Baaghi TV

Blog

  • پی ایس ایل11:نیلامی میں فروخت ہونیوالے سب سے مہنگے اور سستے کھلاڑی کونسے ؟

    پی ایس ایل11:نیلامی میں فروخت ہونیوالے سب سے مہنگے اور سستے کھلاڑی کونسے ؟

    پاکستان سپرلیگ کے 11ویں ایڈیشن کے لیے لاہور ایکسپوسنٹر میں نیلامی کی تقریب منعقد ہوئی جس میں ہر ٹیم نے اپنا 16 سے 20 رکنی اسکواڈ تشکیل دیا۔

    لاہور میں ہونے والی پلیئرز آکشن میں 800 سے زائد ملکی و غیر ملکی کھلاڑی رجسٹرڈ تھے ان میں مہنگے اورسستے کھلاڑی خریدے گئے،پلیئر آکشن میں سب سے مہنگے کھلاڑی پاکستان کے نسیم شاہ کو 8 کروڑ 65 لاکھ روپے میں ٹیم راولپنڈی نے خریدا جبکہ پاکستانی آل راؤنڈر فہیم اشرف کو اسلام آباد یونائیٹڈ نے 8 کروڑ 50 لاکھ روپے میں حاصل کرلیا،اسی طرح غیرملکی کھلاڑیوں میں نیوزی لینڈ کے جارح مزاج مڈل آرڈر بلے باز ڈیرل مچل کو 8 کروڑ 5 لاکھ روپے میں ٹیم راولپنڈی نے خریدا –

    سب سے سستے کھلاڑیوں میں ٹیم سیالکوٹ اسٹالینز نے محمد اویس ظفر ، لیکلان شا، ڈیلانو پوٹگیئٹر اور جہانزیب سلطان کو 60،60 لاکھ روپے میں خریدا جبکہ پشاور زلمی نے مرزا طاہر بیگ ، محمد ناہید رانا اور خالد عثمان کو 60،60 لاکھ روپے میں حاصل کیا۔

    کراچی کنگز نے رضوان اللہ اور عاقب الیاس کو جبکہ لاہور قلندرز نے طیب طاہر، آصف علی ، پرویز حسین ایمان اور محمد فاروق کو 60 لاکھ ، 60 لاکھ روپے میں خرید لیا کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے سیمیول ہارپر، ثاقب خان اور بیون جیکبز کو جبکہ اسلام آباد یونائیٹڈ نے ثمین گل اور دپیندر سنگھ ایری کو 60،60 لاکھ میں خریدا۔

    سعد علی ، محمد طیب عارف ، رضوان محمود ، آصف محمود ، حنین شاہ، شرجیل خان ،حماد اعظم کو حیدرآباد کنگزمین نے جبکہ شاہزیب خان ، فواد علی، ڈائن فاریسٹر اور محمد عامر خان کو ٹیم راولپنڈی نے 60،60 لاکھ روپے میں خرید ا، پلیئر آکشن کے دوران 60 لاکھ روپے میں خریدے جانے والے سب سے زیادہ کھلاڑی (7) ٹیم حیدرآباد کنگزمین میں شامل ہیں جبکہ سب سے کم کھلاڑی اسلام آباد یونائیٹڈ اور کراچی کنگز میں صرف 2، 2 شامل ہیں۔

  • بلوچستان: محرومی کا بیانیہ یا قیادت کی ناکامی؟، تجزیہ :شہزاد قریشی

    بلوچستان: محرومی کا بیانیہ یا قیادت کی ناکامی؟، تجزیہ :شہزاد قریشی

    بلوچستان کا نام لیتے ہی محرومی، ناانصافی اور پسماندگی کی ایک طویل داستان سامنے آتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ داستان صرف مرکز کی بے حسی کا نتیجہ ہے، یا اس میں صوبے کی اپنی قیادت کا کردار بھی شامل ہے؟ حالیہ دنوں چوہدری فواد حسین نے ایک سادہ مگر بنیادی سوال اٹھایا کہ اربوں روپے کے فنڈز بلوچستان کے لیے جاری ہوئے، مگر زمینی حقائق کیوں نہیں بدلے؟ یہ سوال بعض حلقوں کو ناگوار ضرور گزرا ہوگا، مگر اسے نظرانداز کرنا آسان نہیں۔

