وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے حامیوں کو یہ بات پسند نہیں آئے گی کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت ٹھیک ہے۔
طلال چوہدری نے نشاندہی کی کہ پی ٹی آئی نے اپوزیشن لیڈر اور وزیراعلیٰ کے عہدے تبدیل کرکے دیکھا، اور اب ان کے پاس وکٹم کارڈ کے علاوہ کچھ نہیں بچا۔
وزیر مملکت نے مزید کہا کہ کسی بھی مریض کو کہاں رکھا جائے، کون سی دوا دی جائے یا کس طرح علاج کیا جائے، اس کا فیصلہ صرف ڈاکٹرز کر سکتے ہیں۔ نہ مریض، نہ وکیل اور نہ ہی ان کی جماعت یہ فیصلہ کر سکتی ہے۔
Blog
-

عمران خان کی صحت کے فیصلے ڈاکٹرز کے ہاتھ میں ہیں، وکٹم کارڈ مت کھیلیں ،طلال چوہدری
-

بانی پی ٹی آئی کی رہائی میں محسن نقوی کی محنت بے مثال ہے, علی امین گنڈا پور
سابق وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ بانی پاکستان تحریک انصاف، عمران خان کی رہائی کے لیے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی محنت بے مثال رہی۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو میں علی امین گنڈا پور نے کہا کہ محسن نقوی نے بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے معاملے میں فیلڈ مارشل کے سامنے بات کی اور اس معاملے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ انہوں نے مزید کہا کہ میرا ابھی محسن نقوی سے رابطہ نہیں ہے۔
سابق وزیر اعلیٰ نے پارٹی کی اندرونی صورتحال پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ پی ٹی آئی میں فیصلہ سازی کی طاقت بہت کم رہ گئی ہے اور سب ایک دوسرے پر الزام تراشی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے اندر بدنیتی رکھنے والے افراد موجود ہیں، جبکہ عوامی دباؤ اور احتجاج کے باوجود پارٹی میں تنظیمی خلیج مزید واضح ہوگئی ہے۔ -

انڈیا کی 40 ارب ڈالر کے فوجی ساز و سامان کی منظوری، 114 رفال بھی شامل
انڈین حکومت نے اپنی فوج کو مضبوط بنانے کے لیے تقریباً 40 ارب ڈالر کے فوجی ساز و سامان کی خریداری کی منظوری دی ہے، جس میں 114 رفال لڑاکا طیارے بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بحریہ کے لیے P-8I نیپچون جاسوس طیاروں کی خریداری بھی شامل ہے۔
پاکستان اور دیگر پڑوسی ممالک کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں انڈین فوج پر جدید فوجی ساز و سامان خریدنے کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔ یکم فروری کو پیش کیے گئے بجٹ میں بھی دفاعی اخراجات میں 15 فیصد اضافہ کیا گیا، جس کے بعد انڈیا کا مجموعی دفاعی بجٹ تقریباً 85 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔
حالیہ مہینوں میں انڈین فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کے سکواڈرن کی تعداد کم ہو کر 29 رہ گئی ہے۔ مگ 21 طیارے ستمبر 2025 میں ریٹائر ہو چکے ہیں، جبکہ کچھ مگ 29، فرانسیسی جیگوار اور میراج 20 طیارے آنے والے برسوں میں بھی فضائیہ سے ریٹائر ہو جائیں گے۔
انڈیا طویل عرصے سے اپنی مسلح افواج کے لیے ہتھیاروں اور مشینری کی درآمد پر انحصار کرتا رہا ہے، تاہم حالیہ برسوں میں مقامی طور پر خود انحصاری یا ’میک اِن انڈیا‘ پر توجہ دی جا رہی ہے۔ 114 رفال طیاروں کی خریداری انڈین فضائیہ کی فوری ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایک اہم معاہدہ سمجھا جا رہا ہے۔ -

