Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • پی آئی اے کی نجکاری: مفتاح اسماعیل کا صوبوں کے کردار پر سوال

    پی آئی اے کی نجکاری: مفتاح اسماعیل کا صوبوں کے کردار پر سوال

    سابق وفاقی وزیر خزانہ اور عوام پاکستان پارٹی کے رہنما مفتاح اسماعیل نے پی آئی اے کی نجکاری کے عمل پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ ایک صوبہ وفاق سے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) خرید لے، کیونکہ ان کے مطابق حکومت کے کاروبار چلانا بنیادی طور پر حکومت کا کام نہیں ہے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے وضاحت کی کہ پی آئی اے کی نجکاری کے عمل میں ایسی شرائط رکھی گئیں جن کی وجہ سے ممکنہ خریدار سامنے نہیں آئے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ چار سنجیدہ گروپ پی آئی اے کی بڈنگ میں حصہ لینا چاہتے تھے، لیکن حکومت کے غیر حقیقی مطالبات نے اس عمل کو متاثر کیا۔مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ صوبوں کا بنیادی کام تعلیم، صحت، قانون و انصاف اور عوام کو سہولیات فراہم کرنا ہے، اور وہ وفاق سے مالی مدد لیتے ہیں، جبکہ ایک پیسہ بھی ٹیکس جمع نہیں کرتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دنیا بھر میں کوئی حکومت ایئرلائن نہیں چلاتی، اور ان کے خیال میں کوئی بھی صوبہ وفاق سے ایئرلائن خریدنے کی حالت میں نہیں ہے۔

    پی آئی اے کی نجکاری کے چیلنجز
    پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی مالی حالت اب وفاقی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ بولی کے عمل کے باوجود، نجکاری کا یہ عمل ابھی تک مکمل نہیں ہو سکا ہے۔ حالیہ بولی میں پی آئی اے کی قیمت صرف 10 ارب روپے کی پیشکش کی گئی، جبکہ حکومت نے اس کی قیمت 85 ارب روپے سے زیادہ مقرر کی تھی۔ خیبرپختونخوا اور پنجاب کی حکومتوں نے پی آئی اے کو خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے، لیکن وفاقی وزیر نجکاری عبدالعلیم خان نے اس معاملے پر اپنا موقف پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کو چلانا نہیں بلکہ فروخت کرنا ان کی ذمہ داری ہے، لیکن وہ اونے پونے داموں اس کی فروخت کے حق میں نہیں ہیں۔ عبدالعلیم خان نے مزید کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری کا سیٹ اپ نگراں حکومت کے دور میں بنایا گیا تھا، اور ان لوگوں کو خود احتسابی کی ضرورت ہے جنہوں نے پی آئی اے کی موجودہ صورتحال کو جنم دیا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ نجکاری کے لیے نئے فریم ورک پر کام کیا جائے گا، جس سے کسی بھی ممکنہ خسارے کی صورت حال سے بچا جا سکے گا۔

  • عمران خان کبھی بھی ڈیل نہیں کریں گے، فواد چوہدری

    عمران خان کبھی بھی ڈیل نہیں کریں گے، فواد چوہدری

    سابق وفاقی وزیر فواد چودھری نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حالات کی بنیاد پر عمران خان کسی بھی صورت میں ڈیل کرنے پر تیار نہیں ہیں۔ ان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ملک کی سیاسی صورتحال میں کئی تبدیلیاں آ رہی ہیں۔فواد چودھری نے عدم اعتماد کی تحریک کے دوران اسمبلی کی تحلیل کے منصوبے کی تفصیلات بھی شیئر کیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اس منصوبے سے صرف چار افراد آگاہ تھے، جن میں تحریک انصاف کے بانی عمران خان، صدر عارف علوی، اٹارنی جنرل، اور وہ خود شامل تھے۔ سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ عدم اعتماد کے عمل سے صرف چار دن قبل عمران خان کی جنرل باجوہ سے ملاقات ہوئی، جہاں جنرل باجوہ نے یقین دلایا کہ وہ حالات کو کنٹرول کر لیں گے۔ ملاقات کے دوران عمران خان نے جنرل باجوہ سے انتخابات کا مطالبہ کیا، جس کی شرط یہ تھی کہ الیکشن جسٹس بندیال کی ریٹائرمنٹ کے دس روز بعد منعقد کیے جائیں۔

