Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • کراچی ؛ماہی گیر وں نے مکمل پالیسیوں کا مطالبہ کر لیا ہے

    کراچی ؛ماہی گیر وں نے مکمل پالیسیوں کا مطالبہ کر لیا ہے

    ماہی گیروں کی ایک تنظیم کے سربراہ نے کہا کہ پاکستان کے نظر انداز شدہ ماہی گیری کے شعبے کو ایک بڑی صنعت بننے اور ماہی گیروں کو صنعتی کارکن کا درجہ دینے کے لیے مکمل پالیسیوں کی ضرورت ہے۔ پاکستان فشر فوک فورم (پی ایف ایف) کے چیئرمین غلام مصطفی میراں نے ا کہا۔ کہ ہم وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ سمندری اور میٹھے پانی کی ماہی گیری کے بارے میں بہتر پالیسیاں بنائیں تاکہ یہ ایک بڑی صنعت بن سکے۔ ہم یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت ماہی گیروں کو صنعتی کارکن کا درجہ دے تاکہ وہ بطور کارکن تمام سہولیات حاصل کر سکیں. انہوں نے کہا کہ حکومت کو مچھلیوں کی مختلف اقسام اور ان کی افزائش کے بارے میں مناسب اور جامع تحقیق کرنی چاہیے تاکہ اس طویل عرصے سے نظر انداز کیے گئے شعبے کو فوری طور پر ترقی دی جا سکے۔
    پالیسی سازوں کو مچھلی کی برآمد پر سے پابندی ہٹانے کے لیے سخت کوشش کرنی چاہیے جو کہ غیر صحت مند حالت کی وجہ سے یورپی یونین کی طرف سے اور مچھلی کے جال میں کچھووں کو پکڑنے کے الزام میں امریکہ کی طرف سے عائد کی گئی تھی۔ مقامی ماہی گیر کبھی بھی کچھووں کو نہیں پکڑتے اور ان میں سے اکثر نے کچھوؤں کو مچھلی پکڑنے کے دوران جال میں آنے کی صورت میں چھوڑنے کے لیے آلات نصب کیے ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ صنعت پھلے پھولے تو یہ قومی معیشت کو تقویت دے سکتی ہے۔غلام مصطفی میراں نے کہا کہ تقریباً 25 لاکھ سے 30 لاکھ ماہی گیر اور خواتین سندھ کے مختلف اضلاع میں میٹھے پانی کی 1,209 جھیلوں سے اپنا گزارہ کرتے ہیں اور کھلے سمندر میں مچھلیاں پکڑتے ہیں۔ملک میں تقریباً 40 لاکھ ماہی گیر اور خواتین ہیں جن میں سندھ اور بلوچستان میں 30 لاکھ ہیں کیونکہ یہ غریب لوگوں کی ایک بہت بڑی صنعت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سمندر ٹھٹھہ، سجاول اور بدین کے اطراف سے روزانہ 40 ایکڑ زمین کو تباہ کر رہا ہے اور اس نے تقریباً 25 لاکھ ایکڑ اراضی کو تباہ کر دیا ہے۔انہوں نے پاکستان اور بھارت دونوں کے ماہی گیروں کو رہا کرنے کے لیے خیر سگالی کے باہمی اشارے کے طور پر سمندر کے قانون سے متعلق اقوام متحدہ کے کنونشن کے آرٹیکل 73 پر عمل درآمد کرنے کے لیے کہا جو غلطی سے سمندری حدود کی خلاف ورزی کرتے ہیں کیونکہ کوئی سرحدی دیوار نہیں ہے۔
    بعض اوقات پاکستانی ماہی گیر ہندوستانی سمندری حدود میں داخل ہوجاتے ہیں جہاں انہیں گرفتار کرکے چھ ماہ سے دس سال تک حراست میں رکھا جاتا ہے۔
    معروف ماہر حیاتیات ڈاکٹر عبداللہ جی آریجو نے کہا کہ ملک کو ماہی گیری کی بھرپور صلاحیتوں سے نوازا گیا ہے جو بحیرہ عرب کے شمالی حصے میں واقع ہے اور ایک وسیع براعظمی شیلف کے ساتھ تقریباً 1,120 کلومیٹر کی ساحلی پٹی کو برقرار رکھتا ہے۔ اس کا خصوصی اقتصادی زون ساحل سے 200 ناٹیکل میل تک پھیلا ہوا ہے۔
    ملک کے ساحلی علاقوں میں ماہی گیری کی ہزاروں کشتیاں ہیں جو گہرے پانیوں اور سمندری علاقوں میں چلتی ہیں۔ ماہی گیری کی یہ کشتیاں ماہی گیری کی قسم کے لحاظ سے چند گھنٹوں سے ہفتوں تک ماہی گیری کا سفر کرتی ہیں۔

