Baaghi TV

Blog

  • طالبان رجیم کی جبر،ناانصافی اورشدت پسندی ، افغانستان تباہی کے دہانے پر

    طالبان رجیم کی جبر،ناانصافی اورشدت پسندی ، افغانستان تباہی کے دہانے پر

    طالبان رجیم حکومت نہیں، ایک مسلح آمریت ہے جو مذہب کی آڑ میں نااہلی، سفاکی اور تنگ نظری کی اصل تصویر ہے

    عالمی جریدے نے افغان طالبان رجیم کے مظالم، شدت پسندی اور نااہلی کو بے نقاب کر دیا،امریکی جریدہ یوریشیا ریویو کے مطابق؛افغانستان سنگین بحرانوں سے دوچار ہے اورطالبان رجیم کو نہ ہی بین الاقوامی سطح پر اور نہ ہی عوام کا اعتماد حاصل ہے ، طالبان رجیم کی جانب سےمخالفین ،سابق سکیورٹی اہلکاروں اورعام شہریوں کاقتل عام مسلسل جاری ہے ،طالبان قیادت میں دراڑیں برقرار ،افغانستان میں فتنہ الخوارج سمیت20سے زائد دہشتگرد گروپ فعال ہیں،گذشتہ سال ،افغانستان سب سے زیادہ منشیات پیدا کرنے والا ملک رہا ،

    ماہرین کے مطابق طالبان کا یہ نظام نہ اسلام کی حقیقی نمائندگی کرتا ہے اور نہ ہی انسانی اقدار کے تقاضوں پر پورا اترتا ہے،طالبان رجیم کی انتہا پسندی اور ریاستی جبر افغانستان کو انسانی، معاشی اور سلامتی کے بحران میں جھونک رہا ہے

  • مودی کی سفاک سرکار کا انتہا پسند ایجنڈا بے نقاب، بابری مسجد پر اشتعال انگیز اعلان

    مودی کی سفاک سرکار کا انتہا پسند ایجنڈا بے نقاب، بابری مسجد پر اشتعال انگیز اعلان

    مودی کی سفاک سرکار کا انتہا پسند ایجنڈا بے نقاب، بابری مسجد پر اشتعال انگیز اعلان سامنے آ گیا

    "بابری مسجد دوبارہ بننے نہیں دیں گے”بی جے پی کی مسلمان دشمنی ایک بارپھر عیاں ہو گئی،انتہا پسند ہندووں کے ہاتھوں بابری مسجد کی شہادت کے34 سال بعد بھی بی جے پی کی مسلمان دشمنی کم نہ ہوئی،بھارت میں انتہا پسند بی جےپی نے نفرت انگیزہندوتوا بیانیہ پر طویل عرصہ سے اقتدارقائم کررکھا ہے،انڈیا ٹوڈے کے مطابق وزیراعلیٰ اترپردیش یوگی آدتیہ ناتھ نےبھارتی مسلمانوں کو اشتعال انگیز بیان میں کہا کہ بابری مسجد قیامت تک دوبارہ نہیں بننے دیں گے،ہم نے بابری مسجد کی جگہ رام مندربنانے کا وعدہ پورا کیا،1992میں تاریخی بابری مسجد کی شہادت پر فسادات کے دوران ہزاروں مسلمان شہید اور زخمی ہوئے تھے

    ماہرین کے مطابق بھارت میں اقلیتوں پرمظالم اور عبادت گاہوں پرحملے اسکے نام نہاد جمہوری چہرے پرسیاہ داغ ہے، مودی حکومت میں مسلمانوں اورمسیحیوں سمیت تمام اقلیتیں وحشیانہ مظالم کے خلاف سراپا احتجاج ہیں،امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے بھی بھارت میں مذہبی آزادی سلب ہونے پر تشویش ظاہرکی ہے

