پاکستان کے خلاف میچ سے قبل بھارتی ٹیم کو بڑا نقصان ہو گیا، بھارتی میڈیا کے مطابق کے ایل راہول ایشیا کپ کے ابتدائی دو میچز سے باہر ہو گئے ، کے ایل راہول ٹیم کے دیگر کھلاڑیوں کے ہمراہ کنڈیشنگ کیمپ میں شریک ہیں ، کے ایل راہول سو فیصد فٹنس ثابت نہ کر سکے جسکی وجہ سے انکو ٹیم سے باہر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ، کے ایل راہول ٹیم کے ہمراہ سری لنکا جائیں گے،تاہم پاکستان اور بھارت کے درمیان ایشیا کپ کا میچ دو ستمبر کو کھیلا جائے گا
Author: صدف ابرار
-

تشدد کے سائے اور گھریلو ملازمین کی حالت زار
آج کل جج کی بیوی کے ہاتھوں ایک کم عمر ملازمہ کو تشدد کا نشانہ بنانے کی خبروں اور خاص طور پر سوشل میڈیا پر یک طرفہ مؤقف نے ہر زی شعور کو پریشان کر کے رکھ دیا ہے۔ حقیقت جو بھی ہو گی جلد سامنے آ جائے گی۔گھریلو خواتین کو ملازمہ کی ضرورت رہتی ہے اور شاید ہی کوئی بد بخت ہو جو اپنے گھریلو ملازمین کے ساتھ ناروا سلوک روا رکھے۔ ایک خاتون ہونے کے ناطے یہ بھی سمجھ سے بالاتر ہے کہ آخر کسی بھی خاتون خانہ کو ملازمہ پر ہاتھ اٹھانے کی ضرورت ہی کیوں محسوس ہوتی ہے عام طور پر ایک طرف بہت کم تنخواہ پر ملازمہ رکھتے ہیں دن بھر اس سے کام لیتے ہیں اور پھر اسے تشدد کا نشانہ بھی بناتے ہیں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اپنے پورے عروج پر ہیں۔مجھے بھی ایسا ہی ایک واقعہ یاد ہے جب ہماری پڑوسن نے محض فریج میں سے ایک سیخ کباب کھانے پر اپنی ملازمہ کو ایک انتہائی سرد شام گھر سے نکال دیا اور اسے رات پارک میں بسر کرنا پڑی۔ یہ واقعہ بھی دل و دماغ کو ماؤف کر دیتا ہے۔ اب ایک سیخ کباب کھانے پر ملازمہ کو گھر سے نکال دینا کسی بھی طور عقل مندی نہیں بلکہ ہونا تو یہ چاہئیے کہ درگذر کرتے ہوئے ملازمہ کو سمجھایا جائے یا پھر اگر اسے بھی وہی کھانے کو دے دیا جائے جو گھر کے مکین کھاتے ہیں تو کیا قیامت ٹوٹ پڑے گی؟ بطور جج کی اہلیہ کی خبروں نے بہت سے قصے تازہ کر دئیے ہیں۔ یہاں پر یہ بات قابل غور ہے کہ پاکستان میں گھریلو ملازمین پرتشدد جیسے عام سی بات ہو،دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی حالیہ برسوں میں گھریلو ملازمین کے خلاف تشدد کے واقعات میں پریشان کن اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ غربت اور استحصال کے چکر میں پھنسے ہوئے، یہ کمزور افراد، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں، اپنے مالکوں کے ہاتھوں جسمانی، زبانی اور جنسی استحصال کا سامنا کرتے ہیں۔ ان کی حالت زار کے بارے میں بیداری پیدا کرنے میں کچھ پیش رفت کے باوجود، پاکستان میں گھریلو ملازمین کے تحفظ اور انہیں بااختیار بنانے کے لئے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔گھریلو ملازمین پاکستان بھر میں لاکھوں گھرانوں کی زندگیوں میں ایک ناگزیر کردار ادا کرتے ہیں۔ اکثر غریب دیہی علاقوں سے آنے والے کام کے مواقع کی تلاش میں شہروں کی طرف ہجرت کرتے ہیں۔ افسوسناک طور پروہ اپنے آپ کو ان لوگوں کے ذریعہ بدسلوکی کا شکار پاتے ہیں جو انہیں ملازمت دیتے ہیں۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی ایک رپورٹ کے مطابق، تقریباً 20 فیصد گھریلو ملازمین تشدد کا شکار ہیں، اور بے شمار دیگر افراد کو استحصال، کم اجرت اور کام کے نامناسب حالات کا سامنا ہے۔
