Baaghi TV

Blog

  • ترکیہ اور پاکستان مل کر گلوبل فوڈ ویلیو چین میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، وزیراعظم

    ترکیہ اور پاکستان مل کر گلوبل فوڈ ویلیو چین میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ترکیہ کی زرعی ٹیکنالوجیز کلسٹر (TUME) کے بورڈ چیرمین عبدلقادر قاراگوز (Abdulkadir Karagöz) کی سربراہی میں 4 رکنی وفد کی ملاقات ہوئی ہے

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان ترکیہ کے ساتھ اپنے مثالی برادرانہ تعلقات کی مزید مضبوطی کے ساتھ ساتھ معاشی شراکت داری کے فروغ کا بھی خواہاں ہے،برادر ملک ترکیہ سے زراعت اور لائیو سٹاک کے شعبے میں تعاون کو مزید بڑھانے کہ بے شمار مواقع موجود ہیں، ترکیہ کے ذرعی اجناس اور لائیو سٹاک کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے ہونے والی ترقی کی طرح پاکستان کے زرعی شعبے کو جدت سے ہم آہنگ کرنے کے لیے پرعزم ہیں، قدرت نے پاکستان کو زرعی شعبے میں بے شمار وسائل سے نوازا ہے، اور جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لا کر ان وسائل سے بھرپور استفادہ حاصل کرنے کیلئے کوششیں جاری ہیں، ترکیہ اور پاکستان مل کر گلوبل فوڈ ویلیو چین میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں،

    عبدالقادر چیئرمین TUME کا کہنا تھا کہ ترکیہ اور پاکستان کی برادرانہ قیادت کاروباری حضرات کے مابین تعاون کو مزید بڑھانے کے لیے مشعل راہ ہے،

    وزیراعظم نے ترکیہ سمیت دیگر ممالک میں جدید ٹیکنالوجی اور زرعی ماہرین کی بدولت زرعی شعبے میں جدت سے مستفید ہونے کے لیے باہمی تعاون کو بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔ وزیراعظم نے زراعت کے شعبے میں پاکستان کے بے شمار وسائل اور صلاحیتوں کو بروۓ کار لانے کے لیے جامع حکمت عملی اور دوست ممالک کے درمیان باہمی تعاون کی ضرورت کو بھی اجاگر کیا۔ ملاقات کے دوران TUME کے بورڈ چیئرمین عبدالقادر قاراگوز نے اپنے فرم میں پیداوار بڑھانے کیلئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر بریفنگ دی۔ انہوں نے پاکستان اور ترکیہ کے مابین زراعت اور لائیو اسٹاک کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔

    ملاقات میں پاکستان میں ترکیہ کے سفیر عرفان نزیراوولو، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر برائے تجارت جام کمال، وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیراعظم کے مشیران سید طارق فاطمی اور ہارون اختر اور متعلقہ اعلی سرکاری افسران نے شرکت کی۔

  • مسلح افواج دیانتداری سے ڈیوٹی انجام دیں تو  اچھا الیکشن ملے  گا،امیر جماعت اسلامی

    مسلح افواج دیانتداری سے ڈیوٹی انجام دیں تو اچھا الیکشن ملے گا،امیر جماعت اسلامی

    جماعتِ اسلامی کے امیر شفیق الرحمان نے ملک کے مختلف حصوں میں پرتشدد واقعات اور بے ضابطگیوں کا الزام عائد کیا ہے۔

    جماعتِ اسلامی کے امیر شفیق الرحمان نے کہا ہے کہ اگر مسلح افواج اپنی ذمہ داریاں خلوص نیت سے ادا کریں تو دن کے اختتام تک قوم کو ’اچھا الیکشن‘ مل سکتا ہے، تاہم انہوں نے ملک کے مختلف حصوں میں پرتشدد واقعات اور بے ضابطگیوں کا الزام بھی عائد کیا ہے۔

    وہ ڈھاکہ 15 کے حلقے میں اپنے مرکزی انتخابی دفتر میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر مسلح افواج دیانتداری سے اپنی ڈیوٹی انجام دیں تو ہمیں امید ہے کہ دن کے اختتام تک قوم کو اچھی ووٹنگ اور اچھا الیکشن ملے گا اگر اچھا الیکشن ہوگا تو اچھی حکومت بنے گی، ایسی حکومت جو عوام کے بارے میں سوچے گی لیکن اگر دھاندلی اور جعلسازی سے حکومت بنی تو وہ عوام کے دکھ درد کو نہیں سمجھے گی اور نہ ہی ان سے اس کا کوئی رشتہ ہوگا۔

