Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • گوجرانوالا: دلہن نے دولہے کو نشہ آور مشروب پلا کر گھر کا صفایا کر دیا

    گوجرانوالا: دلہن نے دولہے کو نشہ آور مشروب پلا کر گھر کا صفایا کر دیا

    گوجرانوالا میں ایک دلہن نے اپنے دولہے کو نشہ آور مشروب پلا کر شادی کے بعد گھر کا صفایا کرنے کا واقعہ پیش آیا ہے۔ اس واقعے کے بعد متاثرہ دولہے نے پولیس میں رپورٹ درج کرائی ہے۔پولیس کے مطابق یہ واقعہ حال ہی میں ایک شادی کی تقریب کے بعد پیش آیا۔ دولہے نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ دلہن نے دودھ میں نشہ آور چیز ملائی، جس کے بعد وہ بے ہوش ہوگئے۔ جب صبح ہوش آیا تو دیکھا کہ دلہن اور اس کا سامان غائب تھے۔دولہے نے مزید بتایا کہ دلہن شادی کے دن 50 ہزار روپے، قیمتی زیورات، اور کپڑے لیکر فرار ہوگئی۔ جب انہوں نے دلہن کے گھر والوں سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، تو ان کے فون نمبر بند تھے، جس کی وجہ سے وہ مزید معلومات حاصل نہیں کر سکے۔
    یہ واقعہ گوجرانوالا کی ایک مقامی پولیس اسٹیشن میں درج کر لیا گیا ہے، اور پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کی تلاش کے لیے مختلف ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں اور جلد ہی ملزمان کو گرفتار کیا جائے گا۔اس واقعے نے شادی کی تقاریب میں احتیاطی تدابیر کے حوالے سے سوالات اٹھا دیے ہیں، اور لوگوں کو نشہ آور مشروبات سے محتاط رہنے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔ متاثرہ دولہے کے مطابق، اس واقعے نے اس کی زندگی کو متاثر کیا ہے اور وہ انصاف کے حصول کے لیے پرعزم ہیں۔ پولیس نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ اگر کسی کو اس طرح کے واقعات کا سامنا ہو تو فوری طور پر پولیس کو اطلاع دیں تاکہ ایسے جرائم کی روک تھام کی جا سکے۔

  • امریکی انتخابات،ٹرمپ کی فحش گفتگو کی ویڈیو وائرل

    امریکی انتخابات،ٹرمپ کی فحش گفتگو کی ویڈیو وائرل

    امریکا میں صدارتی انتخاب کا عمل جاری ہے، اور اس دوران ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک پرانی فحش گفتگو کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے۔

    امریکی صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی یہ ویڈیو ٹک ٹاک پر تیزی سے پھیل رہی ہے اور نئی نسل کے ووٹرز کے درمیان کافی بحث و مباحثہ کا باعث بنی ہوئی ہے۔اس وقت امریکی صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ اور کملا ہیرس کے درمیان سخت مقابلہ جاری ہے۔ دونوں امیدوار ایک دوسرے پر شدید تنقید کر رہے ہیں، جس سے انتخابی میدان میں گرما گرمی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ ان حالات میں ٹرمپ کی وائرل ویڈیو نے انتخابات کی فضا کو مزید متاثر کردیا ہے۔امریکی اخبار "واشنگٹن پوسٹ” کی رپورٹ کے مطابق، یہ ویڈیو دراصل 2005 کی ایک گفتگو پر مبنی ہے، جس میں ڈونلڈ ٹرمپ ایک خاتون کے ساتھ جنسی تعلقات کے بارے میں انتہائی نامناسب زبان استعمال کرتے ہیں۔ اس ویڈیو میں ٹرمپ اور دیگر افراد کے درمیان کی گفتگو گاڑی کے اندر کی جا رہی ہے، جہاں وہ ایک خاتون کی جسمانی خصوصیات کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ویڈیو میں موجود گفتگو کا مواد کافی غیر مہذب ہے، جس میں ٹرمپ ایک شخص کو اپنی جنسی مہمات کے بارے میں بتاتے ہیں۔ یہ گفتگو پہلے بھی 2016 کے انتخابات کے دوران وائرل ہوئی تھی، اور اس وقت بھی اسے واشنگٹن پوسٹ نے ہی شائع کیا تھا۔

