Baaghi TV

بیویاں بھی شوہروں پر تشدد کرتی ہیں، بل میں صرف عورتوں کا ذکر کیوں؟ خواجہ اظہار الحسن


خواجہ اظہار الحسن نے گھریلو تشدد سے متعلق ترمیمی بل پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بل میں صرف شوہروں کی جانب سے بیویوں پر تشدد کا ذکر کیوں کیا گیا ہے، جبکہ بیویاں بھی شوہروں پر تشدد کرتی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں گھریلو تشدد کے خلاف پیش کیے گئے ترمیمی بل پر تفصیلی بحث کی گئی۔
‎اجلاس کے دوران شازیہ مری نے گھریلو تشدد کی روک تھام سے متعلق ترمیمی بل کمیٹی میں پیش کیا۔ بل کا مقصد موجودہ قوانین کو مزید مؤثر بنانا اور سزاؤں کے نظام کو مضبوط کرنا بتایا گیا۔
‎وزارت قانون و انصاف پاکستان کے حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں گھریلو تشدد سے متعلق قانون پہلے سے موجود ہے، اس لیے یہ جائزہ لینا ضروری ہے کہ نئی تجاویز پہلے سے نافذ قوانین کا حصہ ہیں یا نہیں۔ حکام کے مطابق خصوصی قوانین اس وقت صرف اسلام آباد کی حدود تک نافذ ہیں۔
‎اجلاس کے دوران خواجہ اظہار الحسن نے بل کے مندرجات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ قانون سازی میں دونوں فریقوں کو مدنظر رکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے مزید ریمارکس دیے کہ بعض اوقات گھریلو تنازعات میں شوہر بھی متاثرہ فریق ہوتے ہیں۔

More posts