Baaghi TV

Blog

  • مستقبل کی جانب کام کریں جہاں ہر بچہ محفوظ ، ہر عورت وقار و تحفظ کے ساتھ رہے، آصفہ بھٹو

    مستقبل کی جانب کام کریں جہاں ہر بچہ محفوظ ، ہر عورت وقار و تحفظ کے ساتھ رہے، آصفہ بھٹو

    خاتونِ اول، رکنِ قومی اسمبلی آصفہ بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ رہائش بنیادی حق ہے اور پیپلز پارٹی کے وعدے روٹی، کپڑا اور مکان میں شامل ہے۔

    ایشیا پیسیفک شیلٹر اینڈ سیٹلمنٹس فورم 2026ء سے خطاب کے دوران آصفہ بھٹو کا کہنا تھا کہ محفوظ رہائش کا اثر خواتین اور بچوں کے لیے خاص طور پر گہرا ہے، محفوظ گھر اور مالی شمولیت سے خواتین کے فوائد گھر سے باہر تک پھیلتے ہیں، خطے میں لاکھوں خاندان موسمیاتی تبدیلی اور سماجی چیلنجز سے متاثر ہیں، محفوظ رہائش کی کمی صرف مادی مسئلہ نہیں بلکہ وقار اور مواقع کا نقصان ہے، رہائش محض چھت نہیں بلکہ صحت، تعلیم اور استحکام کی بنیاد ہے،مستقل رہائش وہ جگہ ہے جہاں خاندان سنبھلتے، بچے خواب دیکھتے اور کمیونٹیز آگے بڑھتی ہیں، خواتین خاندان، سماجی ہم آہنگی اور طویل مدتی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں، خواتین کو منصوبوں کے مرکز میں رکھنے سے پوری معاشرے کی پائیداری ہوتی ہے، ایشیا پیسیفک خطہ دنیا کے سب سے زیادہ موسمیاتی طور پر حساس علاقوں میں سے ہے۔ سیلاب، طوفان، زلزلے اور شدید گرمی کمیونٹیز کو بے گھر اور بستوں پر دباؤ ڈال رہی ہیں۔

    آصفہ بھٹو کا مزید کہنا تھا کہ ماحولیاتی پائیداری ہر پہلو میں شامل ہونی چاہیے، ڈیزائن سے کمیونٹی گورننس تک، اسی پس منظر میں سندھ ایک طاقتور اور متعلقہ مثال پیش کرتا ہے، 2022ء کے سیلاب کے بعد سندھ پیپلز ہاؤسنگ فار فلڈ افیکٹیز پروگرام شروع کیا گیا، قدرتی آفت کے بعد 2 کروڑ 10 لاکھ ماحولیاتی مضبوط مکانات کا یہ دنیا کا بڑا منصوبہ ہے، یہ منصوبہ 15 ملین سے زیادہ لوگوں کو براہِ راست فائدہ پہنچا رہا ہے، مکانات اور زمین خواتین کے نام کر کے ان کے وقار، تحفظ و مالی شمولیت کو مضبوط کر رہے ہیں، یہ بحالی صرف ڈھانچہ نہیں بلکہ زندگی و مستقبل کو بحال کرنے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے، پائیدار بستوں کے لیے سماجی ہم آہنگی بھی اتنی ہی اہم ہے، مضبوط کمیونٹیز اعتماد، شرکت اور ملکیت کے احساس سے بنتی ہیں، فیصلہ سازی و مستقبل میں سرمایہ کاری سے بحالی تیز گہری و ترقی دیرپا ہوتی ہے، یہ فورم حکومت، شراکت داروں، سول سوسائٹی، نجی شعبے اور کمیونٹیز میں تعاون مضبوط کرنے کا موقع ہے، ہماری ذمے داری ہے سستے، مقامی، ماحولیاتی مضبوط اور کمزور افراد شامل حل اپنائیں، ہماری مشترکہ ذمے داری یہ ہے محض مکالمے سے آگے بڑھیں اور عمل کی طرف جائیں، ایسے حل اپنائیں جو سستے، مقامی، ماحولیاتی مضبوط اور پسماندہ افراد شامل ہوں، ایسے فورمز کی کامیابی بیانات میں نہیں بلکہ زمین پر بہتر زندگیوں میں ناپی جاتی ہے، مستقبل کی جانب کام کریں جہاں ہر بچہ محفوظ اور ہر عورت وقار و تحفظ کے ساتھ رہے،