لورالائی میں ایف سی بلوچستان (نارتھ) کے 68 ویں بیچ کی شاندار پاسنگ آؤٹ پریڈ
لورالائی میں فرنٹیئر کور بلوچستان (نارتھ) کے 68 ویں بیچ (فیز ٹو) کی پاسنگ آؤٹ پریڈ منعقد ہوئی، جس میں 1104 ریکروٹس نے کامیابی کے ساتھ تربیت مکمل کی۔ تقریب میں انسپکٹر جنرل ایف سی بلوچستان (نارتھ) میجر جنرل محمد عاطف مجتبیٰ نے پریڈ کا معائنہ کیا اور جوانوں و ان کے اہلِ خانہ کو مبارکباد دی۔
میجر جنرل محمد عاطف مجتبیٰ نے کہا کہ تمام ریکروٹس کو فخر ہونا چاہیے کہ وہ ایف سی بلوچستان (نارتھ) جیسے باوقار ادارے کا حصہ بن رہے ہیں، جو اپنی قربانی، بہادری اور شاندار روایات کے لیے جانا جاتا ہے۔
پریڈ میں نوشکی میں شہید خطیب امشد علی کے والد محترم نواب خان کو مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کیا گیا اور اُن کی فیملی کی قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔
تقریب میں قبائلی عمائدین، مقامی شخصیات، معزز مہمانوں اور سول سوسائٹی کے نمائندگان کی شرکت نے ایف سی اور عوام کے درمیان تعلقات اور باہمی اعتماد کو مزید مستحکم کیا۔
پریڈ کے اختتام پر نمایاں کارکردگی دکھانے والے ریکروٹس میں خصوصی انعامات بھی تقسیم کیے گئے۔ -

بیویاں بھی شوہروں پر تشدد کرتی ہیں، بل میں صرف عورتوں کا ذکر کیوں؟ خواجہ اظہار الحسن
خواجہ اظہار الحسن نے گھریلو تشدد سے متعلق ترمیمی بل پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بل میں صرف شوہروں کی جانب سے بیویوں پر تشدد کا ذکر کیوں کیا گیا ہے، جبکہ بیویاں بھی شوہروں پر تشدد کرتی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں گھریلو تشدد کے خلاف پیش کیے گئے ترمیمی بل پر تفصیلی بحث کی گئی۔
اجلاس کے دوران شازیہ مری نے گھریلو تشدد کی روک تھام سے متعلق ترمیمی بل کمیٹی میں پیش کیا۔ بل کا مقصد موجودہ قوانین کو مزید مؤثر بنانا اور سزاؤں کے نظام کو مضبوط کرنا بتایا گیا۔
وزارت قانون و انصاف پاکستان کے حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں گھریلو تشدد سے متعلق قانون پہلے سے موجود ہے، اس لیے یہ جائزہ لینا ضروری ہے کہ نئی تجاویز پہلے سے نافذ قوانین کا حصہ ہیں یا نہیں۔ حکام کے مطابق خصوصی قوانین اس وقت صرف اسلام آباد کی حدود تک نافذ ہیں۔
اجلاس کے دوران خواجہ اظہار الحسن نے بل کے مندرجات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ قانون سازی میں دونوں فریقوں کو مدنظر رکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے مزید ریمارکس دیے کہ بعض اوقات گھریلو تنازعات میں شوہر بھی متاثرہ فریق ہوتے ہیں۔ -

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج کاروباری ہفتے کے پہلے روز کاروبار کے دوران منفی رجحان دیکھنے میں آیا، جہاں آغاز سے ہی فروخت کا دباؤ غالب رہا۔
کاروبار کے دوران کے ایس ای 100 انڈیکس میں ایک موقع پر 6000 سے زائد پوائنٹس کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ انڈیکس 6029 پوائنٹس گر کر ایک لاکھ 73 ہزار 574 پوائنٹس کی سطح پر ٹریڈ کرتا دیکھا گیا، جبکہ مجموعی طور پر 3.19 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی۔
یاد رہے کہ گزشتہ کاروباری ہفتے کے دوران بھی مارکیٹ دباؤ کا شکار رہی تھی، جب 100 انڈیکس 4525 پوائنٹس کی کمی کے بعد 179603 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
ہفتہ وار بنیاد پر انڈیکس 7413 پوائنٹس کے بینڈ میں رہا، جبکہ مارکیٹ میں 4.31 ارب شیئرز کے سودے 212 ارب روپے میں طے پائے۔ اسی عرصے میں مارکیٹ کیپٹلائزیشن 523 ارب روپے کم ہو کر 20 ہزار 359 ارب روپے رہ گئی تھی۔
ماہرین کے مطابق سرمایہ کاروں کے محتاط رویے، منافع کی وصولی اور معاشی غیر یقینی صورتحال مارکیٹ پر دباؤ کا سبب بن رہی ہے۔ -