    اس وائرل ویڈیو نے امریکا کے لاکھوں نئے نوجوان ووٹرز کو حیران و پریشان کردیا ہے، جنہوں نے ٹرمپ کے اس رویے پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ کئی نوجوان ووٹرز نے سوشل میڈیا پر اپنی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے رویے سے ٹرمپ کی صلاحیتوں پر سوالات اٹھتے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ کی یہ فحش گفتگو اور اس کی وائرل ویڈیو نے نہ صرف انتخابی مہم کو متاثر کیا ہے بلکہ نوجوان ووٹرز کے خیالات اور جذبات کو بھی بیدار کیا ہے۔ جیسے جیسے انتخابات قریب آرہے ہیں، اس طرح کی معلومات اور ویڈیوز عوامی رائے کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔ یہ انتخابی عمل کی سنجیدگی اور اہمیت کو بھی اجاگر کرتی ہیں۔

    امریکی انتخابات،جوبائیڈن نے سرگرمیاں ترک کر دیں،گھر ہی رہیں گے

    امریکی انتخابات،شمالی کیرولائنا میں ووٹنگ اسٹیشن پر طویل قطاریں

    امریکی انتخابات،کئی علاقوں میں ووٹرز کو شدید بارش اور طوفانی موسم کا سامنا

    امریکی صدارتی انتخابات،کون بنے گا وائیٹ ہاؤس کا مکین

    امریکی انتخابات،غزہ جنگ نے عرب،مسلم ووٹرز کو جل سٹائن کی طرف کیا مائل

    امریکی انتخابات،ٹک ٹاک نے نوجوانوں کےسیاسی خیالات بدل ڈالے

    کملا ہیرس کی کامیابی کے لئے بھارت کے مندروں میں دعائیں

    کون بنے گا وائیٹ ہاؤس کا مکین،پہلا حیران کن نتیجہ موصول

    امریکی صدارتی انتخابات،فیصلہ کن دن،ٹرمپ اور کملا کی نظریں کن ریاستوں پر

    کملا کی آخری ریلی،میوزک سپراسٹار لیدی گاگاکی شرکت،مداحوں کو پرجوش کر دیا

    انتخابی مہم،ٹرمپ کے 900 جلسے،گالیاں،کملاہیرس کو "سیکس ورکر”کہہ دیا

    غزہ جنگ کا خاتمہ کروں گی،کملاہیرس کی عرب امریکیوں کی حمایت کی کوشش

    ٹرمپ کی معیشت کے حوالے سے ہیرس پر تنقید

  • چیف جسٹس آف پاکستان کی زیرصدارت جوڈیشل کمیشن کا اہم اجلاس کل ہوگا

    چیف جسٹس آف پاکستان کی زیرصدارت جوڈیشل کمیشن کا اہم اجلاس کل ہوگا

    اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان، جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیرصدارت کل جوڈیشل کمیشن کا اہم اجلاس منعقد ہوگا۔ اجلاس میں جوڈیشل کمیشن کے سیکرٹریٹ کے قیام اور سپریم کورٹ کے آئینی بنچز کی تشکیل کے لئے ججز کی نامزدگی جیسے اہم موضوعات زیر غور آئیں گے۔یہ اجلاس 26 ویں آئینی ترمیم اور جوڈیشل کمیشن کی تشکیل نو کے بعد پہلی بار منعقد کیا جا رہا ہے۔ جوڈیشل کمیشن میں شامل سپریم کورٹ کے معزز ججز، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر اور جسٹس امین الدین بھی اس اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اٹارنی جنرل آف پاکستان منصور عثمان اعوان، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، اور پاکستان بار کونسل کے نمائندے اختر حسین بھی اجلاس میں شامل ہوں گے۔
    سیاسی جماعتوں کی نمائندگی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر فاروق ایچ نائیک، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے شیخ آفتاب احمد اور پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما عمر ایوب اور شبلی فراز اجلاس میں شریک ہوں گے۔ ان کے ساتھ کمیشن کی واحد خاتون ممبر روشن خورشید بروچہ بھی اجلاس میں موجود ہوں گی۔یہ اجلاس پاکستان کے قانونی نظام میں مختلف اہم تبدیلیاں لانے کی طرف ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔ اس دوران جوڈیشل کمیشن کے نئے سیکرٹریٹ کے قیام پر تبادلہ خیال ہوگا جو کمیشن کے روزمرہ امور کو باقاعدہ طور پر چلانے اور مؤثر بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ اجلاس کے دوران آئینی بنچز کے لئے ججز کی نامزدگی کے حوالے سے اہم فیصلے متوقع ہیں، جو مختلف آئینی معاملات کو حل کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