  • بنگلہ دیش انتخابات،پولنگ اسٹیشن پر دھماکا،3 افراد زخمی

    بنگلہ دیش انتخابات،پولنگ اسٹیشن پر دھماکا،3 افراد زخمی

    بنگلادیش میں 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات کے لیے جاری ووٹنگ کے دوران ضلع گوپال گنج کے ایک پولنگ اسٹیشن پر دستی بم دھماکے سے کم از کم تین افراد زخمی ہو گئے، جبکہ ملک بھر میں ووٹنگ کا عمل مجموعی طور پر پُرامن ماحول میں جاری ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق دوپہر 12 بجے تک ووٹر ٹرن آؤٹ 32.88 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔

    بنگلادیشی میڈیا رپورٹس کے مطابق گوپال گنج میں قائم پولنگ اسٹیشن کے مرکزی دروازے کے قریب دستی بم دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں تین افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ دھماکے سے پولنگ اسٹیشن کے مرکزی دروازے کو جزوی نقصان پہنچا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی سکیورٹی فورسز اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کر دیں۔

    اسی نوعیت کا ایک اور واقعہ ضلع منشی گنج کے صدر اپازیلہ کی مولا کندی یونین میں مکھاتی گروچرن ہائی اسکول پولنگ سینٹر پر پیش آیا، جہاں صبح تقریباً 11 بجے دیسی ساختہ بم دھماکے کے بعد دو گروپوں میں تعاقب اور جوابی تعاقب کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ پولیس کے مطابق یہ جھڑپ مبینہ طور پر بی این پی کے حمایت یافتہ امیدوار اور ایک آزاد امیدوار کے حامیوں کے درمیان ہوئی، تاہم کسی جانی نقصان کی فوری تصدیق نہیں ہو سکی۔

    الیکشن کمیشن کے سینئر سیکریٹری اختر احمد نے دوپہر میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ملک بھر کے 32 ہزار 789 پولنگ اسٹیشنز پر ووٹنگ کی شرح 12 بجے تک 32.88 فیصد رہی اور پولنگ کا عمل تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین اور نوجوان ووٹرز کی بڑی تعداد پولنگ اسٹیشنز کا رخ کر رہی ہے۔

    دارالحکومت ڈھاکا کے مختلف پولنگ مراکز میں صبح 7:30 بجے ووٹنگ کا آغاز ہوا۔ بعض مراکز پر طویل قطاریں دیکھی گئیں جبکہ کچھ مقامات پر ٹرن آؤٹ نسبتاً کم رہا۔ چٹاگانگ، باریسال اور دیگر اضلاع سے بھی پُرامن ووٹنگ کی اطلاعات موصول ہوئیں۔باریسال میں صبح 10 بجے کے بعد ووٹرز کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ 60 سالہ جلیل مردھا نے میڈیا کو بتایا کہ وہ گزشتہ تین انتخابات میں ووٹ کاسٹ نہیں کر سکے تھے کیونکہ انہیں بتایا جاتا تھا کہ ان کا ووٹ پہلے ہی ڈال دیا گیا ہے، تاہم اس بار وہ صبح سویرے پہنچے اور بغیر کسی رکاوٹ کے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔

    ڈھاکا-9 سے آزاد امیدوار تسنیم جارا نے الزام عائد کیا کہ ان کی خواتین پولنگ ایجنٹس کو مختلف مراکز میں داخل ہونے سے روکا جا رہا ہے اور ہراساں کیا جا رہا ہے۔ خِلگاؤں ماڈل کالج پولنگ سینٹر کے دورے کے بعد انہوں نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ پولنگ عملہ من مانے قواعد بنا کر ان کے نمائندوں کو اندر جانے سے روک رہا ہے۔