خیبرپختونخوا کے بچے ہتھیاروں کے ساتھ بڑے ہو رہے ہیں، ترقی اور تعلیم سے لاعلم ہیں، مریم نواز
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے گجرات یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے خیبرپختونخوا کی تعلیمی اور سماجی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے بچوں کے ہاتھ میں ہتھیار ہیں اور دماغ میں گالی ہے، اور گزشتہ 13 سال میں وہاں کے عوام کو ترقی کا شعور حاصل نہیں ہوا۔
مریم نواز نے کہا کہ بعض لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ بچوں کو شعور دیا جا رہا ہے، لیکن حقیقت میں یہ شعور کہاں نظر آتا ہے؟ انہوں نے زور دیا کہ انتشار اور بدتمیزی خیبرپختونخوا کے بچوں کا نصیب نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے بچے لاکھوں کی تعداد میں تکنیکی تربیت حاصل کر رہے ہیں، جبکہ خیبرپختونخوا میں ہونہار بچوں کے باوجود غیر ترقی یافتہ حالات اور انتشار دیکھنے میں آ رہا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ خراب سڑکیں اور انتشار بچوں کا مقدر نہیں ہونا چاہیے اور پاکستانی ہونے کے ناتے انہیں اس پر افسوس ہے۔ انہوں نے خیبرپختونخوا کے والدین اور عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کی تعلیم اور ترقی کی طرف توجہ دیں اور انہیں ہتھیاروں اور بدتمیزی کی بجائے مثبت راستوں کی طرف رہنمائی کریں۔
مزید برآں، مریم نواز نے اڈیالہ جیل میں قید افراد کے حوالے سے کہا کہ جو قیدی بیمار ہے، اسے علاج اور سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ قیدیوں کے کھانے پینے یا علاج میں کوئی کمی نہیں ہے اور ان کے لیے تمام ضروری سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے سیاست میں اختلاف کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ اختلاف ضرور کیا جائے، لیکن ذاتیات، گھراؤ، آگ لگانے اور انتشار کو سیاست میں نہ لایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاست میں پالیسی، خدمت اور کارکردگی پر تنقید کی جائے، نہ کہ ذاتیات اور انتشار کے ذریعے معاملات خراب کیے جائیں۔ -

سپریم کورٹ کا عمران خان کی جیل سہولیات پر اطمینان کا اظہار
سپریم کورٹ آف پاکستان نے فرینڈ آف دی کورٹ کی رپورٹ اور اٹارنی جنرل کی جانب سے بانی پی ٹی آئی، عمران خان کے بچوں سے ٹیلی فونک رابطے اور علاج کی سہولیات کی یقین دہانی کے بعد جیل میں سہولیات پر اطمینان کا اظہار کیا اور عمران خان کی جانب سے دائر تین فوجداری درخواستوں کو غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے نمٹا دیا۔
چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس شاہد بلال پر مشتمل دو رکنی بینچ نے 12 فروری کی سماعت کا 7 صفحات پر مشتمل تفصیلی حکم نامہ جاری کیا۔ تحریری حکم نامے کے مطابق یہ درخواستیں الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے دائر شکایت سے جنم لینے والے فوجداری مقدمے کے عبوری اور طریقہ کار سے متعلق احکامات کے خلاف تھیں۔
حکم نامے میں کہا گیا کہ ٹرائل کورٹ نے مقدمہ مکمل کر کے 5 اگست 2023 کو حتمی فیصلہ سنا دیا ہے، لہٰذا پہلی دو درخواستیں عبوری احکامات کے خلاف غیر مؤثر ہیں۔ عدالت نے گزشتہ رپورٹس کو مدنظر رکھتے ہوئے سنٹرل جیل راولپنڈی کے سپرنٹنڈنٹ کو تازہ رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کی اور بیرسٹر سلمان صفدر کو فرینڈ آف کورٹ مقرر کیا تاکہ وہ ذاتی طور پر ملاقات کر کے الگ رپورٹ پیش کریں۔
رپورٹس میں عدالت کو بتایا گیا کہ عمران خان کی رہائش، خوراک، سیل کی حالت، معمول کے طبی معائنے اور سکیورٹی کے انتظامات تسلی بخش اور ہم آہنگ ہیں۔ عدالتی معاون کی رپورٹ میں عمران خان نے سہولیات اور خوراک پر اطمینان کا اظہار کیا اور قید کی فطری حدود کو تسلیم کیا، تاہم ان کی بینائی کی بگڑتی ہوئی حالت پر سنگین تشویش ظاہر کی گئی۔
عدالت نے اٹارنی جنرل کی یقین دہانی بھی ریکارڈ کی کہ قانون کے مطابق فوری اقدامات کیے جائیں گے اور ماہر امراض چشم پر مشتمل ٹیم 16 فروری 2026 سے پہلے عمران خان کا طبی معائنہ کرے گی۔
حکم نامے کے بعد سپریم کورٹ نے عمران خان کی جانب سے دائر تمام فوجداری درخواستوں کو غیر مؤثر قرار دے کر غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دیا۔ -