    بلوچستان پر دہائیوں سے چند مخصوص خاندانوں اور سرداروں کی سیاست حاوی رہی ہے۔ اقتدار کے ایوانوں تک رسائی بھی انہی کو حاصل رہی، وزارتیں بھی انہی کے حصے میں آئیں اور مراعات بھی، مگر جب صوبے کی حالت پر نظر ڈالی جائے تو تعلیم کا فقدان، صحت کی ناگفتہ بہ صورتحال، ٹوٹی سڑکیں اور بے روزگار نوجوان دکھائی دیتے ہیں۔ اگر وسائل نہیں ملے تو آواز اٹھانا بجا ہے، لیکن اگر وسائل ملے اور پھر بھی عوام محروم رہے تو سوال قیادت سے ہوگا۔

    اسی دوران اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی کا یہ کہنا کہ فوج چند اضلاع کی نمائندہ ہے، ایک غیر ذمہ دارانہ بیان محسوس ہوتا ہے۔ افواجِ پاکستان میں ہر صوبے، ہر قومیت اور ہر علاقے کے لوگ شامل ہیں۔ بلوچ افسران اور جوان بھی نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ قومی اداروں کو لسانی یا علاقائی بنیاد پر تقسیم کرنے کا بیانیہ دراصل اتحاد کو کمزور کرتا ہے، مضبوط نہیں۔

    بلوچستان کے عوام کو جذباتی نعروں سے زیادہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کو روزگار، تعلیم اور امن چاہیے۔ اگر سیاسی قیادت خود احتسابی سے گریز کرے اور ہر ناکامی کا ملبہ دوسروں پر ڈال دے تو مسائل حل نہیں ہوتے، بلکہ الجھتے چلے جاتے ہیں وقت کا تقاضا ہے کہ بلوچستان کی سیاست نعروں سے نکل کر کارکردگی کی بنیاد پر کھڑی ہو۔ جو قیادت برسوں سے اقتدار میں رہی، اسے اپنا حساب دینا ہوگا۔ اور جو آج قومی اداروں پر تنقید کرتی ہے، اسے بھی ذمہ دارانہ زبان اختیار کرنی ہوگی۔ کیونکہ قومیں الزام تراشی سے نہیں، دیانتدار قیادت اور سنجیدہ طرزِ سیاست سے آگے بڑھتی ہیں۔

  • بھارت نہ جانے کا فیصلہ کس کا تھا؟ بنگلا دیشی مشیر کھیل نے بتا دیا

    بھارت نہ جانے کا فیصلہ کس کا تھا؟ بنگلا دیشی مشیر کھیل نے بتا دیا

    بنگلا دیش کے مشیر برائے کھیل آصف نذرل نے کہا ہے کہ آئی سی سی ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کے لیے بھارت نہ جانے کا فیصلہ حکومت نہیں بلکہ بنگلا دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) اور کھلاڑیوں نے مشترکہ طور پر کیا تھا۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ ٹیم کی ورلڈ کپ سے غیر موجودگی پر کسی قسم کا افسوس نہیں کیونکہ یہ فیصلہ قومی وقار، عوام اور کرکٹ کی حفاظت کے پیش نظر کیا گیا۔

    واضح رہے کہ بنگلا دیش نے سکیورٹی خدشات کے باعث بھارت میں ٹی20 ورلڈ کپ کھیلنے سے انکار کیا تھا اور آئی سی سی سے میچز کسی دوسرے ملک منتقل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ آئی سی سی کی جانب سے درخواست مسترد ہونے کے بعد بنگلا دیش نے شرکت سے انکار کیا جس کے بعد اس کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو ٹورنامنٹ میں شامل کیا گیا۔

    دوسری جانب حالیہ مذاکرات کے بعد آئی سی سی نے بنگلا دیش کے خلاف کسی قسم کی پابندی نہ لگانے کا اعلان کیا ہے جبکہ مستقبل میں ایک عالمی ایونٹ کی میزبانی دینے پر بھی غور کیا جا رہا ہے یہ پیش رفت آئی سی سی، پاکستان کرکٹ بورڈ اور بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کے درمیان مذاکرات کے بعد سامنے آئی۔

    آصف نذرل نے اس پیش رفت کو بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ بنگلا دیش نے کرکٹ ڈپلومیسی کے ذریعے اہم کامیابی حاصل کی ہے اور یہ ملک کے لیے مثبت پیش رفت ہے،مبصرین کے مطابق اس معاملے نے عالمی کرکٹ میں سیاست اور سکیورٹی معاملات کے اثرات کو بھی نمایاں کر دیا ہے جبکہ مستقبل میں ایسے تنازعات کے امکانات پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔

