Baaghi TV

Blog

  • وزیراعلیٰ پنجاب سے عالمی بینک کے صدر اجے بنگا کی ملاقات

    وزیراعلیٰ پنجاب سے عالمی بینک کے صدر اجے بنگا کی ملاقات

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے عالمی بینک کے صدر اجے بنگا اور ان کے وفد نے ملاقات کی۔ وزیراعلیٰ نے وفد کا پرجوش استقبال کیا اور صحت، تعلیم، اپنی چھت، اپنا گھر، ستھرا پنجاب اور موسمیاتی شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا۔

    ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے ورلڈ بینک اور پنجاب کے درمیان شراکت داری پر گفتگو کی۔ عالمی بینک کے صدر اجے بنگا نے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے فلاحی منصوبوں کو سراہا اور پنجاب میں جاری ٹورازم، ایجوکیشن، ہیلتھ اور سکل ڈویلپمنٹ پراجیکٹس کو قابل تحسین قرار دیا،پنجاب میں مختلف شعبوں میں ورلڈ بینک کے تعاون سے چلنے والے منصوبوں کا جائزہ لیا گیا اور مستقبل میں موسمیاتی لچک، ڈیجیٹل گورننس اور جامع ترقی کے لیے سپورٹ اور سرمایہ کاری کی یقین دہانی کرائی گئی،

    وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب حکومت عالمی بینک کے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور صحت و تعلیم صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات ہیں، جن میں خطیر سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب، ورلڈ بینک کے ساتھ مالی استحکام اور قابل عمل کاروباری ماڈلز کے ذریعے مسلسل تعاون کا خواہاں ہے،وزیراعلیٰ نے بتایا کہ ورلڈ بینک کے اشتراک سے ”کنیکٹڈ پنجاب پروگرام” تیار کیا جا رہا ہے اور کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک (CPF) کی اہمیت کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ ورلڈ بینک نہ صرف صوبے میں آئی ٹی انفراسٹرکچر کو بہتر بنائے گا بلکہ اقتصادی ترقی کو بھی متحرک کرے گا،انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے ڈیجیٹل ادائیگیوں، گورننس اور زراعت میں بہتری کے لیے متعدد اقدامات متعارف کرائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹلائزیشن کا مقصد صوبے میں کارکردگی، شفافیت اور ترقی کو فروغ دینا ہے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے مزید کہا کہ آئی ٹی سٹی، عالمی آئی ٹی سرٹیفیکیشنز اور ای-پروکیورمنٹ جیسے اقدامات گورننس سسٹم میں بہتری لا رہے ہیں، ورلڈ بینک کے تعاون سے آبپاشی کے نظام کو بہتر بنایا گیا ہے،وزیراعلیٰ نے کہا کہ ”اپنی چھت، اپنا گھر” پروگرام کے ذریعے سستی رہائش فراہم کی جا رہی ہے اور مستحق افراد کے لیے ”نگہبان پیکج” اور ”ہمت کارڈ” جیسی سماجی بہبود کی اسکیمیں بھی شروع کی گئی ہیں۔

  • لاہور میں انسدادِ پولیو ٹیموں پر تشدد کے واقعات، 8 ملزمان کے خلاف مقدمات درج

    لاہور میں انسدادِ پولیو ٹیموں پر تشدد کے واقعات، 8 ملزمان کے خلاف مقدمات درج

    لاہور: شہر کے مختلف علاقوں میں انسدادِ پولیو مہم کے دوران پولیو ٹیموں پر تشدد کے دو الگ الگ واقعات پیش آئے، جن میں مجموعی طور پر 8 افراد کے خلاف مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔

    پولیس کے مطابق یہ واقعات ہربنس پورہ اور شاہدرہ کے علاقوں میں پیش آئے، جہاں پولیو ٹیموں کو اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران شدید مزاحمت اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ہربنس پورہ میں انسدادِ پولیو ٹیم جب بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے میں مصروف تھی تو ملزمان نے نہ صرف ٹیم کے ارکان کو دھمکایا بلکہ ان پر تشدد بھی کیا۔ واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچی تو ملزمان نے پولیس اہلکاروں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا، جس سے صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی۔