  • نوجوان نسل کو   انتہاپسندانہ نظریات سے محفوظ بنانا ہوگا،وزیراعظم

    نوجوان نسل کو انتہاپسندانہ نظریات سے محفوظ بنانا ہوگا،وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نےا تشدد پر مبنی انتہاپسندی کی روک تھام کے عالمی دن پر کہا ہے کہ آج تشدد پر مبنی انتہاپسندی کی روک تھام کے عالمی دن پر پاکستان اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ ہم ہر قسم کی انتہاپسندی، دہشت گردی، نفرت و عفریت اور تشدد آمیز نظریات کے خلاف اپنی قومی جدوجہد پوری قوت کے ساتھ جاری رکھے گا۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ انتہاپسندی اور تشدد کے نظریات نہ صرف معاشروں کے امن و استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ یہ انسانیت، برداشت، رواداری اور باہمی احترام جیسی بنیادی انسانی اقدار کو بھی کمزور کرتے ہیں۔پاکستان نے گزشتہ کئی دہائیوں میں دہشت گردی اور پرتشدد انتہاپسندی کے خلاف بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ ہمارے بہادر سکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کی قربانیاں ہمارے قومی عزم کی روشن مثال اور باعث فخر ہیں۔اسلام ایک امن پسند دین ہے جو اعتدال، رواداری، مکالمے اور انسانی جان کے احترام کا درس دیتا ہے۔ ہمیں نوجوان نسل کو تعلیم، مواقع اور مثبت سوچ فراہم کر کے انہیں انتہاپسندانہ نظریات سے محفوظ بنانا ہوگا۔ سماجی انصاف، معاشی شمولیت اور بین المذاہب ہم آہنگی ہی پائیدار امن کی بنیاد ہیں۔
    اس تناظر میں پاکستان اس امر پر بھی زور دیتا ہےکہ دنیا میں جاری ناانصافیاں، طویل تنازعات اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں انتہاپسندی اور تشدد کو جنم دیتی ہیں۔عالمی منظر نامہ پر طویل حل طلب تنازعات بشمول مقبوضہ جموں و کشمیر اور فلسطین میں معصوم شہریوں کے خلاف ریاستی ظلم و جبر اور بنیادی حقوق کی پامالی بھی انتہا پسندانہ رویہ کی عکاس ہے۔ پاکستان عالمی برادری پر زور دیتا ہے کہ وہ ان دیرینہ تنازعات کے منصفانہ اور پُرامن حل کے لیے موثر اقدامات کرے۔پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر مشترکہ حکمت عملی، تعاون اور شراکت داری کے ذریعے پرتشدد انتہاپسندی کے خاتمے اور ایک منصفانہ و پرامن عالمی نظام کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔آئیے آج کے دن ہم سب مل کر ایک پرامن، محفوظ اور ہم آہنگ معاشرے کی تعمیر کا عہد کریں۔

  • آئی ایس پی آر ونٹر انٹرن شپ  پروگرام، طلبا کا آزاد جموں و کشمیرمیں لائن آف کنٹرول کا دورہ

    آئی ایس پی آر ونٹر انٹرن شپ پروگرام، طلبا کا آزاد جموں و کشمیرمیں لائن آف کنٹرول کا دورہ

    نوجوان نسل کی قومی تربیت کیلئے آئی ایس پی آر ونٹر انٹرن شپ پروگرام ملک بھر میں جاری ہیں۔

    تفصیلات کےمطابق آئی ایس پی آر ونٹر انٹرن شپ پروگرام کے دوران طلباء کیلئے آزاد جموں و کشمیر کے مطالعاتی و تفریحی دورہ کا انعقاد کیا گیا آئی ایس پی آر انٹرن شپ پروگرام کے تحت آزاد کشمیر کے طلباء نے لائن آف کنٹرول کا دورہ کیا۔

    دورے کا مقصد شرکاء کو زمینی حقائق، سیکیورٹی چیلنجز اور پاک فوج کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں سے آگاہ کرنا تھا اس موقع پر طلبا نے اظہارِ خیال کر تے ہوئے کہا کہ آئی ایس پی آر کی جانب سے براہ راست سیشنز کےساتھ مطالعاتی دوروں کا انعقاد نہایت مثبت اقدام ہے۔

    طلباء کے مطابق ایسے پروگرام کتابی علم کو عملی تجربے سے جوڑنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں،طلباء نے مستقبل میں بھی اس نوعیت کے معلوماتی اور تربیتی پروگراموں کے تسلسل کی امید کا اظہار کیا۔

  • سپریم کورٹ کا عمران خان کو آنکھوں کے ماہر ڈاکٹر تک رسائی ، بچوں سے رابطوں کی سہولت دینے کا حکم

    سپریم کورٹ کا عمران خان کو آنکھوں کے ماہر ڈاکٹر تک رسائی ، بچوں سے رابطوں کی سہولت دینے کا حکم

    سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران کو ذاتی معالجین اور ماہر امراضِ چشم تک رسائی دینے اور ان کے بیٹوں سے ٹیلیفونک رابطے کی سہولت فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔

    عدالت عظمیٰ میں بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی ،چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، وزیر اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی اور بیرسٹر سلمان صفدر سپریم کورٹ پہنچے،دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان نے اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان کو روسٹرم پر بلا لیا اور کہا کہ فرینڈ آف دی کورٹ اور جیل سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹس ایک جیسی ہیں، رپورٹ کا پیراگراف نمبر 21 پڑھیں۔