  • بحیرہ عرب سمندری طوفان میں شدت

    بحیرہ عرب سمندری طوفان میں شدت

    بحیرہ عرب میں موجود سمندری طوفان ”تیج“ طاقتور سمندری طوفان میں تبدیل ہو گیا ،اور محکمہ موسمیات کے سائیکلون وارننگ سینٹر نے الرٹ جاری کر دیا ہے۔محکمہ موسمیات کی جانب سے بحیرہ عرب کےجنوب مغرب میں سمندری طوفان کےحوالے سے چوتھا الرٹ جاری کردیا گیا ہے، اور بتایا گیا ہے کہ طوفان مزید درجہ شدت بڑھنے کے بعد سی وئیر سائیکلونک اسٹروم میں تبدیل ہوگیا ہے۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ طوفان کے مرکز میں 100سے 110 کلو میٹر رفتار کی ہوائیں چل رہی ہیں، اور ہواوں کی رفتار120کلومیٹر فی گھنٹہ سے تجاوزکر رہی ہے، جب کہ طوفان کےگردلہریں 25 فٹ تک بلند ہو رہی ہے، طوفان کے کل تک مزید شدت اختیار کرکے شدید سمندری طوفان میں تبدیل ہونے کا امکان ہے، اور کل تک شدت کے بعد سائیکلونک اسٹروم میں بدل سکتا ہے۔ سمندری طوفان کا رخ شمال مغربی سمت عمان اور یمن کی جانب ہے اور طوفان تیج کا فاصلہ صلالہ عمان کے جنوب مشرق میں 750 کلو میٹر رہ گیا ہے۔
    محکمہ موسمیات کے جاری کردہ الرٹ کےمطابق سمندری طوفان ”تیج“ شمال مغرب میں عمان اور یمن کی جانب بڑھے گا، کراچی کے جنوب مغرب میں 1880 کلو میٹر کے فاصلے پر موجود ہے، جب کہ گوادر سے 1670 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے، پاکستان کی ساحلی پٹی کو تاحال طوفان سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔

  • شیخ رشید نے ایک نئے مشن کا عزم کر دیا

    شیخ رشید نے ایک نئے مشن کا عزم کر دیا

    عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ وہ کل سے 9 مئی کے گرفتار افراد کی رہائی کا مشن شروع کر رہے ہیں۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی ٹویٹ میں سابق وفاقی وزیر شیخ رشید کا کہنا تھا کہ میں ساری قوم کا، اپنی ماؤں بہنوں بیٹیوں کا شکر گزار ہوں جن کی دعاؤں سے کم و بیش 40 روزہ چلے کے بعد مجھے رہائی نصیب ہوئی، مجھے نہیں معلوم کہ میں نے یہ چلہ کس جگہ پر کاٹا ہے، لیکن مجھے چلے کے دوران کسی بھی قسم کی کوئی تکلیف نہیں پہنچائی گئی۔
    شیخ رشید کا کہنا تھا کہ اب میری زندگی کا مشن ان تمام لوگوں کو جو روپوش ہیں یا چھپے ہوئے ہیں یا جن سے 9 مئی کی غلطی سرزد ہو گئی ہے یا جو بے گناہ جیلوں میں ہیں ان کو عام معافی دلانا ہے۔ ساری قوم اس پر امن مشن میں میرا ساتھ دے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کل سے میں اس مشن کا آغاز کر رہا ہوں، قوم کی دعاؤں کی ضرورت ہے۔ انشاء اللہ کامیابی ہمارا مقدر بنے گی، اور اللّٰہ ہمیں اس مشن میں ضرور سرخرو کرے گا۔ واضح رہے کہ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید چند روز قبل ہی تقریباً ایک ماہ بعد منظر عام پر آئے تھے، اور معروف اینکر منیب فاروق کو پہلا انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ میں چلے پر گیا ہوا تھا، جہاں کافی کچھ سوچنے کا موقع ملا، اللہ نے زندگی میں پہلی بار 40 دن لگانے کا موقع دیا اور تبلیغ میں چلے کے دوران مجھے کسی نے کوئی نقصان نہیں پہنچایا بلکہ سب نے میرے ساتھ تعاون کیا اور سارے ایام خوش اسلوبی سے گزر گئے۔

  • سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا ایم کیو ایم کے فاروق ستار سے ملاقات

    سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا ایم کیو ایم کے فاروق ستار سے ملاقات

    سابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح کا فاروق ستا ر سے ملاقات جس میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے سینئر ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار نے ایم کیو ایم میں شمولیت کی دعوت مفتاح اسماعیل سے ملاقات میں دی، دونوں رہنمائوں کے درمیان ملاقات دو روز قبل مفتاح اسماعیل کی رہائش گاہ پر ہوئی تھی۔
    ذرائع کا بتانا ہے کہ دونوں رہنمائوں کے درمیان ملاقات میں معاشی و سیاسی بحران، خصوصا کراچی کے حالات اور عام انتخابات کے حوالے سے بھی گفتگو ہوئی۔
    ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت مواشی چیلنجز کا سامنا ہے اس موقع پر اچھے لوگوں کی ایک ٹیم بنا ضروری ہے، ایک مشترکہ قومی ایجنڈے کی ملک کو ضرورت ہے، مفتاح اسماعیل سے ملاقات میں اسی قومی ایجنڈے پر بات ہوئی۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ مفتاح اسماعیل نے ان حالات میں مشترکہ قومی ایجنڈے کی ضرورت کو ناگزیز قرار دیا، مفتاح کو کہا کہ اس وقت ایم کیو ایم سے بہتر پلیٹ فارم نہیں جو قومی ایجنڈے، قومی یکجہتی، کراچی میں تمام مسائل کو ترجیحی بنیادوں سے دیکھ رہا ہے۔ مفتاح اسماعیل کو معاشی ویژن بہت وسیع ہے، مفتاح نے کہا ہے کہ وہ سوچ بچار کرکے کوئی جواب دیں گے، ہماری مستقبل میں بھی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔

  • پی ایس او کا پی آئی اے کو ایندھن فراہم کرنے سے انکار

    پی ایس او کا پی آئی اے کو ایندھن فراہم کرنے سے انکار

    رقم منتقل نہ ہونے کے باعث پی ایس او نے ائیر پورٹس پر پی آئی اے کے طیاروں کو ایندھن دینے سے معذرت کرلی ہے، جس کے بعد قومی ائیرلائن کا آپریشن بری طرح متاثر ہوگیا ہے، اور بیشتر اندرون ملک پروازیں منسوخ کردی گئی ہیں۔ پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کی ہٹ دھرمی برقرار ہے، اور اس نے قومی ائیرلائن کو ایندھن کی فراہمی مکمل بند کردی ہے۔ گزشتہ کئی روز سے پی آئی اے ہر روز کی پروازوں کے ایندھن کے پیسے پیشگی ادا کررہا ہے، گزشتہ روز بھی 220 ملین روپے ادا کئے گئے تھے، تاہم اتوار کی صبح بینک بند ہونے اور رقم منتقل نہ ہونے پر پی ایس او کی جانب سے قومی ایئر لائن کو ایندھن دینے سے انکار کردیا گیا۔ پی آئی اے کی ایک اور پرواز کو گراؤنڈ ہینڈلنگ اور فیول کمپنیوں کی شکایات پر کینیڈا میں روک دیا گیا تھا لیکن واجبات کی ادائیگی کے ساتھ ہی اسے چھوڑ دیا گیا۔
    ترجمان پی آئی اے کے مطابق ائیرلائن کی شام 5 بجے لاہور سے کراچی جانے والی پرواز پی کے 305 اور شام 6 بجے لاہور سے مدینہ جانے والی پرواز پی کے 741 کو ایندھن فراہم نہیں کیا گیا۔ترجمان نے مزید کہا کہ پی ایس او سے بات چیت جاری ہے اور ایندھن کی فراہمی کے ساتھ ہی پروازیں روانہ ہو جائیں گی۔ہاں تک کینیڈا میں طیارے کا تعلق ہے، پی آئی اے کی پرواز پی کے 790 کو گراؤنڈ ہینڈلنگ اور فیول کمپنیوں کو واجبات ادا نہ کرنے پر ٹورنٹو ایئرپورٹ پر گراؤنڈ کر دیا گیا۔
    پی آئی اے کے ترجمان نے کہا کہ ایئرلائن کی جانب سے گراؤنڈ ہینڈلنگ اور فیول کمپنیوں کے 200,000 ڈالر کے واجبات کی ادائیگی کے بعد طیارہ چھوڑ دیا گیا اور قومی پرچم بردار کمپنی کا کینیڈا کے لیے پروازوں کا آپریشن ’’باقاعدہ بنیادوں‘‘ پر جاری ہے۔
    انہوں نے مزید کہا کہ پی آئی اے کے ہینڈلنگ ایجنٹ کے ساتھ ساتھ فیول کمپنی کو بھی فیس اور چارجز ادا کیے گئے تھے جو کہ ٹائم زون کے فرق کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوئے۔پی آئی اے کے ترجمان نے ٹورنٹو جانے اور جانے والی پروازوں کی معطلی کے امکان کو مسترد کردیا۔
    انہوں نے مزید کہا کہ پی آئی اے اپنی پیش کردہ تمام منزلوں کے لیے اپنے فلائٹ شیڈول کو باقاعدگی سے برقرار اور چلا رہی ہے۔
    پی آئی اے کی مالیاتی رپورٹ برائے 2023 کے مطابق قومی پرچم بردار ادارے کو رواں سال کے پہلے چھ ماہ میں 60.71 ارب روپے کا نقصان ہوا۔ ایئر لائن نے گزشتہ سال کی اسی مدت میں 41.31 ارب روپے کا خسارہ برداشت کیا تھا۔رپورٹ کے مطابق روپے کی قدر میں کمی سے پی آئی اے کو رواں سال کے پہلے چھ ماہ میں 27 ارب 45 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔2022 میں اسی مدت کے دوران کرنسی کی شرح تبادلہ کی وجہ سے یہ نقصان 13.85 بلین روپے رہا۔
    2023 کی پہلی ششماہی میں ایندھن اور تیل پر 48.34 ارب روپے خرچ کیے گئے۔ گزشتہ سال اسی عرصے کے دوران ایندھن اور تیل پر 30.78 ارب روپے خرچ کیے گئے تھے۔رواں سال کی پہلی ششماہی میں فنانس کی لاگت 36.82 ارب روپے رہی۔ یہ رقم گزشتہ سال کی اسی مدت میں 21.11 ارب روپے تھی۔
    دوسری جانب قومی ائیرلائن کا آپریشن بری طرح متاثر ہوا ہے، اور بیشتر اندرون ملک پروازیں منسوخ کردی گئی ہیں، اور مسافر رل گئے ہیں، لیکن حکومتی ایما پر قومی ایندھن کمپنی کسی قسم کی رعایت دینے پر راضی نہیں ہے۔ ایوی ایشن ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک سرکاری ادارے کا دوسرے حکومتی ملکیتی ادارے کو رعایت دینے سے انکار حیرت انگیز بات ہے، پی آئی اے کی نجکاری سے قبل ایسے اقدامات رائے عامہ ہموار کرنے کی حکومتی حکمت عملی لگتی ہے۔