پاکستان میں گھریلو ملازمین مختلف قسم کے تشدد کا شکار ہیں۔ جیسے جسمانی زیادتی، بشمول مارنا پیٹنا اور یہاں تک کہ جلانا، افسوسناک طور پر عام ہے۔ زبانی بدسلوکی، توہین آمیز تبصرے، اور دھمکیاں جو ان کے دکھوں میں مزید اضافہ کرتی ہیں۔ اسکے علاوہ جنسی طور پر ہراساں کرنا بھی ایک عام سی بات ہے، بہت سے گھریلو ملازمین اپنے آجروں اور ان کے خاندان کے افراد کی جانب سے ناپسندیدہ پیش رفت اور نامناسب رویے کو برداشت کرتے ہیں،پاکستان میں گھریلو ملازمین کے خلاف تشدد کو عام کرنے میں کئی عوامل اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جیسے سماجی اصول اور گھریلو ملازمین کو کمتر اور ڈسپوزایبل تصور کرنا ان کے کمزور ہونے میں معاون ہے۔اور تو اور قانونی تحفظ کا فقدان اور اس شعبے میں روزگار کے لیے واضح رہنما اصولوں کی عدم موجودگی اس مسئلے کو مزید بڑھا دیتی ہے۔ مزید معاشرے میں خواتین کی پست حیثیت استحصال اور بدسلوکی کے کلچر کو مزید برقرار رکھتی ہے، کیونکہ بہت سے گھریلو ملازم خواتین ہیں۔ تاہم پاکستانی حکومت نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے کچھ اقدامات کیے ہیں، جیسے کہ گھریلو کام کو منظم کرنے اور کارکنوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے قوانین بنانا۔ گھریلو ملازمین (روزگار کے حقوق) ایکٹ 2021 میں منظور کیا گیا جس کا مقصد گھریلو ملازمین کے لیے کام کے مناسب حالات اور مناسب معاوضے کو یقینی بنانا ہے۔ تاہم، گھریلو کام کے بہت سے انتظامات کی غیر رسمی نوعیت اور مالکان کی تعمیل کرنے میں ہچکچاہٹ کی وجہ سے نفاذ ایک چیلنج بنا ہوا ہے،گھریلو ملازمین کے خلاف وسیع تشدد سے نمٹنے کے لیے، بیداری پیدا کرنا مالکان کو ملازمین کے حقوق اور ذمہ داریوں سے مکمل آگاہ کرنا بہت ضروری ہے۔جو مہمات اور ورکشاپس ان کمزور افراد کی حالت زار کے بارے میں ہمدردی اور افہام و تفہیم کو فروغ دینے میں مدد کر سکتی ہیں، اسکے علاوہ مثبت تبدیلی کو فروغ دینے کے لیے، صاحب حیثیت لوگ جو ملازم رکھنے کے خواہشمند ہو ان کو روزگار کے اخلاقی طریقوں کو اپنانا چاہیے اور گھریلو ملازمین کے ساتھ عزت اور وقار کے ساتھ برتاؤ کرنا چاہیے۔ منصفانہ اجرت پر عمل درآمد، مناسب حالات زندگی فراہم کرنا، اور مناسب اوقات کار کو یقینی بنانا ایک محفوظ ماحول بنا سکتا ہے، گھریلو ملازمین کے خلاف تشدد سے نمٹنے کے لیے سماجی، قانونی اور انفرادی سطح پر جامع کوششوں کی ضرورت ہے۔ اس میں احترام اور ہمدردی کا ماحول پیدا کرنا، تعلیم اور بیداری کو فروغ دینا، مزدوری کے قوانین کو نافذ کرنا، اور ضرورت پڑنے پر گھریلو ملازمین کو انصاف تک رسائی کے لیے سپورٹ سسٹم فراہم کرنا شامل ہے۔ ان بنیادی مسائل کو حل کر کے، پاکستان ایک زیادہ منصفانہ اور مساوی معاشرے کی طرف بڑھ سکتا ہے جہاں تمام افراد کے ساتھ عزت اور انصاف کے ساتھ سلوک کیا جائے، چاہے ان کا پیشہ کچھ بھی ہو۔