  • رمضان کا چاند دیکھنے کے لئے  اجلاس 18 فروری کو ہوگا

    رمضان کا چاند دیکھنے کے لئے اجلاس 18 فروری کو ہوگا

    پاکستان میں 18 فروری کو رمضان المبارک کا چاند نظر آنے کا قوی امکان ہے۔

    رمضان کا چاند دیکھنے کے لئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس 18 فروری کو ہوگا ماہر فلکیات کا کہنا ہے کہ 29 شعبان 1447 ہجری کو چاند دکھائی دے سکتا ہے، 17 فروری شام 5 بجکر 1 منٹ پر چاند کی پیدائش ہوگی،محکمہ موسمیات نے بھی رمضان المبارک کا چاند 18 فروری کو نظر آنے کا امکان ظاہر کیا ہے،پاکستان میں رمضان المبارک کے چاند کے بارے میں حتمی اعلان رویت ہلال کمیٹی 18 فروری کو چاند کی رویت کی شہادتوں کے بعد کرے گی۔

    ڈائریکٹر جنرل محکمہ موسمیات صاحبزاد خان کے مطابق پاکستان میں رمضان المبارک 1447 ہجری کا چاند 18 فروری کو نظر آنے کے قوی امکانات ہیں جبکہ پہلا روزہ 19 فروری کو ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

    موسمیاتی ماہرین کے مطابق ملک کے بیشتر علاقوں میں اس روز موسم جزوی ابر آلود یا صاف رہنے کی توقع ہے جو چاند دیکھنے کے امکانات کو بہتر بنا سکتا ہے۔

    محکمہ موسمیات نے مختلف صوبوں کے لیے چاند دیکھنے کے آخری اوقات بھی جاری کر دیے ہیں جاری تفصیلات کے مطابق سندھ میں چاند دیکھنے کا آخری وقت شام 7 بج کر 24 منٹ ہوگا، پنجاب میں چاند دیکھنے کا وقت شام 7 بج کر 8 منٹ تک ہوگا جبکہ بلوچستان میں چاند دیکھنے کا آخری وقت شام 7 بج کر 47 منٹ مقرر کیا گیا ہے۔

  • اپنے پانی کے حقوق پر کسی سمجھوتے کو قبول نہیں کریں گے،پاکستان

    اپنے پانی کے حقوق پر کسی سمجھوتے کو قبول نہیں کریں گے،پاکستان

    ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان اپنے پانی کے حقوق پر کسی سمجھوتے کو قبول نہیں کرے گا۔

    ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ پاکستان بین الاقوامی ثالثی عدالت میں بھارت کے خلاف قانونی کارروائی کر رہا ہے، لیکن بھارت نے حاضری نہیں دی،سندھ طاس معاہدہ دونوں ملکوں کے درمیان ایک مسلمہ بین الاقوامی معاہدہ ہے اور پاکستان اپنے پانی کے حقوق پر کسی سمجھوتے کو قبول نہیں کرے گا۔

    ترجمان نے کہا کہ بھارت میں ریاستی سرپرستی میں ہجوم کے ہاتھوں قتل اور مسلمانوں و مسیحیوں پر مظالم تشویشناک ہیں، جبکہ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں افغانستان اور دہشتگرد گروہوں کے حوالے سے پاکستان کے موقف کی تصدیق ہوئی ہے۔ پاکستان نے دہشتگردی کیخلاف اقدامات کے لیے اقوام متحدہ کے ساتھ رابطے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کے کئی رافیل طیارے گرائے اور مستقبل میں بھارتی جارحیت کا سخت جواب دیا جائے گا اسلام آباد میں داعش کے حملے کے معاملے کو عالمی سطح پر اٹھایا جا رہا ہے اور داعش کا ماسٹر مائنڈ افغانستان میں موجود ہے، کھیل کو سیاست کا ہتھیار بنانے کی کوشش غلط ہے، اور پاکستان نے بنگلہ دیش اور سری لنکا کے ساتھ میچ کھیلنے کا فیصلہ کھیل کے اصولوں کے مطابق کیا۔