  • بھارتی کمپنی بھی فلسطینوں کے حق میں بول پڑی

    بھارتی کمپنی بھی فلسطینوں کے حق میں بول پڑی

    بھارتی کمپنی نے اسرائیلی پولیس کو وردیوں کی سپلائی کو روک دیا، بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی کمپنی نے یہ اعلان غزہ کے العہلی اسپتال پربمباری کے بعد کیا ہے۔
    میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ غزہ کے العہلی اسپتال پر اسرائیلی بمباری میں500 سے زائد فلسطینی شہید ہوئے تھے۔ اسی حوالے سے بھارتی کمپنی کے ایم ڈی نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا کہ اسرائیلی پولیس کو وردیوں کی سپلائی روکنے کا اخلاقی بنیادوں پر فیصلہ کیا گیا ہے کیونکہ اسپتالوں پربمباری، بچوں اور عورتوں کو قتل کرنا ناقابل قبول ہے۔ کمپنی نے یہ بھی کہا کہ غزہ کے 25 لاکھ افراد کو خوراک اورپانی کی فراہمی روکنا بھی ناقابل قبول ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق کیرالہ میں قائم کمپنی 2015 سے اسرائیلی پولیس کی ہر سال ایک لاکھ وردیاں تیارکرتی ہے۔

  • ورلڈ کپ 2023 میں آج بھارت اور نیوزی لینڈ آمنے سامنے ہوگے

    ورلڈ کپ 2023 میں آج بھارت اور نیوزی لینڈ آمنے سامنے ہوگے

    بھارت میں جاری آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈ کپ کے 21 ویں میچ میں آج دو سپر پاورز آمنے سامنے ہو گے۔ نیوزی لینڈ اور بھارت کی ٹیمیں آج بھارتی ریاست ہماچل پردیش میں ایک دوسرے کے ٹکرائے گے۔ دونوں ٹیمیں اب تک ورلڈ کپ میں ناقابل شکست ہیں۔ دونوں ٹیموں کے درمیان میچ ہماچل پردیش کرکٹ ایسوسی ایشن، اسٹیڈیم میں پاکستانی وقت کے مطابق دن 01:30 بجے شروع ہوگا۔ بھارت نے اب تک آسٹریلیا، پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان کو شکست دی ہے جبکہ نیوزی لینڈ نے نیدر لینڈز، انگلینڈ، بنگلہ دیش اور افغانستان کو پچھاڑا ہے۔ بھارت اور نیوزی لینڈ کی ٹیمیں اب تک ایک روزہ میچز میں 116 بار ایک دوسرے کے آمنے سامنے آئی ہیں جن میں بھارت نے 55 میچز جبکہ نیوزی لینڈ کی ٹیم نے 46 میچز جیت رکھے ہیں۔ دونوں ٹیموں کے مابین 07 میچز بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوئے اور ایک میچ برابر رہا۔

  • پاکستان اور افغانستان کی ٹیمیں کل مد مقابل ہوگی

    پاکستان اور افغانستان کی ٹیمیں کل مد مقابل ہوگی

    ورلڈ کپ 2023 میں پاکستان اور افغانستان کی ٹیمیں کل چنئی کے چیپک اسٹیڈیم میں مدمقابل ہوں گی میچ سے قبل افغان ہیڈ کوچ جوناتھن ٹروٹ نے گیم پلان بتا دیا۔
    کرکٹ کا سب سے بڑا عالمی میلہ آئی سی سی ون ڈے ورلڈ کپ 2023 بھارت میں جاری ہے اور کل پاکستان اور افغانستان کی ٹیمیں چنئی کے چیپک اسٹیڈیم میں مدمقابل ہوں گی۔ پاکستان اب تک میگا ایونٹ میں چار میچ کھیل کر دو میں کامیاب اور دو میچوں میں ناکام رہا ہے اور پوائنٹس ٹیبل پر پانچویں نمبر پر ہے جب کہ افغانستان کی ٹیم چار میچوں میں صرف ایک میں فتح حاصل کر پائی ہے اور پوائنٹس ٹیبل پر سب سے آخری دسویں نمبر پر موجود ہے۔ ایونٹ میں امیدیں برقرار رکھنے کے لیے دونوں ٹیموں کا یہ میچ جیتنا انتہائی ضروری ہے۔ اس انتہائی اہم میچ سے قبل افغانستان کرکٹ ٹیم کے کوچ جوناتھن ٹروٹ نے چنئی میں پریس کانفرنس کرکے پاکستان کے خلاف اپنا گیم پلان بتا دیا ہے۔ جوناتھن ٹروٹ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ پاکستان کے خلاف میچ میں ہمارے اسپنرز اہم ہیں لیکن فاسٹ بولرز کو بھی اپنا بہترین کردار ادا کرنا ہوگا اس اہم میچ میں صرف بابر اعظم ہی نہیں بلکہ ہر بیٹر کو ٹارگیٹ کرنا ہوگا۔ افغان کوچ کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ جس میں ہر میچ جیتنا ضروری ہے اور میچ جیتنے کے لیے ٹاس جیتنا میچ ضمانت نہیں بلکہ اچھا کھیلنا ہوتا ہے۔ چنئی میں وکٹ اچھی ہوتی ہے اور پاکستانی اسپنرز بھی اچھے ہیں۔افغان ٹیم کے ہیڈ کوچ نے کہا کہ افغانستان کے پلیئرز پاکستان سے میچ کے لیے پُرجوش ہیں، پاکستان کے پچھلے میچز کے نتائج سے فرق نہیں پڑتا۔ یقین ہے کہ پاکستان بھی کل کا میچ جیتنے کی پوری کوشش کرے گا اور ہم بھی کل کا میچ جیتنے کی پوری کوشش کریں گے۔ جوناتھن ٹروٹ نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ ان کی ٹیم نیوزی کے خلاف اچھا کھیل پیش نہیں کر سکی۔