    نگراں حکومت کے چیف ایڈوائزر پروفیسر ڈاکٹر محمد یونس نے ڈھاکا کے گلشن ماڈل ہائی اسکول میں ووٹ کاسٹ کرنے کے بعد اس دن کو “نئے بنگلادیش کی سالگرہ” اور “یومِ آزادی” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ قوم نے ماضی کی تلخ یادوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے اور عوام سے پارلیمانی انتخابات کے ساتھ ساتھ ریفرنڈم میں بھی بھرپور شرکت کی اپیل کی۔بی این پی کے طارق رحمان، جماعت اسلامی کے شفیق الرحمان اور این سی پی کے نہید اسلام سمیت مختلف سیاسی رہنماؤں نے بھی اپنے اپنے حلقوں میں ووٹ کاسٹ کیا۔ ڈھاکا-8 سے جماعت کے حمایت یافتہ امیدوار ناصرالدین پٹواری نے انتخابی ماحول پر اطمینان کا اظہار کیا تاہم دعویٰ کیا کہ گزشتہ رات ان کے حامیوں پر حملہ کیا گیا۔قومی شہری پارٹی (این سی پی) کے رہنما حسنت عبداللہ نے کملا-4 میں ووٹ ڈالنے کے بعد کہا کہ اب تک ووٹنگ جشن کے ماحول میں جاری ہے اور نوجوان ووٹرز جوش و خروش سے حصہ لے رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ حالیہ عوامی سروے کے مطابق بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی قیادت میں قائم اتحاد کو 44.1 فیصد جبکہ جماعت اسلامی کی قیادت میں 11 جماعتوں پر مشتمل اتحاد کو 43.9 فیصد ووٹ ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جس کے باعث دونوں بڑے اتحادوں کے درمیان کانٹے دار مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے۔ملک بھر میں 299 حلقوں میں 42 ہزار سے زائد پولنگ مراکز پر ووٹنگ جاری ہے۔ سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ حساس علاقوں میں اضافی نفری تعینات ہے۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

  • راہل گاندھی کی امریکہ کے ساتھ معاہدے پر مودی حکومت پر کڑی تنقید

    راہل گاندھی کی امریکہ کے ساتھ معاہدے پر مودی حکومت پر کڑی تنقید

    بھارت میں کانگریس پارٹی کے رہنماء اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے بھارت امریکہ تجارتی معاہدے پر مودی حکومت کو کڑی تنقید کانشانہ بناتے ہوئے کہاہے کہ حکومت نے بھارت کو بیچ دیا ہے۔

    راہل گاندھی نے لوک سبھا میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ مودی حکومت نے امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے کیلئے ملکی مفادات پر سمجھوتہ کیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ ”دراصل مودی حکومت نے بھارت ماتا کو بیچ دیا ہے”۔انہوں نے الزام لگایا کہ اس سچائی کو تسلیم کرنے کے باوجود حکومت نے امریکہ کو توانائی اور مالیاتی نظام کو اس طرح ہتھیار بنانے کی اجازت دی ہے جس کا اثر بھارت پر پڑ رہا ہے۔راہل گاندھی نے کہا کہ جب امریکہ کہتا ہے کہ ہندوستان کسی خاص ملک (روس) سے تیل نہیں خرید سکتا تو اس کا مطلب ہے کہ ہماری توانائی کی حفاظت کا فیصلہ باہر سے کیا جا رہا ہے، کہ توانائی کو ہی ہمارے خلاف ہتھیار بنایا جا رہا ہے۔مودی حکومت پر طنز کرتے ہوئے راہل گاندھی نے سوال کیا کہ کیا حکومت کو امریکہ کے ساتھ اس توہین آمیز معاہدے پر شرمندہ نہیں ہونا چاہیے؟ کانگریس لیڈر نے کہا کہ پی ایم مودی پر بیرونی دباؤ ڈالا جا رہا ہے، ان آنکھوں میں خوف صاف ظاہر ہے۔امریکی ٹیرف پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ اوسط ٹیرف تقریباً تین فیصد سے بڑھ کر 18 فیصد ہو گیا ہے، جو چھ گنا زائد ہے۔