    غزہ پیس بورڈ اجلاس کے حوالے سے بتایا گیا کہ وزیراعظم شہباز شریف اجلاس میں شرکت کریں گے اور 8 مسلم ممالک کی آواز اس اجلاس میں سنی جائے گی۔ پاکستان آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتا ہے جس کی سرحدیں 1967 سے پہلے کی ہوں گی ،انہوں نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی حمایت کی اور کہا کہ پاکستان مذاکرات کے ذریعے مسائل کے پرامن حل کی کوششیں جاری رکھے گا۔

  • پاکستان کا دوسرا مقامی سیٹلائٹ EO-2 کامیابی سے لانچ

    پاکستان کا دوسرا مقامی سیٹلائٹ EO-2 کامیابی سے لانچ

    پاکستان نے خلائی شعبے میں ایک بڑا سنگِ میل حاصل کر لیا

    پاکستانی خلائی ادارے سپارکو (SUPARCO) کا PRSC-EO2 سیٹلائٹ چین سے کامیابی کے ساتھ خلا میں بھیج دیا گیا ہے، جو ملک کے خلائی اور ٹیکنالوجی پروگرامز کے لیے نئی راہیں کھول دے گا۔یہ کامیابی پاکستان کے خلائی عزائم کی جانب ایک اہم اور بڑی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے،

    سپارکو نے چین کے یانگ جیانگ سی شور سینٹر سے پاکستان کا دوسرا مقامی سیٹلائٹ ای او-2 (EO-2) کامیابی کے ساتھ لانچ کر دیا۔ اس اہم پیش رفت کو ملکی خلائی پروگرام میں ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، جو نہ صرف پاکستان کی تکنیکی صلاحیتوں کا مظہر ہے بلکہ مستقبل کی ترقیاتی منصوبہ بندی کے لیے بھی سنگِ بنیاد ثابت ہوگی۔سپارکو کے ترجمان کے مطابق ای او-2 سیٹلائٹ زمین کے مشاہدے (Earth Observation) اور جدید امیجنگ کی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کرے گا۔ یہ سیٹلائٹ جدید ریموٹ سینسنگ ٹیکنالوجی سے لیس ہے، جس کے ذریعے اعلیٰ معیار کی تصاویر اور ڈیٹا حاصل کیا جا سکے گا۔ اس ڈیٹا کو زراعت، شہری منصوبہ بندی، آبی وسائل کے انتظام، ماحولیاتی نگرانی اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

    ترجمان نے کہا کہ ای او-2 کی کامیاب لانچنگ پاکستان کی بڑھتی ہوئی خلائی مہارت اور تکنیکی خود اعتمادی کی علامت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ سیٹلائٹ ملک میں وسائل کے مؤثر انتظام، ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی اور اسٹریٹجک منصوبہ بندی میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔سپارکو حکام کے مطابق پاکستان کے سیٹلائٹس کے بیڑے میں اضافے سے زمین کے مسلسل اور زیادہ درست مشاہدات ممکن ہوں گے، جس سے ڈیٹا کے تسلسل (Data Continuity) اور درستگی (Accuracy) میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اس سے مختلف سرکاری اداروں کو بروقت اور قابلِ اعتماد معلومات دستیاب ہوں گی، جو بہتر حکمرانی (Good Governance) میں معاون ثابت ہوں گی۔

    مزید برآں، ای او-2 سیٹلائٹ قدرتی آفات جیسے سیلاب، زلزلے اور لینڈ سلائیڈنگ کے دوران فوری معلومات فراہم کرنے میں مددگار ہوگا، جس سے ہنگامی صورتحال میں بروقت فیصلے کیے جا سکیں گے اور جانی و مالی نقصانات کو کم کیا جا سکے گا۔سپارکو کا کہنا ہے کہ مقامی طور پر تیار کردہ ای او-2 سیٹلائٹ پاکستان کی سیٹلائٹ تیاری میں خود انحصاری کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ اس کامیابی سے نہ صرف قومی خلائی پروگرام کو تقویت ملے گی بلکہ نوجوان سائنسدانوں اور انجینئرز کے لیے بھی نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

    ماہرین کے مطابق ای او-2 کی لانچنگ خطے میں پاکستان کی خلائی صلاحیتوں کو مزید مستحکم کرے گی اور عالمی سطح پر ملک کی سائنسی شناخت کو تقویت دے گی۔