    اسی طرح شاہدرہ کے علاقے چمن کالونی میں بھی انسدادِ پولیو ٹیم پر حملہ کیا گیا۔ ایف آئی آر کے متن کے مطابق وہاں ٹیم کے انچارج سمیت دیگر عملے کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور سرکاری فرائض کی انجام دہی میں رکاوٹ ڈالی گئی۔ پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔پولیس کے مطابق دونوں واقعات میں 8 افراد ملوث پائے گئے ہیں، جن کے خلاف کارِ سرکار میں مداخلت، سرکاری اہلکاروں پر تشدد اور دیگر سنگین دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں جبکہ قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

    پولیس اور محکمہ صحت کے حکام نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ پولیو جیسے موذی مرض کے خاتمے کے لیے کام کرنے والی ٹیموں کو تشدد کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ انسدادِ پولیو مہم قومی فریضہ ہے اور اس میں رکاوٹ ڈالنے والوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔دوسری جانب شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ پولیو ٹیموں کے ساتھ تعاون کریں تاکہ بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے بچایا جا سکے اور پاکستان کو پولیو فری بنانے کے ہدف کو حاصل کیا جا سکے۔

  • ہاتھوں میں دعا آنکھوں میں عمر بھر کا بوجھ،تحریر: آمنہ خواجہ

    ہاتھوں میں دعا آنکھوں میں عمر بھر کا بوجھ،تحریر: آمنہ خواجہ

    یہ تصویر کسی ایک انسان کی نہیں ایک پوری نسل کی کہانی سناتی ہے۔ جھکی ہوئی پیشانی آنکھوں پر رکھا ہوا ہاتھ اور سامنے پھیلی ہوئی ہتھیلیاں جیسے زندگی نے بہت کچھ کہہ دیا ہو اور اب الفاظ ختم ہو گئے ہوں۔
    یہ وہ ہاتھ ہیں جنہوں نے کبھی بچوں کو تھام کر چلنا سکھایا کبھی مزدوری کی سختی جھیلی کبھی خالی جیب کے ساتھ بھی گھر کی دہلیز پر مسکراہٹ رکھ دی۔ مگر آج یہی ہاتھ سوال بن گئے ہیں۔ سوال لوگوں سے نہیں وقت سے تقدیر سے، اور شاید اپنے ہی دل سے۔
    چہرے کی جھریاں صرف عمر کی نشانیاں نہیں ہوتیں یہ ان راتوں کا حساب بھی ہوتی ہیں جو فکر میں کٹ گئیں ان دنوں کی گنتی بھی جن میں اپنی خواہشیں بچوں کی ضرورتوں پر قربان ہو گئیں یہ آنکھیں اگر بند ہیں تو نیند کے لیے نہیں شاید اس لیے کہ آنسو اب دکھائے نہیں جاتے۔

    اخبار کے صفحے پر چھپنے والی یہ تصویر ہمیں جھنجھوڑتی ہے۔ یہ یاد دلاتی ہے کہ ہمارے اردگرد کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جو مانگتے نہیں بس خاموشی سے دعا کے ہاتھ اٹھا لیتے ہیں۔ جن کا دکھ شور نہیں کرتا مگر دل ہلا دیتا ہے۔
    یہ تصویر ہم سب سے ایک سوال پوچھتی ہے:
    کیا ہم نے ان ہاتھوں کو وقت پر تھاما؟
    یا پھر ہم بھی گزر گئے یہ کہہ کر کہ یہ تو کسی اور کی ذمہ داری ہے؟
    شاید انسان کی اصل پہچان یہی ہے کہ وہ جھکے ہوئے سروں کو سہارا دے اور ان خاموش دعاؤں کا جواب بن جائے جو لفظوں کے بغیر بھی آسمان تک پہنچ جاتی ہیں۔