    عدالت میں پڑھی گئی رپورٹ کے متن کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے جیل میں حفاظتی سہولیات اور سیکیورٹی انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا جب کہ د ستیا ب کھانوں کی سہولیات پر بھی اطمینان ظاہر کیا، تاہم رپورٹ میں کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی نے طبی سہولیات کو غیر تسلی بخش قرار دیا اور ماہر آنکھوں کے ڈاکٹرو ں تک رسائی کی درخواست کی۔

    تشدد پر مبنی انتہا پسندی انسانی وقار کی سنگین خلاف ورزی ہے،صدرِ مملکت

    چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ بانی پی ٹی آئی اس وقت اسٹیٹ کسٹڈی میں ہیں اور بانی پی ٹی آئی سمیت تمام قیدیوں کو یکساں طبی سہولیات ملنی چاہییں۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہ بالکل بھی نہیں کہیں گے کہ بانی پی ٹی آئی کو دیگر قیدیوں کے مقابلے میں نمایاں سہولیات دی جائیں، سب کے ساتھ یکساں سلوک ہونا چاہیے۔

    اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے عدالت کو بتایا کہ ہم ماہر آنکھوں کے ڈاکٹروں تک رسائی دینے کے لیے تیار ہیں، چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ حکو مت اچھے موڈ میں ہے بانی پی ٹی آئی کو ان کے بچوں کے ساتھ ٹیلیفونک رابطے کی سہولت بھی ملنی چاہیے، بانی پی ٹی آئی کو کتابیں پڑھنے کے لیے فراہم کرنے کی رائے اس لیے نہیں دے رہے کیونکہ ان کی آنکھوں کا مسئلہ ہے۔

    انہوں نے ہدایت کی کہ جتنی جلدی ممکن ہو سکے بانی پی ٹی آئی کو ماہرین تک رسائی اور بچوں سے ٹیلیفونک رابطوں کی سہولیات دی جائیں، جس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ دو سے تین دن تک ہو جائے گا ،اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے یقین دہانی کرائی کہ 16 فروری تک آنکھوں کے ماہر ڈاکٹروں تک رسائی اور بچوں سے ٹیلیفونک رابطوں کی سہولیات فراہم کر دی جائیں گی، جسے عدالتی حکم نامے کا حصہ بنایا گیا۔

    ڈی پی اور قصور کی اہم کانفرنس میں اہم احکامات ،افسران کے تبادلے

    دوران سماعت فرینڈ آف دی کورٹ سلمان صفدر نے استدعا کی کہ کسی فیملی ممبر کی موجودگی میں ماہر آنکھوں کے ڈاکٹروں تک بانی پی ٹی آئی کو رسائی دی جائے جس پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہم ایسا کوئی حکم نہیں دے سکتے عدالت نے بانی پی ٹی آئی کو ذاتی معالجین تک رسائی کا حکم دے دیا تاہم کسی فیملی ممبر کی موجودگی میں آنکھوں کے ماہر ڈاکٹروں تک رسائی دینے کی استدعا مسترد کر دی۔

    سلمان صفدر نے عدالت سے یہ بھی کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو مزید کتابیں فراہم کی جائیں جس پر چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ اگر ڈاکٹرز اجازت دیں تو کتابیں فراہم کی جائیں، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ صحت کا مسئلہ سب سے اہم ہے اس معاملے پر مداخلت کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں حکومت کا موقف جاننا چاہتے ہیں۔ صحت کی سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔

    بنگلہ دیش انتخاب،جین زی اور خواتین ووٹرز فیصلہ کن قوت

    اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ اگر قیدی مطمئن نہیں تو ریاست اقدامات کرے گی، چیف جسٹس نے کہا کہ بچوں سے ٹیلی فون کالز کا ایشو بھی اہم ہے ہم حکومت پر اعتماد کررہے ہیں، آج حکومت اچھے موڈ میں ہے، معائنہ کے لیے ڈاکٹرز کی ٹیم تشکیل دی جائے گی ، اس موقع پر عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی بچوں سے بات کروانے کی بھی ہدایت کردی ،عدالت نے کہا کہ دونوں اقدامات 16 فروری سے پہلے کرلیے جائیں-

  • تشدد پر مبنی انتہا پسندی انسانی وقار کی سنگین خلاف ورزی ہے،صدرِ مملکت

    تشدد پر مبنی انتہا پسندی انسانی وقار کی سنگین خلاف ورزی ہے،صدرِ مملکت

    اسلام آباد: صدرِ مملکت آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ انتہا پسندی کے خلاف پاکستان کی پالیسی انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی پر مبنی ہے،پاکستان امن، برداشت اور باہمی احترام کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔

    تشدد پر مبنی انتہا پسندی کی روک تھام کے عالمی دن (بوقتِ سازگاری برائے دہشت گردی) کے موقع پر اپنے پیغام میں صدر مملکت نے کہا کہ تشدد پر مبنی انتہا پسندی انسانی وقار کی سنگین خلاف ورزی ہے اور اس کے بنیادی اسباب سے نمٹنا ناگزیر ہےانہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اقوامِ متحدہ کے انسدادِ تشدد کنونشن پر کاربند ہے اور قومی انسدادِ انتہا پسندی پالیسی 2024 فعال روک تھام کی حکمتِ عملی فراہم کرتی ہے۔

    آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ انتہا پسندی کے خلاف پاکستان کی پالیسی انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی پر مبنی ہے اسلام اور انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ برداشت، مساوات اور احترامِ انسانیت کا درس دیتے ہیں،پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری قربانیاں دی ہیں اور پا ئیدار امن تعلیم، مکالمے اور سماجی ہم آہنگی کے ذریعے ہی ممکن ہے قانونی تحفظات اور ادارہ جاتی اصلاحات کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے تاکہ انتہاپسندی کا موثر سدباب کیا جا سکے۔

    اپنے پیغام میں صدر زرداری نے کشمیر اور فلسطین میں انسانی حقوق کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مشترکہ ذمہ داری کے تحت تعاون کو فروغ دے انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ انسدادِ انتہاپسندی کی کوششیں کسی مذہب یا ثقافت کو بدنام نہ کریں، جبکہ نوجوانوں کو بااختیار بنانا شدت پسندی کے سدباب کے لیے ناگزیر ہے۔

    صدر مملکت نے نفرت انگیز تقاریر اور گمراہ کن معلومات کے مؤثر سدباب کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ خاندان اور برادریاں انتہاپسند بیانیے کے خلاف پہلی دفاعی دیوار ہیں، ہمیں ایسی دنیا کی تعمیر کے لیےمل کر کام کرنا ہوگاجہاں نفرت پر امید غالب ہو اور تشدد پر امن اور تقسیم پر مکالمےکو ترجیح دی جا ئے۔

  • پنجاب بھر شدید بیمار اور لاعلاج شیروں کو  پر سکون موت دیدی گئی

    پنجاب بھر شدید بیمار اور لاعلاج شیروں کو پر سکون موت دیدی گئی

    لاہور پنجاب کے سرکاری چڑیا گھروں میں موجود شدید بیمار اور لاعلاج شیروں کو گزشتہ چند ہفتوں کے دوران پرسکون موت دے دی گئی جبکہ یہ اقدام کیپٹو وائلڈ لائف مینجمنٹ کمیٹی کی منظوری کے بعد کیا گیا۔

    ایڈیشنل چیف وائلڈ لائف رینجرز سینٹرل پنجاب مدثر حسن نے بتایا کہ پنجاب بھر میں مجموعی طور پر 9 شیروں کو یوتھنائز کیا گیا یہ شیر طویل عرصے سے مختلف بیماریوں اور معذوری کا شکار تھے اور مسلسل تکلیف میں مبتلا تھےبہاولپور چڑیا گھر، لاہور سفاری زو اور لاہور زو میں موجود بیمار اور لاعلاج شیروں کی کلنگ کی گئی جانور معذوری اور بیماری کی وجہ سے تکلیف میں تھے، شیروں کی کلنگ چند ہفتے قبل کی گئی تھی ،متعلقہ ویٹرنری ماہرین کی رائے اور طے شدہ قواعد کے مطابق یہ عمل مکمل کیا گیا۔

    واضح رہے کہ 23 جنوری 2026 کو کیپٹو وائلڈ لائف مینجمنٹ کمیٹی نے پنجاب کے سرکاری چڑیا گھروں میں موجود شدید بیمار اور ناقابل علاج شیروں کو پرسکون موت دینے کے فیصلے کی منظوری دی تھی اجلاس میں ایسے شیروں کی تفصیلات پیش کی گئی تھیں جو طویل عرصے سے بیماری میں مبتلا تھے اور جن کا علاج ممکن نہیں رہا تھا۔

    کمیٹی کو بریفنگ کے دوران بتایا گیا تھا کہ قانون کے تحت نہ صرف بگ کیٹس بلکہ ایسے تمام جنگلی جانور، جو انسانوں یا دیگر جانوروں کے لیے ممکنہ خطرہ ہوں یا شدید تکلیف میں مبتلا ہوں، کو طے شدہ قواعد و ضوابط کے مطابق پرسکون موت دی جا سکتی ہے۔