    فواد چودھری نے مزید کہا کہ پنجاب اسمبلی کی تحلیل کی تجویز شاہ محمود قریشی نے پیش کی تھی، جس پر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی بھی متفق تھیں۔ تاہم، انہوں نے اس وقت حماد اظہر کو بتایا کہ اس طرح کے انتخابات میں پی ٹی آئی کو شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ان کا کہنا تھا کہ جنرل باجوہ سے رابطہ ختم کرنا ایک غلطی تھی، اور انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں یقین تھا کہ عمران خان کی مقبولیت میں کمی نہیں آئی۔ انہوں نے جنرل فیض اور عمران خان سے درخواست کی کہ نواز شریف کو ملک سے باہر نہ بھیجا جائے۔فواد چودھری نے یہ بھی کہا کہ ان کا جنرل باجوہ کے ساتھ کوئی لڑائی نہیں تھی، اور انہیں لگا کہ وہ عدم اعتماد کی تحریک کو مینج کر لیں گے۔ تاہم، صورتحال اس کے برعکس ہو گئی۔

    انہوں نے مسلم لیگ کے رہنماؤں رانا تنویر، ملک احمد خان، اور خواجہ آصف کی جانب اشارہ کیا، جو جنرل باجوہ کے ساتھ ملاقاتیں کر رہے تھے۔ ان ملاقاتوں کے دوران یہ بتایا جاتا رہا کہ تحریک انصاف کی حکومت عوام میں مقبولیت کھو چکی ہے، اور اگر جنرل باجوہ مسلم لیگ (ن) سے توسیع حاصل کریں گے تو وہ مقبول رہیں گے۔ فواد چودھری نے واضح کیا کہ تحریک انصاف کی عروج کا سہرا عدم اعتماد کے بعد ہونے والے فیصلوں کو جاتا ہے، اور یہ کہ 2018 میں بھی تحریک انصاف سب سے مقبول جماعت تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کبھی بھی کسی ڈیل کے لئے تیار نہیں ہوں گے۔یہ تمام بیانات پاکستان کی سیاسی صورتحال میں ایک نئے باب کا آغاز کرتے ہیں، جہاں پی ٹی آئی کی مستقبل کی حکمت عملی اور اس کی قیادت کی مقبولیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

  • قومی اسمبلی کا اجلاس: وقت میں تبدیلی اور اہم ایجنڈا جاری

    قومی اسمبلی کا اجلاس: وقت میں تبدیلی اور اہم ایجنڈا جاری

    قومی اسمبلی کا اجلاس کل 4 بجے منعقد ہوگا، جو پہلے شام 5 بجے طے کیا گیا تھا۔ یہ فیصلہ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی جانب سے قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط اور حاصل اختیار کے تحت کیا گیا۔ اراکین کو اجلاس کے وقت میں تبدیلی سے آگاہ کر دیا گیا ہے، اور حکومت کی جانب سے ایوان میں حاضری کو یقینی بنانے کے لیے ہدایت بھی جاری کی گئی ہے۔اجلاس کا ایجنڈا بھی جاری کر دیا گیا ہے، جس میں سات نکات شامل ہیں۔ اس اجلاس میں اہم قانون سازی کی توقع کی جا رہی ہے، خاص طور پر انسداد دہشت گردی ترمیمی بل، جو کہ ایجنڈے میں شامل نہیں ہے لیکن اس کی منظوری کا امکان موجود ہے۔
    کابینہ ذرائع کے مطابق، کل سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس اسمبلی میں پیش کیا جائے گا، جو کہ قانون سازی کے اہم نکات میں شامل ہے۔ اس کے علاوہ، رول آف لا انڈیکس میں پاکستان کا 129واں نمبر آنے پر توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیا جائے گا۔ صدر مملکت کے مشترکہ اجلاس سے خطاب پر اظہار تشکر کی تحریک بھی ایجنڈے کا حصہ ہے۔ ایجنڈے میں عالیہ کامران کا پی آئی اے کے طیاروں کو گراؤنڈ کیے جانے پر توجہ دلاؤ نوٹس، وقفہ سوالات، اور نکتہ اعتراض بھی شامل ہے۔حکومت کل قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے، اور اس سلسلے میں حکومتی اراکین کی ایوان میں حاضری کو یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ انسداد دہشت گردی ترمیمی بل کی منظوری کی توقع کے ساتھ، یہ اجلاس ملکی قانون سازی کے لیے ایک اہم موقع ثابت ہو سکتا ہے۔