  • حکومت سندھ نے پہلے کبھی سیلاب متاثرین کو گھر بنا کر نہیں دیے تھے،مراد علی شاہ

    حکومت سندھ نے پہلے کبھی سیلاب متاثرین کو گھر بنا کر نہیں دیے تھے،مراد علی شاہ

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بتایا ہے کہ سندھ میں 2022 کے سیلاب سے 70 فیصد گھر تباہ ہوگئے تھے اور لاکھوں افراد بےگھر ہوگئے تھے۔

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ایشیا پیسیفک شیلٹر اینڈ سیٹلمنٹس فورم 2026 سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں 2022 کے سیلاب سے 70 فیصد گھر تباہ ہوگئے تھے اور لاکھوں افراد بےگھر ہوگئے تھے اس مشکل صورتحال میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بطور وزیر خارجہ اپنے تمام دورے منسوخ کرکے متاثرین کے پاس گئے اور ان کے لیے گھر بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

    وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت سندھ نے پہلے کبھی سیلاب متاثرین کو گھر بنا کر نہیں دیے تھے، لیکن بلاول بھٹو زرداری کے ویژن اور قیادت کی بدولت یہ ممکن ہوا، ابتدائی طور پر منصوبے کے لیے بجٹ ناکافی لگ رہا تھا، لیکن عالمی بینک اور دیگر اداروں کی امداد کے بعد منصوبے کو آگے بڑھایا گیا۔

    مراد علی شاہ نے بتایا کہ اب تک 7 لاکھ سے زیادہ گھر بنانے کے منصوبے پر کام ہو رہا ہے اور یہ سب چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے وژن کی بدولت ممکن ہوا ہے، جو اس وقت میونخ میں ہیں وزیراعلیٰ سندھ نے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے وژن کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ متاثرین کی بحالی کے یہ اقدامات واقعی حیران کن اور متاثر کن ہیں-

  • سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کی صحت بارے آئی ایس پی آر کی اپڈیٹ

    سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کی صحت بارے آئی ایس پی آر کی اپڈیٹ

    پاک فوج کے ترجمان نے سابق آرمی چیف جنرل ر قمر جاوید باجوہ کی صحت بارے اپڈیٹ جاری کر دی

    سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ اپنی رہائش گاہ پر گرنے کے باعث زخمی ہوگئے ہیں،آئی ایس پی آر کی جانب سے سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمرجاوید باجوہ کی صحت سے متعلق اپ ڈیٹ جاری کی گئی ہے۔جس میں بتایا گیا ہے کہ سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ قمر باجوہ اپنےگھر میں گرگئے،انہیں رہائشگاہ پر گرنے کی وجہ سے چوٹ لگی ہے،سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید سی ایم ایچ میں زیر علاج ہیں.

  • دہلی اسٹیڈیم میں میچ کے دوران استعمال شدہ سافٹ ڈرنک دوبارہ پیک کرنے کی ویڈیو وائرل

    دہلی اسٹیڈیم میں میچ کے دوران استعمال شدہ سافٹ ڈرنک دوبارہ پیک کرنے کی ویڈیو وائرل

    ٹی 20 ورلڈ کپ کے دوران نئی دہلی کے ارون جیٹلی اسٹیڈیم میں کینٹین پر تھمز اپ سافٹ ڈرنک کی استعمال شدہ باقی بچی ہوئی مقدار دوبارہ بوتل میں بھرنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے-

    وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اسٹیڈیم میں کینٹین پر تھمز اپ سافٹ ڈرنک کی استعمال شدہ باقی بچی ہوئی مقدار دوبارہ بوتل میں بھری جا رہی ہے ، صارفین نے اس ویڈیو پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ایک سوشل میڈیا صارف نے کہا کہ ’اگلا جو بھی میچ ہوگا یہ بوتل اس میں استعمال ہو جائے گی،ایک صارف نے کہا کہ وہ لوگ بچی ہوئی بوتل کو اسی گلاس میں رکھی تھوڑی چھوڑ دیں گے‘ جبکہ کئی دیگر صارفین نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ گلاس بھی دوبارہ استعما ل کیا جائے گا۔ایک صارف نے انڈین کرکٹ بورڈ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بی سی سی آئی بہت ہی ناکارہ ہے ،اپنے ہی لوگوں کو ناقص سہولتیں دیتے ہیں یہ-