  • ای سی سی کی گیس کی قیمتوں میں اصلاحات میں تاخیر کے باعث گیس بحران مزید بڑھنے کا امکان

    ای سی سی کی گیس کی قیمتوں میں اصلاحات میں تاخیر کے باعث گیس بحران مزید بڑھنے کا امکان

    سرکاری ذرائع کےمطابق گیس کی قیمتوں کے تعین میں اصلاحات تاخیر کا شکار ہے ، جس کا مقصد تمام کھاد بنانے والے اداروں کے لیے گیس کے نرخوں کو معیاری بنانا ہے، جس سے گیس کے بحران میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے اور اس شعبے کی طویل مدتی پائیداری کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے اجلاس میں یہ تاخیر اس وقت ہوئی جب گیس سیکٹر کا گردشی قرضہ 2.9 ٹریلین روپے تک بڑھ گیا ہے۔ سبسڈی یافتہ اور ریگولر پلانٹس دونوں اپنی مصنوعات ایک ہی قیمت پر فروخت کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ صنعت کے بعض کھلاڑیوں کو ان پر مختلف ٹیرف کے اطلاق اور کھاد کے شعبے کو گیس کی فراہمی کے جاری عمل سے نقصان پہنچایا گیا ہے۔وزارت توانائی کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت نے گیس سیکٹر میں ہونے والے گردشی قرضے پر قابو پانے کے لیے ٹیرف کو یکجا کرنے کے لیے گیس سیکٹر میں اصلاحات کا عمل شروع کیا تھا۔ توانائی کی وزارت گزشتہ چند ہفتوں سے گیس کی قیمتوں میں اصلاحات متعارف کرانے کے لیے سرگرم عمل ہے۔ ان اصلاحات کا مقصد کھاد کی صنعت کے لیے فیڈ گیس کی قیمتوں کو 1,260 روپے/ایم ایم بی ٹی وی کی صنعتی شرح سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ کھاد کی صنعت ایندھن اور فیڈ اسٹاک کے ذریعہ گیس دونوں کا کلیدی صارف ہے۔ اس اقدام سے یوریا کی قیمتیں مستحکم ہوں گی، گیس کے ذخائر کو بہتر بنایا جائے گا اور گیس ڈویلپمنٹ سرچارج میں سرپلس کو یقینی بنایا جائے گا – جو گیس کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور گیس کی قلت کو دور کرنے کے لیے اہم ہے۔
    تاہم ای سی سی کا ایک بین وزارتی کمیٹی تشکیل دینے کا حالیہ فیصلہ، جس میں مختلف وزارتوں بشمول خزانہ، منصوبہ بندی، تجارت، فوڈ سیکیورٹی، صنعتوں، بجلی اور پیٹرولیم کے نمائندے شامل ہوں گے، کھاد کی صنعت کے لیے گیس مختص کرنے اور قیمتوں کا تعین کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ ایک تاخیر ا ی سی سی کا اگلا اجلاس وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر کی چین سے واپسی کے بعد شیڈول ہے۔ گیس کا گردشی قرضہ 2.9 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا ہے، جس کا انکشاف نگران وفاقی وزیر توانائی محمد علی نے حالیہ میڈیا بریفنگ میں کیا۔ سیکٹر کے ایک تجزیہ کار نے مختلف پروڈیوسرز کے لیے ان پٹ لاگت میں تفاوت کو اجاگر کیا، جس سے کسانوں کے لیے یوریا کی مارکیٹ کی قیمتوں میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔ کچھ مینوفیکچررز پسماندہ ہیں کیونکہ انہیں پیٹرولیم پالیسی 2012 کی قیمتوں کے تحت گیس فراہم کی جاتی ہے، جو یو اید ڈی سے منسلک ہے اور روپے کی قدر میں کمی اور خام تیل کی شرح میں اتار چڑھاؤ سے متاثر ہوتی ہے۔ کاروباری عملداری کو برقرار رکھنے کے لیے، ان مینوفیکچررز کو یوریا کی قیمتوں کو ایڈجسٹ کرنا ہوگا۔ کھاد کی قیمتوں کو مستحکم کرنے، ضرورت سے زیادہ منافع خوری اور بلیک مارکیٹ کی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے گیس کی قیمتوں کے اتحاد کو واحد مستقل حل کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ پچھلے پانچ سالوں میں، پٹرولیم پالیسی 2012 کے تحت فیڈ گیس کے نرخ 235 فیصد سے زیادہ بڑھے ہیں، جو کہ روپے 518/MMBTU سے 1,745 روپے/MMBTU ہو گئے ہیں۔ پیٹرولیم پالیسی کے تحت فیول گیس ٹیرف اب فرٹیلائزر پالیسی ٹیرف سے زیادہ ہے۔