    جماعتِ اسلامی کے امیر نے صبح میرپور کے 60 فٹ علاقے میں منی پور ہائی اسکول (بوائز سیکشن) کے پولنگ اسٹیشن پر اپنا ووٹ کاسٹ کیا وہاں صورتحال معمول کے مطابق تھی اور ووٹرز کی موجودگی نمایاں تھی۔ بعد میں میں نے کئی مراکز کا دورہ کیا۔ ایک دو مراکز کے علاوہ مجموعی طور پر ٹرن آؤٹ تسلی بخش تھاامیر جماعت اسلامی نے الزام لگایا کہ منی پور ہائی اسکول (گرلز سیکشن) کے پولنگ اسٹیشن میں مخالف امیدوار کے کارکنان زبردستی داخل ہوئے اور ووٹرز کو خوفزدہ کیا۔

    انہوں نے کہا کہ اس مرکز میں تقریباً 26 ہزار ووٹرز رجسٹرڈ ہیں اچانک ہمارے حریف جماعت کے کچھ افراد بے قابو انداز میں اندر داخل ہوئے، انہوں نے ووٹرز کو ڈرایا دھمکایا اور ہمارے حامیوں کو جسمانی طور پر ہراساں کیا، اطلاع ملنے پر وہ خود مرکز پہنچے جہاں ایک فوجی افسر صورتحال سنبھال رہے تھے ہم نے دیکھا کہ ایک فوجی افسر نہایت ذمہ داری سے معاملات کو کنٹرول کر رہے تھے انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ صورتحال قابو میں ہے،انہوں نے مطالبہ کیا کہ ووٹنگ ختم ہونے کے بعد صرف متعلقہ سرکاری اہلکاروں اور امیدواروں کے ایجنٹس کو ہی مرکز میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے اور باہر غیر ضروری ہجوم یا کشیدگی کو روکا جائے۔

    انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ووٹنگ پُرامن ہو اور ہر شخص اپنی مرضی کے مطابق ووٹ ڈال سکے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مختلف علاقوں میں بی این پی امیدواروں کے کارکنوں نے مسائل پیدا کیے ہمیں خدشہ ہے کہ اگر ووٹوں کی گنتی کے دوران بدامنی ہوئی تو نتائج عوامی امنگوں کی عکاسی نہیں کریں گے۔

  • "انا اور عزتِ نفس: فرق کیا ہے؟”تحریر:پارس کیانی

    "انا اور عزتِ نفس: فرق کیا ہے؟”تحریر:پارس کیانی

    انسانی شخصیت کے باطن میں کچھ جذبات ایسے ہیں جو بظاہر ایک جیسے دکھائی دیتے ہیں، مگر حقیقت میں ان کی سمت، اثر اور انجام ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہوتے ہیں۔ انا اور عزتِ نفس بھی انہی میں سے ہیں۔ عام گفتگو میں ان دونوں کو خلط ملط کر دیا جاتا ہے، حتیٰ کہ بعض اوقات انا کو عزتِ نفس کا نام دے کر اس کی توجیہ پیش کی جاتی ہے۔ حالانکہ انا اور عزتِ نفس نہ صرف جدا مفاہیم رکھتے ہیں بلکہ اخلاقی اور نفسیاتی اعتبار سے ایک دوسرے کی ضد بھی ہیں۔

    عزتِ نفس انسان کی وہ مثبت داخلی قوت ہے جو اسے اپنی قدر پہچاننے، اپنے وجود کا احترام کرنے اور خود کو بے جا ذلت سے محفوظ رکھنے کا شعور دیتی ہے۔ عزتِ نفس کا تعلق خود آگاہی، خود احتسابی اور خود اعتمادی سے ہے۔ یہ وہ کیفیت ہے جس میں انسان نہ خود کو کمتر سمجھتا ہے اور نہ ہی دوسروں سے برتر۔ وہ اپنی حدود کو جانتا ہے، اپنی خامیوں کا اعتراف کرتا ہے اور اپنی خوبیوں پر شکر گزار رہتا ہے۔ عزتِ نفس انسان کو خاموش وقار عطا کرتی ہے، چیخنے چلانے، ثابت کرنے یا دوسروں کو نیچا دکھانے کی حاجت نہیں پڑتی۔