  • مستقبل کی جانب کام کریں جہاں ہر بچہ محفوظ ، ہر عورت وقار و تحفظ کے ساتھ رہے، آصفہ بھٹو

    مستقبل کی جانب کام کریں جہاں ہر بچہ محفوظ ، ہر عورت وقار و تحفظ کے ساتھ رہے، آصفہ بھٹو

    خاتونِ اول، رکنِ قومی اسمبلی آصفہ بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ رہائش بنیادی حق ہے اور پیپلز پارٹی کے وعدے روٹی، کپڑا اور مکان میں شامل ہے۔

    ایشیا پیسیفک شیلٹر اینڈ سیٹلمنٹس فورم 2026ء سے خطاب کے دوران آصفہ بھٹو کا کہنا تھا کہ محفوظ رہائش کا اثر خواتین اور بچوں کے لیے خاص طور پر گہرا ہے، محفوظ گھر اور مالی شمولیت سے خواتین کے فوائد گھر سے باہر تک پھیلتے ہیں، خطے میں لاکھوں خاندان موسمیاتی تبدیلی اور سماجی چیلنجز سے متاثر ہیں، محفوظ رہائش کی کمی صرف مادی مسئلہ نہیں بلکہ وقار اور مواقع کا نقصان ہے، رہائش محض چھت نہیں بلکہ صحت، تعلیم اور استحکام کی بنیاد ہے،مستقل رہائش وہ جگہ ہے جہاں خاندان سنبھلتے، بچے خواب دیکھتے اور کمیونٹیز آگے بڑھتی ہیں، خواتین خاندان، سماجی ہم آہنگی اور طویل مدتی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں، خواتین کو منصوبوں کے مرکز میں رکھنے سے پوری معاشرے کی پائیداری ہوتی ہے، ایشیا پیسیفک خطہ دنیا کے سب سے زیادہ موسمیاتی طور پر حساس علاقوں میں سے ہے۔ سیلاب، طوفان، زلزلے اور شدید گرمی کمیونٹیز کو بے گھر اور بستوں پر دباؤ ڈال رہی ہیں۔

    آصفہ بھٹو کا مزید کہنا تھا کہ ماحولیاتی پائیداری ہر پہلو میں شامل ہونی چاہیے، ڈیزائن سے کمیونٹی گورننس تک، اسی پس منظر میں سندھ ایک طاقتور اور متعلقہ مثال پیش کرتا ہے، 2022ء کے سیلاب کے بعد سندھ پیپلز ہاؤسنگ فار فلڈ افیکٹیز پروگرام شروع کیا گیا، قدرتی آفت کے بعد 2 کروڑ 10 لاکھ ماحولیاتی مضبوط مکانات کا یہ دنیا کا بڑا منصوبہ ہے، یہ منصوبہ 15 ملین سے زیادہ لوگوں کو براہِ راست فائدہ پہنچا رہا ہے، مکانات اور زمین خواتین کے نام کر کے ان کے وقار، تحفظ و مالی شمولیت کو مضبوط کر رہے ہیں، یہ بحالی صرف ڈھانچہ نہیں بلکہ زندگی و مستقبل کو بحال کرنے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے، پائیدار بستوں کے لیے سماجی ہم آہنگی بھی اتنی ہی اہم ہے، مضبوط کمیونٹیز اعتماد، شرکت اور ملکیت کے احساس سے بنتی ہیں، فیصلہ سازی و مستقبل میں سرمایہ کاری سے بحالی تیز گہری و ترقی دیرپا ہوتی ہے، یہ فورم حکومت، شراکت داروں، سول سوسائٹی، نجی شعبے اور کمیونٹیز میں تعاون مضبوط کرنے کا موقع ہے، ہماری ذمے داری ہے سستے، مقامی، ماحولیاتی مضبوط اور کمزور افراد شامل حل اپنائیں، ہماری مشترکہ ذمے داری یہ ہے محض مکالمے سے آگے بڑھیں اور عمل کی طرف جائیں، ایسے حل اپنائیں جو سستے، مقامی، ماحولیاتی مضبوط اور پسماندہ افراد شامل ہوں، ایسے فورمز کی کامیابی بیانات میں نہیں بلکہ زمین پر بہتر زندگیوں میں ناپی جاتی ہے، مستقبل کی جانب کام کریں جہاں ہر بچہ محفوظ اور ہر عورت وقار و تحفظ کے ساتھ رہے،