  • پیکا کے متنازعہ ترمیمی قانون کے خلاف صحافتی تنظیموں کی درخواستوں پر سماعت ملتوی

    پیکا کے متنازعہ ترمیمی قانون کے خلاف صحافتی تنظیموں کی درخواستوں پر سماعت ملتوی

    پیکا کے متنازعہ ترمیمی قانون کے خلاف صحافتی تنظیموں کی درخواستوں پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس انعام امین منہاس نے درخواستوں کو یکجا کر کے سماعت کی ،سینئر صحافی حامد میر، پی ایف یو جے اور اسلام آباد ہائیکورٹ جرنلسٹس ایسوسی ایشن نے پیکا ایکٹ کو چیلنج کر رکھا ہے ،اسلام آباد ہائیکورٹ جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے وکیل میاں سمیع الدین نے دلائل دیے ،وکیل نے متنازع پیکا ایکٹ میں ترمیم کے بعد شامل کی گئی شقیں پڑھ کر سنائیں ،وکیل نے کہا کہ جو اختیارات عدلیہ کے پاس ہونے چاہئیں وہ ایگزیکٹو کو دے دی گئیں، جوڈیشل ٹریبونل ہونا چاہیے جس کا چیف جسٹس کی مشاورت سے تقرر ہو،سیکشن ٹو سی جعلی اور جھوٹی سوشل میڈیا پوسٹس پر پابندی سے متعلق ہے، جسٹس انعام امین منہاس نے کہا کہ فیک انفارمیشن کے متعلق فیصلہ کون کرے گا کہ معلومات غلط اور جھوٹی ہیں؟ یہ بتائیں اور سمجھائیں کہ فیک نیوز کا تعین کیسے کرنا ہے؟ فیک نیوز پر پروسیڈنگ کیسے شروع ہو گی؟ وکیل نے کہا کہ کمپلینٹ فائل کرنے کا ایک نیا طریقہ بتا دیا گیا ہے کہ متاثرہ فریق کے علاوہ تھرڈ پارٹی بھی کمپلینٹ فائل کر سکتی ہے،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ اس سے کوئی پراکسی بھی کمپلینٹ دائر کر سکے گی اور اس قانون کا غلط استعمال ہو گا، یہ دیکھنا ضروری ہے کہ فیک انفارمیشن سے کیا نقصان پہنچ رہا ہے،فیک انفارمیشن ایک غلطی بھی ہو سکتی ہے جس کا کسی کو نقصان نہ ہو،

    راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کے صدر آصف بشیر چوہدری روسٹرم پر آ گئے ،آصف بشیر چوہدری نے کہا کہ پی ایف یو جے پچھلے سال چھ فروری کو یہ کیس لے کر عدالت آئی تھی، کیس زیر التواء ہے اور اسٹے نہیں ملا اس دوران ہمارے دو درجن سے زائد صحافیوں کو عمر قید کی سزا سنا دی گئی،سڑک کی جلد توڑ پھوڑ پر تعمیر میں ناقص مٹیریل کے استعمال کی خبر دینے والے پر بھی مقدمہ درج کر لیا گیا،یہ قانون سازی ہے، اس کو حکم امتناع سے معطل نہیں کیا جا سکتا، کیس کو سن کر فیصلہ کریں گے، عدالت نے کیس پر مزید سماعت 6 مارچ تک ملتوی کر دی

  • لاہور میں تین روزہ بسنت فیسٹول کے بعد پتنگ بازی پر پابندی عائد

    لاہور میں تین روزہ بسنت فیسٹول کے بعد پتنگ بازی پر پابندی عائد

    لاہور پولیس نے بسنت فیسٹیول کے اختتام کے باوجود شہر بھر میں پتنگ بازی پر مکمل اور سخت پابندی برقرار رکھنے کا اعلان کر دیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق پابندی کا مقصد شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانا اور پتنگ بازی کے باعث پیش آنے والے جان لیوا حادثات کی روک تھام ہے۔

    سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ نے اس حوالے سے واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہری پتنگ بازی کے دوران قانون کی کسی بھی قسم کی خلاف ورزی سے گریز کریں اور اپنی اور دوسروں کی سلامتی کو اولین ترجیح دیں۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ کائٹ فلائنگ ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلا امتیاز سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، چاہے وہ کسی بھی حیثیت یا طبقے سے تعلق رکھتے ہوں۔بلال صدیق کمیانہ نے لاہور پولیس کے تمام افسران اور اہلکاروں کو ہدایت کی ہے کہ فیلڈ میں سخت چیکنگ کا عمل جاری رکھا جائے اور شہر کے مختلف علاقوں میں پتنگ بازی پر کڑی نظر رکھی جائے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس ٹیمیں حساس مقامات، چھتوں، گلی محلوں اور بازاروں میں گشت کو مزید مؤثر بنائیں تاکہ غیر قانونی سرگرمیوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔

    لاہور پولیس کی جانب سے دکانداروں اور تاجروں کو بھی سختی سے متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ پتنگ اور کیمیکل ڈور کی خرید و فروخت سے مکمل طور پر باز رہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ پتنگ اور ڈور کی غیر قانونی ترسیل اور ذخیرہ اندوزی کو قابلِ دست اندازی جرم قرار دیا گیا ہے، جس پر فوری گرفتاری اور قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اس ضمن میں مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور مشتبہ گوداموں کی بھی چیکنگ کی جا رہی ہے۔سی سی پی او لاہور نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کریں اور اس بات کو سمجھیں کہ غیر قانونی پتنگ بازی نہ صرف قانون شکنی ہے بلکہ یہ قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ انہوں نے خاص طور پر والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں، انہیں پتنگ بازی کے خطرات سے آگاہ کریں اور قانون کی مکمل پاسداری کو یقینی بنائیں۔

  • ایرانی تیل کے جہازوں کی ضبطی اور چابہار سے واپسی،بھارتی دوغلاپن بے نقاب

    ایرانی تیل کے جہازوں کی ضبطی اور چابہار سے واپسی،بھارتی دوغلاپن بے نقاب

    ایرانی تیل کے جہازوں کی ضبطی اور چابہار سے واپسی، بھارت کا سفارتی دوغلا پن ایک مرتبہ پھر بے نقاب ہو گیا

    مفاد پرست بھارت نے چابہار بندرگاہ سے خاموش واپسی کے بعد ایران کے تیل بردار جہاز بھی ضبط کر لیے ،ایران کے خلاف اقدامات بھارت کی متضاد خارجہ پالیسی اور امریکی دباؤ کے آگے جھکاؤ کا واضح ثبوت بن گیا ،ایرانی میڈیا کے مطابق؛ بھارتی کوسٹ گارڈ نے بحیرہ عرب میں اسمگلنگ کے الزام میں تین آئل ٹینکروں کو ضبط کیا،تینوں آئل ٹینکرز کو بحیرہ عرب میں ممبئی سے تقریباً 100 سمندری میل کے فاصلے پر روکا گیا، ایرانی میڈیا کے مطابق؛ضبط شدہ بحری جہاز ال جافزیہ ، ایسفالٹ اسٹار اور اسٹیلر روبی ایران سے منسلک تھے،اس سے قبل ایران سے شراکت داری کے دعوؤں کے باوجود بھارت امریکی دباؤ میں چابہار بندرگاہ سے دستبردار ہو چکا ہے ، بھارت امریکی پابندیاں لاگو ہونے سے قبل ایران کو طے شدہ 120 ملین ڈالر کی رقم بھی ادا کر چکا تھا ،

    عالمی ماہرین کے مطابق؛ ایران کے خلاف اقدامات بھارت کی موقع پرستانہ اور متضاد خارجہ پالیسی کی واضح مثال ہے .چابہار سے واپسی کے بعد ایرانی تیل بردار جہازوں کی ضبطی بھارت کی جانب سے ایران کو چھرا گھونپنے کے مترادف ہے،دکھاوے،جھوٹ اور دھوکے سے چلنے والی مودی کی نا اہل حکومت کی خارجہ پالیسی زمین بوس ہو چکی ہے