  • سی ٹی ڈی اور ایف سی کی کامیاب کارروائی: بلوچستان کو بڑی کوروائی سے بچا لیا گیا، وزیر اعظم کی سیکیورٹی اداروں کی ستائش

    سی ٹی ڈی اور ایف سی کی کامیاب کارروائی: بلوچستان کو بڑی کوروائی سے بچا لیا گیا، وزیر اعظم کی سیکیورٹی اداروں کی ستائش

    کوئٹہ: بلوچستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں، خاص طور پر انسداد دہشت گردی ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کو ایک بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے، جس میں انہوں نے دہشت گردوں کے ایک خطرناک منصوبے کو ناکام بناتے ہوئے صوبے کو بڑی تباہی سے بچا لیا ہے۔ یہ کامیابی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی نشاندہی کے بعد ممکن ہوئی، جنہوں نے کالعدم دہشت گرد تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے دہشت گردوں کی موجودگی کا پتہ لگایا۔ حکام کے مطابق، انٹیلی جنس ایجنسیوں کی اطلاعات پر سی ٹی ڈی بلوچستان، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور پولیس نے ایک کامیاب مشترکہ آپریشن کیا۔ اس آپریشن کا مقصد دہشت گردوں کی اہم تنصیبات پر حملے کی منصوبہ بندی کو ناکام بنانا تھا۔

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے اس آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ آپریشن کا آغاز رات کی تاریکی میں کیا گیا، جب سی ٹی ڈی، ایف سی اور پولیس نے دہشت گرد گروپ کو گھیرے میں لے لیا۔ اس دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں تین دہشت گرد ہلاک ہوئے جبکہ دو کو گرفتار کیا گیا۔
    بتایا جاتا ہے کہ فائرنگ کے دوران کچھ دہشت گرد رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، جن کی تعداد پانچ سے سات بتائی جا رہی ہے۔ آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والے دہشت گردوں سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا ہے۔ گرفتار دہشت گردوں سے بھی تفتیش کا عمل جاری ہے تاکہ ان کے نیٹ ورک اور دیگر ممکنہ حملوں کے منصوبوں کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے ناسور کے خاتمے کے لیے سیکیورٹی فورسز کی لازوال قربانیاں ہیں۔ سی ٹی ڈی نے دہشت گردوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے، جس کے تحت قانونی کارروائی کا آغاز کیا جائے گا۔

    یہ کارروائیاں صوبے کے شہریوں میں اطمینان اور تحفظ کا احساس بڑھانے میں معاون ثابت ہوئی ہیں، جبکہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو مزید مستحکم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ حکام نے اس کامیابی کو بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں ایک اہم قدم قرار دیا ہے اور عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کریں تاکہ امن قائم رکھنے میں مدد مل سکے۔ وزیر اعظم نے مزید کہا، "مجھ سمیت پوری قوم ایف سی، پولیس اور سی ٹی ڈی کے افسران کو خراج تحسین پیش کرتی ہے۔” ان کی بہادری اور قربانیوں کی بدولت ملک میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنایا جا رہا ہے۔