کمپنی پارٹی میں آئی فون جیتنے والا ملازم ڈبہ کھول کر حیران، اندر سے ٹائلز نکل آئیں
تصور کریں کہ آپ کسی تقریب میں انعام کے طور پر آئی فون کا نیا ماڈل جیتیں، لیکن ڈبہ کھولنے پر فون کی جگہ ٹائلز نکل آئیں۔ چین میں ایک شخص کے ساتھ ایسا ہی حیران کن واقعہ پیش آیا۔
جیانگ جیانگ نامی شخص نے اپنی کمپنی کی سالانہ تقریب میں گرینڈ پرائز کے طور پر آئی فون 17 پرو میکس جیتا۔ تقریب کے دوران کمپنی سربراہ نے انعام کا اعلان کرتے ہوئے فون کی قیمت 9988 یوآن بھی بتائی، جس کے بعد تمام ملازمین کو یقین تھا کہ جیانگ واقعی مہنگا اسمارٹ فون جیت چکا ہے۔
صوبہ گوانگ ڈونگ سے تعلق رکھنے والے جیانگ اس کامیابی پر بے حد خوش تھے۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ ڈبہ گھر پہنچ کر کھولیں گے تاکہ اپنی اہلیہ کو سرپرائز دے سکیں۔ ڈبہ بالکل اصلی آئی فون پیکنگ جیسا تھا اور اس کے ساتھ رسید بھی موجود تھی۔
تاہم جب انہوں نے گھر پہنچ کر ڈبہ کھولا تو اندر فون کے بجائے دو چاکلیٹس، تین لالی پاپس اور چند ٹائلز رکھے ہوئے تھے۔ جیانگ کے مطابق ابتدا میں انہیں لگا کہ وہ تقریب کے سب سے خوش قسمت فرد ہیں، مگر حقیقت سامنے آنے پر انہیں احساس ہوا کہ یہ ایک مذاق تھا۔
ابتدائی طور پر لوگوں نے سمجھا کہ پارٹی منتظمین نے خفیہ طور پر اصلی فون تبدیل کر دیا، لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ یہ ٹیم منیجر کی جانب سے کیا گیا مذاق تھا کیونکہ کمپنی مالک نے فون خریدنے کی اجازت نہیں دی تھی۔
جیانگ نے بتایا کہ تقریب میں دوسرا انعام ایک تکیہ تھا۔ ان کے بقول انہیں لگا تھا کہ 2026 کا آغاز خوش قسمتی سے ہوا ہے، مگر بعد میں احساس ہوا کہ یہ تقریب کسی اپریل فول مذاق سے کم نہیں تھی۔
انہوں نے کہا کہ اب انہیں فون کی ضرورت بھی محسوس نہیں ہوتی۔ -