  • سروسز چیفس کی مدت میں اضافہ تقرری کی تاریخ سے ہوگا، خواجہ آصف

    سروسز چیفس کی مدت میں اضافہ تقرری کی تاریخ سے ہوگا، خواجہ آصف

    اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان کی تینوں سروسز کے سربراہان کی مدت ملازمت میں اضافہ ان کی تقرری کی تاریخ سے موثر ہوگا۔ یہ بات انہوں نے ایک حالیہ گفتگو کے دوران کہی، جس میں انہوں نے واضح کیا کہ سروسز چیفس کی غیر معینہ مدت کی توسیع نہیں ہو سکے گی۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ "ہم نے اس نئے قانون میں پرانے قانون کو نہیں چھیڑا”۔ ان کے اس بیان نے پاکستان کے سیاسی اور عسکری حلقوں میں کافی توجہ حاصل کی ہے، خاص طور پر اس تناظر میں جب حالیہ دنوں میں سروسز چیفس کی مدت ملازمت کے حوالے سے مباحث جاری تھیں۔یاد رہے کہ خواجہ آصف نے جو بل قومی اسمبلی میں پیش کیا، اس میں تینوں سروسز چیفس کی مدت ملازمت کو تین سال سے بڑھا کر پانچ سال کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔
    اس بل کی منظوری کے بعد، پاکستان آرمی ایکٹ 1952، پاکستان نیول ایکٹ 1961، اور پاکستان ایئر فورس ایکٹ 1953 میں بھی ترمیم کی گئی ہے۔اس نئی ترمیم کی منظوری کے بعد سروسز چیفس کے تقرری کے حوالے سے آئندہ کی حکمت عملی اور عمل درآمد کے طریقہ کار پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔یہ اقدام ملک میں سیاسی تبدیلیوں کے تناظر میں اہمیت رکھتا ہے، خاص طور پر جب کہ سروسز چیفس کی تقرری اور مدت کے حوالے سے ماضی میں بھی مختلف مباحث ہوئی ہیں۔ وزیر دفاع کے حالیہ بیان نے اس معاملے پر مزید روشنی ڈالی ہے اور عوامی حلقوں میں اس حوالے سے مختلف رائے پائی جاتی ہے۔

  • جسد خاکی کی بروقت منتقلی کے لیے خیبرپختونخوا حکومت کا مفت ایمبولینس سروس منصوبہ