    اُنہوں نے مزید دعوی کیا کہ ہندوستان میں امریکی درآمدات 46 بلین ڈالر سے بڑھ کر 146 بلین ڈالر تک بڑھنے کا خدشہ ہے۔انہوں نے اس صورتحال کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاہدے کے تحت بھارت کوئی پختہ یقین دہانی حاصل کئے بغیر امریکہ سے ہر سال درآمدات میں تقریباً 100 بلین ڈالر کا اِضافہ کرنے کا وعدہ کر رہا ہے۔ راہل گاندھی نے کہاکہ ہم رعایتیں دے رہے ہیں، لیکن بدلے میں ہمیں کچھ نہیں مل رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے ہم بے کار ہیں۔ ہمارا ٹیرف تین فیصد سے بڑھ کر 18 فیصد ہوگیا جبکہ امریکی ٹیرف مبینہ طور پر 16 فیصد سے کم ہو کر صفر ہو گیا ہے۔

  • پنجاب :پہلاسرکاری آٹزم سینٹر قائم،خصو صی بچوں کیلئے خصوصی بسیں چلانے کا اعلان

    پنجاب :پہلاسرکاری آٹزم سینٹر قائم،خصو صی بچوں کیلئے خصوصی بسیں چلانے کا اعلان

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے مریم نواز اسکول اینڈ ریسورس سینٹر فار آٹزم کا افتتاح کر دیا-

    افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا ہے کہ ایک سال قبل جہاں خالی زمین تھی، آج وہاں عالمی معیار کا آٹزم سینٹر قائم ہو چکا ہے، جسے دیکھ کر دل خوشی سے سرشار ہو گیاپاکستان میں اپنی نوعیت کے اس پہلے سرکاری آٹزم سینٹر میں ایک ہی چھت تلے آٹسٹک بچوں کے علاج، تعلیم اور بحالی کی تمام جدید سہولتیں فراہم کی گئی ہیں شاید دنیا بھر میں بھی آٹسٹک بچوں کے لیے اس نوعیت کی جامع سہولتیں ایک ہی جگہ دستیاب نہ ہوں۔

    مریم نواز نے بتایا کہ پنجاب بھر میں 20 ہزار سے زائد خصوصی بچوں کا علاج اور سرجری کرکے انہیں نارمل زندگی کی طرف لایا گیا ہے ریاست آٹسٹک بچوں اور ان کے والدین کا بوجھ بانٹنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے، کیونکہ 90 فیصد نادار طبقہ اپنے بچوں کا مہنگا علاج خود نہیں کرا سکتا، میری بھانجی کے بیٹے ابراہیم کو ڈھائی سال کی عمر میں آٹزم تشخیص ہوا، جس کے بعد خاندان نے اس کیفیت کو قریب سے دیکھا۔

    انہوں نے کہا کہ آٹسٹک بچوں کے والدین غیر معمولی صبر اور حوصلے کے ساتھ روزمرہ چیلنجز کا سامنا کرتے ہیں اور ریاست کا فرض ہے کہ ان کی مدد کرے آٹزم سینٹر میں اسپیچ تھراپی، میوزک تھراپی، آرٹ تھراپی، آکوپیشنل تھراپی، ساؤنڈ پروف اسپیکنگ روم، اوپن ایئر جم اور خصوصی ٹیکسچرڈ فرش جیسی سہولتیں فراہم کی گئی ہیں بچوں کو مختلف تھراپی کے ذریعے اعتماد کے ساتھ زندگی گزارنا اور اپنے خیالات کا اظہار کرنا سکھایا جائے گا۔