  • ملک میں مجموعی طور پر 11 مقامات سے   پولیو وائرس کے  نمونے حاصل کئے گئے ہیں

    ملک میں مجموعی طور پر 11 مقامات سے پولیو وائرس کے نمونے حاصل کئے گئے ہیں

    ملک کے مختلف صوبوں میں مزید 11 مقامات سے اکٹھے کیے گئے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کا پتہ چلا، ملک کے پولیو کے خاتمے کے پروگرام کے حکام نے بتایا کہ اس وبائی بیماری سے ملک میں چوتھے بچے کو مفلوج ہونے کی خبر آئی ہے، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ اسلام آباد میں پولیو کے خاتمے کے لیے ریجنل ریفرنس لیبارٹری نے اکتوبر 2023 میں اکٹھے کیے گئے 11 ماحولیاتی (سیوریج) نمونوں میں ٹائپ 1 وائلڈ پولیو وائرس (ڈبلیو پی وی 1) کی نشاندہی کی تصدیق کی ہے جن میں چار پشاور سے، تین کوئٹہ بلاک سے، دو کراچی اور ایک ایک بنوں اور لاہور سے” ہوئی ہیں . بلوچستان میں، پولیو وائرس پشین، چمن اور کوئٹہ میں پایا گیا، اہلکار نے کہا، انہوں نے مزید کہا کہ پشین میں ماحولیاتی نمونہ (گراب) 2 اکتوبر 2023 کو ‘تروا’ ماحولیاتی نمونے جمع کرنے والی سائٹ سے جمع کیا گیا تھا۔ اس سال ضلع پشین سے یہ دوسرا مثبت نمونہ ہے۔ الگ تھلگ وائرس کو کلسٹر کے طور پر درجہ بندی کیا گیا ہے اور 21 مئی 2023 کو قندھار افغانستان میں ماحولیاتی نمونے میں پائے جانے والے وائرس سے 99.4 فیصد جینیاتی طور پر منسلک ہے۔ چمن میں ماحولیاتی نمونہ 2 اکتوبر 2023 کو ‘آرمی کازیبہ’ ماحولیاتی نمونہ جمع کرنے کی سائٹ سے جمع کیا گیا تھا۔ ضلع چمن سے اس سال یہ دوسرا مثبت نمونہ ہے۔ الگ تھلگ وائرس کو کلسٹر کے طور پر درجہ بندی کیا گیا ہے اور 18 ستمبر 2023 کو ڈیرہ بگٹی میں ماحولیاتی نمونے میں پائے جانے والے وائرس سے 99.89 فیصد جینیاتی طور پر منسلک ہے۔
    محکمہ صحت اہلکار نے بتایا کہ کوئٹہ میں ماحولیاتی نمونہ (BMFS) 3 اکتوبر 2023 کو ‘سرپل’ ماحولیاتی نمونہ جمع کرنے کی سائٹ سے جمع کیا گیا تھا۔ اس سال ضلع کوئٹہ سے یہ پہلا مثبت نمونہ ہے۔ الگ تھلگ وائرس کو YB3A کلسٹر کے طور پر درجہ بندی کیا گیا ہے اور 18 ستمبر 2023 کو ڈیرہ بگٹی میں ماحولیاتی نمونے میں پائے جانے والے وائرس سے 99.77 فیصد جینیاتی طور پر منسلک ہیں۔ خیبرپختونخوا میں، بنوں میں ‘ہنجیل نور آباد’ ماحولیاتی نمونے جمع کرنے کی جگہ پر پولیو وائرس کا پتہ چلا، جو اس سال ضلع بنوں سے دوسرا مثبت نمونہ ہے۔ مزید یہ کہ رواں سال ضلع بنوں سے پولیو کے تین انسانی کیسز بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔ الگ تھلگ وائرس کو YB3C کلسٹر کے طور پر درجہ بندی کیا گیا ہے اور 99.4 فیصد جینیاتی طور پر اسی ضلع، یعنی بنوں میں 21 ستمبر 2023 کو ماحولیاتی نمونے میں پائے جانے والے وائرس سے منسلک ہے۔
    اسی طرح چار مقامات پر ‘نرے کھوار’، ‘حیات آباد 1 اور 2’، ‘یوسف آباد اور تاج آباد’ اور ‘گل آباد اور چنگی’ کمپوزٹ ماحولیاتی نمونے جمع کرنے کی جگہوں پر پولیو وائرس کا پتہ چلا۔ کراچی میں ماحولیاتی نمونہ (گراب) 3 اکتوبر 2023 کو ‘اورنگی نالہ’ ماحولیاتی نمونہ جمع کرنے کی سائٹ سے جمع کیا گیا تھا، جو اس سال کیماڑی سے تیسرا مثبت نمونہ ہے۔ اسی طرح، ڈسٹرکٹ کراچی سینٹرل میں، ماحولیاتی نمونہ (BMFS) 4 اکتوبر 2023 کو ‘حاجی مرید گوٹھ’ ماحولیاتی نمونہ جمع کرنے کی سائٹ سے جمع کیا گیا۔

    اہلکار کے مطابق اس سال ڈسٹرکٹ کراچی سینٹرل سے یہ دوسرا مثبت نمونہ ہے۔ الگ تھلگ وائرس کو YB3A کلسٹر کے طور پر درجہ بندی کیا گیا ہے اور 99.77٪ جینیاتی طور پر اسی ضلع (کراچی وسطی) میں 7 ستمبر 2023 کو ماحولیاتی نمونے میں پائے جانے والے وائرس سے منسلک ہے۔
    لاہور میں، ماحولیاتی نمونہ (BMFS) 2 اکتوبر 2023 کو ‘گلشن راوی’ ماحولیاتی نمونہ جمع کرنے کی سائٹ سے جمع کیا گیا تھا، اہلکار نے مزید کہا کہ اس سال ضلع لاہور سے یہ چھٹا مثبت نمونہ تھا۔ اہلکار نے کہا، "اس الگ تھلگ وائرس کو YB3A کلسٹر کے طور پر درجہ بندی کیا گیا ہے اور 99.5 فیصد جینیاتی طور پر اسی ضلع میں، یعنی لاہور) میں 15 اگست 2023 کو ماحولیاتی نمونے میں پائے جانے والے وائرس سے منسلک ہے۔
    یہ نئی دریافتیں 2023 میں پاکستان میں مثبت ماحولیاتی (سیوریج) نمونوں کی کل تعداد 54 تک لے جاتی ہیں۔ جب کہ 2023 میں پاکستان میں پولیو کے انسانی کیسز کی تعداد چار ہے۔