    جسد خاکی کی بروقت منتقلی کے لیے خیبرپختونخوا حکومت کا مفت ایمبولینس سروس منصوبہ

    خیبرپختونخوا حکومت نے بیرون ملک سے آنے والے جسد خاکی کی مفت منتقلی کے لیے ایک ایمبولینس سروس منصوبہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں اسلام آباد ائیرپورٹ پر جسد خاکی منتقلی کے لیے ایک ڈیسک قائم کرنے کے لیے خط لکھ دیا گیا ہے۔یہ خط ڈائریکٹر جنرل ریسکیو ڈاکٹر ایاز کی جانب سے ائیرپورٹ انتظامیہ کو ارسال کیا گیا ہے، جس میں بیرون ملک سے جسد خاکی کی منتقلی کے حوالے سے ایک میٹنگ کی درخواست کی گئی ہے۔ خط میں یہ بھی وضاحت کی گئی ہے کہ حکومت کو 3 ایمبولینسز کی پارکنگ، عملے کے لیے رہائش اور معلومات فراہم کرنے کے لیے ڈیسک کی ضرورت ہے۔ڈاکٹر ایاز نے بتایا کہ یہ منصوبہ آئندہ ماہ شروع کرنے کی توقع ہے، جس کے تحت 9 کروڑ روپے کی لاگت سے 6 ایمبولینسیں خریدی جائیں گی۔ اسلام آباد ائیرپورٹ اور باچاخان انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر ہر ایک کے لیے 3 ایمبولینسز 24 گھنٹے دستیاب رہیں گی۔
    ڈاکٹر ایاز کے مطابق، دونوں ائیرپورٹس پر ہیلپ ڈیسک قائم کیے جائیں گے جہاں سے لواحقین کو مدد فراہم کی جائے گی۔ یہ سروس مفت فراہم کی جائے گی تاکہ بیرون ملک سے آنے والے جسد خاکی کو ائیرپورٹس سے متعلقہ علاقوں تک بروقت پہنچایا جا سکے۔ رپورٹ کے مطابق، بیرون ملک سے روزانہ 4 سے 5 جسد خاکی خیبرپختونخوا منتقل کیے جاتے ہیں۔ڈی جی ریسکیو نے مزید کہا کہ جسد خاکی کی بروقت منتقلی میں لواحقین کو مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، خاص طور پر وہ لوگ جو اپنے پیاروں کو کھو دیتے ہیں۔ گزشتہ سال کے دوران، خیبرپختونخوا میں 2 ہزار سے زائد جسد خاکی بیرون ملک سے منتقل کیے گئے۔اس منصوبے کا مقصد نہ صرف لواحقین کی مشکلات کو کم کرنا ہے بلکہ ان کی مدد کرنا بھی ہے، تاکہ وہ اپنے پیاروں کے آخری سفر میں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کریں۔ یہ اقدام خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے عوامی خدمات کی بہتری کے لیے ایک اہم قدم ہے، جس کی عوام میں پذیرائی متوقع ہے۔

  • عاطف خان کو نوٹس: وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کا جواب سامنے آگیا

    عاطف خان کو نوٹس: وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کا جواب سامنے آگیا

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما عاطف خان کو خیبرپختونخوا کی اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردہ طلبی نوٹس پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کا جواب سامنے آ گیا ہے۔ علی امین گنڈاپور نے ایک مبینہ آڈیو میں عاطف خان کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ "عاطف خان پہلے تصدیق کر لیا کریں، میں یہ کام کروں اتنا فارغ نہیں ہوں، میرے اوپر بہت بڑی ذمہ داری ہے۔” اس کے جواب میں عاطف خان نے کہا کہ "سب جانتے ہیں اینٹی کرپشن کا نوٹس کیوں اور کس کے کہنے پر آیا ہے۔” انہوں نے واضح کیا کہ "یہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح کی حرکت کرنے پر میں چپ بیٹھوں گا تو ایسا نہیں ہے، پارٹی کا نقصان عمران خان کا نقصان ہے۔
    عاطف خان نے سوشل میڈیا پر جاری کردہ اپنے آڈیو پیغام میں مزید کہا کہ "سب جانتے ہیں کہ اینٹی کرپشن کا نوٹس کیوں آیا ہے، ان چیزوں سے فرق نہیں پڑتا، میں ان چیزوں سے بڑی بڑی چیزوں سے نکل آیا ہوں۔” انہوں نے اپنے سابقہ تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "اس سے پہلے بھی نیب نے انکوائری کی تھی اور بند کردی تھی، 2014 میں پرویز خٹک چیف منسٹر تھے اور محمود خان ٹورازم کے منسٹر تھے۔عاطف خان نے یہ بھی کہا کہ "سینیٹر محسن عزیز نے یہ پراسس کروایا تھا، وہ اس وقت بورڈ آف انویسٹمنٹ کو ہیڈ کر رہے تھے اور اعظم خان اس وقت سیکرٹری ٹورازم تھے۔
    علی امین گنڈاپور نے عاطف خان کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ "ہیثیت کی باتیں نہ کریں، آپ کے منہ سے اچھی نہیں لگتی، دھمکیوں سے کوئی نہیں ڈرتا۔” انہوں نے مزید کہا، "یہ بدمعاشی کی بات نہیں ہے، کوئی کسی کی بدمعاشی اور دھمکیاں نہیں مانتا۔ آپ کی یہ حیثیت ہے کہ آپ اتنے اہم نہیں۔وزیراعلیٰ نے وضاحت کی کہ "جو انکوائری شروع ہوئی ہے وہ کوئی اور ہے، وہ نہیں جو آپ بتا رہے ہیں۔ انکوائری میں آپ جا کر جواب دیں گے، میں نے پہلے بھی آپ کو برداشت کیا تھا۔خیبرپختونخوا کے سابق صوبائی وزیر عاطف خان کو اینٹی کرپشن خیبرپختونخوا کی جانب سے طلبی کا نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ انہیں 12 نومبر کو صبح ساڑھے 10 بجے اینٹی کرپشن ڈائریکٹریٹ میں پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔ عاطف خان پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک نجی کمپنی کو غیر قانونی طور پر ٹھیکہ دیا ہے جس کی وجہ سے ان کے خلاف یہ انکوائری کی جا رہی ہے۔