بعض لوگوں کو مؤقف ہے کہ اگرچہ ہمارے یہاں بے شمار قوانین ہیں مگر ان پر عمل درآمد نہیں ہوتا۔یہ بھی کسی حد تک درست ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخع قوانین پر عمل درآمد کون ممکن بنائے گا؟ ہمارے کئی ادارے بھی امراٗ کے زیر اثر آ جاتے ہیں اور یوں غریب کی شنوائی پس پشت چلی جاتی ہے اسی لئے کہا جاتا ہے کہ کورٹ کچہری کی بجائے ہمیں احترام اور ہمدرد بن کر سوچنے کی کوشش کرنا ہو گی۔ -

انضمام الحق نے 2 ملین روپے ماہانہ تنخواہ وصول کرنے کے لیے پی سی بی سے تین سالہ معاہدہ کر لیا
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے انضمام الحق کے ساتھ معاہدے کو حتمی شکل دے دی ہے، جس میں انتظامی کمیٹی کی جانب سے تین سال کے معاہدے کی باضابطہ منظوری شامل ہے۔ پی سی بی نے 7 اگست کو باضابطہ اعلان کرتے ہوئے انضمام الحق کو نیا چیف سلیکٹر قرار دیا تھا۔ اس کردار میں، وہ پہلے ہی سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز اور آئندہ ایشیا کپ 2023 کے لیے ٹیموں کا انتخاب کر چکے ہیں۔تاہم ان کے معاہدے کے حوالے سے بات چیت ابھی جاری ہے۔ انضمام نے مستقل فیصلہ سازی اور پاکستان کرکٹ کی مجموعی بہتری کو یقینی بنانے کے لیے چیف سلیکٹر کے لیے طویل مدت کی اہمیت پر زور دیا۔
انضمام نے اتوار کو کراچی میں ہونے والی پی سی بی مینجمنٹ کمیٹی کی آن لائن میٹنگ میں حصہ لیا۔ اس میٹنگ کے دوران، پی سی بی نے کرکٹ میں ان کے تعاون کو سراہا اور مبینہ طور پر تین سالہ معاہدے کی پیشکش کو باقاعدہ طور پر پیش کیا۔ پی سی ببی ذرائع کے مطابق ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ انہیں 20 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ مل سکتی ہے۔
انضمام منگل کو ملتان میں ٹیم ڈائریکٹر مکی آرتھر، ہیڈ کوچ گرانٹ بریڈ برن اور کپتان بابر اعظم سے ملاقات کریں گے تاکہ ورلڈ کپ اسکواڈ کی تشکیل سے متعلق بات چیت متوقع ہے،واضح رہے کہ مکی آرتھر سری لنکا میں ہندوستان اور پاکستان کے میچ کے بعد روانہ ہوں گے، اور انضمام کا ارادہ ہے کہ وہ ممکنہ ورلڈ کپ اسکواڈ کے بارے میں بات چیت کریں -

چارسدہ اور مردان میں بجلی کے بھاری بلوں کے خلاف عوام آج بھی سراپا احتجاج
مردان اور چارسدہ میں مرکزی تنظیم تاجران کا بجلی بلوں کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے، مرکزی تنظیم تاجران تاجراتحاد احسان باچہ گروپ کی سر براہی میں مہنگائی اور بجلی کے بھاری بلوں کے حلاف مردان بنک روڈ پر شدید احتجاج کیا جا رہا ہے احتجاج میں کثیر تعداد عوام کی بھی شامل ہے،شہریوں نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بجی کے بل پکڑے ہوئے ہے،اور حکومت کے خلاف شدید نعرہ بازی چل رہی ہے،احتجاج کے دوران گفتگو کرتے ہوئے عوام اور تاجران نے کہا کہ اضافی بلوں نے عوام کی نیندیں حرام کردیں ہیں ، پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے عوام دبے اب بھاری بل بھیج کر مزید تنگ کیا جا رہا ہے،جو برداشت نہیں کیا جائے گا،، تاجران اور مقررین نے احتجاج کے دوران کہا کہ حکمران اپنی عیاشیاں ختم کردیں اور عوام کے مسائل پر نظر ڈال دے ،اسکے علاوہ صدر تاجران مشتاق سیماب نے کہا کہ بجلی کے تمام فری یونٹ ختم کئے جائیں۔ واضح رہے کہ مردان چارسدہ اور اور خیبر پختونخوا کے عوام پہلے ہی بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے شدید تنگ تھے اوپر سے بھاری بل بھی موصول ہوئے جس کی وجہ سے عوام مزید سیخ پا ہو گئے ہیں،جس کی وجہ سے پورے ملک سمیت کے پی کے مردان میں آج چوتھے روز شدید احتجاج جاری ہے،دوسری جانب چارسدہ کے تاجران کی جانب سے بھی بجلی کے بلوں میں ناروا ٹیکسس کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا جا رہا ہے
چارسدہ مظاہرے میں تاجر اتحاد کی قیادت اور تاجروں نے بھرپور شرکت کی ، مظاہرین نے بجلی کی بل بھی جلا دئیے اور حکومت اور اشرافیہ کے خلاف شدید نعرے بازی بھی کی احتجاج میں شرکاء نے چارسدہ فاروق اعظم چوک کو مظاہرین نے ہر قسم ٹریفک کے لیے بند رکھا تھا مظاہرے سے تاجر اتحاد چارسدہ مرکزی صدر افتخار حسین صرافہ اور جنرل سیکرٹری حبیب نے حطاب بھی کیا جبکہ آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے تاجروں کا شٹر ڈاون ہڑتال لائحہ عمل کے بارے میں اعلان بھی متوقع ہے چارسدہ میں کسی بھی ناحوشگور واقعے سے نمٹنے کے لئے پولیس کی نفری بھی موجود ہے، -

خیبر علی مسجد خود کش دھماکے کے سہولت کار نے پولیس پر فائرنگ کی تھی،ایف آئی آر کا متن
پشاور علی مسجد خود کش دھماکے میں گرفتار ملزم ابوذر کی ہلاکت پر سی ٹی ڈی پشاور کے مطابق انہوں نے دہشت گردوں سے کراس فائرنگ کی اور ایف آئی آر درج کرلی، گرفتار سہولت کار نے دوران تفتیش علاقہ سرکے خوڑ جمرود کے ایک غار میں خود کش جیکٹس چھپانے کا انکشاف کیا تھا،ایف آئی آر میں موقف اپنایا گیا ہے کہ تفتیشی ٹیم اور پولیس جب ملزم کے ہمراہ مذکورہ جگہ پہنچے تو پہلے سے موجود دہشت گرد عبد اللہ شلمانی اور دیگر نے فائرنگ شروع کردی ،ایف آئی آر کے مطابق پولیس کا دہشت گردوں کے ساتھ دس منٹ تک فائرنگ کا تبادلہ ہوا ،جس سےابوذرموقع پر جاں بحق ہوا جبکہ پولیس کی ایک گاڑی کونقصان پہنچا، ایف آئی آر میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ابوزر کہ ہلاکت اور علی مسجد دھماکے کی ایف آئی آر دہشت گرد عبد اللہ شلمانی اور دیگر کے خلاف داود خان ایچ ایچ او سی ٹی ڈی کی مدعیت میں درج ہوئی،
-

لکی مروت،پولیس موبائل پر حملہ،دو اہلکار شہید
خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں نامعلوم افراد کی جانب سے پولیس موبائل پر حملے کے نتیجے میں 2 اہلکار شہید ہوگئے۔
