے پر بول اٹھے

    سابق ہندوستانی کرکٹرز، ہربھجن سنگھ اور عرفان پٹھان نے بھی امپائرنگ کے متنازعہ فیصلوں کے خلاف بات کی ہے جس نے کل چنئی میں منعقدہ 2023 ورلڈ کپ کے میچ میں جنوبی افریقہ کے خلاف پاکستان کی شکست پر کافی اثر ڈالا تھا۔ ہربھجن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس سابقہ ٹویٹر پر اس صورتحال سے عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے دلیل دی کہ ‘امپائرز کال’ کے اصول پر نظر ثانی کی جانی چاہیے۔ ہر بھجن سنگھ نے لکھا ہے کہ خراب امپائرنگ اور خراب اصولوں کی وجہ سے پاکستان کو اس کھیل کا نقصان اٹھانا پڑا۔ آئی سی سی کو اس اصول کو تبدیل کرنا چاہیے، اگر گیند اسٹمپ سے ٹکراتی ہے تو یہ آؤٹ ہے، امپائر نے آؤٹ دیا یا ناٹ آؤٹ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا… ورنہ اس ٹیکنالوجی کا کیا فائدہ۔
    عرفان پٹھان نے بھی ہربھجن کے جذبات کی بازگشت کرتے ہوئے بتایا کہ میچ کے دوران مین ان گرین کے خلاف دو اہم فیصلے ہوئے تھے۔ عرفان پٹھان نے لکھا، "ٹیم پاکستان کے خلاف دو کالیں ہوئیں۔ وائیڈ اور ایل بی ڈبلیو۔ ایسا لگتا ہے کہ جنوبی افریقہ کو اس ورلڈ کپ میں ٹھوس کھیل کے ساتھ کچھ قسمت ملی،” عرفان پٹھان نے لکھا۔

    تاہم، سابق کپتان، گریم اسمتھ نے امپائر کے فیصلے کا دفاع کرنے سے گریز نہیں کیا، اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہ اسی طرح کی ‘امپائر کی کال’ جنوبی افریقہ کے خلاف بھی گئی تھی۔

    "بھاجی، میں امپائرز کی کال پر آپ جیسا ہی محسوس کرتا ہوں، لیکن راسی اور جنوبی افریقہ میں بھی ایسا ہی احساس ہو سکتا ہے؟” سمتھ نے لکھا۔

    میچ کا ٹرننگ پوائنٹ 46ویں اوور کی آخری گیند پر آیا، جنوبی افریقہ کو جیت کے لیے ابھی 8 رنز درکار ہیں۔ پاکستان کے حارث رؤف نے ایک گیند ڈیلیور کی جو لینتھ پر لگی اور تبریز شمسی کو فرنٹ فٹ پر مارا جس سے بلے اور پیڈ کے درمیان کافی فاصلہ پیدا ہوگیا۔

    آن فیلڈ امپائر نے شمسی کو آؤٹ قرار نہیں دیا، جس سے کرکٹ کے شائقین میں تنازعہ اور شدید بحث چھڑ گئی۔

    ورلڈ کپ کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان کو لگاتار چار شکستوں کا سامنا کرنا پڑا۔

  • قومی ٹیم نے آخر دم  تک جیتنے  کی بھر پور کوشش کی اور مجھے ان پر فخر ہے .مکی آرتھر

    قومی ٹیم نے آخر دم تک جیتنے کی بھر پور کوشش کی اور مجھے ان پر فخر ہے .مکی آرتھر

    پاکستان کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ ورلڈ کپ میں جنوبی ایشیائی ٹیم کی مسلسل چوتھی شکست کے بعد کپتان بابر اعظم اور ٹیم مینجمنٹ کو نشانہ بنانے والے "وِچ ہنٹ” کے خلاف خبردار کیا۔ اپنی سیمی فائنل کی امیدوں کو ختم کرتے ہوئے، پاکستان کو جمعہ کو انڈیا کے چنئی میں ایک سنسنی خیز مقابلے میں فارم میں چل رہی جنوبی افریقی ٹیم کے خلاف ایک وکٹ سے شکست ہوئی۔ روایتی حریفوں بھارت اور آسٹریلیا کے خلاف شکست کے بعد، 1992 کے عالمی چیمپئن کو پروٹیز کے خلاف ایک اور اپ سیٹ کا سامنا کرنے سے قبل افغانستان کی کم درجہ بندی کی ٹیم کے خلاف آٹھ وکٹوں سے شکست ہوئی۔ چھٹے نمبر پر بیٹھے، پاکستان کو فیورٹ میں سے ایک کے طور پر مہم شروع کرنے کے باوجود اب چار سالہ ٹورنامنٹ سے جلد باہر ہونے کے امکانات کا سامنا ہے۔ پھر بھی، آرتھر نے بابر اعظم اور انتظامیہ کی حمایت کی۔

    آرتھر نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ‘یہ واقعی ناانصافی ہے کہ بابر اعظم پر، اور چیف سلیکٹر انضمام الحق پر، ہمارے کوچز پر، مینجمنٹ ٹیم پر تنقید کیا جا رہا ہے. مکی آرتھر نے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ لڑکوں نے کوشش کی ہے، اور کوچنگ اسٹاف کی کوشش، کھلاڑیوں کی کوشش فرسٹ کلاس رہی ہے۔ اگر وہ دیکھیں کہ کھلاڑیوں اور عملے نے کتنی محنت کی ہے تو وہ حیران رہ جائیں گے۔ یاد رہے کہ پاکستان نے جنوبی افریقہ کے خلاف 270 رنز بنائے لیکن بعد میں اپنے گیند بازوں کے ذریعے جوابی وار کیا، صرف ایک وکٹ گر گئی۔ مکی آرتھر نے کہا، "آج کی رات اس ڈریسنگ روم میں افغانستان کے کھیل سے بالکل مختلف احساس ہے۔ افغانستان کا کھیل تھا… ہم تمام شعبوں میں اوسط درجے کے تھے۔” اور ہم بلے کے ساتھ ٹھیک تھے، میں نے سوچا کہ ہم گیند کے ساتھ بہت اچھے ہیں۔ مجھے ان (کھلاڑیوں) پر واقعی فخر ہے کیونکہ وہ تلخ انجام تک لڑے۔”