  • تیراہ میں خوارج کی جانب سے عبادت گاہوں کے تقدس کی پامالی جاری

    تیراہ میں خوارج کی جانب سے عبادت گاہوں کے تقدس کی پامالی جاری

    تیراہ میں خوارج کی جانب سے عبادت گاہوں کے تقدس کی پامالی جاری، شڈالہ مدرسہ کو خوارج نے اپنا اڈہ اور مسجد کو مورچہ بنا لیا

    اطلاعات کے مطابق، تیراہ میدان کے علاقے میں واقع شڈالہ مدرسہ کو خوارج مورچے کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔ خوارج اسلحہ سمیت مسجد اور مدرسے کے اندر موجود رہے اور طویل عرصے تک اسے اپنے ٹھکانے کے طور پر استعمال کرتے رہے۔اسلامی تعلیمات میں مساجد کو امن، عبادت اور روحانی سکون کی علامت قرار دیا گیا ہے۔ نبی کریم ﷺ کی احادیث میں واضح ہے کہ مسجد کے اندر اسلحہ لانا سختی سے منع کیا گیا ہے تاکہ عبادت گاہوں کا تقدس برقرار رہے اور نمازیوں کے لیے محفوظ ماحول یقینی بنایا جا سکے۔ خوارج کی جانب سے مسجد میں اسلحہ لے جانا اور اسے پناہ گاہ میں تبدیل کرنا ان اسلامی تعلیمات کی صریح خلاف ورزی ہے۔

    جب دہشت گرد عناصر عبادت گاہوں میں پناہ لیتے ہیں تو وہ انہیں جنگی مورچوں میں تبدیل کر دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں نہ صرف مسجد کا تقدس پامال ہوتا ہے بلکہ مقامی آبادی کی جانیں بھی شدید خطرے میں پڑ جاتی ہیں۔

  • ریاست کے ستونوں کو سنبھالنا ہو گا۔تجزیہ: شہزاد قریشی

    ریاست کے ستونوں کو سنبھالنا ہو گا۔تجزیہ: شہزاد قریشی

    یہ ایک تلخ مگر ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ ریاستیں نعروں، خواہشات یا محض سیاسی بیانیوں سے نہیں چلتیں، بلکہ مضبوط اداروں، واضح نظم اور قومی اتفاقِ رائے سے قائم رہتی ہیں۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جن ممالک نے اپنے قومی سلامتی کے اداروں کو کمزور، متنازع یا عوامی تضحیک کا نشانہ بنایا، وہ بالآخر انتشار، خانہ جنگی اور بیرونی مداخلت کی دلدل میں دھنستے چلے گئے۔

    پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو جغرافیائی، نظریاتی اور سلامتی کے اعتبار سے غیر معمولی دباؤ میں رہا ہے۔ دہشت گردی، علاقائی کشیدگی، سرحدی تنازعات اور اندرونی عدم استحکام کے باوجود ریاست کا برقرار رہنا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہاں قومی سلامتی کے ادارے نہ صرف موجود ہیں بلکہ فعال بھی ہیں۔ دنیا کے بیشتر ممالک میں ایسے ادارے ریاستی ستون سمجھے جاتے ہیں، جن پر تنقید ضرور ہوتی ہے، مگر ایک متعین آئینی اور قومی دائرے میں۔

    تاہم پاکستان میں ایک خطرناک رجحان مسلسل جڑ پکڑ رہا ہے—جہاں بعض سیاستدان، خود ساختہ دانشور اور سوشل میڈیا کے متحرک کردار قومی سلامتی کے اداروں کو براہِ راست عوامی نفرت اور شکوک کی علامت بنا رہے ہیں۔ یہ رویہ نہ جمہوری روایت سے ہم آہنگ ہے اور نہ ہی بین الاقوامی سیاسی دانش سے۔