  • ڈی پی اور قصور کی اہم کانفرنس میں اہم احکامات ،افسران کے تبادلے

    ڈی پی اور قصور کی اہم کانفرنس میں اہم احکامات ،افسران کے تبادلے

    قصور
    ڈی پی او کی زیر صدارت اہم میٹنگ، متعدد ایس ایچ اوز کے تقرر و تبادلے
    قصور میں ڈی پی او محمد عیسیٰ خاں کی زیر صدارت تھانوں میں تعینات سکیورٹی افسران کے ساتھ ویڈیو لنک میٹنگ کا انعقاد کیا گیا
    میٹنگ میں انچارج سکیورٹی محمد ذوالفقار بھٹی سمیت دیگر پولیس افسران نے شرکت کی
    ڈی پی او قصور نے معاشرتی برائیوں کے انسداد، جرائم پیشہ عناصر، منشیات فروشوں، غیر قانونی پٹرول پمپس اور سماج دشمن عناصر کے خلاف مؤثر کارروائیوں کے لیے واضح ہدایات جاری کی گئیں
    ڈی پی او نے افسران کو ہدایت کی کہ جرائم کے خاتمے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مربوط حکمت عملی اختیار کی جائے
    دریں اثناء ڈی پی او قصور محمد عیسیٰ خاں نے ضلع بھر میں متعدد ایس ایچ اوز کے تقرر و تبادلے کے احکامات بھی جاری کر دیے
    جاری کردہ احکامات کے مطابق انسپکٹر محمد ادریس چدھڑ کو ایس ایچ او تھانہ الہ آباد، انسپکٹر ابرار جمیل کو ایس ایچ او تھانہ گنڈا سنگھ جبکہ سب انسپکٹر آصف جاوید خاں کو ایس ایچ او تھانہ اے ڈویژن تعینات کر دیا گیا ہے
    اسی طرح انسپکٹر حیدر علی کو تھانہ مصطفیٰ آباد اور انسپکٹر تصدق حسین کو تھانہ صدر قصور میں تعینات کیا گیا ہے
    ڈسٹرکٹ پولیس قصور کے مطابق یہ تقرریاں انتظامی امور کو مذید بہتر بنانے اور جرائم کی روک تھام کو مؤثر بنانے کے لیے کی گئی ہیں

  • بنگلہ دیش   انتخاب،جین زی اور خواتین ووٹرز فیصلہ کن قوت

    بنگلہ دیش انتخاب،جین زی اور خواتین ووٹرز فیصلہ کن قوت

    بنگلہ دیش اپنے 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات کی جانب بڑھ رہا ہے،آج ملک بھر میں انتخابات ہوں گے اور سیاسی مبصرین کے مطابق اس بار انتخابی معرکے کا مرکز روایتی جماعتی اتحاد یا انتخابی مشینری نہیں بلکہ دو طاقتور سماجی طبقات ہوں گے، جین زی (Gen-Z) ووٹرز اور خواتین۔

    اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ یہ دونوں طبقات مل کر نہ صرف ووٹرز کی عددی اکثریت بناتے ہیں بلکہ ایک نسبتاً خودمختار اور بااثر ووٹ بینک کی صورت اختیار کر چکے ہیں، جو ملکی سیاست کے روایتی توازن کو بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔الیکشن کمیشن کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق بنگلہ دیش میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد تقریباً 127.7 ملین ہے۔ان میں سے 50 ملین ووٹرز کی عمر 18 سے 35 سال کے درمیان ہے۔تقریباً 40 ملین ووٹرز 18 سے 29 سال کی عمر کے ہیں، جو خالصتاً جین زی کی نمائندگی کرتے ہیں۔رجسٹرڈ خواتین ووٹرز کی تعداد 62 ملین سے زائد ہے، جو مرد ووٹرز کے تقریباً برابر ہے۔تقریباً 10 ملین شہری پہلی بار ووٹ ڈالیں گے۔خواتین ووٹرز میں سے 26.7 ملین کی عمر 18 سے 37 سال کے درمیان ہے۔

    یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ نوجوان اور خواتین ووٹرز مل کر ایک ایسی انتخابی طاقت بن چکے ہیں جو قریبی مقابلوں میں نتائج کو یکسر تبدیل کر سکتی ہے۔سیاسی جماعتیں اس تبدیلی سے بخوبی آگاہ ہیں۔ کئی امیدوار نجی محفلوں میں اعتراف کرتے ہیں کہ جب تک انہیں خواتین اور جین زی ووٹرز کے رجحان کا اندازہ نہ ہو، فتح کی پیش گوئی کرنا ممکن نہیں۔