  • کیا ٹرمپ 2016 کی فتح کو دوبارہ حاصل کر سکیں گے؟

    کیا ٹرمپ 2016 کی فتح کو دوبارہ حاصل کر سکیں گے؟

    امریکی صدارتی انتخابات میں ڈونالڈ ٹرمپ کی کوشش ہے کہ وہ ایک بار پھر مزدور طبقے کے ووٹرز کی حمایت حاصل کر سکیں۔ حالیہ انتخابی مہم میں، ٹرمپ نے اپنا ایک منفرد انداز اپنایا ہے، جس کا مقصد کم آمدنی والے ووٹرز کو اپنی طرف متوجہ کرنا ہے۔ امریکا کی مڈل کلاس کی تعداد کم ہو رہی ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ مزدور طبقے اور کم آمدنی والے افراد کے ووٹرز کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پیو ریسرچ سینٹر کے مطابق، 1971 میں کم آمدنی والے افراد کی تعداد 27 فیصد تھی، جو 2023 میں بڑھ کر 30 فیصد ہو گئی ہے۔ٹرمپ، جو کہ ایک ارب پتی کاروباری شخصیت ہیں، نے ہمیشہ خود کو مزدور طبقے کا حامی ظاہر کیا ہے۔ جب ایک حالیہ سروے میں مزدور طبقے کے ووٹرز سے پوچھا گیا کہ پچھلے 30 سالوں میں کس صدر نے مزدور خاندانوں کے لیے سب سے زیادہ کام کیا، تو 44 فیصد نے ٹرمپ کا انتخاب کیا، جب کہ صرف 12 فیصد نے موجودہ صدر جو بائیڈن کا نام لیا۔
    ٹرمپ نے حال ہی میں پنسلوانیا کے فیسٹرول ٹریوس میں ایک مکڈونلڈ کے باہر ایک منفرد موقع پر فرینچ فرائز پیش کیے، جس میں انہوں نے اپنے حریف، نائب صدر کاملا ہیرس کا مذاق اڑایا۔ ہیرس نے بھی اپنی مہم میں مزدور طبقے کی اہمیت پر زور دیا ہے، مگر ٹرمپ کے ساتھ موازنہ میں وہ کامیاب نظر نہیں آتیں۔ٹرمپ کی عوامی شخصیت ایک کامیاب کاروباری شخص کی ہے، حالانکہ انہوں نے خود کو مزدور طبقے کے ساتھ جوڑنے کی کوششیں کی ہیں۔ انہوں نے ایک بار کہا، "میں اوور ٹائم کے بارے میں بہت کچھ جانتا ہوں۔ مجھے اوور ٹائم دینا ناپسند تھا۔” اس کے باوجود، وہ خود کو مزدور طبقے کا وکیل ظاہر کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی حکمت عملی یہ ہے کہ وہ خود کو عام مزدوروں کی طرح پیش کریں۔ وہ بار بار یہ پیغام دیتے ہیں کہ وہ انہی کے جیسے ہیں، اور یہی بات ان کے حامیوں کے لیے جذباتی طور پر اہم ہے۔ 2016 میں جب وہ پہلی بار انتخابات میں حصہ لے رہے تھے،
    اس وقت سے ہی یہ بات واضح تھی کہ انہیں مزدور طبقے کی حمایت حاصل ہے۔ٹرمپ نے 2020 میں دوبارہ انتخابی مہم میں کامیابی حاصل نہیں کی تھی، اور اب ان کا حریف بائیڈن کی نائب، ہیرس ہیں۔ ہیرس کی کوشش ہے کہ وہ بھی مزدور طبقے کے مسائل کو اجاگر کریں، مگر انہیں اس طبقے میں حمایت حاصل کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔بہت سے مزدور ووٹرز نے حالیہ دہائیوں میں ڈیموکریٹک پارٹی سے منہ موڑ لیا ہے، کیونکہ ان کا احساس ہے کہ پارٹی نے عالمی سطح پر ملازمتوں کے نقصان جیسے مسائل کو نظر انداز کیا ہے۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ٹرمپ نے کم آمدنی والے ووٹرز میں یہ احساس پیدا کیا ہے کہ انتخابی نظام ان کے خلاف ہے۔ ٹرمپ نے 2020 میں اپنی شکست کے بعد بار بار یہ دعویٰ کیا کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی تھی، حالانکہ یہ ایک غلط دعویٰ ہے۔یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا ٹرمپ ایک بار پھر مزدور طبقے کے ووٹرز کی حمایت حاصل کر سکیں گے یا نہیں۔ کم آمدنی والے ووٹرز کی تعداد میں اضافہ اور ان کے مسائل کو حل کرنے کی ضرورت، ٹرمپ کے انتخابی مستقبل کے لیے اہم ہوگی۔

  • مارے جانے والے گلہری نے جعلی ٹرمپ پوسٹ کے بعد انتخابات میں حیران کن بحث پیدا کر دی

    مارے جانے والے گلہری نے جعلی ٹرمپ پوسٹ کے بعد انتخابات میں حیران کن بحث پیدا کر دی