    اس کے برعکس انا ایک منفی، دفاعی اور جارحانہ جذبہ ہے جو عدمِ تحفظ سے جنم لیتا ہے۔ انا دراصل خود کو بچانے کا نہیں بلکہ خود کو ثابت کرنے کا اضطراب ہے۔ انا کا شکار انسان ہر وقت اس خوف میں مبتلا رہتا ہے کہ کہیں اس کی برتری، حیثیت یا اختیار پر حرف نہ آ جائے۔ اسی خوف کے زیرِ اثر وہ اختلاف کو توہین سمجھتا ہے، سوال کو گستاخی اور تنقید کو دشمنی قرار دیتا ہے۔ انا کا مقصد خود کو محفوظ رکھنا نہیں بلکہ دوسروں کو زیر کرنا ہوتا ہے۔
    عزتِ نفس انسان کو یہ سکھاتی ہے کہ وہ اپنے حق کے لیے پُرسکون انداز میں کھڑا ہو، جبکہ انا اسے یہ سکھاتی ہے کہ وہ ہر حال میں جیتے، چاہے اس کے لیے کسی کی تذلیل ہی کیوں نہ کرنی پڑے۔ عزتِ نفس خاموش ہوتی ہے، انا شور مچاتی ہے۔ عزتِ نفس دلیل پر یقین رکھتی ہے، انا طاقت پر۔ عزتِ نفس برداشت سکھاتی ہے، انا انتقام پر منتج ہوتی ہے۔

    یہی وجہ ہے کہ عزتِ نفس رکھنے والا انسان معذرت کر لینے میں عار محسوس نہیں کرتا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ معافی اس کی قدر کم نہیں کرتی۔ جبکہ انا پرست شخص معذرت کو شکست سمجھتا ہے، اس کے نزدیک جھکنا مٹ جانے کے مترادف ہے۔ عزتِ نفس انسان کو خود سے مضبوط تعلق دیتی ہے، انا اسے مسلسل دوسروں سے مقابلے میں الجھائے رکھتی ہے۔

    فلسفیانہ اعتبار سے دیکھا جائے تو عزتِ نفس وجودی توازن کی علامت ہے۔ یہ انسان کو اپنی ذات کے مرکز میں رکھتی ہے، جہاں وہ اپنی ذمہ داری بھی قبول کرتا ہے اور اپنی حدود بھی پہچانتا ہے۔ انا اس توازن کو بگاڑ دیتی ہے۔ انا انسان کو اپنے مرکز سے ہٹا کر دوسروں کی نگاہوں، آراء اور ردِعمل کا غلام بنا دیتی ہے۔ وہ دوسروں کے جھکنے میں اپنی بقا تلاش کرنے لگتا ہے۔

    سماجی سطح پر انا فساد کو جنم دیتی ہے، جبکہ عزتِ نفس ہم آہنگی پیدا کرتی ہے۔ انا رشتوں کو توڑتی ہے، کیونکہ اس میں جیت صرف ایک کی ہوتی ہے۔ عزتِ نفس رشتوں کو نبھاتی ہے، کیونکہ اس میں احترام باہمی ہوتا ہے۔ انا اختلاف کو دشمنی میں بدل دیتی ہے، عزتِ نفس اختلاف کے باوجود وقار برقرار رکھتی ہے۔
    یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ عزتِ نفس انسان کو بلند کرتی ہے اور انا اسے تنہا کر دیتی ہے۔ تاریخ، ادب اور عمرانی تجربہ اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ انا پرست افراد بظاہر طاقتور دکھائی دیتے ہیں، مگر اندر سے کھوکھلے اور بے چین ہوتے ہیں۔ جبکہ عزتِ نفس رکھنے والے افراد خاموشی سے اپنا مقام بنا لیتے ہیں، بغیر کسی کو کچلے، بغیر کسی کو ذلیل کیے۔

    اصل امتحان یہ نہیں کہ انسان خود کو کب بچاتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ خود کو بچاتے ہوئے دوسروں کو کتنا محفوظ رکھتا ہے۔ عزتِ نفس یہی توازن سکھاتی ہے، جبکہ انا اس توازن کو پامال کر دیتی ہے۔ہمارے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ عزتِ نفس خودی کی حفاظت ہے اور انا خودی کی بیماری۔ عزتِ نفس انسان کو انسان بناتی ہے، انا اسے اپنی ہی ذات کا قیدی۔ جو شخص عزتِ نفس کے ساتھ جیتا ہے وہ دوسروں کو جینے دیتا ہے، اور جو انا کے ساتھ جیتا ہے وہ دوسروں کے وقار پر زندہ رہنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی دونوں کے درمیان اصل اور فیصلہ کن فرق ہے۔