    2024 کی عوامی تحریک میں کلیدی کردار ادا کرنے والی نسل اب پہلی بار تحریک کے بعد ہونے والے انتخابات میں ووٹ ڈال رہی ہے۔ سیاسی مبصرین اسے سڑکوں کی سیاست سے ادارہ جاتی سیاست کی جانب منتقلی قرار دے رہے ہیں۔ڈھاکا کے ایک سیاسی تجزیہ کار کے مطابق “یہ انتخاب مختلف ہے کیونکہ جس نسل نے سیاسی نظام کو ہلایا، اب وہی فیصلہ کرے گی کہ حکومت کس کی ہوگی۔”ماضی میں نوجوان ووٹر اکثر خاندانی وابستگی یا جماعتی اثر کے تحت ووٹ دیتے تھے، مگر اس بار صورتحال مختلف دکھائی دیتی ہے۔ جین زی ووٹرز زیادہ تر گورننس کے معیار، بدعنوانی کے خاتمے، روزگار کے مواقع اور شہری آزادیوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔ سیاسی کارکنان تسلیم کرتے ہیں کہ نوجوان ووٹرز کی غیر متوقع صف بندی نے نتائج کا اندازہ لگانا مشکل بنا دیا ہے۔ سول سوسائٹی نمائندگان کا کہنا ہے کہ جین زی ووٹر اس جماعت کا ساتھ دے سکتے ہیں جو انہیں استحکام اور ذاتی سلامتی کی ضمانت دیتی نظر آئے۔

    اگر جین زی نسلی تبدیلی کی علامت ہے تو خواتین ووٹرز ایک ساختی سیاسی تبدیلی کی نمائندگی کر رہی ہیں۔62 ملین سے زائد خواتین ووٹرز کی موجودگی اپنی جگہ اہم ہے، مگر اس بار اصل تبدیلی ان کی فیصلہ سازی میں خودمختاری ہے۔راجشاہی کے گوڈاگری،تانور حلقے میں، جو ماضی میں بی این پی کا گڑھ سمجھا جاتا تھا، ڈھاکا سے ووٹ ڈالنے واپس آنے والی ملازمت پیشہ خواتین نے سیاسی شعور میں نمایاں تبدیلی کا اظہار کیا۔سوروی اختر نے کہا “ہم کافی عرصے بعد ڈھاکا سے ووٹ ڈالنے آئے ہیں۔ مجھے لگتا ہے خواتین اب خود فیصلہ کر رہی ہیں، یہ نیا احساس ہے۔”مقامی سیاسی خاندان سے تعلق رکھنے والے ابو طاہر کے مطابق “میں نے ہمیشہ دیکھا کہ خواتین مردوں سے مشورہ کر کے ووٹ دیتی تھیں۔ اس بار وہ اپنی رائے کا اظہار کر رہی ہیں، اس سے پورا حساب بدل جاتا ہے۔”زمینی سطح پر امیدوار خواتین ووٹرز، خاص طور پر محنت کش طبقے کی خواتین کو سب سے اہم سوئنگ بلاک قرار دے رہے ہیں۔

    اہم سیاسی جماعتوں بی این پی، جماعت اسلامی اور نیشنل سٹیزن پارٹی نے اپنے منشور میں خواتین سے متعلق وعدوں کو نمایاں جگہ دی ہے۔بی این پی کے وعدوں میں خواتین کے لیے “فیملی کارڈ”،پوسٹ گریجویٹ سطح تک مفت تعلیم،خواتین سپورٹ سیلز،ڈے کیئر مراکز،بریسٹ فیڈنگ کارنرز،خواتین کے لیے کاروباری پروگرامز شامل ہیں،جماعت اسلامی کے وعدوں میں قومی خواتین تحفظ ٹاسک فورس،اندرون و بیرون ملک خواتین کے لیے محفوظ اور باعزت روزگار کی ضمانت شامل ہے،این سی پی کے وعدوں میں ایوانِ زیریں کی 100 مخصوص نشستوں پر خواتین کے لیے براہِ راست انتخابات شامل ہیں،تاہم، سول سوسائٹی میں شکوک و شبہات بھی موجود ہیں۔“وی کین” کی کوآرڈینیٹر جنیّت آرا حق کا کہنا ہے “خواتین ہمیشہ فیصلہ کن رہی ہیں، مگر ان منشوروں میں سنجیدہ تحقیق اور عملدرآمد کا واضح خاکہ موجود نہیں۔”

    سوشل میڈیا پر “بیلٹ سے جواب دیں” کی مہم زور پکڑ رہی ہے۔ بعض متنازع بیانات کے بعد گیارہ خواتین تنظیموں نے الیکشن کمیشن کو یادداشت پیش کر کے ایک امیدوار کی نااہلی کا مطالبہ کیا۔سیاسی کارکن مشرفہ مشو نے الزام عائد کیا کہ موجودہ سیاسی ماحول میں خواتین خود کو غیر محفوظ محسوس کرتی ہیں اور سخت حفاظتی اقدامات کی ضرورت ہے۔کارکن مرزیہ پرووا کا کہنا ہے میں چاہتی ہوں خواتین زیادہ سے زیادہ ووٹ ڈالیں اور بیلٹ کے ذریعے جواب دیں۔