    تنازعات اور گروپ بندی کی تردید
    اس سے پہلے بھی علی امین گنڈاپور اور عاطف خان کے درمیان تنازعات کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں، جس پر عاطف خان نے خاموشی توڑتے ہوئے کہا کہ "ہم کوئی گروپ بندی نہیں کررہے۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ "ہم نے علی امین گنڈاپور کے خلاف کوئی قرار داد نہیں لانی۔خیال رہے کہ خیبرپختونخوا کے وزیر شکیل خان کو عہدے سے ہٹانے کے معاملے پر عاطف خان اور جنید اکبر کے درمیان اختلافات بھی دیکھنے کو ملے تھے، جس کے بعد خیبرپختونخوا حکومت نے عمران خان کو شکایت کی تھی۔یہ صورتحال پی ٹی آئی کے اندرونی معاملات کی عکاسی کرتی ہے اور پارٹی کی قیادت کے لیے چیلنجز کا سامنا کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے، خاص طور پر جب کہ عوامی سطح پر ان الزامات کا اثر بھی ہو سکتا ہے۔

  • ترمیمی قانون کی منظوری مشاورت کے بعد ہوئی،  عطا تارڑ

    ترمیمی قانون کی منظوری مشاورت کے بعد ہوئی، عطا تارڑ

    اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے واضح کیا ہے کہ حالیہ ترمیمی قانون کی منظوری اچانک نہیں ہوئی، بلکہ اس پر طویل مشاورت جاری تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ قانون سازی کسی ایک شخص کے مفاد کے لیے نہیں بلکہ ملک کے اداروں کی بہتری کے لیے کی گئی ہے۔ نجی ٹی وی کے پروگرام کے دوران گفتگو کرتے ہوئے، عطا تارڑ نے اس بات کی وضاحت کی کہ پاکستان پیپلز پارٹی کو بھی اس قانون سازی کے بارے میں اعتماد میں لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ترمیم کے ذریعے آرمی چیف کی تعیناتی کے بارے میں موجود بے یقینی کو ختم کیا گیا ہے، جبکہ اس بات پر زور دیا کہ نئے قانون کے تحت پانچ سال کی مدت مقرر کرنے سے ادارے کے میرٹ بیسڈ سسٹم پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔وزیر اطلاعات نے اپوزیشن کی خاموشی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے انہیں بات کرنے کا موقع دینے کی کوشش کی، اور خاص طور پر بیرسٹر گوہر کو اپنی بات رکھنے کا مکمل موقع فراہم کیا گیا، مگر ان کے اپنے ممبرز نے شور مچا کر انہیں تقریر نہیں کرنے دی۔
    عطا تارڑ نے سوال اٹھایا کہ کیا عمر ایوب نے کبھی اپنے دادا کے دور کو غلط قرار دیا؟ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن قانون سازی پر بحث کرنے کے لیے تیار نہیں تھی، جو کہ جمہوری عمل کے لیے نقصان دہ ہے۔ انہوں نے مزید وضاحت کی کہ عدالتوں میں ججز کی تعداد میں کمی و بیشی ممکن ہے اور یہ تعداد حتمی نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "34 ججز کی تعداد تک پہنچنے کا مطلب یہ نہیں کہ اسی تعداد کو مستقل رکھا جائے گا۔” انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی ججز کی تعداد بڑھائی گئی ہے، اور یہ مطالبہ بار کونسلز کی جانب سے کیا گیا تھا۔عطا تارڑ نے یہ بھی کہا کہ حکومت کی پہلی کوشش تھی کہ آئینی عدالت قائم کی جائے، لیکن یہ کوشش کامیاب نہیں ہو سکی۔ انہوں نے واضح کیا کہ عدلیہ سے متعلق قانون سازی کسی ایک شخصیت کو سامنے رکھ کر نہیں کی گئی، بلکہ یہ ملک کے قانونی نظام کی بہتری کے لیے ضروری تھی۔
    وزیر اطلاعات نے پی ٹی آئی کے خلاف الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اس جماعت نے حد کر دی تھی، جبکہ حکومت نے کسی کے خلاف ہیروئن کا کیس نہیں ڈالا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اٹک پولیس اور انتظار پنجوتھا کے معاملے میں کوئی سازش نہیں ہے، بلکہ پولیس کا اغوا کاروں سے مقابلہ ہوا، جس کے نتیجے میں انتظار پنجوتھا بازیاب ہوئے۔ عطا تارڑ کے یہ بیانات اس وقت آئے ہیں جب ملک میں سیاسی درجہ حرارت بڑھتا جا رہا ہے اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے حکومت کی قانون سازی کے اقدامات پر سخت تنقید کی جا رہی ہے۔