    مریم نواز شریف نے اعلان کیا کہ آٹسٹک بچوں کی سہولتوں کو ہر ضلع کی سطح تک وسعت دی جائے گی، خصوصی اساتذہ کی تربیت اور والدین کی ٹریننگ کا بھی اہتمام کیا جائے گا، پنجاب بھر میں خصوصی بچوں کے لیے 70 خصوصی بسیں بھی فراہم کی جا رہی ہیں، یہ منصوبہ صرف ایک اسکول نہیں بلکہ ایک سماجی انقلاب کی بنیاد ہے،سابق وزیراعظم محمد نواز شریف نے بھی اس ادارے کے قیام پر خوشی کا اظہار کیا اور آٹسٹک بچوں کے والدین کو یقین دلایا کہ ریاست ہر مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑی ہے۔

  • ساہیوال، سی ٹی ڈی کی کاروائی،فتنہ الخوارج  کا مبینہ کارندہ گرفتار

    ساہیوال، سی ٹی ڈی کی کاروائی،فتنہ الخوارج کا مبینہ کارندہ گرفتار

    محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے ساہیوال ریجن میں ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان المعروف فتنہ الخوارج کے مبینہ کارندے کو گرفتار کرلیا۔

    ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق کارروائی خفیہ اطلاع پر پاکپتن کے علاقے گارڈن ٹاؤن میں کی گئی، جہاں دہشت گرد کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی۔سی ٹی ڈی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کی شناخت آغا محمد کے نام سے ہوئی ہے جو جنوبی وزیرستان کا رہائشی بتایا جاتا ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق گرفتار شخص کالعدم تنظیم کی تشہیر میں ملوث تھا اور مختلف ذرائع سے لوگوں کو تنظیم میں شمولیت کی ترغیب دے رہا تھا۔حکام کے مطابق ملزم کے قبضے سے نفرت انگیز اور اشتعال انگیز مواد، کالعدم تنظیم سے متعلق کتابیں، نقدی رقم اور اے ٹی ایم کارڈ برآمد کیے گئے ہیں۔ برآمد شدہ مواد کو قبضے میں لے کر فرانزک جانچ کے لیے بھیج دیا گیا ہے تاکہ ممکنہ نیٹ ورک اور سہولت کاروں سے متعلق شواہد اکٹھے کیے جا سکیں۔

    سی ٹی ڈی کے مطابق ملزم سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع استعمال کرتے ہوئے نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس حوالے سے ڈیجیٹل آلات کا بھی فرانزک تجزیہ کیا جا رہا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا وہ کسی منظم نیٹ ورک کا حصہ تھا یا انفرادی طور پر سرگرم تھا۔حکام نے بتایا کہ گرفتار ملزم کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔ تفتیشی ٹیم مختلف پہلوؤں پر تحقیقات کر رہی ہے جن میں فنڈنگ کے ذرائع، رابطوں کا دائرہ کار اور ممکنہ سہولت کاروں کی نشاندہی شامل ہے۔

    سی ٹی ڈی حکام کا کہنا ہے کہ صوبے بھر میں کالعدم تنظیموں اور شدت پسند عناصر کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کا سلسلہ جاری ہے اور کسی کو بھی ریاست مخالف سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ مشکوک سرگرمیوں کی فوری اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں تاکہ بروقت کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔

  • افغانستان میں بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کاگٹھ جوڑ

    افغانستان میں بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کاگٹھ جوڑ

    ذرائع کے مطابق افغانستان کے صوبہ قندھار میں کالعدم دہشتگرد تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے سرغنہ بشیر زیب بلوچ اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے کمانڈر غازی خراسانی کے درمیان ایک خفیہ ملاقات کی اطلاعات سامنے ائی ہیں۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ملاقات میں پاکستان، خصوصاً خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں منظم اور مشترکہ دہشتگرد حملوں کی باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی۔ ذرائع کے مطابق بشیر زیب اس وقت قندھار کے علاقے عینو مینہ میں ایک انتہائی محفوظ سیف ہاؤس میں موجود ہے۔ جبکہ اس مقام کے اطراف میں سیکورٹی کے لئےبڑی تعداد میںمسلح افراد تعینات ہیں جبکہ بیرونی نگرانی افغان طالبان کے اہلکار کر رہے ہیں۔ مزید یہ کہ سیف ہاؤس کے اندر موجود سیٹلائٹ سسٹم کے ذریعے مبینہ طور پر مجید بریگیڈ کا دہشتگرد پروپیگنڈا مواد اپ لوڈ کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بشیر زیب کی موجودگی کی تصدیق انٹرسیپٹڈ کالز، انسانی مخبروں اور ڈرون فوٹیج سے ہوئی ہے۔