    ایک عجیب و غریب واقعہ جس نے غم و غصے اور حیرت کا ملا جلا ردعمل پیدا کیا ہے، انسٹاگرام پر مشہور گلہری پی نٹ کو نیو یارک ریاستی حکام نے ضبط کر کے بعد میں ہلاک کر دیا۔ یہ واقعہ، جو قومی توجہ کا مرکز بن گیا ہے، اس وقت مزید بگاڑ گیا جب سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک جعلی بیان آن لائن گردش کرنے لگا، جس میں محبوب جانور کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کی مذمت کی گئی۔پی نٹ، یہ محبوب گلہری ، سات سالوں سے اپنے مالک مارک لانگو کے ساتھ رہتا تھا، اور اپنی پیاری حرکتوں اور دلکش شخصیت کے باعث سوشل میڈیا پر مشہور ہوا۔ پی نٹ کے ساتھ ساتھ حکام نے فریڈ دی ریکون بھی ضبط کیا، جو ایک اور بچایا گیا جانور تھا جس کا خیال لانگو نے رکھا تھا۔ نیو یارک ریاست کے محکمہ تحفظ ماحول (DEC) نے اپنی کارروائی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں جانوروں کی غیر قانونی ملکیت کی شکایات موصول ہوئی تھیں۔ ریاستی قانون کے مطابق، جنگلی جانوروں کے مالک ہونے کے لیے افراد کو لائسنس حاصل کرنا ضروری ہے، جس کے لیے لانگو نے پی نٹ کے لیے تصدیق کرانے کی کوشش کی تھی۔DEC نے کہا کہ دونوں جانوروں کو ربیز کی جانچ کے لیے ہلاک کیا گیا کیونکہ پی نٹ نے تحقیقات میں شامل ایک شخص کو کاٹا تھا۔ تاہم، لانگو اس دعوے کی تردید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انہوں نے دوران تفتیش پی نٹ کو کسی کو نہیں کاٹتے دیکھا۔
    یہ واقعہ اس وقت مزید توجہ حاصل کر گیا جب ایک جعلی پریس ریلیز، جو بظاہر ٹرمپ کی مہم سے تھی، ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر پوسٹ کی گئی۔ اس بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ ٹرمپ نے نیو یارک کی گورنر کیتھی ہوچل کی کارروائیوں کی مذمت کی، جس میں پی نٹ اور فریڈ کی ضبط اور ہلاکت کو "ایک المیہ” قرار دیا گیا۔ اس بیان میں یہ بھی عجیب و غریب موازنہ کیا گیا کہ اگر پی نٹ کو ایک مہاجر کے طور پر جانا جاتا تو اس کے ساتھ زیادہ انسانی سلوک کیا جاتا۔اس جعلی بیان کی خبر دینے والی لبرل نیوز ویب سائٹ جلد ہی اس کے قائل ہوگئی کیونکہ یہ بیان انتہائی موثر انداز میں لکھا گیا تھا اور اس پر ٹرمپ کی مہم کا لوگو موجود تھا۔ بعد میں ٹرمپ کی ترجمان کارولین لیویٹ نے نیو یارک پوسٹ کو بتایا کہ یہ بیان جعلی تھا۔ لیکن اس کے باوجود، ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر نے ایکس پر پی نٹ کی موت کا ذکر کرتے ہوئے حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کی۔یہ وقت ہے کہ ایسے حکومتی افراد کو ووٹ سے نکالیں جو ایک پالتو سنجاب کو مار دیں گے، لیکن جان بوجھ کر 600,000 مجرموں کے ساتھ 13,000 قاتلوں اور 16,000 ریپ کرنے والوں کو اپنے ملک میں آنے دیں گے,” انہوں نے لکھا، مزید اس واقعہ کو سیاسی بحث کا موضوع بناتے ہوئے۔
    مارک لانگو نے پی نٹ اور فریڈ کے نقصان پر اپنی مایوسی کا اظہار کیا، اور اس ضبط کو عجیب اور سخت قدم قرار دیا۔ “سچ میں، یہ اب بھی کچھ عجیب لگتا ہے کہ میرے صوبے نے مجھ پر ہدف بنایا اور اس سیارے کے دو سب سے پسندیدہ جانوروں کو لے لیا,” انہوں نے افسوس کا اظہار کیا۔مارک لانگو اب اس بارے میں آواز اٹھانے کا ارادہ رکھتے ہیں کہ وہ حکومتی اقدامات کے خلاف کیا قدم اٹھائیں گے۔کمیونٹی کا ردعمل تیز تھا، بہت سے لوگوں نے سوشل میڈیا پر اپنی بے چینی اور حیرت کا اظہار کیا۔ تبصرے حکومت کی کارروائیوں پر ناراضگی سے لے کر اس پر ہنسی تک تھے کہ ایک سواٹ ٹیم کو ایک گلہری اور ایک ریکون کو پکڑنے کے لیے بھیجا گیا۔ کچھ صارفین نے اس بات پر حیرانی کا اظہار کیا کہ اس واقعے کی شدت کیا تھی، سوال کیا کہ کیا یہ گلہری خطرناک تھا؟
    پی نٹ اور فریڈ کی الم ناک قسمت نے جانوروں کے قوانین، جانوروں کے ساتھ سلوک، اور سیاست اور سوشل میڈیا کے درمیان باہمی تعلقات کے بارے میں ایک وسیع بحث کا آغاز کیا ہے۔ جیسے ہی مارک لانگو اپنے محبوب جانوروں کے نقصان کے حوالے سے آواز اٹھانے کی تیاری کر رہے ہیں، بہت سے لوگ کمیونٹی میں یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ کس طرح ایک بظاہر ہنسی مذاق کی صورتحال ایک حکومتی کارروائی، جعلی خبروں، اور عوامی غم و غصے کی کہانی میں بدل گئی۔ پی نٹ کی یاد، جو بہت سے لوگوں کو خوشی فراہم کرتا رہا، ایک یاد دہانی ہے کہ آج کے معاشرے میں جانوروں کی ملکیت اور فلاح و بہبود کے گرد موجود پیچیدگیاں غیر متوقع ہو سکتی ہیں۔