  • حافظ حمد اللہ کا حکومت پر دھوکہ دینے کا الزام

    حافظ حمد اللہ کا حکومت پر دھوکہ دینے کا الزام

    اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے مرکزی رہنما حافظ حمد اللہ نے حالیہ قانون سازی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے انہیں دھوکہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ قانون سازی جمہوریت کی روح کے خلاف ہے اور اسے جمہوریت کے نام پر ایک سیاہ دھبہ قرار دیا۔ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے حافظ حمد اللہ نے واضح کیا کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں قوانین کا پاس ہونا انتہائی تیز رفتار عمل ہے، جس میں صرف بیس منٹ میں اہم قوانین منظور کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ مولانا فضل الرحمان کو اس معاملے میں اعتماد میں نہیں لیا گیا، جو پارٹی کے قائد ہیں۔حافظ حمد اللہ نے مزید کہا کہ یہ قانون سازی دراصل جمہوریت کی بجائے اقتدار کو مضبوط کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت کے ساتھ اصل لڑائی اب شروع ہوگی اور اس معاملے پر جے یو آئی کے رہنما اپنی آواز بلند کریں گے۔
    حافظ حمد اللہ کے اس بیان نے حکومت کی جانب سے کی جانے والی قانون سازی پر ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے، جسے متعدد حلقے جمہوری اقدار کے منافی سمجھتے ہیں۔ ان کا یہ کہنا کہ قانون سازی کا یہ عمل عوامی مشاورت کے بغیر ہو رہا ہے، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جے یو آئی حکومت کے اقدامات پر تنقید جاری رکھے گی۔ یہ صورت حال اس وقت پیدا ہوئی ہے جب ملک میں سیاسی درجہ حرارت کافی بلند ہے اور مختلف جماعتیں حکومت کی قانون سازی کی کوششوں کے خلاف اپنے احتجاج کا عزم کر رہی ہیں۔ حافظ حمد اللہ کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب سیاسی جماعتیں اپنی حیثیت کو مضبوط کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہیں۔ حافظ حمد اللہ کی طرف سے کی جانے والی اس تنقید کا کیا اثر حکومت کی کارکردگی پر پڑے گا، یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا، لیکن یہ واضح ہے کہ جے یو آئی کی قیادت اس معاملے میں خاموش نہیں رہے گی۔