  • پنجاب : شدید بیمار اور لاعلاج شیروں کو پرسکون موت دیدی گئی

    پنجاب : شدید بیمار اور لاعلاج شیروں کو پرسکون موت دیدی گئی

    لاہور: پنجاب کے سرکاری چڑیا گھروں میں موجود شدید بیمار اور لاعلاج شیروں کو گزشتہ چند ہفتوں کے دوران پرسکون موت دے دی گئی،جبکہ یہ اقدام کیپٹو وائلڈ لائف مینجمنٹ کمیٹی کی منظوری کے بعد کیا گیا۔

    ایڈیشنل چیف وائلڈ لائف رینجرز سینٹرل پنجاب مدثر حسن نے بتایا کہ پنجاب بھر میں مجموعی طور پر 9 شیروں کو یوتھنائز کیا گیا یہ شیر طویل عرصے سے مختلف بیماریوں اور معذوری کا شکار تھے اور مسلسل تکلیف میں مبتلا تھے شیروں کی کلنگ چند ہفتے قبل کی گئی تھی،بہاولپور چڑیا گھر، لاہور سفاری زو اور لاہور زو میں موجود بیمار اور لاعلاج شیروں کی کلنگ کی گئی، متعلقہ ویٹرنری ماہرین کی رائے اور طے شدہ قواعد کے مطابق یہ عمل مکمل کیا گیا۔

    واضح رہے کہ 23 جنوری 2026 کو کیپٹو وائلڈ لائف مینجمنٹ کمیٹی نے پنجاب کے سرکاری چڑیا گھروں میں موجود شدید بیمار اور ناقابل علاج شیروں کو پرسکون موت دینے کے فیصلے کی منظوری دی تھی اجلاس میں ایسے شیروں کی تفصیلات پیش کی گئی تھیں جو طویل عرصے سے بیماری میں مبتلا تھے اور جن کا علاج ممکن نہیں رہا تھا۔

    کمیٹی کو بریفنگ کے دوران بتایا گیا تھا کہ قانون کے تحت نہ صرف بگ کیٹس بلکہ ایسے تمام جنگلی جانور، جو انسانوں یا دیگر جانوروں کے لیے ممکنہ خطرہ ہوں یا شدید تکلیف میں مبتلا ہوں، کو طے شدہ قواعد و ضوابط کے مطابق پرسکون موت دی جا سکتی ہے۔

  • ملالہ یوسفزئی کا پاکستانی طالبات کیلئے آکسفورڈ میں اسکالرشپ پروگرام

    ملالہ یوسفزئی کا پاکستانی طالبات کیلئے آکسفورڈ میں اسکالرشپ پروگرام

    نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی نے پاکستانی طالبات کے لیے اسکالرشپ پروگرام کا اعلان کر دیا ہے۔

    سوشل میڈیا پر جاری اپنے ویڈیو پیغام میں ملالہ یوسفزئی نے کہا کہ آکسفورڈ یونیورسٹی سے گریجویشن مکمل کرنے کے بعد ان کی خواہش تھی کہ وہ ان لڑکیوں کے لیے کچھ کریں جو تعلیم کے حق کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہیں اس اسکالرشپ کے تحت پاکستانی خواتین کو آکسفورڈ یونیورسٹی میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا جائے گا، خاص طور پر ان طالبات کو ترجیح دی جائے گی جو تعلیم کے ذریعے پاکستان میں مثبت تبدیلی لانا چاہتی ہیں۔