  • بسنت کی بحالی: پنجاب اسمبلی میں مریم نواز کی قیادت کو خراج تحسین

    بسنت کی بحالی: پنجاب اسمبلی میں مریم نواز کی قیادت کو خراج تحسین

    لاہور:پنجاب اسمبلی میں بسنت کی بحالی کے حوالے سے قرارداد جمع کرا دی گئی، مسلم لیگ (ن) کے رکن صوبائی اسمبلی چوہدری افتخار حسین چھچھر نے قرارداد ایوان میں پیش کی۔

    قرارداد کے متن میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے بسنت بحال کرنے کے اقدام کو سراہتے ہوئے اسے عوامی امنگوں کی حقیقی ترجمانی قرار دیا گیا ہے قرارداد میں کہا گیا کہ بسنت کے محفوظ انعقاد سے عوام کو اجتماعی خوشی ملی اور صوبے میں مثبت سرگرمیوں کو فروغ ملا۔

    قرارداد میں مریم نواز کی قیادت کو جرات مند، متحرک اور عوام دوست قرار دیا گیا جبکہ حکومت کے ترقیاتی منصوبوں اور فلاحی اقدامات کو بھی خراج تحسین پیش کیا گیا۔ تعلیم، صحت، روزگار، کاروباری معاونت اور اسکل پروگرامز سمیت کسانوں کے لیے اقدامات اور جدید زرعی اصلاحات کو بھی قابل تعریف قرار دیا گیا۔

    قرارداد میں امن و امان کی صورتحال بہتر رکھنے پر جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیوں کو سراہا گیا اور بسنت کے دوران قانون پر عمل درآمد یقینی بنانے پر پنجاب پولیس، ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو 1122 کو خراج تحسین پیش کیا گیا متن کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مربوط حکمت عملی سے امن و امان برقرار رہا۔

    قرارداد میں شہریوں کے ذمہ دارانہ رویے اور حکومتی ہدایات پر عمل درآمد کو بھی قابلِ ستائش قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ پاکستانی قوم قانون کے دائرے میں رہ کر خوشیاں منانا جانتی ہے کامیاب اور پرامن بسنت کے انعقاد سے پاکستان کا مثبت تشخص عالمی سطح پر اجاگر ہوا اور لاہور نے اپنی ثقافتی شناخت کے ساتھ عالمی منظرنامے پر دوبارہ جگہ بنائی۔

    ایوان نے وزیراعلیٰ مریم نواز کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کے ترقیاتی ایجنڈے کی حمایت کا اعادہ بھی کیا۔

  • بنگلادیش میں عام انتخابات کے لیے ووٹنگ کا عمل مکمل , نتائج کا انتظار

    بنگلادیش میں عام انتخابات کے لیے ووٹنگ کا عمل مکمل , نتائج کا انتظار

    ‎بنگلادیش میں عام انتخابات کے لیے ووٹنگ کا عمل مکمل ہو گیا۔ ملک بھر کے 299 حلقوں میں مقامی وقت کے مطابق صبح 7:30 بجے شروع ہونے والی پولنگ شام 4:30 بجے تک جاری رہی۔
    ‎300 رکنی پارلیمان کے لیے 50 سیاسی جماعتوں کے امیدوار میدان میں ہیں جبکہ 12 کروڑ 70 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز کو حق رائے دہی حاصل ہے۔ حکومت بنانے کے لیے کسی بھی جماعت یا اتحاد کو کم از کم 151 نشستیں درکار ہوں گی۔
    ‎اہم جماعتوں میں بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی، جماعتِ اسلامی، نیشنل سٹیزن پارٹی اور جماعتی پارٹی شامل ہیں۔ عوامی لیگ پابندی کے باعث انتخابات میں حصہ نہیں لے رہی۔
    ‎بی این پی کی جانب سے سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کے بیٹے طارق رحمان وزارت عظمیٰ کے امیدوار ہیں۔ ووٹ ڈالنے کے بعد انہوں نے کہا کہ امن و امان کا قیام ان کی اولین ترجیح ہو گا اور خواتین کی فلاح پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ انہوں نے انتخابی کامیابی کی امید بھی ظاہر کی۔
    ‎جماعتِ اسلامی کے امیر شفیق الرحمان نے بھی ووٹ کاسٹ کیا اور کہا کہ یہ انتخابات ملک کے لیے ایک اہم موڑ ہیں۔ ان کے بقول عوام تبدیلی چاہتے ہیں اور ان کی جماعت اس خواہش کی نمائندگی کرتی ہے۔
    ‎ملک بھر میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے اور فوج کو بھی تعینات کیا گیا۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ انتخابات کو شفاف، آزاد اور غیر جانبدار بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات مکمل کیے گئے ہیں۔
    ‎ایک حالیہ عوامی سروے کے مطابق بی این پی کی قیادت میں قائم اتحاد کو 44.1 فیصد ووٹ ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ جماعتِ اسلامی کی سربراہی میں 11 جماعتوں پر مشتمل اتحاد کو 43.9 فیصد ووٹ مل سکتے ہیں، جس سے سخت مقابلے کی پیشگوئی کی جا رہی ہے۔