  • ملک کی تعمیر و ترقی مسلم لیگ (ن) کی مرہون منت ہے،احسن اقبال

    ملک کی تعمیر و ترقی مسلم لیگ (ن) کی مرہون منت ہے،احسن اقبال

    نارووال: وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقیات، احسن اقبال نے ملک کی تعمیر و ترقی کو مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے ساتھ منسلک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت کے دور میں ملک کو شدید نقصان پہنچا۔ نارووال کے جسڑ چوک میں نئے ڈانسنگ فاؤنٹین کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، انہوں نے پی ٹی آئی کی طرز سیاست اور حکومتی کارکردگی پر سخت تنقید کی۔احسن اقبال نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت میں ملکی ترقی کے منصوبے ہمیشہ سامنے آتے ہیں، جبکہ ان کے بقول، پی ٹی آئی کی حکومت کے دوران وفاق اور پنجاب دونوں جگہوں پر حکومتی اختیارات ہوتے ہوئے بھی تعمیر و ترقی کے بجائے سیاست میں نفرت کو فروغ دیا گیا۔ انہوں نے کہا، "جب اچھی ٹیم ہو تو ملک کے لیے اچھے نتائج سامنے آتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے ہمیں تباہ شدہ معیشت ورثہ میں ملی۔احسن اقبال نے پی ٹی آئی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس جماعت نے اپنی سیاست میں محض گالم گلوچ کو فروغ دیا ہے۔
    ان کا کہنا تھا کہ "پی ٹی آئی کی بریگیڈ نے عوام کو نفرت، تضحیک، اور کردار کشی کے درس دیے ہیں، جبکہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت ترقی اور خوشحالی کی سیاست کرتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے لیڈر نے اپنے حامیوں کو یہ سکھایا کہ شہیدوں اور اداروں کا مذاق کیسے اڑانا ہے اور مخالفین کی کردار کشی کیسے کرنی ہے۔ احسن اقبال کا کہنا تھا کہ عوام اب فرق سمجھ چکے ہیں کہ کون ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے کام کر رہا ہے اور کون نفرت کی سیاست کے ذریعے عوام کو گمراہ کر رہا ہے۔وفاقی وزیر نے اپنے خطاب کے دوران مسلم لیگ (ن) کی گزشتہ حکومت کے ترقیاتی منصوبوں کا بھی تذکرہ کیا اور کہا کہ ان کے دور میں پاکستان نے ترقی کے کئی سنگ میل عبور کیے، جن میں انفراسٹرکچر، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں نمایاں کارنامے شامل ہیں۔ انہوں نے موجودہ حالات کو ماضی کے ان منصوبوں سے موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ "ہمارا ماضی اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم نے ہمیشہ عوامی فلاح کو مقدم رکھا ہے۔احسن اقبال کا مزید کہنا تھا کہ ملک کے عوام اب باشعور ہو چکے ہیں اور جانتے ہیں کہ کون سیاست میں عوامی خدمت کے لیے آیا ہے اور کون محض نفرت اور گالم گلوچ کی سیاست کے ذریعے عوام کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

  • انسداد دہشتگردی ترمیمی بل 2024، بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے، رضا ربانی

    انسداد دہشتگردی ترمیمی بل 2024، بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے، رضا ربانی

    سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے انسداد دہشتگردی ترمیمی بل 2024 کے قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل آئین میں درج بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے، کیونکہ اس کے تحت حکومت اور سول آرمڈ فورسز کو کسی بھی شخص کو 3 ماہ تک حراست میں رکھنے کا اختیار دیا جارہا ہے، جسے مزید 3 ماہ تک بڑھایا جاسکتا ہے۔اتوار کو اپنے ایک بیان میں رضا ربانی نے اس بل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ نہ صرف آئین کے آرٹیکل 10 کی خلاف ورزی ہے، بلکہ بنیادی انسانی حقوق کے بھی منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں دہشتگردی کی سرگرمیاں بڑھی ہیں، جس پر حکومت کو عوام کو جواب دینا چاہیے کہ وہ دہشتگردی پر قابو پانے میں ناکام کیوں رہی ہے۔
    انہوں نے مطالبہ کیا کہ پارلیمنٹ کے ان کیمرا اجلاس میں دہشتگردی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی جائے تاکہ اصل حقائق سامنے آئیں۔ رضا ربانی نے کہا کہ انسداد دہشتگردی ایکٹ میں 2014 میں بھی ایسی ہی ترامیم کی گئی تھیں، مگر ان سے نہ تو تحقیقات اور پراسیکیوشن کے عمل میں بہتری آئی، نہ ہی عدالتوں میں سزا کی شرح میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسی ترامیم کے باوجود لاپتہ افراد کی تعداد میں بھی کوئی خاطر خواہ کمی نہیں آئی۔میاں رضا ربانی نے اس بل کے ترمیمی سیکشن 11 میں استعمال کیے گئے مبہم الفاظ کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ یہ اصطلاحات قومی مفاد اور دہشتگردی جیسے سنگین مسائل کو کسی بھی طریقے سے تعبیر کرنے کی اجازت دیتی ہیں، جو ممکنہ طور پر انفرادی حقوق کے خلاف استعمال ہو سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی مفاد کے نام پر یہ اقدامات نہ صرف دہشتگردی کے خلاف بلکہ دیگر مقاصد کے لیے بھی استعمال ہو سکتے ہیں۔انہوں نے اس بل کو انسداد دہشتگردی ایکٹ کے غلط استعمال کی ایک اور مثال قرار دیا اور کہا کہ ایسے قوانین کا ماضی میں بھی غلط استعمال ہوتا رہا ہے، جس سے عوام کی بنیادی حقوق پامال ہوئے۔

  • خیبر پختونخوا کابینہ کا اجلاس 5 نومبر کو طلب، مختلف ترقیاتی منصوبوں پر غور متوقع

    خیبر پختونخوا کابینہ کا اجلاس 5 نومبر کو طلب، مختلف ترقیاتی منصوبوں پر غور متوقع

    پشاور: خیبر پختونخوا کابینہ کا اہم اجلاس 5 نومبر بروز پیر کو صبح گیارہ بجے سول سیکرٹریٹ میں طلب کر لیا گیا ہے۔ خیبر پختونخوا اسمبلی سیکرٹریٹ کے اعلامیہ کے مطابق، اس اجلاس کی صدارت وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کریں گے، جس میں صوبے کے مختلف ترقیاتی منصوبوں سمیت دیگر اہم ایشوز پر تفصیلی غور و خوض متوقع ہے۔
    اجلاس کے حوالے سے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ یہ اجلاس کابینہ روم میں منعقد ہوگا، جہاں صوبے کے لیے جاری ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا اور آئندہ کے اقدامات پر غور کیا جائے گا۔ اجلاس میں صوبائی حکومت کے اہم مسائل اور ان کے ممکنہ حل کے لیے حکمت عملی تیار کی جائے گی۔

    کابینہ کے اجلاس کا باقاعدہ ایجنڈا تاحال جاری نہیں کیا گیا، تاہم ذرائع کے مطابق، اجلاس میں مختلف محکموں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے نئی اسکیموں کی منظوری بھی متوقع ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کے علاوہ، صوبے میں امن و امان کی صورتحال، تعلیم و صحت کے شعبوں میں درپیش مسائل اور دیگر اہم معاملات پر بھی بحث کی جا سکتی ہے۔خیبر پختونخوا کے عوامی حلقوں میں اس اجلاس کو خاص توجہ دی جا رہی ہے کیونکہ حالیہ دنوں میں صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کی رفتار اور کارکردگی پر تنقید کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بنیادی سہولیات کے فقدان کے باعث عوامی مسائل میں اضافہ ہوا ہے، جسے حل کرنے کے لیے حکومتی اقدامات کی اشد ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔

  • امریکی صدارتی انتخابات: ٹرمپ اور کملا ہیرس کے درمیان کانٹے دار مقابلہ، کروڑوں ووٹ کاسٹ

    امریکی صدارتی انتخابات: ٹرمپ اور کملا ہیرس کے درمیان کانٹے دار مقابلہ، کروڑوں ووٹ کاسٹ

    واشنگٹن: امریکہ میں صدارتی انتخابات کے لیے ووٹنگ کا عمل 5 نومبر 2024 کو مکمل ہوگا، اور انتخابی مہمات نے زور پکڑ لیا ہے۔ اس بار صدارتی انتخاب میں ڈیموکریٹک امیدوار کملا ہیرس اور ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔ انتخابات کے باقاعدہ دن سے دو روز قبل ہی کروڑوں امریکیوں نے اپنا ووٹ کاسٹ کرلیا ہے، جس سے مقابلے کی شدت اور ووٹرز کی دلچسپی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔اب تک 7 کروڑ 50 لاکھ ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی استعمال کر لیا ہے۔ ان میں سے 4 کروڑ 10 لاکھ لوگوں نے پولنگ اسٹیشنز پر جا کر ووٹ دیا، جبکہ 3 کروڑ 40 لاکھ لوگوں نے پوسٹل بیلٹ اور ای میل ووٹنگ کے ذریعے اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔ یہ تعداد ایک نیا ریکارڈ قائم کر رہی ہے، جو امریکی ووٹرز کے سیاسی شعور اور بدلتے حالات کی عکاس ہے۔
    صدارتی انتخابات میں دو دن باقی ہیں، اور دونوں امیدواروں کی انتخابی مہمات اپنے عروج پر ہیں۔ ڈیموکریٹک امیدوار کملا ہیرس نے حالیہ دنوں میں اٹلانٹا، جارجیا اور نارتھ کیرولائنا کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے اپنے ووٹرز کو جوش دلانے کے لیے پرجوش تقاریر کیں۔ کملا ہیرس نے اپنی تقریر میں کہا کہ وہ "ملک کے مستقبل کے لیے لڑنے کو تیار ہیں” اور ڈونلڈ ٹرمپ کے دور اقتدار کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ نے اپنے دور میں ہر خاندان پر سیلز ٹیکس لگایا، اور امریکی عوام کو یاد دہانی کرائی کہ "آپ کا ووٹ ہی آپ کی طاقت اور آواز ہے۔دوسری جانب، ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی مہم کے سلسلے میں نارتھ کیرولائنا اور ورجینیا کا دورہ کیا۔ ٹرمپ نے یہاں خطاب کرتے ہوئے پیشگی جیت کا دعویٰ کیا اور کہا کہ وہ ان ریاستوں میں کامیابی حاصل کریں گے۔ انہوں نے کملا ہیرس اور ڈیموکریٹک پارٹی کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کے صدر بننے سے امریکی معیشت اور سیکیورٹی مزید مضبوط ہوگی۔ ٹرمپ کے مطابق، ڈیموکریٹس کی پالیسیاں ملکی معیشت کو کمزور کر رہی ہیں اور ان کے ووٹرز کو مسائل سے دوچار کر رہی ہیں۔
    امریکہ بھر میں ٹرمپ اور ہیرس کے حامیوں نے اپنے اپنے امیدواروں کی حمایت میں ریلیاں نکالی ہیں، جس سے ملک بھر میں سیاسی ماحول گرم ہو گیا ہے۔ اس سال ہونے والے انتخابات کو امریکہ کی تاریخ کے سب سے زیادہ متنازع اور دلچسپ انتخابات میں شمار کیا جا رہا ہے۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، دونوں امیدواروں کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے اور اس مرتبہ ووٹرز کا ٹرن آؤٹ بھی ریکارڈ سطح پر ہے۔ مختلف سرویز میں دونوں امیدواروں کی حمایت میں تفاوت دیکھنے کو مل رہا ہے، جبکہ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سوئنگ اسٹیٹس میں کامیابی حاصل کرنے والا امیدوار امریکی صدر بننے کا اعزاز حاصل کرے گا۔اب تمام نظریں 5 نومبر پر مرکوز ہیں، جب امریکی عوام اپنے نئے صدر کے حق میں حتمی فیصلہ سنائیں گے۔ کیا کملا ہیرس امریکی تاریخ کی پہلی خاتون صدر بنیں گی، یا ڈونلڈ ٹرمپ دوسری مدت کے لیے اقتدار سنبھالیں گے؟