    لیبیا، شام، عراق اور یمن جیسے ممالک کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں، جہاں ادارہ جاتی کمزوری کو ’’عوامی آزادی‘‘ کا نام دے کر ریاستی ڈھانچے کو منہدم کیا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ نہ جمہوریت بچی، نہ خودمختاری، اور نہ ہی عوام کا تحفظ۔ عالمی تھنک ٹینکس اور اقوامِ متحدہ کی رپورٹس بارہا اس امر کی نشاندہی کر چکی ہیں کہ ریاستی اداروں کا ٹوٹنا براہِ راست انسانی بحران کو جنم دیتا ہے۔
    یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ اصلاحی تنقید کسی بھی جمہوریت کا حسن ہوتی ہے۔ سوال اٹھانا، احتساب کا مطالبہ کرنا اور پالیسی پر اختلاف رکھنا ایک صحت مند عمل ہے۔ لیکن جب تنقید کا مقصد اصلاح کے بجائے تضحیک، سیاسی پوائنٹ اسکورنگ یا عوامی ذہن کو گمراہ کرنا بن جائے، تو یہ عمل ریاست کے لیے نقصان دہ ہو جاتا ہے۔

    پاکستان جیسے حساس خطے میں واقع ملک کے لیے سیاسی قیادت، میڈیا اور رائے ساز طبقوں پر دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ الفاظ محض آواز نہیں ہوتے، یہ بیانیہ بناتے ہیں—اور بیانیے قوموں کو جوڑ بھی سکتے ہیں اور توڑ بھی سکتے ہیں۔

    عالمی تجربہ ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ مضبوط قومی سلامتی کے ادارے جمہوریت کے مخالف نہیں ہوتے، بلکہ اس کے محافظ ہوتے ہیں۔ اصل سوال یہ نہیں کہ ادارے طاقتور ہیں یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا ہم انہیں قومی مفاد کے دائرے میں مضبوط رکھ پا رہے ہیں؟
    ریاستیں اختلافِ رائے سے نہیں ٹوٹتیں، بلکہ بے احتیاط زبان، غیر ذمہ دار سیاست اور ادارہ جاتی تصادم سے کمزور ہوتی ہیں۔

    اگر پاکستان کو محفوظ، مستحکم اور باوقار مستقبل دینا ہے تو ہمیں تنقید اور تخریب کے فرق کو سمجھنا ہوگا، اور ریاست کے ستونوں کو گرانے کے بجائے انہیں سنبھالنا ہوگا۔

  • پولیس اور ڈاکوؤں کا آمنا سامنا، کراس فائرنگ، دو ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار

    پولیس اور ڈاکوؤں کا آمنا سامنا، کراس فائرنگ، دو ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار

    موت کا رقص اور پولیس کی جرات، سی پی او سید خالد ہمدانی کا دو ٹوک اعلان پولیس پر گولی چلانے والوں کا انجام ہسپتال یا قبرستان ہوگا
    یہ محض ایک گرفتاری نہیں بلکہ علاقے میں چھپے گینگز کے لیے واضح پیغام ہے شہریوں کے مال و جان سے کھیلنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں سید دانیال