  • عمران خان کی آنکھ کے مسئلے سے جیل حکام آگاہ تھے، علیمہ خان

    عمران خان کی آنکھ کے مسئلے سے جیل حکام آگاہ تھے، علیمہ خان

    سپریم کورٹ میں عمران خان سے متعلق رپورٹ سامنے آنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ سپرنٹنڈنٹ اڈیالا جیل عبدالغفور انجم کو گزشتہ تین ماہ سے بتایا جا رہا تھا کہ عمران خان کی آنکھ میں تکلیف ہے۔
    ‎ان کے مطابق معاملہ صرف جیل سپرنٹنڈنٹ تک محدود نہیں، بلکہ نگرانی کے کیمروں کے ذریعے بھی صورتحال دیکھی جا سکتی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دو ہفتوں سے عمران خان کی بینائی متاثر ہو رہی تھی۔
    ‎علیمہ خان نے کہا کہ عمران خان آج جیل میں اس لیے ہیں کیونکہ عدلیہ آزاد نہیں۔ ان کے بقول اگر انصاف مل رہا ہوتا تو وہ قید میں نہ ہوتے۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کا علاج شفاء اسپتال میں ان کے ذاتی معالج کی موجودگی میں کرایا جائے گا، اور متعلقہ حکام کے پاس اس حوالے سے فوری اقدامات کے لیے دو دن کا وقت ہے۔

  • پاکستان کا عالمی مالیاتی منڈیوں میں واپسی کا پلان ہے ،وزیر خزانہ

    پاکستان کا عالمی مالیاتی منڈیوں میں واپسی کا پلان ہے ،وزیر خزانہ

    وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب سے امریکی نائب معاون وزیر خارجہ نے ملاقات میں جس میں انہوں نے کہا کہ حکومتی کوششوں سے مالی خسارہ کم ہوا ہے۔

    وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے امریکی نائب معاون وزیر خارجہ سے گفتگو میں کہا کہ کرنٹ اکاوٴنٹ بہتراورآئی ٹی برآمدات میں اضافہ ہوا ہے ملاقات میں دونوں رہنماں نے دوطرفہ معاشی تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا اور جان مارک کو معاشی استحکام اور جاری اصلاحات بارے آگاہ کیا۔

    محمد اورنگزیب نے بتایا کہ غیرملکی سرمایہ کاری میں سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ پاکستان کا عالمی مالیاتی منڈیوں میں واپسی کا پلان ہے حکومت پانڈا بانڈ جاری کرنے کی تیاری کر رہی ہےحکومتی کوششوں سے مالی خسارہ کم، کرنٹ اکاوٴنٹ بہتراورآئی ٹی برآمدات میں اضافہ ہوا ہے، وزیرخزانہ نے مالی نظم وضبط اوراصلاحات جاری رکھنے کے حکومتی عزم کا اعادہ بھی کیا۔

  • معمولی حملہ بھی جنگ سمجھا جائے گا،ایران کا انتباہ

    معمولی حملہ بھی جنگ سمجھا جائے گا،ایران کا انتباہ

    ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مشیر علی شمخانی نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی محدود فوجی کارروائی کو بھی جنگ کا آغاز تصور کیا جائے گا۔

    تہران میں اسلامی انقلاب کی 47ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے علی شمخانی نے خبردار کیا کہ ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی محدود فوجی کارروائی کو بھی جنگ کا آغاز تصور کیا جائے گا، ایران کی میزائل صلاحیت ملک کی ریڈ لائن ہے اور اسے کسی بھی مذاکرات کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا، ایران اپنی دفاعی صلاحیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا امریکا کو چاہیے کہ وہ دھمکیوں کے بجائے سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے –

    ان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں ایران کے خلاف ممکنہ فوجی اقدامات اور خطے میں ایک اور بحری بیڑے کی تعیناتی کا عندیہ دیا تھا ملک کی دفاعی اور میزائل صلاحیت قومی سلامتی کا اہم حصہ ہے اور اس پر کوئی بیرونی دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا۔

  • کراچی: بلیک میل کرنے پر سیکیورٹی گارڈ نے خاتون کو قتل کر دیا

    کراچی: بلیک میل کرنے پر سیکیورٹی گارڈ نے خاتون کو قتل کر دیا

    پاپوش نگر صرافہ بازار میں واقع نجی بینک کے باہر سیکیورٹی گارڈ صادق ولد حاجی خان نے فائرنگ کرکے خاتون کو قتل کر دیا-

    پولیس کے مطابق پاپوش نگر تھانے کے علاقے پاپوش نگر صرافہ بازار میں واقع نجی بینک کے باہر فائرنگ کے واقعے میں ایک خاتون شدید زخمی ہوگئی جسے چھیپا ایمبولینس کے ذریعے فوری طور پر سول اسپتال منتقل کیا گیا تاہم شدید زخمی خاتون دوران علاج دم توڑ گئی مقتولہ خاتون اور گرفتار سیکیورٹی گارڈ مبینہ طور پر آپس میں دوست تھے اور دوران تفتیش گرفتار گارڈز نے بتایا کہ مقتولہ خاتون اسے بیلک میل کر رہی تھی اور اسی وجہ سے اس نے فائرنگ کی۔

    مقتولہ خاتون کی شناخت 32 سالہ زاہدہ زوجہ آصف کے نام سے کی گئی، مقتولہ خاتون چاندنی چوک کی رہائشی تھی فائرنگ کے واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس بھی موقع پر پہنچ گئی اور پولیس نے جائے وقوع سے شواہد اکٹھا کرنے کے لیے کرائم سین یونٹ کو بھی موقع پر طلب کیا۔

    ایس ایچ او پاپوش نگر نے بتایا کہ مقتولہ خاتون نے گزشتہ ماہ گرفتار سیکیورٹی گارڈ سے 50ہزار روپے لیے تھے اور مزید رقم کا تقاضا کر رہی تھی، مقتولہ کے پاس گرفتار سیکیورٹی گارڈ کی ویڈیو موجود تھی اور مزید رقم نہ ملنے پر گارڈ کو ویڈیو وائرل کرنے کی دھمکی دے کر بلیک میل کر رہی تھی جس کی وجہ سے گرفتار سیکیور ٹی گارڈ پریشان تھا جمعرات کو گرفتار سیکیورٹی گارڈ نے رقم دینے کے بہانے خاتون کو فون کال کرکے بلوایا اور اسے فائرنگ کرکے شدید زخمی کر دیا، پولیس نے گرفتار سیکیورٹی گارڈ کے قبضے سے اسلحہ اور جائے وقوع سے چلیدہ خول بھی برآمد کیے ہیں جبکہ مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔

  • ضلع مہمند  میں 37 ایکڑ غیر قانونی پوست کی فصل تلف

    ضلع مہمند میں 37 ایکڑ غیر قانونی پوست کی فصل تلف

    محکمہ ایکسائز خیبرپختونخوا نے منشیات کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن شروع کردیا ہے جس میں مہمند اور صوابی میں مشترکہ گرینڈ آپریشن جاری ہے۔

    تفصیلات کے مطابق ضلع مہمند تحصیل امبار میں 37 ایکڑ غیر قانونی پوست کی فصل تلف کی گئی،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کاررو ائیاں تیز کردی گئی ہیں جس میں بیر گلی صوابی میں بڑے رقبے پر کاشت کی گئی پوست کی فصل تباہ کردی گئی ہے۔

    محکمہ ایکسائز، ضلعی انتظامیہ، پولیس اور اے این ایف کا مشترکہ آپریشن ہے صوبائی وزیر سید فخرجہان نے منشیات فروشوں اور اسمگلرز کے خلاف بے رحم کارروائیوں کے عزم کا اظہار کیا،صوبائی وزیر نے منشیات سے پاک خیبرپختونخوا کے ہدف کیلئے فیلڈ آپریشنز میں مزید تیزی لانے کی ہدایت کردی ہے۔