حکام کے مطابق لکی مروت میں افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں نا معلوم افراد کی جانب سے پولیس موبائل پر حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں 2 اہلکار شہید جبکہ 3 زخمی ہوگئے، حملے کے نتیجے میں شہید ہونے والوں اہلکاروں میں بشیر خان اور سیف علی خان شامل ہیں جبکہ عصمت اللہ، امداد اور انعام اللہ زخمی ہوئے ہیں جنہیں طبی امداد کے لئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق علاقے کی ناکہ بندی کر کے حملہ آوروں کی گرفتاری کے لئے سرچ آپریش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
-

امید ہے کہ اب ملک میں ایتھلیٹکس اور خاص طور پر جیولن تھرو کو بھی توجہ ملے گی ،ویمن جیولن تھروور فاطمہ حسین
ورلڈ ایتھلیٹکس چیمپئن شپ کے سلور میڈلسٹ ایتھلیٹ ارشد ندیم کے ساتھ ٹریننگ کرنیوالی اور پاکستان کی ٹاپ ویمن جیولن تھروور فاطمہ حسین کا کہنا ہے کہ ارشد ایک فائٹر کھلاڑی ہیں، انجری کے بعد انہوں نے شاندار کم بیک کیا، ارشد کی کامیاب پرفارمنس کے بعد امید ہے کہ ملک میں ایتھلیٹکس کو بھی توجہ دی جائے گی۔
ارشد ندیم نے گزشتہ شب ہنگری کے شہر بڈاپسٹ میں ورلڈ ایتھلیٹکس چیمپئن شپ کے فائنل میں 87.82 کی تھرو کے ساتھ سلور میڈل جیتا اور ورلڈ چیمپئن شپ میں میڈل جیتنے والے پہلے پاکستانی ایتھلیٹ بنے۔
ارشد کی پرفارمنس پر ایک مقامی ٹی وی سے گفتگو میں پاکستان کی ویمن جیولن تھرو چیمپئن فاطمہ حسین نے کہا کہ ارشد نے ثابت کردیا کہ وہ فائٹر پلیئر ہیں۔ فاطمہ کا کہنا تھا کہ وہ ارشد ندیم کے ساتھ ہی ٹریننگ کرتی ہیں، ارشد ندیم نے انجری کے بعد شاندار کم بیک کیا حالانکہ ورلڈ چیمپئن شپ کیلئے روانگی سے دس روز قبل انہیں گھٹنے میں مسئلہ ہوا تھا لیکن اس سے ان کی پرفارمنس پر اثر نہیں پڑا۔
-

خیبر پختونخواہ کے ضمنی بلدیاتی انتخابات میں زیادہ تر آزاد امیدواران کامیاب
خیبرپختونخوا کے 21 اضلاع کی 65 ویلج اور محلہ کونسلوں میں ہونے والے ضمنی بلدیاتی انتخابات کے غیر حتمی نتائج کے مطابق زیادہ تر آزاد امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔ خیبرپختونخوا کے 21 اضلاع میں 65 ویلج اور پڑوس کونسلز کی 72 نشستوں کے لیے انتخابات عمومی طور پر پرامن ماحول میں ہوئے۔
اب تک کے غیر یقینی نتائج کے مطابق ان انتخابات میں آزاد امیدواروں نے سب سے زیادہ 40 نشستیں حاصل کی ہیں اور پاکستان تحریک انصاف 14 نشستوں کے ساتھ کامیاب ترین سیاسی جماعت ہے۔ پی ٹی آئی کے ساتھ ساتھ جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) نے چھ، جماعت اسلامی نے پانچ، عوامی نیشنل پارٹی نے چار، پاکستان پیپلز پارٹی نے دو اور ڈیرہ اسماعیل کی تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) نے چھ نشستیں حاصل کی ہیں۔جنرل کونسلر کے لئے تمام سیاسی جماعتوں، پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمانی، پاکستان تحریک انصاف، پاکستان مسلم لیگ (ن)، جمعیت علمائے اسلام، جماعت اسلامی، تحریک لبیک پاکستان اور نیشنل عوامی پارٹی نے شرکت کی۔اسکے علاوہ کونسل، یونین، خواتین، مزدور، عوام اور اقلیتی سیٹوں پر بھی انتخابات ہوئے، اس سے قبل یہ انتخابات جماعتی بنیادوں پر نہیں کرائے گئے تھے تاہم 2021 میں پشاور ہائی کورٹ نے بھی خیبرپختونخوا میں گاؤں اور پڑوسی کونسل کے انتخابات جماعتی بنیادوں پر کرانے کا حکم دیا تھا۔ یہ حکم خیبرپختونخوا کے لوکل گورنمنٹ الیکشن کے خلاف دائر درخواستوں کے نتیجے میں جاری کیا گیا تھا