    بنگلہ دیش میں آبادیاتی رجحانات نوجوانوں اور خواتین کے حق میں جا رہے ہیں۔ اگر جین زی 2024 کی اصلاحی توانائی کو بیلٹ بکس تک لے آئی اور خواتین نے بڑی تعداد میں خودمختار فیصلے کیے تو 2026 کا انتخابی نقشہ ماضی سے مختلف ہو سکتا ہے۔یہ بیلٹ پیپر صرف حکومت کا تعین نہیں کریں گے بلکہ یہ بھی طے کریں گے کہ آیا بنگلہ دیش میں ایک نئی سیاسی ثقافت نے واقعی جڑ پکڑ لی ہے یا نہیں۔

  • بنگلہ دیش میں آج تاریخی انتخابات،عوامی لیگ بیلٹ پیپر سے غائب

    بنگلہ دیش میں آج تاریخی انتخابات،عوامی لیگ بیلٹ پیپر سے غائب

    ڈھاکا: بنگلہ دیش آج اپنی تاریخ کے ایک نہایت اہم اور فیصلہ کن مرحلے سے گزر رہا ہے، جہاں 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات کے ساتھ ساتھ ایک ملک گیر ریفرنڈم بھی منعقد ہو رہا ہے، جسے ملک کے آئینی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلی کا پیش خیمہ قرار دیا جا رہا ہے۔

    ملک بھر میں 12 کروڑ 70 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز آج اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کر رہے ہیں۔ یہ انتخابات اگست 2024 کی طلبہ قیادت میں ہونے والی “مون سون انقلاب” کے بعد پہلا بڑا جمہوری معرکہ ہیں، جس نے ملک کی سیاسی سمت کو یکسر تبدیل کر دیا تھا۔پولنگ کا عمل صبح 7 بج کر 30 منٹ سے شام 4 بج کر 30 منٹ تک 299 حلقوں میں جاری رہے گا۔ تاہم شیرپور-3 میں جماعتِ اسلامی کے امیدوار نورالزمان بدل کے انتقال کے باعث ووٹنگ معطل کر دی گئی ہے، اور الیکشن کمیشن جلد نئی تاریخ کا اعلان کرے گا۔

    ووٹروں کو آج دو بیلٹ پیپر دیے جا رہے ہیں،سفید بیلٹ، اپنے حلقے سے پارلیمانی نمائندے کے انتخاب کے لیے،گلابی بیلٹ: مجوزہ “جولائی نیشنل چارٹر” پر ریفرنڈم کے لیے۔جولائی نیشنل چارٹر” میں آئین میں وسیع اور بنیادی نوعیت کی اصلاحات تجویز کی گئی ہیں، جن میں وزیر اعظم کے لیے دو مدتوں کی حد مقرر کرنا،مستقبل کے انتخابات کی نگرانی کے لیے غیر جانبدار نگران حکومت کا نظام بحال کرناشامل ہیں.پارلیمنٹ میں ایوانِ بالا کا قیام، جس میں 350 منتخب ارکان کے ساتھ مزید 100 منتخب/نامزد ارکان شامل کیے جائیں گے

    حامیوں کا مؤقف ہے کہ یہ اصلاحات اختیارات کے ارتکاز کو روکیں گی، انتظامی بالادستی پر قدغن لگائیں گی اور جمہوری احتساب کو مضبوط بنائیں گی۔ناقدین کا کہنا ہے کہ اصل چیلنج ان اصلاحات کے نفاذ کے طریقہ کار میں ہے، کیونکہ غیر واضح انتظامی تفصیلات مستقبل میں آئینی پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہیں۔یوں آج کا دن صرف حکومت کے انتخاب کا نہیں بلکہ ریاستی ڈھانچے کی تشکیلِ نو کا بھی ریفرنڈم بن چکا ہے۔

    اس بار انتخابی نقشہ ماضی سے بالکل مختلف ہے۔ کئی دہائیوں بعد عوامی لیگ بیلٹ پیپر سے غائب ہے، کیونکہ اس کی رجسٹریشن معطل ہے۔ اس تبدیلی نے انتخابی مقابلے کو دو بڑے اتحادوں تک محدود کر دیا ہے۔ایک جانب بی این پی کی قیادت میں اتحاد ہے، جس کی سربراہی طارق رحمان کر رہے ہیں، جو 17 سالہ جلاوطنی کے بعد وطن واپس آ کر “جمہوریت کی بحالی”، معاشی استحکام اور ریاستی اداروں کو غیر جماعتی بنانے کے نعرے کے ساتھ میدان میں اترے ہیں۔دوسری طرف 11 جماعتی اتحاد ہے، جس کی قیادت جماعتِ اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمان کر رہے ہیں، جبکہ نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) کے سربراہ ناہید اسلام بھی اس اتحاد کا حصہ ہیں۔ این سی پی دراصل گزشتہ سال کی طلبہ تحریک سے جنم لینے والی سیاسی قوت ہے۔مجموعی طور پر 50 سیاسی جماعتیں انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں، جو گزشتہ تین انتخابات کے برعکس ایک وسیع تر سیاسی شرکت کی عکاسی کرتا ہے۔

    چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے قوم سے ٹیلی وژن خطاب میں ان انتخابات اور ریفرنڈم کو بنگلہ دیش کی جمہوری تاریخ کا “منفرد اور سنگِ میل لمحہ” قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ یہ دوہرا ووٹ عوامی خودمختاری کا براہِ راست اظہار ہے، خاص طور پر ان برسوں کے بعد جب شہریوں کی بڑی تعداد خود کو سیاسی عمل سے محروم محسوس کرتی تھی۔یونس نے نوجوان ووٹروں کا خصوصی خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ جنریشن زی کے لیے یہ پہلا موقع ہے کہ وہ ایک مسابقتی قومی انتخاب میں ووٹ ڈال رہے ہیں۔

    انتخابی شفافیت اور امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے تقریباً 10 لاکھ سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جن میں فوج، پولیس، بارڈر گارڈ بنگلہ دیش، ریپڈ ایکشن بٹالین، کوسٹ گارڈ اور انصار فورس شامل ہیں۔الیکشن کمیشن نے جدید ٹیکنالوجی کو بھی بھرپور انداز میں استعمال کیا ہے،ڈرونز اور یو اے ویز کے ذریعے فضائی نگرانی کی جائے گی،فیلڈ افسران کے لیے باڈی کیمرے نصب ہیں،42 ہزار 779 پولنگ اسٹیشنز میں سے 90 فیصد سے زائد پر سی سی ٹی وی کوریج کی جائے گی،

    چیف الیکشن کمشنر اے ایم ایم ناصر الدین نے آزاد، منصفانہ اور شفاف انتخابات کے انعقاد کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔45 ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کے مبصرین بھی انتخابی عمل کی نگرانی کر رہے ہیں، جبکہ پہلی بار آئی ٹی پر مبنی پوسٹل بیلٹ کے ذریعے بیرونِ ملک مقیم بنگلہ دیشیوں کو بھی ووٹ ڈالنے کا موقع دیا گیا۔ تقریباً 8 لاکھ تارکین وطن نے رجسٹریشن کرائی، جسے آئندہ کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق 18 سے 37 سال کے ووٹرز کل رجسٹرڈ ووٹروں کا تقریباً 44 فیصد ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری، بدعنوانی اور ادارہ جاتی اصلاحات جیسے مسائل نوجوانوں کے اہم مطالبات رہے ہیں، اور ماہرین کے مطابق شہری اور نیم شہری حلقوں میں نوجوانوں کا رجحان کئی نشستوں کا فیصلہ کر سکتا ہے۔خواتین ووٹرز کی تعداد بھی نمایاں ہے۔ 12 کروڑ 77 لاکھ رجسٹرڈ ووٹرز میں سے 6 کروڑ 28 لاکھ سے زائد خواتین ہیں۔تقریباً 27 لاکھ خواتین پہلی بار ووٹر کے طور پر رجسٹر ہوئیں، جو نئے مرد ووٹروں (18 لاکھ 70 ہزار) سے کہیں زیادہ ہیں۔ بعض حلقوں میں خواتین ووٹروں کی تعداد مردوں سے زیادہ ہے۔تاہم امیدواروں میں خواتین کی نمائندگی محدود ہے: صرف 83 خواتین امیدوار میدان میں ہیں، جو مجموعی امیدواروں کا محض 4 فیصد بنتی ہیں۔

    آج کا انتخاب صرف اگلی حکومت کے قیام کا فیصلہ نہیں کرے گا بلکہ یہ بھی طے کرے گا کہ 2024 کی عوامی تحریک کے بعد بنگلہ دیش کا سیاسی نظام کس سمت جاتا ہے۔کیا آئینی اصلاحات طاقت کے توازن کو مستحکم کریں گی؟کیا نئی قیادت معاشی اور ادارہ جاتی استحکام لا سکے گی؟پولنگ اسٹیشنز پر قطاروں میں کھڑے شہری دراصل صرف نمائندے منتخب نہیں کر رہے، بلکہ وہ اپنے ملک کے آئینی اور جمہوری مستقبل کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔بنگلہ دیش آج ایک ایسے امتحان سے گزر رہا ہے جس کا نتیجہ آنے والے برسوں کی سیاست، حکمرانی اور جمہوری روایت کو متعین کرے گا۔