    ملالہ یوسفزئی کا کہنا تھا کہ جو پاکستانی خواتین آکسفورڈ میں ماسٹرز کرنے کا خواب رکھتی ہیں اور تعلیم مکمل کرنے کے بعد وطن واپس آ کر معاشرے کی بہتری کے لیے کام کرنا چاہتی ہیں، یہ پروگرام ان کے لیے بہترین موقع ہے،اسکالرشپ کے لیے درخواستیں آکسفورڈ پاکستان پروگرام کی ویب سائٹ oxpakprogramme.org کے ذریعے جمع کرائی جا سکتی ہیں، ملالہ نے کہا کہ وہ نئی طالبات کو آکسفورڈ میں خوش آمدید کہنے کی منتظر ہیں۔

  • عمران خان  کا جیل انتظامیہ کی طرف سے فراہم کردہ سہولیات پر عدم اطمینان کا اظہار

    عمران خان کا جیل انتظامیہ کی طرف سے فراہم کردہ سہولیات پر عدم اطمینان کا اظہار

    بیرسٹر سلمان صفدر کی سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ کے مندرجات سامنے آ گئے

    عمران خان نے جیل انتظامیہ کی طرف سے فراہم کردہ سہولیات پر عدم اطمینان کا اظہار کر دیا، سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں عمران خان نے کہا کہ گرمیوں میں سیل میں شدید حبس ہو جاتی ہے، اتنے مچھر، کیڑے مکوڑے آجاتے ہیں نہ ٹھیک سے آرام کر پاتا ہوں نہ سو پاتا ہوں، رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ عمران خان کی 10 سیکورٹی کیمروں کے ذریعے نگرانی کی جاتی ہے اور ایک کیمرا شاور ایریا باتھ روم تک کو کور کرتا ہے،بیرسٹر سلمان صفدر کے مطابق میں نے مشاہدہ کیا عمران خان مکمل بینائی یعنی دیکھنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے تھے عمران خان کی آنکھ سے مسلسل پانی نکل نکل رہا تھا عمران خان باربار ٹشو استعمال کر رہے تھے عمران خان شدید تکلیف میں تھے،

    بیرسٹر سلمان صفدر کی تفتیش میں جیل سپریڈنٹ نے بتایا کہ عمران خان اس وقت پمز کے ڈاکٹر عارف کے زیر نگرانی ہیں اس کے علاؤہ جیل ڈاکٹر عمران خان کے شوگر اور بلڈ پریشر کا چیک اپ روانہ کی بنیاد پر کرتے ہیں لیکن جب بیرسٹر سلمان صفدر نے رپورٹس مانگیں تو جیل انتظامیہ نے عمران خان کے کسی ٹیسٹ کی کوئی رپورٹ شئیر نہیں کی.عمران خان نے بتایا اکتوبر 2025 سے آنکھ میں مسئلہ ہوا، جیل حکام کو بتانے کے باوجود علاج نہیں کرایا گیا، دائیں آنکھ کی بینائی مکمل ختم ہونے کے بعد ڈاکٹرز کو بلایا گیا، علاج کے باوجود 15% تک دکھائی دیتا ہے۔

  • بنگلہ دیش انتخابات: ڈاکٹر شفیق الرحمان نے ووٹ ڈال دیا

    بنگلہ دیش انتخابات: ڈاکٹر شفیق الرحمان نے ووٹ ڈال دیا

    بنگلادیش میں 2024 کی عوامی تحریک کے بعد ہونے والے پہلے عام انتخابات کے لیے آج ملک بھر میں پولنگ شروع ہو گئی یہ انتخابات ملک کی جمہوریت کے لیے اہم امتحان قرار دیے جا رہے ہیں۔

    جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے امیر اور وزارت عظمیٰ کے امیدوار ڈاکٹر شفیق الرحمان نے اپنے حلقے میں ووٹ کاسٹ کر دیا ہے ووٹ ڈالنے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ عوام تبدیلی چاہتے ہیں اور آج کا دن بنگلہ دیش کے مستقبل کا تعین کرے گا۔