خیبرپختونخوا الیکشن کمیشن کے ترجمان سہیل احمد کا کہنا ہے کہ الیکشن میں اضلاع کی تعداد 21 تھی تاہم کئی اضلاع میں امیدوار بغیر مقابلے کے منتخب ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو اس ضمنی انتخاب کی تیاری میں دو ماہ کا وقت لگا ہے۔
اس سے قبل پیپلز پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ اگر الیکشن کمیشن 21 اضلاع میں انتخابات کرا سکتا ہے تو عام انتخابات بھی 90 دن میں ممکن ہیں۔ -

پاکستان کو ہرانا اب مشکل ہے کیونکہ جیت انکی عادت بن گئی ہے،وسیم اکرم
وسیم اکرم نے قومی ٹیم کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ کہ جیت پاکستان کی عادت بن گئی ہے اس ٹیم سے مقابلہ اب بھارت سمیت کسی بھی ٹیم کیلئے آسان نہیں ہوگا۔دبئی میں ایک تقریب کے دوران گفتگو کرتے ہوئے سابق کپتان وسیم اکرم کاکہنا تھا کہ جیت پاکستان کی عادت بن گئی ہے اس ٹیم سے مقابلہ اب بھارت سمیت کسی بھی ٹیم کیلئے آسان نہیں ہوگا۔انہوں نے ایشیا کپ پر بات کرتے ہوئے کہاکہ ایشیا کپ ایک لمبا ٹورنامنٹ ہے، کوئی ایک میچ نہیں ہے جسے کھیل کر کوئی بھی ٹیم سیمی فائنل میں جاسکتی ہے۔
ان کاکہنا تھا کہ ایشیا کپ 20 کے بجائے 50 اوور کا میچ ہے لہٰذا اس میچ کیلئے مختلف مائنڈ سیٹ اور مختلف حکمت عملی درکار ہوگی۔ ان میچز میں ہر ٹیم کے نوجوان بائولرز کی کارکردگی 10 اوورز سے معلوم ہوگی کیوں کہ ہر بائولر کے پاس اب 4 اوور کے بجائے 10 اوور ہوں گے۔
-

عمران خان صرف اپنی بادشاہت چاہتے تھے،پرویز خٹک
کاغان سابق وزیر اعلی اور پی ٹی آئی پارلیمنٹیر ینز پرویز خٹک نے سیاحتی مقام کاغان کا دورہ کیا جہاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کاغان کی سڑکیں دیکھ کر شرم آنے لگی،یہاں آتے ہوئے سیاح کیا کہتے ہونگے، کتنے نااہل حکمران ہیں، پرویز خٹک نے مزید کہا کہ دنیا اگے چلے گئی، ہم پیچھے جارہے ہیں، پی ٹی آئی پی کے سربراہ ک کہنا تھا خوبصورت خواب دکھانے والے کرپٹ سیاست دانوں کے صرف اپنے خاندان خوبصورت ہوجاتے ہیں۔ یہ قائد اعظم کا پاکستان نہیں، یہاں سیاسی لوگوں اپنئ بھاری کے لئے قرضے لئے ہے جسکی وجہ سے اج ہم قرضوں کی دلدل سے نہیں نکل پا رہے۔ پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی میں رہ کر وقت ضائع کیا
کیونکہ تحریک انصاف نے اس ملک کے لئے کچھ نہیں کیا۔عمران خان کہتا تھا کہ خیبرپختونخوا میں اصلاحات لائے, کیا پنجاب میں نہیں لا سکتے تھے؟انہوں نے ایک دفعہ پھر عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا عمران خان تاحیات بادشاہ بننا چاہتا تھا،اور خان کے ذہن میں فرعونیت اگئی تھی۔اس نے کہا کہ یہ وہ الیکٹیبل ہیں جو اج اپکو چھوڑ رہے ہیں۔
پرویز خٹک نے عمران خان کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ پورا صوبہ عمران خان کو چھوڑے گا، اور عمران خان نے مجھے وزیراعلی بنا کر کون سا احسان کیا۔