    گوجرخان (قمرشہزاد) تھانہ مندرہ کا علاقہ گزشتہ رات میدانِ جنگ بن گیا جہاں فرض شناس پولیس پارٹی اور سنگین وارداتوں میں مطلوب چار سفاک ڈاکوؤں کے درمیان آمنا سامنا ہونے اور پولیس کی جانب سے مشکوک موٹرسائیکل کو رکنے کا اشارہ کرنے پر ملزمان نے خوف و ہراس پھیلانے کی نیت سے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ اس ہولناک مقابلے کے دوران کانسٹیبل علی کو براہِ راست گولی لگی، مگر سینے پر لگی بلٹ پروف جیکٹ سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوئی اور کانسٹیبل کی جان بچ گئی۔ پولیس کی بھرپور جوابی کارروائی اور پیشہ ورانہ حکمت عملی کے نتیجے میں دو خطرناک ڈاکو گولیوں کی زد میں آکر زخمی ہوئے، جنہیں پولیس نے گرفتار کر لیا۔ ملزمان کے قبضے سے وہ موٹر سائیکل بھی برآمد کر لیا گیا جو ڈیڑھ ماہ قبل ایک شہری سے اسلحہ کے زور پر چھینا گیا تھا۔گرفتار ملزمان ڈکیتی اور وہیکل لفٹنگ کی درجنوں سنگین وارداتوں میں پولیس کو مطلوب تھے۔ اے ایس پی سید دانیال حسن نے دو ٹوک الفاظ میں کہا پولیس پر فائرنگ کرنا دراصل ریاست کی رِٹ کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔ ہمارے جوانوں نے جس بہادری سے موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ان خطرناک مجرموں کو دبوچا ہے، وہ محکمہ پولیس کے لیے باعثِ فخر ہے۔ ہم واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ گوجرخان کی حدود میں شہریوں کے مال و جان سے کھیلنے والے درندوں کے لیے کوئی جگہ نہیں، قانون کا آہنی ہاتھ ان کا تعاقب جاری رکھے گا۔ جبکہ ایس ایچ او مندرہ ملک تنویر اشرف نے کہا کہ یہ محض ایک گرفتاری نہیں بلکہ علاقے میں چھپے گینگز کے لیے ایک واضح پیغام ہے۔ ملزمان انتہائی شاطر اور مسلح تھے، لیکن ہماری ٹیم کی بروقت جوابی فائرنگ نے انہیں سر اٹھانے کا موقع نہیں دیا۔ مفرور ساتھیوں کے گرد گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے اور بہت جلد وہ بھی اپنے عبرتناک انجام کو پہنچیں گے۔ سی پی او راولپنڈی سید خالد محمود ہمدانی نے کامیاب کارروائی پر پوری ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے شاباش دی اور تعریفی اسناد کا اعلان کیا ہے۔

  • ہتکِ عزت کیس: شہباز شریف کیخلاف عمران خان کی درخواست ، 3رکنی بینچ تشکیل دینے کا حکم

    ہتکِ عزت کیس: شہباز شریف کیخلاف عمران خان کی درخواست ، 3رکنی بینچ تشکیل دینے کا حکم

    اسلام آباد:سپریم کورٹ نے ہتک عزت کیس میں شہباز شریف کے خلاف بانی پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کرتے ہوئے تین رکنی بینچ تشکیل دینے کا حکم دے دیا۔

    ہتک عزت کیس میں شہباز شریف کے خلاف بانی پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت ہوئی،سماعت کے دوران جسٹس شاہد بلال حسن نے ریمارکس دیے کہ اس کیس کی کیا پوزیشن ہے؟ جس پر وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ یہ کیس اس وقت لاہور ہائیکورٹ میں زیرِ سماعت ہے عدالت نے فریقین کے مؤقف سننے کے بعد کارروائی مؤخر کرتے ہوئے کیس کی سماعت دو ہفتے کے لیے ملتوی کر دی، جبکہ آئندہ سماعت پر تشکیل دیے گئے بینچ کے روبرو کیس کو دوبارہ سنا جائے گا۔

    دوسری جانب، القادر ٹرسٹ کیس میں بانی پی ٹی آئی کی ضمانت منسوخی جبکہ توشہ خانہ کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ضمانت منسوخی کی درخوا ستیں غیر مؤثر ہونے پر خارج کر دی گئیں سپریم کورٹ نے 9 مئی لاہور واقعات میں بانی پی ٹی آئی کی ضمانت منسوخی کی درخواستوں پر تین رکنی بینچ بنانے کا حکم دیا،عدالت نے سائفر کیس اور 9 مئی واقعات میں ضمانت منسوخی کی درخواستوں پر سماعت دو ہفتے کے لیے ملتوی کر دی۔