    دوسری جانب سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کے بیٹے طارق رحمان بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی ‘بی این پی’ کی جانب سے وزارت عظمیٰ کے امیدوار ہیں اور ان کے حامی بھی پُرامید دکھائی دے رہے ہیں۔

    ملک کے 299 حلقوں میں مقامی وقت کے مطابق صبح 7:30 بجے پولنگ شروع ہوئی جو شام 4:30 بجے تک جاری رہے گی، قومی پارلیمنٹ کی 300 نشستوں پر امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہو رہا ہے اور حکومت بنانے کے لیے 151 نشستوں پر اکثریت حاصل کرنا ضروری ہے۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق 12 کروڑ 70 لاکھ سے زائد ووٹرز حقِ رائے دہی استعمال کرنے کے اہل ہیں جن میں 6 کروڑ 48 لاکھ مرد، 6 کروڑ 29 لاکھ خواتین اور 1,232 خواجہ سرا ووٹرز شامل ہیں۔ الیکشن کمیشن نے ملک بھر میں 42,779 پولنگ اسٹیشن قائم کیے ہیں، جن میں سے 21,506 کو حساس قرار دے کر خصوصی سکیورٹی فراہم کی گئی ہے۔ 9 لاکھ سکیورٹی اہلکار انتخابی ڈیوٹی پر تعینات ہیں جبکہ فوج بھی اہم مقامات پر موجود ہے ووٹنگ کا عمل جمعرات بھر جاری رہے گا جبکہ نتائج کا اعلان جمعہ کو متوقع ہے۔

    یہ انتخابات سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد ہو رہے ہیں، جو 2024 میں کئی ہفتوں تک جاری رہنے والے احتجاج کے بعد مستعفی ہو کر بھارت چلی گئی تھیں ان کی جماعت کو ان انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی۔

    بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے رہنما طارق رحمان آئندہ وزیر اعظم کے مضبوط امیدوار سمجھے جا رہے ہیں۔ وہ سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کے صاحبزا دے ہیں اور 17 سالہ خود ساختہ جلاوطنی کے بعد گزشتہ دسمبر میں وطن واپس آئے، انہوں نے جمہوری اداروں کی بحالی، قانون کی حکمرانی اور معیشت کی بہتر ی کا وعدہ کیا ہے۔

    دوسری جانب جماعتِ اسلامی کی قیادت میں 11 جماعتوں پر مشتمل اتحاد بھی میدان میں ہے، یہ جماعت شیخ حسینہ کے دور میں پابندی کا شکار رہی، تاہم حالیہ سیاسی تبدیلیوں کے بعد اس کا اثر و رسوخ بڑھا ہے۔ بعض حلقوں، خصوصاً خواتین اور اقلیتوں میں اس اتحاد کی ممکنہ کامیابی پر تشویش پائی جاتی ہے۔

    انتخابات عبوری حکومت کے تحت ہو رہے ہیں جس کی قیادت نوبیل انعام یافتہ ڈاکٹر محمد یونس کر رہے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ شفاف اور غیر جانب دارانہ انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنایا جائے گا یورپی یونین اور دولتِ مشترکہ سمیت تقریباً 500 بین الاقوامی مبصرین اور صحافی انتخابی عمل کی نگرانی کر رہے ہیں۔

    بنگلادیش کی پارلیمنٹ 350 نشستوں پر مشتمل ہے، جن میں سے 300 نشستوں پر براہِ راست انتخاب ہوتا ہے جبکہ 50 نشستیں خواتین کے لیے مخصوص ہیں۔ اس بار تقریباً 50 لاکھ نئے ووٹرز بھی پہلی مرتبہ ووٹ ڈالیں گے انتخابات کے ساتھ ساتھ سیاسی اصلاحات سے متعلق ایک ریفرنڈم بھی ہو رہا ہے، جس میں وزیر اعظم کی مدت کی حد مقرر کرنے اور اختیارات کے توازن کو بہتر بنانے کی تجاویز شامل ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ انتخابات بنگلادیش کی داخلی سیاست اور استحکام پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