  • حج پالیسی 2025ء کی منظوری میں مزید تاخیر

    حج پالیسی 2025ء کی منظوری میں مزید تاخیر

    اسلام آباد: حج پالیسی 2025ء کی منظوری ایک بار پھر تاخیر کا شکار ہو گئی ہے۔ کابینہ ذرائع کے مطابق، وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں حج پالیسی پر غور کیا گیا، لیکن اسے منظور نہیں کیا جا سکا۔ ذرائع نے بتایا کہ حج پالیسی 2025ء کو آئندہ اجلاس تک مؤخر کر دیا گیا ہے۔ وزارت مذہبی امور نے بھی تاحال اس کی منظوری کی تصدیق نہیں کی۔ دوسری جانب، وزارت مذہبی امور کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنا ہوم ورک مکمل کر لیا ہے اور حج پالیسی وفاقی کابینہ کو بھجوائی جا چکی ہے۔ تاہم، وفاقی کابینہ کی جانب سے ابھی تک حج پالیسی کی منظوری کے حوالے سے کوئی باضابطہ اطلاع نہیں ملی۔واضح رہے کہ مذہبی امور کی حج پالیسی وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد ہی باقاعدہ طور پر اعلان کیا جائے گا، جس کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

  • برطانوی پولیس کا سابق چیف جسٹس  کی گاڑی پر دھاوا بولنے کے معاملے میں مقدمہ درج

    برطانوی پولیس کا سابق چیف جسٹس کی گاڑی پر دھاوا بولنے کے معاملے میں مقدمہ درج

    لندن: برطانوی دارالحکومت لندن میں سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی گاڑی پر دھاوا بولنے کے واقعے کے حوالے سے برطانوی پولیس نے مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔ یہ واقعہ 29 اکتوبر کو مڈل ٹیمپل اِن لندن کے باہر پیش آیا، جہاں پاکستان ہائی کمیشن کی گاڑی پر حملہ کیا گیا تھا۔سفارتی ذرائع کے مطابق، یہ واقعہ اس وقت ہوا جب قاضی فائز عیسیٰ اور ان کی اہلیہ گاڑی میں سوار تھے۔ اس دھاوے کے بعد برطانوی پولیس نے اس معاملے کی سنجیدگی کو مدنظر رکھتے ہوئے باضابطہ تحقیقات شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔مقامی حکام نے بتایا کہ یہ اقدام اس وقت کیا گیا جب معاملے کو برطانیہ کے اعلیٰ ترین سفارتی حکام کے ساتھ اٹھایا گیا۔ ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ تحقیقات برطانوی قوانین کے تحت کی جائیں گی، اور پولیس نے مختلف شواہد جمع کرنے اور گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔
    یہ دھاوا نہ صرف قاضی فائز عیسیٰ کی سیکیورٹی پر سوال اٹھاتا ہے بلکہ یہ واقعہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے لیے ایک نازک معاملہ بھی بن گیا ہے۔ اس واقعے کے بعد، پاکستان ہائی کمیشن نے برطانوی حکام سے رابطہ کرکے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
    سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ سیاسی شخصیات کی سیکیورٹی اور ان کی حفاظت کے حوالے سے مزید اقدامات کی ضرورت ہے، خاص طور پر جب وہ غیر ملکی دورے پر ہوں۔برطانوی پولیس نے اس معاملے پر عوام سے تعاون کی درخواست کی ہے، اور ان افراد سے بھی رابطہ کرنے کی کوشش کی ہے جو اس واقعے کے عینی شاہدین تھے۔ تحقیقات کے دوران، پولیس اس بات کی جانچ کر رہی ہے کہ آیا یہ حملہ منظم تھا یا محض ایک اچانک واقعہ ،اس دھاوے کی تفصیلات اور اس کی پس پردہ وجوہات کا پتہ لگانے کے لیے مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں، جس کا مقصد قاضی فائز عیسیٰ اور ان کی اہلیہ کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ اس واقعے کے نتیجے میں، برطانوی حکومت اور پاکستانی حکومت کے درمیان سفارتی تعلقات کی نوعیت پر بھی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔یہ واقعہ نہ صرف قاضی فائز عیسیٰ کے لیے بلکہ پاکستان کے لئے بھی ایک اہم تشویش کا باعث ہے، اور اس کی تحقیقات کے نتائج کا انتظار کیا جا رہا ہے۔