قومی سلامتی، عالمی وقار اور ہماری اجتماعی ذمہ داری۔تجزیہ :شہزاد قریشی
دنیا اس وقت ایک نئے جغرافیائی و معاشی توازن کی طرف بڑھ رہی ہے۔ طاقت کا محور تبدیل ہو رہا ہے۔ عالمی سیاست میں بیانیے، سفارت کاری، معیشت اور دفاع—چاروں عناصر مل کر کسی بھی ریاست کا مقام متعین کرتے ہیں۔ ایسے نازک دور میں پاکستان کا عالمی منظرنامے پر کھڑا ہونا کوئی معمولی بات نہیں۔
پاکستان آج امریکہ سے یورپ اور مشرقِ وسطیٰ تک ایک اہم ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں عالمی فورمز پر پاکستان کی نمائندگی، سفارتی سرگرمیوں اور دفاعی پیشہ ورانہ صلاحیت نے ملک کا تشخص مضبوط کیا ہے۔ خاص طور پر عاصم منیر کی قیادت میں عسکری اداروں نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا مقدمہ جس اعتماد کے ساتھ پیش کیا، اس نے ریاستی اداروں کی پیشہ ورانہ ساکھ کو مستحکم کیا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم بحیثیت قوم اس مقام کی قدر بھی کر رہے ہیں؟یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں سیاسی اختلاف اکثر ریاستی اداروں کے خلاف بیانیے میں بدل جاتا ہے۔ تنقید جمہوریت کا حسن ہے، مگر بے بنیاد الزام تراشی، افواہ سازی اور عالمی سطح پر اپنے ہی اداروں کو متنازع بنانے کی روش قومی مفاد کو نقصان پہنچاتی ہے۔ دنیا میں کوئی بھی سنجیدہ ریاست اپنے دفاعی و سلامتی کے ڈھانچے کو داخلی سیاست کی بھینٹ نہیں چڑھاتی۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ سرحدوں پر کھڑا سپاہی کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں ہوتا—وہ ریاست پاکستان کا محافظ ہوتا ہے۔ محدود وسائل اور نسبتاً کم تنخواہوں کے باوجود، وہ جان ہتھیلی پر رکھ کر دہشت گردی، سرحدی کشیدگی اور داخلی سلامتی کے چیلنجز کا مقابلہ کرتا ہے۔ اس قربانی کو محض تنخواہ کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ قومیں اپنے محافظوں کو مالی معاوضے سے زیادہ اخلاقی اعتماد دیتی ہیں—اور یہی اعتماد ان کی سب سے بڑی طاقت ہوتا ہے۔
بین الاقوامی سیاست میں پاکستان کو آج جن چیلنجز کا سامنا ہے، ان میں معاشی دباؤ، علاقائی کشیدگی، اطلاعاتی جنگ اور پراپیگنڈا شامل ہیں۔ ایسے میں داخلی انتشار بیرونی قوتوں کے لیے آسانی پیدا کرتا ہے۔ اگر ہم خود اپنے بیانیے کو کمزور کریں گے تو دنیا ہمیں سنجیدگی سے کیوں لے گی؟یہ وقت جذباتی نعروں کا نہیں، بلکہ اجتماعی شعور کا ہے۔ ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ہم اختلاف کو دشمنی میں بدلیں گے یا اسے تعمیری مکالمے میں ڈھالیں گے۔ سیاسی قیادت، دانشور طبقہ اور میڈیا—سب کی ذمہ داری ہے کہ وہ قومی سلامتی کے معاملات پر احتیاط اور توازن کا مظاہرہ کریں۔ ریاستی اداروں پر تنقید ہو سکتی ہے، مگر وہ شواہد اور ذمہ داری کے ساتھ ہو—نہ کہ سوشل میڈیا کی افواہوں یا بیرونی بیانیوں کے زیر اثر۔
دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ خطے میں نئے اتحاد بن رہے ہیں، عالمی معیشت نئے مراکز کی طرف منتقل ہو رہی ہے، اور اطلاعاتی جنگیں روایتی جنگوں سے زیادہ خطرناک ہو چکی ہیں۔ ایسے میں پاکستان کو اندرونی استحکام، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کی ضرورت ہے۔قوموں کی تاریخ میں ایسے موڑ آتے ہیں جب انہیں فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ وہ داخلی تقسیم کا شکار رہیں گی یا مشترکہ مفاد پر متحد ہوں گی۔ پاکستان اس وقت اسی موڑ پر کھڑا ہے۔ ہمیں اپنی زبانوں کو شعلہ بنانے کے بجائے چراغ بنانا ہوگا۔ اختلاف کو نفرت میں بدلنے کے بجائے اصلاح کا ذریعہ بنانا ہوگا۔
اگر ہم واقعی پاکستان کو عالمی سطح پر باوقار دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے قومی بیانیے میں سنجیدگی، ذمہ داری اور توازن پیدا کرنا ہوگا۔ کیونکہ ریاستیں صرف سرحدوں سے نہیں—بلکہ اپنے شہریوں کے شعور سے مضبوط ہوتی ہیں۔